مفتی طارق مسعود اور شجاع الدین شیخ کا مکالمہ

مفتی طارق مسعود صاحب نے انٹرویو کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً دس پندرہ سال قبل نارتھ کراچی میں نوجوان انہیں بتایا کرتے تھے کہ وہ جمعہ جناب شجاع الدین شیخ کے ہاں پڑھنے جاتے ہیں اور ان کے بیانات بہت معلوماتی اور دلچسپ ہوتے ہیں۔ مفتی صاحب نے بتایا کہ تب سے ان کے دل میں شجاع الدین شیخ کے لیے محبت بیٹھ گئی تھی کہ ما شاء اللہ ایک مؤثر کام کر رہے ہیں۔ بعد میں انہوں نے معلومات حاصل کیں تو معلوم ہوا کہ وہ تنظیمِ اسلامی سے وابستہ ہیں اور بے حیائی، سود، اور فیمینزم جیسے مسائل کے خلاف ان کا کام نمایاں ہے۔ مفتی صاحب نے ان سے درخواست کی کہ وہ اپنا تعارف، تعلیمی پس منظر، ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ تعالیٰ سے تعلق، اور تنظیمِ اسلامی میں شمولیت کے بارے میں بتائیں۔

ابتدائی زندگی اور تعلیمی پس منظر

شجاع الدین شیخ نے مفتی طارق مسعود کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی رہائش کراچی کے قدیم علاقے برنس روڈ میں رہی ہے اور یہیں ان کی پرورش ہوئی۔ انہوں نے کامرس کی لائن میں تعلیم حاصل کی اور چارٹڈ اکاؤنٹنسی کی فیلڈ میں پاکستان کی معروف فرم ایئرفرگوسن سے ٹریننگ مکمل کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات بھی کیا۔ شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ اسکول میں چند اساتذہ ایسے ملے جنہوں نے انہیں عربی سیکھنے کی طرف توجہ دلائی۔ کالج لائف میں انہوں نے مفتی تقی عثمانی، مفتی رفیع عثمانیؒ، اور مفتی عبدالرؤف سکھرویؒ جیسی جید شخصیات سے استفادہ کیا۔ مفتی زرولی خانؒ کا دورہ تفسیر بھی ان کے لیے کالج کے دور میں فیض رساں رہا۔

ڈاکٹر اسرار احمدؒ سے تعلق اور تنظیمِ اسلامی میں شمولیت

شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ انہوں نے 1991-92ء سے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کو سننا شروع کیا اور 1998ء میں باقاعدہ تنظیم اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔ مفتی طارق مسعود کے سوال پر کہ کیا داڑھی شروع سے رکھی تھی، انہوں نے بتایا کہ الحمداللہ شروع سے ہی داڑھی ہے اور کبھی صاف کرنے کا موقع نہیں آیا۔ انہوں نے اپنے والدین کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد اور دادا دونوں پاکستان کسٹمز میں تھے اور انتہائی درجے کے ایماندار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دین کی طرف آنے کی توفیق میں والدین کی تربیت اور حلال رزق کا بہت بڑا حصہ ہے۔

شجاع الدین شیخ نے اپنے علمی سفر میں چند دیگر اہم شخصیات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے محلے میں ایک استاد تھے جو بیک وقت جماعتِ اسلامی سے بھی وابستہ تھے اور جام شورو کے ایک بزرگ کے ساتھ تصوف کے حوالے سے بھی وابستہ تھے۔ اسی طرح مفتی نظام الدین شامزیؒ نے دس سال تک ان کے محلے میں درس دیا جس میں شرکت کا انہیں موقع ملا۔ ان تمام اساتذہ سے استفادہ کا تعلق رہا اور ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے ساتھ بھی وابستگی قائم ہوئی، پھر 1998ء میں تنظیمِ اسلامی میں ان کی شمولیت کا مرحلہ آیا۔

تنظیم کی جدوجہد کے مرکزی دائرے

مفتی طارق مسعود نے ابن تیمیہؒ کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حق اور باطل کا اندازہ باطل کے تیروں کے رخ سے لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام دشمن قوتیں دو چیزوں کو فوکس کر رہی ہیں: سودی نظام اور بے حیائی۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیمِ اسلامی کا ان دونوں میدانوں میں کام نمایاں ہے اور وہ اس لیے شجاع الدین شیخ سے عقیدت رکھتے ہیں کہ ان کا کام صرف باتوں تک محدود نہیں بلکہ سائن بورڈز، احتجاج اور تقریروں کی صورت میں ان کا کام سامنے آتا رہتا ہے۔

شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ تنظیم اسلامی کی جدوجہد کے مرکزی دائرے یہ ہیں:

  • معاشرت کی سطح پر بے حیائی کے خلاف مہم،
  • معیشت کی سطح پر سود کے خلاف کام،
  • اور سیاست کی سطح پر سیکولرازم کے خلاف محنت۔

انہوں نے بتایا کہ ہر تین ماہ بعد پورے پاکستان میں ’منکرات آگاہی مہم‘ چلائی جاتی ہے جس میں عوامی سطح پر گفتگو کی جاتی ہے اور لٹریچر تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ مہمات کبھی معیشت پر، کبھی معاشرت پر، کبھی سیاست پر مرکوز ہوتی ہیں۔ ججز، وکلاء، اسمبلی ممبران، صدر اور وزراء، سب کو لٹریچر بھیجا جاتا ہے اور انہیں ان کی دینی ذمہ داری یاد دلائی جاتی ہے۔

شجاع الدین شیخ نے ختم نبوت جیسی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ایسا پبلک پریشر نہیں ڈالیں گے، منکرات کے خلاف بات بننے والی نہیں ہے۔ انہوں نے مفتی تقی عثمانی کا 2018ء کا کلپ یاد کروایا جس میں حضرت نے فرمایا تھا کہ انگریز کے دور سے حکومتوں کو بات سمجھ آگئی ہے کہ جب تک کوئی ’جوتا لے کر نہیں آئے گا‘ بات نہیں ماننی۔ شجاع الدین شیخ نے واضح کیا کہ پریشر ڈالنے کا مطلب توڑ پھوڑ یا گاڑیاں جلانا نہیں ہے بلکہ عوامی دباؤ کا ماحول قائم کرنا ہے۔

مفتی طارق مسعود نے عدالتی خلع کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے فیملی سسٹم تباہ کر دیا ہے جبکہ نہ منبر سے اس پر بات ہو رہی ہے نہ اسلامی نظریاتی کونسل اس پر سوچ رہی ہے۔ شجاع الدین شیخ نے اس پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ تحریک کسی ’متفق علیہ منکر‘ کے خلاف چلنی چاہیے، اور شراب، جوا، سود، بے حیائی جیسے مسائل پر کسی کا اختلاف نہیں ہے۔

دعوت کا طریقہ کار اور نئی نسل کی شمولیت

مفتی طارق مسعود نے پوچھا کہ تنظیم اسلامی نوجوانوں کو کیسے راغب کرتی ہے اور جدوجہد کا حجم کیسے بڑھاتی ہے۔ شجاع الدین شیخ نے پہلے تبلیغی جماعت کے حضرات کی محنت کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ علمی اختلافات اپنی جگہ ہیں لیکن ان کی قربانیاں قابلِ تعریف ہیں۔ پھر تنظیم اسلامی میں دعوت کے حوالے سے انہوں نے دو بنیادی نکات بیان کیے:

  1. ایک یہ کہ ’’قوا انفسکم و اھلیکم نارا‘‘ (التحریم) کے تحت پہلی ذمہ داری اپنی ذات اور اپنے گھر والوں کی ہے۔ اور صورتحال یہ ہے کہ دعوت کی بات باقی جگہوں پر ہو رہی ہوتی ہے لیکن اکثر اپنے گھر والے نظر انداز ہو جاتے ہیں، اس لیے ہم پہلے اپنے بچوں اور بچیوں پر توجہ دینے کی ترغیب دیتے ہیں۔
  2. دوسرا یہ کہ ہر ساتھی کو بتایا جاتا ہے کہ مدرس اور خطیب تو ہر کوئی نہیں بن سکتا لیکن داعی ہر ایک کو بننا ہے۔ چاہے آفس ہو، کالج ہو، یونیورسٹی ہو، یا پیشہ ورانہ زندگی ہو، دعوت کا کام جاری رکھنا ہے۔

شجاع الدین شیخ نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے بیانات کی مقبولیت کو بھی ایک ایڈوانٹیج قرار دیا کہ ہر اردو بولنے والا جو دین سننا چاہتا ہے وہ ڈاکٹر صاحبؒ کو سنتا ہے، جس سے ہمارے لیے لوگوں کے ساتھ اس سلسلہ میں گفتگو کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ اصل چیز مستقل محنت، ذاتی رابطہ، دروس میں شرکت کی ترغیب دینا ہے، اور اس کے ساتھ لوگوں کے خوشی اور غم کے مواقع پر ان کے ساتھ شریک ہونا ہے، کیونکہ اگر ہمدردی کا جذبہ نہ ہو تو داعی کا ٹیگ تو لگ جائے گا لیکن مؤثر داعی نہیں بن سکیں گے۔

مدرس بننے کے معیارات

مفتی طارق مسعود نے دریافت کیا کہ تنظیمِ اسلامی میں درس دینے کے لیے کیا معیارات ہیں، کیونکہ یہ بات معروف ہے کہ وہاں ہر ایک کو درس کی اجازت نہیں ہوتی۔ شجاع الدین شیخ نے اس سوال کو بہت اہم قرار دیتے ہوئے تفصیل سے بتایا کہ تنظیمِ اسلامی میں درس دینے کے لیے چار بنیادی معیارات ہیں:

  1. پہلا یہ کہ تنظیم میں شامل ہونے والے کو پہلے ’’ملتزم‘‘ کے مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے یعنی وہ پختہ کار ہو جائے۔
  2. دوسرا تجوید کے امتحان سے گزرنا ہوتا ہے جس میں لحن جلی کی غلطیوں سے پاک ہونا ضروری ہے، یہ ٹیسٹ مرکزی نظم کے تحت مقامی سطح پر ہوتا ہے۔
  3. تیسرا عربی گرامر کا امتحان ہے اور یہ بھی مرکز کے تحت پورے پاکستان میں ہوتا ہے۔ اس میں 80 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہے۔
  4. چوتھا یہ کہ مدرسین کے لیے سالانہ تربیتی نشستیں ہوتی ہیں جن میں فہمِ قرآن کے آداب، اصولِ تفسیر، اصولِ حدیث، معروف تفاسیر کا تعارف، اور تفسیر بالرائے سے اجتناب جیسے موضوعات شامل ہوتے ہیں۔

شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ ان کی تجوید بچپن سے ہی بہتر تھی اور انہوں نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی قائم کردہ قرآن اکیڈمیوں میں ہونے والے دس ماہ کا ’’رجوع الی القرآن‘‘ کورس بھی کیا ہوا تھا، چنانچہ جب وہ تنظیم میں شامل ہوئے تو مذکورہ معیارات پر پورا اترنے کی وجہ سے انہیں فورً‌ا ہی درس کی ذمہ داری مل گئی تھی۔

مفتی طارق مسعود نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے جاندار اور ڈرانے والے انداز کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا شجاع الدین شیخ کا انداز بھی وہی ہے۔ اس پر شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحبؒ کے چہرے پر جو جلال اور رعب تھا وہ امت کے بگاڑ اور منکرات کے بڑھتے چلے جانے پر ان کی کڑھن کا اظہار تھا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ذاتی طور پر ڈاکٹر صاحبؒ سے ملنے والے جانتے ہیں کہ وہ بالکل مختلف شخصیت تھے، نجی محافل میں وہ ایسی سخت گفتگو نہیں کرتے تھے، حسبِ موقع مذاق اور لطیفہ گوئی کا معاملہ بھی ہوتا تھا۔ شجاع الدین شیخ نے کہا کہ ڈاکٹر صاحبؒ کے بعد ان کے صاحبزادے حافظ عاکف سعید بالکل برعکس شخصیت تھے، انتہائی شفقت اور نرمی والے، چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ تھی۔ انہوں نے کہا کہ نتیجے کے طور پر ڈاکٹر صاحبؒ کے شاگردوں میں مزاج کا تنوع پایا جاتا ہے، اور وہ خود بھی بشارت اور انذار دونوں پہلوؤں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سیاست سے متعلق پالیسی

مفتی طارق مسعود نے سوال کیا کہ تنظیم اسلامی کا ہدف کیا ہے، کیا وہ خود سیاست میں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں، یا کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرتے ہیں؟ شجاع الدین شیخ نے وضاحت کی کہ فرد کا نصب العین رضائے الٰہی اور اُخروی نجات ہے اور تنظیم کا اجتماعی ہدف اقامتِ دین کی جدوجہد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تنظیمِ اسلامی مروجہ انتخابی سیاست میں شامل نہیں ہے۔ البتہ سیاسی گفتگو کرتے ہیں، ملک کے حالات پر کلام کرتے ہیں، اور حکمرانوں تک اپنی بات پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ اگر تنظیم کا کوئی رفیق کسی کو ووٹ دینا چاہے تو اس کے لیے دو باتوں کی ہدایت دی جاتی ہے:

  1. پہلی یہ کہ جس جماعت کو ووٹ دے رہا ہے اس کے منشور میں خلافِ اسلام کوئی بات شامل نہ ہو،
  2. دوسری یہ کہ جس امیدوار کو ووٹ دے رہا ہے وہ ظاہری اعتبار سے کبائر میں مبتلا نہ ہو۔

یہ تنظیم کی طے شدہ پالیسی ہے اور اجتماعی سطح پر کسی جماعت کی براہ راست حمایت نہیں کی جاتی۔ البتہ انہوں نے جنرل مشرف کے دور میں ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ کے حوالے سے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے موقف کا بھی ذکر کیا۔ ڈاکٹر صاحبؒ کو اگرچہ یقین تھا کہ انتخابی سیاست سے نظام نہیں بدلے گا، لیکن جب تمام دینی جماعتیں اکٹھی ہو گئیں تو انہوں نے اس میں اپنا وزن ڈالنے کے لیے اس میں شمولیت اختیار کی۔ شجاع الدین شیخ نے کہا کہ اب ایسا امکان نہیں ہے اور اس دور میں شریعت کے حوالے سے جو پسپائی ہوئی وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

ایک نیا فرقہ بننے کا خدشہ

مفتی طارق مسعود نے ایک اہم سوال اٹھایا کہ دینی مدارس کے بعض طلبہ اور علماء تنظیم اسلامی سے بدگمان رہتے ہیں اور خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں تنظیم کوئی نیا فرقہ بن کر سامنے نہ آجائے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی اس بدگمانی میں تھے لیکن جب انہوں نے تنظیم کے اداروں کا وزٹ کیا تو بدگمانی دور ہوئی۔

شجاع الدین شیخ نے کہا کہ یہ بدگمانیاں اس وقت تک رہتی ہیں جب تک ملاقاتیں نہ ہوں اور ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش نہ کی جائے۔ انہوں نے 1995ء کا ایک واقعہ سنایا کہ نوجوانی میں وہ اپنے محلے کی مسجد میں ’’تفسیر عثمانی‘‘، مفتی کفایت صاحبؒ کی ’’تعلیم الاسلام‘‘، اور مولانا منظور نعمانی صاحبؒ کی ’’معارف الحدیث‘‘ سے کچھ درس دیا کرتے تھے، تو نیو ٹاؤن کے علماء کو شکایت پہنچی کہ کوئی لڑکا وہاں درس دیتا ہے۔ چنانچہ میں وہاں کے علماء سے جا کر ملا اور انہیں میرے متعلق معلوم ہوا تو وہاں ایک بزرگ مولوی فضل محمد صاحب تھے جنہوں نے مجھ پر اطمینان کا اظہار کیا۔

شجاع الدین شیخ نے ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا حوالہ دیا کہ انہوں نے 1985ء میں فرمایا تھا کہ جب امت میں فتنہ اٹھتا ہے تو پہلا کام یہ کیا جاتا ہے کہ لوگوں کو اسلاف سے بدگمان کر دیا جائے۔ شجاع الدین شیخ نے کہا کہ تنظیم میں مدرسین کو سمجھایا جاتا ہے کہ ان کا میدان فتوے کا نہیں ہے، بلکہ دعوت اور اصلاح کا ہے۔ چنانچہ فقہی مسائل میں وہ علماء کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے خلاف دارالعلوم کورنگی اور جامعہ بنوریہ سے فتوے دیے گئے تھے لیکن آج ان فتاویٰ کا وجود نہیں ہے اور ان اداروں نے رجوع کر لیا ہے۔ شجاع الدین شیخ نے کہا کہ ڈاکٹر صاحبؒ خود فرماتے تھے کہ فقہی معاملات میں وہ اُمی ہیں، اور اس کی وضاحت میں فرماتے تھے کہ ’’جتنا ان کی اَمی نے بتایا ہے اتنا جانتے ہیں‘‘۔

خواتین کی جدوجہد اور پردے کا انتظام

مفتی طارق مسعود نے خواتین میں کام کے بارے میں پوچھا کہ کیا خواتین کو علاقوں کی امیر بنایا جاتا ہے اور کیا وہ درس بھی دیتی ہیں۔ شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ تنظیم میں مرد اور عورت کی علیحدگی کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ عورتوں کا نظم محدود رکھا گیا ہے کیونکہ عورت کی اصل ذمہ داری گھر ہے۔ جن خواتین کے بچے چھوٹے ہیں انہیں باہر کی کوئی ذمہ داری نہیں دی جاتی۔ البتہ جو خواتین گھر کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو چکی ہیں اور گھر سے اجازت ہے، وہ علاقائی سطح پر ہماری خواتین کی جدوجہد میں شریک ہو سکتی ہیں، اور اگر کسی میں صلاحیت ہے تو وہ بیان یا تربیت نشست کا سلسلہ بھی کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں خواتین کا نظم مردوں کے نظم کے تابع رکھا گیا ہے۔

شجاع الدین شیخ نے قرآن اکیڈمیوں میں خواتین کے سیکشن کا نظام بھی بتایا کہ خواتین براہ راست اساتذہ سے بات چیت نہیں کرتیں بلکہ وہ اپنے سوال لکھ کر بھیجتی ہیں جن کا جواب دیا جاتا ہے۔ ’’رجوع الی القرآن‘‘ کورسز میں خواتین باپردہ شرکت کرتی ہیں اور تجوید اور گرامر کی تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ جن خواتین میں استعداد پیدا ہو جاتی ہے انہیں گھروں یا مقامی مراکز کی حد تک درس کا سلسلہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

مفتی طارق مسعود نے کہا کہ اگر بے حیائی ختم کرنی ہے تو عورتوں پر محنت کرنی پڑے گی۔ انہوں نے امام ابوحنیفہؒ کے دور اور آج کے دور کے فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ تب خواتین مسجد نہیں آتی تھیں تو گھروں میں رہتی تھیں، لیکن آج اگر انہیں مسجد میں نہیں لائیں گے تو وہ ٹیلی ویژن اور ڈراموں کے سامنے بیٹھیں گی، یا بازاروں میں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بڑی مصیبت کفر و الحاد ہے جس سے بچنے کے لیے چھوٹی مصیبت برداشت کرنی چاہیے۔

شجاع الدین شیخ نے مفتی طارق مسعود کی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جب نوکری اور تعلیم وغیرہ کے لیے اجازت دی جا رہی ہے تو اللہ کے گھر میں آ کر قرآن سننے سے روکنا مضحکہ خیز بات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری محافل میں ایسی خواتین آئیں جو پہلے ماڈلنگ یا فنکاری کرتی تھیں اور اللہ نے ان کی زندگیاں بدل دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کے کلام کی برکت ہے اور مفتی منیب الرحمان جیسے بزرگ بھی اس رائے کے قائل ہیں کہ اس دور میں عورتوں کے لیے ایسا انتظام ہونا چاہیے تاکہ وہ فضولیات میں نہ جائیں۔

شادیوں کی آسانی کی مہم

مفتی طارق مسعود نے شادیوں کے موضوع پر بھی بات کی اور بتایا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ تنظیمِ اسلامی بیوہ اور طلاق یافتہ عورتوں کی شادیوں کو بھی فروغ دیتی ہے۔ شجاع الدین شیخ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے نکاح کو آسان بنانے کی بڑی تحریک چلائی تھی۔ ہمارے ہاں پہلی شادی ہی اتنی مہنگی اور مشکل کر دی گئی ہے کہ دوسری کے متعلق کسی نے کیا سوچنا ہے۔ اور بتایا کہ انہوں نے خود بھی اپنے ایک بزرگ ساتھی کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ سے نکاح کیا ہے، جن کی ایک شادی شدہ بیٹی (ربیبہ) بھی ہے جو ان کے ساتھ ہی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترغیب و تشویق کا معاملہ ہے، حکم کی بات نہیں تاکہ خواتین عفت اور حیا کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

نصابِ تعلیم میں قرآن حکیم شامل کرنے کی جدوجہد

مفتی طارق مسعود نے اپنی ایک پرانی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے شجاع الدین شیخ سے کہا کہ اپنے اُس منصوبے کے متعلق بتائیے جس کے تحت وہ خیبرپختونخوا میں قرآن حکیم کو نصابِ تعلیم میں شامل کرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ 

شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ یہ کام ’’علم فاؤنڈیشن‘‘ کے تحت کیا گیا، جو کراچی کے چند مخلص تاجر حضرات کا قائم کردہ ادارہ ہے۔ یہ نصاب 2009ء میں شروع ہوا اور 2010ء میں پہلا حصہ شائع ہوا۔ ابتدا میں ڈھائی ہزار بچوں کے لیے کراچی کے بائیس اسکولوں میں یہ سلسلہ شروع کیا گیا۔

شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ اس منصوبے کا نام ’’مطالعہ قرآن حکیم برائے طلبہ و طالبات‘‘ ہے جس میں مکمل قرآن کا ترجمہ، تشریح، اخلاقی اسباق اور مشقیں شامل ہیں۔ 2017ء میں نون لیگ حکومت کے وزیر تعلیم بلیغ الرحمان صاحب تک مفتی عدنان کاکاخیل صاحب کے ذریعے یہ بات پہنچی جس کے نتیجے میں فیڈرل گزٹ میں یہ ترتیب آگئی کہ پہلی سے پانچویں تک ناظرہ قرآن، اور چھٹی سے بارہویں تک قرآن کا ترجمہ پڑھانا ضروری ہے۔

2018ء میں جب کچھ خدشات سامنے آئے تو جناب بلیغ الرحمان نے ’’اتحاد تنظیمات مدارس‘‘ (پانچوں وفاق: دیوبند، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ، اور جماعت اسلامی) سے رابطہ کیا۔ ان پانچوں وفاق کے جید علماء پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں شجاع الدین شیخ ’’علم فاؤنڈیشن‘‘ کی طرف سے شامل تھے۔ تین سال تک اسلام آباد میں بیس میٹنگیں ہوئیں جن میں ہر پہلو پر بحث ہوئی۔ اور بالآخر 28 جنوری 2020ء کو کووڈ (کرونا) سے پہلے تمام سات حصوں پر تمام مکاتب فکر نے اتفاق کیا اور دستخط کیے۔

مفتی طارق مسعود نے کہا کہ ایسا اتفاق پاکستان میں شاید ختمِ نبوت والے معاملے کے بعد پہلی بار ہوا ہو گا۔ شجاع الدین شیخ نے تائید کرتے ہوئے بتایا کہ تمام مسالک نے ایک ترجمہ و تشریح پر اتفاق کیا، اور آج تقریباً 23 لاکھ طلبہ یہ نصاب پڑھ رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت نے اسے اسکولوں میں لاگو کیا۔ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت میں اس پر کام شروع ہو گیا تھا، اور اب جبکہ حکومت تبدیل ہو گئی ہے لیکن پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے یہ سلسلہ ترک نہیں کیا اور اب نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے لیے اس کا لازمی پیپر آنے والا ہے۔ شجاع الدین شیخ نے کہا کہ جب پیپر لازمی ہو جائے گا تو سب کو پڑھنا پڑے گا۔

مفتی طارق مسعود نے پوچھا کہ اس نصاب کو منظور کروانے اور اسکولوں کا حصہ بنانے میں کن کن شخصیات کا کردار ہے۔ شجاع الدین شیخ نے سب سے پہلے علم فاؤنڈیشن کے سرپرستوں کا ذکر کیا جو تاجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور انتہائی دیندار لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کو اللہ نے خیر کے کاموں کے لیے خاص توفیق دی ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء میں انہوں نے مفتی تقی عثمانی، مولانا منظور احمد مینگل (وفاق المدارس)، مولانا ارشد سعید کاظمی (بریلوی مکتب فکر)، مولانا نجیب اللہ طارق (اہل حدیث)، ڈاکٹر عطاء الرحمان (جماعت اسلامی)، اور اہل تشیع کی طرف سے جامعہ الکوثر کے نمائندوں کا نام لیا۔ مولانا قاری حنیف جالندھری اور مفتی عدنان کاکاخیل کا بھی تعاون رہا۔ انہوں نے بتایا کہ بلیغ الرحمان صاحب نے مولانا فضل الرحمان اور عمران خان سے بھی بات کی تھی اور کسی نے اس سلسلہ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی۔

تنظیم میں شمولیت کا طریقہ کار

مفتی طارق مسعود نے آخری سوال میں پوچھا کہ اگر کوئی نوجوان تنظیم اسلامی میں شمولیت اختیار کرنا چاہے یا درس دینا چاہے تو اس کا طریقہ کیا ہے۔ شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ ویب سائٹ tanzeem.org پر پورے پاکستان کے دفاتر کے پتے اور فون نمبر موجود ہیں، اور info@tanzeem.org پر ای میل بھی کی جا سکتی ہے۔ شامل ہونے سے پہلے دو تین بنیادی کتابچے پڑھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جن میں تنظیمِ اسلامی کا تعارف اور اس کی دعوت شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شمولیت بیعت کے ذریعے ہوتی ہے۔ خواتین کی بیعت سورہ ممتحنہ کے الفاظ پر ہوتی ہے کہ وہ شرک، چوری اور گناہوں سے بچیں گی اور اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گی۔ مردوں کے لیے مبتدی کی بیعت میں کلمہ، استغفار، اور وعدہ ہوتا ہے کہ وہ نافرمانی چھوڑ دیں گے اور اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لیے محنت کریں گے۔ جو آگے بڑھ کر ملتزم بنتا ہے اس کی بیعت ’’بیعت عقبہ ثانی‘‘ کے الفاظ پر ہوتی ہے، البتہ چونکہ وہ بیعت تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر تھی، لہٰذا ہمارے ہاں اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ امیر کی کوئی ایسی بات جو شریعت کے خلاف ہو تو اسے نہیں ماننا ہوگا۔

مفتی طارق مسعود نے پوچھا کہ کیا پاکستان سے باہر بھی تنظیم کا کوئی سلسلہ ہے۔ شجاع الدین شیخ نے بتایا کہ ان کا فوکس پاکستان پر ہے جہاں وہ پیدا ہوئے اور جہاں کی بولی بولتے ہیں اور جو اسلام کے نام پر قائم کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جگہ اگر خلافت کا نظام قائم ہو جائے تو اس کا اثر خودبخود پھیلے گا۔ البتہ جو پاکستانی بیرون ملک جڑے رہنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے ایک حد تک مختلف علاقوں میں نظم موجود ہے۔

آخر میں مفتی طارق مسعود نے شجاع الدین شیخ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مجلس بہت مفید رہی۔ شجاع الدین شیخ نے مفتی صاحب کی وسعتِ قلبی اور محبت کو سراہا کہ انہوں نے اپنا یہ پورا پروگرام تنظیمِ اسلامی اور ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے حوالے سے کیا ہے۔ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مدارس اور عصری تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان رابطے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ دین کی خدمت بڑے پیمانے پر ہو سکے۔

https://youtu.be/svG_KhgE6kE

سوال و جواب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی

(الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۴

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۰)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۱)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۴)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

صحیح مسلم کا قدیم ترین نسخہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۱)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۴)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۳)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت خولہ بنت الازور کندی اسدی رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۱)
محمد سراج اسرار

مسئلہ تشبہ امام ابن تیمیہ کی نظر میں
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

زندگی کی قدر اور وقت کی تقسیمِ کار
مولانا فضل سبحان
مولانا عبد المتین

مذہبی رواداری اور غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۳)
پروفیسر خورشید احمد

مفتی طارق مسعود اور شجاع الدین شیخ کا مکالمہ
شجاع الدین شیخ
مفتی طارق مسعود

اسقاطِ حمل اور حقوقِ انسانی کا قانون
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

On the Islamic Status of Pakistan`s Constitution
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عالمِ اسلام کے لیے نئے امکانات — پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
مولانا فضل الرحمٰن

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ اور خطہ میں اس کے ممکنہ اثرات
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

رویتِ ہلال کے متعلق پانچ قانونی سوالات
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

افغانستان اور پاکستان کے علماء کی طرف سے قیامِ امن کیلئے مشترکہ بیان
مولانا حافظ نصر الدین خان عمر
پاکستان شریعت کونسل

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter