حضرت عمر بن خطابؓ
قتلِ خطا کا واقعہ اور قاتل کی ضمانت
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دربار لگا ہے، ایک شخص کو پکڑ کر لوگ لے آتے ہیں کہ اس شخص نے ہمارے باپ کو قتل کر دیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا، کیا ماجرا ہے بھئی؟ اس نے کہا جی واقعی میں ان کے باپ کا قاتل ہوں، لیکن میں نے قصداً قتل نہیں کیا۔ ہوا یہ کہ میں ایک مسافر ہوں، جا رہا تھا، راستے کے اندر سبز چراگاہ تھی، میرا اونٹ بھوکا تھا، اس چراگاہ میں داخل ہو گیا۔ اس کے بوڑھے باپ نے پتھر اٹھایا اور میرے اونٹ کو مارا، اس کی آنکھ نکل گئی۔ مجھے بڑا غصہ آیا، میں نے وہی پتھر اٹھا کر اس کے باپ کو دے مارا، لیکن وہ ایسے ٹھکانے پہ لگا کہ اس کا باپ فوراً فوت ہو گیا۔ میرا قصد اور ارادہ نہیں تھا لیکن بہرحال میں اس بات کا اقراری ہوں کہ میں نے اس کے باپ کو قتل کر دیا ہے۔ آپ جو حکم سنائیں، میں اس کو قبول کروں گا۔ لیکن میں ایک مہلت مانگتا ہوں کہ میرے دوست میرے بھائی کی کوئی رقم میرے ذمے ہے، میرے پاس اس نے امانت رکھی ہوئی ہے، اور وہ مجھے ہی پتہ ہے کہ میں نے کہاں چھپا کے رکھی ہوئی ہے۔ اگر آپ فیصلہ کر دیتے ہیں اور میری گردن کاٹ دی جاتی ہے تو وہ امانت جو میں نے رکھی ہوئی ہے سنبھال کر کے، میرے علاوہ کوئی جانتا بھی نہیں ہے، تو وہ اس تک کون پہنچائے گا۔ اگر آپ مجھے تین دن کی مہلت دے دیں تو میں جا کر اس کی امانت اس کو واپس کر کے پھر واپس آؤں گا۔ پھر یہ پھندا پھانسی کا میں اپنے گلے میں ڈلوانے کے لیے تیار ہوں گا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کوئی شخص تیری ضمانت دے دے تو ہم تجھے چھٹی دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس نے دائیں بائیں دیکھا، پورے مدینے میں اس کا کوئی شناسائی نہیں تھا، واقف ہی نہیں تھا، وہ ایک اجنبی شخص تھا۔ حضرت ابوذر غفاریؓ کھڑے ہو گئے، کہا، حضرت عمرؓ! میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔ ضمانت دے دی گئی۔ وہ چلا گیا۔
تیسرے دن وعدے کا جو وقت تھا، لوگ جمع ہو گئے، دربار لگ گیا، ابھی تک آنے والا نہیں آیا۔ لوگوں نے کہا، ابوذر! تو نے غلطی کی ہے، ایک اجنبی کی ضمانت دی، اور ابھی تک وہ نہیں آیا۔ اور میاں صاحبؒ فرماتے ہیں “اِک وار جو پھاہیوں اُڈ جاندے، اوہ فیر کدی نہیں پھسدے نے”۔ ظاہر ہے وہ چلا گیا، واپس تو نہیں پلٹ کے آئے گا، اسے پتہ ہے کہ آگے سیدھی سیدھی میری موت ہے۔ تو تم نے یہ کیا غلطی کی؟ خیر آپؓ نے فرمایا کہ اگر وہ نہ آیا تو یہ پھانسی کا پھندا میرے گلے میں ڈال دینا، لیکن بہرحال میں نے اس کی ضمانت دی ہے۔ کچھ عرصہ بیتا کہ دور سے گرد و غبار اڑتا ہوا دکھائی دیا۔ جب صورت واضح ہوئی تو وہی شخص تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دربار میں کھڑا ہو کر کہنے لگا، حضرت! کسی وجہ سے تاخیر سے پہنچا ہوں، معذرت چاہتا ہوں، اب جو حکم ہے پورا کیجیے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے پھانسی کے احکامات جاری کر چکے تھے۔ آپؓ نے فرمایا کہ ابوذرؓ! یہ بتا کہ تو نے اس کی ضمانت کیسے دی جب تو اسے جانتا نہیں تھا؟ تو سنو، حضرت ابوذر غفاریؓ نے کیا کہا۔ کہا، ایک اجنبی میرے محمدؐ کے مدینے میں پناہ مانگ رہا تھا اور اس نے چاروں سمت دیکھا اور کوئی شخص نہیں تھا جو اس کو امان دیتا اور اس کی ضمانت دیتا۔ تو میں نے اس لیے ضمانت دے دی کہ نہ بھی آیا تو اپنی جان چلی جائے گی، کل کوئی یہ تو نہیں کہے گا کہ محمدؐ کے مدینے میں کسی نے ضمانت مانگی تھی، پورے شہر میں کوئی ضمانت دینے والا نہیں تھا۔
اُس کو کہا کہ انہوں نے تو ضمانت دے دی، میاں، اب تو بتا کہ تو چلا گیا تھا، تجھے جانتا کوئی نہیں تھا، نہ پلٹ کے آتا تو تجھے کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، تو نے یہ دوبارہ موت کے منہ میں کیوں اپنا سر رکھا ہے؟ تو اس نے کہا، میں نے کہا کہ ایک اجنبی کی ضمانت ایک ایسے شخص نے دی ہے جو مجھے جانتا بھی نہیں ہے۔ اور اگر میں نہ گیا تو لوگ قیامت تک اجنبیوں پر بھروسہ نہیں کریں گے کہ اجنبی یوں سلوک کیا کرتے ہیں۔
تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی پھانسی کے احکام جاری کیے، تو جن کے باپ کو قتل کیا تھا وہ بیٹے کھڑے ہو گئے۔ کہنے لگے، تاریخ کی کالک ہم اپنے منہ پر ملیں گے؟ ہم بھی اپنے باپ کے قاتل کو معاف کر دیتے ہیں۔
قومِ رسولِ ہاشمیؐ اور اقوامِ مغرب
یہ ہماری تاریخ ہے، یہ ہماری کہانی ہے۔ لیکن آج ہم کس جگہ پہ کھڑے ہیں اور کیا ہماری صورتحال ہے، نہ ہمارا کردار رہا اور نہ کوئی ہمارا تشخص رہا۔ آج ہم نے اپنا تشخص بھی مٹا کے رکھ دیا، اپنی طرزِ زندگی بھی بدل دی، نہ ہماری باطن کی وہ روشنی رہی، نہ ظاہری وہ صورتیں رہیں کہ ہم پہچانے جائیں کہ حضورؐ کے غلام ہیں۔ بلکہ آج بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں۔ اقبالؒ نے کیا کہا تھا ؎
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
حضرت عمرؓ نکلے یروشلم میں۔ ایک اونٹ ہے، ایک غلام ہے، کبھی وہ سوار ہوتا ہے کبھی آپؓ، باری مقرر کی ہے۔ جب قریب پہنچے یروشلم کے تو عمرؓ کی باری نکیل پکڑنے کی تھی اور غلام کی باری اوپر سوار ہونے کی آگئی۔ غلام نے کہا، آقا، میں مرضی سے اپنی باری چھوڑتا ہوں، آپ آجائیں، دشمنوں کے مفتوحہ علاقے میں آ رہے ہیں، تازہ تازہ علاقہ فتح ہوا ہے، اسلام کی شان و شوکت ظاہر ہو۔ عمرؓ نے کہا، اسلام کی شان و شوکت ایسے ظاہر نہیں ہوتی ہے، اپنی باری پہ تم بیٹھو گے، اپنی باری پہ میں بیٹھوں گا۔
لوگ منتظر کھڑے ہیں، دور سے جب دیکھا تو کہا، اس کی ہیبت سے کانپتے تھے ہم! یہ تو کوئی حبشی لگتا ہے، رنگ کالا ہے، ہونٹ موٹے ہیں، اس سے تو زیادہ حسین اس کا غلام ہے جو آگے آگے چل رہا ہے۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے کہا، دھوکہ کھا رہے ہو، ہمارا آقا وہ نہیں ہے جو اونٹنی کے اوپر سوار ہے، ہمارا آقا وہ ہے جو لگام تھامے آگے آگے چل رہا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آگے بڑھ کر، جابیہ کے مقام پہ، حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے استقبال کیا۔ تو حضرت عمرؓ آگے بڑھے اور انہوں نے آگے بڑھ کے حضرت ابو عبیدہؓ کے دونوں کندھوں پہ ہاتھ رکھا۔ اور سنو، حضرت عمرؓ نے کیا کہا۔ کہا:
لا الٰہ الا اللہ انا کنا اذل قوم فاعزنا اللہ بالاسلام۔
کہا کہ لا الٰہ الا اللہ، اے ابو عبیدہ بن الجراحؓ، ہم ایک ذلیل قوم تھے اور اللہ نے ہمیں اسلام کی وجہ سے عزت عطا کی ہے۔ اور میں تمہیں ایک تاریخ ساز بات کہنے لگا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جب تک ہم اس عزت والے اسلام کے دامن کو تھامے رہیں گے ہماری عزت قائم رہے گی۔ اور جب اسلام کے علاوہ کسی اور جگہ سے عزت ڈھونڈیں گے تو رسوا کر کے رکھ دیے جائیں گے۔ یہ ہے وہ خلاصہ جو حضرت عمرؓ نے امتوں کے عروج و زوال کا بیان کیا ہے۔ اس امت کو جو خیرات ملی ہے تخت و تاج کی، وہ پینٹاگون سے نہیں ملی، وہ واشنگٹن سے نہیں ملی، وہ وائیٹ ہاؤس سے نہیں ملی، وہ محمد عربیؐ کے جوڑوں کا صدقہ ملی ہے۔ اس لیے جب ہم نے اسلام سے انحراف کیا۔ پاکستان حاصل کیا گیا تھا:
پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ۔
ہم نے اس نعرے کو ہی چھوڑ دیا ہوا ہے۔ ہم نے انحراف کر دیا ہے۔ آج ہماری نظریں مغرب کی طرف لگی ہیں کہ تخت و تاج اُس سے نصیب ہوتے ہیں۔ اور دنیا کے اوپر ہم رسوا ہو کہ رہ گئے ہیں۔ ہماری پستی، ہماری زبوں حالی، ہماری ذلت کا سبب یہ ہے کہ جس جگہ سے ہمیں عزت ملی تھی ہم نے وہ مرکز ہی چھوڑ دیا ہے۔ اس مرکزِ حیات کو، اس مرکزِ زندگی کو، اس مرکزِ عزت کو ہم نے چھوڑ دیا ہے اور دنیا کے اوپر ہم رسوا ہو رہے ہیں۔
اونٹوں کی قطار اور شرق و غرب کی حکمرانی
انہی حضرت عمرؓ کی کہانی ہے، وادی طحامہ سے گزر رہے تھے کہ بچوں کی طرح بلک بلک کے رونے لگے۔ کہا، عمر! جوان آدمی ہو اور بچوں کی طرح بلک کے رو رہے ہو؟ کہا، تم نہیں جانتے، مجھے بچپن کی کہانی یاد آگئی۔ کہا، کیا کہانی ہے؟ کہا، یہی ارضِ تہامہ تھی، میرے باپ خطاب نے مجھے پانچ اونٹ دیے تھے، کہا انہیں لائن میں کھڑا کرو سیدھا۔ میں آگے والا سیدھا کرتا تھا، پیچھے والا ٹیڑھا ہو جاتا۔ پیچھے والا سیدھا کرتا، آگے والا ٹیڑھا ہو جاتا۔ میرے باپ خطاب نے مجھے بڑا مارا۔ کہا، ایک عرب کے بیٹے ہو کر تم نے پانچ اونٹ لائن میں کھڑے نہیں ہوتے۔ کہا، ایک زمانے عمر پہ وہ تھا کہ اس سے پانچ اونٹ لائن میں کھڑے نہیں ہوتے تھے، اور آج شرق سے لے کر غرب تک تئیس لاکھ مربع میل کی حکمرانی اور انسان بھی لائن میں کھڑے ہیں۔ یہ محمد عربیؐ کے جوڑوں کا صدقہ نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ عمر سے تو پانچ اونٹ لائن میں کھڑے نہیں ہوتے تھے۔
تو یہ عزتیں، یہ تخت و تاج، یہ حکومتیں ہمیں حضورؐ کی دہلیز سے ملی ہیں۔ جب ہم نے اس دہلیز کو چھوڑ دیا تو دنیا کے اوپر رسوا ہو گئے اور ذلیل کر کے رکھ دیے گئے۔ ہماری اخلاقی پستی اور زبوں حالی نے ہم کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ دامنِ رسالت مآبؐ کو چھوڑ دیا ہے، پھر رسوائیاں مقدر نہیں ہوں گی تو کیا ہوں گی؟ آئیے! ابھی بھی موقع ہے، توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ رب سے بھی معافی مانگ لیں، گنبدِ خضرا کے مکین کے حضورؐ بھی ہاتھ جوڑ کے کہیں:
چھوڑ کے آپؐ کا دامنِ رحمت، آقا ہم سے بھول ہوئی
کھو دی اپنی قدر و قیمت، آقا ہم سے بھول ہوئی
دیکھ ہماری آنکھ مچولی، اپنے سینے اپنی گولی
بھول گئے ہم درسِ اخوت، آقا ہم سے بھول ہوئی
دنیا کے ٹھکرائے ہوئے ہیں، تیرے در پہ آئے ہوئے ہیں
کھول دے اپنا بابِ رحمت، آقا ہم سے بھول ہوئی
قومی دولت کی پاسداری
عبد اللہ بن عمرؓ اور عبید اللہ بن عمرؓ بصرہ سے گزر رہے تھے ایک جنگ سے واپسی پر، تو حاکمِ بصرہ نے آپ کو کچھ پیسے دیے کہ یہ مالِ غنیمت میں جا کے جمع کروا دینا۔ اور پھر خود ہی مشورہ دیا کہ عراق کے اندر فلاں فلاں چیز بہت سستی مل جاتی ہے اور حجاز میں ان چیزوں کی قیمت زیادہ ہے۔ تو اگر آپ ایسا کر لیں کہ یہ ان پیسوں سے خرید لیں اور جا کر مدینۃ المنورہ میں فروخت کر دیں تو جو زائد پیسے آپ کمائیں گے وہ آپ کے ہوئے، اور یہی اشرفیاں جو میں نے دی ہیں آپ کو، اتنی اشرفیاں بیت المال میں جمع کروا دینا۔ تم نے محنت کی ہو گی، تجارت کی ہو گی تو جتنے بچیں گے تو وہ آپ کے ہوں گے۔
انہوں نے کہا، بہت اچھا۔ وہاں سے مال خرید لیا، مدینۃ المنورہ میں آ کے بیچ دیا۔ جتنی اشرفیاں انہوں نے وہاں سے دی تھیں بیت المال کے لیے، اتنی بیت المال میں جمع کروا دیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتہ چلا، بیٹوں کو بلایا۔ کہا کہ سنا ہے تم نے کوئی کمائی کی ہے۔ کہا، جی ہم نے تو تجارت کی اور جو مال لیا تھا اتنا مال ہی بیت المال میں جمع کروایا ہے۔ کہا، تم نے بیت المال کے پیسوں پر کمائی کی ہے، وہ پیسے بھی تمہیں بیت المال میں جمع کروانے پڑیں گے۔ یہ عمر ہیں، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
مالِ غنیمت میں بہت ساری چادریں آتی ہیں جو سب کو تقسیم کر دی جاتی ہیں۔ خطبہ جمعہ دینے کے لیے آئے تو ایک شخص کھڑا ہو گیا۔ عمر! خطبہ بعد میں سنیں گے، پہلے یہ بتائیں کہ یہ جو تم نے قمیص پہنی ہے، یہ کہاں سے آئی ہے؟ مالِ غنیمت کے اندر جو چادریں آئی ہیں، سب کے حصے میں ایک ایک چادر آئی ہے، آپ دراز قد ہیں، ایک چادر سے قمیص نہیں سل سکتی، تو آپ کی قمیص کہاں سے آئی؟ پہلے اس سوال کا جواب دے دیجیے، پھر خطبہ سنیں گے۔ اللہ اکبر۔ آپؓ کے بیٹے کھڑے ہوتے ہیں، کہا، ایک چادر سے میرے باپ کی قمیص نہیں بنتی تھی، میں نے اپنے حصے کی چادر بھی اپنے باپ کو پیش کی ہے۔ اس نے کہا، اب سناؤ اور ہم سنتے ہیں۔ یہ ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنی ذاتی زندگی۔
رومی شہنشاہ کی بیوی سلام بھیجتی ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہلیہ کو۔ تو وہ ایک دینار ادھار لے کر اس کا عطر خریدتی ہیں اور شیشیوں میں ڈال کر اُن کو بھیجتی ہیں، کہ چلو ایک رواداری کا اچھا ثبوت فراہم کیا جائے۔ تو وہ واپسی پر انہی شیشیوں کے اندر قیمتی موتی بھر کے بھیجتی ہیں، جواہرات بھر کر بھیجتی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، لاؤ یہ سارے جواہرات، سب کو فروخت کرتے ہیں۔ ایک دینار اس کو دیتے ہیں، باقی بیت المال میں جمع کر دیتے ہیں۔
مسلم حکمرانوں کا اندازِ معاشرت
تو جب اپنی زندگی اتنی محتاط ہو گی، اتنی خوبصورت ہو گی، تو پھر کس طرح کوئی گورنر زیادتی کر سکتا ہے۔ تو حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا طرزِ زندگی اور اندازِ معاشرت اتنا سادہ اور اتنا خوبصورت رکھا کہ اس کے مطابق تمام گورنروں کو ڈھالنے کی تلقین کی۔ آپ جب بھی کسی شخص کا بطور گورنر تعین کرتے تو اس کو یہ نصیحتیں کرتے:
- ترکی گھوڑے پہ سوار نہیں ہوں گے،
- باریک کپڑا نہیں پہنیں گے،
- اَن چھنے آٹے کی روٹی کھائیں گے،
- مکان کا دروازہ نہیں لگائیں گے،
- کوئی حاجب نہیں رکھیں گے، چوکیدار نہیں رکھیں گے، بواب نہیں رکھیں گے، جو تمہارے تم پہنچنا چاہے ڈائریکٹ پہنچ جائے۔
اللہ اکبر۔ اور پھر جب کسی کو متعین کیا جاتا، اس کی جائیدادیں لکھ لی جاتی تھیں کہ اس کے پاس کتنی جائیداد ہے۔ وہ حساب اپنے پاس رکھتے۔ جب وہ معزول ہوتا یا اس کا وقت ختم ہوتا تو آپؓ دیکھتے کہ اب اس کے پاس جائیداد کتنی ہے۔ اگر وہ جو پہلے آپ نے اپنے پاس ریکارڈ رکھا ہوتا، اس سے جائیداد اس کی زیادہ ہوتی تو حضرت عمرؓ بقیہ جائیداد بیت المال میں جمع کرتے۔ اللہ اکبر۔ اور یہ کیسے تھا؟ گورنر بول نہیں سکتا تھا، اس لیے کہ حضرت عمرؓ کی اپنی بود و باش بھی اسی طرح کی تھی، اپنا طرزِ زندگی بھی اسی طرح کا تھا۔
عیاض بن غنمؓ کے بارے میں یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ موٹے کپڑے نہیں، باریک کپڑے پہنتا ہے۔ اس نے گھر کے دروازے پر بواب بھی رکھا ہوا ہے، چوکیدار بھی رکھا ہوا ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ محمد بن مسلمہؓ کو بھیجتے ہیں۔ محمد بن مسلمہؓ جاتے ہیں اور جا کے تحقیق کرتے ہیں تو ایسا ہی پاتے ہیں۔ تو ان کو وہیں گرفتار کر کے لے آتے ہیں۔ اور حضرت عمرؓ کے دربار میں پیش کیا جاتا ہے۔ چھڑی اس کے ہاتھ میں دے کر فرماتے ہیں، جاؤ تم بکریاں چرایا کرو، تم گورنری کے لائق نہیں ہو۔ ایک گورنر کو بکریاں چرانے پہ لگا دیتے ہیں، اس لیے کہ تم نے ان اصولوں سے، ان ضابطوں سے انحراف کیا ہے، جو ایک سلطنت کے ذمہ دار کے لیے لازم اور ضروری ہیں۔ دورِ موجود کے حکمرانوں کو، چاہے وہ عرب کے حکمران ہوں، چاہے وہ عجم کے حکمران ہوں، اگر وہ اسلام کا نام لیتے ہیں تو انہیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا ہو گا کہ ہم کھڑے کہاں ہیں۔
حضرت عمر بن عبد العزیزؒ
نظامِ حکومت میں اصلاحات
حضرت عمر بن عبد العزیزؒ جو کہ اُموی خاندان کے چشم و چراغ تھے لیکن ان کا مزاج سب سے ہٹ کے تھا، انوکھا اور نرالا تھا۔ سلیمانؒ نے ساری زندگی تخت و تاج کی بسر کرنے کے بعد سوچا کہ میں ان کو اپنا نائب بناؤں۔ تو خیر، جب ان کا انتقال ہوا تو لوگ دمشق کی جامع مسجد میں جمع ہوئے اور وصیت نامہ پڑھا گیا۔ تو حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کھڑے ہوئے، فرمایا کہ لوگو! نہ تو میری منشا تھی کہ مجھے خلیفہ بنایا جائے اور نہ مجھے اس بات کا علم تھا۔ یہ میری منشا اور آپ لوگوں کی مشاورت کے بغیر کیا گیا ہے۔ میں اس سے دستبردار ہوتا ہوں۔ آپ جس کو چاہیں اپنا خلیفہ مقرر کر لیں۔ تو لوگوں نے کہا، آپ ہی ہمارے امیر ہیں، آپ ہی ہمارے خلیفہ ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ جب تک اللہ کی اطاعت کرتا رہوں، تب تک تمہارا خلیفہ رہوں گا۔
اور پھر آپ نے حکم نامہ جاری کیا کہ میری جتنی جائیداد ہے ساری بیت المال میں جمع کروائی جائے۔ اور جتنے بھی اُموی شہزادے تھے ان کی جائیدادیں، جو انہوں نے لوگوں کی ضبط کی ہوئی تھیں، سب کو بحقِ سرکار ضبط کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔ مسجد سے باہر نکلے تو آپ کے لیے شاہی سواری لائی گئی۔ فرمایا، میرا خچر کافی ہے میرے لیے۔
گھریلو زندگی میں انقلاب
گھر پہنچے، تو اپنی بیوی فاطمہ بنت عبد الملک سے کہا، جو بادشاہ کی بیٹی ہے، بادشاہ کی پوتی ہے، اور چار بادشاہوں کی بہن ہے، ناز و نعم میں پلی ہوئی ہے، کہا کہ میرے ساتھ تم رہنا چاہو تو تمہیں اپنے سارے زیورات، زر و جواہر، سارا مال بیت المال میں جمع کروانا ہو گا اور فقیرانہ زندگی بسر کرنا ہو گی۔ اب اس پاکباز خاتون نے کہا کہ میں اس کے لیے تیار ہوں۔ میں فقیری کی زندگی کو ترجیح دیتی ہوں۔ اب حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے صرف دو سال پانچ ماہ اور کچھ دن حکومت کی، اور تین براعظموں پر سلطنتِ اسلامیہ پھیلی ہوئی تھی، اور آپ روتے تھے کہ ان لوگوں کا حق بھی میرے اوپر بلا مطالبہ ہے جو دنیا کے کسی خطے کے اوپر اِس سلطنت کی حدود میں بستے ہیں۔
عید کا موقع آیا، عیدگاہ میں جب لوگ ایک دوسرے کو مل رہے تھے تو امیر المومنین کے بیٹوں کے کپڑے خستہ تھے، پرانے تھے، پیوند لگے ہوئے تھے۔ تو آپ نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تمہیں شرم تو آ رہی ہو گی کہ امیر المومنین کے بیٹے ہو کر تمہیں ڈھنگ کا لباس بھی دستیاب نہیں ہے۔ تو آپ کا ایک بیٹا عبد الملک بن عمر بن عبد العزیزؒ، جو آپ کی زندگی میں انتقال کر گیا تھا، اس نے کہا، ہمیں اس بات پہ فخر ہے کہ ہمارے باپ نے خیانت نہیں کی ہے، ہمارا باپ دیانت دار ہے۔
جب گھر آتے ہیں تو آپ کی بیٹیاں آپ کو عید مبارک کہتی ہیں، آپ سے ملتی ہیں، لیکن منہ پہ کپڑا دھرا ہوا ہے۔ تو حضرت عمر بن عبد العزیزؒ بولتے ہیں کہ بیٹی آپ نے چہرے کے اوپر کپڑا کیوں رکھا ہوا ہے؟ تو وہ کہتی ہے ہم نے کچے پیاز سے آج کھانا کھایا ہے تو اس لیے ہم نے کپڑا رکھا ہے کہ آپ کو اس کی بو محسوس نہ کریں۔ تو حضرت عمر بن عبد العزیزؒ رو پڑتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ کس باپ کا جی نہیں چاہتا کہ میری اولاد آسودہ ہو، لیکن میں آخرت سے ڈرتا ہوں۔
اصلاحات کے ثمرات و نتائج
حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دو سال پانچ ماہ اور چند دنوں کے اندر ایسا عدل پھیلتا ہے کہ لوگ کہتے تھے ہمیں لگتا تھا آسمان اور زمین کے درمیان ترازو گاڑ دیا گیا ہے، ہر شے پوری پوری تولی جا رہی ہے۔ اور اتنی خوشحالی آتی ہے، اتنی خوشحالی آتی ہے کہ لوگ زکوٰۃ کے پیسے لے کے نکلتے ہیں مگر کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں ملتا۔
ایک علاقے کے لوگ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کو خط لکھتے ہیں کہ حضرت، زکوٰۃ کا کیا کریں؟ فرمایا، غریبوں کو دیں۔ کہا، کوئی غریب رہا ہی نہیں۔ کہا کہ اچھا، آپ اس طرح کریں کہ جن کی شادیاں نہیں ہوئیں، ان کا مہر ادا کر کے ان کی شادیاں کروا دیں۔ تو وہ جواب میں لکھتا ہے، یہ بھی ہو چکا ہے۔ تو کہا، لوگوں کو قرضہ دے دیں۔ کہا، کسی کو قرضے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ تو پھر فرماتے ہیں، اچھا، غیر مسلموں کو قرضہ دیں تاکہ وہ کھیتی باڑی کر کے زراعت کے کام کو بڑھائیں۔
یہ عمر بن عبد العزیزؒ کا دور ہے۔ عدل پھیلا، نور پھیلا، روشنی پھیلی۔ شہزادگی کی زندگی سے ایک دم اپنے آپ کو ایک چھوٹے سے کُٹیا کے اندر محدود کر دیا۔ اللہ اکبر۔ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ مسلمانوں کے نامور خلیفہ ہیں اور ان کو ان کے عدل، ان کے انصاف، ان کی سادگی اور ان کی زندگی کے اس خوبصورت طرز کی وجہ سے عمرِ ثانی کہا جاتا ہے۔
