ایران پر چالیس روزہ امریکی اسرائیلی جارحیت اور پندرہ روزہ جنگ بندی

ایران پر مشترکہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کو چالیس دن سے زیادہ ہو گئے تو خدا خدا کر کے کفر ٹوٹا اور پندرہ دن کی جنگ بندی کا اعلان امریکی صدر نے سات اپریل کو کیا۔ ایران کا ایک سپر پاور اور خطہ کی سب سے بڑی فضائی قوت اسرائیل کے تباہ کن حملوں کے باوجود survive (بچاؤ) کر جانا ہی اس کی فتح کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ ایران اس طرح ایک بڑی تباہی سے بچ گیا ہے۔ مگر امریکہ کے پاس بھی اس جنگ بندی کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں بچا تھا کیونکہ اس اعلان سے چند گھنٹوں قبل ہی سات اپریل 2026ء کو سلامتی کونسل میں اس کو ایک بڑی سفارتی شکست مل چکی تھی جب بحرین نے ایران کے خلاف یہ رزولیوشن پیش کیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور کیا جائے، تو چین اور روس نے دونوں نے اس کو یہ کہتے ہوئے ویٹو کر دیا کہ اس جنگ میں جارح ایران نہیں ہے بلکہ امریکہ اور اسرائیل ہیں، اور رزولیوشن میں ایران پر ان کے حملہ کی نہ مذمت موجود ہے اور نہ ہی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپ کے سارے بڑے ممالک اس جنگ کے خلاف ہیں۔ دنیا کے دو نیوکلیر ممالک واضح طور پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کھڑے ہوئے جس سے امریکہ کو سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔

اس سے قبل امریکہ بار بار دھمکیاں اور گالیاں دے رہا تھا اور اس کا صدر ٹرمپ اس سلسلہ میں ساری حدیں پار کر چکا تھا، جو زبان وہ استعمال کر رہا تھا اس پر دنیا حیران تھی۔ اس کا صلیبی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کہتا ہے کہ: "We negotiate with bombs" ہم بمباری کرتے ہیں اور ساتھ ہی مذاکرات بھی۔ اب یہ واضح ہو رہا ہے کہ امریکہ ایران کو زیادہ سے زیادہ تباہ و برباد کر کے اس جنگ سے جلد از جلد نکل جانا چاہتا تھا اور ایران کے ازلی دشمن اسرائیل کے لیے تھوڑے سے مالی نقصان کے ساتھ یہ گھاٹے کا سودا نہیں، کیونکہ اسرائیل کا جانی نقصان تو بظاہر بہت ہی معمولی ہے اور مالی نقصانات کی تلافی امریکہ اور پورا مغرب شوق سے کر دیں گے کہ وہ ان کا پالتو بچہ ہے۔ اِس لیے اس کا ہر حال میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ ہاں، اس جنگ میں ایران اور امریکہ اور خلیج کے ممالک تینوں losers ہیں کہ تینوں خسارہ میں رہے۔ جانی نقصان تو امریکہ کا بھی کچھ نہیں ہے لیکن اس کی سپر پاور ہونے کی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔ اس کو ایک ایسے ملک نے چیلنج کر دیا ہے جو چالیس سال سے اقتصادی پابندیوں کی مار جھیل رہا ہے۔

بظاہر ایران اخلاقی اور اسٹریٹیجیکلی جیت گیا ہے مگر یہ فتح بڑی ہی مہنگی پڑی ہے۔ یہ اس کے لیے Pyrrhic وکٹری (مہنگی جیت) ہے جس میں فاتح جیت کر بھی نہیں جیتتا۔ اُس کا عسکری ڈھانچہ تباہ، سول فیسیلٹیز برباد، نیوی، فضائیہ، اسکول، پولیس اسٹیشن، سول ادارے، بجلی گھر، اسپتال اور پل سب تباہ کر دیے گئے ہیں۔ ایک لاکھ کے قریب مکانات تباہ ہوئے ہیں اور ان کو بنانے میں برسوں لگیں گے۔ ساتھ ہی ہزاروں معصوم جانوں کا نقصان ہوا ہے۔ تاہم یہ جنگ امریکہ و اسرائیل کی کھلی دہشت گردی تھی اور ایران پر زبردستی مسلط کی گئی تھی جس کا نہ کوئی جواز تھا نہ ایران نے اس کے لیے اکسایا تھا۔ اس لیے مجبوراً اس کو لڑنا پڑی۔ جس کے لیے اس کی جرأت و استقامت کو سلام ہے۔

امریکہ کو اخلاقی شکست بھی ہوئی اور معاشی نقصان بھی پہنچا جو بہت زیادہ نہیں ہے۔ اصل میں تو اُس کا سپر پاور کا غرور و استکبار کا بت پاش پاش ہوا۔ آنے والے چند مہینوں میں امید ہے کہ اِس فرعونِ زمانہ ٹرمپ کو شخصی طور پر اس کی سزا مل کر رہے گی کہ اس کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گر رہا ہے۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ مڈ ٹرم الیکشن میں اس کی ہار پکی ہو گی۔ پھر اُس کا Impeachment (مواخذہ) بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح خلیجی عرب ملکوں نے اپنے لیے ترقی کا جو مغربی ماڈل چنا تھا وہ بری طرح کرش ہو گیا ہے۔ ان کی بہت زیادہ معاشی تباہی ہو گئی ہے اور اب پہلی جیسی صورت حال کو واپس لانا ان کے بس میں نہیں ہے۔ کیونکہ وہ مستقل خطرہ سے دوچار رہیں گے۔ اپنا دفاع بیرونی خطروں سے وہ کر نہیں سکتے۔ امریکہ پر بھروسہ کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اسرائیل ان ممالک میں توسیع کے خواب دیکھتا ہے، اور ایران کو وہ اپنے لیے وجودی خطرہ سمجھتے ہیں۔ البتہ سعودی عرب اور قطر اس صورتحال میں پاکستان کے مزید قریب آ رہے ہیں جو ایک اچھی علامت ہے۔

البتہ اس جنگ کے اصل مجرم اور بین الاقوامی دہشت گرد نتن یاہو کو اس جنگ سے ابھی تو بہت فائدہ ہو گیا ہے۔ 80 فیصد اسرائیلی اس کے پیچھے کھڑے ہیں، گرچہ دبی دبی مخالفت بھی ہو رہی ہے۔ اکتوبر میں وہاں انتخابات ہونے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ پھر جیت جائے گا۔ اور اس کا گریٹر اسرائیل کا جو منصوبہ ہے اب اس کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔ کیونکہ کئی عرب ممالک اس جنگ میں اس کا ساتھ دے رہے تھے اور ایران کو کمزور کر کے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہے تھے۔

اگرچہ یہ پہلو بھی اس جنگ سے اسرائیلی عوام کے سامنے آیا کہ دنیا میں کوئی تو ہے جو 9.97 ملین اسرائیلیوں کو چالیس دن رات تک برابر راتوں کو آٹھ آٹھ بار اٹھ اٹھ کر بنکروں میں چھپنے اور پناہ لینے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ان دنوں میں ان کی زندگی اجیرن تھی پورے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن تھا، بازار، اسکول بند، کاروبار ٹھپ۔ ایسا ان کے ساتھ پہلی بار ہوا ہے اور دوسروں کو عذاب دیتے رہنے والوں نے خود پہلی بار جنگ کا عذاب چکھا ہے۔ جس کی وجہ سے اسرائیلی عوام نے بھی اس جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔ گرچہ رپورٹیں آ رہی ہیں کہ جنگ باز اور دہشت گرد نتن یاہو اور اس کا خاص ٹولہ اس سے خوش نہیں ہوا۔ اور وہ صہیونی لابی کو کام میں لا کر امریکہ و ایران کے درمیان امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

عرب ممالک (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات) اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کو بائی پاس کر کے FTA (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) کے تحت براہِ اسرائیل ایک نئی پائپ لائن بچھانے کی بات کر رہے ہیں جس میں انڈیا بھی شامل ہو گا اور اس راستہ سے وہ اپنا تیل و گیس انڈیا اور یورپ دونوں کو بھیج سکیں گے۔ اس طرح بھاری پیسہ خرچ کر کے یہ لوگ آبنائے ہرمز اور باب المندب سے چھٹکارا پا لیں گے۔ پھر ایران کی دنیا کے لیے اسٹریٹیجک اہمیت خود ہی ختم ہو جائے گی۔ تاہم ابھی اس منصوبہ کو بروئے کار آنے میں خاصا وقت لگے گا تب تک ایران کی یہ حیثیت برقرار رہے گی۔

اس میں شک نہیں کہ ٹرمپ مزاجاً‌ ایک غیر متوازن، طاقت کے نشہ میں چور اور نرگسی مزاج شہنشاہ ہے، مگر ایران کے حوالہ سے اُس کا ذہن پوری طور پر اپنے صہیونی آقاؤں کے زیر اثر ہے اور پوری طرح کلیئر ہے کہ وہ ایران کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کو خطرہ ایران کی ملائیت یا مذہبی جذباتیت سے نہیں بلکہ اُس امکان سے ہے جو ایران میں بہت بڑے انقلاب کا پیش خیمہ بن چکا ہے۔ کیونکہ ایران ساری اقتصادی پابندیوں کے باوجود اپنے علم، سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے اس مقام پر تھا کہ وہ ایک نئی دنیا تخلیق کر سکتا تھا۔ اِسی امکان کے خاتمہ کے لیے دہشت گرد نتن یاہو برسوں سے واشنگٹن کے چکر لگا رہا تھا اور تیس برسوں سے مسلسل امریکی صدور کو قائل کرنے کی کوششیں کرتا رہا تھا۔ اور بالآخر وہ ٹرمپ کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گیا کہ ایران میں ایک بڑا امکان ہے جو مغرب کے لیے چیلنج ہے، اس کو ختم کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز بند کرنے سے امریکہ پریشر میں آ جائے گا۔ اس کی بلا سے۔ وہ اس جنگ کے پہلے ہی دن سے ایران کو تباہ کرنے کے لیے میدان میں آیا تھا اور وہی کام وہ کرتا رہا۔ اور یقینی ہے کہ اس جنگ کے خاتمہ تک وہ ایران کو پچاس سال پیچھے دھکیل چکا ہو گا۔

ایران کا انٹیلی جینٹسیا بھی اس بات کو سمجھ رہا ہے۔ چنانچہ ایران کے سابق وزیر خارجہ، سفیر اور اب تہران یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر جواد ظریف نے تین اپریل کو مشہورِ عالم امریکی جریدہ فارن افیئرز میں ایک کالم لکھا ہے۔ "A Deal Tehran Could Take: How Iran Should End the War" جس کا لب لباب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ سمجھنا درست نہیں کہ امریکہ پر بھروسہ کر کے جنگ کو کسی بھی حال میں نہیں روکنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران اپنے نیوکلیر پروگرام پر سمجھوتہ کر لے اور امریکہ فوراً جارحیت بند کر دے تو جنگ بندی کی ایک صورت نکل سکتی ہے۔ کیونکہ امریکہ اور اسرائیل جو تباہی مچا رہے ہیں وہ ملک کے حال و مستقبل کے لیے زبردست خطرہ ہے۔ تقریباً اسی طرح کی بات معروف امریکی کالم نگار ٹامس فرائڈمین نے بھی اپنے کالم میں کہی ہے۔

اس جنگ کا اصل فائدہ اسرائیل کو ملنے جا رہا ہے۔ وہی اس جنگ کے بعد خطہ میں سپر پاور بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر خطے کے لوگوں نے ابھی بھی ہوش کے ناخن نہ لیے۔ کیونکہ عربوں کے ڈھلمل، غلامانہ اور ڈرے سہمے رویے نے امریکہ و اسرائیل کو ان کی طرف سے یقین دلا دیا ہے کہ ان تلوں میں اب تیل نہیں ہے۔ چار اپریل کو ٹرمپ نے امریکی عوام کے نام اپنے خطاب میں ان سارے عرب حکمرانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بیسیز اور اڈے سب ان کو استعمال کرنے دیے تھے۔ خود امریکی وزیر جنگ نے بھی اس کا اعتراف کیا تھا کہ ہم خلیج کے ممالک میں موجود اپنے اڈے مسلسل استعمال کر رہے ہیں۔ اس لیے ایران نے ان کو اپنا جائز ہدف مانا تھا۔ صرف اپنے عوام کو بے وقوف بنانے اور عام مسلمانوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے یہ حکمران مسلسل جھوٹے بیانات دے رہے تھے کہ وہ اس جنگ کا حصہ نہیں ہیں اور انہوں نے اپنی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ جبکہ ایران یہ کہتا ہے کہ امریکی طیاروں کی ری فیولنگ کویت، بحرین اور سعودی عرب میں ہو رہی تھی۔ امریکی فوجی بڑے پیمانے پر متحدہ عرب امارات میں سول ڈریس میں ان کے ہوٹلوں کے اندر موجود تھے اور وہاں سے کارروائیاں کر رہے تھے۔

اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے بارے میں وال اسٹریٹ جرنل، واشنگٹن پوسٹ اور دوسرے امریکی جرائد میں مسلسل ایسی رپورٹیں آتی رہیں کہ امارات وغیرہ کا اس پر زور ہے کہ امریکہ ایران کو زخمی چھوڑ کر اس جنگ سے نہ نکلے بلکہ پوری طرح ایران کو تباہ کرے۔ کیونکہ زخمی ایران ان کے لیے زیادہ خطرناک بن جائے گا۔ اگرچہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ رپورٹیں خود پینٹاگان کی وار اسٹریٹیجی کا حصہ ہوں اور فیک ہوں، تاہم اتنا ہی امکان ان کی صداقت کا بھی ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات مسلسل اسرائیل کے کیمپ میں کھڑا ہے جس کی وہ کوئی تردید بھی نہیں کرتا۔ تاہم ہمارا خیال ہے کہ خلیج کی ریاستوں پر ایران کے حملوں کو جواز دے بھی دیا جائے تب بھی ایران کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، کیونکہ آخری تجزیہ میں اس سے امریکہ اور اسرائیل کا تو کچھ نہیں بگڑا، سارا نقصان تو مسلمانوں کے ہی حصہ میں آیا اور یہی تو دشمن چاہتا ہے۔ یعنی ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنا غصہ غلط جگہ نکالا اور اپنے پڑوس میں صرف اپنے لیے کانٹے بو لیے! اور بالواسطہ اسرائیل ہی کا مفاد پورا کیا!

اب بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ بعض خلیجی ممالک امریکہ اور اسرائیل کے اور زیادہ قریب آئیں گے۔ جس طرح برصغیر میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ چونکہ امریکہ نے عرب ملکوں کو ایران کے آگے کھلے میدان میں تنہا چھوڑ دیا ہے اور اس کا سارا فوکس اسرائیل کے تحفظ پر رہا تو قوی امکان ہے کہ اب عرب اس بارے میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں۔ لیکن عرب میڈیا کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا نہیں۔ وہاں امریکہ اور اسرائیل خطہ میں ان کی خطرناک پالیسیاں سرے سے زیر بحث ہی نہیں، وہاں تو صرف اور صرف ایران اور عجم و عرب کے مابین مسلکی تنازعہ اور اس تنازعہ کی تاریخی بنیادیں اور انقلاب کے بعد ایران کی عرب مخالف پالیسیاں ہی مباحثہ کا موضوع ہیں۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اب عرب اور زیادہ امریکہ پر بھروسہ کریں گے۔ جبکہ ذہنی طور پر وہ ایران سے اور دور ہوں گے۔ چونکہ وہ ایران کو بڑا اور فوری خطرہ اپنے لیے سمجھتے ہیں اور اسرائیل کو نہیں سمجھ رہے ہیں، اس لیے اسرائیل کے لیے گریٹر اسرائیل کا راستہ مزید آسان ہوا ہے۔ اس جنگ سے بظاہر اس کو کوئی خاص دھچکہ نہیں پہنچا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ لانگ ٹرم میں اب اسرائیل کو امریکہ اور یورپ سے وہ سپورٹ نہیں ملے گی جو اب تک ملتی آئی ہے کیونکہ وہاں رائے عامہ اب صہیونی مغربی میڈیا کی محتاج نہیں رہ گئی ہے۔ اور نئی جنریشن کے خیالات اسرائیل کے بارے میں تبدیل ہوئے ہیں۔ اِس بڑے شر سے یہی ایک خیر برآمد ہونے کی توقع ہے جس کو materialize ہونے (قدم جمانے) میں ابھی دیر لگے گی۔

خدا شرے برانگیزد کہ خیرِ ما دراں باشد

ایران نے بڑے زبردست نقصانات اٹھا کر جس دلیری سے قربانیاں دی ہیں اور استقامت دکھائی ہے اُس سے یہ تو یقینی ہے کہ مستقبل میں امریکہ اور اسرائیل ایسا Misadventure (ناکام مہم) کرنے میں سو بار سوچیں گے۔ ایران اس جنگ میں سروائیو کر گیا، یہی اس کی حقیقی جیت ہے۔ اس سے آگے چل کر خطہ میں اس کی پکڑ بھی مضبوط ہو گی۔ اسی طرح جنوبی لبنان تو تباہ ہوا مگر حزب اللہ دوبارہ مضبوط ہو کر سامنے آئی ہے۔ اب ایران کو اپنی ری بلڈنگ کے ساتھ ہی ساری توجہ خطہ کے ممالک سے اپنے تعلقات بہتر بنانے پر کرنی ہو گی۔ چنانچہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خلیج کے تمام ملکوں کے علاوہ برادر اسلامی ملکوں کے نام ایک خط لکھا ہے جس کو سات اپریل 2026ء کو الجزیرہ نے شائع کیا ہے۔ اس خط میں انہوں نے یہی یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران تمام برادر ملکوں سے دوستانہ روابط چاہتا ہے۔

جبکہ اسرائیل اور امریکہ کا اصل منصوبہ گریٹر اسرائیل کی طرف بڑھنا ہے، جس کی راستہ کی رکاوٹ ایران ہے، اسی کو وہ دور کرنا چاہتے ہیں۔ اب برادر عرب ملکوں پر ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور ہم لوگ مل جل کر اپنے خطہ کو مضبوط اور پُر امن بنائیں۔ امریکہ اور اسرائیل یہاں کبھی امن و استقرار نہیں آنے دیں گے۔ لیکن عربوں نے ابھی ابھی ایران کی جس جارحیت کا سامنا کیا ہے اس کے بعد ایسا لگتا نہیں ہے کہ وہ موجودہ حالات میں ایران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے۔

اس جنگ سے روس نے زبردست کمائی کی ہے کہ وہ مسلسل یورپ کو اپنا تیل اور گیس بیچتا رہا۔ اسی طرح چین نے بڑی خاموشی سے ایران کے ساتھ مل کر امریکہ کی معاشی قبر کھودنے کا پروگرام بھی بنا لیا ہے جس کے لانگ ٹرم میں پوری دنیا میں زبردست اثرات ہونے والے ہیں۔ ہوا یہ ہے کہ چین مدتوں سے De-dollarization (ڈالر کی اجارہ داری ختم ہونے) کے خواب دیکھ رہا ہے۔ امریکہ کی ساری چودھراہٹ دنیا کی معیشت میں ڈالر کی حکمرانی کے بل پر قائم ہے۔ اگر ڈالر کی ویلیو ختم یا کم کر دی جائے تو وہ اپنی اوقات میں آ جائے گا، کیونکہ کہنے کو تو وہ دنیا کی اب بھی سب سے بڑی معیشت اور عسکری سپر پاور ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ مقروض ملک بھی امریکہ ہی ہے جس کے بیرونی قرضے ٹریلینوں میں ہیں۔ وہ تو عربوں کے پیسے لوٹ کھسوٹ کر وہ اپنا بوجھ کم کرتا رہتا ہے اور اس جنگ کے اخراجات بھی وہ عربوں سے لینے کا اشارہ دے چکا ہے۔

اب ایران نے ایک بڑا بولڈ قدم یہ اٹھا دیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جو ٹول ٹیکس اس نے وصول کیا وہ ڈالر میں نہیں بلکہ یوان میں کیا۔ یوان چین کا سکہ ہے اور اگر اس نے عالمی معیشت میں ڈالر کی جگہ لے لی یا اس کے برابر کا اعتبار حاصل کر لیا تو امریکہ کے زوال کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ ٹرمپ تاجرانہ ذہنیت کا آدمی ہے اور وہ چین کے اِس کھیل کو سمجھتا ہے، جس کا حصہ ایران بھی بن گیا ہے، اس لیے وہ ایران سے اتنی نفرت کا اظہار کرتا رہتا ہے۔

اب سات اپریل کو اس جنگ میں یہ نیا موڑ آیا ہے کہ 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن کے بعد، جس میں ٹرمپ نے نیوکلیر حملہ اور پوری ایرانی تہذیب کو ایک ہی رات میں ختم کرنے کی دھمکی دی تھی، اور ترکی بہ ترکی ایران نے بھی خلیج کے ملکوں اور اسرائیل پر شدید حملوں کا عندیہ دیا تھا، اب فریقین کے درمیان پندرہ دن کی عارضی جنگ بندی ہو گئی ہے۔ اس شرط پر کہ امریکہ بھی ایران پر اپنے حملے روک دے گا اور اسرائیل بھی، اور ایران پندرہ دن کے لیے آبنائے ہرمز کو کھول دے گا۔

اس جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ چین نے ایران کو اس کے لیے راضی کیا۔ دوسری طرف پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر تینوں نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے انتھک جدوجہد کی۔ وزیر خارجہ بیجنگ گئے وہاں ایرانی فریق سے معاملات طے پائے۔ اور وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے مسلسل ٹرمپ ایڈمنسٹریشن سے رابطے کیے۔ یہاں پاکستانی سفارت کاری قابل تحسین ہے کہ انہوں نے پوری دنیا کو اس مخمصہ سے نکالا اور اب ساری دنیا میں ان کی تحسین بھی ہو رہی ہے۔ سوائے انڈیا کے، جس غریب کا حال ’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘ جیسا ہے، جس کو پاکستان نے پہلے عسکری محاذ پر اور اب سفارت کے محاذ پر بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا راؤنڈ اسلام آباد میں ہو گیا اور توقع ہے کہ مزید راؤنڈ بھی جلد ہی ہوں گے جس میں فی الحال ٹرمپ کے بعض عاجلانہ اقدامات سے تعطل پیدا ہو گیا ہے۔

امید کی جا سکتی ہے کہ شرقِ اوسط میں امن و استقرار کی جو امید کی کرن نمودار ہوئی ہے وہ پوری ہو۔ البتہ اسرائیل نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ اس جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے، جبکہ پاک وزیراعظم نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ جنگ بندی لبنان سمیت تمام علاقوں کو شامل ہے۔ یاد رہے کہ لبنان کے جنوب میں کوئی دس کلومیٹر کا علاقہ لیتانی ندی تک اسرائیلی فوج نے قبضہ کر لیا ہے اور وہاں اس کی حزب اللہ سے دو بدو جنگ ہو رہی ہے۔ اس علاقہ میں اسرائیلی بمباری سے زبردست تباہی مچی ہے جس کی طرف ایران پر امریکہ و اسرائیل کی جارحیت کی وجہ سے دنیا کی توجہ نہیں جا سکی ہے۔

ایرانی مزاحمت جو بہت calculated (نپی تلی) اور strategic (منصوبہ بند) تھی اور جس نے ساری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا بلکہ خود جارح قوتوں کو اس کی طرف سے ایسی جرأت رندانہ اور بے مثال مزاحمت کی توقع نہ تھی اسی لیے شروع میں امریکی انتظامیہ بار بار حیرت کا اظہار کر رہی تھی کہ یہ ایرانی پندرہ ہزار sorties (بمبار جہازوں کی پروازوں) کی مار جھیلنے کے باوجود سر نِگوں کیوں نہیں ہوتے، ہار کیوں نہیں مانتے! بالآخر ٹرمپ اس نتیجہ پر پہنچ گیا کہ اب اس کو امریکہ میں جنگ کی بڑھتی مخالفت اور نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم الیکشن میں جیتنے کے لیے اس جنگ سے باہر نکلنا چاہیے۔ چنانچہ اس نے پاکستان کی بہترین اور تیز تر سفارت کاری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مذاکرات کا تماشہ بھی اسلام آباد میں لگا لیا۔ اب دوبارہ پاکستان میں مذاکرات کی ٹیبل سجنے والی ہے جس میں ابھی ایران تذبذب کا شکار ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ وہاں سول اور فوجی قیادتوں میں اس حوالہ سے اختلافات ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ٹرمپ نے خود بھی پاکستان آنے کا عندیہ دیا ہے۔ اسی اثناء میں پاکستان نے اپنی ڈپلومیسی سے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کر لیا تھا اور وہ کھل بھی گئی تھی مگر چونکہ صہیونی لابی کے مضبوط حصار میں گھرے ٹرمپ کو اپنے عوام کو جیت کا چورن بھی بیچنا ہے اس لیے ایران پر دباؤ بنائے رکھنے کے لیے خود آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی نیز ایران کے ایک جہاز کو قبضہ میں لے لیا اور اپنی دھمکیاں بھی جاری رکھیں۔ اس لیے جواب میں ایران نے بھی دوبارہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ جس کے بعد فی الحال امریکہ اور پاکستان دونوں کے درمیان مذاکرات کے سلسلہ میں تعطل بنا ہوا ہے، اگرچہ ٹرمپ نے جنگ بندی میں پاکستان کی درخواست پر توسیع کر دی ہے جو ایک اچھا قدم ہے۔

ترکی، سعودی، قطر، مصر اور پاکستان کے درمیان بہت ممکن ہے کہ کوئی مشترکہ دفاعی سمجھوتہ ہو جائے جس کے بعد مشرق وسطیٰ کی سیاست میں پاکستان کا بڑا رول ہو جائے گا۔ جو انڈیا اور اسرائیل کے لیے بے چینی کا باعث بن رہا ہے۔ اگر پاکستان خطہ میں مثبت اور فعال رول ادا کرتا ہے تو اس سے خطہ میں استحکام آئے گا۔ عرب خلیجی ریاستوں کو ایران و اسرائیل دونوں کے خطرہ سے اطمینان ہو گا۔ اسرائیل کے گریٹر اسرائیل کی طرف بڑھتے قدموں پر روک لگے گی۔ پاکستان کے اس وقت امریکہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں، ایران اور عرب ملکوں کے ساتھ بھی۔ اس لیے اسرائیل غالباً پاکستان کو چھیڑنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ کیونکہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جو مختصر سا تصادم ہوا تھا جس میں انڈیا کی شکست اور سبکی ہوئی تھی اُس نے پاکستان کا قد پوری دنیا میں بہت بلند کر دیا۔ اُس کے ہاں معیشت کے مسائل ہیں اور بلوچ علیحدگی پسندی اور طالبان کی دہشت گردی نے اس کے مسائل میں ہوش ربا اضافہ کیا ہوا ہے۔ تاہم اگر وہ ان چیزوں پر قابو پا لے تو جنوبی ایشیا کے علاوہ شرق اوسط میں بھی اس کا دبدبہ قائم ہو جائے گا۔

یہ تو بہرحال واضح ہے کہ جنگ کے بعد کی دنیا وہ نہیں ہو گی جو اس سے پہلے تھی۔ پہلے کی دنیا یک قطبی تھی اب وہ کثیر قطبی ہو گی۔ امریکہ میں مقیم انڈین اسکالر اسلم عبداللہ کہتے ہیں کہ: ’’یہ تمام عوامل ایک نئی عالمی ترتیب کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ طویل عرصہ تک دنیا ایک غالب طاقت کے زیر اثر رہی مگر اب حالات بدل رہے ہیں: مشرق وسطیٰ مرکزی میدان بن سکتا ہے۔ امریکہ سب سے زیادہ فوجی بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ یورپ محتاط رہے گا۔ روس لچک دکھائے گا۔ چین معاشی اثر بڑھائے گا۔ نئی طاقتیں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کریں گی۔ نتیجتاً ایک کثیر قطبی دنیا ابھر سکتی ہے جہاں طاقت کئی مراکز میں تقسیم ہو گی۔‘‘ (ماہنامہ افکارِ ملی نئی دہلی اپریل 2026ء)

مستقل جنگ بندی سے ایران کو اپنی تعمیر نو میں مدد ملے گی اور پھر ایران و پاکستان وغیرہ مل کر امریکہ کو اس بات پر بھی قائل کر سکتے ہیں کہ اِس خطہ میں دیرپا امن فلسطینی مسئلہ کو حل کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ غزہ کی تعمیر نو ہو اور ایک مستقل فلسطینی ریاست کا قیام اُس کے بعد ہی خطہ میں امن و استحکام آ سکتا ہے۔ فی الحال ایران مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کو اس کے لیے محنت کرنی ہو گی اور کچھ دو اور کچھ لو کے اصول پر امریکہ اور ایران دونوں فریقوں کو میز پر بٹھانا ہے۔ پاکستان اپنے پتے بڑی دانائی اور زیرکی سے کھیل رہا ہے۔ ایرانی قیادت کو بھی جوش کے بجائے ہوش اور دانشمندی سے اپنی مزاحمت جاری رکھنی ہے، اگر وہ مذاکرات کی میز پر بھی فتح حاصل کر سکا تو خطہ میں ایک نیا سیاسی سیٹ اپ قائم ہو جائے گا۔ جس میں خلیج کے ملکوں، ایران اور پاکستان سب کی اپنی جگہ ہو گی۔ اور صہیونی سامراج کے قیام کا منصوبہ بکھر جائے گا۔

اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ ایران بھی پاکستان کی مدد سے خلیج کے ملکوں سے مفاہمت اور خیر سگالی کی فضا بحال کرنے کے لیے بھرپور سفارتی مہم کا آغاز کرے۔ اپنے پڑوسی ملکوں کے لیے اپنے فائدے ثابت کرے اور ان کے شکوک و شبہات دور کرے۔ یقیناً اس میں اسرائیل ایک spoiler (انتشاری) کا کردار ادا کر رہا ہے مگر اس کی اسپائلرنگ کو ختم کرنا ہو گا۔ تاریخ میں مصر کے بعد پہلی بار اسرائیل کی جارحیت کے سامنے کوئی ڈٹ کر کھڑا ہوا ہے، اس کے مثبت اثرات ان شاء اللہ خطہ کے مستقبل پر دیرپا ہوں گے، بشرطیکہ ٹرمپ کو اسرائیل کے جال میں مزید پھنسنے سے بچا لیا جائے۔

حالات و مشاہدات

(الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۵

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۱)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۲)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۵)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۶)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

فقہِ اسلامی کا تعارف و تاریخ
ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی

حنفی اصولی منہج (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ائمہ اہل بیت کے فقہی اجتہادات اور فقہ جعفری
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۲)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۵)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۴)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

عمرِ اولؓ اور عمرِ ثانیؒ کا طرزِ حکومت
علامہ رضا ثاقب مصطفائی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۲)
محمد سراج اسرار

قیامِ پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۴)
پروفیسر خورشید احمد

نظریۂ اسلام، نظریۂ پاکستان، دو قومی نظریہ
ڈاکٹر سعید احمد سعیدی

مسجد الاقصیٰ اور امتِ مسلمہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

القدس کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے نام خط
سنیٹر مشتاق احمد خان

ایران پر چالیس روزہ امریکی اسرائیلی جارحیت اور پندرہ روزہ جنگ بندی
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Our Destiny: America, Russia, China, or the Muslim World?
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سید محمد نقیب العطاس کی وفات: اسلامی فکر کے ایک عہد کا خاتمہ
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

حاجی عثمان عمر ہاشمیؒ کا سانحہ ارتحال
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مولانا محمد اسامہ قاسم

مطبوعات

شماریات

Flag Counter