سید محمد نقیب العطاس کی وفات: اسلامی فکر کے ایک عہد کا خاتمہ

شعور کی عمر کو پہنچ کر عصرِ حاضر کے جن بڑے اسلامی مفکرین سے واقفیت ہوئی اور ان کو پڑھا ان میں سید محمد نقیب العطاس بھی تھے۔ جن کا خاندان عرب تھا جو حضرموت سے ہجرت کر کے ملائیشیا میں آباد ہوا تھا۔ سید محمد نقیب العطاس نے عصرِ حاضر میں اسلامی تعلیم کے احیاء، سیکولرزم اور سیکولرائزیشن اور اسلامائزیشن آف نالج وغیرہ موضوعات پر کام کیا۔ انہوں نے مغرب میں تعلیم بھی پائی اور وہاں قیام بھی کیا۔ پھر علمی و نظری کام کرنے کے لیے ملائیشیا میں ایک ادارہ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ اینڈ سویلائزیشن (ISTAC) قائم کیا جو آج عالمی اسلامی یونیورسٹی آف ملائیشیا کوالالمپور کا ایک سینٹر ہے۔ ان کا ایک خاص کنٹریبیوشن اسلامائزیشن آف نالج کا تصور پیش کرنا تھا جس کو مزید منقح کر کے پیش کرنے اور اس پر علمی و تحقیقی کام کرنے کا سہرا فلسطینی عرب مفکر اسماعیل راجی الفاروقی شہید اور ان کے رفقاء کو جاتا ہے، جنہوں نے واشنگٹن میں بیٹھ کر المعہد العالمی للفکر الاسلامی قائم کیا۔

راقم نے مدرسہ ڈسکورسز سے وابستگی کے دور میں عطاس کی کتاب "سیکولرزم اینڈ اسلام" اصل انگریزی میں پڑھی تھی۔ جس کی تقریب یہ ہوئی کہ ہمارے بزرگ دوست ڈاکٹر محمد ذکی کرمانی (علی گڑھ) نے اس کا اردو ترجمہ کیا تھا جس کا اجراء برج کورس (اے ایم یو علی گڑھ) میں عمل میں آیا تھا۔ اس وقت ہمیں خیال ہوا کہ ترجمہ کے بجائے کیوں نہ اس کی اصل کو پڑھا جائے چنانچہ انٹرنیٹ پر سرچ کرنے سے اس کی پی ڈی ایف کاپی مل گئی جس کو ہم نے پھر بالاستیعاب پڑھ لیا۔ 8 مارچ 2026ء انہیں نقیب العطاس کی رحلت 94 سال کی عمر میں ہو گئی۔ اردو قارئین ان کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ ان کے اوپر ایک صحافی نافع وافی نے ایک مضمون لکھا ہے (جو قنطرہ ڈاٹ کام پر دستیاب ہے۔ اس تحریر میں ان کے مضمون سے خاص استفادہ کیا گیا ہے اور وکی پیڈیا سے بعض جگہوں پر اضافے بھی کیے گئے ہیں)۔

سید محمد نقیب العطاس (1 محرم 1350ھ / 5 ستمبر 1931ء – 8 مارچ 2026ء) ایک ممتاز ملائیشیائی اسلامی فلسفی اور مفکر تھے۔ انہیں تحریکِ (اسلامائزیشن آف نالج) کا عالمی بانی سمجھا جاتا ہے اور وہ معاصر اسلامی فکر کے اہم ستونوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے مضبوط اسلامی علمی روایت اور جدید مغربی فلسفے کو ایک دقیق تحلیلی منہج کے ساتھ جمع کیا، جس کے باعث وہ فلسفہ، تاریخ، ادب، تعلیم اور علومِ شرعیہ کے میدان میں ملائیشیا کے اندر سات دہائیوں سے زائد عرصے تک ایک بنیادی حوالہ بنے رہے۔

ولادت اور ابتدائی زندگی

نقیب العطاس ایک خوشحال مسلم گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جس کی جڑیں جنوبی یمن کے حضرموت سے ملتی ہیں۔ یہ خاندان علمی، روحانی اور صوفیانہ اثر و رسوخ کے حوالے سے جنوب مشرقی ایشیا میں معروف تھا۔ انہوں نے ایک ایسے ماحول میں پرورش پائی جو برطانوی استعمار اور ابھرتی ہوئی آزادی کی تحریکوں سے متاثر تھا۔ انہوں نے کم عمری میں ہی عربی، ملائی اور انگریزی زبانیں سیکھ لیں، جس سے ان میں مشرق و مغرب کے درمیان فکری ہم آہنگی پیدا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت پیدا ہوئی۔

خاندان اور تعلیمی سفر

سید نقیب العطاس تین بھائیوں میں منجھلے تھے۔ ان کی اہلیہ کا نام لطیفہ العطاس تھا اور ان کے چار بچے ہوئے۔ ان کی پیدائش بوگور جاوا ڈچ ایسٹ اسٹیٹ میں ہوئی تھی۔ وکی پیڈیا کے مطابق انہوں نے اپنی ابتدائی دینی تعلیم جامعہ ازہر، قاہرہ میں حاصل کی تھی جہاں انہوں نے تفسیر، حدیث، فقہ اور اصولِ فقہ جیسے علوم کے مبادی پڑھے تھے۔ کیونکہ ان کے والد علی العطاس ایک دینی عالم تھے اور قرآن و فقہ کی تعلیم دیتے تھے، جس کی وجہ سے بچپن ہی سے ان میں علومِ اسلامیہ سے گہری وابستگی پیدا ہوگئی۔ البتہ نافع وافی کے مضمون میں ان کی ازہر میں تعلیم کے متعلق کوئی تذکرہ نہیں ہے۔

پانچ سال کی عمر میں انہیں ملائیشیا کی ریاست جوہر بھیج دیا گیا، جہاں انہوں نے روایتی اسلامی مدارس میں تعلیم حاصل کی اور نو برس کی عمر سے پہلے ہی قرآن مجید مکمل حفظ کر لیا۔ ان کی تربیت حفظِ قرآن کی حضرمی روایت کے تحت ہوئی، جو حفظ اور فہم دونوں کو یکجا کرتی ہے۔ اس کے بعد ہی وہ مصر گئے ہوں گے اگر مصر جانا ثابت ہو اور کچھ دنوں ازہر سے استفادہ کیا ہوگا۔ اور وہاں سے واپس آنے کے بعد وہ ملیشیائی رجمنٹ میں بھرتی ہوئے ہوں گے اور پھر آگے کی زندگی کی شروعات ہوئی ہوگی۔

جیسا کہ گذرا کہ سیکنڈری تعلیم مکمل کرتے ہی انہوں نے ملائیشین آرمی جوائن کر لی تھی۔ جس کی طرف سے انہیں مزید ملٹری تعلیم کے لیے انگلینڈ کی سینڈہرسٹ ملٹری اکیڈمی بھیجا گیا، وہاں وہ (1952ء-1955ء) تک رہے۔ اس دوران ہی انہیں اسپین، شمالی افریقہ اور جزیرہ سسلی جانے کا اتفاق ہوا جہاں کے آرکیٹیکچر اور تاریخی فنِ تعمیر میں موجود ثروت مند مسلم میراث نے ان کو بہت متاثر کیا۔ اور واپس آنے کے بعد انہوں نے ملٹری سے استعفا دے دیا اور فوج سے جامعہ کا رخ کر لیا۔ چنانچہ مزید تعلیمی سفر میں انہوں نے سنگاپور کی یونیورسٹی آف ملائیشیا سے (1957ء-1959ء) بی اے کیا۔ پھر ان کو مونٹریال کینیڈا کونسل فیلوشپ کے تحت مشہورِ عالم یونیورسٹی میک گل میں داخلہ مل گیا۔ جہاں سے (1962ء) انہوں نے اسلامی فلسفہ میں ایم اے کیا اور نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ پاکستان کے مشہور ترین اسکالر فضل الرحمٰن نے بھی میک گل میں پڑھا تھا۔ یاد رہے کہ مغربی دنیا میں فضل الرحمٰن اسلام پر سب سے بڑا حوالہ سمجھے جاتے ہیں، جنہوں نے مذہب کو تاریخیت کی اساس پر سمجھا تھا، محمد کاظم صاحب نے ان کی کئی کتابوں کے کامیاب اردو تراجم کیے ہیں۔ بعد ازاں محمد نقیب العطاس نے اورینٹل اسٹڈیز یونیورسٹی آف لندن سے پی ایچ ڈی کی۔ جس میں کیمبرج کے مشہور مستشرق سر اے جے آربری اور مارٹن لنگس ان کے مقالے کے نگران بنے۔ مؤخر الذکر بعد میں مسلمان ہو گئے اور اپنا اسلامی نام ابوبکر رکھا جن کی سیرتِ طیبہ نیز مغربی تہذیب کی تنقید میں تصانیف ہیں۔

1931ء میں جاوا میں حضرمی عرب نسل کے ایک خاندان میں پیدا ہونے والے العطاس نے ایسے ماحول میں پرورش پائی جہاں ملائی دنیا کی ثقافتی اور دینی روایات موجود تھیں، جبکہ جنوب مشرقی ایشیا ابھی نوآبادیاتی دور کے اثرات سے گزر رہا تھا۔ جیسا کہ اوپر گزرا، نوجوانوں میں شمالی افریقہ اور اسپین کے سفر—جہاں اسلامی تہذیب کے آثار ابھی بھی عمارتوں، کتب خانوں اور تاریخی یادداشت میں موجود تھے— نے ان کی سمت بدل دی، اور وہ فوجی زندگی سے علمی میدان کی طرف آ گئے۔ انہوں نے فوج چھوڑ کر اسلامی فکری تاریخ کے مطالعے کو اپنا مقصد بنایا۔ اور اسی کے تحت لندن کے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز میں انہوں نے سولہویں صدی کے جزیرہ سماٹرا کے صوفی مفکر شیخ حمزہ فنصوری پر ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ یہ موضوع اسلامی روحانیت کے فلسفیانہ پہلوؤں، خصوصاً مابعد الطبیعی صوفیانہ روایت سے ان کی ابتدائی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔

سید محمد نقیب العطاس ملائی زبان کے بھی ماہر تھے چنانچہ ملائی ادب و نقد سے متعلق بہت سے مباحث پر بھی انہوں نے خوب لکھا ہے لیکن چونکہ اردو قارئین کو اس سے دلچسپی نہیں ہوگی اس لیے سردست ہم اس سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اس گفتگو کو صرف اسلام، اسلامی فلسفہ علم وغیرہ میں ان کے کنٹریبیوشن تک محدود رکھیں گے۔ نیز ملائیشیا میں جو اسلامی متصوفانہ روایت رہی ہے اس کا بھی وہ گہرائی سے مطالعہ کرتے رہے اور اس سے شدید متاثر ہوئے۔ ان کی بعد کی زندگی کو تصوف نے ایک خاص رخ دیا۔

تعلیمی خدمات

1965ء میں العطاس ملائیشیا واپس آئے اور کوالالمپور میں واقع یونیورسٹی آف ملایا کے شعبۂ مطالعاتِ ملایا کے تحت ڈویژن آف لٹریچر کے سربراہ مقرر ہوئے۔ وہ 1968ء سے 1970ء تک فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین رہے، جہاں انہوں نے بنیادی نوعیت کی اصلاحات متعارف کروائیں۔ اس کے بعد وہ نئی قائم شدہ نیشنل یونیورسٹی آف ملائیشیا میں منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے پہلے شعبۂ زبان و ادبِ ملایا کے سربراہ اور پھر فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے یونیورسٹی میں ذریعۂ تعلیم کے طور پر ملائی یا ملے زبان کے استعمال کی بھرپور وکالت کی۔ 1973ء میں انہوں نے نیشنل یونیورسٹی آف ملائیشیا میں انسٹی ٹیوٹ آف ملایا لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر (IBKKM) کی بنیاد رکھی اور اس کے ڈائریکٹر بھی رہے۔

انہوں نے 1987ء میں کوالالمپور میں "انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ اینڈ سویلائزیشن" (ISTAC) کی بنیاد رکھی، جو اسلامی فکر کی تجدید کا ایک مرکزی ادارہ بنا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 1970ء میں نیشنل یونیورسٹی آف ملائیشیا اور 1973ء میں انسٹی ٹیوٹ آف دی ملے ورلڈ اینڈ سویلائزیشن کے قیام میں بھی کردار ادا کیا۔ ان کے گہرے فکری اثرات کے باعث انہیں "علامہ" اور "شاہی پروفیسر" کے القابات سے نوازا گیا۔

فکری خدمات اور علوم کو اسلامیانے کی تحریک

سید محمد نقیب العطاس کو "علوم کو اسلامیانے" کے تصور کا بانی کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت انہوں نے ایسا تعلیمی نظام پیش کیا جو دینی اور دنیاوی علوم کو ایک مربوط شکل میں جمع کرتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ سیکولرزم کا شکار ہو یا اندھی مغربی تقلید میں مبتلا ہو۔

تصانیف

ویسے تو نقیب العطاس نے 27 کتابیں لکھیں لیکن ان کی نمایاں کتب میں درج ذیل شامل ہیں:

  • Islam and Secularism
  • Historical Fact and Fiction
  • The Concept of Education in Islam: A Framework for an Islamic Philosophy of Education
  • Prolegomena to the Metaphysics of Islam
  • Islam: The Covenants Fulfilled

اردو میں ان کا ترجمہ یوں ہوگا:

  • اسلام اور سیکولرزم (1978ء)
  • اسلام میں تصورِ علم اور اس کے فلسفۂ تعلیم کی اساسات
  • اسلامی مابعد الطبیعات کے مقدمات
  • اسلام: عہدِ الٰہی کی تکمیل
  • ان کے علاوہ ایک کتاب "اسلام اور رواداری" کے موضوع پر بھی ہے۔

سید محمد نقیب العطاس کے افکار نے عالمی سطح پر مسلم مفکرین جیسے اسماعیل راجی الفاروقی اور سید حسین نصر کو متاثر کیا۔ مغرب میں مقیم حسین نصر موجودہ زمانہ میں اسلامی فلسفیانہ روایت کے سرگرم نمائندے سمجھے جاتے ہیں۔ نقیب العطاس نے خاص طور پر "فقدانِ ذات" کے مسئلے کو اجاگر کیا، جو ان کے نزدیک مسلم معاشروں میں سیکولر اثرات کے نتیجے میں پیدا ہوا، اور اس کے حل کے طور پر اسلامی بنیادوں پر علم کی از سرِ نو تشکیل کی دعوت دی۔

علمی مناصب اور اثرات

سید محمد نقیب العطاس نے کئی اہم علمی عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں:

  • ISTAC کے ڈائریکٹر
  • مختلف ملائیشیائی اور بین الاقوامی جامعات میں پروفیسر
  • جامعہ ملک سعود (ریاض) میں تدریس
  • انہوں نے ملائیشیا، انڈونیشیا اور پاکستان کی فکری تحریکوں پر بھی گہرا اثر ڈالا، اور ایک پوری نسل کی فکری تربیت کی۔

وفات

سید محمد نقیب العطاس 8 مارچ 2026ء کو کوالالمپور میں 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی نمازِ جنازہ میں ملائیشیا اور عالمِ اسلام کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ انہیں ایک ایسے مفکر کے طور پر یاد کیا گیا جس نے اسلامی تشخص کو سیکولرزم اور فکری استعمار سے بچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ شیخ الازہر اور ملائیشیا کے بادشاہ نے بھی ان کی وفات پر تعزیتی بیانات جاری کیے۔

فکری ورثہ

سید محمد نقیب العطاس کا علمی و فکری ورثہ آج بھی ان کے اداروں، کتب اور شاگردوں کے ذریعے زندہ ہے۔ وہ ایک ایسے مفکر تھے جنہوں نے روایت اور جدت کو یکجا کیا اور اسلامی دنیا میں تعلیم اور تہذیب کے مباحث کو نئی جہت دی۔ ملائیشیائی فلسفی اور ہمہ جہت عالم یعنی سید محمد نقیب العطاس مغربی فکری غلبے کے تاحیات ناقد کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کے کام نے پوری مسلم دنیا میں جدیدیت اور تعلیم سے متعلق مباحث کو گہرائی سے متاثر کیا۔

العطاس کے نزدیک اسلامی مابعد الطبیعیات ایک مربوط اور ہم آہنگ نظام ہے جو حقیقتِ مطلقہ کی ماہیت کو اثباتی انداز میں منکشف کرتا ہے، اور عقل و تجربے کو انسانی شعور کی مافوقِ عقلی اور ماورائے حسی سطحوں کے ساتھ یکجا کرتا ہے۔ وہ اس تصور کو فلسفیانہ تصوف کے زاویۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ العطاس کے مطابق اسلامی روایت میں دو مکاتبِ فکر حقیقت کی ماہیت سے بحث کرتے ہیں: ایک اساس پسند (Essentialist) اور دوسرا وجود پسند (Existentialist) ہے۔ پہلا گروہ فلاسفہ اور متکلمین پر مشتمل ہے، جبکہ دوسرا صوفیہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ اساس پسند یا ماہیت پسند "ماہیت" (یعنی کسی شے کی حقیقتِ نوعیہ یا جوہر) سے وابستہ رہتے ہیں، جبکہ وجود پسند "وجود" (یعنی حقیقتِ وجود) کو بنیاد بناتے ہیں، جو براہِ راست وجدانی اور حضوری تجربہ ہے، نہ کہ محض عقلی تجزیے یا استدلالی فکر پر مبنی۔

وہ کہتے ہیں کہ اساس پسندی نے بلاشبہ فلسفیانہ اور سائنسی غور و فکر کو اشیاء اور ان کی ماہیات میں اس قدر مشغول کر دیا ہے کہ خود وجود کو نظر انداز کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں فطرت کا مطالعہ بذاتِ خود ایک مقصد بن کر رہ گیا ہے۔ العطاس کے نزدیک خارج میں، یعنی ذہن سے باہر کی حقیقت میں، اصل "حقیقت" اشیاء کا وجود ہے، جبکہ جس چیز کو تصوراتی طور پر "ماہیت" (یا جوہریت) کہا جاتا ہے، وہ درحقیقت وجود کے عوارض میں سے ہے۔

مزید برآں بیسویں صدی کے دوران یہ بحث شدت اختیار کر گئی کہ مسلم معاشرے جدیدیت کا سامنا کیسے کریں: کیا وہ مغربی فکری سانچوں کو اختیار کریں یا اپنی فکری روایت کو ازسرِ نو دریافت کریں؟ بہت کم مفکرین نے اس سوال کو اس فکری گہرائی اور استقامت کے ساتھ کھنگالا، جس طرح سید محمد نقیب العطاس نے کیا۔ ایک فلسفی، مؤرخ، ماہرِ لسانیات اور ماہرِ تعلیم کی حیثیت سے العطاس کو جدید اسلام کے آخری حقیقی ماہرِ السنہ و ہمہ جہت اہلِ علم (Polyglot) میں شمار کیا گیا ہے۔

العطاس نے اپنی پوری زندگی اپنے عہد کے غالب فکری رجحان کو چیلنج کرنے میں گزاری۔ ان کی تحریروں کا مرکز ایک مستقل سوال تھا: یعنی یہ کہ وہ اسلامی تہذیب، جو کبھی فلسفہ اور سائنس کے روشن ترین گہواروں میں سے تھی، آخر کیسے فکری طور پر جدید مغرب کے تابع ہو گئی؟ ان کے نزدیک مسلم دنیا کو درپیش بحران بنیادی طور پر سیاسی یا معاشی نہیں بلکہ علمیات (epistemology) کا بحران ہے۔ ان کے خیال میں اداروں یا معاشروں کی اصلاح سے پہلے علم کی بنیادوں کو ازسرِ نو تشکیل دینا ضروری ہے۔ العطاس محض مغربی فکر کے ناقد نہیں تھے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر وہ ایک ایسے فکری منصوبے کے معمار تھے جس کا مقصد مسلم فکر کو اس کے اپنے اصل راستے پر واپس لانا تھا۔

ملائیشیا واپسی پر وہ جلد ہی ابھرتے ہوئے جامعاتی نظام میں ایک مضبوط علمی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ ان کی بنیادی دلچسپی جدید دور میں مسلم معاشروں کی فکری تشکیل تھی۔ ان کے مطابق مسلم دنیا کی جامعات زیادہ تر یورپی ماڈل پر قائم ہوئیں، جنہوں نے نہ صرف تعلیمی ڈھانچے بلکہ فکری مفروضات بھی درآمد کیے۔ اگرچہ ان اداروں نے انجینئر، منتظمین اور سائنس دان پیدا کیے، مگر العطاس کے نزدیک انہوں نے مسلمانوں کے تصورِ علم کو بھی بدل دیا، جو ایک طرح کی فکری بے اساسی و بے سمتی (dislocation) تھی۔

العطاس کی فکر مغربی تصورِ علم پر تنقید کے گرد گھومتی ہے، جو علم کو محض معلومات کے انبار یا تجرباتی حقائق پر عبور تک محدود کر دیتا ہے۔ ان کے نزدیک علم کا ایک اخلاقی اور مابعد الطبیعی پہلو بھی ہے: یعنی ذہن کو حقیقت، معنی اور بالآخر الوہی حقیقت کی طرف متوجہ کرنا۔ انہوں نے اس گہرے ادراک کو "معرفت" (Gnosis) کے تصور سے جوڑا، جو ایسا علم ہے جو صرف عقل ہی نہیں بلکہ روحانی بصیرت کو بھی شامل کرتا ہے۔ یہ علم نہ صرف تجربے یا منطق سے حاصل ہوتا ہے بلکہ انسان کی اخلاقی و روحانی تربیت بھی اس کے لیے ضروری ہے۔

ادب کا تصور

یہی بات انہیں ایک اور بنیادی تصورِ ادب تک لے گئی: "ادب" عام طور پر جسے آداب یا اخلاق کہا جاتا ہے۔ مگر العطاس کے نزدیک اس کا مفہوم کہیں زیادہ گہرا تھا۔ ادب سے مراد انسانی نفس کی درست ترتیب، ایک فکری و اخلاقی نظم ہے جو ہر علم کو اس کے مناسب مقام پر رکھتا ہے۔ ادب کے بغیر علم منتشر ہو جاتا ہے اور حق کے بجائے طاقت کا آلہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے تعلیم کو محض فنی تربیت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اپنی معروف کتاب "اسلام میں تصورِ تعلیم" میں انہوں نے لکھا کہ تعلیم کا اصل مقصد انسان کو "کامل انسان" بنانا ہے۔ علم کا مقصد انسان کو کائنات اور معاشرے میں موجود الٰہی نظم کو پہچاننے کے قابل بنانا ہے۔

علوم کی اسلامائزیشن

العطاس کے مطابق اسی ہمہ گیر تصورِ علم کے زوال نے مسلم دنیا کے فکری بحران کو جنم دیا۔ تعلیمی نظاموں نے مغربی علمی سانچوں کو اختیار تو کر لیا، مگر ان میں پوشیدہ مابعد الطبیعی مفروضات کا تنقیدی جائزہ نہیں لیا۔

یہی تشخیص ان کے مشہور اور معرکہ الآراء "اسلامائزیشن آف نالج" (علوم کو اسلامیانا) کی بنیاد بنی، جو بیسویں صدی کے آخر میں مسلم فکری حلقوں میں بہت مقبول ہوا۔ ان کے نزدیک اسلامائزیشن کا مطلب یہ نہیں تھا کہ جدید علوم پر اسلامی لیبل لگا دیا جائے، بلکہ اس کا مطلب علم کی بنیادوں کی ازسرِ نو فلسفیانہ تشکیل تھا۔ اس عمل کا پہلا مرحلہ "ڈی ویسٹرنائزیشن" (مغربیت زدگی سے نجات) تھا — یعنی جدید علمی ڈھانچوں میں موجود سیکولر مفروضات کی نشاندہی اور ان کا اخراج۔ ان کے مطابق مغربی علم ایک مخصوص تاریخی عمل کا نتیجہ ہے، جس میں مذہب کو فلسفہ، زبان اور معاشرے سے بتدریج الگ کر دیا گیا ہے۔

اپنی کتاب "اسلام اور سیکولرزم" میں انہوں نے سیکولر فکر کی جڑوں کا سراغ عیسائی اور یونانی-رومی تہذیب میں لگایا۔ ان کے مطابق سیکولرائزیشن انسانی ترقی کا لازمی مرحلہ نہیں بلکہ ایک تاریخی عمل ہے، جس میں تقدیسی عنصر کو عوامی زندگی اور فکری تحقیق سے الگ کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں علم اپنی مابعد الطبیعی بنیادوں سے کٹ کر محض دنیا کو منظم کرنے کا آلہ بن گیا، نہ کہ اس کے معنی کو سمجھنے کا ذریعہ۔ اس کے برعکس العطاس نے تجرباتی علم، وحی اور مابعد الطبیعی بصیرت کے امتزاج کی تجویز پیش کی۔ ان کے نزدیک حقیقی اسلامائزیشن عقل یا سائنس کی نفی نہیں بلکہ انہیں توحید کے اصول کے تحت ایک وسیع تر تناظر میں رکھنا ہے۔ انہوں نے اسلامی مابعد الطبیعیات کی طرف اشارہ کیا "جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ حقیقت دوام اور تغیر دونوں پر مشتمل ہے؛ بیرونی دنیا کے بنیادی اور مستقل پہلو مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہے ہیں"۔ (اسلام اور سیکولرزم صفحہ 82)

اعلیٰ تعلیم کا ایک متبادل ماڈل

1987ء میں محمد نقیب العطاس نے کوالالمپور میں "انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ اینڈ سویلائزیشن (ISTAC)" قائم کر کے اپنے تصور کو عملی شکل دینے کی کوشش کی۔ اس ادارے کا مقصد اسلامی روایت کے اس تصورِ علم کو زندہ کرنا تھا جس میں دینیات، فلسفہ، زبان اور سائنسی علوم ایک وحدت میں شامل ہوں۔ ابتدا میں یہ ادارہ دنیا بھر کے مسلم علماء و مفکرین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہا، مگر سیاسی تبدیلیوں اور علمی رقابتوں نے اس کی خودمختاری کو متاثر کیا۔ اور بالآخر اس کا ابتدائی وژن کمزور پڑ گیا۔ تاہم العطاس کا فکری اثر کسی ایک ادارے تک محدود نہیں رہا۔ ان کے ہم عصر مسلم مفکرین میں اسماعیل راجی الفاروقی شہید، محمد عابد الجابری اور فضل الرحمٰن شامل تھے، جنہوں نے مسلم دنیا کے بحران کی مختلف تشریحات پیش کیں۔ بلکہ یہ نزاع بھی سامنے آئی کہ اسلامائزیشن کا تصور پہلے الفاروقی نے پیش کیا یا یہ العطاس کا تصور تھا جس کو الفاروقی نے سرقہ کر لیا تھا۔ اس نزاع سے قطع نظر ان چاروں مفکرین کے کام کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ جہاں راجی الفاروقی نے جدید علوم کی اسلامائزیشن کے لیے ادارہ جاتی سطح پر کام کیا، وہیں عابد الجابری اور فضل الرحمٰن نے عقل اور تجربے کی روایت کو زندہ کرنے پر زور دیا۔ اس کے برعکس العطاس نے اصل مسئلہ علم کی مابعد الطبیعی بنیادوں سے کٹ جانا قرار دیا۔

ان کے نزدیک مسئلے کا حل نہ مکمل طور پر جدیدیت کو رد کرنا تھا اور نہ ہی اسے اندھا دھند قبول کرنا، بلکہ اسلامی فکری روایت کے اندر رہتے ہوئے جدید علم سے دوبارہ تعلق قائم کرنا تھا۔ ان کا یقین تھا کہ علم اور کردار کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ایسی تہذیب جو بامعنی علم پیدا کرنا چاہتی ہے، اسے ایسے انسان پیدا کرنے ہوں گے جو نظم، انکسار اور اخلاقی وضاحت کے حامل ہوں۔ العطاس کے مطابق تعلیم کا اصل مقصد معلومات کا حصول نہیں بلکہ ایسے انسان کی تشکیل ہے جو حقیقت کو پہچان سکے۔ وہ کہتے ہیں:

''جب علم کے حصول میں کوئی حقیقی مقصد نہ ہو تو وہ حق سے انحراف کا باعث بن جاتا ہے، اور اس صورت میں ایسے علم کی صحت و اعتباریت خود مشکوک ہو جاتی ہے۔'' (اسلام اور سیکولرزم صفحہ 36)

سید محمد نقیب العطاس بہت فلسفیانہ اسلوب میں لکھتے ہیں اور ان کی تحریروں کو سمجھنے کے لیے فلسفہ، کلام اور تصوف تینوں کا اچھا مطالعہ ناگزیر ہے۔ ان تینوں عناصر کے اختلاط نے ان کے فکر اور نظام کو خاصا پیچیدہ اور دقیق بنا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے قارئین بہت کم ہیں اور اردو دنیا میں تو خال خال لوگ ہی ان کو جان سکے۔ کیونکہ ان کی بہت کم تحریروں اور کتابوں کو اردو میں منتقل کیا جا سکا ہے۔

سید نقیب العطاس نے مغرب کو گہرائی سے سمجھا ہے۔ ان کی تحریروں کے پڑھنے سے مغرب کی حرکیات و ڈائنامکس سمجھ میں آتی ہیں۔ یہاں واضح رہے کہ جس طرح ان کا گہرا مطالعۂ غرب ہے اسی طرح کی سنجیدہ کوششیں پاکستان میں بھی جامعہ کراچی سے وابستہ بعض اسکالروں نے کی ہیں جن کو پاکستان میں روایت پسند طبقہ کہا جاتا ہے۔ یہ طبقہ عموماً علماء کا بھی شدید ناقد ہے اور متجدد یا تجدیدی فکر کے لوگوں کا تو ہے ہی۔ ان اسکالروں میں بعض حضرات کی تحریریں پڑھنے کا راقم کو اتفاق ہوا ہے جن میں فلسفی و صوفی متکلم احمد جاوید صاحب کے علاوہ جاوید اکبر انصاری، دین محمد جوہر اور خالد جامعی وغیرہ صاحبان ہیں۔ گرچہ بسا اوقات یہ محسوس ہوتا ہے کہ مغربی افکار کی تنقید میں یہ حضرات انتہائی حد تک چلے جاتے ہیں اور عقلِ عام اور کامن سینس سے بھی پرے ہو کر نری دعوے بازی اور چاند ماری کر رہے ہیں۔

یہاں اس بات کا اظہار ضروری ہے کہ نوے کی دہائی میں اسلامائزیشن آف نالج کی تحریک نے پوری مسلم دنیا میں ایک غلغلہ پیدا کیا تھا۔ سعودی عرب کے بعض اداروں کی فنڈنگ سے اس تحریک نے دنیا کے مختلف خطوں میں، مختلف جامعات اور تحقیقی اداروں میں اس سلسلہ میں بہت سی کانفرنسیں، سیمینار اور مذاکرات کیے۔ بہت سے پروجیکٹ لانچ کیے، بہت ساری کتابیں لکھی گئیں، متعلقہ موضوعات پر تراجم کیے گئے۔ تاہم یہ تحریک مسلم دنیا میں سائنس کے سلسلہ میں کوئی مثبت اور فعال حرکت پیدا نہیں کر سکی۔ کسی بھی مسلم ملک میں اس کے متوقع اثرات نہیں دیکھے گئے۔ اس لحاظ سے اس تحریک و نظریہ کا تنقیدی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ جس کی جانب اس تحریک کے ایک فعال رکن ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی مرحوم نے اپنے ایک مقالہ میں توجہ دلائی تھی۔

اخبار و آثار

(الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — مئی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۵

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۱)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۲)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۵)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

حدیث میں بیان کی گئی علاماتِ قیامت کی تاریخی واقعات سے ہم آہنگی (۶)
ڈاکٹر محمد سعد سلیم

فقہِ اسلامی کا تعارف و تاریخ
ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی

حنفی اصولی منہج (۱)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ائمہ اہل بیت کے فقہی اجتہادات اور فقہ جعفری
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۲)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۵)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۴)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

عمرِ اولؓ اور عمرِ ثانیؒ کا طرزِ حکومت
علامہ رضا ثاقب مصطفائی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۲)
محمد سراج اسرار

قیامِ پاکستان: فکری بنیاد، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۴)
پروفیسر خورشید احمد

نظریۂ اسلام، نظریۂ پاکستان، دو قومی نظریہ
ڈاکٹر سعید احمد سعیدی

مسجد الاقصیٰ اور امتِ مسلمہ
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

القدس کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے نام خط
سنیٹر مشتاق احمد خان

ایران پر چالیس روزہ امریکی اسرائیلی جارحیت اور پندرہ روزہ جنگ بندی
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

Our Destiny: America, Russia, China, or the Muslim World?
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سید محمد نقیب العطاس کی وفات: اسلامی فکر کے ایک عہد کا خاتمہ
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

حاجی عثمان عمر ہاشمیؒ کا سانحہ ارتحال
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر
مولانا محمد اسامہ قاسم

مطبوعات

شماریات

Flag Counter