سوال:
السلام علیکم ڈاکٹر صاحب! میرا نام طلحہ ہے، میرا آپ سے یہ سوال ہے، جس طرح ابھی نظریے پر ہماری بات ہو رہی تھی اور جب تحریکِ پاکستان چلی تھی تو اُس وقت، یہ جو ابھی آپ نے ذکر کیا ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ لا اللہ‘‘ یہ نعرہ بلند ہوا اور اِسی پر ہم نے اپنا ملک حاصل کیا۔ تو نظریۂ پاکستان اور نظریۂ اسلام میں کوئی فرق ہے یا دونوں ایک ہی چیزیں ہیں، اس میں حقیقت کیا ہے؟
جواب:
کافی سارا جواب تو پچھلے سوال میں آ چکا ہے۔ نظریۂ پاکستان، نظریۂ اسلام، دونوں ایک ہی چیزوں کا نام ہے، یا دو قومی نظریہ۔ میں پھر دہرا دیتا ہوں: نظریۂ پاکستان، نظریۂ اسلام اور دو قومی نظریہ، ایک ہی ہے۔
جس طرح نبئ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو آفر کی گئی تھی کہ آپ ایسا کر لیں کہ ایک سال ہم آپ کے رب کی بندگی کر لیتے ہیں، ایک سال آپ ہمارے بتوں کی پوجا کر لیں، تاکہ معاملات مفاہمت سے چلائے جا سکیں۔ نبئ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت اللہ کے حکم کے مطابق اعلان فرمایا: ’’قل یا ایھا الکافرون…‘‘ اور یہ واحد آیت ہے جس میں اللہ کے نبی کو حکم ہوا کہ آپ ان کو پکاریں کہ اے کافرو! اور اس میں واضح کر دیا گیا کہ یہ نہیں ہو سکتا۔
یہ بالکل ایسے ہے کہ دودھ کے ایک ٹب میں اگر ایک قطرہ غلاظت کا پڑ جائے تو سارا ٹب ناپاک ہو جاتا ہے۔ اسلامی نظریہ پاکیزگی کا نام ہے۔ کفر اور اسلام اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ اور اسی لیے جو نظریہ نبئ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا تھا وہی نظریہ علامہ اقبال نے اور ہمارے بزرگوں نے، اولیاء نے پیش کیا۔ اور یہی تھا کہ جس طرح کفر اور اسلام اکٹھے نہیں ہو سکتے، اُس دور میں کفر مشرکین کی صورت میں تھا، منافقین کی صورت میں تھا، اور برصغیر میں کفر جو ہے وہ ہندوؤں کی صورت میں تھا۔
کہا جاتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کو ایک ہندو نے کہا کہ کیا ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے؟ تو قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک گلاس پانی کا منگوایا اور آدھا پیا اور اُسے کہا آپ یہ پی لیں۔ اس نے کہا جی میں تو نہیں پی سکتا۔ تو قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا، آپ میرا جوٹھا پینے کے لیے تیار نہیں ہیں تو ہم دونوں ایک ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں؟
بہرحال دو قومی نظریہ، نظریۂ پاکستان اور نظریۂ اسلام، یہ تینوں ایک ہی نقطۂ نظر کے نام ہیں کہ:
- اللہ وحدہٗ لا شریک ہے،
- رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء والمرسلمین ہیں،
- اور اللہ کا جو دیا ہوا نظام ہے، مسلمان اس نظام کا نائب ہوتا ہے، اس نظام کا مالک نہیں ہوتا، اس نے اس نظام کا نفاذ کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اس نظام کے سامنے رکاوٹیں ڈالنی ہوتی ہیں۔
