فقہِ اسلامی کا تعارف
ناظرین! آداب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
نظامت فاصلاتی تعلیم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے اس تعلیمی پروگرام میں، میں ڈاکٹر محمد فہیم اختر آپ سب طالبات اور طالب علموں کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ آج کا ہمارا یہ تعلیمی پروگرام جس موضوع پر ہے، وہ ہے ’’فقہِ اسلامی: ایک تعارف‘‘ (Islamic Jurisprudence: An Introduction)۔ آج کے اس پروگرام میں ہم آپ سے جن چیزوں پر گفتگو کریں گے وہ تین باتوں سے متعلق ہوں گی:
- سب سے پہلے آپ کو ہم یہ بتائیں گے کہ فقہِ اسلامی، یا اسلامک جورِسپروڈنس، اس کا مطلب اور مفہوم کیا ہے۔
- پھر آپ کو ہم یہ بتائیں گے کہ فقہِ اسلامی کی انسان کی زندگی میں کیا اہمیت اور ضرورت ہے۔
- تیسرے نمبر پر ہم آپ کو اس میں یہ بتائیں گے کہ فقہِ اسلامی، جس کو ہم اسلامی قانون بھی کہتے ہیں، اس کے سورسز اور اس کے مصادر کیا ہیں۔
1۔ فقہِ اسلامی کا مطلب اور مفہوم
ناظرین! فقہِ اسلامی، اس میں دو الفاظ ہیں۔ ایک ’’فقہ‘‘ کا لفظ ہے اور ایک ’’اسلامی‘‘ کا لفظ ہے۔ فقہ کا لفظ عربی زبان کا لفظ ہے۔ اور فقہِ اسلامی کو اگر ہم انگریزی میں کہیں تو Islamic Jurisprudence کہہ سکتے ہیں۔ ہم اس کو آسان زبان میں اور سمجھانے کے لیے اسلامی قانون Islamic Law بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اس میں جو باتیں ہوں گی ان کا تعلق انسان کی زندگی سے ہو گا کہ کن کاموں کو انسان کو کرنا چاہیے اور کن کاموں کو نہیں کرنا چاہیے۔ لفظِ فقہ عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا معنی ہوتا ہے فہم اور سمجھ۔ قرآن میں اور حدیث میں کئی جگہوں پر اس لفظ کا استعمال ہوا ہے۔ اور اس کا ایک معنی یہ ہوتا ہے کہ بہت ہی باریکی کے ساتھ کسی چیز کے مطلب کو اور مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کرنا۔
آج جو ہمارے سامنے فقہِ اسلامی ہے، اس کا اگر ڈیفینیشن ہم دیں، اصطلاحی تعریف کریں، تو وہ یوں بنتی ہے کہ انسان کی زندگی میں قرآن و حدیث کی روشنی میں غور کر کے جو اسلامی قانون کے ماہرین احکام بیان کرتے ہیں، ان احکام کا مجموعہ فقہِ اسلامی کہلاتا ہے۔ انسانی اعمال اور افعال سے متعلق شریعت کے فروعی احکام ’فقہِ اسلامی‘ ہیں۔ شریعت کا معنی وہ تمام امور اور احکام جو اللہ نے مشروع یعنی مقرر فرمائے ہیں۔ تو فقہِ اسلامی یا اسلامی قانون اللہ کے دیے ہوئے وہ سارے احکام ہیں جو انسان کی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ فقہ کو انسانی زندگی کے لیے شریعت کا ’عملی قانون‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ ہے فقہِ اسلامی۔
2۔ فقہِ اسلامی کی اہمیت اور ضرورت
انسانی کی زندگی میں جو کچھ بھی، اس کی زندگی کے کسی بھی گوشے اور پہلو سے تعلق رکھنے والی باتیں ہوں، اس کی پیدائش سے لے کر اس کی موت تک، اس کی انفرادی زندگی سے لے کر سماج کی زندگی تک، اس کے کاروبار، اس کی خانگی زندگی، اس کے لوگوں کے ساتھ معاملات، اس کا اٹھنا بیٹھنا، اس کا بچپن، اس کی جوانی، اس کا بڑھاپا، اور اس کی پرسنل لائف ہو یا سوسائٹی کی لائف ہو، ان سب کے بارے میں انسان کے سامنے کچھ چیزیں ہوتی ہیں جن کو وہ do's and don'ts کہتا ہے۔ کیا کام وہ کر سکتا ہے اور کیا کام وہ نہیں کر سکتا۔ قرآن میں یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں جو باتیں بتائی گئی ہیں ان سب باتوں کا تعلق انسان کی زندگی سے ہے۔ انسان کچھ کام کر سکتا ہے، کچھ کام نہیں کر سکتا ہے۔ کھانے پینے میں کچھ چیزیں جائز ہیں، کچھ چیزیں جائز نہیں ہیں۔ معاملات میں کچھ چیزیں درست ہیں، کچھ چیزیں درست نہیں ہیں۔
یہ ساری چیزیں جو انسان کو کرنی ہیں، یا نہیں کرنی ہیں، یہ سب باتیں جس ٹاپک اور موضوع کے تحت آتی ہیں، ان کو کہتے ہیں فقہِ اسلامی، یا اسلامی قانون۔ اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اسلامی فقہ کا تعلق انسان کی زندگی سے بڑا گہرا ہے۔ اور زندگی کے ہر لمحے اور ہر گوشے سے اس کا تعلق ہے۔ یعنی فقہِ اسلامی دو تین باتیں بہت صاف بتاتی ہے:
- پہلی بات یہ بتاتی ہے کہ انسان کی زندگی میں کیا چیزیں درست ہیں اور کیا چیزیں درست نہیں ہیں۔ کیا وہ کر سکتا ہے، کیا وہ نہیں کر سکتا ہے۔
- دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ نے کن باتوں کو حلال قرار دیا ہے، جائز بتایا ہے، درست کہا ہے۔ اور کن باتوں سے منع کیا ہے، ان کو درست قرار نہیں دیا گیا ہے اور ان سے روکا گیا ہے۔
- انسان کو اسی سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان فقہِ اسلامی کی روشنی میں اپنی زندگی گزارتا ہے تو گویا وہ اپنے خدا، اپنے مالک، اپنے پربھو کی باتوں پر چل رہا ہوتا ہے اور اس کی منع کی ہوئی باتوں سے وہ رک رہا ہوتا ہے۔
تو اسلامی قانون گویا وہ ایک ترازو ہے جو یہ بتاتا ہے کہ کیا چیز درست ہے اور کیا چیز درست نہیں ہے۔ اور اس کی زندگی کی راہ اور اس کی زندگی کا راستہ کیا ہونا چاہیے۔ اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اسلامی قانون کا پوری زندگی کے ساتھ تعلق ہے، اسلامی فقہ انسان کی زندگی کے ہر معاملے سے تعلق رکھتی ہے، اور اسلامی فقہ انسان کی زندگی کے بچپن بلکہ اس سے پہلے پیدائش کے وقت سے لے کر کے اس کی موت اور وفات تک ہی نہیں بلکہ اس کے بعد اس کی دولت، اس کا مال، اور اس کی میراث سے متعلق جو باتیں ہوتی ہیں، ان سب کے بارے میں فقہِ اسلامی گفتگو کرتی ہے۔
اسی لیے فقہِ اسلامی کی جو کتابیں ہیں، اگر ان کو ہم اٹھائیں اور آپ ان کو دیکھیں، تو اس میں جو چیپٹرز ملتے ہیں، ابواب ملتے ہیں، ان میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ انسان کی زندگی کے شروع سے لے کر اخیر تک، کاروبار کی بھی باتیں ملتی ہیں، اس کی عبادات کے بارے میں باتیں ملتی ہیں، اس کے پہناوے کے بارے میں باتیں ملتی ہیں، اس کے کھانے پینے کے بارے میں باتیں ملتی ہیں، اس کے لوگوں کے ساتھ رویے اور معاملات کے بارے میں باتیں ملتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ملکوں کی حکومت کا جو نظام ہوتا ہے، دو ملکوں کے باہمی روابط ہوتے ہیں، اور اس کے علاوہ انسانی زندگی میں مصیبتیں پیش آتی ہیں، خوشیاں پیش آتی ہیں، بین الاقوامی روابط اور تعلقات ہوتے ہیں، جنگ اور صلح کے معاملات ہوتے ہیں، معاہدے ہوتے ہیں، گویا جتنی چیزیں انسان کی زندگی میں ہو سکتی ہیں ان سب کے بارے میں اسلامی فقہ میں گفتگو ہوتی ہے۔
عزیزو! اس سے آپ کو دو باتیں معلوم ہوئی ہوں گی:
- پہلی بات یہ معلوم ہوئی ہو گی کہ اسلامی فقہ کا انسان کی زندگی سے بڑا گہرا ربط ہے۔
- اور دوسری بات آپ کو یہ معلوم ہوئی ہو گی کہ یہ بڑا comprehensive ہے، بڑا وسیع اور ہمہ گیر ہے، اور زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں فقہِ اسلامی کے اندر باتیں نہ ملتی ہوں۔
3۔ فقہِ اسلامی کے مصادر
اب ہم اس کے تیسرے حصے پر آتے ہیں۔ دیکھیے، فقہِ اسلامی کے اندر دو طرح کے احکام ہوتے ہیں۔ کچھ احکام وہ ہوتے ہیں جن کو قرآن کے اندر بہت صاف لفظوں میں بیان کر دیا گیا ہے۔ جیسے کہا گیا ہے کہ آپ اللہ کی عبادت کریں، نماز پڑھیں، روزہ رکھیں، اور جھوٹ نہ بولیں، دھوکہ نہ دیں، کسی کا مال نہ ہڑپیں، کسی کو برا بھلا نہ کہیں۔ کچھ باتوں سے منع کیا گیا ہے، کھانے پینے میں کہا گیا ہے آپ ہر چیز کھا پی سکتے ہیں لیکن شراب آپ نہیں پی سکتے، وہ حرام ہے، اور فلاں فلاں جو نقصان پہنچانے والی چیزیں ہیں وہ نہیں کھا سکتے۔ تو کچھ باتیں قرآن کے اندر صاف لفظوں میں بیان کر دی گئی ہیں۔ اسی طرح کچھ باتیں حدیث کے اندر بیان کر دی گئی ہیں۔
لیکن ان دونوں کی روشنی میں جو نئے مسائل پیش آتے رہتے ہیں ان کے بارے میں اسلامی قانون کے ماہرین بیٹھ کر غور کرتے ہیں، جس کو اجتہاد کہتے ہیں، غور کرنا۔ اور غور کر کے وہ نئے نئے مسائل: میڈیکل انشورنس کا مسئلہ نیا آگیا، آرگن ٹرانسپلانٹیشن کا مسئلہ نیا آ گیا، کاروبار کے نئے نئے طریقے آ گئے، ای بزنس کے طریقے آ گئے ہیں، ان کے بارے میں قرآن اور حدیث میں صاف لفظوں میں نہیں ملے گا۔ لیکن قرآن و حدیث کے اصولوں کی روشنی میں، اس کی بتائی ہوئی ہدایات کی روشنی میں، ایک فریم ورک کی روشنی میں جو علماء اور ماہرینِ قانون غور کرتے ہیں، جس کو اجتہاد کہتے ہیں، اس سے بھی احکام derive کیے جاتے ہیں اور نکالے جاتے ہیں۔ جن فقہاء کرام نے احکامِ شریعت کے استنباط کا عظیم الشان کام انجام دیا وہ ’مجتہدین‘ کہلاتے ہیں، اور حکم کا استنباط ’اجتہاد‘ کہلاتا ہے۔
تو یہ دونوں طرح کے احکام، جو قرآن و حدیث میں بیان ہوئے ہیں وہ، اور اجتہاد کے ذریعے اسلامی قانون کے ماہرین نے جو احکام بیان کیے ہیں وہ، ان دونوں کو ملا کر جو احکام کا مجموعہ بنتا ہے، جو کتابیں بنتی ہیں، ان کو کہتے ہیں اسلامی قوانین کا مجموعہ۔ تو یہ جو قوانین بن رہے ہیں، یہ کیسے بنائے جائیں گے؟ ان کے سورسز اور مصادر کیا ہوں گے؟ یہ ہماری گفتگو کا تیسرا حصہ ہے، ہم اس کے بارے میں آپ کو تھوڑا بتانا چاہیں گے۔
اسلامی قانون کے، یا اسلامی فقہ کے مصادر کیا ہیں؟ کہا گیا ہے کہ اس کے چار مصادر ہیں:
- قرآن کریم
- حدیث (سنتِ رسولؐ)
- اجماع
- قیاس
یہ چار وہ مصادر ہیں، سورسز ہیں، جن کی روشنی میں اسلامی قانون کے احکام طے کیے جاتے ہیں۔ آئیے ہم آپ کو ان میں سے ہر ایک کے بارے میں الگ الگ تھوڑا سا تعارف کراتے ہیں۔
1۔ قرآن کریم
سب سے سے پہلے قرآن کریم ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ رب العالمین کی یہ وہ کتاب ہے جس کو اللہ نے ایک ایک لفظ کے ساتھ اپنے آخری رسول کے اوپر اتارا تھا۔ اور آج وہ ہمارے سامنے پوری کتاب جس طرح آئی تھی اسی طرح موجود ہے اور تیس پاروں کی شکل میں ہمارے سامنے ایک سو چودہ سورتوں میں موجود ہے۔ قرآن کریم کے اندر پانچ طرح کے علوم بیان کیے گئے ہیں۔ یا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کے جو ٹاپکس ہیں، سبجیکٹس ہیں، وہ پانچ بنتے ہیں:
- اس میں پچھلی قوموں کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ بنو اسرائیل کے، یا دوسرے علاقوں میں جو انسانی آبادی تھی، ان کے بارے میں اللہ نے بیان کیا ہے۔
- دوسرا ان احسانات اور انعامات کا ذکر ہے جو اللہ نے اپنے بندوں پر کیے ہیں۔ اس کائنات کے مالک نے، خدا نے جو انسانوں پر اپنے احسانات کیے ہیں: کائنات کو بنایا ہے، بارش ہے، آسمان ہے، سورج کی روشنی ہے، چاند کی روشنی ہے، زمین کے خزانے ہیں، ان سب کے بارے میں قرآن میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو یہ سب چیزیں دی ہیں۔
- تیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ انسان اس دنیا سے جائے گا، ہر ایک کی موت ہوتی ہے، ہم دیکھ رہے ہیں، جانے کے بعد اگلی زندگی میں کیا اس کے ساتھ پیش آنے والا ہے۔ اس دنیاوی زندگی کے بعد آنے والی دائمی زندگی یعنی آخرت اور اس کی جزا و سزا کا بیان ہے۔
- چوتھی بات یہ بتائی گئی ہے کہ ایک اللہ کو مانو، اس کی عبادت کرو، اس کی پوجا کرو۔ کیوں اس کی پوجا کرنا، اس کی عبادت کرنا ضروری ہے؟ اس موضوع پر بات ہوئی ہے۔ اللہ کی وحدانیت، اس کی ربوبیت اور اسلام کی صداقت کو سمجھانے کی تفصیلات کا ذکر ہے۔
- اور پانچواں جو ٹاپک ہے اس کا، وہ اسلامی احکام سے متعلق ہے۔ do's and don'ts کیا کرنا ہے، کیا نہیں کرنا ہے۔ اس طرح کی تقریباً پانچ سو آیتیں قرآن کریم کے اندر ہیں جن سے احکام معلوم ہوتے ہیں۔
تو نئے مسائل کو معلوم کرنے کے لیے بھی اسلامی فقہ کا جو سورس بنتا ہے، وہ فرسٹ سورس قرآن کریم ہے۔
2۔ حدیث / سنتِ رسولؐ
سیکنڈ سورس، حدیث شریف یا سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ سنت قرآن کے احکام کی تائید و تاکید کرتی ہے۔ سنت کے ذریعہ قرآن کی شرح ہوتی ہے۔ سنت کے ذریعے کچھ ایسے احکام دیے گئے ہیں جن سے قرآن خاموش ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، جو آخری نبی تھے، ان کے سینے پہ قرآن اتارا گیا تھا اور ان کو ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ قرآن کریم کی آیتوں کی تشریح کریں اور بتائیں۔ چنانچہ حدیث میں تشریح کی گئی ہے، ایکسپلینیشن دیا گیا ہے۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ نماز پڑھو۔ نماز پڑھنے کا تفصیلی طریقہ اور اس کی ہیئت کیا ہو گی، وہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔
حدیث میں کچھ نئے احکام بھی دیے گئے ہیں۔ یہ بہت اہم ہے، اس کو بھی ذہن میں آپ کو رکھنا ہے کہ قرآن کریم کے علاوہ بھی کچھ احکام حدیث میں دیے گئے ہیں، اور یہ حکم بھی قرآن کریم میں دیا گیا ہے: ’’ومآ اٰتاکم الرسول فخذوہ‘‘ کہ رسول تم کو جو کچھ دیتے ہیں اس کو لے لو۔ تو حدیث دوسرا سورس ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی قانون کس روشنی میں بنایا جائے گا۔
3۔ اجماع
تیسرا سورس جو ہے وہ اجماع کہلاتا ہے۔ اجماع کا مطلب ہوتا ہے consensus (اتفاق)، یعنی جو اسلامی قانون کے ماہرین ہیں، جن کو مجتہدین کہتے ہیں، اجتہاد کرنے والے لوگ، یہ لوگ بیٹھ کر قرآن و حدیث کی روشنی میں غور کر کے کسی نئے مسئلے کے بارے میں حکم طے کرتے ہیں۔ اجماع کا لغوی معنی اتفاق ہے۔ جب کسی مسئلے میں وضاحت کے ساتھ قرآن یا حدیث کے اندر حکم موجود نہ ہو اور اس زمانے کے تمام مجتہدین اس مسئلہ میں ایک حکم پر متفق ہو جائیں تو مجتہدین کا یہ اتفاق اس حکم کے لیے دلیلِ قطعی بن جاتا ہے۔ ان سب کا اگر اتفاق ہو گیا ہے ایک حکم پر (مثلاً) انسان اپنا خون کسی کو عطیہ کر سکتا ہے، یا انسان کے پاس گردہ ہے، کسی خاص ضرورت میں بغیر کچھ پیسہ لیے ہوئے اپنے کسی رشتہ دار کو عطیہ کر سکتا ہے، اگر ایسے حکم پر سارے مجتہدین کا اتفاق ہو گیا تو یہ اجماع ایک سورس ہے۔ a source for Islamic jurisprudence۔ اجماع ایک شرعی ماخذ اور دلیل ہے۔ اس کے حجت ہونے پر قرآن کی متعدد آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی احادیث دلیل ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ پوری امتِ مسلمہ گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی ہے۔
4۔ قیاس
قیاس کا مطلب ہوتا ہے ایک اندازہ لگانا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اگر ایک چیز درست ہے تو اس طرح کی جتنی چیزیں آئیں گی وہ سب درست مانی جائیں گی۔ مثال کے طور پر شراب پینے سے منع کیا گیا ہے۔ تو شراب ایک خاص قسم کا مشروب ہوتا ہے، لیکن شراب پینے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ وہ صحت کو نقصان پہنچاتا ہے اور نشہ پیدا کرتا ہے۔ تو نشہ پیدا کرنے والی جتنی نئی چیزیں آتی جائیں گی، قیاس کر کے، اندازہ لگا کے کہ چونکہ نشہ حرام ہے، تو جتنی نشہ پیدا کرنے والی چیزیں ہیں وہ سب کی سب حرام ہوں گی۔ اس کو قیاس کہتے ہیں۔ قیاس کے ذریعے بہت سے احکام معلوم کیے گئے ہیں۔ قیاس چوتھا سورس ہے اور اس کے ذریعے احکام معلوم ہوتے ہیں۔
قیاس کا لغوی معنی ہے اندازہ کرنا۔ اصطلاح میں قیاس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مسئلہ کے بارے میں شریعت میں حکم بیان ہوا ہے، تو اس حکم کی جو علّت ہے، وہ جن جن نئے مسائل میں پائی جائے وہاں بھی وہی حکم جاری کیا جائے۔ یہ چوتھا شرعی ماخذ ہے۔ لیکن اس کا وجود اجماع سے پہلے ہوا ہے۔ کیونکہ قیاس کا ضابطہ خود قرآن کی آیات اور احادیث میں کارفرما ہے۔ اور عہدِ رسالت میں ہی متعدد مسائل میں صحابہ کرامؓ نے قیاس سے کام لیا۔
تو یہ چار وہ سورسز ہیں اسلامی قانون کے (۱) قرآن کریم (۲) سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (۳) اجماع (۴) اور قیاس۔ ان چاروں سورسز کے ذریعے نئے مسائل کے احکام معلوم کیے جاتے ہیں۔
خلاصہ
ناظرین! آج کے سبق میں آپ نے یہ بات جانی کہ فقہِ اسلامی کا مفہوم ہے سمجھ پیدا کرنا۔ اور فقہِ اسلامی کی اصطلاحی تعریف یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں غور کر کے جو احکام زندگی کے نکالے گئے ہیں ان کا مجموعہ ’فقہِ اسلامی‘ ہے۔ آپ نے یہ بات جانی کہ فقہِ اسلامی کا انسان کی زندگی سے گہرا تعلق ہے اور یہ اہم ترین ضرورت ہے انسان کی۔ اور آپ نے اسی طرح یہ بھی جانا کہ فقہِ اسلامی کے سورسز (مصادر) چار ہوتے ہیں: قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس۔ اور ان چاروں کی روشنی میں نئے مسائل کے احکام معلوم کرنے کا سلسلہ جاری ہے، آج بھی چلتا جا رہا ہے۔
مجھے اندازہ ہے کہ آپ نے اس موضوع کو سمجھا ہو گا، اس سے فائدہ اٹھایا ہو گا۔ آپ اس موضوع پر مزید مطالعہ کرنا چاہیں تو میں آپ کو چند کتابوں کے نام بتاتا ہوں:
- ’’فقہِ اسلامی: تعارف اور تاریخ‘‘ — پروفیسر اختر الواسع ، ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی
- ’’فقہِ اسلامی: تدوین و تعارف‘‘ — مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
- ’’فقہِ اسلامی کا تاریخی پس منظر‘‘ — مولانا تقی امینی
- ’’تاریخِ فقہِ اسلامی‘‘ — اردو ترجمہ: مولانا عبد السلام ندوی
آج کے سبق میں بس اتنا ہی ہے، مجھے اجازت دیجیے، ان شاء اللہ پھر کسی اور سبق میں اور پروگرام میں آپ سے ملیں گے ایک نئے موضوع کے ساتھ، تب تک کے لیے خدا حافظ۔
فقہِ اسلامی کی تاریخ
ناظرین! آداب، میں ڈاکٹر محمد فہیم اختر، نظامت فاصلاتی تعلیم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے اس تعلیمی پروگرام میں ایک بار پھر آپ کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ آج کا ہمارا یہ تعلیمی سبق جس موضوع پر ہے وہ کچھ یوں ہے: فقہِ اسلامی کی تاریخ (History of Islamic Jurisprudence) … آج ہماری گفتگو اس موضوع پر ہو گی جس سے ہم اس موضوع کے مختلف حصوں کو نمایاں کر سکیں۔
- ہم سب سے پہلے گفتگو کریں گے فقہِ اسلامی کے پہلے دور پر، جو ہمارا فرسٹ فیز ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور صحابہ کرامؓ کی زندگی۔ یہ دور تقریباً ہجری سن کے اعتبار سے ۱۰۰ برس تک کا زمانہ ہے۔ یہ پہلا دور ہو گا۔
- پھر ہماری گفتگو دوسرے دور پر ہو گی اور وہ دور مجتہدین اور تابعین کا زمانہ ہے۔ اور یہ تقریباً ۳۵۰ ہجری تک کا زمانہ آتا ہے، چوتھی صدی کا نصف اول تک۔
- اس کے بعد تیسرا دور جس پر ہم گفتگو کریں گے وہ ہوگا فقہی کتابوں کی تصنیف کا زمانہ اور تقلید کا زمانہ۔ یہ کافی لمبا زمانہ ہے اور تقریباً ۲۰ویں صدی عیسوی کے نصف تک آتا ہے۔ یعنی ۱۹۲۴ء، ۱۹۲۵ء کے تک کا زمانہ آجاتا ہے۔ ۱۹ویں صدی کے بعد پچیس یا پچاس سال مزید۔
- اور آخری دور پر گفتگو ہو گی جو ہمارا موجودہ زمانہ ہے اور آج تک چل رہا ہے۔
1۔ نبی ﷺ اور صحابہ کرامؓ کا زمانہ
دیکھیے، فقہِ اسلامی کا جب آغاز ہوا، تو یہ وہی وقت ہے جس وقت اسلام کا آغاز ہوا ہے۔ چونکہ قرآن کریم کے نزول کے ساتھ ہی، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول بنائے جانے کے ساتھ ہی یہ بات لوگوں کو معلوم ہونے لگ گئی تھی کہ کیا کام کرنے ہیں اور کیا کام نہیں کرنے ہیں۔ اس کا بالکل دوسرا نام فقہِ اسلامی ہے، یا اسلامی قانون ہے۔ گویا اسلام کے آغاز کے ساتھ ہی فقہِ اسلامی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اور یہ دور پورا چلتا ہے، اس کو ہم نے فارمیشن پیریڈ یا formation age کا نام دیا ہے، تشکیلی زمانہ ہے، فقہِ اسلامی کی بنیاد پڑتی ہے اس زمانے میں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی، جو نبوت کی پوری تئیس برس کی زندگی ہے، اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو تیار کیا تھا، ان کی تربیت کی تھی، ان کو نہ صرف یہ احکام بتائے تھے بلکہ ان کو اس قابل بنایا تھا کہ وہ نئے مسائل میں نئے احکام مستنبط کر سکیں، نکال سکیں اور بنا سکیں۔ تو حضورؐ کا زمانہ اور صحابہ کرامؓ کا زمانہ دونوں کو ملا کر وہ عرصہ بنتا ہے کہ جس کو ہم نے تشکیلی زمانہ کہا ہے۔ جس میں فقہِ اسلامی کی اساس رکھی جاتی ہے اور پوری اس کی بنیاد تیار ہو جاتی ہے۔ یہ زمانہ ۱۰۰ ہجری تک اس لیے ہے کہ اس کے بعد کچھ ہی زمانے تک کچھ صحابہؓ رہ پائے ہیں، ۱۱۰ ہجری کے آس پاس سارے صحابہ کرامؓ گزر گئے ہیں۔ تو حدیث شریف کے اندر صحابہ کرامؓ کی بات ماننے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود شارح تھے، احکام بتایا کرتے تھے، اللہ کی طرف سے بھی، اپنی جانب سے بھی۔
تو اسی زمانے میں فقہِ اسلامی کی بنیاد پڑی ہے اور دو کام اس زمانے میں ہوئے ہیں:
- ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتا دیا کہ کیا کام کرنے ہیں اور کیا نہیں کرنے ہیں۔ وہ پوری تفصیل قرآن کے اندر موجود ہے، حدیث شریف کے اندر موجود ہے۔ وہ دونوں کتابیں آج ہمارے سامنے دستیاب ہیں۔
- دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اسی دور میں وہ کچھ اصول اور ہدایات دے دیے گئے ہیں، ایک فریم ورک دیا گیا ہے، ایک دائرہ دیا گیا ہے کہ نئے مسائل کے بارے ان اصولوں کی روشنی میں غور کر کے نئے مسائل معلوم کیے جائیں۔
مثال کے طور پر اسلام نے کہیں یہ نہیں بتایا کہ لباس کیا پہنا جائے۔ کرتا پاجامہ ہونا چاہیے، پینٹ شرٹ ہونا چاہیے، جبہ قبہ ہونا چاہیے، یہاں تک کہ خواتین کا برقعہ ہونا چاہیے، یا فلاں ڈیزائن ہونا چاہیے، ایسی کوئی بات قرآن یا حدیث کے اندر نہیں ہے۔ چونکہ قرآن و حدیث کو یہ بتانا تھا کہ رہتی دنیا تک ہر علاقے کے لوگ ان احکام پر عمل کر سکیں، تو یہاں پر اصولی بات بیان کی گئی کہ لباس ڈھیلا ڈھالا ہو، لباس سے جسم ڈھک جائے، لباس اتنا باریک نہ ہو کہ لباس پہننے کے باوجود جسم نظر آ رہے ہوں۔ یہ اصولی بنیادی باتیں بتا دی گئیں۔ ان کی روشنی میں لباس کا ڈیزائن کیا ہو، لباس کا انداز کیا ہو، اس کو چھوڑ دیا گیا لوگوں کے اوپر۔
اس طرح دوسرا کام یہ کیا گیا اُس زمانے میں کہ کچھ اصول دے دیے گئے۔ کاروبار کے حوالے سے بتا دیا گیا کہ کسی کو دھوکہ نہ دو، معاملہ صاف ستھرا کرو، وعدے کی پابندی کرو، اور دوسرے کا مال حرام طریقے سے نہ لو۔ اب وہ کاروبار کمپیوٹر کے ذریعے ہو، یا کاروباری سامان سامنے رکھ کر بیچا جائے، یا کاروبار ٹرانسپورٹ کے ذریعے ہو، سب چیزوں کی اجازت ہو سکتی ہے۔ تو یہ دوسرا کام کیا گیا اس دور میں کہ احکام کے کچھ اصول دے دیے گئے اور ان کی روشنی میں احکام مستنبط کرنے کا طریقہ بتا دیا گیا۔
اور ساتھ ہی اس کی تربیت بھی دی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ کو اپنے زمانے میں اجتہاد کرایا۔ ایک مشہور مثال میں آپ طلبہ کے سامنے رکھتا ہوں۔ ایک مشہور صحابی ہیں جو اسلامی قانون کے حوالے سے بھی بہت بڑا نام رکھتے ہیں، ان کا نام ہے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ ان کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں یمن کا گورنر (عامل) بھی بنایا تھا اور وہاں کا جج (قاضی) بھی بنایا تھا۔ بھیجنے سے پہلے ان کی تربیت کی اور تربیت کے بعد ان کا امتحان لیا۔ ان سے پوچھا کہ اے معاذ، تم وہاں جا رہے ہو گورنر اور قاضی بن کے، تمہارے سامنے مسائل آئیں گے، مقدمے آئیں گے، کس طرح فیصلہ کرو گے؟ انہوں نے تربیت حاصل کر رکھی تھی، اس کی روشنی میں جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول، میں قرآن کی روشنی میں غور کروں گا اور حکم بیان کروں گا اور دیکھوں گا کہ قرآن میں اس مسئلے کا کیا جواب ہے۔ حضورؐ نے پوچھا کہ اگر قرآن میں اس کا جواب نہیں ملا تو؟ معاذ بن جبلؓ نے کہا کہ پھر میں حدیث کو دیکھوں گا۔ حضورؐ نے پوچھا کہ اگر تم کو میری حدیث کے اندر بھی اس سوال کا جواب نہیں ملے تو؟ معاذ بن جبلؓ نے کہا کہ پھر میں اپنی عقل سے غور کروں گا اور بھرپور محنت کر کے غور کر کے معلوم کرنے کی کوشش کروں گا کہ اس مسئلے میں اللہ اور اس کے رسول کا کیا حکم ہو سکتا ہے۔ حضور اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے معاذ بن جبلؓ کی پشت تھپتھپائی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کو ایک اچھی بات سمجھ میں آئی، جس طریقے پر ان کو تربیت دی گئی تھی، اس کے امتحان میں وہ کامیاب نکلے۔
اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
- پہلی بات یہ معلوم ہوئی کہ اس بات کا امکان تھا کہ ایسے مسائل پیش آئیں جن کا جواب براہ راست قرآن اور حدیث کے اندر نہ ہو۔
- اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ایسی صورتحال میں انسان کو اپنی عقل سے غور کرنا ہو گا اور غور کرنے کے لیے قرآن و حدیث کی روشنی سے رہنمائی حاصل کرنی پڑے گی۔
تو یہ پہلا زمانہ تھا جس میں فقہِ اسلامی کے احکام بھی معلوم ہو گئے، اور فقہِ اسلامی میں نئے مسائل معلوم کرنے کے طریقے بھی سکھا دیے گئے، تربیت دی گئی، اور اس کے اصول اور ضابطے بھی بتا دیے گئے۔
2۔ تابعین اور مجتہدین کا زمانہ
طلبہ کرام، اب ہم دوسرے دور پر آتے ہیں، دوسرا دور جو ہمارا تابعین اور مجتہدین کا زمانہ ہے۔ دیکھیے، تابعین کہتے ہیں ان لوگوں کو جو دوسرے کے راستے پر چلنے والے ہوں۔ صحابہ کرامؓ کے جو لوگ شاگرد تھے، اُن کو تابعین کہا گیا، اس لیے کہ صحابہؓ کے راستے پر چلنے والے تھے۔ اور مجتہدین کا مطلب ہوتا ہے اجتہاد کرنے والے۔ اجتہاد کا مطلب ہوتا ہے غور کرنا۔ ابھی آپ نے یہ بات سنی کہ معاذ بن جبلؓ کو اجتہاد کا طریقہ سکھایا گیا تھا۔ انہوں نے خود جواب دیا تھا کہ میں غور کروں گا، اجتہاد کروں گا۔ تو جن لوگوں نے اجتہاد کیا وہ مجتہدین کہلائے۔
صحابہ کرامؓ کے زمانے کے بعد کا جو زمانہ ہے، جس کو ہم نے ۱۰۰ ہجری کے بعد سے لے کر ۳۵۰ ہجری تک کا زمانہ لیا ہے، تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو آپ دیکھیں گے کہ اس زمانے میں بڑے پیمانے پر اجتہاد ہوا۔ اور یہ فطری بات تھی۔ چونکہ اسلامی مملکت کا دائرہ وسیع ہو رہا تھا، نئی نئی قوموں سے مسلمانوں کے روابط اور تعلقات بن رہے تھے، نئے علاقے فتح ہو رہے تھے، تو بڑے سوالات آ رہے تھے: کاروبار کے، معاملات کے، شادی بیاہ کے، اور زندگی گزارنے کے۔ ان سب نئے سوالات کے بارے میں جواب دینا تھا۔ جن لوگوں نے اپنے آپ کو اس کام کے لیے یکسو کر لیا، dedicated کر لیا، انہوں نے فقہِ اسلامی کے قوانین مرتب کیے اور وہ لوگ مجتہدین کہلائے۔
عزیز طلبہ، اس بات کو ذرا آپ ذہن میں بٹھائیں کہ یہ جو ہمارا دوسرا دور ہے، جس کو تابعین اور مجتہدین کا زمانہ کہا گیا ہے، اسی دور میں الگ الگ انداز سے جو مجتہدین نے اجتہاد کیے ان میں رائیوں (opinions) کا فرق پڑا۔ اور رائیوں کا یہ اختلاف خود حضورؐ کے زمانے میں صحابہ کرامؓ میں بھی ہوا تھا۔ اور اس بات کو ضرور یاد رکھیے گا کہ صحابہ کرامؓ کے رائیوں کے اختلاف کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح قرار دیا تھا، اس کو valid (درست) مانا تھا، اس کو آپ نے discard (مسترد) نہیں کیا تھا۔
ایک موقع پر حضورؐ نے صحابہ کرامؓ سے کہا کہ یہاں سے نکل کر، بنو قریظہ کا جو فلاں محلہ ہے، وہاں جاؤ اور عصر کی نماز وہیں پڑھنا۔ صحابہ کرامؓ نکلے، راستے میں عصر کی نماز کا وقت ختم ہونے لگ گیا۔ آپس میں ان کا difference of opinion (رائے کا اختلاف) ہو گیا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہمیں رک کر عصر کی نماز پڑھ لینی چاہیے ورنہ نماز قضا ہو جائے گی۔ کچھ دوسروں نے کہا کہ نہیں، حضورؐ نے کہا ہے کہ نماز وہاں پہنچ کر پڑھنی ہے، بنو قریظہ کے محلے میں، تو ہم وہاں جا کر پڑھیں گے۔ ایک گروہ نے راستے میں نماز پڑھی آخری وقت میں۔ ایک گروہ نے وہاں پہنچ کر نماز پڑھی تو ان کی نماز قضا ہو گئی۔ دونوں نے ایک ہی حکم پر عمل کیا لیکن دونوں کے عمل کرنے کے طریقے الگ ہو گئے۔ جب ان دونوں گروہوں نے حضورؐ کو اپنے اس واقعے کی اطلاع دی تو حضورؐ نے فرمایا کہ تم نے بھی صحیح کیا اور تم نے بھی صحیح کیا۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں، میں نے صرف ایک مثال آپ کو بتائی ہے، جس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ رائے کا اختلاف درست تھا اور حضورؐ نے اس کو مانا تھا۔
یہی چیز مجتہدین کے زمانے میں ہوئی، اور انہوں نے جو اجتہاد کیا تو اس میں ان کی رائیوں میں فرق پڑا۔ یہی رائیوں کا فرق مسلک بنے اور فقہی مسالک وجود میں آئے۔ اس لیے اس دور میں فقہ کے میدان میں جو کام ہوئے ہیں، ان میں ایک تو اجتہاد کا کام بڑے پیمانے پر ہوا، اور دوسرا فقہی مسالک وجود میں آئے۔ میں اپنے طلبہ کو ایک بات بتانا چاہوں گا کہ جو فقہی مسالک وجود میں آئے اس زمانے میں، وہ صرف چار نہیں تھے:
- یہ امام مالکؒ کا مسلک بھی تھا — فقہِ مالکی
- امام احمد بن حنبلؒ کا تھا — فقہِ حنبلی
- امام شافعیؒ کا تھا — فقہِ شافعی
- امام ابوحنیفہؒ کے نام پہ تھا — فقہِ حنفی
- امام اوزاعیؒ کے نام پہ تھا — فقہِ اوزاعی
- امام طبریؒ کے نام پہ تھا — فقہِ طبری
- امام لیث بن سعدؒ کے نام پہ تھا — فقہِ لیث
- امام شریحؒ کے نام پہ تھا
- ابنِ ابی لیلیؒ کے نام پہ تھا
- امام داؤد ظاہریؒ کے نام پہ تھا
- امام جعفر صادقؒ کے نام پہ تھا — فقہِ جعفری
- امام زید بن علیؒ کے نام پہ تھا — فقہِ زیدی
اور آج بھی یہ فقہِ زیدیہ اور فقہِ جعفریہ موجود ہے۔ تو اس طرح فقہی مسالک بہت سے بنے تھے۔ اتفاق ہے کہ کچھ مسالک باقی رہ گئے، کچھ مسالک باقی نہیں رہے۔ اور دوسری بات آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ فقہی مسالک کا یہ مطلب نہیں تھا کہ یہ سب بالکل آپس میں الگ الگ ہیں۔ بنیادی طور پر یہ ایک تھے۔ ان سب کے اندر سارے مسائل میں بہت چھوٹی چھوٹی باتوں میں فرق تھا۔ مثال کے طور پر نماز میں ہاتھ سینے پر باندھیں گے یا نیچے باندھیں گے۔ یہ چھوٹا سا فرق تھا اور دونوں درست تھے۔ ورنہ نماز کس طرح پڑھی جائے گی، ہر مسلک میں ایک ہی تھا۔ تو اس دور میں جو کام ہوئے ہیں اُن میں یہ فقہی مسالک بھی وجود میں آئے اور وہ آگے بڑھے۔ اور کچھ مسالک باقی رہے اور کچھ مسالک نہیں رہے اور ختم ہو گئے۔
3۔ تقلید اور فقہی کتابوں کی تصنیف کا زمانہ
عزیز طلبہ، اب ہم اپنے موضوع کے تیسرے حصے پر آتے ہیں۔ یہ فقہِ اسلامی کا تیسرا دور ہے۔ اور یہ دور مجتہدین کا زمانہ ختم ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اور کافی لمبا عرصہ چلتا ہے۔ اس کو ہم نے نام دیا ہے ’’تقلید اور فقہی کتابوں کی تصنیف کا زمانہ‘‘۔
دیکھیے، دو الفاظ کا استعمال یہاں پر ہو رہا ہے۔ ایک ہے ’’تقلید کا زمانہ‘‘۔ تقلید کہتے ہیں دوسروں کی بات ماننا۔ ہم جانتے ہیں کہ ہر آدمی اسلامی قانون کا ماہر نہیں ہو سکتا۔ تو جو لوگ کسی سبجیکٹ کے ایکسپرٹ نہیں ہوتے، وہ سبجیکٹ کے ایکسپرٹ سے معلوم کرتے ہیں۔ یہ زندگی کے ہر شعبے کے اندر ہوتا ہے۔ جو لوگ قانون کے ماہرین نہیں ہیں، قانون کے میدان میں وہ قانون کے ماہرین کی بات مانیں گے اور اس پر عمل کریں گے۔ یعنی مجتہدین کی بات مانیں گے۔ تو جو لوگ دوسروں کی بات مان کر عمل کرتے ہیں اس کو تقلید کہا جاتا ہے۔ یہ بہت ہی فطری بات ہے۔
اس زمانے میں یہ ہوا کہ، اس سے پہلے نئے مسائل جو بہت سارے پیش آ رہے تھے اور اجتہاد کے ذریعے ان کے احکام بتائے گئے تھے، اب زندگی کی رفتار تھوڑی تھم سی گئی تھی اور ایک سکون سا آگیا تھا، اور بہت سارے مسائل میں اجتہاد ہو چکا تھا، تب اجتہاد کی ضرورت کم رہ گئی تھی۔ ’’ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے‘‘، نئے مسائل پیش نہیں آ رہے تھے، اجتہاد کی ضرورت گھٹتی گئی تو فطری طور پر مجتہدین بھی گھٹ گئے۔ تب اس زمانے میں تقلید زیادہ ہونے لگ گئی۔ اس لیے ہم نے اس کا نام تقلید کا زمانہ رکھا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مجتہدین نہیں ہوئے، اس دور میں بھی مجتہدین ہوئے ہیں: ابن تیمیہؒ ہوئے ہیں، ابن قیمؒ ہوئے ہیں، اور بہت سے مجتہدین بعد میں ہوئے ہیں، لیکن کم رہے ہیں پہلے کے مقابلے میں۔
دیکھیے، مجتہدین نے جو مسائل مستنبط کیے تھے، نئے مسائل بتائے تھے، ان سب مسائل کو کتابوں کی شکل میں لکھا گیا اور ہر مسلک میں الگ الگ لوگوں نے لکھا۔ خود اُس پچھلے دور میں بھی کتابیں لکھی گئی تھیں لیکن کم کتابیں تھیں۔ اِس دور میں فقہ کی کتابیں بہت لکھی گئی ہیں اور نئے نئے انداز سے کتابیں لکھی گئیں۔ نصاب کی ضرورت کو سامنے رکھ کر کتابیں لکھی گئیں، ان کی شروحات لکھی گئیں۔ نئے مسائل جو اس زمانے میں پیش آئے ان کے فتاویٰ لکھے گئے، وہ فتاویٰ کی کتابیں کہلائیں۔ تو ہر مسلک میں، خاص طور سے چار سنیوں کے مسالک (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی)، اور فقہِ جعفریہ اور فقہِ زیدیہ جو اِس زمانے میں رائج ہیں، ان چھ فقہی مسالک کے بارے میں اور ان کے علاوہ کے بارے میں بھی بے شمار کتابیں لکھی گئیں۔ آپ اس بات کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ اگر کسی لائبریری میں آپ جا کر دیکھیں تو فقہ کے سیکشن میں اتنی کتابیں آپ کو ملیں گی کہ جو بلامبالغہ سینکڑوں نہیں ہزاروں میں کتابیں ہیں۔ الگ الگ انداز سے کتابیں لکھی گئی ہیں، ان کی شروحات لکھی گئی ہیں۔ اور تمام نئے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔
تو یہ پورا دور فقہی کتابوں کا ہے اور اہم ترین کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اور اس دور میں فقہِ اسلامی کا ایک عظیم الشان ذخیرہ اور عظیم لائبریری تیار ہو گئی ہے۔
4۔ موجودہ زمانہ
اب ہم آتے ہیں آخری دور پر۔ ہمارا جو فقہِ اسلامی کی تاریخ کا آخری دور ہے، ہماری اِس تقسیم کے لحاظ سے، وہ موجودہ زمانہ ہے۔ جس کو ہم نے ۱۹۲۵ء کے بعد سے لیا ہے۔ میں اپنے طلبہ کو یہ بات بتانا چاہوں گا کہ فقہِ اسلامی کی تاریخ کی یہ تقسیم جو کی گئی ہے، یہ ایک تقسیم ہے، اس کے علاوہ اور بھی تقسیمیں کی گئی ہیں: پوری فقہِ اسلامی کی تاریخ کو چھ ادوار کے اندر بھی بانٹا گیا ہے، اس کو آٹھ زمانوں کے اندر بھی بانٹا گیا ہے، ہم نے یہاں پر آسانی کے لیے آپ کے سامنے چار دوروں میں بانٹا ہے۔ یہ جو ہمارا آخری دور ہے، تقریباً ساری تقسیموں کے اندر یہ دور آتا ہے۔ یہ دور جس کو ہم نے modern age اور موجودہ زمانہ کہا ہے۔
دیکھیے، ہوتا یہ ہے کہ جنگِ عظیم دوم کے بعد دنیا میں ایک تبدیلی آتی ہے۔ تبدیلی کچھ پہلے سے آنے لگ گئی تھی، صنعتی انقلاب کے نتیجے میں، نئے نئے ایجادات کے نتیجے میں، پھر سے سوالات آنے لگ گئے تھے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہمارا موجودہ زمانہ فقہِ اسلامی کے دوسرے دور کے متشابہ ہے۔ دوسرے دور میں یہ ہوا تھا کہ نئے مسائل کثرت سے پیش آئے تھے۔ اسی لیے مجتہدین نے بڑے پیمانے پہ اجتہاد کیے تھے۔ درمیان کا تیسرا زمانہ وہ تھا جس میں اجتہاد کم ہو گیا۔ نئے مسائل کم تھے، اس لیے مجتہدین بھی گھٹ گئے تھے۔ یہ دور جو ہمارا موجودہ زمانہ ہے، اس میں آپ دیکھیں کہ تقریباً روزانہ نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ میں اگر آپ کو بعض مسائل کی مثال دوں، دیکھیں:
- آج کے زمانے میں سوال یہ تک پیدا ہو گیا ہے کہ کیا ایک خاتون اپنے رحم کو، اپنی کوہ کو کرائے پر دے سکتی ہے؟ surrogate mother یا surrogacy کا سوال بنا ہوا ہے۔
- انسان کا اگر انتقال ہوتا ہے اور وہ یہ وصیت کرنا چاہتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے اعضا کسی کو عطیہ کر دیے جائیں، یہ سوال آ گیا ہے آج۔
- کاروبار کے کیا کیا طریقے آ گئے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی ترقی نے کتنے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تو یہ زمانہ ایسا ہے جس میں پھر سے نئے سوالات پیدا ہوئے ہیں اور ان سوالات کو حل کرنے کے لیے اجتہاد کا کام پھر شروع ہوا ہے۔ اور یہ پچھلے اسی زمانے سے، جب سے میں عرض کر رہا ہوں، بیسویں صدی کے نصف آخر سے بڑے پیمانے پر اجتہاد ہو رہا ہے۔ البتہ اِس زمانے میں جو اجتہاد ہو رہا ہے وہ انفرادی اجتہاد کی جگہ اجتماعی اجتہاد ہو رہا ہے۔ اجتماعی اجتہاد کا مطلب یہ ہے کہ ایسے ایسے انسٹیٹیوشنز بنائے گئے ہیں، ادارے قائم کیے گئے ہیں، جہاں اسلامی قانون کے ماہرین، سبجیکٹس کے ایکسپرٹس، یہ لوگ بیٹھیں اور اجتہاد کریں۔ وجہ یہ ہے کہ آج علوم کا بڑا پھیلاؤ ہو گیا ہے۔ نئے نئے علوم، ان کی شاخیں۔ ایک آدمی کے لیے بڑا مشکل ہے کہ وہ زبان و ادب کا بھی ماہر ہو، قانون کا بھی ماہر ہو، عربی زبان کا بھی ماہر ہو، قرآن و حدیث کا بھی ماہر ہو، اور مثال کے طور پر اگر میڈیکل سائنس کا مسئلہ ہے تو اس کا بھی ماہر ہو، اگر کامرس کا اور بزنس کا مسئلہ ہے تو اس کا بھی ایکسپرٹ ہو۔ ایک آدمی نہیں ہو سکتا۔ تو مختلف ماہرین کو ایک جگہ اکٹھا کر کے ایک ایسا ادارہ بنایا جائے جہاں پر سارے لوگ بیٹھیں اور غور کریں، اور ہر ایک دوسروں سے تعاون کر رہا ہو۔
اس طرح آج جو ادارے قائم ہوئے ہیں وہ اجتماعی اجتہاد کے ادارے کہلاتے ہیں۔ ایسے ادارے بہت سے قائم ہوئے ہیں اور پچھلے پچاس ساٹھ برسوں میں بیسیوں ادارے قائم ہو گئے ہیں۔ ہمارے ملک کے اندر قائم ہوئے ہیں۔ یہاں کا سب سے مشہور فقہی ادارہ جس میں اجتماعی اجتہاد ہوتا ہے، وہ اسلامک فقہ اکیڈمی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ’’مجمع الفقہ الاسلامی الدولی‘‘ (انٹرنیشنل اسلامک فقہ اکیڈمی) قائم ہے۔ اسی طرح ایک رابطہ عالم اسلامی کے ماتحت ’’المجمع الفقہ الاسلامی‘‘ ہے۔ یورپ کے اندر ’’یورپین افتاء کونسل‘‘ ہے جو یورپی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے ایشوز پر اجتماعی اجتہاد کرتی ہے۔ شمالی امریکہ کے اندر ایک ’’فقہ اکیڈمی فار نارتھ امریکہ‘‘ کے نام سے موجود ہے۔ اور اسی طرح مختلف ملکوں میں ہیں۔ ہمارے ملک میں اس فقہ اکیڈمی کے علاوہ اور بھی کئی ادارے کام کر رہے ہیں۔ اس طرح اجتماعی اجتہاد کے بہت سے ادارے بنے ہیں اور یہ لوگ اجتماعی غور و فکر کر رہے ہیں اور اجتہاد کر رہے ہیں۔ اور ان کے فیصلے بھی کتابی شکل میں سامنے آ رہے ہیں۔ گویا ان اجتماعی اجتہاد کے اداروں کے ذریعے آج کے نئے مسائل کو حل کیا جا رہا ہے۔ یہ بڑا کام اِس زمانے میں ہو رہا ہے۔
اِس زمانے میں ایک کام اور ہو رہا ہے، وہ یہ کہ جو فقہی مسالک الگ الگ بن گئے تھے، آج کے نئے سوالات کی روشنی میں ایک فقہی مسلک کے اندر رہ کر ان سوالات کے جوابات ڈھونڈنا بڑا مشکل ہو رہا ہے۔ تو سارے فقہی مسالک پھر سے قریب آ گئے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اجتماعی اجتہاد کے ان اداروں میں اور ان کے سیمیناروں میں ہر مسلک کے لوگ موجود ہوتے ہیں، جو دستیاب ہوں۔ اور سب مل کر رائے دیتے ہیں، اور ان کی رائے بھی کسی مسلک کے دائرے میں نہیں ہوتی ہے بلکہ براہ راست قرآن و حدیث کی روشنی میں ہوتی ہے۔ ہاں، وہ مسلکی کتابوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
تیسرا کام جو اِس زمانے میں بڑا اہم ہو رہا ہے، وہ یہ کہ ایسی کتابیں لکھی جا رہی ہیں جن کو نئے اسلوب میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر انسائیکلوپیڈیا کتابیں آ رہی ہیں فقہ کی۔ کویت سے فقہی انسائیکلوپیڈیا کے نام سے ۴۵ جلدوں میں کتاب آئی ہے ’’الموسوعۃ الفقہیۃ‘‘۔ اور اس میں حروفِ تہجی کی ترتیب سے کوئی سا بھی فقہ کا مسئلہ ہو اس کو آپ ڈھونڈ سکتے ہیں۔ خود ہمارے ہندوستان میں ایک ’’قاموس الفقہ‘‘ کتاب لکھی گئی ہے جس کے مصنف مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب ہیں۔ اس میں آپ حروفِ تہجی، الف لے لیں، با لے لیں، دال لے لیں، سین لے لیں، شین لے لیں، جس حرف سے آپ کو جو مسئلہ ڈھونڈنا ہو وہ ڈھونڈ سکتے ہیں اور وہ اس کتاب میں مل جاتا ہے۔
تو اس طرح نئے نئے اسلوب میں کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ قانون سازی کے انداز میں کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ اور نئے نئے موضوعات پر کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ تو اِس زمانے میں فقہِ اسلامی کے اندر پھر سے ایک boom آیا ہے، اجتہاد بڑے پیمانے پر ہونے لگ گیا ہے، اجتماعی اجتہاد ہونے لگ گیا ہے، اور نئی نئی کتابیں لکھی جا رہی ہیں۔ یہ آج کے موجودہ زمانے کی فقہِ اسلامی کی تاریخ کی خصوصیات تھیں۔
خلاصہ
طلبہ و طالبات! آج کے سبق میں آپ نے یہ دیکھا کہ ہم نے فقہِ اسلامی کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔ اور ہم نے یہ بتایا کہ فقہِ اسلامی کا جو ڈویلپمنٹ ہوا ہے اور ارتقا ہوا ہے، یہ چار ادوار سے گزرا ہے۔ اور اس کا آغاز اسی وقت ہو گیا جس وقت اسلام کا آغاز ہوا ہے۔ یعنی قرآن کریم کے نازل ہونے کے ساتھ ہی فقہِ اسلامی کا آغاز ہوتا ہے۔
- پہلا دور وہ تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کا زمانہ تھا۔ اور یہ دور پورے ایک سو سال پر محیط ہے، ایک سو سال کا زمانہ ہے، اس میں فقہِ اسلامی کی بنیاد پڑی ہے، اور فقہِ اسلامی میں دو کام ہوئے ہیں: (۱) ایک تو احکام بتا دیے گئے ہیں، بنیادی احکام۔ (۲) اور دوسرا، کچھ اصول اور ضابطے بتائے گئے ہیں۔
- دوسرا دور ہمارا تابعین اور مجتہدین کا زمانہ تھا۔ تابعین، جو صحابہ کرامؓ کے شاگرد تھے۔ مجتہدین، جنہوں نے اجتہاد کیا۔ اور اس زمانے میں بڑے پیمانے پر اجتہاد ہوا اور فقہی مسالک وجود میں آئے۔ اور اُس زمانے کے عالمِ اسلام کے تقریباً ہر بڑے شہر میں بڑے بڑے مجتہد موجود تھے۔ اور ہزاروں مسائل کا استنباط کیا گیا، احکام معلوم کیے گئے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کے جوابات بتائے گئے۔ یہ دوسرا دور تھا۔
- تیسرے دور کے بارے میں ہم نے بتایا، جو چوتھی صدی ہجری کے نصف سے شروع ہوتا ہے اور بیسویں صدی عیسوی کے پہلے نصف تک رہتا ہے، لمبا زمانہ ہے، اس زمانے کا نام ہم نے ’’تقلید اور فقہی کتابوں کی تصنیف و تالیف کا زمانہ‘‘ رکھا ہے۔ اس میں تقلید زیادہ ہوتی رہی ہے یعنی فقہی مسالک کے اندر لوگ اپنے اپنے مسلک کے مطابق عمل کرتے رہے ہیں۔ اور کتابیں بڑے پیمانے پر لکھی گئی ہیں۔ اور عالمِ اسلام میں تقریباً ہر جگہ فقہِ اسلامی کا بہت بڑا ذخیرہ اور بہت بڑی لائبریری تیار ہو گئی ہے۔ یہ لمبا زمانہ رہا، اس میں تھوڑا بہت اجتہاد بھی ہوا، اور نئے نئے انداز سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔
- اس کے بعد جو آخری زمانہ ہے، جس کے بارے میں آپ کو ہم نے بتایا کہ یہ موجودہ زمانہ ہے، جو بیسیوں صدی کے نصف کے آخر سے شروع ہوتا ہے اور چل رہا ہے۔ اِس زمانے میں نئے مسائل کی کثرت ہوئی، زندگی کے ہر میدان کے بارے میں بہت زیادہ نئے مسائل پیش آئے، اس لیے اجتہاد بھی بڑے پیمانے پر پھر سے ہوا۔ اور یہ اجتہاد انفرادی کی جگہ اجتماعی اجتہاد ہوا۔ اور اس دور میں نئے انداز سے فقہ کی کتابیں بھی لکھی گئیں اور فقہی مسالک آپس میں قریب بھی ہوئے اور ان میں جو دوریاں تھیں وہ ختم ہو گئیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ آپ طلبہ و طالبات نے آج کے سبق کو سمجھا ہو گا اور اس سے آپ کو فقہِ اسلامی کے بارے میں، اس کی تاریخ اور ڈیویلپمنٹ اور ارتقا کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہوا ہو گا۔ پھر بھی اگر آپ اس موضوع پر مزید مطالعہ کرنا چاہیں تو میں ریکمنڈ کروں گا کہ آپ ضرور مطالعہ کریں، تو چند کتابیں آپ کو بتائی جاتی ہیں، آپ انہیں نوٹ کر لیں:
- ’’فقہِ اسلامی: تعارف اور تاریخ‘‘ — پروفیسر اختر الواسع ، ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی
- ’’فقہِ اسلامی: تدوین و تعارف‘‘ — مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
- ’’فقہِ اسلامی کا تاریخی پس منظر‘‘ — مولانا تقی امینی
- ’’تاریخِ فقہِ اسلامی‘‘ — اردو ترجمہ: مولانا عبد السلام ندوی
