حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۶)
بائیبل اور قرآن کی روشنی میں

نوٹ: اِس مضمون میں بیان کردہ احادیث کی تعبیر پہلی بار ماہنامہ الشریعہ کے ستمبر ۲۰۲۵ء کے شمارے میں شائع ہو چکی ہے۔ بعد میں بائبل کے مزید صحائف کے مطالعے سے — بالخصوص حضرت ہوسیع اور حضرت حزقی ایل علیہما السلام کے صحائف سے — معلوم ہوا کہ اُن کی علامات اور احادیث کی علامات میں گہری ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِن احادیث کی تعبیر کو اِن نئی مناسبتوں کے ساتھ دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ (محمد سعد سلیم)


دجال کی ہلاکت کے بعد کے واقعات

دجّال کے تفصیلی بیان کے برعکس، نبی عیسیٰ علیہ السلام کی عمر کا ذکر صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں وضاحت سے نہیں کیا گیا۔ تاہم، کئی احادیث میں دجّال کی موت کے بعد کے دور کا ذکر آتا ہے — جو اِس مضمون میں دسمبر 1991ء کے واقعے، یعنی سوویت یونین کے خاتمے، کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔

سات سال بغیر عداوت کے — امریکہ کی بلا چیلنج برتری (1991ء- 1998ء)

احادیث میں دجّال کی ہلاکت کے بعد سات سال تک عداوت سے پاک زمانے کا ذکر آتا ہے1 — جو 1991ء سے 1998ء کے عرصے سے مطابقت رکھتا ہے، یعنی سوویت یونین کے زوال کے بعد وہ دور جب امریکہ اپنی یک قطبی (monopolar) بالادستی کے عروج پر کھڑا تھا، فوجی طاقت اور نظریاتی اثر و رسوخ میں بے مثال۔

تاہم، اِس عرصے کے اختتام تک کثیر قطبی (multipolar) دنیا کے مطالبات بڑھنے لگے۔ 1998ء کے روسی مالیاتی بحران کے بعد جب پریماکوف (Primakov) روس کے وزیرِاعظم بنے، تو اُنہوں نے کھلے عام ایک متوازن عالمی نظام کی وکالت شروع کی۔ چین نے، زو رونگجی (Zhu Rongji) کی قیادت میں، ایشیائی مالیاتی بحران کے بعد بڑے اقتصادی اصلاحات کا آغاز کیا، جس نے چین کے عروج کی بنیاد رکھی۔ اِس دوران القاعدہ کے 1998ء میں اعلانِ جہاد نے مغربی برتری کے خلاف ایک نیا، غیر متوازن چیلنج کا اشارہ دیا۔ اِس طرح یہ سکون اُس وقت ختم ہوا جب طاقت اور مزاحمت کے نئے مراکز اُبھرے، جو امریکہ کے بے مقابلہ دور کے اختتام اور ایک زیادہ پُرآشوب دنیا کے آغاز کی علامت بنے۔

شام سے آنے والی خوشگوار ہوا اور یمن سے آنے والی نرم ہوا — مغربی مالیاتی نظام اور چینی صنعت کاری (1998ء–تا حال)

احادیث کے مطابق، دجّال کے قتل کے سات سال بعد اللہ تعالیٰ شام2 کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا۔ ایک اور حدیث میں یمن کی طرف سے ریشم جیسی نرم ہوا کا ذکر ہے۔3 یہ ہوائیں اُن سب ایمان داروں کی روحیں نکال لیں گی جن کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان یا نیکی ہوگی، اور زمین پر صرف اشرار رہ جائیں گے۔4

دجّال کی ہلاکت — یعنی سوویت یونین کا زوال — دسمبر 1991ء میں واقع ہوئی۔ اِس کے سات سال بعد کا زمانہ 1990ء کی دہائی کے اواخر سے شروع ہوتا ہے، اور اِن دو ہواؤں کی تعبیر اُسی دور کے واقعات میں یوں ملتی ہے:

شام کی ٹھنڈی ہوا

نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں شام بازنطینی عیسائی سلطنت کے زیرِ اثر تھا، چنانچہ اِس سمت سے آنے والی ہوا کو مغربی عیسائی دنیا سے اٹھنے والے اثر کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔ 1990ء کی دہائی کے اواخر سے مغرب، خاص کر امریکہ اور برطانیہ، نے ایک ایسا معاشی نمونہ اپنایا جس میں دولت اشیاء کی پیداوار (industrial production)سے کم اور مالیاتی انجینئرنگ (financial engineering)، خدمات(services)، اور املاکِ دانش(intellectual property) سے زیادہ ہونے لگا۔ اِس کا نتیجہ راحت اور آسائش کا ایک طویل موسم رہا — آسان دستیاب قرض، بڑھتی ہوئی اثاثوں کی قیمتیں، اور ڈیجیٹل انقلاب (digital revolution)جس نے نئےطریقوں کے ذریعے پیداوار کو ازسرِ نو ترتیب دیا۔ نتیجتاً، خوشحالی کا ایک گہرا احساس روزمرہ زندگی پر چھا گیا — بالکل اُسی طرح جیسے عرب کے تپتے ہوئے صحرا میں ایک ٹھنڈی ہوا راحت پہنچاتی ہے۔

یمن کی ریشم سے نرم ہوا

نبیِ اکرم ﷺ کے زمانے میں معروف دنیا میں، یمن ایک عظیم جنوبی تجارتی مرکز تھا جہاں سے ہندوستانی کپڑے اور مصالحے، افریقی لوبان، اور مشرقی ریشم عرب دنیا تک پہنچتے تھے — یہ عالمی تجارت کا ایک کثیر جہتی سنگم تھا۔ آج یہ رُخ چین کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو نہ صرف دنیا کا بنیادی پیداواری مرکز ہے بلکہ وہ مقام بھی ہے جہاں ایشیا کی بڑی مقدار میں پیداوار جمع ہو کر عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ سبسڈی، کرنسی کنٹرول، ٹیکنالوجی منتقلی کی شرائط، اور ایسے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے ذریعے جس کا مقابلہ کوئی آزاد معیشت نہیں کر سکتی، چین بتدریج دنیا کی فیکٹری بن گیا۔مغربی صارفین کے لیے اِس کا فوری اثر سستی اشیاء کی غیر معمولی فراوانی کی صورت میں ظاہر ہوا، جس نے مہنگائی کو قابو میں رکھا، گھریلو بجٹ میں کشادگی پیدا کی، اور کھپت کے تسلسل کو برقرار رکھا — ایک ایسی نرمی، جو ریشم کی مانند، خاموشی سے روزمرہ زندگی پر چھا گئی۔

روحوں کا قبض ہونا — امریکہ اور دیگر اقوام کے طرزِ عمل میں اخلاقی یقین کا زوال

ایک حدیث میں ایسے وقت کا ذکر ہے جب زمین پر کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان یا خیر ہو، مگر یہ کہ ایک نرم اور ٹھنڈی ہوا اُس کی روح قبض کر لے گی۔ اگر کوئی پہاڑ کے اندر گہرائی میں بھی پناہ لے تو وہ ہوا وہاں بھی پہنچ کر اُس کی روح لے لے گی۔5

"ایمان یا خیر رکھنے والوں کی روحوں کے اٹھا لیے جانے" کا مطلب ریاستوں کا خاتمہ نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اخلاقی یقین — یعنی وہ اندرونی روح جو انسان کو اچھائی اور برائی میں تمیز سکھاتی ہے — خاموشی سے رخصت ہو جاتا ہے۔ چونکہ احادیث میں اِس رویے کا تعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد کے واقعات سے ہے، اِس لیے اِس کا اصل مخاطَب امریکہ ہے — وہی ملک جس نے دوسری جنگِ عظیم اور سرد جنگ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا علامتی کردار ادا کیا، اور 1945ء کے اُس عالمی نظام کا معمار بنا جس میں اقوام کی خود مختاری، انسانی حقوق، اور بین الاقوامی معاملات کو قوانین کے تحت طے کرنے کا انتظام موجود تھا۔ 1990ء کی دہائی کے اواخر میں اُس کے اِس علامتی کردار کا اختتام ہوا۔ دیگر اقوام پر اِس حدیث کا اطلاق ضمنی طور پر ہوتا ہے، کیونکہ جب 1945ء کے بعد قائم ہونے والے نظام کا معمار خود ہی اُس نظام کو ادھیڑنے لگے، تو دوسرے ممالک کی جانب سے اُس کی خلاف ورزی کوئی انہونی بات نہیں رہتی۔

سرد جنگ کے بعد کا آرام دہ دور اِسی تبدیلی کا پسِ منظر بنا۔ بظاہر اثاثوں کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں، قرض آسانی سے دستیاب تھا، اور سستی اشیاء فراواں تھیں؛ مگر اِس خوشنما سطح کے نیچے مغربی دنیا کے کئی حصوں میں تنخواہیں جمود کا شکار تھیں، اور صنعتی ڈھانچہ کمزور ہوتا جا رہا تھا۔ ڈیجیٹل انقلاب نے بڑی امیدیں پیدا کیں، مگر حقیقی پیداواری بنیاد میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ لا سکا؛ اُلٹا دولت اوپر کی طرف منتقل ہوتی گئی، اور محنت کش طبقے پر دباؤ مزید بڑھتا گیا۔ مثال کے طور پر، ٹیکسی ڈرائیور اپنی مراعات کھو کر Uber کے کنٹریکٹر بن گئے، اور کم آمدنی پر کام کرنے لگے؛ اور Amazon جیسے اداروں نے حقیقی پیداوار میں کوئی قابلِ ذکر اضافہ کیے بغیر چھوٹے کاروباروں کو نقصان پہنچایا، اور کھپت کو بے حد پھیلا دیا۔

عالمی سطح پر بھی وہ باہمی انحصار، جسے کبھی امن کی ضمانت سمجھا جاتا تھا — جیسے مغربی کھپت جو چینی بچت سے چلتی تھی، یورپ کی توانائی جو روسی گیس پر منحصر تھی، اور جدید صنعت جو تائیوان کے چِپس اور اور چینی پروسیسنگ پر انحصار کرنے والی اہم معدنیات پر کھڑی تھی — آہستہ آہستہ مغرب کی کمزوری کا سبب بنتا گیا۔ انحصار اگرچہ دونوں طرف سے تھا، مگر اِس کی نوعیت غیر متوازن تھی: مغرب کا انحصار فیکٹریوں، کانوں، اور پائپ لائنوں پر تھا — یعنی ایسے طبعی ڈھانچوں پر جن کا متبادل بنانے میں برسوں، بلکہ عشرے درکار ہوتے ہیں۔ جبکہ چین اور روس کا انحصار خریداروں اور منڈیوں پر تھا، جنہیں نسبتاً جلد بدلا جا سکتا تھا۔ یوں جب مغرب کی روس اور چین کے ساتھ کشیدگی بڑھی، تو دباؤ کی زد میں وہ فریق زیادہ آیا جس کا انحصار سست اور ناقابلِ تبدیل عناصر پر تھا۔

اِس کے نتیجے میں قوم پرستی کو فروغ ملا، اور عالمگیریت کے خلاف جذبات پیدا ہوئے — مگر اِن جذبات میں صرف شکایت تھی، کوئی متبادل نظریہ نہیں۔ اور جب کسی قوم کے پاس تعمیری نظریہ نہ ہو، تو معاہدے بوجھ لگنے لگتے ہیں، طویل مدتی سوچ ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے، اور فوری فائدہ ہی واحد کسوٹی بن جاتا ہے۔یوں وہ نرم اور ٹھنڈی ہوا آئی، اور خاموشی سے اقوام کی — خصوصاً امریکہ کی — "روح" اپنے ساتھ لے گئی، یعنی وہ اخلاقی یقین جو کبھی اُن کے طرزِ عمل کو حرکت دیتا تھا۔ پیچھے صرف خام جبلتیں رہ گئیں، جو اخلاقی لگام سے آزاد تھیں۔

پرندوں کی طرح ہلکے، درندوں جیسی خواہشات رکھنے والے، اور بتوں کی عبادت کرنے والے — امریکی پالیسیوں کی ناپائیداری، توسیعی عزائم اور قوم پرستی

حدیث میں بیان ہے کہ جب شام کی ٹھنڈی ہوا مؤمنوں کی روحیں سمیٹ لے گی، تو زمین پر صرف اشرار باقی رہ جائیں گے — "جو پرندوں کی طرح ہلکے اور درندوں جیسی خواہشات رکھنے والے ہوں گے۔" وہ نہ نیکی کو پہچانیں گے، نہ برائی کو قابلِ اعتراض سمجھیں گے۔ پھر شیطان اُن کے درمیان ظاہر ہوگا اور اُنہیں بتوں کی عبادت کا حکم دے گا، حالانکہ وہ مادی آسائش اور خوشحالی کی زندگی گزاریں گے — تو صور پھونک دیا جائے گا۔6

یہ روایت دجّال کی شکست کے بعد کے زمانے کی طرف اشارہ کرتی ہے؛ اِس لیے اِس کا اطلاق زیادہ مخصوص طور پر امریکہ پر ہوتا ہے۔

یہ حالات کچھ عرصے سے پروان چڑھ رہے تھے؛ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں وہ خاص طور پر نمایاں ہو گئے۔ حدیث کے اجزا کو درجِ ذیل انداز میں سمجھا جا سکتا ہے:

پرندوں کی مانند ہلکے — پالیسیوں کی ناپائیداری

'ہلکا پن' ایسے رویّے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کسی مضبوط بنیاد سے وابستہ نہ ہو، اور جس میں بدلتے ہوئے فائدے کے ساتھ فوراً سمت تبدیل کرنے کی آمادگی ہو—جیسے پرندے ہوا کے ساتھ رخ بدل لیتے ہیں۔ اِسی نوعیت کی ایک نہایت مماثل تمثیل کتابِ ہوسیع میں بھی ملتی ہے، جہاں نبی ہوسیعؑ شمالی مملکتِ اسرائیل کو ایک ایسی "کبوتری جو آسانی سے فریب کھا جاتی ہے اور بے سمجھ ہے" سے تشبیہ دیتے ہیں—ایک ایسی قوم جو ایک لمحے مصر کو پکارتی ہے اور اگلے ہی لمحے اسور (آشور) کی طرف رخ کر لیتی ہے، بغیر وفاداری یا دوراندیشی کے اتحاد بدلتی رہتی ہے۔7 دونوں متون میں پرندے کی یہ علامت کمزوری کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ ایک طاقتور قوم کے بے قاعدہ اور غیر مستقل طرزِ عمل کو ظاہر کرتی ہے، جو اپنی قوت کو کسی عہد و پیمان کی پابندی کے بغیر استعمال کرتی ہے اور فوری فائدے کی بنیاد پر شراکت داروں کے درمیان جھولتی رہتی ہے۔ یہ طرزِ عمل پالیسی اور اتحادوں میں تیز اور اچانک تبدیلیوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، جہاں طویل المدتی وعدے پہلی ہی قیمت یا نقصان کے اشارے پر پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔ امریکی خارجہ پالیسی میں اِس نوعیت کے اچانک موڑ خصوصاً ٹرمپ کے دور میں نمایاں طور پر دیکھے گئے۔

درندوں کے خواب — توسیعی محرک

حدیث میں "درندے" اُن قوتوں کی علامت ہیں جو غلبہ اور وسائل کے حصول کی خواہش سے محرک ہوں۔ موجودہ صورت میں اِس رجحان کی جھلک اُن بار بار دہرائی جانے والی تجاویز میں دیکھی جا سکتی ہے جن میں امریکہ کے گرین لینڈ، بلکہ حتیٰ کہ کینیڈا کو بھی اپنے اندر شامل کرنے کے امکانات زیرِ بحث آئے، اور وینزویلا کے تیل کے گرد اختیار کی گئی جارحانہ سفارتی و معاشی حکمتِ عملی میں۔ یہ صورتِ حال اثر و رسوخ کو پھیلانے اور وسائل کو یقینی بنانے کی خواہش کی نشان دہی کرتی ہے۔

نہ نیکی کو پہچاننا، نہ برائی کو قابلِ اعتراض سمجھنا

ماضی کی دہائیوں میں امریکہ عموماً اپنے اقدامات کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون جیسے اصولوں کے حوالے سے پیش کرتا تھا، چاہے عملی اطلاق منتخب ہی کیوں نہ ہو۔ حالیہ ماحول میں یہ زبان کمزور پڑ گئی۔ تعلقات زیادہ کھلے طور پر مفاد، دباؤ اور مصلحت کے پیمانوں میں بیان ہونے لگے؛ اتحادیوں کی حمایت یا ترک کرنا مشترکہ اقدار سے کم اور فوری افادیت سے زیادہ وابستہ دکھائی دیا۔ اگرچہ یہ تبدیلی ٹرمپ سے شروع نہیں ہوئی، مگر اُن کے دور میں غیر معمولی حد تک صراحت کے ساتھ سامنے آئی۔

شیطان کا ظہور — ایک خودپسند رہنما کی علامت

شیطان کی اصل فطرت تکبر اور خود پسندی پر مبنی ہے؛ اُس نے حضرت آدمؑ کے سامنے سجدہ کرنے سے غرور کے باعث انکار کیا۔ حدیث اِس جانب اشارہ کرتی ہے کہ ایک ایسا رہنما اُبھرے گا جو اِسی تکبر، خود پرستی، اور عظمت کے خمار میں مبتلا ہوگا — جو شیطان کی طرح اپنی بڑائی کا اِظہار بے شرمی سے کرے گا۔

بتوں کی عبادت کا حکم، جب کہ وہ خوشحال ہوں گے— قوم پرستی کی ترویج

چونکہ یہاں بات قوموں اور سلطنتوں کی ہو رہی ہے، اِس لیے "بت پرستی" سے مراد کسی پتھر کے بت کی پوجا نہیں، بلکہ اُس خودساختہ مثالی شبیہ کی عبادت ہے جو ایک قوم اپنے بارے میں بنا لیتی ہے — ایک کامل، طاقتور اور پاکیزہ قوم کی شبیہ۔ جب کوئی قوم اپنے آپ کو ہی مقدس ماننے لگتی ہے، تو اُس کے اپنے مفادات سب سے بڑی نیکی بن جاتے ہیں۔ اخلاقی یا آفاقی اصول اُس کے سامنے ثانوی ہو جاتے ہیں۔ کتابِ مکاشفہ میں اُن لوگوں کا ذکر ہے جنہیں "اُس درندے کی عبادت کا کہا گیا جو سمندر سے اُبھرا۔"8 یہ تصویر رومی سلطنت کی علامت تھی — ایک ایسی قوم جو اپنی طاقت اور جاہ و جلال کی پوجا کرتی تھی۔ اِسی طرح امریکہ کے صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017ء میں اقوامِ متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران قوم پرستی کو اِس طرح پیش کیا جیسے یہ قوموں کی نجات کا راستہ ہو۔9 امریکہ میں قوم پرستی کے اِس رجحان کا اظہار "Make America Great Again" جیسے نعروں کے ساتھ ہوا، حالانکہ امریکہ اب بھی دنیا کا سب سے زیادہ دولت مند ملک ہے—یعنی وہی مادی خوشحالی اور اخلاقی زوال، جس کی پیش گوئی حدیث میں کی گئی تھی۔

حدیث کے مطابق قیامت اِن واقعات کے بعد برپا ہوگی، اگرچہ دونوں کے درمیانی وقفے کی وضاحت نہیں کی گئی۔

گدھوں جیسا ہیجان — امریکہ کا کھلے عام موقع پرستانہ طرزِ عمل، گویا وقت ختم ہو رہا ہو

ایک اور حدیث میں بیان ہے کہ جب مومنوں کی روحیں قبض کر لی جائیں گی، تو زمین پر صرف بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے—وہ جو “گدھوں جیسے ہیجان کے ساتھ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑیں گے”— اور اُنہی پر قیامت قائم ہوگی۔10

علامت کی تشریح

نبوی زبان میں اقوام کا "زنا" ایسے طرزِ عمل کی علامت ہے جو فوری فائدے کی خواہش سے چلایا جائے، جس میں نہ دور رس نتائج کا لحاظ ہو اور نہ عہد و پیمان کی پابندی — بالکل اُس جنگلی گدھے کی طرح جو ضبط اور رہنمائی کے بغیر محض جبلّت کے زور پر بھٹکتا پھرتا ہے۔ یہاں "ہوس" سے مراد جنسی خواہش نہیں، بلکہ وہ فوری اور بے قابو داعیہ ہے جو قوم کو اُس چیز کے پیچھے دوڑا دے جو اُس لمحے دلکش یا نفع بخش دکھائی دے، خواہ وہی چیز آخرکار تباہی کا سبب بنے۔

اِس علامت کی نمایاں مثال بنی اسرائیل کے انبیاء کے صحائف میں ملتی ہے۔ آٹھویں صدی قبل مسیح میں حضرت ہوسیع علیہ السلام نے شمالی مملکتِ اسرائیل کو ایک جنگلی گدھی سے تشبیہ دی جو تنہا آوارہ پھرتی ہے، اور فرمایا کہ اُس نے "عاشقوں کو اجرت دی"۔ یعنی مملکتِ اسرائیل نے اپنی سلامتی کی خاطر اللہ تعالیٰ سے باندھے گئے اپنے عہد کی وفاداری کا سودا کر لیا، اور اُس کے بدلے طاقتور اقوام — خصوصاً اشوریہ اور مصر — کی خوشنودی خرید لی۔11 تاہم حدیث میں گدھے کی علامت ایک اور رُخ سے آئی ہے۔ کتابِ ہوسیع کے گدھے میں کسی طاقتور ساتھی سے ضدی لگاؤ ہے؛ حدیث کے گدھوں میں کسی ایک ساتھی سے کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ صرف ہیجان ہے — بے ترتیب، کھلم کھلا، جیسے وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہو۔

یہی دوسرا رویہ اکیسویں صدی کے امریکہ میں نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے، خصوصاً ٹرمپ کے دورِ حکومت میں۔ اِس کے پیچھے ایک بنیادی محرک کارفرما معلوم ہوتا ہے: عالمی برتری کے زوال کا احساس، اور یہ تشویش کہ چین پر سپلائی چین کا انحصار مزید گہرا ہونے، چین کے پلڑے کے بھاری ہونے، اور پاکستان، بھارت، ترکی، سعودی عرب، اسرائیل اور برازیل جیسی علاقائی طاقتوں کے خود مختار کردار ابھرنے سے پہلے ہی، ہر میدان میں بیک وقت فوری اقدامات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مفادات سمیٹ لیے جائیں۔ اِن علاقائی طاقتوں کا اُبھار جزوی طور پر چینی صنعتی ڈھانچے کا مرہونِ منت ہے، جس کے پیمانے اور قیمتوں نے ایسی جدید ٹیکنالوجیز — ڈرون، مواصلات، قابلِ تجدید توانائی، اسلحہ — کو اِن ریاستوں کی دسترس میں لا کر رکھ دیا ہے، جو پہلے صرف مغربی سرپرستی یا کئی دہائیوں کی اپنی تحقیق کے ذریعے ہی ممکن تھیں۔

مثالیں

گرین لینڈ کو ضم کرنے کا بار بار مطالبہ — فوجی طاقت کے استعمال کو بھی رد نہ کرتے ہوئے — کینیڈا کو 51ویں ریاست بنانے کی تجاویز، اور کیوبا کے بارے میں کھلا اعلان کہ "مجھے اُسے لے لینے کا شرف ملے گا" — یہ کسی مطمئن طاقت کے بیانات نہیں، بلکہ اُس کے ہیں جو اپنا دائرہ سکڑتا دیکھ کر قریبی زمینوں پر قبضے کو رسمی شکل دینا چاہتی ہے۔

بین الاقوامی قانون سے انحراف بھی اِسی تسلسل میں دکھائی دیا: ستمبر 2025ء سے کیریبین میں کشتیوں پر حملے، اور جنوری 2026ء میں وینزویلا کے صدر کی گرفتاری اور نیویارک منتقلی — اِس احساس پر کہ وینزویلا کا چین اور روس کی طرف جھکاؤ گہرا ہو رہا ہے۔

اِسی طرح تجارتی میدان میں ٹیرف (tariff) پالیسی میں اچانک اعلانات، تیزی سے اضافے، جوابی اقدامات کے بعد مزید شدت، پھر منڈیوں کے ردِعمل پر جزوی واپسی، اور بعض صورتوں میں دوبارہ نفاذ — یہ سب ایک ایسی حکمتِ عملی کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو طویل المدت استحکام کے بجائے فوری دباؤ اور فوری فائدے کو ترجیح دیتی ہے، حتیٰ کہ World Trade Organisation کے اُن قواعد سے انحراف بھی قابلِ قبول سمجھا گیا جن کی تشکیل میں امریکہ نے نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

اِس کی ایک اور مثال 28 فروری 2026ء کا واقعہ ہے، جب عمان میں جاری بالواسطہ مذاکرات کے دوران امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف مشترکہ حملے کیے، اور مہم کے پہلے ہی دن ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائیاں ایسے پسِ منظر میں ہوئیں جہاں سفارتی ذرائع ناکام ہو رہے تھے، ایران کو اِس قدر کمزور سمجھا جا رہا تھا کہ وہ کوئی مؤثر جوابی کارروائی نہیں کر سکے گا — ایک ایسا اندازہ جو بعد میں غلط ثابت ہوا — اور امریکہ کے علاقائی اثر و رسوخ کا پورا ڈھانچہ نمایاں طور پر بکھرتا جا رہا تھا۔ یہ حقیقت کہ کسی سربراہِ مملکت پر حملہ ایک قابلِ عمل آپشن بن چکا تھا — اور وہ بھی اُس وقت جب مذاکرات ابھی جاری تھے — بذاتِ خود نہایت معنی خیز ہے: ایک ایسا اقدام جو کبھی بین الاقوامی نظام کی ساخت کے تحت خارج از امکان سمجھا جاتا تھا، اب اُسی نظام کے اندر قابلِ قبول ہو چکا تھا — جو کسی سوچی سمجھی حکمتِ عملی کی نہیں، بلکہ اُن کرداروں کے اُس مضطرب طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اُن کے پاس راستے سکڑتے جا رہے ہیں۔

تنبیہ

یہ ہیجان محض امریکہ کے اندرونی بگاڑ کا نتیجہ نہیں، بلکہ اُس پورے عالمی نظام کے ٹوٹنے کی علامت ہے جسے خود امریکہ نے 1945ء کے بعد قائم کیا تھا۔ قدیم اسرائیل کے ساتھ اِس کی مماثلت نہایت واضح ہے: جس طرح شمالی مملکتِ اسرائیل خدا کے ساتھ اپنے عہد کی سچائی کا دعویٰ برقرار رکھتی رہی، حالانکہ وہ کھلے عام اُس کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہی تھی، اِسی طرح آج امریکہ بھی اُس نظام کی اتھارٹی کا سہارا لیتا ہے جسے اُس نے خود تعمیر کیا — اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل، نیٹو اور عالمی تجارتی تنظیم — جبکہ اُس کے اصولوں کو علانیہ توڑ بھی رہا ہے۔ مگر نتائج کے پیمانے پر یہ مماثلت ختم ہو جاتی ہے۔ اُس وقت ایک ہی قوم نے قیمت چکائی: یہودیوں کے بارہ میں سے دس قبائل جلاوطنی میں بکھر گئے اور بحیثیتِ قوم گم ہو گئے، صرف ایک یاد بن کر رہ گئے۔ مگر جو نظام آج ٹوٹ رہا ہے، اُس کے اثرات کسی ایک قوم تک محدود نہیں — اور حدیث بظاہر خبردار کرتی ہے کہ قیامت اِسی طرح کے ہیجان کے دوران قائم ہو گی۔


حوالہ جات

  1. مسلم، رقم ۲۹۴۰۔
  2. مسلم، رقم ۲۹۴۰۔
  3. مسلم، رقم ۱۱۷۔
  4. مسلم، رقم ۲۹۳۷۔
  5. مسلم، رقم ۲۹۴۰۔
  6. مسلم، رقم ۲۹۴۰۔
  7. ہوسیع 7: 11۔
  8. مکاشفہ 13: 14-15۔
  9. Donald Trump, "Trump pitches nationalism in UN speech," YouTube video, 3:29, posted by McClatchy Washington Bureau, September 24, 2019, https://www.youtube.com/watch?v=CBlChsxkeak
  10. مسلم، رقم ۲۹۳۷۔
  11. ہوسیع 8:8-10۔

حدیث و سنت / علوم الحدیث

اقساط

(الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۵

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۱)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۲)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۵)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۶)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

فقہِ اسلامی کا تعارف و تاریخ
ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی

حنفی اصولی منہج (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ائمہ اہل بیت کے فقہی اجتہادات اور فقہ جعفری
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۲)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۵)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۴)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

عمرِ اولؓ اور عمرِ ثانیؒ کا طرزِ حکومت
علامہ رضا ثاقب مصطفائی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۲)
محمد سراج اسرار

قیامِ پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۴)
پروفیسر خورشید احمد

نظریۂ اسلام، نظریۂ پاکستان، دو قومی نظریہ
ڈاکٹر سعید احمد سعیدی

مسجد الاقصیٰ اور امتِ مسلمہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

القدس کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے نام خط
سنیٹر مشتاق احمد خان

ایران پر چالیس روزہ امریکی اسرائیلی جارحیت اور پندرہ روزہ جنگ بندی
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Our Destiny: America, Russia, China, or the Muslim World?
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سید محمد نقیب العطاس کی وفات: اسلامی فکر کے ایک عہد کا خاتمہ
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

حاجی عثمان عمر ہاشمیؒ کا سانحہ ارتحال
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مولانا محمد اسامہ قاسم

مطبوعات

شماریات

Flag Counter