ویکی پیڈیا ایک آن لائن دائرۃ المعارف ہے اور اس معنی میں آزاد ہے کہ اس کے مضامین کو دنیا بھر کے رضاکار قلم نگار مل کر تحریر اور تبدیل کرتے ہیں۔ اِس انسائیکلوپیڈیا کا آغاز 2001ء میں ہوا تھا اور آج دنیا کی ضخیم ترین معلوماتی ویب سائٹس میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ویکی پیڈیا کا اولین مقصد یہ ہے کہ دنیا بھر کے شائقینِ علم کے لیے بڑی زبانوں میں آزاد اور قابلِ رسائی معلومات فراہم کی جائیں۔ اس ویب سائٹ پر تاریخ، مذہب، سائنس، ادب، جغرافیہ، سیاست، ٹیکنالوجی اور دیگر بے شمار موضوعات پر لاکھوں مضامین موجود ہیں۔ ویکی پیڈیا کی چند انتظامی خصوصیات، جن کی بنا پر یہ بہتر اور تازہ معلومات فراہم کرنے والا سب سے بڑا پلیٹ فارم بن گیا ہے، درج ذیل ہیں:
- ویکی پیڈیا کا بنیادی اصول اجتماعی تدوین (Collaborative Editing) کا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر کے رضاکار صارفین کسی بھی مضمون کو بہتر بنانے کے لیے اس میں معلومات شامل کر سکتے ہیں، غلطیوں کی اصلاح کر سکتے ہیں، یا نئی تحقیق کے مطابق مواد کو اَپ ڈیٹ کر سکتے ہیں۔ ہر صارف اپنے علم اور تحقیق کی بنیاد پر مواد شامل کر سکتا ہے۔
- ویکی پیڈیا کے مضامین میں معلومات کو مستند بنانے کے لیے معتبر کتابوں، تحقیقی مقالات اور قابلِ اعتماد ویب سائٹس کے حوالہ جات شامل کیے جاتے ہیں۔
- ویکی پیڈیا کے مواد کا عمومی تاثر اس معنی میں غیر جانبدارانہ ہے کہ زیادہ رجحان درست معلومات کی فراہمی کا ہے، نہ کہ مناظرہ یا مباحثہ کا۔
- تجربہ کار صارفین اور منتظمین مضامین کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ غلط معلومات، تخریبی سرگرمیوں، یا غیر مستند مواد کو فوری درست کیا جا سکے۔
- ویکی پیڈیا کے مضامین دنیا کی سینکڑوں زبانوں میں دستیاب ہیں تاکہ مختلف لسانی گروہوں کے افراد اپنی زبان میں مطلوبہ معلومات حاصل کر سکیں۔
یہ آن لائن دائرۃ المعارف جدید دور میں معلومات کے حصول کا ایک نہایت اہم ذریعہ بن چکا ہے اور اس کی افادیت درج ذیل نکات سے واضح ہوتی ہے:
- علم تک آسان رسائی: طلبہ، اساتذہ اور عام افراد کسی بھی موضوع پر فوری معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
- تعلیم میں معاونت: تعلیمی تحقیق اور ابتدائی مطالعے کے لیے یہ ایک مفید ذریعہ ہے۔
- عالمی معلومات کا ذخیرہ: مختلف ممالک، مذاہب، ثقافتوں اور علوم کے بارے میں وسیع معلومات ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہیں۔
- بلا معاوضہ اور آزاد رسائی: ویکی پیڈیا کو استعمال کرنے کے لیے کسی فیس یا رکنیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔
- علم کی ترویج: یہ پلیٹ فارم دنیا بھر میں علم کی اشاعت اور تبادلے کو فروغ دیتا ہے۔
مختصراً یہ کہ ویکی پیڈیا ایک جدید اور مفید پلیٹ فارم ہے جو دنیا بھر کے لوگوں کو علم سے وابستہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ نیز اس کی وسعت، آسان رسائی اور اجتماعی تدوین کا نظام اسے عصرِ حاضر کے اہم معلوماتی ذرائع میں شامل کرتا ہے۔
ویکی پیڈیا پر اسلامی معلومات
ویکی پیڈیا پر دینِ اسلام کے بارے میں وسیع اور متنوع معلومات مختلف مضامین کی صورت میں موجود ہیں۔ اسلام دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک ہے اور اس کے بارے میں معلومات تاریخ، عقائد، عبادات، تہذیب و ثقافت اور اسلامی شخصیات کے حوالے سے پیش کی گئی ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ ویکی پیڈیا چونکہ ایک آن لائن اور آزاد دائرۃ المعارف ہے، اس لیے اس کے مضامین دنیا بھر کے رضاکار مصنفین کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہیں۔
ویکی پیڈیا کے مطابق اسلام ایک توحیدی مذہب ہے جو ایک خدا پر ایمان کی تعلیم دیتا ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد اور یکتا ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید ہے جسے مسلمان اللہ کا کلام مانتے ہیں۔ ویکی پیڈیا کے مضامین میں اسلام کے بنیادی عقائد جیسے توحید، رسالت اور آخرت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی عبادات اور اخلاقی تعلیمات کا بھی تفصیلی ذکر موجود ہے۔ مثلاً اسلام کے بنیادی ارکان: کلمۂ شہادت، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ کے متعلق بھی تفصیل ملتی ہے۔ یہ عبادات مسلمانوں کی دینی زندگی کا اہم حصہ ہیں اور اسلامی تعلیمات میں ان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ویکی پیڈیا میں ان عبادات کے پس منظر اور طریقوں کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کی گئی ہیں، جس سے مطالعہ کرنے والے قارئین اسلام کے بنیادی اصولوں اور تقاضوں کو سمجھ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ ویکی پیڈیا میں اسلام کے مختلف تاریخی ادوار پر بھی مضامین موجود ہیں جن میں عہدِ نبوی، خلافتِ راشدہ اور بعد کے اسلامی ادوار کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح اسلامی تہذیب، فنون، علم و ادب، اور مختلف علمی میدانوں میں مسلمانوں کی خدمات کے بارے میں بھی وافر معلومات دستیاب ہیں۔ صحابہ کرامؓ، محدثینؒ، فقہاءؒ اور دیگر اہم اسلامی شخصیات کے حالاتِ زندگی پر بھی الگ الگ مضامین موجود ہیں۔
چونکہ ویکی پیڈیا ایک اشتراکی علمی پلیٹ فارم ہے اور اس میں شامل معلومات مختلف مصنفین کی تحقیق اور تحریر پر مبنی ہوتی ہیں، اسی وجہ سے قارئین کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ وہ اہم دینی مسائل میں مستند دینی کتب اور علماء کی آراء سے بھی رہنمائی حاصل کریں۔ اس کے باوجود عمومی معلومات اور ابتدائی تعارف کے لیے ویکی پیڈیا ایک مفید اور آسان ذریعہ ثابت ہوتا ہے جس سے دنیا بھر کے لوگ اسلام کے بارے میں بنیادی آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔
ویکی پیڈیا پر صحابہ کرامؓ کے متعلق مضامین
ویکی پیڈیا پر صحابہ کرامؓ کے بارے میں تفصیلی معلومات مختلف مضامین کی صورت میں موجود ہیں۔ صحابہ کرامؓ سے مراد وہ خوش نصیب مسلمان ہیں جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، آپؐ پر ایمان لائے، اور ایمان ہی کی حالت میں وفات پائی۔ ویکی پیڈیا میں ان کے تعارف اور اسلامی تاریخ میں ان کے کردار کے بارے میں بنیادی اور تاریخی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے مجموعی تعارف پر ایک مضمون موجود ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ صحابہ کرامؓ اسلام کے ابتدائی دور کی وہ اہم شخصیات ہیں جنہوں نے دینِ اسلام کی تبلیغ، حفاظت اور اشاعت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس میں صحابہ کرامؓ کی فضیلت، ان کی تعداد، اور اسلام کے پھیلاؤ میں ان کی خدمات کے بارے میں عمومی معلومات دی گئی ہیں۔
ویکی پیڈیا پر امہات المؤمنینؓ کے بارے میں بھی معلومات موجود ہیں۔ امہات المؤمنین یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کو اسلام میں انتہائی عظمت اور احترام کا مقام حاصل ہے۔ حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ، حضرت سودہ بنت زمعہؓ، حضرت عائشہ صدیقہ بنت ابی بکرؓ، حضرت حفصہ بنت عمرؓ، حضرت زینب بنت خزیمہؓ، حضرت ام سلمہؓ، حضرت زینب بنت جحشؓ، حضرت جویریہ بنت حارثؓ، حضرت ام حبیبہؓ، حضرت صفیہ بنت حیؓ، حضرت میمونہ بنت حارثؓ۔ ویکی پیڈیا پر ہر امّ المؤمنینؓ کے بارے میں الگ مضمون ملتا ہے۔ جس میں ان کے نسب، نکاح اور گھریلو زندگی کے تذکرہ کے ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات کی اشاعت، حدیثِ نبویؐ کی روایت، اور ابتدائی اسلامی معاشرے کی تشکیل میں کتنا اہم کردار ادا کیا۔
اس کے علاوہ بڑے اور معروف صحابہ کرامؓ پر الگ الگ مضامین موجود ہیں۔ مثال کے طور پر حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان اور حضرت علی بن ابی طالب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں مفصل مضامین ملتے ہیں جن میں ان کی پیدائش، اسلام قبول کرنے کا واقعہ، خلافت سے پہلے اور بعد کی خدمات، اور وفات تک کے حالات بیان کیے گئے ہیں۔ اسی طرح بہت سے دیگر اکابر صحابہؓ کے بارے میں بھی تحریریں موجود ہیں جن میں عام طور پر ان کے نسب، اسلام کے لیے خدمات، غزوات میں شرکت، علمی کردار اور تاریخی اہمیت کو بیان کیا جاتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ویکی پیڈیا پر صحابہ کرامؓ کے بارے میں معلومات بنیادی تعارف سے لے کر نسبتاً تفصیلی سوانح تک موجود ہیں۔ تاہم چونکہ یہ ایک عمومی اور اشتراکی دائرۃ المعارف ہے، نیز ضروری نہیں کہ اس پر پائی جانے والی تمام معلومات اہلِ سنت کے نقطۂ نظر کی نمائندگی کرتی ہوں، اس لیے باقاعدہ دینی اور تحقیقی مطالعے کے لیے حدیث، سیرت اور تاریخ کی مستند اسلامی کتب سے رجوع کرنا زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے۔
ویکی پیڈیا پلیٹ فارم کے اس تعارف کے بعد اب ہم اس سلسلۂ تحریر میں صدرِ اول کی اسلامی شخصیات یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سوانحی تعارف اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ان کی خدمات کا تذکرہ ویکی پیڈیا پر موجود معلومات کے حوالے سے پیش کریں گے۔ ایسا کرتے ہوئے ہماری کوشش ہو گی کہ حوالہ جات کی پیچیدگیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے آسان فہم پیرائے میں ان معلومات کا خلاصہ کر دیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ قارئین کو اکابرینِ ملت سے متعارف کرانے کا سامان مہیا کیا جا سکے۔ چنانچہ ترتیب کچھ اس طرح سے ہو گی کہ سب سے پہلے ہم اصحابِ عشرۂ مبشرہؓ کا تذکرہ کریں گے، اس کے بعد ازواج و بناتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا، اور پھر دیگر اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا۔ حضراتِ عشرہ مبشرہؓ کا مختصر مجموعی تعارف ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
اصحابِ عشرہ مبشرہؓ
’’عشرہ مبشرہ‘‘ کی اصطلاح سے مراد وہ دس خوش نصیب صحابہ کرامؓ ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی ہی میں جنت کی بشارت دی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ’’عشرہ‘‘ یعنی دس اور ’’مبشرہ‘‘ یعنی خوشخبری دیے گئے افراد کہا جاتا ہے۔ یہ محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ان عظیم ہستیوں کی بے مثال قربانیوں، اخلاص اور رسول اکرمؐ کے ساتھ ان کی غیر معمولی وابستگی کا اعتراف بھی ہے۔ یہ سب وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام کے ابتدائی اور مشکل ترین دور میں نہ صرف ایمان قبول کیا بلکہ ہر طرح کی آزمائشوں میں ثابت قدم رہے اور دینِ اسلام کی خدمت میں اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔
ان دس صحابہ کے نام ایک حدیث میں اکٹھے بیان ہوئے جس کی بنا پر انہیں اجتماعی طور پر یہ لقب دیا گیا۔ ان میں حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علیؓ شامل ہیں، جو بعد میں خلفائے راشدین بھی بنے۔ جبکہ دیگر جلیل القدر صحابہ میں حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت سعید بن زیدؓ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ شامل ہیں۔ اگرچہ حضور اکرمؐ نے دیگر صحابہ کرامؓ کو بھی جنت کی بشارت دی ہے، لیکن ان دس ہستیوں کی خصوصیت یہ ہے کہ ایک ہی موقع پر ان سب کے نام لے کر انہیں یہ خوشخبری سنائی گئی، جس سے ان کا مقام اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔ یہ حضرات نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی ساتھی تھے بلکہ انہوں نے مملکتِ اسلامیہ کی بنیاد رکھنے اور نبویؐ روایات کے مطابق ملتِ اسلامیہ کی رہنمائی کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی زندگیاں ایثار، تقویٰ، شجاعت اور عدل کی ایسی مثالیں پیش کرتی ہیں جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ’’عشرہ مبشرہ‘‘ کا ذکر دراصل ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ سچا ایمان، اخلاص، اور اللہ و رسول کی محبت انسان کو کس بلند مقام تک پہنچا سکتی ہے، حتیٰ کہ دنیا ہی میں جنت کی بشارت مل جانا بھی ممکن ہو جاتا ہے۔
چنانچہ عشرہ مبشرہ شخصیات کے سلسلہ میں اگلی قسط خلیفۂ اول امیر المومنین سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تذکرہ پر مشتمل ہو گی۔
(جاری)
