نشست کا آغاز عمار خان یاسر کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ انہوں نے مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں مقامات (شکاگو اور پاکستان) کے درمیان دس گھنٹے کے فرق کی وجہ سے مناسب وقت تلاش کرنا ایک چیلنج ثابت ہوا جس کے بعد یہ نشست آخرکار ممکن ہو سکی۔ عمار خان یاسر نے بتایا کہ ان کی ڈاکٹر صاحب سے پہلی ملاقات 2018ء میں ہوئی تھی جب وہ خود فیصل آباد میں جامعہ اسلامیہ امدادیہ میں پڑھ رہے تھے اور مشکوٰۃ شریف کا سال تھا۔ تب ڈاکٹر صاحب پہلے ہی بہت مقبول تھے جبکہ وہ خود اس میدان میں نئے تھے، لیکن ڈاکٹر صاحب نے بڑی شفقت سے وقت دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج آٹھ سال بعد دوسری بار یہ نشست منعقد ہو رہی ہے اور ڈاکٹر صاحب کے مداحین کی بڑی تعداد اس گفتگو کی منتظر تھی۔ عمار خان یاسر نے ڈاکٹر الواجدی صاحب کو ان کی دینی خدمات اور خاص طور پر الحاد کے حوالے سے ان کے کام پر مبارکباد پیش کی۔
اس موقع پر عمار خان یاسر نے نئے سامعین کے لیے بتایا کہ ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں، ان کے والد صاحب بھی وہاں استاد رہے ہیں، جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے۔ ڈاکٹر الواجدی صاحب نے ملائیشیا کی اسلامک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے اور اس وقت امریکہ میں ’’دارالعلوم آن لائن‘‘ کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ چلا رہے ہیں۔ ان کے یوٹیوب اور فیس بک پر دس لاکھ سے زائد فالوورز ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر متعدد ملحدین ان کی گفتگو سے متاثر ہو کر کلمہ پڑھتے ہیں۔
آبائی و تعلیمی پس منظر
انٹرویو کا آغاز کرتے ہوئے عمار خان یاسر نے ڈاکٹر الواجدی صاحب سے ان کے تعلیمی پس منظر اور دیوبند سے امریکہ تک کے سفر کے بارے میں استفسار کیا۔
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے بتایا کہ ان کا آبائی تعلق دیوبند کی سرزمین سے ہے۔ کم از کم پانچ نسلوں سے ان کی ددھیال وہاں آباد ہے اور ننھیال کئی سو سالوں سے وہیں مقیم ہے۔ اسی نسبت کی وجہ سے دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کرنا ان کے لیے ایک فطری امر تھا۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد بقیہ تعلیم دارالعلوم دیوبند میں مکمل کی۔ وہاں سے فراغت کے بعد انہوں نے افتاء کیا، پھر تکمیل ادبِ عربی کیا۔ اس کے بعد تقریباً دو سال کے لیے امریکہ آئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی ننھیال 1981ء/1982ء میں دیوبند سے منتقل ہو کر امریکہ میں آباد ہو گئی تھی، اور ان کے نانا نے وہاں ایک مدرسہ بھی قائم کیا تھا جسے مفتی طارق مسعود صاحب نے گزشتہ سال اپنے ولاگ میں دکھایا تھا۔ بچپن سے تعطیلات میں وہ امریکہ آیا جایا کرتے تھے۔ جب مزید تعلیم کا ارادہ ہوا تو انہوں نے مستقل طور پر امریکہ میں سکونت اختیار کر لی۔ یہاں مختلف کالجوں میں تعلیم حاصل کی اور یونیورسٹی سے عربی میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد ملائیشیا چلے گئے جہاں انہوں نے اسلامک سٹڈیز میں خصوصاً تخریجِ حدیث میں پی ایچ ڈی کی، اور 2012ء کے کانووکیشن میں ڈگری سے نوازے گئے۔ ڈاکٹر الواجدی صاحب نے دارالعلوم دیوبند کے قریب رہنے کے فائدے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس سے بڑے بڑے اساتذہ، اکابر اور زعمائے ملت کو قریب سے دیکھنے اور ان کی مجالس میں حاضر ہونے کا موقع ملا، جس کا آج تک فائدہ ہو رہا ہے۔
عمار خان یاسر نے دریافت کیا کہ دارالعلوم دیوبند سے امریکہ اور ملائشیا تک کے سفر کا خیال کیسے آیا؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے جواب دیا کہ یہ کوئی پہلے سے طے شدہ منصوبہ نہیں تھا بلکہ قدرتی طور پر ایسا ہوا۔ جیسا کہ ابھی ذکر ہوا ہے کہ ان کی ننھیال پہلے سے امریکہ میں آباد تھی، اس لیے بچپن سے آنا جانا رہا۔ طالب علمی کے زمانے میں بھی چھٹیاں گزارنے یہیں آتے رہے۔ بعد میں مزید تعلیم کے لیے دیوبند سے نکلے تو پھر مستقل طور پر یہاں سکونت اختیار کر لی اور 2011ء سے مسلسل یہیں مقیم ہیں۔
عمار خان یاسر نے پوچھا کہ کیا مستقبل میں بھی امریکہ میں ہی دینی خدمات جاری رکھنے کا ارادہ ہے؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے جواب دیا کہ ان کے کام کا منہج اور انداز ایک عالمی سطح کا تقاضا کرتا ہے۔ انہیں ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جہاں وہ آزادی سے اپنی بات کہہ سکیں اور ان پر یہ الزام نہ لگے کہ انہوں نے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی یا احساسات مجروح کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں یہ عالمی سطح کا پلیٹ فارم انہیں مہیا ہے، جو دوسرے ممالک میں ممکن نہیں تھا۔
ردِ الحاد کے میدان کا انتخاب
عمار خان یاسر نے استفسار کیا کہ الحاد کے حوالے سے خدمات انجام دینے کی سمت کیسے متعین ہوئی؟ کسی نے متوجہ کیا یا خود سے یہ راستہ چنا؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اسے ’’تکوینی معاملات‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ سب منجانب اللہ طے ہوتا ہے، انسان کا اس میں دخل نہیں ہوتا۔ بہرحال انہوں نے اس کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جب امریکہ آئے اور مدرسے میں انہیں تدریسی ذمہ داری سونپی گئی تو ان کے ذمے عقیدے کی کتابیں آئیں۔ اس دوران کچھ طلبہ نے ایسے سوالات کرنا شروع کر دیے جن کے جوابات ان کے پاس نہیں تھے اور نہ ہی عقیدے کی کتابوں سے وہ سمجھ میں آرہے تھے۔ یہ طلبہ ’’عالم کورس‘‘ کے ساتھ ساتھ ہائی سکول اور کالج سے بھی فارغ التحصیل تھے اور امریکہ کے معاشرتی مزاج کو سمجھتے تھے کہ جس کی بنیاد پر دنیا میں الحاد اور تشکیک پھیلتی ہے۔ اس صورتحال نے انہیں اس موضوع پر مطالعہ کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے خصوصاً حضرت قاسم نانوتویؒ کی کتابوں کا مطالعہ کیا اور اس سے اندازہ ہوا کہ اسلام کی عقلی تشریح کے لیے حضرت نانوتویؒ، حضرت تھانویؒ، شاہ ولی اللہؒ اور امام غزالیؒ جیسی ہستیوں کے مطالعہ کی اشد ضرورت ہے۔ اس طرح مطالعے کا سفر شروع ہوا۔ کلاس روم میں طلبہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے ان کی اپنی دلچسپی بھی بڑھی اور اس طرح دینی و علمی جدوجہد کی یہ سمت متعین ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس راستے میں کام لینا شروع کر دیا۔
قدیم علمِ کلام اور جدید علمِ کلام
عمار خان یاسر نے ڈاکٹر الوجدی صاحب سے دریافت کیا کہ مفتی محمد شمائل ندوی صاحب والی ڈیبیٹ کے بعد آپ کا ’’شرح عقائد‘‘ کے متعلق ایک کلپ وائرل ہوا تھا، تو اس کتاب میں اپنی دلچسپی کا کچھ تذکرہ کریں، نیز آج کل مدارس میں ’’شرح عقائد‘‘ کی طرف مناسب توجہ نہیں دی جاتی، تو آپ کے خیال میں اسے کس طرح پڑھنا چاہیے، اور نئے لوگ اسے سمجھنے کے لیے کن کتابوں سے استفادہ کر سکتے ہیں؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے سب سے پہلے ایک عام غلط فہمی کا ازالہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر حضرات کی طرح علماء کے ہاں بھی یہ سمجھا جاتا ہے کہ ردِّ الحاد کے لیے بہت اعلیٰ درجے کی انگریزی اور ارسطو سے لے کر نطشے تک کے فلسفے کا مطالعہ ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسا کچھ نہیں ہے، بلکہ ان کی اپنی بنیاد وہی علمِ کلام ہے جو مدارس میں صدیوں سے پڑھایا جا رہا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے گیسٹالٹ سوئچ (Gestalt Switch) کی اصطلاح استعمال کی۔ انہوں نے مثال دی کہ تصویر میں آپ کو ایک خاتون نظر آتی ہے، لیکن جب کوئی بتائے کہ یہ دراصل صراحی ہے تو وہ پھر آپ کو وہ صراحی نظر آنے لگتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج سے چند سال پہلے تک مدارس میں علمِ کلام کو محض اکابر کی یادگار سمجھ کر پڑھایا جاتا تھا، لیکن جب انہوں نے اس سوئچ کو بدلا اور اسی علمِ کلام کو بنیاد بنا کر ملحدین سے مناظرے شروع کیے تو اس کے جوابات ملحدین کے پاس نہیں تھے۔ اس سے لوگوں کو اندازہ ہوا کہ علمِ کلام کو اگر جدید انداز سے پیش کیا جائے اور جدید اصطلاحات استعمال کی جائیں تو اسی کی بدولت ردِّ الحاد کے میدان میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے پوری دنیا میں خاص طور پر برصغیر، جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور امریکہ میں بیداری پیدا ہوئی ہے۔ ان کے پاس اساتذہ اور طلبہ کے مسلسل پیغامات آتے ہیں کہ شرح عقائد کو کیسے پڑھا جائے۔ ڈاکٹر صاحب نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ اس کتاب کو محض امتحان پاس کرنے کی نیت سے نہ پڑھیں بلکہ اس فن کو حاصل کرنے کی نیت سے پڑھیں۔ جس دن امتحان کی نیت ختم ہو جائے گی، ان شاءاللہ خود محسوس ہوگا کہ یہ کتاب اور اس طرح کی دوسری کتابیں ردِّ الحاد کے میدان میں کام آ سکتی ہیں۔
عمار خان یاسر نے سامعین کے ذہن میں ابھرنے والے ایک سوال کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ قدیم علمِ کلام اور جدید علمِ کلام میں کیا فرق ہے؟ ان میں تمیز کیسے کی جا سکتی ہے؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے واضح کیا کہ ان دونوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ انہوں نے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’الانتباہات المفیدۃ‘‘ کا حوالہ دیا جس کے مقدمے میں انہوں نے علمِ کلام کی تجدید کے معنی بیان کیے ہیں کہ جدید علمِ کلام کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ نئے اصول وضع کیے جائیں اور پرانے اصولوں کو ختم کر دیا جائے۔ جدید علمِ کلام کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ اصول وہی رہیں، لیکن مثالیں بدل دی جائیں، جیسے ہی مثالیں بدلی جائیں گی، وہی جدید علمِ کلام ہو گا۔ ڈاکٹر الواجدی صاحب نے مثال دی کہ قدیم کتبِ کلام میں ارتقاء (ایوولوشن) کا ذکر نہیں ملتا، لیکن علمِ کلام کے اصول و ضوابط کو استعمال کرتے ہوئے ڈارون کے نظریۂ ارتقاء کو بخوبی رد کیا جا سکتا ہے۔ اصول وہی رہیں گے، لیکن مثال ڈاروینیئن ایوولوشن دی جائے گی، یہی جدید علمِ کلام ہے۔ انہوں نے اس غلط فہمی کو دور کیا کہ جدید علمِ کلام کوئی عنقا (ناپید) چیز ہے، بلکہ انہی اصولوں پر قائم رہتے ہوئے مثالیں بدل دینا ہی جدید علمِ کلام کی تعریف ہے۔
سائنس اور ریاضی کا دائرہ کار
عمار خان یاسر نے ایک بنیادی سوال سے کیا کہ الحاد کن مفروضوں پر کھڑا ہے؟ اور کیا سائنس بذات خود خدا کے وجود کی انکاری ہے، جیسا کہ اکثر دعویٰ کیا جاتا ہے؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے وضاحت کی کہ سائنس کا یہ دائرہ کار ہی نہیں ہے کہ وہ خدا کے وجود یا عدمِ وجود پر گفتگو کرے۔ سائنس کا فوکس عالمِ مشاہدہ پر ہے، یعنی نظر آنے والی کائنات پر۔ وہ یہ بتاتی ہے کہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں اور ان کے مراحل کیا ہیں، لیکن وہ اس بارے میں گفتگو نہیں کرتی کہ ان کی تخلیق کیوں ہوئی۔ انہوں نے مفتی شمائل ندوی صاحب کی مشہور مثال دی کہ جس طرح میٹل ڈیٹیکٹر سے پلاسٹک کو ڈیٹیکٹ نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح سائنس کو استعمال کر کے خدا کے وجود کو جاننا ممکن نہیں، کیونکہ یہ سائنس کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ جو لوگ سائنس کو الٰہیات کے معاملات میں استعمال کرتے ہیں، وہ ان دونوں موضوعات سے ناواقف ہوتے ہیں۔
عمار خان یاسر نے سامعین میں سے ایک دوست مبشر حیات کے سوال کو پیش کیا کہ کیا خدا کے وجود کو ریاضی سے ثابت کیا جا سکتا ہے؟ کیونکہ بعض مذہبی لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاضی کو فائن ٹیوننگ آرگیومینٹ (Fine Tuning Argument) میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس دلیل کے مطابق کائنات میں ہر چیز انتہائی درستگی سے متعین (Finely Tuned) ہے۔ اگر ریاضی کے حساب سے کوئی بھی چیز ذرا سی بھی مختلف ہوتی تو یہ دنیا یا تو موجودہ صورت میں نہ ہوتی یا وجود میں ہی نہ آتی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس طرح ریاضی کو فائن ٹیوننگ آرگیومینٹ میں استعمال کر کے خالق کو ثابت کیا جا سکتا ہے، تاہم براہ راست ریاضی سے خدا کو ثابت کرنے کی کوئی دلیل کم از کم میرے علم میں نہیں ہے۔
وجودِ الٰہی سے انکار کی بنیادی وجہ
اس موقع پر ڈاکٹر صاحب نے ایک اہم نکتہ بیان کیا جو ان کے نزدیک الحاد کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 70 سے 80 فیصد الحاد کی بنیاد نہ سائنس ہے، نہ لبرل ازم، بلکہ ذہنی صدمہ (Mental Trauma) ہے۔ انہوں وضاحت کی کہ زیادہ تر ملحدین یا متشککین کی زندگی کے دوران بچپن یا جوانی میں کوئی نہ کوئی ایسا تکلیف دہ واقعہ ضرور پیش آیا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ان کے ذہن میں خدا کے متعلق شکایات پیدا ہو جاتی ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ ’’میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟‘‘ اور جب انہیں وحی کے ذریعے جواب نہیں ملتا تو وہ خدا کے وجود سے ہی انکار کر بیٹھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر الواجدی صاحب نے مشہور ملحد جاوید اختر صاحب کا واقعہ بیان کیا کہ ایک ملاقات میں انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ ’’اگر آپ یہ بتا دیں کہ آٹھ سال کی عمر سے میرے اوپر جو مصائب آئے، خدا نے ایسا کیوں ہونے دیا، اور وہ اس کی تلافی کیسے کرے گا، تو میں الحاد چھوڑ دوں گا‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے تبصرہ کیا کہ جاوید صاحب کی موجودہ زندگی، ان کی شہرت، دولت اور پروٹوکول کو دیکھتے ہوئے، خدا نے انہیں بھرپور تلافی فراہم کی ہے، لیکن وہ ذہنی صدمہ ان کے ذہن سے نکلنے کا نام نہیں لے رہا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ صرف ان کا ذاتی مشاہدہ نہیں بلکہ مغربی ممالک کی یونیورسٹیوں میں ہونے والے سروے بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں۔
الحاد کے فروغ پذیر رجحان کے عوامل
عمار خان یاسر نے استفسار کیا کہ احساسِ محرومی تو ہمیشہ سے انسان کے ساتھ رہا ہے، لیکن پچھلے دس بارہ سالوں میں الحاد کا رجحان خاص طور پر یونیورسٹیوں، حتیٰ کہ مدارس کے طلبہ میں کیوں بڑھ رہا ہے؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے دو چیزوں میں فرق کرنے کی ضرورت پر زور دیا: ایک ہے ’’بنیادی وجہ‘‘ (Cause) اور دوسری ہے ‘‘ذریعہ‘‘ (Vehicle)۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے زمانے میں لوگوں کے پاس ذہنی صدمے کو الحاد میں تبدیل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ نہ جدید تعلیمی نظام تھا، نہ سوشل میڈیا۔ آج صورتحال مختلف ہے۔ آج کے تعلیمی نظام کی بنیاد پر دو چیزیں معاشرے میں پائی جاتی ہیں:
- سائنٹزم (Scientism): سائنس کو ہر چیز کا معیار سمجھنا
- لبرلزم (Liberalism): بے راہ روی کو آزادی کا نام دینا
جب کوئی نوجوان ذہنی صدمے کا شکار ہوتا ہے تو وہ ان دو میں سے کسی ایک نظریے کو اختیار کر کے الحاد کی طرف سفر کرتا ہے۔ اس کے بعد سوشل میڈیا اس کے خیالات کو ترویج دیتا ہے، وہ اپنے جیسے لوگوں سے ملتا ہے، اور یوں یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ پہلے زمانے میں اگر کسی کے دل میں خدا کے متعلق شکایت آتی بھی تھی تو وہ کچھ دنوں میں خود بخود ختم ہو جاتی تھی، لیکن آج اسے پروموٹ کرنے کے لیے پورا نظام موجود ہے۔
فساد و مصائب سے ملحدین کا استدلال
عمار خان یاسر نے ایک اور اہم سوال اٹھایا جو اکثر ملحدین کی جانب سے کیا جاتا ہے کہ اگر خدا موجود ہے تو معصوم بچوں کو مہلک بیماریاں اور تکالیف کیوں دیتا ہے؟
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ سوال کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ اس سوال سے وہ میدان مار لیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر تھوڑی دیر کے لیے مان بھی لیا جائے کہ خدا نہیں ہے، تو کیا تکلیف (Suffering) ختم ہو جاتی ہے؟ کیا برائی (Evil) ختم ہو جاتی ہے؟ کیا بچے مرنا بند ہو جاتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ الحاد کے پاس اس تکلیف اور برائی کا کوئی جواب نہیں ہے، جبکہ اہلِ مذہب کے پاس جواب ہے۔ ہمارے نزدیک خدا نے کبھی یہ وعدہ نہیں کیا کہ وہ ایسی دنیا بنا رہا ہے جہاں برائی اور تکلیف نہیں ہو گی۔ ایسی دنیا تو آخرت میں آنے والی ہے جسے جنت کہتے ہیں۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اس دنیا میں اچھائی اور برائی دونوں موجود ہیں، نبوت بھی ہے اور ابلیس بھی۔ انسان کو آزادی دی گئی ہے کہ وہ اچھا راستہ اختیار کرے یا برا۔ قرآن نے کہا ہے: ’’انا ہدیناہ السبیل اما شاکرا واما کفورا‘‘ (بے شک ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، اب خواہ وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا)۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ برائی اور اچھائی دونوں موجود ہوں، اور یہ انصاف ضروری نہیں کہ اسی دنیا میں ہو، بلکہ یومِ جزا میں ہوگا۔
عمار خان یاسر نے اگلا سوال مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر صاحب کے مباحثہ کے حوالے سے کیا کہ جاوید اختر نے فلسطین کے بچوں کے قتلِ عام کو بنیاد بنا کر اعتراض کیا تھا کہ اگر خدا ہے تو ان بچوں کو کیوں مارا جا رہا ہے؟ اور کیوں نہیں بچا رہا؟ اس موقع پر کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اس کا بہتر جواب دیا جا سکتا تھا۔
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے کہا کہ جواب تو وہی ہے، البتہ اندازِ بیان پر نقد کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اصولی بات دہرائی کہ خدا نے اس دنیا میں برائی اور بھلائی دونوں رکھی ہیں، اور انسان کو اختیار دیا ہے۔ خدا کا سپریم بینگ (اعلیٰ ترین ہستی) ہونا ضروری ہے، اور سپریم بینگ ہونے کے لیے اس میں انصاف کی صفت ہونا ضروری ہے۔ انصاف اسی وقت ممکن ہے جب برائی بھی موجود ہو اور اچھائی بھی۔ جبکہ انصاف کسی وقت کے ساتھ مقید نہیں، ہمارے عقیدہ کے مطابق حتمی انصاف یومِ جزا میں ہو گا۔ چنانچہ بچوں کے مرنے یعنی مصائب کی موجودگی سے خدا کا موجود نہ ہونا لازم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
(جاری)
