مذہبی رواداری اور غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت

موجودہ دور میں اسلام کے خلاف یہ پروپیگنڈہ بڑے زور و شور کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق محفوظ نہیں ہوتے۔ انہیں جان و مال کا تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ حالانکہ یہ دعویٰ سراسر غلط اور حقائق کے خلاف ہے۔ اسلام مذہبی رواداری، اعتدال اور عدمِ تشدد کا حامل دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ رواداری اور حسنِ سلوک کی بڑی فراخ دلی کے ساتھ تعلیم دی ہے۔ اسلام کی نظر میں انسان کا مقام و مرتبہ تو بہت بلند ہے۔ پیغمبرِ اسلامؐ نے تو جانوروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، اور کتے جیسے جانور کے ساتھ ہمدردی پر مغفرت اور اجر کی نوید سنائی ہے۔ خاص طور پر جو غیر مسلم کسی مسلمان ریاست کے باشندے ہوں، ان کی جان، مال، عزت، آبرو اور حقوق کے تحفظ کو اسلامی ریاست کی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہو، بلکہ انہیں روزگار، تعلیم اور حصول انصاف کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ رکھا جائے۔ ان کی دل آزاری سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ فقہائے کرام نے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی یہودی یا آتش پرست کو اے یہودی کہہ کر خطاب کیا، جس سے اس کی دل آزاری ہوئی، تو ایسا خطاب کرنے والا گناہگار ہوگا۔ (ہندیہ: ۵/۹۵)

اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو شائستگی، اخلاق اور امن کے دائرے میں رہ کر اپنے مذہبی تہوار منانے کا پورا حق حاصل ہے۔ اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میں نہ خود رکاوٹ ڈالے، نہ دوسروں کو ڈالنے دے۔ ان پر یا ان کی عبادت گاہوں پر حملہ کرنا یا ان کے مذہب پر عمل کرنے میں رکاوٹ ڈالنا یقیناً گناہ اور سنگین جرم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کی جتنی نگرانی کی گئی ہے، اس کی مثال کسی اور مذہب میں ملنا مشکل ہے۔

قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، ان کے ساتھ تم کوئی نیکی یا انصاف کا معاملہ کرو، یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے (سورۃ الممتحنہ: ۸)۔ اس آیت کریمہ میں ایسے کفار جنہوں نے مسلمانوں سے مقابلہ نہیں کیا، اور انہیں ان کے گھروں سے نکالنے میں بھی کوئی حصہ نہیں لیا، ان کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے کی ہدایت ہے۔

ایک حدیث شریف میں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: خبردار! جس شخص نے کسی غیر مسلم باشندے پر کوئی ظلم کیا، یا اس کی بے عزتی کی، یا اس کی طاقت سے زیادہ اس کو کسی بات کا مکلف بنایا، تو قیامت کے دن میں غیر مسلم کی طرف سے اس شخص کے خلاف وکالت کروں گا (سنن ابی داؤد: ۳۰۵۲)۔ ایک دوسری روایت میں حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی معاہد (غیر مسلم باشندے) کو ناحق قتل کرے، اس پر اللہ رب العزت جنت حرام کر دیتے ہیں (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی الوفاء للمعاہد، ۲۷۶۰)۔ یہاں ان دو احادیث پر اکتفا کیا جاتا ہے، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ احادیث طیبہ، اسلامی فقہ اور تاریخ کی کتابیں غیر مسلم شہریوں کے ساتھ نہ صرف رواداری، بلکہ حسنِ سلوک، اور یکساں انسانی حقوق کی فراہمی کی تاکید اور ترغیب سے بھری پڑی ہیں۔

غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات میں شرکت

لیکن رواداری، حسنِ سلوک، اور انصاف کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مذاہب کے درمیان فرق اور امتیاز ہی کو مٹا دیا جائے، اور مسلمان رواداری کے جوش میں غیر مسلموں کے عقیدہ و مذہب ہی تائید شروع کر دیں۔ یا اس عقیدے پر مبنی تقریبات میں شریک ہو کر یا ان کے مذہبی شعائر کو اپنا کر ان کے مذہب کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ ہر چیز کی کچھ حدود ہوتی ہیں۔ ان حدود سے آگے بڑھنا درست نہیں ہوتا۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ ایک معاشرے کے اندر بہت سی قومیں رہتی ہیں، جن کا تعلق مختلف مذاہب و نظریات سے ہوتا ہے۔ اور یہ فطرتِ انسانی میں داخل ہے کہ معاشرے میں ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے، اور ایک اچھا معاشرہ تشکیل دے کر امن کے ساتھ زندگی گزاری جائے۔ لیکن اسلام نے جو حدود مقرر کی ہیں ان کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، ان کی پامالی کی اجازت نہیں ہوتی۔

اس سلسلے میں قرآن کریم کا واضح پیغام یہ ہے کہ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کے لیے، جو توحید کا عقیدہ رکھتا ہو، اور لا الٰہ الا اللہ پر ایمان اُس کی شناخت کا لازمی حصہ ہو، اس کے لیے غیر مسلموں کے باطل عقائد کے عملی مظاہرے کا حصہ بننا، اور ان مذہبی تہواروں میں شرکت کرنا، جو ان کے باطل مذہب کی پہچان ہیں اور ان کے کفر کی امتیازی علامات ہیں، جسے غیر مسلم اپنے مذہب کے شعار کے طور پر تعظیماً مناتے ہیں، یہ رواداری نہیں بلکہ مداہنت اور عقیدے کی کمزوری کا اظہار ہے۔ حضرت فاروق اعظمؓ کا ارشاد ہے: مشرکین کے عید کے دن ان کے گرجا گھروں میں داخل نہ ہو جایا کرو، کیونکہ ان پر اللہ رب العزت کا غضب نازل ہوتا ہے۔ (السنن الکبری للبیہقی: ۱۸۸۶۱)۔

کچھ عرصے سے غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات (کرسمس، دیوالی، ہولی وغیرہ) میں ہمارے مسلم رہنماؤں اور وزیروں کی بھرپور انداز میں جوش و خروش کے ساتھ شرکت نظر آ رہی ہے، جسے غیر مسلموں کے ساتھ دوستی اور رواداری کے رنگ میں دیکھا جاتا ہے۔ اور خاص طور پر پاکستان میں اسے اقلیتوں کی خوشیوں میں شرکت سمجھ کر اس سراہا بھی جاتا ہے، اور وسیع پیمانے پر فخریہ انداز میں اس کی نشر و اشاعت بھی ہوتی ہے۔ یہ یک طرفہ پہلو تو ان کی نظر میں ہے کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ رواداری کو نمایاں کیا جائے، کہ پاکستانی حکومت کس طرح غیر مسلموں کی خوشی میں برابر کی شریک ہے، لیکن یہ پہلو ان کی نظروں سے اوجھل ہوگیا کہ کرسمس اور دیوالی وغیرہ کے ساتھ بہت سے باطل عقائد اور تصورات وابستہ ہیں، ان مذہبی تہواروں میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہوتی ہے۔ شرکیہ اعمال و افعال کیے جاتے ہیں۔ باطل عقائد کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ اور اس طرف بھی ان کی توجہ نہ گئی کہ ان مذہبی تقریبات میں شریک ہو کر کیک کاٹنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا پس منظر کیا ہے؟

حاصل یہ ہے کہ جس طرح وطن کے غیر مسلموں کے ساتھ رواداری، حسنِ سلوک، اور ان کی باعزت اور آرام دہ زندگی کا خیال رکھنا ضروری اور مستحسن ہے، اور جس طرح ان پر یا ان کی عبادت گاہوں پر حملے کرنا، یا ان کے مذہب پر عمل کرنے میں رکاوٹ ڈالنا گناہ اور قابلِ مذمت ہے، اسی طرح کسی مسلمان کا غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات میں شرکت کرنا بھی قابلِ مذمت ہے۔ اس سلسلے میں تمام پہلؤوں کی رعایت اور مختلف جہتوں کے درمیان توازن رکھنا ضروری ہے۔

البتہ کسی ایسے مقام اور ملک میں جہاں غیر مسلم اکثریت ہو، اور وہاں صورت حال یہ ہو کہ کرسمس وغیرہ میں شریک نہ ہونے سے دینی یا دنیاوی نقصان ہونے کا قوی اندیشہ ہو، تو ایسی مجبوری میں نقصان سے بچنے کے لیے شرکت کی گنجائش ہے، بشرطیکہ کسی شرکیہ اور مذہبی عمل میں شریک نہ ہو، اور اس موقع پر جو مذہبی رسومات انجام دی جاتی ہیں ان سے بھی دور رہے۔

غیر مسلموں کو ان کے تہواروں پر مبارک باد دینا

غیر مسلموں کو ان کے تہوار کے موقع پر مبارک باد دینا جائز نہیں ہے۔ علامہ ابن قیمؒ اپنی کتاب احکام اہل الذمہ میں لکھتے ہیں: کفریہ شعائر پر مبارک باد دینا حرام ہے، اور یہ ایسا ہی ہے جیسے صلیب کو سجدہ کرنے پر کسی کو مبارک باد دی جائے۔ وأما التھنئۃ بشعائر الکفر المختصۃ به فحرام بالاتفاق، مثل أن یھنئھم بأعیادھم و صومھم، فیقول: عید مبارك علیك۔ وھو بمنزلة أن یھنئہ بسجوده للصلیب۔ (أحکام أھل الذمۃ: ۱۵۳/فصل فی تھنئتھم/ط: دار الحدیث، القاھرۃ، ۲۰۰۵)

البتہ جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں، اور یہ خدشہ ہو کہ اگر مسلمان ان کے تہواروں میں شرکت نہ کریں اور مبارک باد بھی نہ دیں، تو وہی غیر مسلم ان سے اور متنفر ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں پھر مسلمانوں پر ظلم و ستم کیا جائے گا، تو ایسی صورت میں مبارک باد دینے کی گنجائش ہے۔ لہٰذا ضرورت اور مجبوری کے تحت لکم دینکم ولی دین کے انداز میں مبارک باد دینے میں کوئی حرج نہیں۔

بلکہ بعض علمائے کرام کا کہنا یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں بھی ان کافروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور بہترین معاشرتی زندگی سے منع نہیں کیا گیا ہے جو مسلمانوں سے نہ قتال کرتے ہیں اور نہ ان کو اپنے گھروں سے نکالتے ہیں، بلکہ اس کی ترغیب دی ہے۔ لہٰذا غیر مسلموں کو ان کے تہواروں پر مبارک باد دینا حسنِ معاشرت کے اندر داخل ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ آیت واذا حییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا او ردوھا کے عموم میں یہ چیز آ سکتی ہے۔ (غير المسلمين فی المجتمع الاسلامی، الدكتور يوسف القرضاوی)

غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات کا تحفہ

غیر مسلم حضرات اپنے مذہبی تہوار، مثلاً دیوالی، ہولی یا کرسمس وغیرہ کے موقع پر جو تحائف، ہدایا، مٹھائیاں اور تبرکات وغیرہ اپنے مسلمان دوستوں کو پیش کرتے ہیں، اس سلسلے میں سلفِ صالحین سے دو قسم کے رجحانات منقول ہیں۔ مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ کسی غیر مسلم نے ان کی خدمت میں نیروز کے دن ہدیہ پیش کیا تو آپ نے اسے قبول کر لیا۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں روایت ہے کہ ایک خاتون نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ مجوسیوں سے ہمارے تعلقات ہیں، اور اس وجہ سے وہ اپنے تہوار کے موقع پر ہمیں ہدیہ دیتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر وہ گوشت وغیرہ دیں تو نہ کھاؤ، البتہ پھل وغیرہ کھا سکتی ہو۔ اسی طرح روایت حضرت ابو برزہ اسلمی سے بھی منقول ہے۔ ان روایات کے پیشِ نظر شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ان آثار سے ثابت ہوتا ہے کہ ہدایا و تحائف کے باب میں تہوار سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اور نہ اس سے غیر مسلموں کی اعانت لازم آتی ہے۔ اس لیے غیر حربی کافروں کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے، خواہ وہ ان کے تہوار کے موقع پر ہو یا کسی اور موقع پر۔ (اقتضاء الصراط المستقيم، ص: ١٢٠)

اس کے بالمقابل حضرت مولانا عبدالحئ فرنگی محلی نے ذخیرۃ الفتاویٰ کی ایک عبارت نقل کی ہے، جس سے تہوار کے موقع پر غیر مسلموں کے تحائف قبول کرنے کی ممانعت معلوم ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت ذخیرۃ الفتاویٰ کے حوالے سے لکھتے ہیں: لا ینبغی للمؤمن ان یقبل ہدیۃ کافر فی یوم عید، ولو قبل لا یعطیہم ولا یرسل الیہم (فتاویٰ عبد الحی: ۱/۴۰۲١٧)

یعنی مسلمان کے لیے مناسب نہیں ہے کہ کافر کا ہدیہ تہوار کے موقع پر قبول کرے، اور اگر قبول کرے تو ان کو ہدیے میں نہ خود کوئی تحفہ دے اور نہ کسی اور کے ذریعے بھیجے۔

دونوں رجحانات کے درمیان تطبیق اس طرح دی جا سکتی ہے کہ مذہبی تہواروں کے موقع پر دو طرح کے تحفے ہوتے ہیں: بعض وہ ہیں جو بتوں اور دیوتاؤں وغیرہ پر چڑھاوے کا ہوتے ہیں، ان کا قبول کرنا جائز نہیں ہوتا، کیونکہ یہ ما اھل لغیر اللہ میں داخل ہے۔ ذخیرہ کی عبارت کا محل بھی غالباً یہی صورت ہے۔ اور بعض ہدایا وہ ہوتے ہیں جن کا پوجاپاٹ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، محض خوشی کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔ اس قسم کے تحفے قبول کرنے کی گنجائش ہے، اور یہی علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی عبارت کا محل ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مذہبی تہوار کے تحائف اگر بتوں، دیوی یا دیوتاؤں پر نذر و نیاز کے طور چڑھاوے کے ہوں تو قبول کرنا جائز نہیں، اور اگر بتوں پر چڑھائے ہوئے نہ ہوں تو قبول کرنا جائز ہے۔

غیر مسلموں کو ان کے تہوار کے موقع پر تحفہ دینا

غیر مسلموں کو ان کے تہوار کے موقع پر (مثلاً دیوالی، ہولی، کرسمس وغیرہ) تحفہ دینا شرعاً درست نہیں ہے۔ اس سے بچنا ضروری ہے، کیونکہ اس میں کفار کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے، نیز اس میں فی الجملہ ان کے مذہبی تہوار کی تائید و حمایت بھی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ جس نے اعاجم کے دیار میں رہائش اختیار کی، اور نیروز اور مہرجان منا کر ان کی مشابہت اختیار کی، اور اسی حال میں اسے موت آ گئی، (یعنی اس نے موت سے پہلے اپنے اس عمل سے توبہ نہیں کیا)، تو اس کا حشر انہی کے ساتھ ہوگا۔ (السنن الكبریٰ للبیہقی: ۳۹۲،۹/، حديث: ١٨٨٦٣)

فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم تہوار کی تعظیم کے طور پر کسی کافر کو ہدیہ پیش کرے تو اس پر کفر کا اندیشہ ہے۔

علامہ ابنِ عابدین شامیؒ نے امام ابو حفص کبیرؒ کے حوالے سے نقل فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص پچاس سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہے، پھر نیروز کے دن کسی مشرک کو محض اس دن کی تعظیم کی نیت سے ایک انڈا بھی ہبہ کر دے، تو وہ شخص کفر کا مرتکب ہو جاتا ہے اور اس کے تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔ بلکہ فقہائے کرام نے یہاں تک لکھا ہے کہ اس دن ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کو بھی تحفہ نہیں دینا چاہیے، تاکہ کفار کے ساتھ مشابہت لازم نہ آئے۔ البتہ اگر تحفہ دینا مقصود ہو تو اس دن سے پہلے یا بعد میں دے دیا جائے، تاکہ غیر مسلم تہوار کی تعظیم اور اس کے شعائر سے اجتناب رہے۔ (حاشیہ ابن عابدین: ۲۴٢٤/۲۸۴٢٨٤، مسائل شتی، قبیل کتاب الفرائض، رقم المقولہ: ۵۵ ٥٥)

غیر مسلموں کے غیر مذہبی تقریبات کا ہدیہ

جہاں تک عام ہدایا اور دیگر تقریبات کے تحائف کا تعلق ہے، مثلاً شادی بیاہ، بچے کی پیدائش، دکان یا مکان کا افتتاح، ان مواقع پر جو ہدایا دیے جاتے ہیں، ان کا لینا جائز ہے، اس میں حرج نہیں، بشرطیکہ وہ پاک ہوں اور اس میں کوئی حرام چیز ملی ہوئی نہ ہو۔ ولا باس بطعام المجوسی کلہ الا الذبیحۃ، فان ذبیحتہم حرام (ہندیۃ: ٥۵/۳۴۸٣٨٤)

مذاہب عالم

(الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۴

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۰)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۱)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۴)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

صحیح مسلم کا قدیم ترین نسخہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۱)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۴)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۳)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت خولہ بنت الازور کندی اسدی رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۱)
محمد سراج اسرار

مسئلہ تشبہ امام ابن تیمیہ کی نظر میں
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

زندگی کی قدر اور وقت کی تقسیمِ کار
مولانا فضل سبحان
مولانا عبد المتین

مذہبی رواداری اور غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۳)
پروفیسر خورشید احمد

مفتی طارق مسعود اور شجاع الدین شیخ کا مکالمہ
شجاع الدین شیخ
مفتی طارق مسعود

اسقاطِ حمل اور حقوقِ انسانی کا قانون
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

On the Islamic Status of Pakistan`s Constitution
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عالمِ اسلام کے لیے نئے امکانات — پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
مولانا فضل الرحمٰن

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ اور خطہ میں اس کے ممکنہ اثرات
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

رویتِ ہلال کے متعلق پانچ قانونی سوالات
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

افغانستان اور پاکستان کے علماء کی طرف سے قیامِ امن کیلئے مشترکہ بیان
مولانا حافظ نصر الدین خان عمر
پاکستان شریعت کونسل

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter