بیسویں صدی کا آغاز اس طرح ہوا تھا کہ صرف چار مسلمان نیم آزاد ملک تھے۔ باقی ساری اسلامی دنیا مغربی اقوام کی غلامی میں تھی۔ اور تقریباً یہ دو سو سال کا تاریک دور تھا۔ لیکن اس صدی میں ہم اس سے نکلے، آج مسلمانوں کی ستاون آزاد ریاستیں ہیں۔ پھر ۱۹۷۳ء تک دنیا کا اکنامک بیلنس آف پاور مغرب کے ہاتھوں میں تھا۔ یعنی ایک معمولی سے جھٹکے سے، آئل پرائسز، اکنامک بیلنس آف پاور abolish ہوا، اور ہمیں غیر معمولی موقع ملا۔ آزادی ہم کو اللہ نے دی ہے۔ اکانومی کا موقع ہم کو دیا۔ اور پھر اس صدی میں اللہ کا شکر ہے کہ دین کا صحیح تصور وضاحت کے ساتھ پیش ہوا۔ میں اس سلسلہ میں، ویسے تو ہمیشہ رہا، شاہ ولی اللہ کا اور سید احمد شہید کا بڑا کنٹری بیوشن ہے، لیکن میری نگاہ میں شبیر نعمانی، ابوالکلام آزاد، اقبال، مولانا مودودی، حسن البنا، سید قطب، مالک بن نبی، اسی طرح دیگر، ایک فوج کی فوج ہے جنہوں نے اس کو پیش کیا۔ اختلافات بھی ہیں لیکن مرکزی نکتہ ایک ہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ دین مکمل نظام ہے، اسے قائم کرنے کی کوشش ہمارا فرض ہے۔
مجھے الجھن ہوتی ہے جب لوگ یہ بات کہتے ہیں کہ ریاست مسلمان کیسے ہو سکتی ہے۔ قانونی اعتبار سے ریاست ایک لیگل پرسن (قانونی شخصیت) ہے۔ اور ایک لیگل پرسن جو ہے، جس طرح اس کا ایک فزیکل وجود ہے، اس طرح اس کا انٹلیکچوئل اور آئیڈیالوجیکل وجود ہے، ایک پولیٹیکل وجود ہے۔ اگر ریاست ایک ویلفیئر سٹیٹ ہو سکتی ہے، ایک کرسچئن سٹیٹ ہو سکتی ہے، ایک سوشلسٹ سٹیٹ ہو سکتی ہے، ایک بدھسٹ سٹیٹ ہو سکتی ہے، ایک ہندو سٹیٹ ہو سکتی ہے، تو اسلامک سٹیٹ کیوں نہیں ہو سکتی؟
کہا جاتا ہے کہ یہ تو ایک انعام ہے، لیکن میں پوچھتا ہوں کہ نعمت کے تو معنی یہ ہے کہ ہم اس کے حصول کی کوشش کریں۔ نعمت کا یہ معنی تو نہیں ہے کہ ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھ کر انتظار کریں۔ ٹھیک ہے رزق بھی ایک نعمت ہے، لیکن رزق کے لیے آپ کو کوشش کرنی ہوتی ہے۔ تو اللہ کی نعمت اور انعام ہے، تو اس کے قیام کی جدوجہد تو ضروری شے ہے۔ اور یہ پھر قرآن خود کہہ دیتا ہے کہ ’’الذین ان مکناھم فی الارض اقاموا الصلوٰۃ واٰتوا الزکوٰۃ وامروا بالمعروف‘‘ (الحج 41) جب تمہیں اقتدار دیا جاتا ہے تو جہاں تم نماز قائم کرتے ہو، زکوٰۃ قائم کرتے ہو، وہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔اور امر کے معنی درخواست کرنا نہیں ہوتے ہیں۔ اور نہی کے معنی محض متنبہ کرنا نہیں ہوتے ہیں۔ قائم کرنا۔ تو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو یہ تینوں چیزیں ہمیں حاصل ہوئیں لیکن بدقسمتی سے ہم نے اس سے پورا پورا فائدہ نہیں اٹھایا۔ اور ہمارا اندرونی نظام، قیادتیں، جاہلیت کی بنیادوں پر یہ منظم ہیں۔ لیکن اصلاح کی قوتیں، تبدیلی کی قوتیں ہر جگہ کارفرما ہیںٖ۔ نشیب و فراز ہیں۔
- اگر مصر میں چالیس سال تک اخوان پر پابندی لگانے اور ہزاروں کی تعداد میں افراد کو شہید کرنے اور جیل میں ڈالنے، تعذیب کرنے، اس کے باوجود اس طرح ابھر سکتا ہے۔
- ترکی میں اذان دینا ممنوع تھا، سر پر ٹوپی نہیں اوڑھ سکتے تھے باہر آپ، عربی میں آج بھی کوئی کتاب نہیں چھاپ سکتے۔ لیکن کیا تبدیلی آئی ہے؟
- سنٹرل ایشیا میں ستر سال اشتراکیت نے کیا کیا ہے؟
تو میں، جہاں ایک طرف جو خرابیاں ہیں، جو تضادات ہیں، جو کمزوریاں ہیں، اُن کا معترف ہوں، وہیں یہ اعتماد رکھتا ہوں کہ ہمارے پاس وہ نظریہ بھی ہے، وہ استعداد اور قوت بھی ہے، جذبہ بھی ہے، اور ساری جہالت اور کمزوریوں کے باوجود، بڑی جان اور بڑا جذبہ ہے۔ صرف اسے صحیح طور پر موبلائز کرنے کی، مویٹیویٹ کرنے کی، آرگنائز کرنے کی ضرورت ہے۔ اور جہاں جہاں جو اس طرح ہوا ہے اس کے نتائج نکلے ہیں۔ تو نشیب و فراز ہیں۔ ان شاء اللہ آئندہ بھی، میں پر امید ہوں کہ حالات بدلیں گے۔
اور اس میں مجھے امید نوجوانوں سے ہے خاص طور پہ۔ آج ففٹی سے سکسٹی پرسنٹ مسلم ورلڈ کی آبادی نوجوان ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا اثاثہ ہے۔ یہ بہت بڑی قوت ہے۔ اور مشورہ میرا اُن کے لیے صرف ایک ہی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ زندگی کو محض کھانے اور پینے اور آرام کے لیے استعمال نہ کریں، بلکہ زندگی کا مقصد پہچانیں اور سمجھیں۔ اور پھر اس مقصد کے لیے اپنے آپ کو تیار بھی کریں، اور اس مقصد کو بروئے کار لانے کی کوشش اور جدوجہد بھی کریں۔ یہ کام انفرادی سطح پر بھی ہونا ہے، اجتماعی سطح پر بھی ہونا ہے۔ اور میں اسے صرف تین لفظوں میں ادا کیا کرتا ہوں:
- پہلی چیز ہے خدا شناسی۔ اللہ کو پہچان لیجیے، اس کے دامن کو تھام لیجیے، اور وہ ہمیں کیسا چاہتا ہے، اس کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔
- پھر خود شناسی، کہ میں خود کیا ہوں۔ اور اللہ اور اس کے رسول مجھے کیسے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور قرآن و سنت میں میرے لیے کیا نمونہ دیا گیا ہے، کیا مجھے ہدایت دی گئی ہے، کیسا بننے کا مجھے بتایا گیا ہے۔
- اور پھر خلق شناسی، کہ اس کے نتیجے کے طور پر اللہ کی مخلوق سے میرے تعلقات کیسے ہوں گے۔ اپنے اعزہ سے، اپنے خاندان سے، عام لوگوں سے، اپنے محلے سے، عام انسانوں سے ، دوستوں سے، دشمنوں سے، کافروں سے، مسلمانوں سے، انسٹیٹیوشنز سے، فیملی سے لے کر کے سٹیٹ تک، یہ سب اس میں کور ہو جاتے ہیں۔
تو میرا ان کو مشورہ صرف یہی ہے کہ زندگی کا مقصد متعین کیجیے اور مقصد کو پھر سنجیدگی سے قبول کر کے اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کیجیے۔
رہا معاملہ خواتین کا، تو خواتین کے بارے میں میں یہ بات صاف عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام نے کوئی فرق، کامیابی کے معیار کے اعتبار سے، مرد اور عورت کے درمیان نہیں کیا ہے۔ اور قرآن اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ ایمان لانے والے مرد، ایمان لانے والی عورتیں، تقویٰ اختیار کرنے والے مرد، تقویٰ اختیار کرنے والی عورتیں، قرآن میں دونوں کو ساتھ ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو جس طرح مردوں کے لیے کہا اسی طرح عورتوں کے لیے کہا۔ یہ ضرور ہے کہ اپنی صلاحیت ، اپنی ذمہ داریوں، اپنے ماحول، اس کی مناسبت سے آپ کو … وہاں فرق ہو سکتا ہے، لیکن مقام میں، رائٹس میں، رول میں، کوئی فرق نہیں ہے، …
اور یہ بھی اللہ کا ہمارے اوپر بڑا کرم ہے کہ اس نےعقیدے کے بارے میں ہمیں تفصیل دے دی ہے۔ اس میں نہ کوئی اضافہ ہو سکتا ہے، نہ کمی ہو سکتی ہے۔ اس نے عبادات کے بارے میں، جو اللہ سے انسان کو جوڑتی ہیں، اور بندوں کو اللہ کی مرضی زمین پر پوری کرنے کے لائق بناتی ہیں، اس کی پوری تفصیل دے دی ہے، اس میں کوئی اضافہ اور کمی نہیں ہو سکتی۔ لیکن اس کے بعد باقی سارے معاملات جتنے بھی ہیں ان میں ایک بڑی حکمت کے ساتھ صرف ضروری ہدایات دی ہیں، اور باقی آپ کو آزادی دی ہے اور آپ کو موقع دیا ہے کہ آپ حالات کی مناسبت سے اپنا راستہ نکالیں۔
خاندان کے نظام کو آپ دیکھیے، اس کے لیے تفصیلی قانون دیا ہے۔ پورے قانون کا چالیس فیصد صرف خاندان کے بارے میں ہے۔ معاشی معاملات، سیاسی معاملات، اجتماعی معاملات، بین الاقوامی معاملات، سب کے بارے میں صرف گائیڈلائنز ہیں، تاکہ پھر آپ زمانے کی ضروریات کی مناسبت سے ان کی روشنی میں اپنا راستہ نکالیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں قرآن پہنچایا، قرآن کی تعلیم دی، قرآن کے مطابق تزکیہ کیا، وہیں حکمت کی تعلیم دی۔ اور حکمت کی تعلیم نام ہے اس بات کا کہ ان کی روشنی میں آپ اپنے دور میں اپنے حالات کے مطابق کیسے کام کریں۔ حضورؐ نے کر کے دکھایا دیا، اس لیے حدیث اور سنت آپ کے لیے نمونہ ہیں۔ لیکن یہ صرف ایک datum (معلومات) نہیں ہے بلکہ methodology (عملی نمونہ) ہے۔ اور اس میتھاڈولوجی سے ہر دور میں افراد کو بھی اور امت کو بھی اپنا راستہ نکالنا ہے۔
میں نے مثال دی آپ کو کہ تحریکِ پاکستان میں، اس قرارداد میں بھی، جہاں قائد اعظم نے اور فضل الحق نے اور خلیق الزمان نے تقریریں کیں، وہیں مولانا محمد علی جوہر کی اہلیہ نے بھی تقریر کی۔ وہ برقع پہن کر پوری تحریک میں شریک رہی ہیں۔ اور آخری وقت تک مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگز میں شریک ہوتی رہی ہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح نے کیا کردار ادا کیا۔ اور بلا کسی اُس کے، تحدیثِ نعمت کے طور پر میں آپ سے کہتا ہوں کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں جو ہماری جماعت کی خواتین آئی ہیں، انہوں نے کس طرح خدمت انجام دی ہے۔ تازہ ترین جو رپورٹ ہے … وہ یہ کہتی ہے کہ اس اسمبلی میں بھی، جے یو آئی اور جماعت اسلامی، ان کی خواتین سرِفہرست ہیں، مردوں سے بھی آگے ہیں، اپنا کام کرنے میں۔
تو آپ ہر جگہ کام کر سکتی ہیں، اپنے اصول اور اپنے آداب کا خیال رکھ کر۔ باقی یہ صحیح ہے کہ گھر اولین ذمہ داری ہے اور وہ کوئی اور ادا نہیں کر سکتا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جتنی بھی مہلت ملے، جتنا بھی وقت ملے، وہ آپ کا بھی فرض ہے کہ آپ اس جدوجہد میں شریک ہوں اور اپنا کردار ادا کریں۔ اور آپ کا اجر دوسروں سے زیادہ ہے، اس لیے کہ اللہ کے رسولؐ نے آپ سے کہا ہے کہ آپ کی گھر کی نماز بھی اتنے ہی ثواب کی مستحق ہے جتنا جماعت میں مسجد میں جا کر مردوں کی نماز ہے۔ تو اللہ کے رسول اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے بے پناہ مواقع بھی دیے ہیں اور مراعات بھی دی ہیں۔ لیکن اس فریم ورک میں اپنا راستہ نکالیے۔
اور آخری بات تحقیق کے سلسلے میں کہہ کر بات کو ختم کرتا ہوں:
- تحقیق کے باب میں میری درخواست پہلی یہ ہے کہ تحقیق سے بھی پہلے عادت ڈالیے پڑھنے کی۔ مجھے دکھ ہے کہ ہماری قوم بحیثیت مجموعی، پڑھنے کی جو عادت ہے، جو اہمیت ہے، وہ کم ہو رہی ہے۔ یہ بہت نقصان کا سودا ہے۔ اللہ میاں نے جو کتاب بھیجی ہے، تو کتاب کا معنی یہی ہے کہ پڑھنا۔ سننا بھی آجاتا ہے، اور جو آپ کی جدید ٹیکنالوجی ہے، فائدہ اٹھائیے ضرور، لیکن کتاب پڑھنا، کتاب سے تعلق آپ کا رہنا چاہیے۔
- دوسری چیز یہ ہے کہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ سوچنا، سمجھنا، اور پھر تنقیدی فیکلٹی (صلاحیت) کو ڈویلپ کرنا۔ تحقیق کے لیے تنقیدی فیکلٹی کا ڈویلپ کرنا بے حد ضروری ہے۔ وہ تحقیق جو تنقیدی فیکلٹی کو ڈویلپ کیے بغیر ہوتی ہے، وہ مکھی پہ مکھی تو مار لیتے ہیں، لیکن نئی رائے نہیں ہوتی۔ تو دوسری چیز یہ ہے۔
- تیسری چیز یہ ہے کہ فیکٹ (حقائق) کے بارے میں کبھی کمپرومائز نہ کیجیے۔ نہ فیکٹ کا انکار کیجیے، نہ فیکٹ کے باب میں سیلیکٹِو ہوں۔ لیکن یہ متعین کیجیے کہ کیا فیکٹ ہے اور کیا فکشن۔ فکشن کو فیکٹ نہ لیں، اور فیکٹ کو فکشن نہ سمجھیں۔ لیکن فیکٹ کی تعبیر، فیکٹ کی روشنی میں پھر تفہیم، اور ان دونوں کی روشنی میں تشکیلِ نو ، آگے کی سوچ۔ فیکٹس آپ کا راستہ نہیں روکتے۔ فیکٹس آپ کو صرف بتاتے ہیں کہ کیا چیلنجز ہیں ، کیا حقائق ہیں، آپ کو کیسے ریسپانڈ کرنا چاہیے۔ تو اس لیے فیکٹ اور تفہیم اور تشکیلِ نو، ان تینوں مراحل کو۔
- اس کے بعد پھر میں بہت صاف الفاظ میں عرض کرتا ہوں کہ تحقیق کا کام پتہ ماری کا کام ہے، سہل انگاری کا نہیں۔ بڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جو محنت نہیں کرتے، یا کوالٹی کے اعتبار سے کمزور چیز ہوتی ہے، یا پھر prejudicism (جانبداری/تعصب) کی طرف چلے جاتے ہیں۔ ان سب سے بچنے کی ضرورت ہے۔ میں نے اپنی حد تک کوشش کی ہے اور اسی کی تلقین بھی اپنے ساتھیوں کو کی ہے کہ تحقیق کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔
اور جو ادارے، اللہ نے مجھے توفیق دی ہے، قیام میں کوئی کردار ادا کرنے کی، ہم نے وہ روایت قائم کرنے کی کوشش کی ہے، اور میں بات کو اسی پہ ختم کرنا چاہتا ہوں کہ IPS ایک امانت ہے آپ سب کے ہاتھوں میں۔ یہ اللہ کا ہم پر فضل رہا ہے کہ اس نے ہمیں بروقت اس باب میں سوچ اور پھر اس سوچ کے مطابق کوشش کی صلاحیت سے نوازا، اس کی توفیق عطا فرمائی۔ آئی پی ایس اسلام کی احیائی تحریک کا ایک حصہ ہے۔ لیکن آئی پی ایس اپنی تنظیم کے اعتبار سے، اپنی مینجمنٹ کے اعتبار سے، ایک انڈیپینڈنٹ ادارہ ہے۔ ہماری وفاداریاں اس تصور کے ساتھ ہیں، ہماری دعائیں اسلامی تحریک اور اسلامی قوتوں کی کامیابی کے لیے ہیں، لیکن ہمارا طریق کار یہ ہے کہ ہم ایک محدود دائرے میں، جو policy analysis ہے: کیا پالیسی ہے؟ کیا حقائق ہیں؟ پالیسیوں میں کیا خوبیاں اور کیا کمزوریاں ہیں؟ نئی پالیسیز کیا ہونی چاہئیں؟ یہ ہے وہ فریم ورک جس میں ہم کام کر رہے ہیں۔ ہمارا سورس آف ریفرنس ہمارا نظریہ، اسلام اور پاکستان اور مسلم امہ اور اس کی خودانحصاری، اس کی استطاعت کو مضبوط کرنا، اسے اس لائق بنانا کہ یہ اپنے پاؤں پہ کھڑا ہو سکے۔
مختصراً ہمارا سارا کام پروفیشنل ہے، پروفیشنل انداز میں ہونا چاہیے، جس میں ادارے میں بروقت آنے سے لے کر کے آپ کی تحقیق، آپ کی تحریر، آپ کی ڈسکشنز، آپ کے نتائجِ فکر، ان کی تشہیر اور ان کو دوسروں تک پہنچانا، یہ سارے پہلو شامل ہیں۔ اور یہ ہر کام ایفیشنسی کے ساتھ اعلیٰ معیار کے اوپر، ہمیشہ cry for the best, there is always room at the top اگر اس کو آپ اپنے سامنے رکھیں گے تو ان شاء اللہ آپ بلندیوں کی طرف جائیں گے اور مثال قائم کریں گے۔ یہ آئیڈیل ہمارا ہونا چاہیے۔ اسی جذبے سے یہ ادارہ ہم نے قائم کیا ہے اور اپنی ساری کمزوریوں کے باوجود ہم چاہتے ہیں کہ یہی ہمارے پاس معیار رہے۔
میری دعا اور میری تلقین آپ لوگوں کے لیے یہی ہے کہ اس فریم ورک میں آپ اپنا کام کریں، اور مجھے خوشی ہے یہ بات کہتے ہوئے کہ میں اپنی صحت کی بنا پر اپنی غیر موجودگی کی بنا پر زیادہ وقت نہیں دے پا رہا ہوں، شروع میں تو بہرحال میں نے سارا وقت یہیں دیا ہے، لیکن اب بورڈ آف گورنرز نے میرے بھائی خالد رحمان کو ایگزیکٹو پریزیڈنٹ آئی پی ایس کا مقرر کیا ہے، جس کا چارج انہوں نے لے لیا ہے، مجھے وہ کنسلٹ کرتے رہیں گے، مطلع رکھیں گے، لیکن عملاً ذمہ داری اب اُن کے اوپر ہے، اور ان شاء اللہ، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم کوشش کریں گے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی دوسرا آجائے، تاکہ انتظامی معاملات میں ان کو کچھ سہولت مل سکے، فی الحال یہ دونوں ذمہ داریاں وہ پوری ادا کریں گے۔
ان گزارشات کے ساتھ میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لے لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جو کچھ میں نے کہا ہے اس میں جو خیر ہے اس کے لیے ہمارے دلوں کو کھول دے۔ اور اگر مجھ سے کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے تو ہمیں معاف کرے اور مجھ کو اور آپ سب کو محفوظ رکھے۔ واٰخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
ندیم صاحب: بہت شکریہ سر ، جزاک اللہ۔ ……ابھی ہمارے پاس کچھ وقت ہے، ہم چار بج کر پچاس منٹ تک کچھ سوالات، کچھ کامنٹس، کچھ تاثرات لے سکتے ہیں، لیکن کوشش کریں کہ دوسروں کو بھی موقع ملے، پھر خاص طور پہ، اس وقت ظاہر ہے، جیسے میں نے شروع میں کہا کہ بہت خوشی ہے آپ سب لوگ تشریف لائے ہیں، خاص طور پر میں جو اس وقت پہچان رہا ہوں، سلیم منصور خالد صاحب لاہور سے تشریف لائے ہیں، ڈاکٹر عدنان سرور صاحب پشاور سے خاص طور سے تقریب کے لیے تشریف لائے ہیں۔
پروفیسر خورشید احمد: میں بہت ممنون ہوں آپ سب حضرات کا۔
ندیم صاحب: ہم دل سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اور اگر ابھی کچھ ہمارے ساتھی بزرگ ، پہلے ذرا ہم بزرگوں سے شرو ع کرتے ہیں …
(جاری)
