قیامِ پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۴)

سید اکرام الحسن: السلام علیکم سر۔ میرا نام سید اکرام الحسن، میں آئی پی ایس کے ساتھ یوتھ کی ٹریننگ میں شامل ہوں۔ سر میرا سوال یہ ہے کہ ۱۹۹۵ء میں جب میں نے گورنمنٹ جوائن کی تو میں [مشن] لے کر چلا تھا کہ میں صادق اور امین رہوں گا اور اسی کو فروغ دوں گا، لیکن پندرہ سال تک کوشش کرتا رہا، اس صداقت اور امانت سے … گورننس کا مسئلہ ہے، لوگوں کا مسئلہ ہے، ویلیو سسٹم کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ یہی ایک چیز ہے جو ہماری گورننس کو ٹھیک کر سکتی ہے کہ ہم اپنے لیول پہ صادق اور امین ہو جائیں۔ my question is how to sell it, thanks

پروفیسر خورشید احمد: دیکھیے میرے عزیز، پہلی بات تو یہ ہے کہ صادق و امین ہونا کوئی آپشن نہیں ہے۔ یہ ہمارے اچھا انسان ہونے کا لازمی [حصہ] ہے۔ آپ مجھے بتائیے کہ اگر آپ کسی کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں تو کیا آپ یہ توقع نہیں کرتے کہ جو معاملہ آپ کر رہے ہیں یہ معاملہ فیئر رہے، یہ دھوکہ نہیں ہے۔ آپ کسی کو قرض دیتے ہیں، کسی سے قرض لیتے ہیں، جس مقام پر آپ کام کر رہے ہیں آپ کا وقت آپ کس طرح آپ استعمال کر رہے ہیں۔ یعنی صادق اور امین ہونا تو انسان کا شرف ہے اور انسان کی ضرورت ہے۔ اور اگر یہ نہیں ہے تو خلا ہے ہماری زندگی میں۔ مسلمان اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں ہے اس کے اندر۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے پہلے بھی صادق اور امین تھے۔ اور ان کا صدق اور امین اس معیار کا تھا کہ جس کی بنا پر، جنہوں نے ان کا انکار کیا انہوں نے بھی کہا کہ صادق آپ ہی ہیں، اور امانتیں انہی کے پاس رکھیں۔ اور ان کی دیانت کا بھی یہ حال تھا کہ جب ہجرت کی تو آخری کام یہ کیا کہ جو امانتیں ان کے پاس تھیں وہ حضرت کرم اللہ وجہہ کے سپرد کیں کہ یہ فلاں فلاں کی امانت ہے ان کو واپس کر دیں۔ یہ تو معیار ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ صداقت اور امانت جو ہے، ایک بات اور بھی کہہ دوں، یعنی صداقت اور امانت جو ہے وہ محض [سیاست ہی] کے لیے نہیں ہے، یعنی شوہر اور بیوی کے درمیان، باپ بیٹے کے درمیان، آقا اور غلام کے درمیان، ملازم کے درمیان، یعنی ہر جگہ ہے یہ۔

سر آئیور جیننگ بڑا مشہور مصنف ہے اور اتھارٹی ہے پولیٹیکل سائنس کے اوپر، تو اس کی جو کتاب ہے Cabinet Government، تو اس میں اس نے یہ کہا ہے کہ برطانوی نظام میں ایک منسٹر کے لیے عالم اور ماہر ہونا ضروری نہیں ہے، وہ اہلِ علم اور ماہرین سے مدد لے سکتا ہے، لیکن اس کے لیے integrity ضروری ہے۔ اب یہ انٹیگریٹی کیا ہے؟ صداقت اور امانت ہے۔ اور اگر انٹیگریٹی نہیں ہے تو پھر وہ لیڈرشپ کے لائق نہیں۔ تو یہ دراصل ایک عالمی ضرورت ہے۔ ہماری بھی ضرورت ہے اور اس پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ sell (محض کہنے سے) نہیں ہوتی۔ یہ اپنے جذبے سے کی جاتی ہے، اور اس کے بعد پھر اچھی مثالوں سے، اس کے بعد پھر رولز اینڈ ریگولیشنز فریم ورک سے، اداروں سے، احتساب سے، قانون کی تنفیذ سے، یہ سب چیزیں مل کر کے اس کے اندر اپنا اپنا رول ادا کرتی ہیں۔ اور ہمارا معاملہ یہی ہے کہ ہمارے ہاں اس وقت نظریاتی انتشار ہے، اخلاقی بگاڑ ہے، institutional collapse (ادارہ جاتی زوال) ہے، احتساب کا نظام نہیں ہے، تو ان سب کی وجہ سے یہ چیزیں ہیں۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ ہم مایوس ہو جائیں، کوشش جاری رکھیے، اپنی مثال بہتر قائم کیجیے، اور آپ دیکھیں کہ ان شاء اللہ اس کے اثرات رونما ہوں گے۔

میں صرف ایک مثال آپ کو دیتا ہوں کہ جب (1978ء میں) پلاننگ کمیشن کا چارج میں نے سنبھالا تو آنے کے بعد میں نے یہ دیکھا کہ یہی سب معاملات ہوتے ہیں۔ تو پہلا کام میں نے یہ کیا کہ میں نے کہا کہ آپ ہر اہم فیصلے کے لیے پراسیس بنائیں، رولز بنائیں۔ ان رولز کے تحت جس کی جو بھی ذمہ داری ہو، یا جو بھی اس کو فائدہ پہنچتا ہو وہ پہنچنا چاہیے۔ جہاں ضابطوں سے آپ ہٹیں اور جواز تلاش کریں، وہاں آپ میرے پاس آئیں۔ اتفاق کی بات یہ ہوئی کہ ان ضابطوں کی تنفیذ میں سب سے پہلا جو بینیفشری تھا وہ ایک قادیانی تھا۔ میرے پاس سیکرٹری آیا تو میں نے کہا کہ آپ کو میرے پاس نہیں آنا چاہیے تھا، اس لیے کہ وہ قادیانی ہو، کرسچئن ہو، مسلمان ہو، وہ ہمارے دفتر میں ملازم ہے، اس کا حق ہے۔ اور اگر ان رولز کے مطابق اس کا فائدہ ہوتا ہے، اس نے جاپان جانا ہے، اس کو جاپان بھیجا گیا۔ تو ایک مرتبہ اگر آپ یہ مثال قائم کرنی شروع کر دیں تو اس سے ان شاء اللہ پھر حالات بدلتے ہیں۔ تو یہ چیز sell نہیں ہوتی ہے، لیکن یہ ہے کہ خود کرنا، مثال قائم کرنا، اور وہ نظام بنانا جس سے کہ یہ جاری رہ سکے۔

عمار محبوب: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ عمار محبوب نام ہے۔ میرا سوال یہ تھا کہ دو قومی نظریہ کے حوالے سے آپ نے بات کی، قومیت کا تصور جو ہے، اس کو تھوڑا سا سمجھنا چاہیں گے کہ ہم اس میں بیلنس کیسے رکھ سکتے ہیں؟ خود اقبال نے بھی اس پہ کافی نقد کیا ہے، ’’تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے‘‘، وہ شعر بھی آپ کے ذہن میں ہو گا۔ اس کے علاوہ خود مولانا نے بھی اسلامی ریاست کی بنیاد جو بتائی ہے اس میں ساورنٹی کے بعد جو دوسرا نکتہ ہے وہ یہ ہے کہ قومیت کا خاتمہ۔ تو ہم بحیثیت، مطلب جو آج یومِ پاکستان ہم لوگ منا رہے ہیں، تو ایک پاکستانیت کا نعرہ ہے، ایک ایرانی کا نعرہ ہے، ایک افغانی کا نعرہ ہے، تو اگر اس نعرے کو ہم پروان چڑھاتے ہیں، تو ایک امت کا تصور، تو اس میں توازن کیسے ہو سکتا ہے؟

پروفیسر خورشید احمد: بہت اہم سوال ہے آپ کا بیٹے۔ جزاک اللہ خیر۔ دیکھیے، مولانا مودودیؒ ہوں، اقبالؒ ہوں، یا اور دوسرے مفکرین ہوں، انہوں نے جو بات کہی وہ یہ ہے کہ اگر قومیت کی بنیاد territory (علاقہ) پر ہو، جس کے معنی یہ ہیں کہ my country right or wrong، یہ اسلام کی بنیادوں سے ٹکراتا ہے اور اس بنیاد پر بننے والی قومیت فساد کا ذریعہ ہے، اس سے خیر رونما نہیں ہو گا۔ اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور تناظر میں لیکن اسی بات کو اتنی خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ اس کی نظیر نہیں ہو سکتی۔ عربوں میں ایک محاورہ تھا کہ ’’میرا بھائی درست ہو یا نادرست، مجھے اپنے بھائی کا ساتھ دینا ہے، اپنے قبیلے کا ساتھ دینا ہے، چاہے وہ حق پر ہو یا ناحق پر ہو‘‘۔ تو حضورؐ نے بھی ایک مرتبہ یہ کہا کہ اپنے بھائی کا ساتھ دو خواہ وہ حق پر ہو یا ناحق پر۔ تو صحابہؓ چونک گئے۔ ان کی تربیت ایسی تھی کہ وہ یہ کہتے تھے کہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا اسلام کے اندر۔ تو انہوں نے پوچھا، حضور! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو حکمت سامنے آئی کہ حضورؐ نے ایسا کیوں کہا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ حق پر ہے تو ساتھ دے کر، اگر ناحق پر ہے تو وہاں سے روک کر۔

تو یہ ہے وہ قومیت کا تصور جس کو ہم نے ضرب لگائی ہے۔ لیکن آپ کی بات بہت صحیح ہے کہ territories چاہیے ہوتی ہیں۔ ہمیں بھی territory کا مسئلہ ہے۔ تو پھر ان کے درمیان مطابقت کیسے ہو؟ اور احادیث میں بھی یہ آتا ہے کہ اپنے وطن سے، اپنی پیدائش کی زمین سے ایک انس اور تعلق جو ہے وہ فطری چیز ہے۔ اور مکہ اور بیت اللہ تو خیر ایسا تھا کہ اس کے لیے انسان تڑپے ہی۔ لیکن چونکہ وہ وطن بھی تھا تو اس لیے مدینے میں بھی صحابہؓ اور حضورؐ شوق سے اس کی طرف دیکھا کرتے تھے۔ تو ان کو reconcile (مطابقت) کیسے کیا جائے؟ یہ بات آپ کی بہت صحیح ہے۔ تو اسی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اسلام یہ کہتا ہے کہ قومیت کی بنیاد تو نظریے پر ہے اور اس میں اسلام کو اپنا دین ماننے والے ایک امت ہیں، خواہ ان کی زبان کوئی بھی ہو، ان کی نسل کوئی بھی ہو، ان کا وطن کوئی بھی ہو، وہ کہیں پر بھی رہ رہے ہوں، ان کا رنگ کیسا ہی ہو۔ اور اس کی بھی بنیادی وجہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اگر اللہ کا خلیفہ ہے، تو جس بنیاد پر انسان کو اپنی زندگی کا مقصد اور زندگی کی روش طے کرنی چاہیے، وہ وہ ہونی چاہیے جو ہر ایک کے لیے ممکن ہو۔ رنگ آپ اپنا نہیں بدل سکتے۔ زبان شاید بدل سکیں لیکن پھر بھی فرق رہتا ہے۔ نسل میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی، خون جو ہے وہ اپنا خون ہی ہے۔ زمین بدل سکتی ہے آپ کی، ہجرت کر سکتے ہیں۔ اسلام نے عقیدے کو رکھا تاکہ ہر نسل، ہر مقام، ہر زبان کے بولنے والوں کے لیے یہ راستہ/آسان ہو اور سب اس میں آسکیں اور سب اس میں آن کر کے ایک بن جائیں۔

لیکن خوبی اس کی یہ تھی کہ اس نے سب کو ایک بنانے کے بعد ورائٹی کو ختم نہیں کیا، تنوع کو ختم نہیں کیا، زبان کی نفی نہیں کی، نسل کی نفی نہیں کی، رنگ کی نفی نہیں کی، بلکہ یہ کہا گیا کہ یہ سب ہم نے اس لیے بنایا ’’لتعارفوا‘‘۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ تمہارے سامنے زندگی گزارنے اور فیصلے کرنے کا جو معیار ہے، وہ اخلاق اور اصول ہونا چاہیے: ’’ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم‘‘ (الحجرات ۱۳)۔ اور یہ بھی بتا دیا کہ تمہاری اصل ایک ہی ہے۔ اختلاف جو ہے وہ ایک حقیقت ہے۔ تو اختلاف کو تسلیم کرنا، اختلاف کو برداشت کرنا، لیکن اختلاف کو ایک نظام کے تحت لے آنا۔ تو جب ہم تصورِ قومیت دیتے ہیں تو اس سے باقی لوگوں کی نفی نہیں کرتے۔ ہم ان کو صرف cut to size کہ انہیں کسی جگہ ہونا چاہیے۔

اب اس تناظر میں وطن کا بھی ایک حق ہے اور وطن سے محبت ایک فطری چیز ہے۔ اور میثاقِ مدینہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے وہ ماڈل بھی رکھ دیا کہ جس میں ایک سے زیادہ قومیں، ایک سے زیادہ قسم کے لوگ مل کر کے ایک ریاست بنا سکیں۔ اگر آپ اس کا مطالعہ کریں تو 88 اس کی شقیں ہیں، جن میں سے 44 کا تعلق مسلمان امت سے ہے اور 44 کا تعلق دوسرے قبائل سے ہے۔ اور ان میں بڑی وضاحت سے یہ موجود ہے کہ تمہاری شناخت، تمہارا مذہب، تمہاری روایات، ان کو تحفظ حاصل ہے، لیکن اس پورے نظام کا جو سربراہ ہو گا وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے، وہ آخری اتھارٹی ہوں گے، اور سیاسی بالادستی اور فیصلہ کن حیثیت انہیں حاصل ہو گی۔

تو آپ دیکھیے کہ ایک فریم ورک بنا دیا جس کے اندر ان سب کو قبول کر لیا۔ اور یہی ہماری پوری تاریخ ہے کہ اس میں یہودی، عیسائی، ہندو، بدھ، اللہ کو نہ ماننے والے، سب موجود رہے ہیں۔ ان کو ان کے حقوق دیے گئے، ان کے لیے ایک space دی گئی۔ اور اسی کی مناسبت سے ان کی ذمہ داریاں بھی۔ اور عالمی سطح پر بھی یہ ایک misformulation (تشریح) ہے کہ ہمارے فقہاء نے انٹرنیشنل لاء میں صرف دارالحرب اور دارالاسلام کی تقسیم کی ہے۔ بلاشبہ دارالحرب اور دارالاسلام ایک بنیادی تقسیم ہے۔ اور اگر کسی ملک سے آپ برسرجنگ ہیں تو آپ برسرِ جنگ ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ دو اور کیٹیگریز بھی بڑی وضاحت سے ہمارے انٹرنیشنل لاء کے اندر ہیں: 

  • دارالامن، کہ جن سے آپ جنگ نہیں کر رہے، وہ غیر مسلم ہیں۔ 
  • اور درالعہد، کہ وہ غیر مسلم جن سے آپ کا کوئی معاہدہ ہو، کوئی آپ کی انڈرسٹینڈنگ ہو، تو اس میں آپ کی انڈرسٹینڈنگ اور جو معاہدہ ہو جائے اس فریم ورک میں کام کیا جاتا ہے۔ اور تاریخ شاہد ہے اس بات کے اوپر کہ حبشہ میں عیسائیوں کی اکثریت رہی اور حکومت رہی لیکن مسلمانوں نے کبھی اس پہ حملہ نہیں کیا۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ فریم ورک ہے۔

تو اس کی روشنی میں آج کے دور میں آج کے حالات کے مطابق، ہمیں اس کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ہماری نظریاتی اساس اسلامی قومیت ہے، لیکن جس ریاست میں ہیں، جس کی physical sovereignty (جغرافیائی خودمختاری) میں ہم رہ رہے ہیں، اس میں ایک سے زیادہ قومیں اگر ہیں، تو ان قوموں کا بھی اتنا ہی حق ہے، اپنے وجود کا، اپنے تحفظ کا، ان کے ہیومن رائٹس، قانون کے سامنے ان کی برابری، اور مشترک قومی مفاد میں مل کر کے کام کرنا۔ تو یہ ہے وہ ماڈل۔ تو اسی کو سامنے رکھ کر کے علماء نے 1951ء میں جو اسلامی ریاست کے 22 اصول مرتب کیے۔ ان کو آپ پڑھیں۔ یہ پہلی کوشش ہے دورِ حاضر میں کہ جس میں مسلمان علماء نے یہ بتایا کہ آج کے دور میں ہم کس طرح اس نظریے کو ایک physical territory (جغرافیائی حدود / ریاست) کے اندر قبول کریں گے۔ اور اسی کی روشنی میں پھر ’’قراردادِ مقاصد‘‘ پاس ہوئی اور پاکستان کا دستور بنا۔ تو پاکستان کا دستور ہم لوگوں کو فریم ورک دیتا ہے جس کے اندر سب کے لیے رہنے کا پورا پورا امکان موجود ہے۔ اور ہمارے لیے بھی نہ صرف رہنے کا بلکہ یہ سہولت دینے کا کہ ہم اکثریت کو اسلامی زندگی کا فروغ کر سکیں۔ لیکن کسی پر مسلط کرنا یا کسی کے پاؤں پر پاؤں رکھنا، یہ بہرحال …

اور اس کے باوجود بھی یہ خواہش ہماری رہے گی کہ مسلمان ممالک آپس میں ملیں اور قریب آئیں۔ اور پاکستان کے دستور میں بھی آرٹیکل 41 اس اصول کو پیش کرتا ہے کہ تمام مسلمان ملکوں سے ہمارے خاص تعلقات ہوں گے۔ اور زیادہ سے زیادہ اسلامی اتحاد اور اسلامی تعاون کے لیے ہم کوشش کریں گے۔ اقبالؒ نے ری کنسٹرکشن میں بڑے خوبصورتی سے اس بات کو لیا اور یہ کہا ہے کہ آئیڈیل چاہے خلافت ہو (ایک حکومت) لیکن موجودہ دور میں what I foresee is, a common wealth of muslim states۔ او آئی سی (oic) تک لے جانے کا ہمارا خواب جو تھا وہ بھی اسی کا ایک حصہ رہا ہے کہ شاید یہ اس کے لیے ایک stepping stone (ذریعہ) بن سکے۔ تو جدید ریاست کو سامنے رکھتے ہوئے، یعنی ریاست کا ایک نظریاتی وجود، اس کے اندر اکثریت کو اپنے دین کے مطابق اپنا راستہ نکالنے کا، لیکن باقی سب کا اپنے تشخص کی حفاظت اور اس کے مطابق آگے بڑھنا۔

اور یہ بھی میں آپ کو بتا دوں کہ اسلامی تاریخ میں، یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے کہ گو پہلی لہر جو ہے مصر تک، وہ اسلامائزیشن اور عربنائزیشن ساتھ ساتھ تھے، لیکن ایران اور اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ زبان، مقامی کلچر، مقامی روایات، ان سب کو باقی رکھنے کا پورا پورا اہتمام کیا گیا۔ اور کوئی مثال ایسی نہیں ملتی ہے کہ علاقائی زبانوں کو دبایا گیا ہو، حوصلہ شکنی کی گئی ہو۔ یا علاقائی لوگوں کو ان کے حقوق نہ دیے گئے ہوں، یا ان کو شمولیت کے مواقع نہ دیے گئے ہوں۔ خلافتِ عثمانیہ میں کم از کم سات پرائم منسٹر ایسے ہیں جو بوسنیا ہرزیگوینا علاقے کے تھے۔ یعنیاحساسِ شمولیت سب کو ملتا ہے لیکن ساتھ ساتھ ان کو خودمختاری بھی ملتی ہے۔ اور بالعموم جو والی بنائے جاتے تھے، گورنر بنائے جاتے تھے، وہ باہر سے نہیں بھیجے جاتے تھے بلکہ وہیں سے بنائے جاتے تھے۔ تو دوسری طرف ایک اتحاد اور اس اتحاد کے فریم ورک میں pluralism (تنوع/اجتماعیت) اور دوسروں کے coexist (بقائے باہمی) کے مواقع فراہم کرنا۔ یہ ہے ہمارا فریم ورک۔

ندیم صاحب: سر ایک سوال خواتین کی جانب سے آیا ہے کہ ہماری معاشیات کی پاکستان کی موجودہ جو صورتحال ہے، وہ کس طرح سے …؟

پروفیسر خورشید احمد: دیکھیے، میرا خیال یہ ہے کہ یہ ساڑھے تین سال، پچھلے پانچ سال سے تو نسبتاً‌ بہتر رہے، لیکن جو انہوں نے اپنے منشور میں وعدے کیے تھے، اور جو امکانات تھے، بدقسمتی سے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ اور بڑے جو مسائل ہیں اور جنہیں یہ ایڈریس نہیں کر سکے صحیح، اس میں سب سے اہم انرجی کا مسئلہ ہے۔ ان کا وعدہ تھا کہ ہم ایک منسٹری بنائیں گے انرجی کی، اور تمام شعبے جو اس سے متعلق ہیں، واٹر، پاور، ان سب کو ایک جگہ لائیں گے۔ اور یہ بہت ضروری تھا لیکن نہیں کیا۔ اسی طرح split ہے، پانچ پانچ ڈیپارٹمنٹ ہینڈل کر رہے ہیں۔ پھر غلط پراجیکٹس، کرپشن، مناسب نگرانی کا نہ ہونا، نتیجہ یہ ہے کہ جو بحران آپ کو تین سال میں قابو کرنا تھا اسے آپ پانچ سال میں بھی کرتے مجھے نظر نہیں آ رہے۔ اور اس کی وجہ سے پوری معیشت اور عام زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

دوسری چیز یہ ہے کہ ملک میں مالیاتی پھیلاؤ اور حقیقی پیداوار (یعنی حقیقی معیشت کی نمو) کے درمیان نہایت نازک تعلق ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر یہ تعلق منقطع ہو چکا ہے۔ ہمارا بھی یہی حال ہے۔ ہمارے ہاں مالیاتی پھیلاؤ تو ہوا ہے، آپ اپنے سٹاک ایکسچینج کو دیکھیں تو وہ آسمان سے باتیں کر رہا ہے لیکن برآمدات کا جائزہ لیں تو وہ مسلسل سکڑ رہی ہیں۔ درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے؛ یہاں تک کہ برآمدات اب درآمدات کے مقابلے میں تقریباً پچاس فیصد رہ گئی ہیں۔ مزید یہ کہ زراعت اور صنعت، ان کے جو بنیادی پیداواری شعبے ہیں، وہ نہیں ابھر پا رہے ہیں۔ تو یہ بنیادی مسائل ہیں۔

اسی طریقے سے قرض، اندرونی بھی اور بیرونی بھی، یہ آسان راستہ لے کر آپ وقت گزار رہے ہیں لیکن اپنا مستقبل گروی رکھ رہے ہیں … تو اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ بڑی غیر متوازن اور ناقص حکمت عملی ہے۔ بحیثیت مجموعی معمولی بہتری ہے، یا قرضوں کا جتنا اندراج ہو رہا تھا اس میں کمی کے باوجود معیشت نہ میری نگاہ میں نہ خود انحصاری کی طرف گئی ہے اور نہ نمایاں نمو کی طرف جا رہی ہے۔ اس پہلو سے میں حالات سے خاصا غیر مطمئن ہوں۔ اور میرا خیال یہ ہے اس معاملے میں آئی پی ایس نے جو سیمینارز کیے ہیں، اور خاص طور پر جو ان کے بجٹس پر کامنٹس ہیں، ان کو اگر آپ دیکھیں تو اس میں آپ کو صاف نظر آئے گا کہ مثبت اور منفی کیا ہے، اور منفی کا پلہ خاصا بھاری ہے۔

https://youtu.be/edQgfHeyTp8

(مکمل)

مشاہدات و تاثرات
سوال و جواب

اقساط

(الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۵

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۱)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۲)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۵)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۶)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

فقہِ اسلامی کا تعارف و تاریخ
ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی

حنفی اصولی منہج (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ائمہ اہل بیت کے فقہی اجتہادات اور فقہ جعفری
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۲)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۵)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۴)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

عمرِ اولؓ اور عمرِ ثانیؒ کا طرزِ حکومت
علامہ رضا ثاقب مصطفائی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۲)
محمد سراج اسرار

قیامِ پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۴)
پروفیسر خورشید احمد

نظریۂ اسلام، نظریۂ پاکستان، دو قومی نظریہ
ڈاکٹر سعید احمد سعیدی

مسجد الاقصیٰ اور امتِ مسلمہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

القدس کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے نام خط
سنیٹر مشتاق احمد خان

ایران پر چالیس روزہ امریکی اسرائیلی جارحیت اور پندرہ روزہ جنگ بندی
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Our Destiny: America, Russia, China, or the Muslim World?
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سید محمد نقیب العطاس کی وفات: اسلامی فکر کے ایک عہد کا خاتمہ
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

حاجی عثمان عمر ہاشمیؒ کا سانحہ ارتحال
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مولانا محمد اسامہ قاسم

مطبوعات

شماریات

Flag Counter