بحثِ دوم: اس مقالے کے خصوصی مباحث
یہ تو پہلی بحث تھی کہ اِس موضوع کو کیوں منتخب کیا گیا۔ دوسری بحث یہ ہے کہ اس مقالے کے خصوصی مباحث، یعنی اس مقالے میں وہ کون سی باتیں ہیں جن کو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ مقالہ نگار کی ریسرچ ہے، یعنی جن کی ترتیب و تدوین کو مقالہ نگار کی دریافت کہا جا سکتا ہے۔ جس طرح پی ایچ ڈی میں ایک ایسا گوشہ ہوتا ہے جس میں پی ایچ ڈی سکالر اپنی ریسرچ پیش کرتا ہے۔ تو اِس مقالے میں وہ کون سی چیزیں ہیں جو ایک پی ایچ ڈی سکالر یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس کی ریسرچ ہے۔ تو اس کا ہم ذکر کریں گے۔
- اس میں پہلی چیز دورِ رسالتؐ و دورِ صحابہؓ و تابعینؒ میں مشکلات القرآن کی انواع اور اس کا ارتقاء۔ یہ جو مشکلات القرآن کی کتب پیچھے ذکر ہوئی ہیں اس میں بھی دورِ رسالتؐ اور دورِ صحابہؓ کی جو مشکلات القرآن ہیں اُن کی کچھ چیزوں کا ذکر ہے، لیکن اُس کو ایک تو انواع کی شکل میں، یا اسی طرح اس میں پھر ارتقاء اگلے دور میں کیسے آیا؟ تو اِس مقالے میں ایک تو اس چیز کا ذکر کیا گیا ہے۔
- دوسری چیز، جو سب سے اہم چیز ہے اس مقالے کی، کہ مشکلات القرآن کی انواع کی جامع درجہ بندی۔ تقریباً میں نے اس مقالے میں مشکلات القرآن کو نو (۹) بڑے بڑے دائروں میں تقسیم کیا۔ پھر نو دائروں میں تقسیم کرنے کے بعد ہر ہر ایک کی ذیلی اقسام بنائیں۔ تو ذیلی اقسام سمیت یہ تقریباً اُنچاس (۴۹) انواع بن گئیں، یعنی آپ کہہ سکتے ہیں پچاس کے قریب۔ تو ایک نوع اور بھی مل جائے گی جب آپ لوگوں کے سامنے اس کا ذکر کروں گا، تو ہو سکتا ہے پچاس بن جائیں۔ تو گویا کہ اُنچاس انواع کا اس میں ذکر ہے۔ میں نے جو عبد اللہ بن حمد المنصور کی کتاب کا ذکر کیا، جو عرب دنیا میں بڑی جامع کتاب سمجھی جاتی ہے کہ اس میں مشکلات القرآن کی پندرہ انواع کا ذکر ہے۔ لیکن اِِس کتاب میں، میں نے پچاس کے قریب یعنی اُنچاس انواع کا ذکر کیا ہے، وہ بھی کیف متفق نہیں، ان کو اپنے اپنے دائروں میں تقسیم کیا گیا ہے، جیسے مشکل اللغہ، یا اسی طرح یوں سمجھ لیں مشکل التاویل، مشکل الدلالۃ، جس کا آگے ہم ذکر کریں گے، اور ان کی مثالیں بھی اس میں ذکر کی ہیں۔
- اور تیسری چیز اس میں دورِ جدید میں جو مشکلات القرآن کی انواع ہیں، اور جو مستقبل کے چیلنجز پیش ہو سکتے ہیں، تو اس کا بھی اس میں گویا کہ ذکر کیا ہے۔
دورِ رسالتؐ و صحابہؓ و تابعینؒ میں مشکلات القرآن کی انواع اور ارتقاء
اب اس کے بعد جو پہلی بحث ہے کہ دورِ رسالت اور دورِ صحابہؓ و تابعینؒ میں مشکلات القرآن کی انواع اور اس کا ارتقاء۔
دورِ رسالتؐ و صحابہؓ
دیکھیں، اگر ہم علمِ مشکلات القرآن کے ارتقائی جائزے کو لے لیں تو دورِ رسالتؐ میں ہمیں مشکلات القرآن کی بہت ساری انواع نظر آتی ہیں۔ لیکن وہ انواع اس طرح سے نظر نہیں آتیں کہ اس میں کوئی عنوان ہو گا اور اس کے نیچے نوع ہو گی۔ اس کا ذکر دراصل ہمیں تراث میں صحابہ کرامؓ کے تفسیری سوالات کی شکل میں نظر آتا ہے۔ صحابہ کرامؓ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے جو براہ راست سوالات کیے ہیں، ان سوالات کی بنیاد پر ہمیں خودبخود انواع بنتی نظر آ رہی ہیں کہ اس میں یہ نوع ہے، اس میں یہ نوع ہے۔ تو تقریباً کوئی بارہ کے قریب انواع ہمیں نظر آتی ہیں دورِ رسالتؐ میں۔ آپ اندازہ کریں نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دور میں بھی اگر بارہ انواع ہیں، تو بعد کے ادوار میں اور کتنی انواع اس میں بن سکتی ہیں۔ جب اُس دور میں، جب بہت ہی فتنوں کا زمانہ نہیں تھا، اور نئی تہذیبیں، نئے علوم، اسلامی علوم میں داخل نہیں ہوئے تھے، اور بالکل ایک خالص عربی اسلامی معاشرہ تھا، اس میں بھی قرآن پاک کو سمجھنے کے حوالے سے بارہ قسم کے اشکالات، یا بارہ قسم کی انواع اس دور میں تھیں۔ تو اس سے آپ کو اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس علم کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔
مشکل اللغۃ
اب سب سے پہلی چیز جو ہمیں نظر آتی ہے وہ ہے ’’مشکل اللغۃ‘‘۔ حالانکہ وہ خالص عرب تھے لیکن انہیں بھی لغت کے حوالے سے مسائل ہو جاتے تھے۔ جیسے کہ صحابہ کرامؓ کے بعض سوالات جو ہیں، وہ قرآنی تعبیرات کی لغوی اور مرادی تحقیق سے متعلق ہیں، جنہیں ہم مشکل اللغۃ کی کیٹیگری میں رکھ سکتے ہیں۔ مثلاً اس کے لیے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وہ مشہور حدیث ہے جو بخاری شریف میں آپ سب ما شاء اللہ جانتے ہیں، کہ انہوں نے، جب یہ آیت اتری ’’حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود‘‘۔ اور اب خیطِ ابیض اور خیطِ اسود، انہوں نے اس کو دھاگہ ہی سمجھ لیا اور اپنے تکیے کے نیچے دو دھاگے رکھ لیے۔ حالانکہ ’’الخیط الابیض‘‘ اور ’’الخیط الاسود‘‘ سے مراد دھاگہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک تعبیر تھی، یہ ایک استعارہ تھا، رات کی تاریکی اور دن کی روشنی کے لیے۔
لما نزلت ھذہ الآیۃ وکلوا واشربوا حتیٰ یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود عمدت الی عقالین، احدھما اسود، والآخر ابیض، فجعلت انظر الیھما، فلا یتبین لی الابیض من الاسود، فلما اصبحت غدوت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فاخبرتہ بالذی صنعت، فقال: ان وسادک لعریض انما ذلک بیاض النھار وسواد اللیل
اب ایک خالص عرب جو زبان دان ہے، اس کو بھی قرآن پاک کی بعض لغوی تعبیرات میں مسئلہ ہو رہا ہے۔ تو اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قرآن پاک کی لغوی تعبیرات کتنی دقیق ہیں۔ اور اس کو سمجھنے کے لیے کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ تو گویا کہ مشکل اللغۃ کی کیٹیگری میں یہ چیز آتی ہے۔ اور بہت ساری بھی اس حوالے سے ظاہر ہے آپ کو حدیثیں مل جائیں گی، لیکن مثال کے طور پر یہ ہے۔
مشکل التعارض مع الحدیث
دوسری چیز ہمیں اس دور میں نظر آتی ہے، وہ ہے ’’مشکل التعارض مع الحدیث‘‘، کہ قرآن پاک کی آیتیں، براہ راست نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی باتوں سے ٹکراتی ہوئی صحابہؓ کو نظر آئیں۔ تو گویا کہ یہ ایک مشکلات القرآن کی نوع ہے۔ بخاری شریف میں وہ مشہور حدیث ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی، جب نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان کیا ’’من حوسب یوم القیامۃ، عذب‘‘۔
عن عائشۃ، قالت: ان النبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’من حوسب یوم القیامۃ، عذب‘‘ فقلت: الیس قد قال اللہ عز و جل: {فسوف یحاسب حسابا یسیرا}؟ فقال: لیس ذاک الحساب، انما ذاک العرض، لٰکن من نوقش الحساب یوم القیامۃ یہلک۔
تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ حدیث براہ راست قرآن کی ایک آیت سے ٹکراتی ہوئی محسوس ہوئی۔ تو انہوں نے فورًا سوال کر لیا کہ ’’الیس قد قال اللہ عز و جل، فسوف یحاسب حسابا یسیرا؟‘‘ کہ ایمان والوں کا، نیک لوگوں کا آسان حساب لیا جائے گا۔ اِدھر آپؐ فرماتے ہیں، جس کا بھی حساب لیا گیا وہ جہنم میں جائے گا، اس کو عذاب دیا جائے گا۔ تو آپؐ کا فرمان اور جو آیت ہے وہ آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ تو دیکھیں، مشکل التعارض مع الحدیث، گویا کہ اس سے وہ نوع بنتی ہے۔
مشکل التعارض مع الحس
اسی طرح تیسری نوع ہے ’’مشکل التعارض مع الحس‘‘۔ حس اور عادت، یا جس کو آپ نیچر بھی کہہ سکتے ہیں، اس کے ساتھ بھی ہمیں کچھ نوع نظر آتی ہے، کہ صحابہ کرامؓ کو کسی آیت کا مفہوم حس اور عادت کے خلاف لگا، تو انہوں نے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے براہ راست سوال کیا۔ جیسے مثلاً اس کی مثال یہ ہے کہ قرآن پاک میں آتا ہے ’’الذین یحشرون علیٰ وجوہہم‘‘ کہ جس دن اُن کو اپنے چہروں کے بل اٹھایا جائے گا، یعنی وہ چہروں کے بل چلیں گے، تو اس وقت ایک آدمی نے نبی علیہ السلام سے سوال کیا کہ کافر چہرے کے بل کیسے چلے گا، کیسے اٹھایا جائے گا؟ تو نبی علیہ السلام نے جواب دیا کہ جو اللہ اسے پاؤں پر چلانے پر قادر ہے تو آخرت میں چہرے پر بھی چلانے پر قادر ہے۔
ان رجلا قال: یا نبی اللہ، کیف یحشر الکافر علی وجھہ یوم القیامۃ؟ قال: (الیس الذی امشاہ علی الرجلین فی الدنیا قادرا علی ان یمشیہ علی وجہہ یوم القیامۃ)۔ قال قتادۃ: بلی و عزۃ ربنا۔
تو اب گویا کہ جو قرآن پاک کی یہ آیت ہے ’’یحشرون علیٰ وجوہھم‘‘ انہیں یہ حس اور عادت، جو عادتِ عام ہے، اس کے خلاف لگی کہ عام طور پر تو انسان پاؤں پر چلتے ہیں، چہرے کے بل یا سر کے بل چلنا انتہائی مشکل ہے، تو کیسے وہ چلیں گے اور تسلسل کے ساتھ چلیں گے؟ تو گویا کہ یہ آیت ’’مشکل التعارض مع الحس‘‘ کی مثال ہے۔
مشکل الابہام
اسی طرح ایک ہے ’’مشکل الابہام‘‘۔ اس سے مراد ہے کہ صحابہ کرامؓ کے بعض سوالات ایسے تھے، جو کسی مبہم مقام یا شخصیت کی تعیین کے بارے میں وہ سوال کرتے تھے، کہ قرآن پاک نے کسی چیز کو مبہم رکھا ہے، تو اس کا سوال۔ جیسے وہ مشہور حدیث ہے کہ وہ دو آدمی لڑ رہے تھے کہ وہ کون سی مسجد ہے جس کا ذکر ہوا ہے: ’’الذی اُسس علی التقویٰ‘‘ کہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی۔ تو وہ دونوں لڑ رہے تھے، کسی نے کہا وہ مسجدِ قبا ہے، اور کسی نے کہا وہ نبی علیہ السلام کی مسجدِ نبوی ہے۔
عن ابی سعید الخدری انہ قال: ≪تماری رجلان فی المسجد الذی اسس علی التقویٰ من اول یوم≫، فقال رجل: ھو مسجد قباء، وقال الآخر: ھو مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ھو مسجدی ھذا۔
تو آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ میری مسجد ہے۔ اب یہ مشکل الابہام کی کیٹیگری سے ہے کہ قرآن پاک نے جن مقامات یا شخصیات کا نام نہیں لیا، ان کو متعین نہیں کیا، تو اس میں اشکال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کون سی شخصیات یا مقامات ہیں۔ تو اس کا نبی علیہ السلام نے اس میں جواب دیا۔ تو مشکل الابہام میں گویا کہ یہ آتا ہے۔
مشکل التعارض مع عمومات الشریعہ
اسی طرح ہے ’’مشکل التعارض مع عمومات الشریعہ‘‘ کہ قرآن پاک کے بعض سوالات ایسے تھے، جو عمومی قواعد ہیں شریعت کے، اُن کے خلاف وہ لگے۔ کیسے؟ جیسے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ترمذی شریف میں آتا ہے کہ ’’فمنھم شقی وسعید‘‘ کہ کچھ نیک بخت ہوں گے اور کچھ بدبخت ہوں گے، اور نیک بختوں کا یہ انجام ہے، بدبختوں کا یہ انجام ہے۔ قرآن پاک میں آتا ہے۔ تو حضرت عمرؓ کو سوال (اشکال) ہو گیا کہ پھر ہم عمل کیوں کر رہے ہیں؟ اب دیکھیں، جو عمل کرنے کی ترغیب ہے، جو ایک عمومی قرآن پاک کا یا اسلام کا حکم ہے، اس کو ہم عموماتِ شریعہ میں دیکھ سکتے ہیں کہ نیک اعمال کرو ’’وعملوا الصالحات‘‘۔
عن عمر بن الخطاب قال: لما نزلت ھذہ الآیۃ: {فمنھم شقی وسعید} سالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فقلت: یا نبی اللہ، فعلی ما نعمل؟ علی شیء قد فرغ منہ او علی شیء لم یفرغ منہ؟ قال: بل علی شیء قد فرغ منہ وجرت بہ الاقلام یا عمر، ولکن کل میسر لما خلق لہ۔
تو حضرت عمرؓ کو یہ والی آیت اُن عمومات کے خلاف لگی۔ اس لیے انہوں نے سوال کیا کہ پھر عمل کرنے کی ترغیب یا عمل کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ تو گویا کہ ان کو یہ آیت عموماتِ شریعہ سے متعارض لگی، جس پر انہوں نے سوال کر لیا۔
مشکل المغیبات
اسی طرح ہے ’’مشکل المغیبات‘‘۔ اس سے مراد ہے کہ قیامت کے بعض مراحل کے بارے میں بعض حضرات کو اشکال پیدا ہو گیا۔ اس میں بھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ہے کہ قرآن پاک کی جو یہ آیت ہے ’’یوم تبدل الارض غیر الارض‘‘ کہ جس دن زمین کو کسی اور زمین کے ساتھ تبدیل کیا جائے گا۔
قلت عائشۃ ھذہ الآیۃ: {یوم تبدل الارض غیر الارض} قالت: یا رسول اللہ، فاین یکون الناس؟ قال: علی الصراط۔
تو اس وقت حضرت عائشہؓ کو یہ اشکال ہوا کہ پھر لوگ کہاں ہوں گے؟ جب زمین کی تبدیلی کا عمل ہو گا تو پھر لوگ کہاں ہوں گے؟ تو اس وقت آپؐ نے فرمایا ’’علی الصراط‘‘ کہ لوگ پلِ صراط پر ہوں گے۔ تو اب یہاں دیکھیں کہ جو قیامت کے مراحل ہیں ان میں سے کسی مرحلے کے بارے میں کوئی پیچیدگی پیدا ہوئی، انہوں نے اس کے بارے میں سوال کیا۔
مشکل المراد
اس طرح ایک ہے ’’مشکل المراد‘‘۔ اس سے مراد وہ آیتیں ہیں جن کا لغوی مفہوم تو واضح ہے لیکن اس کا مصداق اور اس کی تعبیر، یعنی اس سے اللہ کی کیا مراد ہے، اس میں صحابہ کرامؓ کو اشتباہ پیدا ہوا۔ تو اس کی مثال یہ ہے، فرمایا: ’’لھم البشریٰ فی الحیاۃ الدنیا‘‘ کہ ان کے لیے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں۔ لغوی معنی واضح ہے۔
عن رجل من اھل مصر قال: ≪سالت≫ ابا الدرداء عن قول اللہ تعالیٰ: {لھم البشریٰ فی الحیاۃ الدنیا} فقال: ما سالنی عنھا احد غیرک الا رجل واحد منذ سالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ما سالنی عنھا احد غیرک منذ انزلت، ھی الرؤیا الصالحۃ یراھا المسلم او تری لہ۔
لیکن اس سے مراد کیا ہے، دنیا کی زندگی میں؟ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ آیتیں جن کا لغوی مفہوم تو واضح ہے لیکن اس لغوی مفہوم کا مصداق کیا ہے؟ تو اس بارے میں صحابہ کرامؓ کو اشکال پیدا ہو گیا، جس طرح حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ سوال ہے۔
مشکل الخصوصیۃ
اس کے بعد اگلی قسم ہے ’’مشکل الخصوصیۃ‘‘۔ یہ بھی بڑی اہم قسم ہے، کہ وہ آیتیں جو کسی خاص شخص کے بارے میں نازل ہوئیں۔ تو صحابہ کرامؓ کو سوال پیدا ہو گیا کہ یہ حکم اسی شخص کے ساتھ خاص ہے، یا یہ حکم عام ہے؟ جیسے اس کی مثال حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے کہ وہ جو ایک آدمی سے گناہ ہوا تھا تو اس پر ان کو سوال پیدا ہو گیا کہ کیا یہ اسی شخص کے بارے میں ہے یا ہر شخص کے بارے میں ہے؟
عن عبد اللہ قال: ≪جاء رجل≫ الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: انی عالجت امراۃ فی اقصی المدینۃ، وانی اصبت منھا ما دون ان امسھا، وانا ھذا فاقض فی ما شئت، فقال لہ عمر: لقد سترک اللہ، لو سترت علی نفسک، فلم یرد علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شیئا، فانطلق الرجل، فاتبعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رجلا فدعاہ، فتلا علیہ: {واقم الصلاۃ طرفی النھار وزلفا من اللیل ان الحسنات یذھبن السیئات ذلک ذکری للذاکرین} الی آخر الآیۃ، فقال رجل من القوم: ھذا لہ خاصۃ؟ قال: لا، بل للناس کافۃ۰
تو ’’مشکل الخصوصیۃ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ قرآن پاک کی یہ جو آیت ہے، یہ خاص اسی شخص کے بارے میں ہے جس کے بارے میں نازل ہوئی؟ یا اس کا حکم عام ہے، ہر مسلمان کے بارے میں ہے؟ اس نوع میں یہ چیز سامنے آتی ہے۔
مشکل التاویل
اسی طرح ایک ہے ’’مشکل التاویل‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن پاک کی کوئی آیت ہے، اس کا ایک جو مجموعی مفہوم ہے، اس مفہوم سے کوئی اشکال پیدا ہو جائے۔ پھر اس کی کسی نہ کسی تاویل کی ضرورت ہو، کسی نہ کسی توجیہ کی ضرورت ہو۔ جیسے مثلاً قرآن پاک کی آیت ہے ’’من یعمل سوءا یجز بہ‘‘ کہ جس نے بھی کوئی بھی تھوڑا سا بھی برا عمل کیا، اُس کا بدلہ اسے دیا جائے گا۔ ’’سوءًا‘‘ نکرہ ہے، آپ جانتے ہیں۔
عن ابی ھریرۃ قال: ≪لما نزل≫ {من یعمل سوءا یجز بہ} شق ذلک علی المسلمین، فشکوا ذلک الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم، فقال: قاربوا وسددوا، وفی کل ما یصیب المؤمن کفارۃ، حتی الشوکۃ یشاکھا او النکبۃ ینکبھا۔
تو اس پر صحابہ کرامؓ بڑے پریشان ہو گئے کہ تھوڑی بہت کمی بیشی تو ہر ایک سے ہوتی ہے، تو کیا ہر ہر عمل پہ ہمیں بدلہ دیا جائے گا، یعنی ہمیں سزا دی جائے گی؟ تو اس پر پھر نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جواب دیا کہ آپ لوگ سیدھے رہنے کی کوشش کریں کیونکہ مومن کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ بھی دراصل اس کے گناہ کا کفارہ ہے۔ تو یہاں اب دیکھیں کہ توجیہ کر دی گئی آیت میں، کہ ’’یجز بہ‘‘ سے مراد صرف اُخروی سزا نہیں ہے، بلکہ جو دنیاوی مصیبتیں ہیں وہ بھی ’’یجز بہ‘‘ کے اندر شامل ہیں۔ تو اس آیت میں ایک ایسی تاویل کر دی گئی جس نے اُس اشکال کو ختم کر دیا کہ نہیں، یہ جو ہم پر مصیبتیں آتی ہیں تھوڑی بہت، مثلاً کوئی بیمار وغیرہ ہو گیا، تو یہ چیزیں بھی دراصل اس کے گناہوں کا کفارہ بنتی جاتی ہیں۔ اس طرح ہر گناہ کا ’’یجز بہ‘‘ ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔ تو اس آیت میں گویا کہ تاویل کر کے اس اشکال کو ختم کر دیا گیا۔
مشکل القید والاطلاق
اسی طرح ہے ’’مشکل القید والاطلاق‘‘ کہ کسی آیت میں کوئی قید ہے، تو کیا وہ آیت اس قید کی صورت میں لاگو ہے، یا اس قید کے بغیر بھی لاگو ہے؟ اس کی بڑی مشہور مثال ہے، آپ سب لوگ جانتے ہیں، کہ جب سفر کی آیت اتری ’’ان تقصروا من الصلوٰۃ ان خفتم ان یفتنکم‘‘ اگر تمہیں ڈر ہو۔ ’’ان خفتم‘‘ اس میں قید لگائی گئی ہے کہ قصر کب کرنا ہے، اگر تمہیں ڈر ہو۔ دیکھیں، یہاں اس کو ڈر کے ساتھ مقید کیا گیا ہے۔ تو گویا کہ جب امن ہو گا کیا اس کی نماز قصر نہیں ہو گی؟ تو اس پر نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صدقہ ہے۔
عن یعلی بن امیۃ قال: ≪قلت≫: لعمر بن الخطاب انما قال اللہ: {ان تقصروا من الصلاۃ ان خفتم ان یفتنکم} وقد امن الناس، فقال عمر: عجبت مما عجبت منہ، فذکرت ذلک لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فقال: صدقۃ تصدق اللہ بھا علیکم، فاقبلوا صدقتہ۔
’’مشکل القید والاطلاق‘‘ کہ قرآن پاک کی آیات میں بہت ساری قیودات ہیں، تو کیا وہ احکامات اُن قیودات کے ساتھ مقید ہیں، یا وہ قیودات لَغو ہیں؟ یہ مطلب ہے اس نوع کا۔
مشکل التعارض مع قواعد الشرع
اب اس کے بعد اگلی قسم ہے ’’مشکل التعارض مع قواعد الشرع‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض سوالات ایسے ہیں، وہ آیتیں جن کا ظاہری مفہوم شریعت کے کسی مسلّمہ اصول سے ٹکراتا ہو۔ مثلاً ایک آیت ہے ’’یا ایھا الذین اٰمنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم‘‘ کہ اے ایمان والو، آپ بس اپنے نفسوں کو لازم پکڑو، اگر تم ہدایت پر ہو، تو گمراہ لوگوں کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں دیتی۔
عن ابی امیۃ الشعبانی قال: اتیت ابا ثعلبۃ الخشنی، فقالت لہ: کیف تصنع بھذہ الآیۃ؟ قال: ایۃ آیۃ؟ قلت: قولہ تعالیٰ: {یا ایھا الذین اٰمنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم} قال: اما واللہ لقد سالت عنھا خبیرا، سالت عنھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فقال: بل ائتمروا بالمعروف وتناھوا عن المنکر، حتی اذا رایت شحا مطاعا، وھو متبعا، ودنیا مؤثرۃ، واعجاب کل ذی رای برایہ، فعلیک بخاصۃ نفسک ودع العوام، فان من ورائکم ایاما الصبر فیھن مثل القبض علی الجمر، للعامل فیھن مثل اجر خمسین رجلا یعملون مثل عملکم۔
اب یہ آیت شریعت کے ایک مسلّمہ قاعدے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ساتھ ٹکرا رہی ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں کیا ہے کہ بھئی صرف خود نیکی نہیں کرنی بلکہ دوسروں کو بھی نیکی کی ترغیب دینی ہے، ان کو بھی نیکی کی طرف بلانا ہے۔ اب یہ جو آیت ہے یہ اس قاعدۂ شریعت کے ساتھ ٹکرا رہی ہے۔ تو صحابہ کرامؓ کو سوال پیدا ہو گیا۔
مشکل الشخصیۃ التاریخیۃ
اسی طرح ایک ہے ’’مشکل الشخصیۃ التاریخیۃ‘‘ کہ قرآن پاک میں جو تاریخی شخصیات کا ذکر ہے، یا زمانۂ ماضی کا ذکر ہے، تو اس کے متعلق کوئی سوال ہو، جس طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک حدیث ہے کہ ایک آدمی نے سبا کے بارے میں سوال کیا کہ سبا کوئی آدمی ہے یا عورت ہے یا کسی زمین کا نام ہے؟ قومِ سبا کا ذکر آ رہا ہے نا۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ آدمی ہے اور اس کی دس اولادیں ہیں، یمن میں اتنے رہتے تھے، شام میں اتنے رہتے تھے۔ تو اس تاریخی شخصیت کے حوالے سے جو اشکال پیدا ہوا تھا کہ یہ کیا ہے، یہ مرد ہے یا عورت ہے یا انسانوں میں سے ہے ہی نہیں یا کسی جگہ کا نام ہے؟ تو اس کا حدیث میں ذکر کر دیا گیا ہے۔
عن ابن عباس، یقول: ان رجلا سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن سبا، ما ھو: ارجل ام امرۃ ام ارض؟ فقال: بل ھو رجل ولد عشرۃ، فسکن الیمن منھم ستۃ، وبالشام منھم اربعۃ، فاما الیمانیون: فمذ حج وکندۃ والازد والاشعریون وانمار وحمیر، عربا کلھا، واما الشامیۃ: فلخم وجذام وعاملۃ وغسان۔
اب دیکھیں کہ یہ جو صحابہ کرامؓ کے سوالات ہیں، یہ سارے کے سارے براہ راست مشکلات القرآن سے متعلق ہیں۔ یعنی انہیں قرآن پاک کی کسی آیت میں اشکال پیدا ہو گیا تو انہوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کر دیا۔ تو یہ ہیں دورِ رسالتؐ میں اور دورِ صحابہؓ میں مشکلات القرآن کی انواع۔
دورِ تابعین
اس کے بعد اگر ہم دیکھیں تو دورِ تابعین میں ایک تو یہی انواع چل رہی تھیں جو دورِ رسالتؐ میں تھیں، لیکن کچھ انواع کا اضافہ ہو گیا۔
مشکل الالفاظ المعربۃ
جیسے ایک بڑی دلچسپ قسم کا اضافہ ہو گیا ’’مشکل الالفاظ المعربۃ‘‘۔ آپ سمجھتے ہیں کہ کیا قرآن پاک میں کوئی معرب لفظ ہے یا نہیں؟ یعنی ایسا لفظ جو کسی اور زبان سے قرآن پاک میں آیا ہو۔ جیسے ’’قرطاس‘‘ لفظ ہے، ’’سرادق‘‘ لفظ ہے، ’’استبرق‘‘ لفظ ہے، تو اس طرح کے کچھ الفاظ ایسے ہیں جن کے بارے میں بحث چلتی ہے کہ یہ کسی اور زبان کے ہیں یا یہ عربی زبان کے ہیں۔ تو دورِ تابعین میں یہ چیز شروع ہو گئی کیونکہ جب تک نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام حیات تھے تو اسلام تو اسی جزیرۂ عرب میں تھا، تو دورِ تابعین میں اسلام جب پھیل گیا اور دیگر زبانوں والے لوگ اسلام میں داخل ہو گئے تو انہیں کچھ الفاظ ایسے لگے کہ یہ عربی زبان کے نہیں ہیں، یہ عجمی زبانوں سے آئے ہیں۔ تو اس طرح ایک نئی قسم کا اضافہ ہو گیا ’’مشکل الالفاظ المعربۃ‘‘ کا۔
مشکل الصفات الالٰہیۃ
اس کے بعد اسی دور میں ہی ’’مشکل الصفات الالٰہیہ‘‘ کا بھی اضافہ ہو گیا، جس کے ظاہری مفہوم میں کسی بشر کے ساتھ اس کی مشابہت سامنے آتی ہے، مثلاً اللہ کا ہاتھ ہے، پنڈلی ہے، اللہ کا چہرہ۔ تو اس دور میں ان انواع کا اضافہ ہوا۔
دوسرا، تابعین کے دور میں ہمیں ایک اور چیز نظر آتی ہے کہ تابعین کے دور میں مشکلات القرآن کو حل کرنے کی کوشش شروع ہو گئی۔ یعنی کسی آیت میں جو اشکال ہوتا تھا تو اس میں ایسی تاویل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی تاکہ اس میں کوئی اشکال ہی نہ ہو۔ تو ایک اس چیز کا بھی اضافہ ہو گیا تابعین کے دور میں۔ جیسے خاص طور پر ہمیں جو چیز بہت زیادہ نظر آتی ہے تابعین کے دور میں، وہ یہ ہے کہ جو خلافِ عادت آیات ہیں، ان کی تاویل اور توجیہ۔ یعنی یہ صرف دورِ جدید میں نہیں ہو رہی، تابعین کے دور میں بھی ہو رہی ہے۔
دیکھیں، قرآن پاک میں کئی مقامات پر فرمایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کی شکلیں مسخ کی گئیں، انہیں بندر اور خنزیر بنایا گیا۔ تو کیا وہ حقیقت میں بندر یا خنزیر بن گئے؟ تو حضرت امام مجاہدؒ ان آیات کی توجیہ کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں، نہیں، اُن کے دل بندروں والے بن گئے، اُن کے دل خنازیر والے بن گئے، حقیقت میں وہ بندر نہیں بنے تھے۔ امام مجاہدؒ اس کی تعبیر و تاویل اس طرح کرتے ہیں، آپ تفسیر طبری وغیرہ میں دیکھ لیں۔
اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جو چار پرندوں والا واقعہ ہے، کیا ان چار پرندوں کو ذبح کیا گیا، کیا واقعی ان کا گوشت الگ الگ پہاڑ پہ رکھا گیا، پھر کیا واقعی بلانے سے وہ پرندے آ گئے؟ امام مجاہدؒ کہتے ہیں کہ یہ محض تمثیل ہے، حقیقت میں ایسا واقعہ ہوا ہی نہیں۔ اب دیکھیں کہ جو خلافِ عادت آیات تھیں یعنی جن میں ایک معجزے کا تصور ہو سکتا تھا، انہوں نے ان کی تاویل شروع کر دی۔
اسی طرح قرآنی ابہامات کو بھی دور کرنے کی تابعین کے دور میں بڑی کوششیں شروع ہوئیں۔ جیسے حضرت آدم علیہ السلام نے کونسا درخت کھایا تھا؟ شجرِ ممنوعہ کے حوالے سے تابعین کے بہت سارے اقوال ہیں۔ یا اسی طرح جو اُن چار پرندوں کا ذکر ہے ابراہیم علیہ السلام کے واقعے میں، وہ کونسے چار پرندے ہیں؟ کوئی کہتا ہے فلاں فلاں پرندہ ہے، کوئی کہتا ہے فلاں فلاں پرندہ ہے، تو گویا کہ اس میں پرندوں کے نام ذکر ہیں۔ تو یہ چیزیں ہمیں نظر آتی ہیں۔
اسی طرح جو مسلّماتِ شریعت سے متصادم آیات ہیں ان کی بھی تاویل اور توجیہ ہمیں تابعین کے دور میں نظر آتی ہے۔ جیسے حضرت لوط علیہ السلام نے جو قومِ لوط کو کہا ’’ھؤلاء بناتی‘‘ کہ یہ میری بیٹیاں ہیں، ان کو لے لیں، ان سے اپنی خواہش پوری کریں۔ اب ظاہر ہے کہ بیٹیوں کی کیسی دعوت دے رہے ہیں، تو اس کی وہ تاویل کرتے ہیں کہ نکاح کے طور پر تم ان کو لے لو۔ گویا کہ اس کی توجیہ کر دی۔ تو اس طرح کی ہمیں تابعین کے دور میں یہ چیز نظر آتی ہے۔
اسی طرح اگر ہم تابعین کے دور میں دیکھیں تو آیاتِ متعارضہ کو بھی حل کرنے کی کوششیں ہوئیں کہ کونسی آیت کس آیت سے ٹکرا رہی ہے، اور اس کی تو آپ کو تفسیر طبری میں، الدر المنشور میں بہت ساری مثالیں مل جائیں گی۔
تو اگر ہم اب تابعین کے دور کا تھوڑا سا تجزیہ کریں تو ایک دو باتیں بڑی اہم ہیں:
- پہلی بات یہ ہے کہ خلافِ عادت آیات کی تاویل کی گئی ہے۔ جیسے مسخِ بنی اسرائیل ہو گیا، نزولِ مائدہ ہو گیا کہ وہ جو دستر خوان کا نزول ہوا بنی اسرائیل پر۔ تو دیکھیں کہ عام طور پر تو ہم ان آیات کو معجزہ پر محمول کرتے ہیں۔ لیکن بعض تابعین اسے معجزہ پر محمول نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اس میں ہی تاویل کر لیتے تھے، جس سے وہ آیت خلافِ عادت سے ہٹ کر، معجزہ سے ہٹ کر ایک عام سی آیت بن جاتی تھی۔ یعنی اس میں کوئی ایسا واقعہ ہی نہیں ہوا جو خرقِ عادت ہو۔ تو اس طرح کی خاص طور پر ہمیں تابعین کے دور میں بہت زیادہ توجیہ نظر آتی ہے، اور وہ بھی زیادہ امام مجاہدؒ کے ہاں۔
- اسی طرح تابعین کے پورے دور سے ایک چیز سامنے آتی ہے کہ مشکلات القرآن کوئی ایسا محدّد علم نہیں ہے کہ اس کی صرف چند انواع ہیں، دس ہوں، پندرہ ہوں، یا اٹھارہ ہوں، ایسا نہیں ہے۔ یہ ایک اضافی امر ہے۔ یعنی جب بھی حالات بدلیں گے، عقول بدلیں گی، علوم نئے نئے آئیں گے، تو قرآن پاک کی آیات میں اشکالات کا اضافہ ہوتا جائے گا اور نئی نئی انواع وجود میں آتی جائیں گی۔ تو گویا کہ مشکلات القرآن، یعنی قرآن پاک کی کسی آیت میں کسی وجہ سے اشکال پیدا ہو گیا، جیسے جیسے وجوہات زمانوں میں پیدا ہوتی جائیں گی تو اشکالات پیدا ہوتے جائیں گے۔ تو تابعین کے دور سے ہمیں ایک یہ چیز بھی نظر آتی ہے۔
یہ تو ہو گئی پہلی چیز جس کا ہم نے ذکر کیا ہے کہ دورِ رسالتؐ و صحابہؓ اور دورِ تابعینؒ میں مشکلات القرآن کا ارتقاء اور اس کی انواع۔
(جاری)
