بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ اشرف الانبیاء والمرسلین وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین، وعلیٰ کل من قام بدعوتہ واستمسک بسنتہ وجاہد جہادہ الی یوم الدین۔
سب سے پہلے تو میں عزت مآب جناب ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی صاحب کا خصوصی طور پہ شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، جنہوں نے مجھے آپ اہلِ علم کے ساتھ یہاں گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ اور ڈاکٹر صاحب بڑی محبت کرتے ہیں، انہوں نے اس محبت کا اظہار یہاں جن الفاظ میں کیا، سچی بات یہ ہے کہ میں خود کو ان کا مستحق نہیں سمجھتا۔ اللہ مجھے ان کے حسنِ ظن پر پورا اترنے کی توفیق دے۔ اور یہاں بالخصوص جس موضوع پر انہوں نے مجھے بات کرنے کے لیے بلایا ہے، ان کی توقعات تو بہت زیادہ ہیں، اور آپ لوگوں کی دلچسپی بھی مجھے معلوم ہو رہی ہے، مجھے اپنی کمزوری کا بھی علم ہے اور اس موضوع کا جو حق ہے شاید وہ میں نہ ادا کر پاؤں، لیکن میں اپنی سی کوشش کروں گا کہ حنفی اصولی منہج کو جس طرح میں نے اپنے اساتذہ سے سیکھا ہے اور پھر اس کو برتنے کی کوشش کی ہے، اس کے کچھ بنیادی خدوخال میں آپ کے سامنے واضح کر سکوں۔
عام طور پہ مجھ سے پوچھا جاتا ہے، اور ابھی جب ایئرپورٹ سے ہم آ رہے تھے اِدھر ’’سٹی آف نالج‘‘ کی طرف، تو جو میزبان تھے ہمارے دوست، انہوں نے بھی پوچھا کہ: اصول الفقہ میں آپ نے تخصص کیسے کیا، کہاں سے کیا ہے؟ میں سوچ میں پڑ گیا کہ اگر میں ان کو کہوں کہ میں نے یونیورسٹی میں پڑھا ہے اصولِ فقہ، میں نے کسی مدرسے میں نہیں پڑھا، میں نے درسِ نظامی نہیں کیا، تو پتہ نہیں ان کو اچھا لگے گا یا برا لگے گا۔ حالانکہ وہ بہت اچھے آدمی ہیں جنہوں نے مجھے ریسو کیا ہے اور جنہوں نے بڑی مہمان نوازی بھی کی۔ پھر میں نے کہا، ظاہر ہے بتانا تو ہے، تو میں نے بتا دیا کہ میں نے تو درسِ نظامی نہیں کیا اور نہ ہی میں نے دینی مدارس میں علماء سے اس طرح باقاعدہ استفادہ کیا ہے، لیکن یہ کیا ہے کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے میں نے ایل ایل بی شریعہ اینڈ لاء، پھر اس کے بعد ایل ایل ایم، پھر پی ایچ ڈی کی۔ اور وہاں بہت اچھے اساتذہ ملے، تو جو کچھ ہے ان اساتذہ کی برکت ہے۔ اور میں ابھی کچھ ذکر چند اساتذہ کا ضرور کرنا چاہوں گا، کیونکہ جس موضوع پر ہم بات کرنا چاہتے ہیں، اس سے اس کا بڑا گہرا تعلق ہے۔
میں خود اپنے اس سفر کا بھی تھوڑا آپ کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ میں خود کن مراحل سے گزرا ہوں یہاں تک پہنچتے ہوئے۔ جب مثال کے طور پر اسلامی یونیورسٹی میں ہم نے داخلہ لیا اور شروع میں اصولِ قانون کے مباحث پڑھنے کا موقع ملا، jurisprudence جس کو کہا جاتا ہے، بہت اچھے استاد تھے ہمارے، اب بھی ہیں، اللہ انہیں سلامت رکھے، ڈاکٹر محمد منیر صاحب۔ انٹرنیشنل لاء میں ان کی بڑی مہارت تھی اور دلچسپی تھی، اور اس کے علاوہ اصولِ قانون میں، جورس پروڈنس میں۔ ان کے ساتھ جو موضوعات کلاس میں اور کلاس سے باہر بھی ڈسکس ہوتے تھے، تو ان کی وجہ سے خود میری اور میرے بہت سارے دیگر دوستوں کی بھی دلچسپی انٹرنیشنل لاء میں بھی ہوئی، جورس پروڈنس میں بھی ہوئی۔ پھر کچھ ہی عرصے میں ہم نے اصولِ فقہ کے کورس پڑھنے شروع کیے، تو اس میں افغانستان سے ہمارے استاد تھے، اللہ انہیں سلامت رکھے، ڈاکٹر فضل الرحمٰن، اور انہوں نے مدینہ منورہ سے اصولِ بزدوی میں پی ایچ ڈی کی تھی، تو وہ بہت اعلیٰ پائے کے اصولی تھے اور تین کورسز انہوں سے ہم نے اصولِ فقہ کے پڑھے۔ یہ ایل ایل بی کی میں بات کروں، پھر ایل ایل ایم میں کچھ مصری اساتذہ بھی تھے، پھر پی ایچ ڈی میں مزید اساتذہ آئے۔
اب جو ابتدا میں ہمارا اصولِ فقہ کے ساتھ تعلق بنا، تو جو سوالات ادھر اصولِ قانون میں پہلے سے ہمارے ذہن میں تھے، ظاہر ہے ہم انہی سوالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اب اصولِ فقہ پڑھ رہے تھے، تو کچھ سوالات کے جوابات مل رہے تھے، کچھ کے نہیں مل رہے تھے۔ اکثر لوگ پوچھا کرتے ہیں مجھ سے اور شاید آپ کے بھی بعض لوگوں کے ذہن میں ہو کہ قانون اور اصولِ فقہ کا آپس میں کس طرح آپ تعلق قائم کرتے ہیں؟ بلکہ ایک دفعہ ہمارے ایک محترم ناقد تھے تو انہوں نے میرا نام لے کر کہا کہ وہ تو فقہ کو قانونی نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ میں نے کہا: یار، فقہ قانون ہے ہی، تو اس کو قانون کی نظر سے نہیں دیکھیں گے تو کیسے دیکھیں گے؟ صرف تبرک کے لیے تو فقہ نہیں پڑھیں گے نا؟ تبرک یقیناً اس سے لیا جا سکتا ہے، لیکن اصل تو وہ قانون ہے۔
بہرحال، وہ جو ہمارے ذہن میں اصولِ قانون کی رو سے سوالات تھے، وہ جب ہم ادھر اصولِ فقہ کی کلاس میں ڈسکس کرتے تھے، ہمارے استاد محترم ڈاکٹر فضل الرحمان صاحب کو اچھے لگتے تھے، وہ اس میں بہت ہماری رہنمائی کرتے تھے، کہیں ہم الجھ جاتے تھے، پھر خیر بات آگے بڑھتی تھی۔ پھر ایک مرحلہ آیا، اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور استاد محترم پروفیسر عمران احسن خان نیازی صاحب کے سامنے بیٹھنے کا موقع ملا، اور وہاں سے بس یوں کہیں کہ ہماری دنیا ہی تبدیل ہو گئی، کیونکہ اب وہ شخصیت آ گئی جن کو اللہ تعالیٰ نے فقہ میں بھی، اصولِ فقہ میں بھی، قانون میں بھی، اصولِ قانون میں بھی عجیب طرح کا رسوخ عطا کیا ہے۔ اور ان کے ساتھ جو ہماری گفتگو ہوتی تھی، ایل ایل بی میں بھی، پھر ایل ایل ایم میں، تو وہ لیکچر کی صورت میں نہیں ہوتی تھی، وہ سوال و جواب کی صورت میں ہوتی تھی اور آج تک وہ سلسلہ جاری ہے۔ پہلی دفعہ میں نے ان سے جو سوال کیا تھا، ابھی میں ان کی کلاس میں اسٹوڈنٹ کے طور پر بیٹھا نہیں تھا، کوریڈور میں باہر ان کو پکڑ کر میں نے ان سے ایک سوال کیا تھا، وہ ۱۹۹۷ء میں کیا تھا، یعنی تقریبا اٹھائیس سال ہو گئے ہیں، اور آج بھی صبح میں نے ان سے کچھ سوالات کیے تھے یہاں آنے سے پہلے۔ وہ جواب نہیں دیتے، جب آپ ان سے سوال کرتے ہیں تو وہ آپ پر ایک اور سوال کر لیتے ہیں، پھر ایک اور کرتے ہیں، اور ہوتے ہوتے آپ خود اس جواب تک پہنچ جاتے ہیں۔
بعد میں خیر کافی مرحلے آئے اور ہمیں پھر معلوم ہوا کہ بعینہ یہ طریقہ تو امام ابو حنیفہ اپنے شاگردوں کے ساتھ کرتے تھے۔ اور اگر امام محمد بن الحسن الشیبانی کی کتاب الاصل میں دیکھیں تو کئی ابواب، کئی کتب اس کے اندر ایسی ہیں جن میں ساری بحث سوال و جواب کی صورت میں ہے: ’’قلت‘‘، ’’قال‘‘، ’’قلت لما‘‘، ’’قال لان‘‘، ’’قلت فان‘‘، ’’قال فا‘‘۔ تو اس کے جواب میں پھر میں کہوں گا کیوں؟ تو وہ کہیں گے اس لیے۔
خیر، پھر بات مزید آگے بڑھتی گئی۔ پھر معلوم ہوا کہ اس کو تو socratic method کہتے ہیں، سقراط کا طریقہ، کیونکہ سقراط کا جو طریقہ افلاطون نے اپنے مکالمات میں نقل کیا ہے، تو وہ بھی سوال و جواب کی صورت میں ہے۔ وہ لوگوں سے سوال کرتا تھا:
’’آپ یہ کیوں کہتے ہیں؟‘‘
وہ: ’’اس لیے‘‘۔
’’اچھا، اگر یہ ہے تو پھر یہ کیوں؟‘‘
تو وہ اس کا جواب کچھ اور دیتے تھے۔
پھر وہ اس میں کہتے ہیں: ’’نہیں، آپ نے تو ابھی یہ کہا تھا، تو کیا یہ بات اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے، یا آپ یہاں تناقض میں تو مبتلا نہیں ہو رہے؟ اچھا، پھر اگر آپ یہ کہتے ہیں تو اس کا تو ایک لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے۔‘‘
’’اچھا، ہاں، اس پر تو میں نے نہیں سوچا تھا۔‘‘
تو اب سوچیے، کیا اب آپ اپنی اس پوزیشن پر قائم ہیں یا اب اپنی رائے میں آپ کچھ تبدیلی لا رہے ہیں؟
سقراط تو اس طرح کرتا تھا اور لوگ اس وجہ سے زچ ہوتے تھے کہ یہ بندہ تو ہمیں تنگ کرتا ہے اور ہر بات پر سوال اٹھاتا ہے اور basics (بنیادوں) تک جاتا ہے۔ آج تک نیازی صاحب ہمیں یہ بتاتے رہتے ہیں کہ لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ تفصیلات میں گئے ہوتے ہیں، حالانکہ جو بنیادیں ہیں وہ ان کے لیے واضح نہیں ہوتیں۔ تو وہ ہمیشہ بالکل بنیادی سوال کرتے ہیں اور وہاں سے پھر بات آگے بڑھاتے ہیں۔ تو یہ میں نے مختصراً ذکر کیا کہ میرا اس موضوع کے ساتھ تعلق کہاں سے اور کیسے بنا۔
ایک اس میں اور واقعے کا میں اضافہ کروں تو پھر موضوع کی طرف جاتے ہیں۔ اکثر لوگ نیازی صاحب سے بھی پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کا فقہ اور اصول کے ساتھ تعلق کیسے بنا؟ کیونکہ وہ تو بنیادی طور پر ایک بہت ہی اعلیٰ پائے کے قانون دان تھے، بہت اعلیٰ درجے کے وکیل تھے اور ۱۹۷۰ء کی دہائی میں لاکھوں میں کھیلتے تھے، تو سب کو چھوڑ چھاڑ کر آپ اسلامی قانون کی طرف کیسے آئے؟ لمبی کہانی ہے، لیکن اس میں سے میں ایک جزو آگے سامنے نقل کرتا ہوں، انہوں نے خود جو ذکر کیا ہے ہمیں۔ کہتے ہیں: جب اسلامی یونیورسٹی (ابھی اسلامی یونیورسٹی تو نہیں تھی، خیر) قائداعظم یونیورسٹی میں فیکلٹی آف شریعہ بنانے کا اعلان کیا گیا اور اس میں ایل ایل ایم شریعہ میں داخلے آفر کیے گئے، تو میں نے کہا بہت کما لیا ہے، ذرا اب اسلامی قانون بھی ہم پڑھ لیں۔ تو اگلے دن ٹیسٹ تھا اور مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا، اسلامی قانون کا تو میں نے کچھ پڑھا ہی نہیں تھا، سوائے اس ایک آدھ کورس کے جو ایل ایل بی میں ہوتا ہے۔ تو راولپنڈی میں راجہ بازار میں جو بڑا مشہور مدرسہ ہے مولانا غلام اللہ خان صاحب کا، تو وہاں سامنے کتابوں کی دکان تھی، میں وہاں گیا اور اس بندے سے پوچھا کہ یار اسلامی قانون کی کوئی کتاب مجھے دیں۔ اس نے ایک دو سوالات کیے، پھر انہیں ’’ہدایہ‘‘ کا متن کے ساتھ اردو ترجمہ دیا۔ اب ان کو یاد نہیں تھا کن کا تھا لیکن انہوں نے کہا کہ وہ مجھے اس نے دیا۔
کہتے ہیں میں گھر لے آیا، میں نے پڑھنا شروع کیا، عربی تو آتی نہیں تھی، لیکن میں نے عربی عبارت پڑھنے کی کوشش کی اور اس کو اردو کے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ دو تین صفحے میں نے بڑی مشکل سے پڑھے لیکن اس کے بعد اس کے ساتھ میرا تعلق بن گیا۔ اب میں پڑھتا جاؤں، پڑھتا جاؤں۔ کہتے ہیں اب اچانک میرے ذہن میں آ گیا کہ یہ تو ایک کیس ہے، پھر اس کیس میں تھوڑی سی تبدیلی کر لی، اگر یوں ہو جائے، پھر اس میں تھوڑی سی تبدیلی کر لی، اگر یوں ہو جائے۔ اس طریقے کے تو وہ عادی تھے، وہ خود کرتے یہی تھے۔ کہتے ہیں مجھے مزہ آنے لگا اور اب میں خود اگلا جزیہ پڑھنے سے پہلے سوچنے لگا کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔ یہ سوال ہوا، اس کا یہ جواب ہوا، اب اس پر اگلا سوال کیا ہو سکتا ہے؟ کہتے ہیں وہ سوال وہی ہوتا تھا جو میرے ذہن میں آیا، پھر میں اس کا جواب پڑھے بغیر خود جواب بنانے کی کوشش کرتا تھا، کبھی صحیح، کبھی غلط۔ ہوتے ہوتے ساری رات گزر گئی اور میں اس کتاب میں لگا رہا۔ تو اگلے دن جب رِٹن ٹیسٹ تھا، ملک بھر سے لوگ اس میں آئے تھے، کہتے ہیں باقی جو قانون کے سوالات تھے وہ تو ظاہر ہے انہوں نے کرنے ہی تھے، لیکن جو ہدایہ کا متن اس میں دیا گیا تھا کہ اس کا ترجمہ اور تشریح کریں، کہتے ہیں وہ وہی عبارت تھی جس پہ میں رات غور کر رہا تھا۔ تو کہتے ہیں میں نے اس پہ لکھا انگریزی میں ٹھیک ٹھاک، جو لکھنا تھا۔
اور پھر ان کو آگے اللہ تعالیٰ نے وہاں موقع بھی دیا، پھر انہوں نے وہاں سے ایل ایل ایم کیا اور پھر سلسلہ چل پڑا۔ اور ابھی دو تین ہفتے پہلے انہوں نے ہمیں اطلاع دی کہ ہدایہ کا جو ترجمہ ہے انگریزی میں، جو کئی سالوں سے وہ کر رہے تھے، وہ پورا ہو گیا ہے، چوتھی جلد اس کی آ گئی ہے الحمداللہ۔ حالانکہ آج کل وہ بہت ضعیف بھی ہو چکے ہیں اور صاحبِ فراش ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو سلامت رکھے اور لمبی عمر عطا کرے، کیونکہ وہ مسلسل کام کر رہے ہیں۔ تو ہدایہ کی چوتھی جلد کا ترجمہ وہ کہتے ہیں پورا ہو گیا ہے اور پریس میں چلا گیا ہے۔ انگلینڈ سے شائع ہوتا ہے، تین جلدیں پہلے آ چکی ہیں، چوتھی بھی آ گئی۔ تو نیازی صاحب نے یہاں case method کا ذکر کیا، یہ لفظ یاد رکھیے گا، اس کی طرف ہم آئیں گے۔
اب جس راستے سے میں گیا ہوں، میں چاہتا ہوں میں اسی راستے سے آپ کو اپنے ساتھ آگے لے چلوں۔ تو جو ہم شروع کریں گے، وہ اصولِ قانون کے چند مباحث سے شروع کریں گے۔ جورس پروڈنس میں جو سوالات قائم کیے جاتے ہیں، وہ عام طور پر کیا ہوتے ہیں؟
- ظاہر ہے بہت سارے سوالات ہوتے ہیں لیکن جو بنیادی سوال ہوتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ ’’قانون ہے کیا، قانون کسے کہتے ہیں؟‘‘ ?what is law۔
- اسی طرح ظاہر ہے ’’قانون کیا ہے‘‘ کے علاوہ بھی بہت سارے سوالات ہوتے ہیں کہ چلیں قانون یہ ہے یا وہ ہے، جو بھی ہے، یہ اخذ کہاں سے کیا جاتا ہے؟
- پھر نہ صرف یہ کہ اخذ کہاں سے کیا جاتا ہے بلکہ کون اخذ کرتا ہے؟ یعنی کیا قانون اخذ کرنے والے کے لیے بھی کچھ شرائط ہوتی ہیں، کچھ اس میں اہلیت ہونی چاہیے یا نہیں ہونی چاہیے؟ کون کر سکتا ہے یا کسے کرنا چاہیے؟
- کیسے اخذ کرتا ہے؟ یہ بھی ایک سوال ہوتا ہے۔ لیکن یہ سوال کہ وضع کون کرتا ہے، قانون کہاں سے آتا ہے، یہ اس کا ماخذ ہے، لیکن یہ قانون بنایا کس نے ہے؟
- اور اس کی پابندی کیوں کی جائے؟
مکالماتِ افلاطون میں ایک بڑا مشہور مکالمہ ہے سقراط کا اپنے شاگردوں کے ساتھ۔ بالخصوص ایک شاگرد کا نام ہے کریٹو، اس کے ساتھ۔ اس مکالمے کا نام بھی افلاطون نے رکھا ہے ’’کریٹو‘‘ کے نام سے۔ وہ بہت دلچسپ مکالمہ ہے۔ کریٹو میں منظر یہ ہے کہ سقراط کو، جیسے آپ جانتے ہیں، وہاں کی جیوری نے عدالت نے سزائے موت سنا دی تھی، اب اس کے نفاذ کا وقت آ گیا ہے اور یوں کہیں کہ اگلی صبح اس کو زہر کا پیالہ پینا ہے۔ رات کا وقت ہے، وہ اپنے قید خانے میں سویا ہوا ہے آرام سے۔ اس کا شاگرد کریٹو وہاں تک پہنچتا ہے تو حیران ہوتا ہے کہ صبح اس کو سزائے موت ملنی ہے، یہ آرام سے سو رہا ہے۔ خیر، جب وہ جاگ اٹھتا ہے تو پوچھتا ہے کریٹو سے: تم کب آئے؟ اس نے کہا: میں کافی دیر ہوئی، لیکن آپ سو رہے تھے تو میں نے آپ کو زحمت نہیں دی۔ پوچھا: اچھا، کیسے آئے ہو؟ کہتا ہے: بس میں نے جو محافظین ہیں ان سے بات کی ہوئی ہے اور آپ کو یہاں سے نکالنے کا ہم نے پورا بندوبست کیا ہوا ہے۔ اور یہاں سے ہم نکل کر فلاں جزیرے کی طرف یا فلاں شہر کی طرف جائیں گے اور آپ کو ہم بچا لیں گے۔ سقراط اس سے کہتا ہے: نہیں، پہلے مجھے اس پر قائل کرو کہ مجھے یہاں سے نکلنا چاہیے۔ وہ کہتا ہے: آپ کے بچے ہیں، ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں، وغیرہ۔ کہا: یہ کوئی عذر نہیں ہے۔ وہ کہتا ہے: یہ جو آپ کے خلاف فیصلہ تھا، یہ غلط تھا۔ تو سقراط اس سے پوچھتا ہے: اچھا، پھر مجھے اس پر قائل کرو کہ اگر عدالت کا فیصلہ میرے خلاف آئے اور میرے خیال کے مطابق وہ فیصلہ غلط ہو، تو مجھے اسے نہیں ماننا چاہیے، مجھے اس کی خلاف ورزی کرنی چاہیے۔ اخلاقی طور پر مجھے کیا کرنا چاہیے؟ تم مجھے اس پر قائل کرو۔
یہاں سے اس پر بحث شروع ہو جاتی ہے کہ جو قانون یا جو فیصلہ آپ کی نظر میں غلط ہو، کیا آپ پر اس کی پابندی کرنا لازم ہے یا آپ اس کو توڑ سکتے ہیں؟ بہت خوبصورت مکالمہ ہے، ضرور پڑھیے، انگریزی ترجمہ بہت اچھا دستیاب ہے۔ وہاں سے جو بحث نکلتی ہے، وہ ہمارے ہاں اصولِ فقہ میں بھی پائی جاتی ہے، فقہ میں بھی پائی جاتی ہے اور اس لحاظ سے بھی فقہاء نے اس پہ گفتگو کی ہوئی ہے کہ قاضی کا جو حکم ہوتا ہے وہ ظاہراً صرف نافذ ہوتا ہے یا باطناً بھی نافذ ہوتا ہے؟ وغیرہ۔ تو بہرحال، یہ اور اس طرح کے اور سوالات ہوتے ہیں جو اصولِ قانون میں زیر بحث آتے ہیں۔ اب ان سوالات کے جواب کے لیے تو بہت سارے نظریات پیش کیے گئے ہیں، ابتدا سے آج تک بہت سارے ہیں، لیکن ہم یہاں مختصراً چند نظریات کا ذکر کریں گے۔
ایک نظریہ اُن کا ہے جن کو legal positivists (وضعیت پسند) کہا جاتا ہے۔ جن کا کہنا یہ ہے کہ قانون کا ماخذ ریاست ہے، حکومت ہے۔ ریاست یا حکومت قانون بناتی ہے اور اس کی پابندی ہم سب پر لازم ہوتی ہے۔ پازیٹوسٹس میں بھی پھر بہت سارے لوگ ہیں لیکن یہاں میں خصوصاً دو بندوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ ایک جان آسٹن کا، برطانیہ سے اس کا تعلق تھا، انیسویں صدی عیسوی کا ہے۔ اور اس کا نظریہ بڑا مشہور ہے کہ اس موضوع پر بحث کے لیے وہ ایک بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے، آسان الفاظ میں، کہ قانون اصل میں ایک بالاتر قوت کی جانب سے کمتر مقام پر کھڑے انسانوں کے لیے آیا ہوا اَمر ہے، جس کی پابندی لازم ہے، اور جس کی خلاف ورزی کرنے پر سزا ملتی ہے۔ (law is the command of the sovereign backed by sanction)۔ ’’سوورین‘‘ وہ شخص جو اقتدارِ اعلیٰ کا حامل ہے، جو حاکم ہے۔ حاکم کی جانب سے کمانڈ آیا ہے، اَمر آیا ہے۔ یہ کمانڈ پازیٹو بھی ہو سکتا ہے، نیگیٹو بھی ہو سکتا ہے، یعنی امر اور نہی دونوں اس میں شامل ہیں، Do(s) اور Don't(s) دونوں شامل ہیں، کرو، نہ کرو۔ اور اس کی خلاف ورزی پر سینکشن ہوتی ہے پھر، اس کے پیچھے قوتِ نافذہ ہے۔ اس تصور کے مطابق قانون کے پیچھے قوتِ نافذہ کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اسی لیے آج کل بھی جو لوگ اکثر پوچھا کرتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون جو ہے یہ قانون ہے یا نہیں، کہ بھئی اس کے پیچھے قوتِ نافذہ کہاں ہے؟ ان کے ذہن میں اصل میں جان آسٹن کا نظریہ ہے، جن کے نزدیک قانون صرف وہ ہوتا ہے جس کی خلاف ورزی پر سزا ملتی ہے، اور اگر اس کی خلاف ورزی پر سزا نہ ہو، تو وہ قانون نہیں ہے۔
ایک اور مشہور پازیٹوسٹ ہیں ایچ ایل اے ہارٹ، جو بیسویں صدی میں آکسفورڈ میں جورس پروڈنس کے پروفیسر تھے، اس نے آسٹن کے نظریے پر اچھی خاصی تنقید کی۔ اس نے کہا، قانون صرف اوامر یا نواہی تک محدود نہیں ہے، کئی قوانین ایسے ہیں جن کی خلاف ورزی پر کوئی سزا نہیں ہوتی۔ بلکہ قانون صرف حکم دینے کے لیے نہیں ہوتا، صرف آپ پر کوئی چیز لازم کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ بہت سارے قوانین ہوتے ہیں جو آپ کو حقوق دیتے ہیں، اتھارٹی، اختیار آپ کو دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اس نے ذکر کیا ہے وصیت کا۔ انگریزوں کے ہاں وصیت کا حق قانون کے تحت ہے اور اس کی ایک مثال آگے ہم الگ سے ذکر بھی کریں گے۔ تو ہارٹ پوچھتا ہے، وصیت آپ نہ کریں تو آپ کو کیا سزا ملے گی؟ یعنی دنیا میں کیا سزا ملے گی؟ ظاہر ہے موت کے بعد تو آپ کو دنیا میں سزا نہیں ملنے والی۔ تو اگر آپ نے وصیت نہیں کی تو کیا سزا ہے؟ اسی طرح، آپ کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے، بعض ممالک میں ووٹ نہ ڈالنے پر بھی سزا ہے۔ بہرحال، ہارٹ کا کہنا یہ ہے کہ قانون صرف اوامر اور نواہی تک محدود نہیں۔ قانون صرف فرائض ہی نہیں دیتا، حقوق بھی دیتا ہے۔
پازیٹوسٹس کا تو یہ کہنا ہے کہ قانون کا ماخذ ریاست اور حکومت ہے۔ ریاست کی مرضی ہے جس طرح کا بھی قانون بنائے۔ پھر ان کے اندر مختلف قسم کے نظریات موجود ہیں، لیکن اس اصول پر ان کا اتفاق ہے کہ قانون وہ ہے جو انسانوں کے معاشرے کے لیے انسانوں نے، ان کی حکومت نے بنایا ہے۔
اور دوسرا نظریہ جن کو ہم naturalist (فطرت پسند) کہتے ہیں۔ نیچرلسٹس کا کہنا ہے کہ ریاستی قانون سے بالاتر ایک اور قانون پایا جاتا ہے، اس کو وہ قانونِ فطرت کا نام دیتے ہیں، جو وضعی قانون سے بالاتر حیثیت رکھتا ہے۔ اور وضعی قانون، جو انسان کا بنایا ہوا قانون ہے، ریاست کا بنایا ہوا قانون ہے، وہ تب جائز ہوگا جب وہ اُس بالاتر قانون کے مطابق ہو، اس سے ہم آہنگ ہو، اس سے متصادم نہ ہو۔ پازیٹوسٹس تو صرف ریاست کے بنائے ہوئے قانون کو قانون کہتے ہیں، جبکہ نیچرلسٹس کہتے ہیں کہ اصل قانون یہ نہیں، اصل اس سے بالاتر قانونِ فطرت ہے، اور یہ جو وضعی قانون ہے یہ تب جائز ہوگا جب یہ اس بالاتر قانون کے مطابق ہو، اس سے ہم آہنگ ہو۔
یہ بالاتر قانون کہاں پایا جاتا ہے؟ اب نیچرلسٹس میں کچھ وہ ہیں جن کو ریلیجئس نیچرلسٹس کہا جاتا ہے، جن کا خیال یہ ہے کہ یہ جو قانونِ فطرت ہے، یہ خدائی قانون کا حصہ ہے، یہ خدا نے دیا ہے، انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں بھی اس طرح کی تراکیب پائی جاتی ہے۔ اور اگر بہت پیچھے جائیے تو معتزلہ کا جو حسن و قبح کے متعلق تصور تھا، اس کو اس کے ساتھ ریلیٹ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ ساری بحث وہاں سے آئی ہے اور وہیں سے جڑی ہوئی ہے۔
ایک مشہور برطانوی پادری تھا، آرچ بشپ آف کینٹربری، اس نے یہ کہا تھا کہ خدا نے انسان کی رہنمائی کے لیے جو بندوبست کیا ہوا ہے، اس کے دو حصے ہیں: کچھ وہ ہیں جو انسان اپنی عقل سے دریافت کر سکتا ہے کہ یہ ٹھیک ہیں یا غلط ہیں، تو خدا نے اس کو انسان کی عقل پر چھوڑ دیا، وہ اس کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہیں اور وہ عقل کے ذریعے دریافت کر سکتا ہے، اگر چاہے تو۔ اور کچھ چیزیں وہ ہیں جو عقل سے نہیں معلوم کی جا سکتیں، تو وہ سکرپچرز کے ذریعے، صحیفوں کے ذریعے، انبیاء کے ذریعے ریویل کی گئیں، وحی کی گئیں۔ یہ میں جاوید غامدی صاحب کے کسی مقالے سے یا کسی … سے اقتباس نہیں نقل کر رہا، اگرچہ بات یہی ہے جو وہ بھی کہتے ہیں۔ یہ نیچرلسٹ موقف ہے، ٹھیک ہے نا؟ اس طرح ہم اس کو ریلیٹ کرتے ہیں اپنی بحثوں کے ساتھ، کہ خدا نے دو طرح کا بندوبست کیا ہوا ہے: جو چیزیں عقل سے معلوم ہو سکتی تھیں وہ عقل پر چھوڑ دی ہیں۔ اور جو نہیں معلوم ہو سکتی تھیں تو وہ انبیاء کے ذریعے بتا دی ہیں۔ تو جیسے انبیاء کے ذریعے بتائی گئی چیزیں، دیے گئے احکام ہم پر لازم ہیں، تو ایسے ہی عقل و فطرت کے ذریعے ہم جس حکم تک پہنچیں، وہ خدا کا حکم ہے اور اس حیثیت سے ہم پر لازم ہے اس کا ماننا۔
مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے ’’تدبر قرآن‘‘ میں اس طرح کی بات لکھی ہے۔ ’’فاتوھن من حیث امرکم اللہ‘‘ جو سورہ بقرہ کی آیت ہے، اس کی تاویل میں وہ بتاتے ہیں کہ یہ جو بدیہیاتِ فطرت ہیں، یہ الفاظ ہیں ان کے، بدیہاتِ فطرت، یہ شریعت کا واضح تر حصہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں شریعت نے کبھی یہ حکم نہیں دیا کہ نوالہ منہ میں ڈالو لیکن انسان جانتا ہے کہ منہ میں ڈالنا ہے، ناک میں نہیں ڈالنا۔ تو کہتے ہیں اگر وہ ناک میں ڈالے گا تو یہ شریعت کے واضح تر حکم کی خلاف ورزی کرے گا۔ تو گویا جن چیزوں کو وہ بدیہیاتِ فطرت کہتے ہیں، وہ ان کے نزدیک شریعت کا حصہ ہیں، بلکہ واضح تر حصہ ہیں۔ غامدی صاحب نے ان سے تھوڑی مختلف رائے یہاں اختیار کی ہوئی ہے۔ پہلے وہ اسی کے قائل تھے، بعد میں ہوتے ہوتے وہ اس کے قائل ہو گئے ہیں کہ احادیث مبارکہ میں — اخبارِ آحاد کو چونکہ وہ کچھ اور حیثیت دیتے ہیں — تو اس حیثیت میں وہ بتاتے ہیں کہ اس میں جو آپ کو اضافی احکام نظر آتے ہیں، یہ اصل میں بیانِ فطرت ہیں۔ اچھا، بیانِ فطرت یا جو بھی نام آپ اس کو دیں، چلیں نام میں جھگڑا نہیں کریں گے، لیکن یہ بتائیں یہ شریعت کا حصہ ہیں یا نہیں؟ غامدی صاحب شریعت اور فطرت کو دو الگ دائروں میں رکھتے ہیں۔ ان کے استاد مولانا اصلاحی تو کہتے تھے کہ یہ جو بدیہیاتِ فطرت ہیں، یہ شریعت کا واضح تر حصہ ہیں۔ جبکہ غامدی صاحب کہتے ہیں یہ بیانِ فطرت ہے، یہ شریعت نہیں ہے۔ اس کے نتائج پھر بہت دور تک جاتے ہیں لیکن ہم اس طرف نہیں جائیں گے۔
نیچرلسٹس میں ایک موقف یہ ہے، جن کا کہنا ہے کہ جو قانونِ فطرت ہے، وہ خدائی قانون کا حصہ ہے، اس وجہ سے اس کا ماننا لازم ہے۔ اس وجہ سے جو ریاستی قانون ہے، انسانی قانون ہے، اس کے ساتھ اس کا ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ لیکن آپ جانتے ہیں مغرب میں بتدریج مذہب کو تو پیچھے دھکیل دیا گیا، نیچرل لاء بھی قانونِ فطرت بھی بتدریج سیکولرائز کر دیا گیا۔ اور اب جو نیچرلسٹس ہیں ان میں اکثریت ان کی ہے جو اس کو مذہب سے نہیں جوڑتے، اس کو خدا کے قانون سے نہیں جوڑتے، اور اس وجہ سے پھر ان کے اندر اور مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
بنیادی مسئلہ اب یہ ہے کہ اگر آپ ان دونوں نظریات، وضعیت پسندی اور فطرت پسندی، کا آپس میں موازنہ کریں تو جو اصل ان کا اختلاف ہے وہ اس بات پر ہے کہ کیا قانون اخلاقیات کا پابند ہوتا ہے یا نہیں؟ ہونا چاہیے یا نہیں؟ جو پازیٹوسٹس ہیں ان کا کہنا ہے کہ قانون اور اخلاق کا آپس میں کوئی لزوم کا تعلق نہیں ہے۔ آپ کے نزدیک کوئی قانون بہت ہی برا قانون ہوگا اخلاقی نقطہ نظر سے، لیکن اگر وہ قانون ہے تو وہ قانون ہے۔ نیچرلسٹس کہتے ہیں اگر وہ غیر اخلاقی ہے، immoral ہے، unnatural ہے، خلافِ فطرت ہے، تو وہ سرے سے قانون ہی نہیں ہے۔ البتہ جیسے میں نے کہا کہ جو خود کو فطرت پسند کہتے ہیں، نیچرلسٹس، وہ تو خود اب لامذہبی ہو گئے ہیں، لادینی ہو گئے ہیں۔ تو پہلے تو اخلاقیات کا ماخذ مذہب تھا، اب اخلاقیات کا ماخذ بھی عقل ہو گئی ہے۔ تو اب یوں کہیں کہ جو پازیٹوسٹس ہیں اور جو نیچرلسٹس ہیں، ان کے درمیان جو اختلاف تھا وہ بہت کم رہ گیا ہے۔
اصولی اختلاف اب بھی موجود ہے۔ اصولی اختلاف اس بات پر ہے کہ ریاست کے وضع کردہ قانون پر بالاتر کوئی چیز ہے یا نہیں ہے؟ نیچرلسٹ کہتے ہیں، ہاں ہے۔ پازیٹوسٹ کہتے ہیں، نہیں ہے۔ نیچرلسٹ کہتے ہیں اخلاقیات ہیں، لیکن ان اخلاقیات کا ماخذ ان کے نزدیک اب وحی کے بجائے عقل ہے۔
اچھا، اس کا ایک عملی نتیجہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ایک مثال کے ذریعے۔ آپ جانتے ہیں دوسری جنگِ عظیم جب ہوئی اور اس میں دونوں جانب سے بہت وحشت کا مظاہرہ کیا گیا، لاکھوں لوگ مارے گئے۔ پھر ظاہر ہے جو فاتح تھے اُن کے خلاف تو کچھ نہیں ہو سکتا تھا، لیکن جو مفتوحین تھے اُن کو سزا دی جا سکتی تھی کہ آپ نے بہت بڑے جرائم کیے ہیں۔ تو نورمبرگ (جرمنی) میں ایک عدالت قائم کی گئی۔ اسی طرح ٹوکیو (جاپان) میں عدالت قائم کی گئی۔ یہاں جاپانیوں کے خلاف، وہاں جرمنوں کے خلاف کہ آپ نے جنگ کے دوران بہت سارے غیر اخلاقی، غیر قانونی کام کیے ہیں، جرائم کیے ہیں۔ اس کے علاوہ خود جرمنی کے اندر بھی ملکی سطح پر قومی سطح پر اس طرح کی کارروائیاں شروع ہوئیں۔ تو ان میں کچھ مقدمات اِس نوعیت کے تھے کہ جب ہٹلر جرمنی میں برسرِ اقتدار تھا تو اس نے پوری ریاست کو جکڑا ہوا تھا۔ اور کوئی شخص ہٹلر کے خلاف کوئی بات نہیں کر سکتا تھا، ہر بندہ دوسرے کے خلاف جاسوس تھا۔ جیسے ہمارے ہاں بھی اب لوگ کہتے ہیں: جو فلاں جگہ ڈرون گرایا گیا ہے یہ اُنہوں نے کیا۔ وہ کہتے ہیں: ہم نے نہیں کیا، اِنہوں نے کیا۔ وہ کہتے ہیں: نہیں، یہ اصل میں جنہوں نے کیا ہے اُنہوں نے اپنی پرانی دشمنی نکالی ہے۔ وہ کہتے ہیں: جس نے مخبری کی تھی اُس نے اپنی پرانی دشمنی نکالی ہے۔ تو اس طرح کی حرکتیں جرمنی میں بھی ہوتی تھیں۔
اب مثال کے طور پر کوئی فوجی ہے اور محاذ پر کافی لڑا ہے اور تھکا ہارا چھٹیاں گزارنے کے لیے بالآخر اسے موقع ملا، گھر آ گیا ہے۔ گھر میں اور کسی کے سامنے نہ سہی، اپنی بیوی کے سامنے تو ہٹلر کو گالی دے سکتا ہے۔ اور اس نے دی۔ اگلے دن گسٹاپو (خفیہ نازی پولیس) والے پہنچے اور پکڑ کر اسے اٹھا لیا۔ اس طرح کے اور بہت سارے مقدمات ہیں۔ تو ایسے مقدمات کو ’’گرج نازی کیسز‘‘ (grudge nazi cases) کہا جاتا ہے، یعنی وہ جو نازی انفارمرز تھے، نازیوں کے جو مخبر تھے، ظاہر ہے وہ دل میں کسی اور کے خلاف گرڈج رکھتے تھے، کینہ رکھتے تھے، اس بنیاد پر بہت سارے لوگوں کو سزائیں ہوئیں۔
اب ان لوگوں کے خلاف مقدمات شروع ہوئے، یہ جو انفارمز وغیرہ تھے، اسی طرح جو حکومتی اہلکار تھے۔ ان کی جانب سے دفاع پیش کیا گیا۔ دیکھیں، یہ بظاہر جو صرف نظری بحثیں معلوم ہوتی ہیں، عملی طور پر پھر یہ کیسے کام آتی ہیں۔ ان انفارمرز کی جانب سے اور حکومتی اہلکاروں کی جانب سے جو عذر پیش کیا گیا، وہ یہ کہ ہم پر مقدمہ آپ نہیں چلا سکتے کیونکہ ہم نے تو ملکی قانون کی پابندی کی تھی، ملک کے قانون کی رو سے ہم پر لازم تھا کہ ہم یہ کرتے۔ اب پازیٹوسٹ اور نیچرلسٹ کی جو بحث ہے، اس کے نقطہ نظر سے اس سوال پر غور کیجیے۔
جو ابھی میں نے مشہور پازیٹوسٹ کا نام لیا، ہارٹ، اور ایک مشہور نیچرلسٹ تھا لون فلر، ان کے درمیان باقاعدہ تحریری مناظرہ ہوا ہے۔ مناظرے صرف ہمارے علماء ہی نہیں کرتے، انگریز اور یورپینز اور امریکنز بھی کرتے ہیں، تحریری بھی کرتے ہیں۔ اس کو ’’ہارٹ فلر ڈیبیٹ‘‘ کہتے ہیں، ہارٹ اور فلر کا مناظرہ۔ اور وہ ’’ہارورڈ لاء ریویو‘‘ میں شائع ہوا۔ ہارورڈ لا ریویو کو یوں کہیں کہ قانون کی دنیا کا سب سے معتبر مجلہ سمجھا جاتا ہے۔
اس میں ظاہر ہے ہارٹ کا تو موقف یہی تھا کہ قانون کی پابندی لازم ہے۔ اور جو فلر کا موقف تھا وہ یہ تھا کہ یہ تو سرے سے قانون ہی غلط تھا، ان کو اس کی پابندی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اُس قانون کی جو نیچرل لاء کے خلاف تھا، بالاتر قانون کے خلاف تھا۔ غیر تحریری سہی لیکن وہ بالاتر ہے۔ اب کریں تو کیا کریں؟ فلر کا تو یہ کہنا تھا کہ جنہوں نے اس قانون پر عمل کرتے ہوئے ہٹلر کا ساتھ دیا، ان کو سزا دی جائے، کیونکہ انہوں نے اس قانون کی پابندی کی جو قانون ہی نہیں تھا۔
ہارٹ کا یہ کہنا تھا کہ نہیں۔ اب اس کا اصولی موقف تو یہ ہے نا کہ قانون کا اخلاق سے کوئی تعلق نہیں ہے، قانون اچھا ہے یا برا ہے، قانون ہے۔ اس نے اس کا حل کیا دیا؟ اس نے اس کا حل یہ دیا کہ آج، گویا ۱۹۴۵ء/۱۹۴۶ء میں، ایک قانون منظور کریں، اس میں لکھیں کہ ہٹلر کے ان قوانین کی پابندی ناجائز ہے۔ اور اس قانون کو ۱۹۳۲ء سے مؤثر بہ ماضی کر دیں، جب ہٹلر برسرِ اقتدار آیا۔ اسے retrospective effect دیں۔ یعنی ۱۹۴۵ء/۱۹۴۶ء میں قانون منظور کریں اور ۱۹۳۲ء سے اس کو نافذ العمل قرار دیں۔
یہ بات خود ایک برا کام ہے، غیر اخلاقی کام ہے کہ جس وقت آپ ایک کام کر رہے ہوں، قانون نے اس وقت اسے جرم نہیں کہا، اس کے کئی سالوں بعد اس کو جرم قرار دیا، اب آپ کو کیسے سزا دی جا سکتی ہے؟ لیکن ہارٹ کا جواب تو بڑا [سیدھا سا ہے کہ] قانون ہے نا، اس کا اخلاق سے کیا تعلق؟ قانون تو قانون ہے۔ ’’ڈگری ڈگری ہوتی ہے‘‘۔ تو یہ بحثیں ہیں جو ہمارے ہاں بھی مختلف طریقوں سے سامنے آتی ہیں۔
اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف پہنچ گئے ہیں کیونکہ ہمارے سامنے وہ سوال آ گیا ہے کہ جہاں بظاہر قانون خاموش ہو، وہاں کیا کیا جاتا ہے؟ اب مثال کے طور پر غامدی صاحب فرمایا کرتے ہیں لوگوں سے کہ یہاں شریعت خاموش ہے، یہاں تک تو شریعت نے چار، پانچ، چھ، سات احکام دیے ہیں، اس سے آگے کیا کرنا ہے؟ اس سے آگے عقل و فطرت کی روشنی میں آپ خود فیصلہ کریں۔ اور اجتہاد کی تعریف ہی انہوں نے یہ مقرر کی ہے کہ جہاں شریعت خاموش ہے تو وہاں آپ عقل و فطرت کی رہنمائی میں فیصلہ کریں۔ ہمارے ہاں ظاہر ہے اجتہاد اسے نہیں کہتے۔ لیکن جہاں بظاہر قانون خاموش ہوتا ہے، وہاں کیا کیا جاتا ہے؟
پازیٹوسٹس کا یہ کہنا ہے کہ وہاں جج قانون وضع کرتا ہے۔ جج کے سامنے ایک مقدمہ آیا ہے، قانون میں مثال کے طور پر چوری کی یہ تعریف ہے، ڈکیتی کی یہ تعریف ہے، لیکن اس نے جس طرح سے مال اٹھایا ہے، وہ نہ اِس تعریف میں آتا ہے اور نہ اِس تعریف میں آتا ہے۔ اب یہاں کیا کریں؟ یہاں خلا پایا جاتا ہے قانون میں۔ تو پازیٹوسٹس کہتے ہیں وہاں جج اپنی ڈسکریشن (اختیار) استعمال کرتے ہیں۔ جو اُس کی حس ہے عدل و انصاف کی، اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وہ قانون وضع کرتا ہے اس خلا کو پورا کرنے کے لیے، وہ فیصلہ سناتا ہے تو اس فیصلے سے قانون بن جاتا ہے۔
اس پر یہ سوال اپنی جگہ اٹھتا ہے، جو ابھی کچھ دیر پہلے میں نے کیا کہ اگر اس نے قانون وضع کیا تو آج کے بعد اسے نافذ ہونا چاہیے، جبکہ اس کے سامنے مقدمہ تو پہلے سے آیا ہوا ہے، اس پر اس کا اطلاق کیسے ہوگا؟ لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ تو اخلاقی سوال ہے نا، قانون اور اخلاق کے تعلق کے تو ہم قائل ہی نہیں ہیں۔ تو پازیٹوسٹس کیا کہتے ہیں؟ جہاں قانون خاموش ہو، وہاں جج بطورِ نائب قانون ساز، قانون وضع کرتا ہے۔
نیچرلسٹس کہتے ہیں کہ نہیں، قانون تو موجود ہے، وضعی قانون نہ سہی، قانونِ فطرت تو سب کچھ پر محیط ہے، اس میں تو کوئی خلا نہیں ہے۔ تو جج اسے دریافت کرتا ہے اور اس کا اطلاق کرتا ہے۔ اور چونکہ وہ پہلے سے موجود ہے تو اس پر یہ سوال بھی نہیں اٹھتا کہ آپ اسے مؤثر بماضی کیسے کر رہے ہیں، وہ تو پہلے ہی سے موجود ہے۔
اچھا، الفاظ کے گورکھ دھندے سے نکلیں تو دونوں اصل میں ایک ہی بات کر رہے ہیں کہ جج اپنی مرضی کرتا ہے۔ گویا یہاں آپ یوں کہیں کہ پازیٹوزم اور نیچرلزم کی سرحدیں مل جاتی ہیں۔ یہ اصولی فرق تو ہے دونوں کے موقف میں کہ ایک کے نزدیک جج قانون وضع کرتا ہے اور دوسرے کے نزدیک دریافت کرتا ہے، لیکن کرتا اپنی مرضی ہے۔ یہ دو نظریے ہوئے۔ ہمارے ہاں بھی آپ نے اجتہاد کی بحث میں، اصولِ فقہ میں یہ بحث یقیناً دیکھی ہوگی کہ مجتہد کیا کرتا ہے؟ ظاہر ہے شارع تو اللہ ہے۔ مجتہد کو ہم شارع تو نہیں مانتے، وہ تو مُظہر ہوتا ہے، قانون پہلے سے موجود ہے، اسے ظاہر کر دیتا ہے۔۔ تقریباً یہی بحث آپ کو وہاں نظر آئے گی۔
دیکھیں، یہ میں آپ کے سامنے ڈاٹس رکھ رہا ہوں، ان کو پھر ملائیں گے، آپ اس میں بے فکر رہیں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ خود آپ کے ذہن میں تصور بنتا جائے، پھر ڈاٹس ملا لیں گے، ان شاء اللہ۔
اب ایک تیسرا نظریہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ امریکی ماہرِ قانون، قانونی فلسفی تھے رونالڈ ڈورکن، دس گیارہ سال پہلے ان کا انتقال ہوا۔ یہ بھی آکسفورڈ میں جورس پروڈنس کے پروفیسر تھے۔ ایچ ایل اے ہارٹ کے اسٹوڈنٹ بھی تھے اور ان کے شدید ناقد بھی تھے۔ اور ہارٹ کے بعد یہ آکسفورڈ میں پروفیسر ہوئے جورس پروڈنس کے۔ اچھا، ان کا کام اور ان کے جو اصول ہیں، وہ حنفی اصولی منہج کے بہت قریب ہیں اور آپ کو بہت مماثلت اور بہت مشابہت بھی نظر آئے گی زاویۂ نظر میں۔ ظاہر ہے یہ غیر مسلم ہے، اور یہ بھی ہمیں نہیں پتہ کہ اس نے حنفی فقہ یا اصولِ فقہ کی کوئی کتاب کبھی پڑھی ہے یا نہیں پڑھی۔ بتاتے بھی تو نہیں ہیں نا یہ لوگ۔ لیکن اس کے کام میں وہ اثر نظر آتا ہے، اپروچ کے لحاظ سے، زاویۂ نظر کے لحاظ سے۔ دو باتیں بالخصوص اس کی بہت اہم ہیں:
ایک، اس کا جو اصولِ قانون کے مباحث میں سب سے اہم اضافہ مانا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ جہاں قانون خاموش ہو وہاں جج نہ قانون وضع کرتا ہے، نہ خیالی قانونِ فطرت سے کوئی چیز دریافت کر کے لاتا ہے۔ جج کرتا کیا ہے؟ وہ قانون کے عمومی اصول معلوم کر کے، جنرل پرنسپلز آف لاء ڈِسکوَر کر کے، ان کا اطلاق کرتا ہے۔ یہ بات اچھی طرح نوٹ کیجیے، یہ ہماری ساری بحث کا یوں کہیں کہ نچوڑ ہے کہ جج کیا کرتا ہے؟ وہ اپنی مرضی نہیں کرتا، نہ ہی وہ قانون وضع کرتا ہے، نہ کسی خیالی قانونِ فطرت سے کوئی چیز دریافت کر کے یہاں اس کا اطلاق کرتا ہے۔ بلکہ جو قانون اس کے سامنے موجود ہے، اس میں بعض جزئیات کا تو خصوصی حکم موجود ہے، بعض جزئیات کا خصوصی حکم موجود نہیں ہے، لیکن قانون کے عمومی اصول موجود ہیں جن سے قانون کا عمومی جو ارادہ ہے وہ ہمیں معلوم ہوتا ہے، تو ان کا اطلاق وہ یہاں کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال میں ابھی ذکر کروں گا۔
اچھا، دوسرا اس کا جو بڑا کنٹریبیوشن سمجھا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ کسی بھی قانونی مسئلے میں، کسی بھی متنازعہ امر میں، صحیح رائے صرف ایک ہوتی ہے۔ اس کو right answer thesis کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی یہ بحث پائی جاتی ہے کہ مجتہدین کے اختلاف میں کیا سارے مصیب ہوتے ہیں، یا مجتہد کبھی خطا کرتا ہے، کبھی صواب تک پہنچتا ہے؟ صحیح نتیجے تک پہنچے تو دوہرا اجر ہے، غلطی ہوئی لیکن اس نے اجتہاد کیا تھا، بھرپور کوشش کی تھی، تو ایک اجر تو اس کو ملے گا۔ حنفی پوزیشن تو یہی ہے نا کہ جو اختلافی امور ہیں، اجتہادی امور ہیں، ان میں بھی حق ایک ہے۔ اب ظاہر ہے اس حق کا اصل علم ایک تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کو ہے، لیکن ہم اپنی کوشش سے جس نتیجے تک پہنچتے ہیں تو ہم …… خطا کے احتمال کے ساتھ۔ ظاہر ہے یہ فروع میں ہے۔ اور پھر عقیدے کی بحث اور ہو جاتی ہے۔
یہ دونوں باتیں دیکھیں: یہ حنفی زاویۂ نظر کے قریب کیا بلکہ اسی کے ارکان ہیں کہ حق ایک رائے ہوتی ہے، اور اس کے علاوہ یہ کہ جہاں قانون بظاہر آپ کو خاموش نظر آتا ہے، وہاں بھی قانون خاموش نہیں ہے۔ یہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہاں دلیلی …… نہیں ہے، لیکن عمومی اصول تو موجود ہیں اور ان کا اطلاق یہاں ہوگا۔
اس کی ایک مثال میں دیتا ہوں، پھر ہم اصولِ فقہ کی طرف آتے ہیں۔ یہ مثال جو ابھی آپ کے سامنے آ رہی ہے، یہ ۱۸۸۰ء کا نیویارک کی ایک عدالت کا بڑا مشہور مقدمہ ہے، قانون کے طلبہ جانتے ہیں۔ میں صرف مختصر اس کی وضاحت کرتا ہوں کہ اس میں تھا کیا۔ اور مسئلہ ہمارے فقہی طلبہ کے لیے بھی سمجھنا بہت آسان ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ایک دادا نے اپنے پوتے کے حق میں وصیت کی۔ اب ظاہر ہے ان پر اسلامی قانونِ وراثت کا تو اطلاق نہیں ہوتا تھا، نہ ان کے ہاں وراثت و وصیت کے یہ اصول تھے۔ سادہ اصول یہ تھا، جو وصیت کا قانون ہے ان کے ہاں، کہ کوئی بھی شخص اپنی پراپرٹی اپنی مرضی سے کسی کو بھی دے سکتا ہے، اس کے حق میں وصیت کر سکتا ہے۔ تو دادا نے پوتے کے حق میں وصیت کی تھی۔ پوتے نے خود کو خوش قسمت سمجھا، لیکن پھر ہوا یہ کہ دادا فوت نہیں ہو رہے تھے، تو اس نے ذرا جلدی کی اور دادا کو قتل کر دیا۔ اچھا، پھر اس کو فوجداری قانون کے تحت، جرم و سزا کے قانون کے تحت جو سزا ملنی تھی وہ تو ملی، لیکن اب اس مقدمے میں عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ جو دادا نے اس کے لیے وصیت کی تھی، جائیداد اس کے نام کرنے کی، وہ جائیداد اسے منتقل ہوگی یا نہیں ہو گی؟
تو یہاں تین جج تھے۔ ایک جج اہلِ ظاہر میں تھا، ظاہری جج تھا، اس نے کہا کہ قانون کے متن میں صرف یہ لکھا ہے کہ اگر الف نے ب کے حق میں وصیت کی تو وہ نافذ کر دو۔ اس میں یہ نہیں لکھا کہ اگر قتل کر دے تب نافذ نہ کرو۔ تو ہم اپنی جانب سے کیوں اس کا اضافہ کریں؟ قانون نے تو کہا ہے کہ اِس نے اُس کے حق میں وصیت کی، تو بس دے دو، یہ نہیں کہا کہ قتل کر دے تو پھر نہ دو۔
لیکن دو ججز اہلِ رائے میں سے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قانون نے یہ بھی تو نہیں کہا کہ قتل کر دے تب بھی دو۔ جس وقت قانون بنایا جا رہا تھا، قانون بنانے والوں کے سامنے یہ سوال تھا ہی نہیں کہ قتل کر دے تو کیا کریں گے؟ تو اِن دو ججوں نے کہا کہ actual intention of the law makers (قانون سازوں کا اصل ارادہ) تو ہمیں پتہ نہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل میں تو یہ سوال ان کے سامنے آیا ہی نہیں تھا۔ لیکن ہم یہ assume (فرض) کریں گے کہ اگر یہ سوال ان کے سامنے ہوتا تو وہ کیا جواب دیتے، وہ اس قانون میں کیا لکھتے؟ کیا وہ لکھتے کہ قتل کر دے تب بھی دو؟ یہ اسی طرح کی بات ہے نا جیسے ہمارے فقہاء کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ اگر آج ہوتے تو وہ وہی کرتے جو اَب ہم کر رہے ہیں۔
اچھا، یہ اپنی مرضی سے یعنی صرف خیال کی بنیاد پر نہیں کہا جاتا، بلکہ اس کے لیے ان ججوں نے مختلف دیگر قوانین کی مثالیں دیں کہ فلاں معاملے میں ایک بندے نے جرم کیا تھا (قتل کا نہیں تھا، وصیت کا معاملہ نہیں تھا، الگ مسئلہ تھا) لیکن جرم کیا تھا، تو اس قانون میں لکھا ہوا ہے کہ اس جرم کی وجہ سے اس کو جو فائنانشل بینیفٹ (مالی فائدہ) ملنے والا تھا، اب یہ نہیں ملے گا، کیونکہ اس نے جرم کیا ہے، تو جرم کی وجہ سے اس کو مالی فائدہ نہ پہنچے۔ فلاں معاملے میں بھی ایک اور مختلف کیس تھا، لیکن اس نے یہ کیا ہے۔ تین چار اس طرح کی مثالیں دینے کے بعد انہوں نے ایک عمومی اصول بتایا۔ وہ حسِ عدل کی بات نہیں، بلکہ تین چار دیگر قوانین کا اور نظائر کا جائزہ لینے کے بعد انہوں نے قانون کا عمومی مزاج کیسے معلوم کیا؟ یہ کہہ کر کہ قانون کا کہنا یہ ہے، جو اس نے تین چار مختلف جزئیات میں خصوصاً بھی بتایا ہے، اس سے ہمیں قانون کا عمومی مزاج معلوم ہوتا ہے، ارادہ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ جہاں کوئی شخص کوئی جرم کرے گا، قانون اس کو اس جرم سے فائدہ اٹھانے نہیں دے گا، no one shall be allowed to get benefit from his own wrong، اپنی ہی غلطی سے فائدہ اٹھانے کا موقع قانون اسے نہیں دے گا۔ اس لیے یہ شخص اپنے ہی جرم سے فائدہ نہیں اٹھائے گا۔
یہ جو نظریہ ہے ڈورکن کا کہ جہاں قانون بظاہر خاموش ہوتا ہے وہاں اس خلا کو کیسے پر کیا جاتا ہے؟ قانون کی جزئیات اور نظائر پر نظر ڈالنے کے بعد اس خلا کو پر کرنے کے لیے ہم قانون کے عمومی اصول استعمال کرتے ہیں۔ جج یہ کرتے ہیں۔ یہ ان دو نظریات سے مختلف نظریہ ہے۔
