مطلّقہ عورت کا شوہر کی جائیداد میں حصہ: اسلام آباد ہائی کورٹ کا غیر شرعی فیصلہ

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی صاحب نے حال ہی میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ شوہر اگر بیوی کو طلاق دے تو اس کی دولت اور جائیداد میں اس کی بیوی کا بھی منصفانہ حصہ ہونا چاہیے، نیز حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ اس کے لیے ضروری قانون سازی کرے اور نکاح نامے میں ترمیم کرے۔

ہمیں یہ فیصلہ دو لحاظ سے غلط لگتا ہے:

(1) ایک تو اس بنا پر کہ نصوصِ شریعت میں اس کا کوئی ذکر نہیں، ہمارے علماء و فقہاء نے بھی کبھی یہ رائے نہیں دی، اگر جسٹس صاحب نے یہ فیصلہ بر بنائے اجتہاد کیا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا ان میں مجتہد کی وہ شرائط پائی جاتی ہیں جو ہماری فقہی روایت میں متفق علیہ ہیں — یعنی احکامِ قرآن و سنت، فقہ و اصولِ فقہ اور عربی زبان پر عبور — جب ان میں یہ صلاحیت نہیں پائی جاتی تو وہ اجتہاد کیونکر کر سکتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 97 فیصد مسلمان ان کی ایسی رائے کو کیوں کر قبول کریں گے؟

یاد رہے کہ جسٹس صاحب کے پاس یہ آپشن موجود تھی کہ وہ مدعا علیہ کے فقہی مسلک کے مطابق فیصلہ کرتے۔ جیسا کہ دستورِ پاکستان کی دفعہ 227 کی تشریح کے مطابق شخصی اور عائلی امور میں مختلف فرقوں کے فہمِ شریعت کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ نیز ان کے پاس یہ آپشن بھی موجود تھی کہ اگر وہ اس بارے میں تفصیلی شرعی احکام سے ناواقف تھے تو اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کرتے، یا موزوں علماء کرام کو عدالتی معاون کے طور پر بلا لیتے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے ہر حج کے ساتھ ایک مفتی ہونا چاہیے، جیسے کہ مسلمانوں کی فقہی تاریخ میں ہوتا رہا ہے کہ قاضی اگرچہ دین کا عالم ہوتا تھا لیکن وہ معاونت اور دینی معاملات کی تنقیح کے لیے مفتیوں سے رائے لے لیتا تھا۔ یاد رہے کہ اس وقت بھی آزاد کشمیر میں اور بلوچستان کے بعض اضلاع خصوصاً‌ ریاست قلات میں مفتیوں کا تقرر سرکاری طور پر کیا جاتا ہے تاکہ فیصلے اسلامی شرع کے خلاف نہ ہو سکیں۔

سوال یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان اور وزارتِ قانون کیوں عدلیہ کے چھوٹے بڑے جوں اور وکلاء کی شریعت اور فقہِ اسلامی میں تربیت کا انتظام نہیں کرتی اور کیوں عدالتوں میں مفتیوں کا تقرر نہیں کرتی جبکہ یہ آئین کی بے شمار دفعات کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں جوں کو فیصلے اسلامی شریعت کے مطابق کرنے چاہئیں۔ یہاں حالت یہ ہے کہ جب غازی ممتاز قادری کی اپیل سپریم کورٹ میں گئی تو چیف جسٹس صاحب نے وکیلِ صفائی کو کہا کہ ہمارے سامنے آپ کو آیات و احادیث پڑھنے کا فائدہ نہیں کیونکہ ہم شریعہ کے ماہر ججز نہیں ہیں، جی ہم تو فیصلہ آئینِ پاکستان کے تحت کریں گے۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپیل خارج کر دی۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کے عوام کی بہت بڑی اکثریت اور سارے دینی عناصر اس فیصلے کو غیر شرعی سمجھتے تھے اور آج بھی سمجھتے ہیں، لہٰذا عدالتوں کو چاہیے کہ ایسے فیصلے نہ دیں جنہیں عوام اور علماء غیر شرعی سمجھتے ہوں۔

(2) اس فیصلہ کی دوسری اہم بات جس پر ہم چاہتے ہیں کہ اہلِ علم غور کریں، یہ ہے کہ فاضل جج صاحب کی اس رائے کا ماخذ کیا ہے؟ ہماری دانست میں اس کا ماخذ ہے مغربی قانون۔ اسلام کا معاشرتی اور عائلی نظام یہ ہے کہ بیٹی کا کفیل والد ہوتا ہے۔ لڑکی کی جب شادی ہو جائے تو شوہر اس کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے اسے طلاق ہو جائے تو وہ دوبارہ باپ اور بھائیوں کی کفالت میں آجاتی ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ موجودہ مغربی تہذیب کے اثرات سے پہلے مسلم معاشرے میں طلاق کی شرح شاید دس ہزار میں ایک بھی نہ تھی۔ دوسری طرف مغربی تہذیب کا حال یہ ہے کہ وہاں جب اولاد بالغ ہو جائے تو والدین کی کفالت کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ چاہے وہ لڑکی ہو یا لڑ کا۔ اکثر عورت شادی خود کرتی ہے اور اس سے پہلے وہ ملازمت وغیرہ کر کے اپنی روزی روٹی کما رہی ہوتی ہے۔ چونکہ طلاق کی صورت میں اسے کسی مرد کی کفالت کا آسرا نہیں رہتا اور وہاں طلاقوں کی شرح بہت زیادہ ہے لہٰذا وہاں کا قانون وہاں کے معاشرتی اور عائلی حالات کے مطابق شوہر کو پابند کرتا ہے کہ اگر وہ بیوی کو طلاق دے تو اس کے مال و جائیداد کا ایک خاصا حصہ مطلقہ بیوی کو ملتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے معاشرتی اور عائلی حالات بھی وہی ہیں جیسے امریکہ اور یورپ میں ہیں؟ اگر اس کا جواب ہاں میں نہیں دیا جا سکتا تو معزز جج صاحب کو سوچنا چاہیے تھا کہ انہوں نے پاکستان کے حالات کو مغرب کے حالات پر کیوں قیاس کیا ہے؟ اسے فقہ میں ’’قیاس مع الفارق‘‘ کہتے ہیں، مطلب یہ کہ یہ قیاس بھی غلط ہے اور اجتہاد بھی غلط۔

علماء اور دینی جماعتوں کی ذمہ داری

ہم پہلے بھی کہتے رہے ہیں اور آج پھر کہتے ہیں کہ ہماری دینی جماعتوں اور علماء کرام نے اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کی۔ انہیں حکومت سے پرزور مطالبہ کرنا چاہیے تھا کہ نظامِ عدالت کو اسلامی تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔ وہ وقتی طور پر متحرک ہوتے ہیں اور وہ بھی زبانی کلامی۔ نہ وہ متحد ہوتے ہیں اور نہ متفق ہو کر غیر اسلامی ماحول اور غیر اسلامی قوانین کے خلاف کوئی کامیاب مہم چلاتے ہیں۔ 1961ء کے غیر اسلامی عائلی قوانین جنرل ایوب خان نے مارشل لاء کے دوران بنائے، سوال یہ ہے کہ جب ایوب خان کا اقتدار ختم ہو گیا تو دینی جماعتوں اور علماء کرام نے ان قوانین کو ختم کرانے کے لیے کیا جدوجہد کی؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ علماء نے غضِ بصر سے کام لیا اور آج تک لے رہے ہیں۔ عوام کو ان کے خلاف متحرک کرنا بھی تو علماء ہی کا کام تھا۔ پچھلے کچھ عرصے سے اعلیٰ عدالتوں کے جج مسلسل عائلی قوانین میں غیر شرعی فیصلے کر رہے ہیں اور دینی عناصر اس پر کوئی موثر مہم نہیں چلاتے۔ جب ایسا کوئی فیصلہ آتا ہے تو چند علماء اس کے خلاف بیان دے دیتے ہیں اور بس بات یہیں ختم ہو جاتی ہے۔

دینی جماعتیں اور علماء کرام اس بات پر بھی غور کیوں نہیں فرماتے کہ کیا نفاذِ شریعت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ حکومت سے مطالبہ کرتے رہیں کہ وہ ملک میں شریعت نافذ کرے، سوال یہ ہے کہ کیا ان کی اس سے بڑھ کر کوئی ذمہ داری نہیں؟ مثلاً‌ عدالتی نظام کو لیجئے، کیا انہوں نے کبھی ایسا شریعہ اینڈ لاء کالج پرائیویٹ سیکٹر میں قائم کرنے کا سوچا ہے جو ملک میں موجود مغرب زدہ قوانین کے ساتھ قرآن و سنت، فقہ و اصولِ فقہ اور عربی زبان میں مہارت پیدا کرے؟ اگر یہ سلسلہ موثر طور پر شروع ہو جاتا تو ایسے وکلاء اور ججز میسر آنا شروع ہو جاتے جو جدید قوانین کے ساتھ شریعت اور فقہ میں بھی مہارت کے حامل ہوتے۔

اسی طرح دینی جماعتیں اور علماء کرام اگر چاہتے تو مرکز اور ہر صوبے کے صدر مقام پر اعلیٰ معیار کی جوڈیشل اکیڈمیاں قائم کرتے جہاں وکلاء اور ججز کی شریعت اور فقہ میں تعلیم و تربیت کا انتظام ہوتا۔ فنڈز کی کمی اس ضمن میں کوئی معقول عذر نہیں کیونکہ اگر وہ اسے اپنی ترجیح بناتے اور عوام کی ذہن سازی کرتے تو جس طرح ملک کے اصحابِ خیر اور عوام ان کو دینی مدارس چلانے کے لیے اور دینی سیاسی جماعتوں کو انتخابات کے لیے کروڑوں اربوں روپے کے عطیات دیتے ہیں، اس کام میں بھی ان کا ہاتھ بٹاتے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہماری دینی جماعتوں اور علماء کرام نے کبھی اس کام کو اپنی ترجیح نہیں بنایا۔ اگر انہوں نے اس سمت میں کوئی موثر قدم نہ اٹھایا تو عدالتیں غیر شرعی فیصلے دیتی رہیں گی اور حکومتیں غیر شرعی قانون سازی کرتی رہیں گی اور مستقبل کا مورخ انہیں کبھی ان کی کارکردگی پر خراجِ تحسین پیش نہیں کرے گا۔

دستور و قانون

(الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۴

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۰)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۱)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۴)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

صحیح مسلم کا قدیم ترین نسخہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
حافظ محمد عبد المتین خان

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۱)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۴)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۳)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت خولہ بنت الازور کندی اسدی رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۱)
محمد سراج اسرار

مسئلہ تشبہ امام ابن تیمیہ کی نظر میں
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

زندگی کی قدر اور وقت کی تقسیمِ کار
مولانا فضل سبحان
مولانا عبد المتین

مذہبی رواداری اور غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۳)
پروفیسر خورشید احمد

مفتی طارق مسعود اور شجاع الدین شیخ کا مکالمہ
شجاع الدین شیخ
مفتی طارق مسعود

رویتِ ہلال کے متعلق پانچ قانونی سوالات
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مطلّقہ عورت کا شوہر کی جائیداد میں حصہ: اسلام آباد ہائی کورٹ کا غیر شرعی فیصلہ
ڈاکٹر محمد امین

اسقاطِ حمل اور حقوقِ انسانی کا قانون
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

On the Islamic Status of Pakistan`s Constitution
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عالمِ اسلام کے لیے نئے امکانات — پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
مولانا فضل الرحمٰن

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ اور خطہ میں اس کے ممکنہ اثرات
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

افغانستان اور پاکستان کے علماء کی طرف سے قیامِ امن کیلئے مشترکہ بیان
مولانا حافظ نصر الدین خان عمر
پاکستان شریعت کونسل

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter