اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۲)
آن لائن دائرۃ المعارف ویکی پیڈیا سے ماخوذ

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

باب اول: شخصیت و کردار

نام و نسب

حضرت ابوبکر صدیقؓ کا اسلامی نام عبد اللہ، کنیت ابوبکر اور القاب صدیق اور عتیق تھے۔ والد کا نام عثمان (کنیت ابو قحافہ) اور والدہ کا نام سلمیٰ (کنیت ام الخیر) تھا۔ ان کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنو تمیم سے تھا۔ عہدِ جاہلیت میں ان کا نام عبد الکعبہ تھا۔ روایت ہے کہ ان کے والدین کے لڑکے زندہ نہ رہتے تھے، چنانچہ انہوں نے نذر مانی کہ اگر لڑکا ہوا اور زندہ رہا تو اس کا نام عبد الکعبہ رکھیں گے اور اسے خانہ کعبہ کی خدمت کے لیے وقف کر دیں گے۔ بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر عبد اللہ رکھ دیا۔ آپ کے والد اور والدہ دونوں کی جانب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سلسلۂ نسب ساتویں پشت میں مل جاتا ہے، کیونکہ آپ کے والدین آپس میں عم زاد تھے۔ والد کی جانب سے: ابو قحافہ عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ بن کعب۔ اور والدہ کی جانب سے: ام الخیر سلمی بنت صخر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ بن کعب

کنیت و لقب

عربی میں ’’بکر‘‘ جوان اونٹ کو کہتے ہیں۔ چونکہ آپ کو اونٹوں کی دیکھ بھال اور علاج میں خاص دلچسپی تھی، اس لیے لوگوں نے آپ کو ’’ابوبکر‘‘  کہنا شروع کر دیا۔ نیز ’’ابو‘‘ کے معنی والا کے ہیں اور ’’بکر‘‘ کے معنی اولیت کے ہیں، یعنی اولیت والے۔ چونکہ آپ ایمان، ہجرت اور دیگر امور میں اول تھے، اس لیے آپ کو یہ کنیت دی گئی۔ واقعہ معراج کے بعد جب قریش نے تکذیب کی تو حضرت ابوبکرؓ نے بلا تامل تصدیق کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس تصدیق کی وجہ سے انہیں ’’صدیق‘‘ کا لقب عطا فرمایا۔ بیشتر محدثین کے خیال میں ’’عتیق‘‘ (آزاد) آپ کا لقب تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’اللہ نے ابوبکرؓ کو آگ سے آزاد کر دیا ہے‘‘ چنانچہ اس کے بعد وہ عتیق کے لقب سے مشہور ہوئے۔

حلیہ مبارک

حضرت ابوبکر صدیقؓ موزوں قد کے دبلے پتلے آدمی تھے۔ ان کا رنگ گندمی تھا (گورے رنگ کی روایت بھی موجود ہے)۔ رخساروں پر کم گوشت تھا اور چہرے کی ہڈیاں نمایاں تھیں۔ پیشانی بلند اور کشادہ تھی جو عرق آلود رہتی تھی۔ آنکھیں اندر کی جانب گہری تھیں اور بال گھنگریالے تھے۔ ان کی انگلیوں کے جوڑوں پر گوشت نہیں تھا، اور پنڈلیوں اور رانوں پر بھی بہت کم گوشت تھا۔ کمر میں ذرا خم تھا، یعنی قدرے جھک کر چلتے تھے۔ بالوں میں مہندی اور کسم/کثم کا خضاب لگاتے تھے۔ آواز پرسوز تھی اور بہت کم گو تھے۔ انداز گفتگو بہت سنجیدہ تھا۔ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی بوڑھے معلوم ہوتے تھے۔

لباس و غذا

حضرت ابوبکر صدیقؓ کا لباس نہایت سادہ اور معمولی ہوتا تھا۔ غذا بھی بہت سادہ تھی۔ مالی طور پر خوشحال تھے لیکن جو کچھ کماتے بے دریغ راہِ حق میں خرچ کر ڈالتے تھے۔ خلافت کے بعد ان کی سادگی میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ وفات سے قبل انہوں نے ام المؤمنین عائشہؓ سے فرمایا: جب سے خلافت کا بوجھ میرے کندھوں پر پڑا ہے، میں نہایت معمولی غذا اور موٹے جھوٹے کپڑے پر قانع رہا ہوں۔ اس وقت میرے پاس ایک حبشی غلام، ایک اونٹ اور ایک پرانی چادر کے سوا بیت المال کی کوئی چیز نہیں۔ حضرت ابوبکرؓ ایک سادہ انگوٹھی پہنتے تھے جس پر یہ عبارت کندہ تھی: ’’نعم القادر اللہ‘‘۔

ذریعہ معاش اور ملکیت

حضرت ابوبکر صدیقؓ شروع ہی سے کپڑوں کے ایک کامیاب اور خوشحال تاجر تھے اور اندرون و بیرون ملک (شام اور یمن وغیرہ) سفر کرتے رہتے تھے۔ اپنی خوش معاملگی اور دیانتداری کی وجہ سے وہ قریش کے تمام تاجروں میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ قبولِ اسلام کے بعد بھی تجارت ہی ان کا ذریعہ معاش رہی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیبر اور بحرین میں ایک ایک جاگیر عطا فرمائی۔ تین ہجری میں بنو نضیر کے جلا وطن ہونے کے بعد نبی کریمؐ نے انہیں بئر حجر (پانی کا کنواں) عنایت فرمایا۔ خلیفہ بننے کے بعد جب تجارت کے لیے بازار جانے لگے تو حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کے پاس لے جا کر ان کے لیے اتنا وظیفہ مقرر کروایا جو ایک اوسط درجہ کے مہاجر کی ضروریات زندگی کو کفایت کر سکے۔

ازواج

  1. ام بکر: قبیلہ بنو کلب سے تھیں، انہوں نے اسلام قبول نہ کیا تو طلاق دے دی گئی۔
  2. قتیلہ بن عبد العزی: انہوں نے بھی اسلام قبول نہیں کیا، ان کے بطن سے عبداللہؓ اور اسماءؓ پیدا ہوئے۔
  3. ام رومانؓ: جلیل القدر صحابیہ، انہوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کے ہاں عائشہؓ اور عبدالرحمٰنؓ پیدا ہوئے۔
  4. اسماء بنت عمیسؓ: پہلے حضرت جعفر طیارؓ سے نکاح ہوا، پھر حضرت ابوبکرؓ سے، پھر حضرت علی المرتضٰیٰؓ سے۔
  5. حبیبہ بن خارجہؓ: مواخاتی بھائی حضرت خارجہ انصاریؓ کی بیٹی تھیں۔ ان کے بطن سے امِ کلثومؓ پیدا ہوئیں۔

اولاد

  1. عبد اللہؓ: سب سے بڑے بیٹے۔ غزوہ طائف میں زخمی ہوئے، بعد میں اسی زخم سے شہید ہو گئے۔
  2. عبد الرحمٰنؓ: دوسرے بیٹے۔ صلح حدیبیہ کے زمانے میں مسلمان ہوئے۔ ماہر تیر انداز تھے۔
  3. محمدؓ: سب سے چھوٹے بیٹے۔ حضرت علیؓ کے عہدِ خلافت میں مصر کے گورنر بنے۔ شہید ہوئے۔
  4. اسماءؓ: سب سے بڑی صاحبزادی۔ حضرت زبیر بن عوامؓ کے نکاح میں تھیں۔
  5. عائشہؓ: دوسری صاحبزادی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں۔
  6. ام کلثومؓ: سب سے چھوٹی صاحبزادی۔ والد کے وصال کے بعد پیدا ہوئیں۔

عادات و خصائل

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے دعوتِ حق کے آغاز پر سب سے آگے بڑھ کر لبیک کہا۔ واقعہ معراج کی صبح جب کفار نے مذاق اڑایا تو انہوں نے بلا تامل حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی۔ سفرِ ہجرت میں انہیں حضورؐ کی رفاقت کا شرف ملا اور ’’ثانی الثنین‘‘ کے لقب سے نوازے گئے۔ وہ ہمیشہ دھیمی آواز میں گفتگو کرتے اور بار بار کہتے: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ جب وہ کفار کے ہاتھوں شدید زخمی ہوئے تو ہوش آیا تو بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ حضورؐ ان کی والدہ کے لیے دعا فرمائیں۔ حضورؐ کی دعا سے ان کی والدہ اسی وقت مشرف باسلام ہو گئیں۔ فتح مکہ کے دن وہ اپنے والد ابو قحافہ کو حضورؐ کی خدمت میں لائے، جہاں انہوں نے اسلام قبول کیا۔ اپنی بیویوں سے بہت اچھا سلوک کرتے تھے۔ تمام بیویوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کرتے اور ان کے حقوق پورا کرنے میں عدل کو ہمیشہ ملحوظ رکھتے تھے۔ کبھی حضورؐ کے ساتھ اور کبھی تنہا مریضوں کی عیادت کے لیے جاتے تھے۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ جب بیمار ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ جناب نبی کریمؐ کے ساتھ ان کے گھر گئے۔ وہ اکثر غمزدہ خاندانوں میں تعزیت کے لیے جاتے تھے۔ حضورؐ کے وصال کے بعد بھی وہ ام ایمنؓ کے پاس تعزیت کے لیے گئے۔ ایک موقع پر حضرت صدیق اکبرؓ نے فرمایا: بھلا بخل سے زیادہ برا کوئی مرض ہو سکتا ہے؟ 

ایک بار حضرت حسن بن علیؓ کو کندھے پر سوار کر کے بار بار فرماتے رہے: میرا باپ فدا ہو، یہ حسنِ نبی کے مشابہ ہے، علیؓ کے مشابہ نہیں ہے۔ حضرت علیؓ یہ سن کر مسکراتے رہے۔ انتہائی خود دار تھے، دوسروں کے کام کر دیتے تھے لیکن اپنا کام کسی دوسرے سے لینے سے اجتناب کرتے تھے۔ لوگوں نے پوچھا تو فرمایا: میرے حبیبؐ کا مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کروں۔ ان کے مزاج میں بے حد نظافت تھی۔ ہجرت کے سفر میں جب ایک چرواہے سے دودھ مانگا تو پہلے بکری کے تھن صاف کرنے اور پھر ہاتھ صاف کرنے کا کہا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے اندر کسی قسم کے تعصب کا شائبہ تک نہ تھا۔ وفات سے قبل اپنا جانشین نامزد کرتے وقت اپنے قبیلے کو نظر انداز کر کے حضرت عمر فاروقؓ کو نامزد کیا۔ وہ اپنی اولاد سے بے حد محبت کرتے تھے۔ جب بیٹی اسماءؓ کے حالات دیکھے تو ایک خادم بھیج دیا۔ بچے ان سے اس قدر مانوس تھے کہ جب وہ محلے میں داخل ہوتے تو بابا بابا کہہ کر دوڑتے آتے اور لپٹ جاتے۔راستے میں حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے بچے کہیں مل جاتے تو انہیں گود میں اٹھا لیتے۔ جب حضرت فاطمہؓ بیمار ہوئیں تو ان کی عیادت کے لیے گئے اور اپنی زوجہ حضرت اسماءؓ کو ان کی تیمارداری کی ہدایت کی۔ 

خدا کا خوف ان پر اس قدر طاری تھا کہ وہ ہر وقت محاسبۂ آخرت کے خوف سے لرزاں رہتے تھے۔ کبھی کسی سرسبز درخت کی طرف دیکھتے تو فرماتے: کاش میں درخت ہوتا۔ جب ابن دغنہ نے پناہ واپس لینے کی دھمکی دی تو انہوں نے بے دھڑک جواب دیا: تم اپنی پناہ مبارک ہو، میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ جب حضرت ابوذر غفاریؓ مکہ آئے تو حضرت ابوبکرؓ نے حضورؐ سے درخواست کی کہ وہ انہیں ان کا مہمان بننے دیں۔ رات کو حضورؐ خود حضرت ابوذرؓ کو لے کر حضرت ابوبکرؓ کے گھر تشریف لائے۔ اپنی بکریاں خود چراتے اور ضرورت پڑنے پر اہل محلہ کی بکریوں کا دودھ دوہ دیتے تھے۔ خلافت کے بعد ایک لڑکی نے کہا: آپ اب ہماری بکریاں کیوں دوہیں گے؟ فرمایا کہ یہ منصب مجھے اس سے نہ روک سکے گا۔ حضرت صدیق اکبرؓ لوگوں کو اپنے گرد بلاوجہ اکٹھا نہیں ہونے دیتے تھے۔ سقیفہ بنو ساعدہ میں جب خلافت کا مسئلہ آیا تو انہوں نے حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ کا نام پیش کیا۔ 

حضرت ابوبکرؓ نے اپنا تمام مال راہِ حق میں وقف کر دیا تھا۔ قبولِ اسلام کے وقت ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے، جو انہوں نے راہِ خدا میں صَرف کر دیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکرؓ کے مال سے زیادہ کسی کے مال نے مجھے نفع نہیں پہنچایا۔ جسمانی طور پر کمزور دکھائی دینے والے حضرت ابوبکرؓ کے سینے میں فولاد کا دل تھا۔ قوتِ ایمانی نے انہیں عرب کا مضبوط ترین انسان بنا دیا تھا۔ انہیں کمال درجے کی بصیرت اور حقیقت شناسی عطا تھی۔ انتظامی اور فوجی عہدوں کے لیے ان کا انتخاب ان کی مردم شناسی کا بڑا ثبوت تھا۔

اہم ارشادات

مختلف روایات میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بے شمار ارشادات و اقوال نقل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے چند اہم ارشادات یہ ہیں: جس پر نصیحت اثر نہ کرے، اس کا دل ایمان سے خالی ہے۔ گناہ سے توبہ کرنا واجب ہے، مگر گناہ سے بچنا واجب تر ہے۔ بوڑھا توبہ کرے تو خوب ہے، اور اگر جوان توبہ کرے تو خوب تر ہے۔ جوان کا گناہ اگرچہ برا ہے، لیکن بوڑھے کا گناہ بدتر ہے۔ نماز کو سجدہ سہو، روزہ کو صدقہ فطر، حج کو فدیہ، اور ایمان کو جہاد پورا کرتا ہے۔ ہر عمل کا اس کے وقت کے ساتھ بجا لانا ضروری ہے۔ اللہ اس وقت تک نفل قبول نہیں کرتا جب تک تم فرض ادا نہ کرو۔ اللہ کے خوف سے روؤ، اگر رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کرو۔ عقل مند کی پہچان کم گوئی ہے۔ مصیبت کی جڑ انسان کی گفتگو ہے۔ شریف جب علم پڑھتا ہے تو متواضع ہو جاتا ہے۔ فقیر کے سامنے عاجزی اور ادب سے صدقہ پیش کر، کیونکہ خوش دلی سے صدقہ دینا قبولیت کی علامت ہے۔ امیروں کا تکبر کرنا برا ہے، لیکن غریبوں اور محتاجوں کا تکبر کرنا بدتر ہے۔ عام لوگ عبادت میں سستی کریں تو بری بات ہے، لیکن اگر علماء اور طلبہ عبادت میں سستی کریں تو یہ اور بھی زیادہ برا ہے۔ مردوں کا شرم کرنا اچھا ہے، لیکن عورتوں کا شرم کرنا بہت اچھا ہے۔ غریب اگر تواضع کرے تو اچھا ہے، لیکن امیروں کا تواضع کرنا بہت اچھا ہے۔ زبان کو شکوہ و شکایت سے روکو، خوشی کی زندگی عطا ہو گی۔ بروں کی ہم نشینی سے تنہائی بدرجہا بہتر ہے۔ کسی مسلمان کو حقیر نہ جانو۔ چھوٹا سا مسلمان بھی خدا کے نزدیک بڑا ہے۔ 

باہم قطع تعلق مت کرو، بغض نہ کرو، حسد نہ کرو۔ آپس میں بھائی بھائی ہو جاؤ، جیسا کہ تمہیں حکم ہے۔ ہر چیز کا ثواب ایک اندازہ ہے، لیکن صبر کا ثواب بے اندازہ ہے۔ جو شخص دعوتِ توحید کی ابتدا میں فوت ہو گیا، وہ بہت خوش نصیب تھا۔ دولت آرزو کرنے سے حاصل نہیں ہوتی۔ بالوں کو خضاب لگا کر جوانی حاصل نہیں ہوتی۔ دوائیں کھا کر صحت مند نہیں بنا جا سکتا۔ تو دنیا کا سامان جمع کرنے میں مشغول ہے اور دنیا تجھے اپنے سے جدا کرنے میں سرگرم ہے۔ اگر میرا ایک پاؤں جنت میں ہو اور دوسرا باہر، تب بھی میں اپنے آپ کو اللہ کے غضب سے محفوظ تصور نہیں کرتا۔ اللہ کی کتاب (قرآن مجید) کے عجائبات کبھی ختم ہونے والے نہیں اور نہ اس کی روشنی کبھی ماند پڑے گی۔ اپنی رفتار تیز سے تیز کر دو، کیونکہ تمہارے پیچھے ایک تیز رفتار تعاقب کرنے والا لگا ہوا ہے۔ اس دن پر رویا کرو جو تیری عمر سے گزر گیا اور اس میں نیکی نہیں کی۔ جو امر پیش آتا ہے وہ نزدیک ہے، لیکن موت اس سے بھی نزدیک تر ہے۔ موت پر دلیر رہو، تمہیں زندگی بخشی جائے گی۔ہر کام کرتے وقت اللہ کو حاضر و ناظر جانو، اس سے ڈرو اور شرم کرو۔ کفار سے جہاد کرنا جہادِ اصغر ہے اور نفس سے جہاد کرنا جہادِ اکبر ہے۔ جو قوم جہاد کو چھوڑ دیتی ہے، اللہ اسے ذلیل کر دیتا ہے۔ 

مظلوم کی دعا سے بچو، کیونکہ قبولیت اور اس کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے۔ جس قوم میں بری باتیں عام ہو جاتی ہیں، اللہ اسے مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت۔ عمل بغیر علم کے سقیم (ناقص) ہے اور علم بغیر عمل کے عقیم (بے فائدہ)۔ جاہ و عزت سے بھاگو، عزت تمہارے پیچھے پھرے گی۔ ہم نے بزرگی تقویٰ میں، بے نیازی یقین میں، اور عزت تواضع میں دیکھی۔ مومن کو اتنا کافی ہے کہ اللہ سے ڈرتا رہے۔ میں نیک کام کروں تو میری اعانت کرو، میں برا کام کروں تو مجھے درست کرو۔ اخلاص یہ ہے کہ اعمال کا عوض نہ چاہے۔

فضائل و مناقب

سورہ توبہ میں اللہ کا ارشاد ہے: ’’جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے فرمانے لگے: غم نہ کریں، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔ اس آیت میں حضورؐ کے ساتھ دوسرے حضرت ابوبکرؓ ہیں۔ سورہ اللیل میں ارشاد ہے: ’’ اس پر کسی کا احسان نہ تھا کہ بدلہ چکایا جا رہا ہو، یہ فعل تو بس اللہ کی خوشنودی کے لیے ہے اور وہ عنقریب راضی ہو جائے گا‘‘۔ یہ آیت حضرت ابوبکرؓ کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے حضرت بلالؓ کو آزاد کیا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ابوبکرؓ اور عمرؓ سے زیادہ افضل، متقی اور عدل و انصاف والا کوئی نہیں۔ اگر ابوبکرؓ نہ ہوتے تو اسلام جاتا رہتا۔ انبیا کو چھوڑ کر ابوبکرؓ سے بہتر کسی انسان پر سورج طلوع ہوا ہے نہ غروب۔ ابوبکرؓ غار میں بھی میرے ساتھی تھے اور حوضِ کوثر پر بھی میرے ساتھی ہوں گے۔

حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا: ابوبکرؓ مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ مہکدار تھے۔ حضرت علی المرتضٰیؓ نے فرمایا: نبی کریمؐ کے بعد سب سے افضل ابوبکرؓ ہیں، پھر عمرؓ۔ 

باب دوم: عہدِ جاہلیت و قبولِ اسلام (مکی زندگی)

قبل از اسلام حالات

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جس ماحول میں آنکھیں کھولیں وہ کفر و شرک کا دور تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ جب ان کی عمر چار سال تھی تو ان کے والد ابو قحافہ انہیں بت خانہ لے گئے اور ایک بڑے بت کو سجدہ کرنے کو کہا۔ ننھے ابوبکر نے بت سے کھانا اور کپڑا مانگا اور پھر اسے پتھر مار کر گرا دیا۔ اس واقعے کے بعد کسی نے انہیں بت پرستی پر مجبور نہیں کیا اور ان کا دامن شرک سے پاک رہا۔

عرب میں لکھنے پڑھنے کا رواج نہ تھا، لیکن حضرت ابوبکرؓ ان چند افراد میں سے تھے جو پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ انہوں نے لڑنے کا طریقہ، ہتھیاروں کا استعمال، شعر گوئی اور تجارت میں مہارت حاصل کی۔ دولت کے باوجود وہ عیش و عشرت اور شراب خوری سے ہمیشہ دور رہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے جاہلیت میں ہی شراب کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے کبھی شراب کیوں نہیں پی تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بدن سے بو آئے اور ان کی اخلاقیات خراب ہوں۔ 

جوان ہو کر انہوں نے کپڑے کی تجارت شروع کی اور جلد ہی مکہ کے کامیاب تاجروں میں شمار ہونے لگے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں وہ تجارت کے سلسلے میں حضورؐ کے ساتھ شام کی طرف گئے، جہاں ایک راہب نے انہیں بتایا کہ ان کے ساتھی محمد بن عبد اللہ نبی ہیں۔ یہ بات ان کے دل میں بیٹھ گئی اور اسی دن سے انہوں نے حضورؐ کی صحبت اختیار کر لی۔ ایک مرتبہ حضرت ابوبکرؓ نے خواب دیکھا کہ چاند آسمان سے نیچے اتر کر مکہ میں وارد ہوا اور پورا شہر اس نور سے منور ہو گیا۔ تعبیر بتانے والے نے کہا کہ وہ اس نبی کی پیروی کریں گے جس کا انتظار کیا جا رہا ہے اور ان کے پیروؤں میں سب سے افضل ہوں گے۔ ایک دوسرے سفر میں جب وہ شام گئے تو ایک راہب نے ان کے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ تمہاری قوم میں ایک عظیم الشان رسول مبعوث ہوں گے، تم ان کی زندگی میں ان کے وزیر اور وفات کے بعد ان کے خلیفہ ہو گے۔

قبولِ اسلام اور ما بعد

حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ایمان لانے کے بارے میں متعدد واقعات ملتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق بعثت سے بیس سال پہلے انہوں نے خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر ایک راہب نے یہ بتائی کہ مکہ میں ایک پیغمبر ظاہر ہوں گے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے بغیر کسی پس و پیش کے قبول کر لیا اور آزاد بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے کہلائے۔ امام جلال الدین سیوطیؒ کے مطابق امام اعظم ابوحنیفہؒ کی رائے ہے کہ مردوں میں سب سے پہلے اسلام حضرت ابوبکر صدیقؓ نے قبول کیا، عورتوں میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ الکبرٰیؓ نے، اور بچوں میں سب سے پہلے حضرت علی المرتضٰیؓ نے۔ اس لحاظ سے حضرت ابوبکر صدیقؓ اول المسلمین کہلائے۔ حضرت علی المرتضٰیؓ نے فرمایا کہ ابوبکرؓ کو چار باتوں میں فوقیت حاصل تھی: اسلام کا اعلان کرنے میں، ہجرت میں پہل کرنے میں، غار میں حضورؐ کے ساتھ ہونے میں، اور علانیہ نماز پڑھنے میں۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ مسلمان ہونے کے بعد اپنے پرانے رفیقوں اور دوستوں کو ہدایت کی راہ اپنانے کی ترغیب دیتے۔ وہ واضح دلائل کے ساتھ حضورؐ کی نبوت کی صداقت پیش کرتے۔ ان کی کوششوں سے درج ذیل حضراتِ صحابہؓ مشرف باسلام ہوئے: عثمان بن عفان، زبیر بن عوام، طلحہ بن عبید اللہ، سعد بن ابی وقاص، عبدالرحمٰن بن عوف، ابوعبیدہ ابن جراح، عثمان بن مظعون، ارقم بن ابو الارقم، ابو سلمہ عبد اللہ بن عبد الاسد رضوان اللہ علیہم اجمعین۔

اعلانِ نبوت کے چوتھے سال جب علانیہ دعوتِ اسلام کا حکم نازل ہوا تو مشرکینِ قریش نے مسلمانوں پر بے تحاشا ظلم ڈھانا شروع کر دیے۔ حضرت ابوبکرؓ نے بے دریغ مال خرچ کر کے متعدد مظلوم غلاموں اور لونڈیوں کو ان کے سنگدل آقاؤں سے خرید کر آزاد کروایا، جن میں یہ شامل تھے: بلال ابن رباح جو کہ امیہ بن خلف کے غلام تھے، ام عبیس، عامر بن فہیرہ،۔ نہدیہ اور ان کی بیٹی، ابو فکیہ یسار، لبینہ، زنیرہ الرومیہ اور دیگر (رضی اللہ عنہم)۔ جب مشرکین نے کہا کہ ضرور بلالؓ کا کوئی احسان ابوبکرؓ پر ہو گا جس کا بدلہ وہ ادا کر رہے ہیں، تو اللہ نے سورہ اللیل کی آیت نازل فرمائی: اس پر کسی کا احسان نہ تھا کہ بدلہ چکایا جا رہا ہو، یہ فعل تو بس اللہ کی خوشنودی کے لیے ہے۔

ابتدائے اسلام میں حضرت ابوبکرؓ بار بار حضورؐ سے برملا اظہارِ ایمان کرنے کا اصرار کرتے رہے۔ بالآخر رسول اکرم نے انہیں اجازت دے دی تو انہوں نے کھڑے ہو کر اسلام کی دعوت پر مبنی ایک فصیح خطبہ پڑھا جس پر مشرکین ان پر اور دیگر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور بری طرح مارنے لگے۔ عتبہ بن ربیعہ نے اتنا مارا کہ خون کی کثرت سے ان کی ناک چہرے پر پہچانی نہیں جا رہی تھی۔ جب قبیلہ بنو تمیم کے لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ مدد کو پہنچے اور انہیں گھر لے گئے۔ جب ہوش آیا تو حضرت ابوبکرؓ نے پہلا جملہ یہ کہا: ’’رسول اکرم کا کیا ہوا؟ وہ کیسے ہیں؟‘‘ جب انہیں معلوم ہوا کہ حضورؐ بالکل صحیح ہیں تو فرمایا: ’’میں نے اللہ سے عہد کر لیا ہے کہ جب تک محمدؐ کی خدمت میں حاضر نہ ہو جاؤں، نہ کچھ کھاؤں گا نہ کچھ پیوں گا۔‘‘ بالآخر وہ حضورؐ کی خدمت میں لائے گئے، آپؐ نے انہیں دیکھتے ہی جھک کر بوسہ دیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ میری ماں ہے، آپ انہیں اللہ کی طرف دعوت دیں۔‘‘ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ان کی والدہ مشرف باسلام ہو گئیں۔

جب مسلمانوں پر اہلِ مکہ کے ظلم و ستم حد سے بڑھ گئے تو حضرت ابوبکرؓ نے بھی حبشہ کا قصد کیا۔ برک الغماد کے مقام پر پہنچے تو قبیلہ قارہ کے سردار مالک بن دغنہ راستے میں ملے، انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کو واپس آنے پر آمادہ کیا اور اپنی پناہ میں لے لیا۔ کفار نے اس شرط پر اتفاق کیا کہ وہ اپنے گھر میں چھپ کر قرآن پڑھیں گے۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ نے گھر کے باہر صحن میں ایک مسجد بنا لی اور بلند آواز سے قرآن پڑھنے لگے۔ کفار نے ابن دغنہ سے شکایت کی۔ ابن دغنہ نے کہا کہ آپ گھر میں قرآن پڑھیں ورنہ میں پناہ واپس لیتا ہوں۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ تم اپنی پناہ سے الگ ہو جاؤ، مجھے اللہ کی پناہ کافی ہے۔

جب نبی کریم نے واقعہ معراج بیان فرمایا تو کفار نے تکذیب کی۔ ابوجہل حضرت ابوبکرؓ کے پاس آیا اور کہا کہ اپنے ساتھی کو دیکھیے کہ وہ کیا کہتا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضورؐ سے پوچھا: کیا آپ نے فرمایا ہے کہ رات آپ کو آسمانوں پر لے جایا گیا ہے؟ حضورؐ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: آپؐ نے سچ فرمایا، میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں، اگر آپ فرمائیں کہ ساتوں آسمانوں سے بھی آگے نکل گئے تو بھی میں تصدیق کرتا ہوں۔ اس موقع پر وہ ’’صدیق‘‘ کے لقب سے ملقب ہوئے۔

نبوت کے آٹھویں سال سورہ روم نازل ہوئی جس میں پیشگوئی کی گئی کہ رومی چند سالوں میں غالب آ جائیں گے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ابی بن خلف کے ساتھ شرط لگائی کہ اگر مقررہ مدت میں رومیوں کو غلبہ حاصل ہوا تو وہ اونٹ وصول کریں گے، ورنہ اونٹ دیں گے۔ بعد میں حضورؐ کے مشورے سے مدت اور اونٹوں کی تعداد بڑھا دی گئی۔ جب رومیوں کی فتح کی خبر آئی تو شرط کے مطابق اونٹ لیے گئے۔

حضرت خدیجۃ الکبریٰ کی وفات کے بعد حضورؐ پریشان رہنے لگے۔ خویلہ بنت حکیمؓ نے خدمتِ اقدس میں عرض کیا تو حضورؐ نے حضرت عائشہ بنت ابی بکرؓ اور سودہ بنت زمعہؓ کا نام لیا۔ خویلہؓ جب حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئیں اور حضرت عائشہؓ کا رشتہ مانگا تو حضرت ابوبکرؓ کے ذہن میں یہ تھا کہ وہ حضورؐ کے ساتھ عقدِ اخوت میں منسلک ہیں۔ حضورؓ نے فرمایا کہ یہ اخوتِ اسلامی ہے، نسبی یا رضاعی نہیں۔ نکاح کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر چھ سال تھی۔ رخصتی ہجرت کے پہلے سال ہوئی جب ان کی عمر نو سال تھی۔

حضرت ابوبکرؓ کو نماز اور ذکرِ الٰہی سے بے حد شغف تھا۔ وہ اس انہماک سے نماز پڑھتے اور تلاوت کرتے کہ قریش کے بیوی بچے متاثر ہو کر ان کے گرد جمع ہو جاتے۔ اس سے قریش کو اندیشہ ہوا کہ کہیں ان کے متعلقین اپنے آبائی دین سے منحرف نہ ہو جائیں۔ چنانچہ وہ انہیں نماز پڑھنے سے روکتے اور اذیت پہنچاتے۔ صحیح بخاری میں ہے، ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط نے آپ کی گردن میں چادر ڈال کر بل دینا شروع کر دی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ آ پہنچے اور انہوں نے دھکا دے کر عقبہ کو پیچھے ہٹا دیا۔ مشرکین نے حضرت ابوبکرؓ کو مار مار کر لہولہان کر دیا۔ حضرت علی المرتضٰیؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ مشرکین نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے لڑائی کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے نرغے سے نکال لیا۔

(جاری)

سیرت و تاریخ

اقساط

(الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۵

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۱)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۲)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۵)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۶)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

فقہِ اسلامی کا تعارف و تاریخ
ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی

حنفی اصولی منہج (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ائمہ اہل بیت کے فقہی اجتہادات اور فقہ جعفری
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۲)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۵)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۴)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

عمرِ اولؓ اور عمرِ ثانیؒ کا طرزِ حکومت
علامہ رضا ثاقب مصطفائی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۲)
محمد سراج اسرار

قیامِ پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۴)
پروفیسر خورشید احمد

نظریۂ اسلام، نظریۂ پاکستان، دو قومی نظریہ
ڈاکٹر سعید احمد سعیدی

مسجد الاقصیٰ اور امتِ مسلمہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

القدس کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے نام خط
سنیٹر مشتاق احمد خان

ایران پر چالیس روزہ امریکی اسرائیلی جارحیت اور پندرہ روزہ جنگ بندی
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Our Destiny: America, Russia, China, or the Muslim World?
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سید محمد نقیب العطاس کی وفات: اسلامی فکر کے ایک عہد کا خاتمہ
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

حاجی عثمان عمر ہاشمیؒ کا سانحہ ارتحال
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مولانا محمد اسامہ قاسم

مطبوعات

شماریات

Flag Counter