’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۲)

فتنۂ جدیدیت اور اس کے مضمرات

عمار خان یاسر نے ایک انتہائی اہم سوال اٹھایا کہ الحاد کے بعد دوسرا بڑا فتنہ کون سا ہے جس کی طرف علماء کی مناسب توجہ نہیں ہے؟

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے جواب دیا کہ ردِّ الحاد سے بھی بڑی چیز ’’جدیدیت‘‘ (Modernity) ہے۔ جدیدیت انسان کو بظاہر اسلام سے خارج نہیں کرتی، لیکن شریعت سے دور کر دیتی ہے۔ آہستہ آہستہ وہ الحاد کی طرف بھی چلا جاتا ہے، یا پھر نام کا مسلمان رہ جاتا ہے، جو اپنی مرضی سے نماز پڑھے، رمضان میں روزہ رکھے یا نہ رکھے لیکن عید ضرور منائے۔ ایسا شخص تہذیبی مسلمان (Cultural Muslim) بن کر رہ جاتا ہے۔ انہوں نے جدیدیت کی مختلف شاخوں کا ذکر کیا:

  1. لبرلزم (Liberalism)
  2. فیمینزم (Feminism)
  3. ٹرانس جینڈرزم (Transgenderism)
  4. سیکولرزم (Secularism)

انہوں نے بتایا کہ جدیدیت کا فتنہ بہت بڑی تعداد میں مسلمانوں میں پایا جاتا ہے۔ وہ اپنی شناخت ملحد کے طور پر نہیں کراتے، بلکہ سیکولرسٹ، فیمنسٹ یا ٹرانس جینڈر رائٹس ایکٹوسٹ کے طور پر متعارف کراتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے وضاحت کی کہ اس فتنہ کو سمجھنے کے لیے ان تمام افکار کا اصلی زبان میں مطالعہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض قرآن و حدیث کی آیات پیش کرنے سے سامنے والے پر اثر نہیں ہوتا۔ ضروری ہے کہ عقلی بنیادوں پر ان افکار کا رد کیا جائے۔ اگر آپ عقلی دلائل سے کام لیں گے تو ممکن ہے کہ سامنے والا جدیدیت سے نکل آئے۔ انہوں نے بتایا کہ جدیدیت سکولی تعلیم اور یونیورسٹی کے نظام کے ذریعے بہت آسانی سے پھیل رہا ہے، اس لیے اس سے نمٹنے کے لیے موزوں حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

ردِ الحاد پر دو سالہ تخصص

عمار خان یاسر نے ذکر کیا کہ مفتی شمائل ندوی صاحب نے ڈاکٹر یاسر ندیم الواجدی صاحب کے پاس دو سالہ تخصص کا کورس کیا تھا۔ اور استفسار کیا کہ یہ تخصص کیا ہے اور شائقین اس میں کیسے شرکت کر سکتے ہیں؟

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے بتایا کہ مفتی شمائل صاحب کے تعارف کے بعد ان کے پاس اس کورس کے حوالے سے بے شمار پیغامات اور ای میلز آئی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ کورس انہوں نے 2021ء میں کرونا کے لاک ڈاؤن کے دورانیے میں شروع کیا تھا اور 2023ء میں مکمل کیا۔ کورس مکمل ہونے کے بعد انہوں نے اسے تحریری شکل دینے کا کام شروع کیا۔ یہ کام اب پایۂ تکمیل کو پہنچا ہے اور اپریل کے دوران ان شاءاللہ چھ جلدوں پر مشتمل یہ مجموعہ منظرِ عام پر آ رہا ہے۔ یہ پہلے ہندوستان میں جاری کیا جائے گا اور پھر پاکستان میں بھی جلد اسے لانے کی کوشش کی جائے گی۔

عمار خان یاسر کی فرمائش پر ڈاکٹر الواجدی صاحب نے کورس کا مختصر تعارف پیش کیا:

  • مغربی تہذیب کا تعارف: مغربی تہذیب کی تاریخ، اس کے بانیان اور اس کی ترویج میں کردار ادا کرنے والے اہم شخصیات کا تعارف۔
  • علمیات (Epistemology): ہم جو کچھ جانتے ہیں وہ کیسے جانتے ہیں اور کس کا نقطۂ نظر درست ہے۔
  • تھیالوجی (Theology): خدا کے وجود پر دلائل، صفاتِ الٰہیہ اور تقدیر کا مسئلہ۔
  • ڈارون کا نظریۂ ارتقاء (Darwinian Evolution): اردو زبان میں اب تک کی سب سے تفصیلی بحث۔
  • ٹرانس جینڈرزم، فیمینزم اور سیکولرزم: ان جدید نظریات پر تفصیلی ابواب۔
  • قرآن و سنت پر اعتراضات: قرآنیات، سیرت اور سنت پر کیے جانے والے اعتراضات کے مدلل جوابات۔

ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا کہ فی الحال یہ کورس دوبارہ شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، البتہ رمضان المبارک کے بعد اگر کوئی ہفتہ وار پروگرام شروع ہوتا ہے تو اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔

عمار خان یاسر نے پاکستانی سامعین کی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بھی اس کورس کی اشد ضرورت ہے۔

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے انکشاف کیا کہ پچھلی کلاس میں پاکستان سے بھی کافی لوگوں نے اس کورس سے استفادہ کیا تھا۔ اور انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں پندرہ بیس افراد ایسے موجود ہیں جو اس میدان میں مفتی شمائل ندوی صاحب کے لیول کے ہیں، انہیں صرف موقع نہیں ملا، ورنہ وہ بھی کسی جاوید اختر سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جاوید اختر صاحب کا مثبت کردار

عمار خان یاسر نے انجینئر محمد علی مرزا صاحب کا حوالہ دیتے ہوئے ایک اہم سوال اٹھایا کہ پاکستان میں جاوید اختر جیسا شخص کیسے ڈھونڈا جائے اور پُرامن مباحثے کا ماحول کیسے قائم کیا جا سکتا ہے؟

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس سلسلے میں جاوید اختر کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ جاوید اختر نے خود مباحثے کی راہ ہموار کی، میڈیا سے رابطہ کیا، اور کانسٹیٹیوشن کلب (دہلی) میں ہونے والے اس مباحثے کا تمام انتظام انہوں نے خود کیا۔ ان کی طرف سے مشورہ تھا کہ مباحثہ کسی مذہب کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ تمام مذاہب کی ترجمانی کرتے ہوئے خدا کے وجود کو ثابت کیا جائے۔ اسی وجہ سے پوری مباحثے میں صرف God یا Creator کا لفظ استعمال ہوا، اللہ کا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مباحثے کے لیے انجینئر محمد علی مرزا جیسا نہیں بلکہ جاوید اختر جیسا حوصلہ چاہیے۔ پاکستان میں پرویز ہود بھائی جیسے ملحد موجود ہیں۔ اگر قیصر احمد راجہ اور پرویز ہود بھائی کے درمیان کوئی باوقار مباحثہ ہو جائے، جس میں عزت و احترام برقرار رہے، تو اس سے اس سلسلے کا آغاز ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے یاد دلایا کہ عالمِ اسلام میں مباحثوں کی بھرپور روایت رہی ہے۔ معتزلہ، اشاعرہ اور باطنیہ (جیسا کہ آج کے ملحدین ہیں) کے درمیان مباحثے ہوتے رہے ہیں۔ امام غزالیؒ نے باطنیہ سے مناظرے کیے۔ اس لیے اس کلچر کو زندہ کرنا ضروری ہے۔

رینڈ کارپوریشن اور ہمارے متجددین

عمار خان یاسر نے انجینئر محمد علی مرزا کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کی ایک ویڈیو کا ذکر کیا، جس میں رینڈ کارپوریشن کا تذکرہ تھا، اور رینڈ کارپوریشن کے تعارف اور اس سلسلے کی تفصیلات طلب کیں۔

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے وضاحت کی کہ رینڈ کارپوریشن ایک ریسرچ سینٹر ہے جو امریکی وفاقی حکومت اور پینٹاگان کے لیے ریسرچ پیپرز تیار کرتا ہے، جن کی بنیاد پر پالیسیاں بنتی ہیں۔ 2003ء اور 2007ء میں رینڈ کارپوریشن نے رپورٹس تیار کیں کہ مسلمانوں میں انتہاپسندی (Radicalization) کو کیسے ختم کیا جائے۔ اس وقت ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ (War on Terror) کے نام پر مغرب اس جنگ کی قیادت کر رہا تھا۔ ان رپورٹس میں تجویز دی گئی کہ ایسے افراد کو فروغ دیا جائے جو روایتی اسلام، فقہاء اور محدثین کے خلاف بات کریں۔ ان کے نزدیک اگر مسلمان براہ راست انجینئروں، ڈاکٹروں اور سائنسدانوں سے اسلام حاصل کریں گے تو انتہاپسندی ختم ہو گی۔

ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ انجینئر محمد علی مرزا کو رینڈ کارپوریشن سے پیسے ملتے ہیں یا وہ ان کے پے رول پر ہیں۔ نہ انہوں نے ایسا کہا اور نہ ہی قیصر احمد راجہ صاحب نے ایسا کہا ہو گا۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ وہ جانے انجانے میں رینڈ کارپوریشن کی سفارشات پر عمل پیرا ہیں۔ البتہ انہوں نے الزام لگایا کہ انجینئر صاحب نے توہین آمیز الفاظ استعمال کر کے نوجوانوں کو علماء اور روایتی اسلام سے متنفر کرنے کی کوشش کی ہے۔

عمار خان یاسر نے سوال کیا کہ کیا انجینئر محمد علی مرزا کی کوششیں نوجوانوں کو الحاد کی طرف لے جا رہی ہیں؟ یعنی پہلے علماء سے بیزاری، پھر مذہب سے بیزاری، اور آخر میں الحاد؟

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے کہا کہ ان کے پاس ابھی تک ایسا کوئی کیس نہیں آیا کہ انجینئر صاحب سے متاثر ہو کر کوئی ملحد ہوا ہو۔ البتہ یہ ایک عام پیٹرن ہے کہ جب کوئی روایت سے کٹتا ہے، علماء سے دور ہوتا ہے، اور مذہب کو اپنے طور پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو مناسب علمی قابلیت (Tools) نہ ہونے کی وجہ سے وہ پھنس جاتا ہے اور بعض اوقات مذہب ہی کا انکار کر دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غامدی صاحب کے ماننے والے اور منکرینِ حدیث یعنی پرویزی بڑی تعداد میں الحاد کا راستہ اختیار کر چکے ہیں، کیونکہ انہیں اپنے سوالوں کے جوابات اس ڈسکورس میں نہیں ملے۔

عمار خان یاسر نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سمجھ میں یہی آیا ہے کہ غامدی صاحب ہوں، انجینئر محمد علی مرزا ہوں یا اس طرح کے دیگر افراد، وہ سب رینڈ کارپوریشن کی انہی سفارشات کا حصہ لگتے ہیں کہ روایتی علماء سے کاٹ کر انجینئروں، ڈاکٹروں اور سائنسدانوں سے دین سیکھنے کی طرف امت کو لگایا جائے۔

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس تجزیے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بالکل ایسا ہی ہے۔

فرقہ واریت کے اسباب اور سدباب

عمار خان یاسر نے ایک اہم سوال اٹھایا کہ انجینئر محمد علی مرزا اور ان جیسے دیگر حضرات فرقہ واریت کے خاتمے کا دعویٰ کرتے ہوئے خود ایک نیا فرقہ کیوں بنا رہے ہیں؟

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس موقع پر ایک واضح مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت پاکستانی معاشرے کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس کا اعتراف کرنا چاہیے۔ تمام سنجیدہ علماء کو مل بیٹھ کر اس کے حل پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے علاج کی دو صورتیں بتائیں:

  • غلط علاج، کہ موجودہ زخم (فرقہ واریت) کو بھلانے کے لیے دوسری جگہ نیا زخم کر دیا جائے تاکہ درد تقسیم ہو جائے۔
  • صحیح علاج، کہ زخم کی باقاعدہ دوا اور پٹی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ انجینئر صاحب نے پہلا طریقہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے علماء کو گالیاں دے کر، ان کی پرانی کتابیں نکال کر، اور ایک کے فتوے دوسرے کے خلاف استعمال کر کے فرقہ واریت کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا، حالانکہ حقیقت میں اس سے مسئلہ مزید بڑھا ہے۔ پھر انہوں نے کتاب ’’المہند علی المفند‘‘ کا حوالہ دیا کہ انجینئر صاحب نے کس طرح اسے دیوبند کی نمائندہ کتاب ظاہر کر کے اپنا دعویٰ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ 

عمار خان یاسر نے اس کتاب کے حوالے سے اہم سوال کیا کہ انجینئر صاحب کی زیادہ تر گیم تو اسی کتاب پر کھڑی ہے۔

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے انکشاف کیا کہ خود انہوں نے، جو دیوبند میں پلے بڑھے اور دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کی، کبھی ’’المہند علی المفند‘‘ نہیں پڑھی۔ انہوں نے اسے پہلی بار انجینئر صاحب کے حوالے سے سنا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ کتاب دراصل ان سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے جو علمائے دیوبند سے پوچھے گئے تھے۔ اس میں فروعی اور اصولی دونوں طرح کے مسائل ہیں۔ کتاب کے سرورق پر ’’یعنی عقائد علمائے دیوبند‘‘ لکھا ہونا ناشر کی کاروباری حکمتِ عملی ہے، یہ کوئی باضابطہ اور مستند کتاب نہیں۔ اس میں صرف موقف درج ہے، دلائل نہیں ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے علمائے دیوبند کے مسلکی مزاج کو سمجھنے کے لیے حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحبؒ کی کتاب ’’علماء دیوبند کا دینی رخ اور ان کا مسلکی مزاج‘‘ پڑھنے کی سفارش کی، جو اردو، عربی اور انگریزی میں موجود ہے۔

عمار خان یاسر نے استفسار کیا کہ پاکستان میں بہت سے علماء انجینئر صاحب کے اعتراضات کے جواب میں ’’المہند‘‘ کا دفاع کیوں کرتے ہیں؟

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ ’’المہند‘‘ میں لکھی ہر بات غلط ہے۔ انہوں نے ایک مثال دی: ’’کیا عرشِ الٰہی افضل ہے یا رسول اللہ ﷺ کے جسمِ اطہر سے مس ہونے والی زمین؟‘‘ یہ مسئلہ دراصل قاضی عیاض مالکیؒ اور امام جلال الدین سیوطیؒ نے اٹھایا تھا۔ یہ ایک ذوقی مسئلہ ہے، نہ کہ بنیادی عقیدہ۔ علمائے دیوبند نے اس ذوق کو قبول کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا جسمِ مبارک عرش سے افضل ہے، کیونکہ عرش بھی تو اللہ کی مخلوق ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ اللہ کی سب سے افضل مخلوق ہیں۔ اگر کوئی دلیل کی بنیاد پر اس سے اختلاف کرے تو کوئی حرج نہیں۔ اس بنیاد پر کسی کو اہل سنت سے خارج یا داخل نہیں کیا جا سکتا۔

عمار خان یاسر نے تبصرہ کیا کہ اس ایک نکتے سے انجینئر صاحب کی آدھی عمارت زمین بوس ہو گئی، جنہوں نے اس مسئلے پر بڑے بڑے لیکچرز دیے اور تقی عثمانی صاحب جیسے علماء سے بھی رابطہ کیا۔ 

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس کا مقدر ہی زمین بوس ہونا ہے۔

اسلامی تعلیمات پر مبنی نظامِ تعلیم کی ضرورت

عمار خان یاسر نے اگلا سوال کیا کہ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم نوجوان، جو دینی ذوق رکھتے ہیں، وہ جدید تقاضوں کے مطابق دعوت کا کام کیسے کر سکتے ہیں؟

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس سوال کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور نظام مسلمانوں کے کنٹرول میں ہے، وہاں ایک ایسا تعلیمی نظام رائج کرنا ضروری ہے جس کی بنیاد اسلام ہو۔ انہوں نے اسلامی علمیات (Islamic Epistemology) کے تین ذرائع بیان کیے:

  1. حواس خمسہ (Five Senses): مشاہدہ
  2. عقل (Reasoning): استدلال
  3. وحی (Revelation): قرآن و سنت

انہوں نے بتایا کہ مغربی نظامِ تعلیم صرف پہلے ذریعہ (حواس) پر کھڑا ہے۔ جو چیز قابلِ مشاہدہ نہیں، اسے وہ قبول نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر تاریخ کی کتابوں میں قدیم تہذیبوں کو صرف اس وقت پڑھایا جاتا ہے جب تحریری ثبوت ملے۔ لیکن قرآن میں انبیاء علیہم السلام کے قصے موجود ہیں، جو حقیقی اور سچے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے تجویز دی کہ ہمیں چاہیے کہ تاریخ کی کتابوں کا پہلا باب حضرت آدم علیہ السلام کے قصے سے شروع ہو۔ طوفانِ نوح کو بطور حقیقتِ واقعہ پڑھایا جائے، نہ کہ محض افسانہ۔ میسوپوٹیمیا، مصری اور چینی تہذیبوں کے ساتھ انبیاء کے قصے بھی پڑھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب نظامِ تعلیم کی بنیاد حواس کے ساتھ ساتھ وحی بھی ہو گی، تو یونیورسٹیوں میں ملحدوں کی تعداد انگلیوں پر گننے کے قابل رہ جائے گی۔

عمار خان یاسر نے مفتی شمائل ندوی صاحب کے ایک بیان کا حوالہ دیا، جس پر پاکستان میں بڑی بحث چھڑ گئی تھی، اس بیان میں انہوں نے پاکستان کے اسلامی نظام پر سوال اٹھایا تھا، جس کے جواب میں مفتی تقی عثمانی صاحب کی کسی گفتگو کا ایک کلپ بھی وائرل ہوا تھا کہ آئین کے دیباچے میں لکھا ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہو سکتا، اگر اس پر عمل نہیں ہو رہا تو یہ بدعملی ہے، لیکن یہ کہنا کہ نظام اسلامی نہیں، درست نہیں۔

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے کہا کہ شمائل ندوی صاحب کے بیان کی تشریح انہی کے ذمے ہے۔ تاہم اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نظریاتی اعتبار سے پاکستان، افغانستان اور سعودی عرب جیسے ممالک اسلامی ہیں، عملی اعتبار سے کمی بیشی ہو سکتی ہے، ایسی حکومتیں آ سکتی ہیں جو اسلامی نظریات کی تطبیق میں رکاوٹ بنیں، لیکن محض اس لیے یہ کہہ دینا کہ نظریاتی اعتبار سے بھی اسلامی ملک نہیں رہا، زیادتی ہے۔

برہان اکیڈمی کے زیر ترتیب نصابِ تعلیم

عمار خان یاسر نے اگلا سوال نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کے دور میں سکول جانے والے بچوں کی تربیت کیسے کی جائے کہ ان کی بنیاد اتنی مضبوط ہو کہ وہ الحاد، لبرلزم، سیکولرزم اور ٹرانس جینڈرزم جیسے فتنوں کو پہچان سکیں اور فوراً ’’ریڈ فلیگ‘‘ محسوس کریں؟

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس موقع پر اپنے عملی تجربے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں برہان اکیڈمی کے نام سے ایک اسکول قائم ہے، جہاں وہ پری سکول سے لے بارہویں جماعت تک ایک ایسا نصاب مرتب کر رہے ہیں جو خالص اسلامی اصولوں پر مبنی ہے، لیکن ساتھ ہی اعلیٰ ترین معیار کا حامل بھی ہے۔ انہوں نے ایک مثال دی کہ انگلش لینگویج آرٹس میں عام طور پر مغربی کہانیاں اور ناول پڑھائے جاتے ہیں جن میں کفر و شرک کے عناصر شامل ہوتے ہیں۔ مثلاً ’’کنگ آرتھر‘‘ نامی ناول جو دنیا بھر کے انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھایا جاتا ہے، ایک افسانوی کردار ہے جس نے صلیبی جنگوں میں عربوں کو شکست دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس ناول کو تبدیل کر کے طارق بن زیاد کی داستان شامل کی ہے۔ طارق بن زیاد بھی یورپ میں تھے، لیکن وہ ایک حقیقی تاریخی کردار ہیں۔ ان کی کہانی سے بچے انگریزی تو سیکھیں گے ہی، ساتھ میں شجاعت اور بہادری جیسی اسلامی اقدار بھی اپنائیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اس نصاب کی چار بڑے شعبے ہیں:

  • انگلش لینگویج آرٹس
  • میتھمیٹکس
  • سائنس
  • سوشل سٹڈیز

عمار خان یاسر نے استفسار کیا کہ کیا یہ نصاب عوام کے لیے دستیاب ہوگا، جیسا کہ پہلے والے چھ جلدی کورس کا ذکر کیا گیا تھا؟

ڈاکٹر صاحب نے انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2028ء/ 2029ء تک یہ مکمل نصاب تیار ہو جائے گا اور دوسرے ممالک کے اسکول بھی اس سے استفادہ کر سکیں گے۔ البتہ مقامی تاریخ کے لیے انہیں اپنے ملک کی کتابیں شامل کرنی ہوں گی۔

مسلم شناخت کو درپیش خطرات

عمار خان یاسر نے آخری سوال میں موجودہ صورتحال کا ذکر کیا کہ پوری دنیا میں اہلِ کفر متحد ہو کر اسلام اور مسلمانوں کی شناخت کو مسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ایک عالمِ دین کو کیسا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے؟

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے نوجوان علماء کو ایک اہم نصیحت کی کہ پہلے کام مکمل کر لیں، پھر اس کا اعلان کریں، اس میں برکت ہوتی ہے۔ آج کل نوجوان علماء کا مسئلہ یہ ہے کہ کام شروع ہونے سے پہلے ہی اس کی شہرت ہو جاتی ہے، جس سے وہ نامکمل رہ جاتا ہے اور اپنوں اور غیروں کی نظریں لگ جاتی ہیں۔

مسلم شناخت کے تحفظ کے سوال پر انہوں نے بنیادی نکتہ بیان کیا کہ ہماری شناخت ہمارے معاشرے سے بنتی ہے، اور معاشرہ تعلیم کی بنیاد پر بنتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 99 فیصد مسلمان بچے اس نظامِ تعلیم کے پروردہ ہیں جو لارڈ میکالے نے 1830ء میں ڈیزائن کیا تھا۔ جب یہ بچے بڑے ہو کر معاشرے کی تشکیل کریں گے تو وہ معاشرہ کس طرح اسلامی شناخت دے سکتا ہے؟ صرف ایک فیصد مدرسوں میں پڑھنے والے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ 

پھر ڈاکٹر صاحب نے افغانستان کی مثال دی کہ وہاں کے حالات کو سمجھنے کے لیے حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کی کتاب ’’دریائے کابل سے دریائے یرموک تک‘‘ پڑھنی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا ندویؒ نے 1940ء کی دہائی میں افغانستان کا سفر کیا تو وہاں برقعہ اور پردہ عام تھا۔ 1960ء کی دہائی میں جب دوبارہ گئے تو کابل میں بے حیائی عام تھی، خواتین اسکرٹس پہنتی تھیں۔ یہ تبدیلی کیسے آئی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک گوری خاتون نے کابل میں تعلیمی ادارے قائم کیے، اور جب خواتین نے وہاں تعلیم حاصل کی تو ان کا سوچنے کا انداز بدل گیا، لائف سٹائل بدل گیا، اور پورا معاشرہ بدل گیا۔ 

ڈاکٹر الواجدی صاحب نے کہا کہ افغانستان کے موجودہ حکمران اسی تجربے سے سبق سیکھ کر احتیاط سے قدم اٹھا رہے ہیں۔ وہ تعلیم کے خلاف نہیں، بلکہ ایسا نظامِ تعلیم مرتب کرنا چاہتے ہیں جو افغان اور اسلامی اقدار کو محفوظ رکھے۔ ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا کہ تہذیبی تحفظ اور شناخت کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب نظامِ تعلیم ہمارے کنٹرول میں ہو۔ اور موجودہ صورتحال میں مسلم ممالک میں نظامِ تعلیم مسلمانوں کے کنٹرول میں نہیں ہے، جس کی وجہ سے شناخت کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔

بچوں کی تعلیم و تربیت کا نظم

عمار خان یاسر نے گفتگو کا رخ بچوں کی تربیت کی طرف موڑتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کے بیٹے کا ذکر کیا، جس کی تقریر کی ویڈیو انہوں نے دیکھی تھی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ والدین اپنی اولاد خصوصاً بچیوں کی تربیت کیسے کریں کہ وہ شناخت کے بحران (Identity Crisis) کا شکار نہ ہوں، باوجود اس کے کہ انہیں مجبوراً سکولوں میں بھیجنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس موقع پر ایک بنیادی نکتہ بیان کیا کہ والدین اور اولاد کے درمیان رشتے کی مضبوطی اور بے تکلفی سب سے اہم ہے۔ انہوں نے پچھلی نسلوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ معاشرے میں ’’ادب کی دیوار‘‘ حائل رہتی تھی، جس کی وجہ سے بچے والدین سے بے تکلف نہیں ہو پاتے تھے۔ آج کی نسل میں بے تکلفی زیادہ ہے، جسے غنیمت سمجھنا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنا ذاتی تجربہ شیئر کیا کہ جب ان کا بیٹا چار پانچ سال کا تھا، تب سے وہ اس کے ساتھ مختلف سنجیدہ موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں جو اس کی ذہنی سطح کے مطابق ہوں۔ مثال کے طور پر کھانے کی میز پر وہ پوچھتے ہیں کہ تم سے سکول میں کسی نے یہ سوال تو نہیں کیا کہ خدا ہے یا نہیں؟ اس طرح بچے کا ذہن ان سوالات کے لیے تیار ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی حال ہی میں ان کے بیٹے نے پوچھا کہ فلاں نبی کا ذکر قرآن میں کیوں آیا، ان کے کارنامے کیا ہیں؟ اس طرح کے سوالات سے بچے کا ذہن علمی طور پر پروان چڑھتا ہے۔ ڈاکٹر الواجدی صاحب نے کہا کہ بچے کے ذہن میں یہ بات ہونی چاہیے کہ وہ کوئی بھی سوال اپنے والدین سے پوچھ سکتا ہے اور والدین ناراض نہیں ہوں گے بلکہ دلائل اور علمی انداز سے اسے مطمئن کریں گے۔

عمار خان یاسر نے اس نکتے پر زور دیا کہ اس کے لیے تو والدین کا خود علمی طور پر مضبوط ہونا ضروری ہے۔ آج کل بہت سے والدین بچوں کے سوالات ٹالنے کے لیے بہانے بنا کر نکل جاتے ہیں۔

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اسی لیے پورے معاشرے کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔ ماں کی گود کو پہلا مدرسہ کہا گیا ہے تو اس مدرسہ کوالیفائیڈ ہونا چاہیے، جبکہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔

اختتامیہ

عمار خان یاسر نے گفتگو کے اختتام پر دو درخواستوں کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کیا: (۱) آٹھ سال کا طویل وقفہ دوبارہ نہ آئے، اور سال میں دو چار بار گفتگو ہوتی رہے۔ (۲) ڈاکٹر الواجدی صاحب کو پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پٹھان، بلوچ، سندھی، پنجابی، ہر طبقے کے لوگ ان کے لیے بے تاب ہیں۔ وہ تشریف لائیں تو ان کے سیمینارز منعقد کیے جائیں گے اور پاکستان کے عوام انہیں کھلے دل سے خوش آمدید کہیں گے۔

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے دونوں درخواستوں پر مثبت جواب دیا کہ ان شاء اللہ یہ آٹھ سال والا وقفہ نہیں آئے گا، اور پاکستان آمد کے حوالے سے انہوں نے بھرپور آمادگی ظاہر کی۔ 

آخر میں عمار خان یاسر نے ڈاکٹر صاحب کی دعا کے ساتھ گفتگو کا اختتام کیا: ’’جزاکم اللہ خیراً مفتی صاحب! بہت شکریہ، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو سلامت رکھیں، اور ہم دوبارہ سے پھر لوگوں کے سوالات لے کے یہاں بیٹھیں گے۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔‘‘

ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے جواب دیا: ‘‘وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔‘‘

https://youtu.be/l1az2Pofkgk

(مکمل)

اسلام اور عصر حاضر

اقساط

(الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۵

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۱)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۲)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۵)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۶)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

فقہِ اسلامی کا تعارف و تاریخ
ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی

حنفی اصولی منہج (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ائمہ اہل بیت کے فقہی اجتہادات اور فقہ جعفری
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۲)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۵)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۴)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

عمرِ اولؓ اور عمرِ ثانیؒ کا طرزِ حکومت
علامہ رضا ثاقب مصطفائی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۲)
محمد سراج اسرار

قیامِ پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۴)
پروفیسر خورشید احمد

نظریۂ اسلام، نظریۂ پاکستان، دو قومی نظریہ
ڈاکٹر سعید احمد سعیدی

مسجد الاقصیٰ اور امتِ مسلمہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

القدس کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے نام خط
سنیٹر مشتاق احمد خان

ایران پر چالیس روزہ امریکی اسرائیلی جارحیت اور پندرہ روزہ جنگ بندی
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Our Destiny: America, Russia, China, or the Muslim World?
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سید محمد نقیب العطاس کی وفات: اسلامی فکر کے ایک عہد کا خاتمہ
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

حاجی عثمان عمر ہاشمیؒ کا سانحہ ارتحال
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مولانا محمد اسامہ قاسم

مطبوعات

شماریات

Flag Counter