دس رمضان المبارک مطابق 28 فروری بروز ہفتہ علی الصباح امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ فضائی اور میزائیل حملوں کے ذریعے ایران کے فوجی تنصیبات، نیوکلیئر مقامات اور اہم سرکاری مراکز کو نشانہ بنایا، جن میں بڑے دھماکے اور جانی نقصان کی اطلاعات شامل ہیں۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے جب عمان کے وزیر خارجہ نے یہ اطلاع دی تھی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اچھے نتائج تک پہنچ رہے ہیں اور توقع ہے کہ جلد ہی کوئی معاہدہ ہوجائے گا۔
ایران نے بھی جوابی حملوں میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف میزائل داغے اور کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی۔ اس نے خلیجی ملکوں سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اور یہ اس کے جائز نشانے ہیں کیونکہ اگر آپ دشمن کو ہوسٹ کررہے ہیں اور اس پر آپ کی چلتی بھی نہیں اور دشمن وہاں سے کارروائی کرتا ہے تو آپ اس کے حقدار ہیں کہ آپ کو برابر کی سزا دی جائے۔ اور اس کے بارے میں ایران پہلے ہی بیان دے رہا تھا، اس لیے عمانی وزیر داخلہ کی رائے ہے کہ ایران کا یہ اقدام غلط تو ہے مگر اس کے علاوہ تہران کے پاس کوئی آپشن بھی نہیں۔
البتہ اس میں ایک خطرہ یہ چھپا ہوا ہے کہ بہت سے لوگ خاص کر مدخلی حضرات اس جنگ کو شیعہ سنی رنگ دینے میں لگ گئے ہیں۔ خلیج میں حکمرانوں کے علاوہ بہت بڑی تعداد میں لوگ ایران کو اپنے لیے ویسا ہی خطرہ سمجھتے ہیں جیسا کہ اسرائیل کو سمجھتے ہیں، جبکہ امریکہ کی کوششوں سے حکمرانوں کی سطح پر اسرائیل کے لیے خاصا نرم گوشہ پیدا ہوچکا ہے۔ ایران کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ اب تک خلیج کی ریاستوں نے ضبط سے کام لیا ہے مگر اس کے حملے برابر ہوتے رہے تو ناچار ان ریاستوں کو بھی جنگ میں بادل نخواستہ کودنا پڑے گا۔ اور اسرائیل کا عین یہی مقصد ہے۔
ایران اور خلیج کی ریاستوں کا تنازعہ پرانا ہے جس میں ایران نے اپنا انقلاب ان میں برآمد کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ ان ریاستوں نے ردعمل میں صدام حسین کی مالی اور عسکری مدد کرکے اس کے ذریعہ ایران پر حملہ کرایا اور نو سال تک دونوں ملک خونریز جنگ لڑتے رہے۔ اسی طرح شام کے ظالم و جابر علوی نظام کے ساتھ ایران جی جان سے کھڑا رہا اور ان سفاکوں نے لاکھوں سنیوں کا بے دریغ خون بہایا، وہ بھی خلیج کی سنی عرب آبادی بھول نہیں سکتی۔
لہٰذا ہم جو اسرائیل و امریکی جارحیت کی مخالفت کرتے ہیں تو اس کو اہون الشرین یا اہون البلیتین کے اصول پر دکھا جانا چاہیے۔ ہمارا تجزیہ یہ ہے کہ اس خطہ میں ایران کی وجہ سے ایک توازن ہے۔ اگر وہ تباہ ہوگیا تو پھر اسرائیل کو گریٹر اسرائیل کی طرف بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ عرب حکمران اور عوام ترکی قوت کو بھی اپنے خطہ میں برداشت نہیں کریں گے، نہ وہ ایران کو برداشت کرسکتے ہیں۔ تاہم یہ صرف ایران ہی ہے جو اب تک اسرائیل کا راستہ روکے ہوئے ہے، ترکی نہیں روک سکتا، وہ صرف زبانی بیان بازی پر اکتفا کرتا ہے۔ اس نے غزہ میں ستر ہزار معصوموں کا خون برداشت کرلیا مگر اسرائیل سے اپنی زبردست تجارت نہیں روکی!
امریکہ اور اسرائیل کی تیاریاں عموماً ایران کے جوہری پروگرام، عسکری صلاحیتوں، اور علاقائی اثر و رسوخ کو روکنے کی کوششوں کے تناظر میں بیان کی جاتی ہیں، جسے دونوں ملک اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ گرچہ سب جانتے ہیں کہ یہ سفید جھوٹ ہے۔ نتن یاہو باربار کہتا رہا ہے کہ شرقِ اوسط میں نیا نظام لانے کے لیے ایرانی محور کو گرانا ضروری ہے، اب اس نے اس میں توسیع کرکے موہوم سنی محور کو بھی شامل کرلیا ہے۔ اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ حماس اور غزہ کو تو اس نے تباہ کر دیا مگر سات اکتوبر کے حادثہ کے لیے سارے شرقِ اوسط کو سزا دینا ضروری ہے اور اس کے لیے یہاں نیا آرڈر لانا ہوگا جو اسرائیل کی چھتر چھایا میں کام کرے گا۔ افسوس کہ خطہ کے سبھی عرب ممالک اس پہلو سے بالکل غافل ہیں! نیویارک کی جامعہ کولمبیا کے پروفیسر حمید دباشی کا کہنا ہے کہ صہیونی لابی اس وقت امریکہ میں اتنی طاقتور ہوچکی ہے کہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی کہ نتن یاہو خواب دیکھتا ہے اور ٹرمپ اس کی تعبیر دینے کے لیے دوڑ پڑتا ہے۔
ایران کی غلطی محض اسٹرٹیجک ہے کہ وہ ان دونوں ملکوں کے خلاف ’’مرگ بر امریکہ اور مرگ بر اسرائیل ‘‘ کے نعرے لگاتا رہا ہے۔ جن کو مغربی میڈیا اپنے عوام کو دھوکہ دینے اور گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے اور اس کو ’’ملارجیم ‘‘ کے نفرت انگیز نام سے پکارتا ہے۔ مسلم دشمنی میں پلا بڑھا اور ہندوتوا کا مارا ہوا انڈیا کا قومی میڈیا اس معاملہ میں مغربی میڈیا سے بھی دس ہاتھ آگے ہے۔ شور و غوغا کرنے سے زیادہ اگر ایران نے خاموشی سے کام کیا ہوتا اور شمالی کوریا اور پاکستان کی طرح اب تک ایٹم بنا لیا ہوتا تو وہ دشمنوں کے لیے یوں ترنوالہ ثابت نہ ہوتا! اس کے بجائے علی خامنہ ای صاحب مرحوم حقیقت میں مغرب سے تعلقات بحال کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ابتدا میں انہوں نے فتویٰ جاری کیا کہ ایٹم بم اسلام کی روایات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ بات سی این این پر ایک امریکی یہودی ماہر مبصر نے اپنے انٹرویو میں بتائی۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر انہوں نے جو کچھ بھی پروگریس اس سمت میں کی تھی، اس کو مغرب کے ایٹمی اداروں کے سامنے نیک نیتی سے رکھ دیا تاکہ مغرب ایران پر سے اقتصادی پابندیاں اٹھالے۔ مگر مغرب نے ایسا نہیں کیا۔ جب آیت اللہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو بہت دیر ہوچکی تھی اور اب ان کا ایٹمی پروگرام ان کے ازلی دشمن اسرائیل کے نشانہ پر آچکا تھا۔ اس کے علاوہ ایران بڑی کمزوری کا مظاہرہ بھی اسرائیلی جارحیت کے سامنے کرتا رہا۔ اس کے سب سے بڑے ایٹمی سائنس دان محسن فخری زادہ کو نومبر 2020ء میں شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد اس کے سپہ سالار اعلیٰ قاسم سلیمانی کو مار دیا گیا۔ نیز اس کے مہمان اور حماس کے قائد اعلیٰ اسماعیل ہنیہ کو شہید کر دیا گیا اور اس کے بعد حزب اللہ کے کمانڈر حسن نصراللہ کو مار دیا گیا۔ ایران کا کوئی جواب اسرائیل کو نہیں گیا جس کو اس کی کمزوری پر محمول کیا گیا۔
بہرکیف جیریمی بوؤن، مدیر برائے بین الاقوامی امور (بی بی سی)، کا کہنا ہے کہ یہ وار آف چوائس ہے: امریکہ اور اسرائیل ایک ’موقع‘ دیکھ رہے تھے جسے وہ ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ:
’’امریکہ اور اسرائیل کے اس فیصلے نے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک نئی جنگ میں کود پڑیں، عالمی منظرنامے کو نہایت خطرناک اور غیر متوقع نتائج کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اسرائیل نے اپنے حملے کا جواز پیش کرنے کی کوشش میں اسے ’پیشگی اقدام‘ قرار دیا ہے۔ تاہم شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ حملہ کسی فوری خطرے کے جواب میں نہیں کیا گیا، جیسا کہ ’پیشگی اقدام‘ کے لفظ کا مطلب ہوتا ہے۔ حقیقت میں انھوں نے اس جنگ کو لڑنے کا خود انتخاب (وار آف چوائس) کیا۔ امریکہ اور اسرائیل نے یہ حساب لگایا ہو گا کہ فی الوقت ایران کی اسلامی حکومت بے حد کمزور ہے، یہ حکومت نہ صرف شدید معاشی بحران کا شکار ہے بلکہ ایرانی مظاہرین کے خلاف حالیہ سخت کریک ڈاؤن کے منفی اثرات سے بھی دوچار ہے، جبکہ گزشتہ موسمِ گرما میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد ایران کا دفاعی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔ یوں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو درپیش اس صورتحال کا یہ نتیجہ نکالا کہ یہ موقع ضائع نہیں ہونا چاہیے‘‘۔
حالانکہ ایران نے اپنی سی کوششیں کیں کہ اپنے دشمنوں کے خلاف تیاری بھرپور کرے۔ مگر شیعہ سنی تنافر اور اپنے انقلاب کو عرب ملکوں میں درآمد کرنے کی ایرانی پالیسی نے اسے خطہ میں یکتا و تنہا بنا دیا تھا۔ چنانچہ اس کی جو بھی پراکسیز تھیں (حماس، حزب اللہ اور حوثی) ان سب کو مروانے میں کئی عرب ملکوں نے اپنی کرسیاں بچانے کے لیے کلیدی رول ادا کیا، جس کی جھلکیاں خود عبرانی میڈیا اور نتن یاہو کے بیانات میں آتی رہتی تھیں۔ خاص طور پر اس وقت دنیا میں متحدہ عرب امارات تو بالکل بے نقاب ہوگیا ہے اب اس کو تو خود بعض عرب بھی اسرائیل و امریکہ کا Trojan Horse کہہ رہے ہیں۔ وہ دہائی سے ایک دوسرا اسرائیل بن گیا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کو بالواسطہ نقصان پہنچا رہا ہے۔ اور خود امریکی اخبارات نیویارک ٹائمز وغیرہ میں اس طرح کی اسٹوریز اور رپورٹیں شائع ہوچکی ہیں کہ MBS، MBZ اور دوسرے حکمراں مسلسل ٹرمپ کو فون کال کر کرکے دباؤ ڈال رہے تھے کہ جلد از جلد ایران پر حملہ کر دیا جائے اور اس کی عسکری صلاحیتیں تباہ کر دی جائیں۔ گرچہ یہ رپورٹیں محض مغربی پروپیگنڈا بھی ہوسکتی ہیں مگر ایسا امکان بہرحال موجود ہے کیونکہ یہ حکمراں ایران اور حماس جیسی تنظیموں کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
دوسرے، شدید اقتصادی پابندیوں نے ایران کا کچومر نکال دیا ہے اور عوام میں بھی بہت سی کالی بھیڑیں موجود ہیں جو موجودہ حکومت کو مغرب کے اشارے پر بدلنا چاہتی ہیں۔ ان میں کرد ہیں، مجاہدین خلق (کیمیونسٹ) ہیں اور کچھ سنی ہیں جن پر زیادتیاں کی گئی ہیں، اور جو خلیجی سنی عرب حکمرانوں کے پے رول پر ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل چاہتے تھے کہ ایران کا بنیادی عسکری انفراسٹرکچر مکمل تباہ کرکے ان لوگوں کو اندر سے اٹھایا جائے۔ موساد کے ہزاروں ایجنٹ پہلے سے اندرون ملک سرگرم ہیں، ان کے ذریعہ ایک مسلح بغاوت برپا کرانے کی کوشش برابر ہورہی ہے۔ اور موساد کے اندرونی طور پر نفوذ نے ثابت کردیا ہے کہ ایران میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے، اسرائیلی جب چاہیں جہاں چاہیں کسی کو بھی مار سکتے ہیں! یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ایران میں امام خمینی کی قیادت میں انقلاب آیا تو بمصداق ’’ہر انقلاب سب سے پہلے اپنے بچوں کو کھاتا ہے‘‘ خمینی حکومت نے اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو بند کرنے کے ہزاروں لوگوں کو بے محابا تختۂ دار پر چڑھا دیا تھا۔ اس وقت سے یہ لوگ اس رجیم کے خلاف ہیں اور موقع کے انتظار میں ہیں۔
ایران نژاد امریکن اسکالر ولی نصر کا کہنا ہے کہ ’’ایران کا جو ڈائسپورا مغرب میں موجود ہے اس کو ایرانی ثقافت یا اسلامی تشخص سے کوئی دل چسپی نہیں، ان کی ساری توجہ اپنے آپ کو مغرب کے رنگ میں رنگنے میں رہی ہے‘‘۔ پروفیسر مقتدر خان کا بھی یہی تجزیہ ہے کہ یہ لوگ اگر حکومت میں آئے تو سب سے پہلے یہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔ مغرب میں بیٹھا بھگوڑے آنجہانی شاہ ایران کا بیٹا رضا شاہ (ثانی) بھی میدان میں کودنے کی تیاری کررہا ہے اور ایرانی قوم کے نام پیغام جاری کرتا رہا ہے کہ امریکی حملے موجودہ نظام کو بڑی تک کمزور کردیں گے اور اب ان کی باری ہے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور نظام کی باگیں اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ اس کے بعد وہ اپنی ٹیم کے ساتھ ایران میں آجائے گا اور نئے انتخابات کروائے گا۔ تاہم خود ایران میں شاہ کے حامی بہت ہی کم ہیں اور وہ کسی قیمت پر ملوکیت کی واپسی نہیں چاہتے، اس لیے پہلوی کے سپنے شاید مونگیری لال کے سپنے ہی بن کر رہ جائیں گے۔ اور جنگ کے دو ہفتے گزرنے کے بعد بھی امریکہ اور اسرائیل کی یہ توقع پوری نہیں ہوئی کہ اندر سے بغاوت ہو جائے گی اور ہمارا کام آسان ہوجائے گا!
انسانی تباہی اور جانی نقصان
ایک براہِ راست جنگ میں فوجیوں کے ساتھ بڑی تعداد میں عام شہری اور بے گناہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ایران میں اسکولوں، رہائشی علاقوں اور بنیادی ڈھانچوں پر حملوں سے بڑی ہلاکتیں اور زخمیوں کی رپورٹیں آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ فی الحال ایران کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے ہیں اور ان کے داماد اور ان کی اہلیہ بھی شہید ہوئی ہیں۔ علی شمخانی اور علی لاریجانی کے علاوہ اور کئی بڑے کمانداروں کی شہادت بھی ہوچکی ہے۔ لیکن ایران کے لیے یہ عام بات ہے اور اس سے قوم کا حوصلہ نہیں ٹوٹا ہے۔ کیونکہ شیعہ اسلام میں شہادت کے بعد اسلام اور زیادہ تقویت پاتا ہے، کربلا (قطع نظر اس کی واقعیت کے) اسلامی ادبیات میں ظلم کے خلاف مزاحمت کا عظیم استعارہ ہے۔
؎ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
جبکہ اسرائیلی ڈاکٹرائن یہ ہے کہ اعلیٰ قیادت کو سب سے پہلے ختم کیا جائے تاکہ حریف کا مورال بالکل ٹوٹ جائے۔ اسرائیل اپنی ہر جنگ میں اس ڈاکٹرائن کا استعمال اپنی زبردست جاسوسی قوت کے ذریعہ کرتے رہے ہیں۔ جہاں ان کی انٹیلی جنس ناکام ہوئی، وہ یہ ہے کہ وہ یہ پتہ نہیں لگا سکے کہ ایران کی ماسبق جنگوں کے بعد جنگی اسٹریٹیجی ڈیولپ ہوچکی ہے اور تبدیل ہوچکی ہے۔ میناب کے علاقہ میں امریکہ نے معصوم بچیوں کے ایک اسکول کو تباہ کر دیا جس سے تقریباً ڈیڑھ سو بچیاں اور ان کی استانیاں شہید ہوگئیں! افسوس کہ اقوام متحدہ تک میں اس پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ البتہ اطالیہ کی وزیراعظم میلونی نے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اب تک اسرائیل اور امریکہ ایران پر تقریباً پندرہ ہزار حملے کرچکے ہیں۔ جن میں اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایران کی سول فیسیلٹیز (شہری عمارتیں) تباہ ہو رہی ہیں۔ کیونکہ دنیا کے یہ ’’مہذب قاتل‘‘ کسی مسجد، اسپتال اور اسکول، پانی کی ٹنکی وغیرہ کو بھی نہیں چھوڑتے جیساکہ انہوں نے غزہ کے اندر کیا ہے۔
عالمی سفارتی بحران
ویسے تو اقوام متحدہ، یورپ اور متعدد ممالک نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ کیا اور اس حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا، جس سے عالمی سطح پر امریکہ اور اسرائیل پر تنقید بڑھ گئی ہے۔ مگر دنیا میں نہ اس وقت یورپ کی کوئی اوقات ہے، بلکہ جرمنی اور انگلینڈ کے ہوائی اڈے تو ایران پر حملہ میں استعمال ہورہے ہیں، اسی طرح اقوام متحدہ کو بھی عالمی طاغوت ٹرمپ نے کالعدم کرکے رکھ دیا ہے۔ تاہم امریکہ کے روایتی حلیف سب بلند آواز سے اب یہ کہنے لگے ہیں کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے، اس کی شروعات آپ نے کی ہے، اس کے نتائج بھی آپ بھگتو! اب ٹرمپ ان کو لتاڑنے اور گالیاں دینے پر اتر آیا ہے۔
اس لیے اندازہ یہی ہے کہ اگر ایران حوصلہ دکھاتا ہے اور امریکی اڈوں، اس کے بیڑوں اور اسرائیل پر حملے جاری رکھتا ہے تو امریکہ اس جنگ میں ویسے ہی پھنس جائے گا جیسے روس یوکرین میں پھنسا ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ روس کے مقابلہ میں یوکرین کو یورپ کی ہر طرح کی مالی، تربیتی، عسکری لاجسٹک سپلائی کی بڑے پیمانہ پر امداد حاصل ہے، جبکہ ایران کے ساتھ کوئی نہیں کھڑا ہے۔ اس کے سب عرب مسلم پڑوسیوں کی درپردہ خواہش یہی ہے کہ ایران تباہ ہوجائے، یا کم از کم اتنا کمزور ہوجائے کہ مستقبل میں وہ ان کے لیے کوئی خطرہ نہ بن سکے۔ قیاس ہی کیا جاسکتا ہے کہ روس اور چین کی خفیہ امداد انٹیلی جنس اور ضروری معلومات کی حد تک شاید اسے بھی مل رہی ہو گی۔ کیونکہ ایران میں اپنی مرضی کی حکومت لا کر امریکہ اصل میں چین اور روس کو بھی دنیامیں contain کرنا چاہتا ہے۔
اسرائیل کے اعلان شدہ مقاصد ایران کی عسکری قوت کو توڑنا، اس کی نیوکلیر توانائی کو برباد کرنا، اور میزائیل ٹیکنالوجی کو ختم کرنا ہیں۔ تاکہ اس طرح پورے خطہ میں اس کے خلاف کوئی بھی قوت کھڑی نہ ہوسکے اس کو یقینی بنانا ہے۔ جیساکہ وہ کامیابی سے امریکہ اور نیٹو کی مدد سے لیبیا، شام، عراق، کو پہلے ہی ختم کرچکا ہے۔ قطر، بحرین، کویت اور اردن و متحدہ عرب امارات وغیرہ رجواڑے اس کے پالے میں آچکے ہیں۔ ایران کے ختم کر دیے جانے کے بعد سعودی عرب کے پاس بھی اس کی آقائی مان لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ ایران کا محور شیعی تھا جو طاغوت کے خلاف ہمیشہ کھڑا رہا ہے۔ اب بچے گا نیا ابھرتا ہوا نام نہاد سنی محور جو ترکی پاکستان اور سعودی عرب پر مشتمل ہے، تو اس کے خلاف بھی جنگی مجرم نتن یاہو نیا محاذ کھڑا کررہا ہے۔ امریکہ نتن یاہو کی غلامی کرنے پر مجبور ہے، دوسرا ملک جو اس کے ساتھ کھڑا ہوگا وہ انڈیا ہے۔ نریندر مودی اور دہشت گرد نتن یاہو کا قارورہ مسلم دشمنی میں ایک دوسرے سے ملتا ہے۔
جبکہ امریکہ کے مقاصد اصل میں اسرائیلی مقاصد کو پورا کرنے کے ساتھ ہی دنیا بھر کے تیل پر قبضہ کرنا ہے۔ وینزویلا میں انہوں نے جو کچھ کیا اس کا سبب بھی یہی تھا مگر وینزویلا کا تیل بہت بھاری ہے۔ ایران اور لیبیا کے پاس بلکہ پورے خلیج کے پاس جو تیل ہے وہ امریکہ اور یورپ خام حالت میں بڑا سستا خریدتے ہیں اور پھر اس کو ریفائن کرکے دنیا بھر کو مہنگا بیچتے ہیں اور اسی سے ان کی اکانومی دوڑ رہی ہے۔ اس لیے امریکہ بلکہ یوں کہیے کہ مغرب ہرحال میں مشرقِ وسطیٰ پر اپنا تسلط بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل ان کی سامراجی چوکی ہے جس کی حفاظت وہ جی جان سے کرتے ہیں۔ اور اس میں ایک مذہبی زاویہ بھی ہے کہ صہیونی عیسائی جو اس وقت امریکہ کے حکمراں ہیں، وہ اسرائیل کی حفاظت اپنا ایک مقدس مذہبی فریضہ جانتے ہیں۔ جس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں، یہاں تک کہ خود امریکی مفادات بھی اس کے لیے قربان کیے جاسکتے ہیں۔
اسی سیاق میں اسرائیل میں امریکی سفیر مائک ہکبی کا ابھی تازہ انٹرویو جو اس نے امریکہ کے مشہور براڈکاسٹر ٹرک کارلسن کو دیا تھا، یاد کر لیں۔ اس انٹرویو میں مائک ہکبی صاف طور پر کہہ رہا ہے کہ بائبل کے مطابق شرقِ اوسط خداتعالیٰ نے اسرائیل کو دیا ہے اس لیے اگر اسرائیل نیل سے فرات تک کا علاقہ چھین لیتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ (اس کے اشارہ کردہ خطہ میں سعودی عرب، اردن، مصر، شام اور پورا فلسطین غزہ و مغربی کنارہ سب شامل ہے۔) یاد رہے کہ عربوں کے شور مچانے کے باوجود وائٹ ہاؤس سے مائک ہکبی کے اس بیان کی کوئی تردید نہیں آئی۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر خود ٹرمپ نے اب سے پہلے یہ بیان دیا تھا کہ اسرائیل اپنے رقبہ کے لحاظ سے چھوٹا ملک ہے، اس کو اور علاقہ چاہیے۔ اس سب کے باوجود مسکین عرب ممالک اپنی خارجہ پالیسی بدلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بلکہ صحیح معنی میں ان کی اب تو کوئی خارجہ پالیسی ہے ہی نہیں ہے کیونکہ جب سے امریکہ میں ٹرمپ برسراقتدار آئے ہیں ان غریبوں کو اس کے سامنے
؎ سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے
کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں رہ گیا ہے۔ انہوں نے اپنے ملکوں کی حفاظت کے لیے کوئی آرمی نہیں بنائی۔ جو آرمی ہے وہ بس ان کی کرسی کی حفاظت کرتی ہے اور عوام میں موجود اسلام پسندوں کو دباتی کچلتی ہے۔ انہوں نے اپنی حفاظت پوری امریکہ کو گروی رکھی ہوئی ہے۔ اس پالیسی پر ان ملکوں پر بادشاہت ہونے کی وجہ سے کوئی چوں بھی نہیں کرسکتا، اگر کوئی کرتا ہے تو جیل کی سلاخوں کے پیچھے یا سیدھے تختۂ دار پر پہنچا دیا جاتا ہے!
اب اس بحران کے موقع پر خلیج میں بعض لوگ یہ کہتے ضرور سنے گئے کہ امریکہ نے اس مشکل کی گھڑی میں ہمارا ساتھ چھوڑ دیا، اس نے اپنی ساری دفاعی قوت اسرائیل کے تحفظ و دفاع پر لگا دی اور ہمیں ایران کے سامنے کھلے آسمان کے نیچے چھوڑ دیا، اس لیے ہمیں ایک متحدہ محاذ بنانا چاہیے۔ قطر کے سابق وزیراعظم حمد بن جاسر نے خلیج کے سبھی حکمرانوں کے نام اس مضمون کا خط لکھا ہے۔ لیکن اس کا کوئی اثر عملاً بھی ہوگا؟ اس میں ہمیں بہت شک ہے۔ کیونکہ عالم عرب میں جو فکری فضا ہے وہ بہت مایوس کن ہے اور وہ پوری طرح حکمرانوں اور ایلیٹ کلاس کے ہاتھ میں ہے جو مغرب کے سامنے بہت پہلے سپرڈال چکے ہیں۔ وہ کئی جنگوں میں اسرائیل سے شکست کھا کر اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ مغرب سے نہیں لڑ سکتے۔ چنانچہ وہ چپ چاپ غزہ کا قتلِ عام دیکھتے رہے اور ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کا منظر پیش کرتے رہے!
عالمی اقتصادی اثرات
ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی میں شدید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، کیونکہ خلیج کے راستے دنیا کا تیل اور گیس گزرتا ہے۔ جنگ کی وجہ سے توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور عالمی تجارت متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ شمالی افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا تک اثرات ممکن ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ علاقائی طاقتیں ترکی، مصر اور سعودیہ یا حملہ آوروں کے ساتھ شامل ہیں یا ساحل کے تماشائی!
روس نے اس حملے کو غیر مجاز اور جارحانہ قرار دیا جس سے امریکہ، روس اور دیگر عالمی قوتوں کے درمیان سفارتی تعلقات میں تناؤ بڑھ سکتا ہے۔ چین بھی ایسے حملوں کی مذمت کر چکا، جس سے عالمی جغرافیائی سیاسی محاذ آرائی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر جارحیت صرف ایک عسکری تنازع نہیں ہے بلکہ یہ ایک وسیع الجہتی عالمی بحران ہے جس کے انسانی، اقتصادی، سیاسی اور جغرافیائی اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔ اگر فوری طور پر جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات نہ ہوئے تو یہ طویل، گہرے اور تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے اور یوکرین جیسے حالات پیدا ہوتے ہیں تو امریکہ کی معیشت بھی اس کو اس کی اجازت نہیں دے گی کہ وہ خطہ میں مزید تباہی و بربادی پھیلائے۔ گرچہ اس کا امکانات ابھی بظاہر محدود ہیں۔
شہید علی خامنہ ای 1989ء سے ایران کے سپریم لیڈر تھے اور ان کا منصب محض علامتی نہیں بلکہ عملی اور فیصلہ کن اختیارات کا حامل ہے۔ وہ مسلح افواج، عدلیہ، سرکاری میڈیا اور اہم مذہبی و سیاسی تقرریوں پر براہِ راست اثر رکھتے تھے۔ مذہبی حکومت کے اپنے مثبت و منفی اثرات ہوتے ہیں جیساکہ ملوکیت کے بھی ہوتے ہیں اور جمہوریت کے بھی۔ دیکھا جائے تو دنیا میں جتنا فساد اور جتنی دہشت نام نہاد جمہوری امریکہ اور ’’جمہوری‘‘ اسرائیل دنیا بھر میں مچائے ہوئے ہیں اتنا تو فوجی ڈکٹیٹر، آمر یا بادشاہ بھی نہیں مچا پاتے۔ تو مذہبی حکومت کی سخت گیری سے اگر ایران میں بہت سے لوگ اس نظام کے خلاف ہیں تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اس کا سبب بھی تو امریکہ اور یورپ ہی ہیں جنہوں نے سولہ قسم کی سخت اقتصادی پابندیاں ایران پر دہائیوں سے لگا رکھی ہیں۔ ایسے میں اگر مذہبی حکومت نہ ہوتی خالصتاً سیکولر لبرل حکومت ہوتی مگر وہ مغرب کی ہاں میں ہاں نہ ملاتی تو بھی یہی ہونا تھا۔
آخر بدنام زمانہ رضا شاہ پہلوی سے پہلے 1956ء میں عوامی طور پر مقبول ڈاکٹر مصدق کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کو امریکہ نے ہی سی آئی اے کے ذریعہ فوج کو استعمال کرکے گروایا تھا اور انہیں تختۂ دار پر چڑھا دیا تھا۔ وہ تو مذہبی نہیں تھے بس ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے تیل کی صنعت کو قومیایا تھا، جس نے امریکہ ان سے سخت ناراض ہو گیا تھا۔ اسی طرح صدام حسین اور کرنل قذافی تو مذہبی نہیں تھے! ہم اس مذہبی حکومت کی زیادتیوں کو جواز نہیں دے رہے۔ واقعہ یہ ہے کہ لاکھوں لوگ اس کی سختیوں اور درازدستیوں سے تنگ ہیں، ابھی ایران کے وجود کو خطرہ ہے، اس لیے وہ حکومت کے پیچھے کھڑے ہوگئے ہیں لیکن ان کی شکایتیں حقیقی ہیں اور ایران کو اگر باقی رہنا ہے تو ان کی شکایتوں کا ازالہ اس کی پہلی ذمہ داری ہوگی۔
بہرحال خامنہ ای کا قتل تو ہوگیا مگر وہ اپنی ممکنہ شہادت کے پیش نظر اس کا پہلے ہی بندوبست کرچکے تھے اور نئے لوگوں کو قیادت سونپ چکے تھے۔ جس کے تحت قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین علی لاریجانی بنے اور ان کی شہادت کے بعد سعید جلیلی۔ اور حکومت کا نظم و نسق صدر مسعود علی پزشکیان، علی محسنی وغیرہ مل کر چلا رہے ہیں۔ اب خاص طور پر Islamic Revolutionary Guard Corps یعنی پاسدارانِ انقلاب اس صورتحال میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں اور داخلی کنٹرول کو مضبوط بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
داخلی طور پر اگرچہ ایران میں معاشی دباؤ، نوجوانوں کی بے چینی اور سماجی احتجاج کی تاریخ موجود ہے، لیکن بیرونی حملے یا اعلیٰ قیادت کے قتل جیسا واقعہ اکثر قوموں کو وقتی طور پر متحد کر دیتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری نہیں کہ ایسا واقعہ نظام کے خاتمے کا سبب بنے، بلکہ زیادہ امکان یہ ہے کہ ریاستی بیانیہ مضبوط ہو، قومی سلامتی کے نام پر سخت اقدامات کیے جائیں، اور اختلافِ رائے پر مزید پابندیاں لگیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ سپریم لیڈر کا قتل ایران میں فوری نظامی تبدیلی نہیں لا سکا بلکہ اس سے عسکری اداروں کا اثر و رسوخ اور بڑھ گیا ہے، اس لیے اب مزید نظریاتی سختی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور خطے میں عدمِ استحکام پھیل سکتا ہے۔ اس قسم کے اقدام کے نتائج محدود اور مقامی نہیں ہوں گے بلکہ اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے لے کر عالمی طاقتوں کی سیاست تک محسوس کیے جائیں گے۔
دو تین باتوں کی طرف اور اشارہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے:
امریکہ اور اسرائیل کے ان حملوں میں پوری مسلم امہ (اگر وہ کہیں موجود ہے!) کے لیے ایک سبق یہ ہے کہ مسلمان موجودہ دور میں میدان میں نہیں شکست نہیں کھا رہے بلکہ ان کی انٹیلی جنس ناکامی شکست کا سب سے بڑا سبب ہے۔ گزشتہ سال 12 روزہ اسرائیلی حملہ میں بھی ایران نے سب سے زیادہ مار اسی میدان میں کھائی۔ اب بھی دشمن علی الاعلان ہفتوں مہینوں سے یہ کہہ رہا تھا کہ ہم اعلیٰ مذہبی قیادت، سیاسی رہنماؤں اور فوجی کمانڈروں کو پہلے نشانہ بنائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ رہبر معظم شہادت کے وقت اپنے آفس میں کیوں موجود تھے؟ ایران نے ایسے بنکر کیوں نہیں بنائے جس میں اپنے مذہبی قائدوں اور سائنس دانوں کو بچایا جاسکے؟ اسرائیل نے تو اتنے بڑے بڑے بنکر بنا رکھے ہیں کہ سارے شہری ان میں زیر زمین چلے جاتے ہیں! ہم تاریخ سے کوئی سبق نہیں لے رہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ نے اپنے سے دس دس گنا صلیبیوں کو ناکوں چنے چبائے تھے، صرف اپنے انٹیلی جنس کی نظام کی برتری سے۔ یہی سبق ہمیں پھر سے سیکھنا ہوگا۔
ایران پہلے سے کہہ رہا تھا کہ ہم حفظ ماتقدم کے طور پر اسٹرائک کریں گے مگر وہ نہیں کرسکا۔ جبکہ ایک دو دن پہلے سے ہی یہ آثار ہو چلے تھے کہ اس پر اب حملہ ہوا کہ تب ہوا۔ مگر وہ اس بار بھی امریکہ سے مذاکرات کے جھانسے میں ہی رہا اور پری امپٹو اسٹرائک (اقدامی حملہ) نہیں کرسکا۔ اگر وہ کر دیتا تو شاید اتنے بڑے جانی نقصانات نہ ہوتے۔ البتہ یہ کریڈٹ اس کو ضرور دینا ہوگا کہ گزشتہ سال اس کو سنبھلنے میں 12 گھنٹے لگے تھے اور اس نے جوابی حملے شروع کیے تھے۔ اس بار اس کا جوابی حملہ محض ایک گھنٹہ بعد شروع ہو گیا۔
اپنے پڑوس میں ایران نے بدقستمی سے دوست کم دشمن زیادہ بنائے۔ اب اس کے پراکسی کسی قابل نہیں رہ گئے ہیں۔ دشمن نے ان کو بری طرح توڑ دیا ہے۔ اگرچہ حزب اللہ اس جنگ میں دوبارہ کود پڑی ہے۔ ایران کو پڑوس میں اچھے تعلقات بنانے پر زیادہ زور دینا چاہیے تھا۔ پڑوس اگر آپ کے ساتھ نہیں ہے تو پھر آپ دشمن کے لیے کھلے ٹارگیٹ بن جاتے ہیں۔
ان سنی ممالک کو جو چین کی بانسری بجا رہے ہیں جن میں سعودی عرب، ترکی و مصر ہیں کو بھی اپنی خیر منانی چاہیے۔ عالمی طاغوت کے راستہ کی شرقِ اوسط میں ایران آخری چٹان ہے۔ اگر وہ ہٹ گئی تو پھر اسرائیل مصر اور ترکی کو بھی نہیں چھوڑے گا۔ سعودی عرب کی سرزمین پر تو اس کی پہلے سے نظر بد ہے۔ جس میں اسے سعودیوں کے آقا ٹرمپ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ سعودی عرب ہر سال کروڑوں کے ہتھیار تو امریکہ سے خریدتا ہے مگر ان ہتھیاروں کو چلانے والے ہاتھ کہاں سے لائے گا؟ اس کا تیل اور بڑی ثروت اس کو اسرائیل سے نہیں بچا پائیں گے۔
جنگ کو شروع ہوئے دو ہفتے ہوچکے ہیں۔ اس کی ابتدا میں ہی ہم نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ کہیں یہ تھوپی ہوئی یہ ظالمانہ جنگ امریکہ کے لیے دوسرا یوکرین نہ ثابت ہو! اس میں شک نہیں کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت ہے اور وہ ٹرمپ کے زمانہ میں کچھ زیادہ ہی طاقت کے نشہ میں چور ہیں۔ جنگ بنیادی طور پر میدان سے پہلے Perception کی سطح پر لڑی جاتی ہے۔ مغربی میڈیا، جو اصل میں دنیا بھر کے میڈیا کا اجارہ دار ہے، جنگ سے پہلے ہی امریکہ کے حق میں لامتناہی پروپیگنڈہ کرکے اس کا narrative سیٹ کردیتا ہے۔ جس سے امریکہ کے حریف کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے وینزویلا میں کیا۔ مگر ایران نے اس مِتھ (گمان) کو بھی توڑ دیا ہے اور سارے بیانیے کو چیلنج کردیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا کہ وہ اس جنگ کو بس دو تین دن میں سمیٹ دیں گے۔ مگر ان کو پتہ نہیں تھا کہ ایران اسی سیناریو کے لیے دہائیوں سے تیاری کررہا تھا۔
رہبر معظم اور اپنی ٹاپ قیادت کے خاتمہ کے بعد بھی IRGC نے اپنی پوری جنگ کو ڈی سینٹرلائزڈ کر دیا اور فوج کو 32 آزاد اور خود مختار یونٹوں میں بانٹ دیا، جس کو کسی کمانڈ اور کنٹرول کی ضرورت نہ تھی، جس کو عسکری زبان میں موزائک ڈفینس کہتے ہیں۔ دوسرے، انہوں نے جنگ کے دائرہ کو بہت پھیلا کر امریکہ کے اقتصادی مفادات کو نشانہ پر لیا۔ اسرائیل پر لگاتار ضرب لگائی۔ اس کا اندازہ تھا کہ خلیج کے امریکی مفادات پر ضرب لگنے سے خلیجی ممالک اپنے اقتصادی نقصانات سے بچنے کے لیے امریکہ پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ اس جنگ کو روک دے۔ مگر عرب ممالک تھوڑی سی کوشش کرنے کے بعد یہ نہیں کر سکے۔ اب ایران نے پلان B کے تحت آبنائے ہرمز کو بند کرکے دنیا کے بہت سے ممالک کے لیے گیس اور تیل کی سپلائی روک دی ہے۔ وہاں ایک ہزار جہاز روکے ہوئے اور ایران کی اجازت کے منتظر ہیں۔ اس سے ساری دنیا میں شدید معاشی بحران دیکھنے میں آرہا ہے۔
شروع میں ٹرمپ نے دھمکیاں دیں، بڑھکیں ماریں ’’ہم جنگ پہلے دو گھنٹوں میں ہی جیت لی تھی، ہم نے ایران کی فضائیہ اور نیوی مکمل تباہ کر دی ہے، ہم نے ایران کے میزائل پروگرام تباہ کر دیے ہیں‘‘۔ مگر دنیا دیکھ رہی ہے کہ ایران تابڑ توڑ اسرائیل اور امریکی مفادات پر حملے کررہا ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ لوگ ہمت کریں اپنے جہاز لے کر نکلیں ہم اسکارٹ (حفاظت) دیں گے۔ مگر ان کی بات پر کسی نے یقین نہیں کیا کہ عملاً ایران وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہا تھا اور امریکی نیوی نے ان کو اسکارٹ دینے سے معذوری ظاہر کر دی تھی۔ اب ٹرمپ دنیا کے اپنے حلیفوں سے اور ای یو کے ان ملکوں سے بھی، جن کو روزانہ وہ ذلیل کرتے رہتے تھے، کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے بحری بیڑے بھیجیں اور آبنائے ہرمز کو خالی کروائیں۔ مگر ان کی یہ گہار بھی بے سود ثابت ہوئی اور سبھی نے اپنی فوج بھیجنے سے منع کر دیا ہے۔
اب ٹرمپ اس بندگلی میں پھنس گیا ہے جس کو ’ نہ جاء ماندن نہ پائے رفتن‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس نے خلیج کے ملکوں کو بھی اس جنگ میں شامل ہونے کے لیے اکسایا مگر اب وہ بھی شاید اس کھیل کو سمجھ رہے ہیں، اس لیے محض اپنے دفاع تک محدود ہیں، اس سے آگے وہ جا بھی نہیں سکتے۔ ایران اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی قوت کے آگے بے حد کمزور ہے مگر ابھی فی الحال جنگ اسی کے کنٹرول میں ہے۔ اس نے شروع میں ہی کہہ دیا تھا کہ جنگ شروع آپ نے کی ہے، ختم ہم کریں گے۔ حزب اللہ بھی اس جنگ میں ایران کے ساتھ شریک ہو گئی ہے۔ جبکہ ایران کے پاس آبنائے ہرمز کے علاوہ ایک ترپ کا پتہ ’’باب المندب‘‘ بھی ہے جس کو ایران کے اشارہ کے منتظر یمن کے حوثی کسی بھی وقت بند کر سکتے ہیں۔ امریکہ کا بظاہر ایران کی تباہی و بربادی کے علاوہ کوئی ہدف پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ وہ اس جنگ سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے، جو ابھی نظر نہیں آرہا ہے۔ جبکہ اسرائیل اس کو مزید طول دینا چاہتا ہے تاکہ امریکی فوج کے ذریعہ ایران میں زیادہ سے زیادہ تباہی کروا دی جائے، مگر ساتھ ہی اس کا اپنا نقصان بھی بڑے پیمانہ پر ہورہا ہے جس کو میڈیا سنسرشپ کے ذریعہ اس نے چھپایا ہوا ہے۔ ابھی تک سارا فائدہ اسرائیل کو ہورہا ہے کہ ایران تباہ ہو رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عرب میڈیا کو جتنا بھی ہم نے دیکھا، الجزیرہ کو چھوڑ کر، اسرائیل کہیں سرے سے زیربحث ہی نہیں آتا۔ ان کے صحافی، علماء اور اسکالر و مبصرین تو سارا نزلہ صرف ایران پر گرا رہے ہیں۔ اس جنگ کے خطہ پر صہیونی نقطہ نظر سے کیا طویل اثرات ہوں گے، ان کا یہ سرے سے فوکس ہی نہیں!
بہرحال ابھی یہ جنگ ہاتھی اور چونٹی کا مقابلہ ہے۔ بس یہ ہے کہ چونٹی ہمت اور حوصلہ دکھا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کسی اسٹریٹیجی سے عالمی طاغوتوں کو شکست دے پائی گی یا پاؤں تلے کچل دی جائے گی اور عالمی ظلم و استبداد کی مزاحمت کا آخری قلعہ بھی ڈھ جائے گا؟ البتہ جنگ کو طول دینا اِس وقت ایران کے حق میں ہے، حملہ آور قوتیں جلد از جلد ایران کو تباہ کرنا چاہتی ہیں مگر ایران جتنا بھی دفاعی جنگ کو کھینچتا جائے گا اتنا ہی اس کے لیے بہتر ہوگا اور اس میں جارح قوتوں کا نقصان ہے۔ اس لیے کہ حکومتوں کے موقف کے بالکل برعکس دنیا بھر کے عوام واضح طور پر ایران کے ساتھ ہمدردی کررہے ہیں اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف ان کا غصہ بڑھتا جارہا ہے جو آخری تجزیہ میں ایران کے حق میں جائے گا۔
