سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۵)
سلف کی تفسیر اور اس کے اہم تحقیقی دائرہ کار

پانچواں محور
سلف کی تفسیر اور اس کے اہم تحقیقی دائرہ کار

اس محور کے موضوعات درج ذیل ہیں:

  1. محققین کی دلچسپی کے اہم موضوعات
  2. طلبہ و محققین کیلئے تحقیق کو آسان بنانے کی تجاویز
  3. تفسیرِ سلف کو خاص اہمیت دینے والی نمایاں تفاسیر

سوال 1: محققین کی دلچسپی کے اہم موضوعات

تفسیرِ سلف پر آپ کے کام اور اس سے آپ کی قربت کی وجہ سے، وہ کون سے اہم تحقیقی موضوعات ہیں جن کی طرف آپ محققین کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد: 

میں ان اہم موضوعات کو درج ذیل نکات میں مختصرا بیان کرنا چاہوں گا:

  1. تفسیر میں سلف کے درمیان اختلافات کا عملی اور تطبیقی مطالعہ کرنا۔
  2. تفسیر میں سلف کے درمیان تقابلی مطالعات پر توجہ دینا، خصوصاً‌ اساتذہ اور شاگردوں کے درمیان — مثلاً‌ یہ دیکھنا کہ تابعین نے صحابہؓ کی تفسیر پر کیا اضافے کیے، وغیرہ۔
  3. امام طبری کی تفسیر میں ان کے سماعی روایات کے مآخذ کا مطالعہ، جو تفسیرِ سلف میں ان علاقوں کو اجاگر کرنے میں مددگار ہیں جن پر ابھی تحقیق نہیں ہوئی — جیسے ان کی تفسیر کے ذریعے تفسیری صحیفوں کا پتہ لگانا، وغیرہ۔
  4. مسند تفاسیر کی روشنی میں قدیم تفسیری صحیفوں کو یکجا کرنا اور ان کا باقاعدہ علمی مطالعہ۔
  5. سلف کی استعمال کردہ اصطلاحات کی باقاعدہ تحقیق۔
  6. جن مفسرین پر جرح و تعدیل کی گئی ہے ان کے تفسیری اجتہادات کو ان کی مرویات (روایت شدہ حدیثوں) سے الگ کر کے جمع کرنا، کیونکہ ان کے اجتہادات اہم اور قابلِ قبول ہیں — جیسے کلبی (وفات: 146ھ) — اسی طرح بعض قدیم مطبوعہ تفاسیر جیسے مقاتل بن سلیمان (وفات 150ھ) کی تفسیر کی ازسرنو تحقیق کی ضرورت ہے۔
  7. سلف کے ہاں علومِ قرآن کے مباحث کا استقرائی اور تجزیاتی انداز میں تفصیلی مطالعہ کرنا۔

سوال 2: طلبہ و محققین کیلئے تحقیق کو آسان بنانے کی تجاویز

بلاشبہ، تفسیر سلف کو وسیع توجہ اور ایسی علمی خدمات کی ضرورت ہے جو اسے طلبہ و محققین کیلئے کے قریب لائیں اور اس کے مواد کو ان کے لیے آسان فہم بنا دیں۔ تو آپ کی نظر میں اس سلسلے میں سب سے اہم تجاویز اور منصوبے کیا ہو سکتے ہیں؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد: 

تفسیرِ سلف کی خدمت کے لیے کچھ تجاویز اور منصوبے درج ذیل ہیں:

1۔ بذریعہ میڈیا محنت:

تفسیر سلف کو عام لوگوں اور محققین کے قریب لانے کے لیے میڈیا اور دیگر ذرائع کا استعمال کرنا۔

2۔ موسوعہ برائے مناہج المفسرین:

ایک علمی موسوعہ تیار کی جائے جس میں ائمہ کرام کی تفسیر کے اسناد کے ساتھ تعامل اور طریقہ کار کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے۔

3۔ موسوعہ برائے اسرائیلیات:

ایک جامع علمی موسوعہ جس میں اسرائیلیات اور مفسرین کا ان روایات کے ساتھ تعامل کا طریقہ بتایا جائے۔

4۔ موسوعہ آثار السلف:

ایک موسوعہ تیار کی جائے جس میں سلف کے سورتوں اور آیات سے متعلق اقوال جمع کیے جائیں۔

5۔ موسوعہ استنباطات السلف:

ایک جامع موسوعہ تیار کیا جائے جس میں سلف کے استنباطات کو اکٹھا کیا جائے۔

6۔ حصر و ترتیب معانی تفسیر:

سلف کی جانب سے بیان کردہ معانی تفسیریہ کو ایک جگہ جمع کر کے ایک منظم علمی متن ترتیب دیا جائے۔

سوال 3: تفسیرِ سلف کو خاص اہمیت دینے والی نمایاں تفاسیر

کچھ تفاسیر ایسی ہیں جنہوں نے تفسیرِ سلف کو خاص اہمیت دی ہے، اور یقیناً‌ ان تفاسیر کی خدمت کرنا خود تفسیرِ سلف کی عظیم خدمت ہے۔ آپ کے خیال میں کون سی تفاسیر سب سے نمایاں ہیں؟ اور ان کی خدمت کے لیے آپ کیا تجاویز پیش کرتے ہیں؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

تفسیرِ سلف پر مشتمل نمایاں تصنیفات درج ذیل ہیں:

  1. جامع البیان للطبری (وفات 310 ہجری)
  2. النکت والعیون للماوردی (وفات 450 ہجری)
  3. المحرر الوجیز لابن عطیۃ الغرناطی (وفات 542 ہجری)
  4. مفاتیح الغیب للرازی (وفات 606 ہجری)
  5. التفسیر المجموع لابن تیمیۃ (وفات 728 ہجری)
  6. التفسیر المجموع لابن القیم (وفات 751 ہجری)
  7. تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر (وفات 774 ہجری)

آخر میں ان تفاسیر سے متعلق کچھ ہدایات عرض کیے دیتا ہوں تاکہ تفسیرِ سلف کی زیادہ سے زیادہ خدمت کی جا سکے:

  • ان کتابوں کے مصادر و مآخذ کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے۔
  • یہ دیکھا جائے کہ مفسرین نے صحابہ و تابعین کے اقوال کی کیا شرح و توجیہ بیان کی۔
  • تفسیر کی کتابوں میں دی گئی عملی اطلاقات کے ذریعے اصولِ تفسیر کے بنیادی ڈھانچے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
  • مفسرین نے صحابہؓ کے اقوال کو کس طرح مختلف انداز اور اقسام میں استعمال کیا، اس پر غور کیا جائے۔

یہ ہدایات کتبِ معانی القرآن پر بھی لاگو کی جا سکتی ہیں۔ اگرچہ یہ کتابیں براہ راست تفسیرِ سلف پر مشتمل نہیں ہیں، لیکن ان میں ایسے کئی فوائد موجود ہیں جو تفسیرِ سلف کی خدمت کے لیے قیمتی ہیں، بشرطیکہ ان فوائد کو جمع کر کے منظم مطالعہ کیا جائے۔

(مکمل)

قرآن / علوم القرآن

اقساط

(الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۵

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۱)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۲)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۵)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۶)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

فقہِ اسلامی کا تعارف و تاریخ
ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی

حنفی اصولی منہج (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ائمہ اہل بیت کے فقہی اجتہادات اور فقہ جعفری
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۲)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۵)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۴)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

عمرِ اولؓ اور عمرِ ثانیؒ کا طرزِ حکومت
علامہ رضا ثاقب مصطفائی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۲)
محمد سراج اسرار

قیامِ پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۴)
پروفیسر خورشید احمد

نظریۂ اسلام، نظریۂ پاکستان، دو قومی نظریہ
ڈاکٹر سعید احمد سعیدی

مسجد الاقصیٰ اور امتِ مسلمہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

القدس کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے نام خط
سنیٹر مشتاق احمد خان

ایران پر چالیس روزہ امریکی اسرائیلی جارحیت اور پندرہ روزہ جنگ بندی
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Our Destiny: America, Russia, China, or the Muslim World?
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سید محمد نقیب العطاس کی وفات: اسلامی فکر کے ایک عہد کا خاتمہ
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

حاجی عثمان عمر ہاشمیؒ کا سانحہ ارتحال
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مولانا محمد اسامہ قاسم

مطبوعات

شماریات

Flag Counter