ذہین ڈیزائن کا الٰہیاتی اور فلسفیانہ جائزہ
اس حصے میں باب 6 میں بیان کردہ امام غزالی کے مابعد الطبیعی فریم ورک کی روشنی میں آئی ڈی کے چار مسائل زیرِ بحث لائے جائیں گے۔ یہ مسائل ہیں: مقامیت کا مسئلہ (localisation problem)، تعیین کا مسئلہ (specification problem)، عارضی استنتاج کا مسئلہ (tentative abduction problem)، اور امکان کا مسئلہ (contingency problem)۔ اس حصے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اشعری تناظر سے آئی ڈی کیوں ایک غیر تسلی بخش موقف ہے۔
مقامیت کا مسئلہ (Localisation Problem)
آئی ڈی کے حامی واضح طور پر یہ کہتے ہیں کہ وہ صرف اُن ہستیوں کے لیے ڈیزائنر کا استدلال پیش کر رہے ہیں جن میں فطرت کے اندر پیچیدہ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ حیاتیاتی دنیا کے دیگر حصے بآسانی نیو ڈارونین میکانزم کے ذریعے وجود میں آ سکتے ہیں۔ جیسا کہ بیہی لکھتے ہیں:
ذہین ڈیزائن بڑے پیمانے پر قدرتی انتخاب کے ساتھ بآسانی ہم آہنگ ہو سکتا ہے۔ اینٹی بایوٹک اور کیڑے مار ادویات کے خلاف مزاحمت، مچھلیوں اور پودوں میں اینٹی فریز پروٹینز وغیرہ کو ممکن ہے [نیو-]ڈارونین میکانزم سے سمجھایا جا سکے۔ آئی ڈی کا بنیادی دعویٰ یہ نہیں کہ قدرتی انتخاب کچھ بھی واضح نہیں کرتا، بلکہ یہ کہ وہ سب کچھ واضح نہیں کرتا۔ (Behe 2011: 356)
اسی طرح ڈیمبسکی بھی لکھتے ہیں:
ڈیزائن کا نظریہ رکھنے والا اس بات کا پابند نہیں کہ ہر حیاتیاتی ساخت ڈیزائن شدہ ہو۔ فطری میکانزم جیسے تغیر اور انتخاب، فطری تاریخ میں جانداروں کو ان کے ماحول سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کارگر ہوتے ہیں … تاہم فطری میکانزم اُن نہایت مخصوص اور معلومات سے بھرپور ساختوں کو پیدا کرنے سے قاصر ہیں جو حیاتیات میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ (Dembski 2004: 63)
چنانچہ بیہی اور ڈیمبسکی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ارتقا قدرتی انتخاب اور اتفاقی تغیر کے ذریعے بعض چیزوں کی توضیح کر سکتا ہے، لیکن پیچیدہ خصوصیات کو وہ کسی ڈیزائنر (یا ڈیزائنرز) کے ذریعے بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ اس انداز میں دیکھیں تو ڈیزائنر کو کائنات میں ایک نہایت محدود اور مخصوص کردار دے دیا جاتا ہے۔
لیکن امام غزالی کے تصورِ خدا میں ایسا کوئی محدود اور مقامی ڈیزائنر نہیں پایا جاتا۔ غزالی کے ہاں خدا ہر شے کا خالق اور قائم رکھنے والا ہے۔ ہر جگہ، ہر وقت۔ جیسا کہ باب 6 میں بیان ہوا، غزالی کا اشعری مسلک ایک اتفاقیت پسند (occasionalist) زاویہ نظر اختیار کرتا ہے۔ ان کے مطابق کوئی ہستی پیچیدہ ہو، نسبتاً کم پیچیدہ ہو، یا نہایت سادہ ہو۔ سب کی تخلیق اور بقا براہِ راست خدا کے فعل سے وابستہ ہے۔ لہٰذا خدا کو صرف پیچیدہ خصوصیات کا ذمہ دار قرار دینا اور باقی تمام مظاہر کو فطری میکانزم کے حوالے کر دینا، اشعری الٰہیات کی روشنی میں یہ موقف ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔
تعیین کا مسئلہ (Specification Problem)
آئی ڈی کے ساتھ وابستہ اگلا مسئلہ بنیادی طور پر ڈیزائنر کی تعیین کے فقدان سے متعلق ہے۔ چونکہ آئی ڈی کے حامی خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ڈیزائنر مختلف نوعیت کی ہستیوں میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے، اس لیے یہ واضح نہیں رہتا کہ آیا وہ ڈیزائنر خدا ہے یا نہیں۔ آئی ڈی کے استدلال سے زیادہ سے زیادہ یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جن ہستیوں میں پیچیدگی پائی جاتی ہے، ان کے پسِ پشت کسی نہ کسی درجے کا ڈیزائنر موجود ہے۔ مزید یہ کہ جوں جوں ان ہستیوں کی پیچیدگی میں اضافہ ہوتا ہے، ڈیزائنر کی علمی صلاحیتوں اور فکری استعداد کا درجہ بھی بلند تر فرض کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سے منطقی طور پر یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ڈیزائنر خدا ہی ہو جو علیمِ اور قادرِ مطلق ہے۔ اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے اضافی مقدمات یا مستقل دلائل درکار ہوں گے۔ اس بنا پر خدا ممکنہ امیدواروں میں سے ایک ہو سکتا ہے، مگر وہ واحد امیدوار نہیں، اور یہ بھی واضح نہیں کہ محض حیاتیاتی ڈیزائن کے استدلال سے ہم لازماً خدا تک پہنچ جاتے ہیں۔ بیہی خود اس نکتے کو تسلیم کرتے ہیں:
میرے ذہین ڈیزائن کے استدلال اور ولیم پیلی کے خدا کے وجود کے روایتی ڈیزائن استدلال میں سب سے اہم فرق یہ ہے کہ میرا استدلال صرف ڈیزائن تک محدود ہے۔ میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ یہ ایک مہربان خدا کے وجود کا استدلال نہیں ہے، جیسا کہ پیلی کا تھا۔ میں خود ایک مہربان خدا پر ایمان رکھتا ہوں، اور مانتا ہوں کہ فلسفہ اور الٰہیات اس استدلال کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ مگر حیاتیات میں ڈیزائن کے لیے پیش کیا جانے والا سائنسی استدلال اس حد تک نہیں پہنچتا۔ (Behe 2003: 277)
مندرجہ بالا باتوں کی روشنی میں یہ مکمل طور پر ممکن ہے کہ ڈیزائنر کوئی زمینی یا کہکشانی ہستی ہو، مثلاً خلائی مخلوق۔ صرف اسی بنیاد پر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حیاتیاتی ڈیزائن (BD) الحاد، لاادریت اور توحید تینوں کے ساتھ مطابقت رکھ سکتا ہے۔ یہ نکتہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اگرچہ بعض مسلم مفکرین (مثلاً ہارون یحییٰ) کے لیے یہ بات ناگوار ہو سکتی ہے، لیکن حیاتیاتی ڈیزائن کو محض توحیدی موقف تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اسے صرف خدا کے موافق بیانیے کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ ایک بنیادی کمزوری بن جاتا ہے۔ حیاتیاتی ڈیزائن کی بنیاد پر توحید پسند اور ملحد ایک ہی سطح پر کھڑے ہوتے ہیں۔
بعض لوگ یہ اعتراض کر سکتے ہیں کہ کائناتی ڈیزائن کے دلائل اس امکان کو کمزور کر دیتے ہیں کہ ڈیزائنر کائنات کے اندر کی کوئی ہستی ہو، لہٰذا الحاد خارج ہو جاتا ہے۔ ممکن ہے یہ بات درست ہو، لیکن یہ مفروضہ اس بات پر قائم ہے کہ حیاتیاتی ڈیزائن اور کائناتی ڈیزائن کا ڈیزائنر ایک ہی ہے۔ اس دعوے کے حق میں مستقل استدلال پیش نہیں کیا جاتا بلکہ اسے فرض کر لیا جاتا ہے۔ چونکہ ارتقا کی بحث میں آئی ڈی ایک خالص حیاتیاتی استدلال ہے، اس سے زیادہ سے زیادہ حیاتیاتی ڈیزائنر تک پہنچا جا سکتا ہے۔ کائناتی ڈیزائنر تک پہنچنے کے لیے اضافی دلائل درکار ہیں، اور یہ واضح نہیں کہ وہ کیسے فراہم کیے جائیں۔ مزید یہ کہ وسعتِ پیمانہ کے لحاظ سے کائناتی ڈیزائنر کو حیاتیاتی ڈیزائنر سے زیادہ طاقتور اور زیادہ علم رکھنے والا ہونا چاہیے تاکہ وہ کائنات جیسی ہستی کو پیدا اور برقرار رکھ سکے۔ اس لیے یہ کہنا آسان ہے کہ کائناتی ڈیزائنر حیاتیاتی ڈیزائنر بھی ہو سکتا ہے، لیکن اس کے برعکس ضروری نہیں۔
اگر بحث کی خاطر یہ مان بھی لیا جائے کہ حیاتیاتی اور کائناتی ڈیزائنر ایک ہی ہیں اور یہ ایک بڑی رعایت ہے، تب بھی یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ خدا ہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہستی کائنات کو پیدا کرنے اور قائم رکھنے کی مطلوبہ صلاحیت رکھتی ہے۔ لیکن یہ اب بھی اس بات سے بہت دور ہے کہ وہ وہی قادرِ مطلق اور علیمِ مطلق خدا ہے جسے امام غزالی مانتے ہیں۔ کثیر کائنات کے امکان کو پیشِ نظر رکھا جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ کسی ایسی تہذیب نے، جو ہماری کائنات سے پہلے موجود تھی، اس کائنات کو پیدا کیا ہو۔ محض ڈیزائن کے استدلال پر انحصار کرنا اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ ڈیزائنر خدا ہی ہے۔
یہ مشکلات اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ ڈیزائن کے دلائل نیچے سے اوپر (bottom-up) طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ کسی ڈیزائنر کی طرف اشارہ تو کر سکتے ہیں، مگر ڈیزائنر کی شناخت غیر متعین رہتی ہے۔ اسی لیے یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ خدا ہی واحد اور لازمی امیدوار ہے۔ بعض مسلم مفکرین یہ فرض کر لیتے ہیں کہ آئی ڈی لازماً خدا تک پہنچاتا ہے، مگر یہ محض دعویٰ ہے، دلیل نہیں۔ اگر اس دعوے کو مضبوط بنانا ہو تو ڈیزائن کے دلائل سے باہر نکل کر امکان (contingency) جیسے دیگر فلسفیانہ دلائل پیش کرنا ہوں گے۔ تب جا کر آئی ڈی کے ڈیزائنر کو خدا کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے مربوط کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر ایسا کرنا ہی پڑے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی ڈی سے وابستگی کی ضرورت کیا ہے، جب کہ وہ بذاتِ خود خدا کو لازم نہیں کرتا۔
بعض مفکرین آئی ڈی کو ارتقا کا متبادل اس لیے سمجھتے ہیں کہ وہ ارتقا کو ملحدانہ اور آئی ڈی کو خدائی موافق تصور کرتے ہیں۔ لیکن یہ ایک غلط تقسیم ہے۔ جیسا کہ واضح ہو چکا، حیاتیاتی ڈیزائن الحاد، لاادریت اور توحید، تینوں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ اس طرح نہ صرف یہ حکمت عملی اپنے مقصد میں ناکام رہتی ہے، بلکہ یہ ایک غیر منصفانہ دوئی پر بھی قائم ہے جس میں ارتقا کو ملحدانہ اور آئی ڈی کو لازماً توحیدی قرار دیا جاتا ہے۔
عارضی استنتاج کا مسئلہ (Tentative Abduction Problem)
آئی ڈی کے حوالے سے اگلا الٰہیاتی مسئلہ اس کے استدلال کی استقرائی یا ابڈکشن (abduction) نوعیت سے متعلق ہے۔ جیسا کہ ابتدائی حصے میں ذکر ہوا، ابڈکشن اس طرزِ استدلال کو کہتے ہیں جس میں متعدد ممکنہ توضیحات میں سے اس توضیح کو اختیار کیا جاتا ہے جو شواہد کی روشنی میں سب سے بہتر معلوم ہو۔ آئی ڈی کے حامی اپنے موقف کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ سائنسی شواہد کی بنا پر یہ نیو-ڈارونین ارتقا کے مقابلے میں بہتر توضیح ہے۔
فرض کیجیے کہ ہم اس بات کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ حیاتیاتی دنیا کی پیچیدہ ساختیں نہایت غیر محتمل ہیں، لہٰذا ایک ڈیزائنر ان کے لیے زیادہ بہتر توضیح ہے۔ مزید یہ بھی فرض کر لیتے ہیں کہ یہ ڈیزائنر خدا ہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ پورا استدلال موجودہ سائنسی معلومات پر مبنی ہے جن کے دائرے میں ارتقائی حیاتیات دان کام کر رہے ہیں۔ اگرچہ نیو-ڈارونین میکانزم کے ذریعے پیچیدہ حیاتیاتی ساختوں کی توضیح غیر محتمل معلوم ہوتی ہو، پھر بھی یہ امکان باقی رہتا ہے کہ کوئی ایسا فطری عمل دریافت ہو جائے جو ڈیزائنر پر انحصار کیے بغیر ان پیچیدگیوں کی سائنسی طور پر معقول توضیح فراہم کر سکے، یعنی کوئی ایسا ارتقائی طریقہ کار جو ابھی تک پوری طرح سمجھا یا دریافت نہ ہوا ہو۔
جب تک اس امکان کو قطعی طور پر رد نہ کر دیا جائے، اور ایسا نہیں کیا گیا، تب تک آئی ڈی کو خدا کے حق میں پیش کیا جانے والا استدلال عارضی اور مشروط ہی رہے گا۔ اشعری تناظر میں یہ بات نہایت مشکل پیدا کرتی ہے۔ امام غزالی کبھی بھی خدا کو ایسے عارضی مقام پر فائز نہیں کریں گے جسے مستقبل میں کسی نئے سائنسی انکشاف کی روشنی میں چیلنج کیا جا سکے، خواہ وہ امکان کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔ خدا اور فطری توضیحات کبھی ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں ہوتے۔ اشعری فکر میں خدا ہر شے کا اولین سبب (primary cause) ہے، جبکہ سائنسی توضیحات ثانوی اسباب (secondary causes) کی سطح پر کام کرتی ہیں۔ معاملہ ہمیشہ "خدا اور سائنسی توضیحات" کا ہوتا ہے، نہ کہ "خدا یا سائنسی توضیحات" کا۔
مختصراً، خدا کو ہماری عارضی سائنسی لاعلمی کے خلا کو پُر کرنے والی ہستی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک تمام متبادل توضیحات کو قطعی طور پر رد نہ کر دیا جائے، جو کہ عملاً نہایت دشوار ہے، اشعری نقطۂ نظر سے حیاتیاتی ڈیزائنر کو خدا کے ساتھ ہم معنی قرار دینا دراصل "God of the gaps" کی صورت اختیار کر لیتا ہے، خواہ آئی ڈی کے حامی اس کا انکار ہی کیوں نہ کریں۔
امکان کا مسئلہ (Contingency Problem)
اب تک بیان ہونے والے سب کچھ کے باوجود، غالباً سب سے اہم اور نزاعی مسئلہ وہ ہے جسے امکان کا مسئلہ کہا جا سکتا ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر امام غزالی کو آئی ڈی سے سب سے زیادہ اختلاف ہو سکتا ہے۔ پہلے جو اعتراضات بیان ہوئے وہ نیچے سے اوپر (bottom-up) زاویہ نظر پر مبنی تھے، یعنی تخلیق میں موجود پیچیدہ عناصر سے ڈیزائنر کے بارے میں کیا اخذ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس امکان کا مسئلہ اوپر سے نیچے (top-down) زاویے پر مبنی ہے۔ یہاں اصل سوال یہ ہے کہ خدا کی تخلیقی قدرت کی نوعیت کیا ہے؟ خدا کیا کچھ کر سکتا ہے؟ کیا وہ ہر طرح کی ممکنہ دنیا پیدا کر سکتا ہے، یا وہ چند مخصوص صورتوں تک محدود ہے؟
جیسا کہ باب 6 میں بیان ہوا، اشعری تصور کے مطابق خدا ہر اس شے کو پیدا کر سکتا ہے جو منطقی طور پر متناقض نہ ہو۔ مثلاً خدا تین سروں والے انسان پیدا کر سکتا ہے، اژدہے پیدا کر سکتا ہے، یا مختلف قوانین پر مبنی کوئی اور کائنات پیدا کر سکتا ہے۔ البتہ الٰہی قدرت کا اطلاق منطقی محالات پر نہیں ہوتا، جیسے مربع دائرہ۔ یہ خدا کی قدرت کی کمی نہیں بلکہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ ایسی چیزیں بذاتِ خود بے معنی ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے پوچھا جائے کہ اعداد کب سوئے؟ یا کہا جائے کہ رنگ کل چل رہے تھے۔ اعداد سونے والی ہستیاں نہیں اور رنگ چلنے والی چیزیں نہیں۔ یہ جملے ہی بے معنی ہیں۔ انہی مثالوں کے فرق سے واضح ہو جاتا ہے کہ خدا کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں۔
اس پس منظر میں خدا ایسی دنیائیں پیدا کر سکتا ہے جو اس دنیا جتنی پیچیدہ ہوں، اس سے زیادہ پیچیدہ ہوں (یعنی زیادہ باریک ترتیب یا زیادہ غیر محتمل صورتوں پر مشتمل ہوں)، یا اس سے کم پیچیدہ ہوں۔ اسی طرح قوانینِ فطرت کے اعتبار سے بھی خدا مختلف نوعیت کی کائناتیں پیدا کر سکتا ہے۔ وہ مکمل جبریت (determinism) پر مبنی کائنات بنا سکتا ہے جہاں ہر چیز قطعی اور غیر احتمالی ہو۔ وہ ایسی کائنات بھی پیدا کر سکتا ہے جس میں کچھ درجے کی غیر یقینی یا احتمالی نوعیت ہو، جیسا کہ ہماری کائنات میں ارتقائی اور کوانٹم قوانین کی صورت میں نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس وہ ایسی انتہائی بے قاعدہ اور افراتفری پر مبنی کائنات بھی بنا سکتا ہے جس میں کوئی باقاعدہ نظم نہ ہو اور سائنسی تحقیق ہی ممکن نہ ہو۔
جب خدا کی تخلیقی قدرت کے یہ امکانات سامنے رکھے جائیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈیزائن یا پیچیدگی کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ اشعری نقطہ نظر سے پیچیدگی یا ڈیزائن تخلیق کا ایک ممکنہ پہلو تو ہے، مگر ضروری نہیں۔ اگر ہم ان تمام ممکنہ تخلیقات کا تصور کریں جو خدا پیدا کر سکتا ہے تو پیچیدگی ان سب میں لازمی عنصر نہیں معلوم ہوتی، کیونکہ خدا مکمل سادہ یا مکمل افراتفری پر مبنی دنیائیں بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اس سے بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تخلیق کی تمام ممکن صورتوں کی بنیاد کیا ہے؟ اشعری جواب "امکان"ہے۔
امکان کے دو معنی ہیں۔ پہلا یہ کہ کوئی چیز وجود بھی رکھ سکتی ہے اور عدم بھی۔ انسان، انبیاء، دنیا، کائنات، فرشتے، جنت اور زمین، یہ سب ممکن تھے کہ وجود میں نہ آتے، مگر خدا نے انہیں وجود دیا۔ اشعری تصور میں کائنات کی ہر موجود چیز ممکن ہے، یعنی اس کا عدم قابلِ تصور ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اگر کوئی چیز وجود رکھتی ہے تو وہ مختلف اوصاف بھی رکھ سکتی ہے۔ یہ متن کسی بھی حجم، رنگ یا صورت میں ہو سکتا تھا۔ اس کے کسی خاص صورت میں ہونے کی کوئی ذاتی اور ضروری وجہ نہیں۔ اسی طرح پڑوسی کی گاڑی سفید ٹویوٹا ہو سکتی ہے یا زرد بیگل۔ گاڑی کی ذات میں کوئی ایسی لازمی خصوصیت نہیں جو اسے ایک خاص رنگ کا ہونا ضروری بنائے۔ دونوں تعریفوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اشیاء ویسی بھی ہو سکتی تھیں جیسی نہیں ہیں؛ وہ موجود بھی ہو سکتی تھیں یا نہ بھی ہوتیں، اور اگر موجود ہوں تو مختلف صورتیں اختیار کر سکتی ہیں۔
اشعری تصور میں پوری تخلیق بنیادی طور پر ممکن ہے۔ خدا کائنات اور اس کے تمام اجزا کو وجود میں لا بھی سکتا ہے اور عدم میں بھی رکھ سکتا ہے۔ اگر وہ انہیں وجود دے تو وہ کسی بھی منطقی طور پر ممکن صورت میں ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ خدا ایسی دنیا بنا سکتا تھا جہاں قوانینِ فطرت ہماری دنیا سے بالکل مختلف ہوتے، جہاں انسانوں کو کبھی پیاس نہ لگتی، یا جہاں آگ، جلانے کی خاصیت نہ رکھتی۔ اس باب کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ خدا کے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کی تخلیق باریک ترتیب یافتہ ہو، ڈیزائن شدہ ہو، غیر ڈیزائن شدہ ہو یا سادہ۔ یہ سب ثانوی امور ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا تخلیق میں کوئی ایسی ذاتی ضرورت ہے جو خدا کو اسے لازماً پیچیدہ یا باریک ترتیب یافتہ بنانے پر مجبور کرے؟ اس کا جواب ہے: نہیں۔ خدا سادہ اور پیچیدہ دونوں طرح کی دنیائیں پیدا کر سکتا ہے۔
مختصراً، ان تمام ممکنہ دنیاؤں میں جنہیں خدا پیدا کر سکتا ہے، ڈیزائن لازمی نہیں۔ جبکہ امکان ہر ممکن دنیا کی بنیادی خصوصیت ہے۔ آئی ڈی اور ارتقا کی بحث پر اس کا اثر واضح ہے۔ اگر کوئی محض اس بنا پر آئی ڈی کو اختیار کرتا ہے کہ وہ اسے خدا دوست محسوس ہوتی ہے اور ارتقا کو ملحدانہ سمجھتا ہے تو وہ ایک غلط دوئی پر انحصار کر رہا ہے۔ بلکہ اگر یہ مفروضہ مان بھی لیا جائے تو بھی محض اس لیے ارتقا کو رد کرنا کہ ڈیزائن زیادہ دلکش معلوم ہوتا ہے، اشعری تناظر میں غیر متعلق ہے۔ اسی لیے اتفاق، احتمال یا بظاہر عدمِ ڈیزائن اشعری الٰہیات کے لیے مسئلہ نہیں بنتے۔ اشعری تصور میں ڈیزائن کے مقابلے میں امکان زیادہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس بنا پر امام غزالی کے فریم ورک میں ایسی کسی سائنسی نظریے کو قبول کرنے میں کوئی الٰہیاتی رکاوٹ نہیں جو احتمال یا عدمِ ڈیزائن کے عناصر رکھتا ہو۔
اختتامیہ
اس باب کا مقصد یہ تھا کہ ذہین ڈیزائن (ID) کا اس کی اپنی بنیادوں پر، سائنسی اور الٰہیاتی دونوں زاویوں سے جائزہ لیا جائے۔ سائنسی اعتبار سے اس وقت آئی ڈی کی حیثیت غیر واضح ہے۔ ناقدین اور حامیوں کے درمیان بحث و مباحثہ جاری رہا ہے، اور یہ کہنا مشکل ہے کہ مستقبل کیا رخ اختیار کرے گا۔ فی الحال سائنسی برادری آئی ڈی کو ایک مستند سائنسی نظریے کے طور پر تسلیم نہیں کرتی۔
الٰہیاتی زاویے سے ہم نے آئی ڈی کا جائزہ دو طریقوں سے لیا: نیچے سے اوپر (bottom-up) اور اوپر سے نیچے (top-down)۔ نیچے سے اوپر کے زاویے سے دیکھا جائے تو نہ حیاتیاتی ڈیزائنر (BD) اور نہ ہی کائناتی ڈیزائنر (CD) لازماً خدا تک پہنچاتے ہیں۔ کسی ڈیزائنر سے خدا تک پہنچنے کے لیے اضافی دلائل درکار ہوتے ہیں، جو محض ڈیزائن کے استدلال فراہم نہیں کرتے۔ درحقیقت یہ مسئلہ ڈیزائن کے تمام دلائل کے ساتھ وابستہ ہے۔ خاص طور پر یہ بات اہم ہے کہ حیاتیاتی ڈیزائن توحید، لاادریت اور الحاد، تینوں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ ارتقا کو الحاد کے مترادف اور آئی ڈی کو خدا دوست قرار دینا بے بنیاد ہے۔ بعض مفکرین ارتقا کو مکمل طور پر رد کرنا چاہتے ہیں اور انہیں اس کا واحد متبادل آئی ڈی نظر آتا ہے، حالانکہ ارتقا اور آئی ڈی دونوں کو ایک توحیدی فریم ورک میں جگہ دی جا سکتی ہے۔ الحاد ارتقا کا لازمی نتیجہ نہیں، اور نہ ہی توحید آئی ڈی کا لازمی تقاضا ہے۔
اوپر سے نیچے کے زاویے سے ہم نے دیکھا کہ خدا پیچیدہ اور سادہ دونوں طرح کی تخلیقات پیدا کر سکتا ہے۔ وہ ہماری کائنات سے زیادہ سادہ یا اس سے زیادہ باریک ترتیب یافتہ کائناتیں بھی بنا سکتا ہے۔ خدا کی تخلیقی قدرت کے امکانات میں ڈیزائن کوئی ایسا بنیادی عنصر نہیں جو اسے لازماً اور خصوصی طور پر خدا سے مربوط کر دے۔ اس بنا پر تخلیق میں ڈیزائن کا ہونا یا نہ ہونا بذاتِ خود فیصلہ کن اہمیت نہیں رکھتا۔ اس سے ان مفکرین کے اس مفروضے کو بھی چیلنج ملتا ہے جو ڈیزائن اور خدا کے درمیان لازمی ربط قائم کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے یہ مراد نہیں کہ تخلیق میں ڈیزائن کے وجود کا انکار کیا جا رہا ہے، بلکہ صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ اشعری تناظر میں ڈیزائن خدا کی تخلیق کے لیے کوئی لازمی شرط نہیں ہے۔
(جاری)
