سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۴)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد کے ساتھ مکالمہ

چوتھا محور
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تفسیر

اس محور میں صحابہ کرامؓ کی تفسیر پر تحقیقی کام، اس کے مناہج، موجودہ مطالعات کے نقائص، اور مستقبل کی تحقیقی ضروریات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ اس محور میں درج ذیل موضوعات شامل ہیں:

  1. تفسیرِ صحابہؓ پر تحقیق: موضوع کی اہمیت اور انتخاب کی وجوہات
  2. تفسیرِ صحابہؓ کو یکجا کرنے میں موجودہ مطالعات کے نقائص
  3. تفسیرِ صحابہؓ: نظریاتی اصول اور عملی تطبیق میں تضاد
  4. صحابہؓ کی تفسیر کے مضبوط اور جامع مطالعے کا منہج: اہم خصوصیات
  5. تحقیق سے حاصل شدہ نتائج اور مستقبل کا لائحہ عمل

سوال 1: تفسیرِ صحابہؓ پر تحقیق: موضوع کی اہمیت اور انتخاب کی وجوہات

تفسیرِ سلف پر تحقیقی کام کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی، تاہم آپ نے خصوصاً‌ صحابہ کرامؓ کی تفسیر پر کام کیا، جسے آپ نے اپنی علمی تحقیق "المفسرون من الصحابۃ؛ جمعا ودراسۃ وصفیۃ" کے عنوان سے جمع و مرتب کیا۔ اس تحقیق کو جمعیۃ تبیان کی جانب سے دراساتِ قرآنیہ میں تحقیقی تمیز کے انعام سے نوازا گیا۔ کیا آپ ہمیں اس موضوع کے انتخاب کے پس پشت کارفرما اہم اسباب سے آگاہ فرمائیں گے؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

میری کتاب "المفسرون من الصحابۃ" دراصل وہی تحقیقی مقالہ ہے جس پر مجھے سنہ 1436ھ میں ایم اے کی ڈگری عطا ہوئی۔ یہ موضوع دراصل "طبقات المفسرین" کے عنوان سے ایک علمی منصوبے کی ایک کڑی تھا، جسے "کلیۃ القرآن الکریم، مدینہ منورہ" نے اپنے زیر اہتمام شروع کیا تھا۔

یہ منصوبہ پہلے دو صدیوں (صحابہؓ و تابعینؒ) کے مفسرین کو چھوڑ کر آگے بڑھ چکا تھا، اور محققین نے تیسری صدی سے پندرھویں صدی ہجری تک کے مفسرین کے طبقات پر کام کا آغاز کر دیا تھا۔ منصوبے کی ایک جامع حکمتِ عملی مرتب کی گئی تھی، جس کے تحت ہر محقق نصف صدی کے مفسرین کا تفصیلی مطالعہ کرتا تھا۔

میں نے اس موقع پر چاہا کہ اسی علمی دائرے میں سے ہی کوئی موضوع اختیار کروں تاکہ منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ چنانچہ میں نے اس وقت کے معاون نگرانِ اعلیٰ فضیلۃ الاستاذ الدکتور محمد بن عبد العزیز العواجی سے مشورہ کیا، جو مقالہ ہٰذا کے نگران بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے ابتدائی دو صدیوں کے متعلق ابھی کچھ کام ادھورا ہے، اور ان دو صدیوں کی نوعیت دیگر صدیوں سے مختلف ہونے کے سبب ان پر الگ منصوبہ بندی اور کام کی اہمیت اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ان دو صدیوں پر اتنی کثیر تصانیف اور جامعاتی تحقیقات ہو چکی ہیں کہ بعض اہلِ علم کے نزدیک گویا اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی۔

میں نے اس دعوے کی جانچ کے لیے ان صدیوں سے متعلق تمام علمی تصانیف، مقالات اور تحقیقی مواد جمع کیا، تو معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ کی تفسیر پر صرف دس صحابہؓ تک محدود چند تحقیقات موجود ہیں، جبکہ تابعین کی تفسیر پر محض چوبیس تابعین کے تراجم پر کام ہوا ہے۔ یہی حال اتباع التابعین کے طبقہ کے ساتھ بھی ہے۔ چنانچہ میں نے ابن المنذر، البستی، الطبری، ابن ابی حاتم اور السیوطی کی مسند تفسیروں کا مطالعہ کیا، تاکہ عملی میدان میں سلف کی تفسیر کی حقیقی صورت معلوم ہو۔ ان مصادر کے مطالعے سے واضح ہوا کہ ان میں تینوں طبقات (صحابہ، تابعین، اتباع التابعین) کے تقریباً‌ پانچ سو مفسرین کے اقوال و روایات محفوظ ہیں، اور ہر ایک کے آثارِ مَروِیہ تفصیلی مطالعے کے متقاضی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ان میں سے بعض مفسرین کی مرویات علومِ قرآن میں مذکور مشہور مفسرین سے بھی زیادہ ہیں، اور اس تحقیق ان دو صدیوں سے متعلق متعدد علمی کمزوریاں اور وہ پہلو سامنے آئے جو اب تک کسی نے موضوع بحث نہیں بنائے، حالانکہ وہ نہایت اہم ہیں۔

ان نتائج نے مجھے حیران کر دیا اور اسی وقت میرا ارادہ مزید پختہ ہو گیا کہ میں اس مبارک طبقے، یعنی صحابہ کرامؓ کے تفسیری منہج کا تفصیلی مطالعہ کروں اور اسی کو موضوع بحث و تحقیق بناؤں۔ چنانچہ میں نے طبقۃ الصحابۃ کی تفسیر کا وصفی مطالعہ کیا، موضوع کے منتشر پہلوؤں کو یکجا کیا، اس کے مختلف مسائل و مباحث کو واضح کیا اور ان کے اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں مرکز تفسیر للدراسات القرآنیۃ نے اس کتاب کی اشاعت کی ذمہ داری سنبھالی اور اسے نہایت خوبصورت انداز میں شائع کیا۔ یہ اشاعت اس بڑی اور مبارک "موسوعۃ التفسیر بالماثور" (مرتبہ: معہد الشاطبی) کے منظر عام پر آنے سے تقریباً‌ تین یا چار سال قبل ہوئی۔ اس موسوعہ اور میری کتاب کے درمیان صحابہؓ کی مرویات کے عددی پہلو میں چند نمایاں اختلافات پائے گئے، جن کی تفصیل میں ان شاء اللہ ایک علیحدہ مقالے میں بیان کروں گا۔ اور میری خواہش ہے کہ آئندہ، اللہ کے فضل و توفیق سے، اس کتاب سے متعلق چند تحقیقی مقالات شائع کروں، جن میں بعض مباحث کی مزید توضیح، چند مقامات پر اصلاح، اور کچھ نئی معلومات کا اضافہ کیا جائے گا، جو مجھے کچھ ساتھیوں کے توسط سے معلوم ہوئیں یا مزید بحث و تحقیق سے سامنے آئیں۔ واللہ ولی التوفیق وہو حسبی ونعم الوکیل۔

سوال 2: تفسیرِ صحابہؓ کو یکجا کرنے میں موجودہ مطالعات کے نقائص

جیسا کہ آپ نے ذکر فرمایا کہ آپ نے متعدد تحقیقات اور علمی رسائل کا مطالعہ کیا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کے اقوال کو یکجا کیا گیا تھا، تو کیا آپ صحابہ کرامؓ کے اقوالِ تفسیریہ کو یکجا کرنے کے طریقہ کار میں موجود اہم اشکالات پر ہمیں مطلع کر سکتے ہیں؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

صحابہ کرامؓ کے اقوال تفسییریہ کو جمع کرنے کے لیے کی گئی مطالعات میں متعدد پہلوؤں سے مختلف نوعیت کے اشکالات پائے جاتے ہیں۔ تاہم طریقِ جمع سے متعلق جو نمایاں اشکالات ہیں، وہ حسبِ ذیل ہیں:

پہلا اشکال: مفہومِ علمِ تفسیر کی تعیین میں اضطراب

اکثر مطالعات میں تفسیر کا معنی یا تعریف کی کوئی حد متعین نہیں کی گئی، جس کے دائرہ کار میں رہ کر کام کیا جاتا۔ جس کے نتیجے میں عملی تطبیق میں شدید خلط مبحث پیدا ہوا۔ چنانچہ بہت سی تحقیقات میں ایسی روایات بھی شامل کر لی گئیں جن کا تفسیر سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، مثلاً‌ آیات کے اعداد و شمار کے متعلق اقوال وغیرہ۔ بعض تحقیقات میں ایسی غیر متعلق روایات کی شرح نصف کے قریب اور بعض میں دو تہائی سے بھی تجاوز کر گئی، روایاتِ مکررہ کو ملا کر۔

دوسرا اشکال: مصادرِ تفسیر کے استیعاب میں کوتاہی

کئی مطالعات میں اقوالِ صحابہؓ جمع کرنے کے دوران بعض اہم مصادر کو نظرانداز کر دیا گیا۔ جیسے بعض مطالعات میں امام سیوطی کی "الدر المنثور" کو شامل نہیں کیا گیا، بعض میں ابن ابی حاتم اور البستی وغیرہ کی تفاسیر کو چھوڑ دیا گیا۔

تیسرا اشکال: طریقۂ کار کا صحیح تصور نہ ہونے کے سبب کئی روایات رہ جانا

تفسیرِ سلف کے ابواب میں طریقۂ کار کا صحیح تصور نہ ہونے کی وجہ سے کئی روایات چھوٹ گئیں۔ مثلاً‌ بعض مطالعات نے اسباب النزول کی روایات کو محض اس بنیاد پر شامل نہیں کیا کہ وہ "حدیثِ مرفوع" کے زمرے میں آتی ہیں، جبکہ یہ حکم مطلق نہیں بلکہ اس سلسلے میں تفصیل موجود ہے۔ اسی طرح بعض محققین نے امام سیوطی کی ان روایات کو بھی نظر انداز کر دیا جنہیں انہوں نے گم شدہ مصادر مثلاً‌ تفسیر ابن مردویہ وغیرہ سے نقل کیا تھا۔ اور اس طرح کے دیگر مسائل۔

چوتھا اشکال: روایات کا بغیر کسی اصول و ضابطہ کے تکرار

بعض محققین نے کچھ روایات کو محض اس وجہ سے دہرایا ہے کہ روایت اس جیسی آیات کے ضمن میں وارد ہوئی، یا ایک ہی مقام پر متعدد اسانید سے منقول ہے۔ یہاں تک کہ ایک رسالہ میں مکررہ روایات کی تعداد کل مواد کے نصف سے بھی زیادہ پائی گئی۔

پانچواں اشکال: روایات کے جمع کرنے کے طریقہ کار میں خرابی

بعض تحقیقات میں کچھ مرویات کو محض اس صحابی کی مرویات ہونے کی بنا پر شامل کر لیا گیا جن کی تفسیری روایات کو اکٹھا کرنا مقصود تھا، اگرچہ ان مرویات کا تفسیر سے کوئی تعلق نہ ہو، جبکہ مقصود موضوعِ تفسیر سے متعلق روایات کا اکٹھا کرنا تھا۔

چھٹا اشکال: سلف کی شخصیات میں تمیز نہ کرنا

بعض محققین نے سلف کی شخصیات میں تمیز اور تحقیق کا خیال نہیں رکھا۔ مثال کے طور پر کچھ مطالعات حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی تفسیری روایات پر مبنی تھیں، لیکن ان میں ہر اس راوی کی روایات شامل کر دی گئیں جن کا نام "حسن" تھا — چاہے وہ حسن بصری ہوں یا حسن جعفی — بغیر کسی تحقیق، تمیز یا احتیاط کے۔

ساتواں اشکال: مرفوع احادیث کو تفسیرِ صحابی میں شامل کر لینا

بعض تحقیقات میں احادیثِ مرفوعہ کو بھی روایت کرنے والے صحابی کی ذاتی تفسیر میں شامل کر لیا گیا، اور ان کے بارے میں نہ کوئی وضاحت دی گئی اور نہ کوئی ضابطہ قائم کیا گیا۔ جس سے احادیثِ مرفوعہ، موقوفہ سے الگ نہ ہو سکیں، جبکہ درحقیقت وہ احادیثِ مرفوعہ تھیں نہ کہ صحابیؓ کی ذاتی تفسیر۔

سوال نمبر 3:  تفسیرِ صحابہ: نظریاتی اصول اور عملی تطبیق میں تضاد

تفسیر کے بہت سے موضوعات ایسے ہیں جن کے بارے میں نظریاتی کتب میں کوئی واضح فکری اصول مرتب نہیں کیے گئے، حالانکہ عملی تفاسیر میں ان کا اطلاق موجود ہے۔ یہ بات کچھ تحقیقی کاموں سے ثابت ہوتی ہے، جیسے "اصول التفسیر فی المؤلفات؛ دراسۃ وصفیۃ موازنۃ" نامی مطالعہ۔ چونکہ آپ نے صحابہ کرامؓ کی تفسیر کو جمع کرنے اور اس پر تحقیق کرنے میں وسیع کام کیا ہے، تو آپ اس بات سے کتنا اتفاق کرتے ہیں؟ اور آپ کو کون سے اہم موضوعات ایسے ملے جن میں عملی تفسیری کام اور رائج نظریاتی اصولوں میں واضح تضاد نظر آیا؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

میں اس مقالے سے کافی حد تک اتفاق رکھتا ہوں۔ جب کوئی اصولِ تفسیر کی کتابوں پر غور کرے تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ تفسیر کی کتب سے صحیح طریقے سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ اسی لیے ان تصنیفات میں اصولِ تفسیر کی اصل روح نظر نہیں آتی، اس علم میں اصول سازی اور نظریہ بندی کے لحاظ سے ان کی ساکھ کمزور رہی، اور وہ تجدید اور ترقی کی روح سے بھی دور رہیں۔ یہ کمی خاص طور پر تفسیرِ صحابہ پر زیادہ اثر انداز ہوئی، کیونکہ تفسیرِ صحابہؓ تفسیر کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ صحابہ کرامؓ کی تفسیر کی تحقیق میں مجھے کئی اہم مسائل ایسے ملے جن میں تفسیر کا عملی طریقہ اور مشہور نظریاتی اصولوں میں نمایاں فرق دکھائی دیا، ان میں سے اہم یہ ہیں:

تفسیر کا مفہوم

مفہومِ تفسیر میں سلف کی مختلف آراء ہیں، کچھ کے نزدیک تفسیر ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے اور کچھ کے نزدیک مختصر ہے۔ جبکہ صحابہؓ کی تفسیر کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی تفسیر غالباً‌ معانی کی تشریح و وضاحت پر مشتمل ہے، دیگر پہلو جیسے لطائف اور فوائد بہت کم زیر غور آئے۔

اسرائیلیات کے مسائل

جدید مطالعات میں کہا جاتا ہے کہ زیادہ تر اسرائیلیات کی روایت کی ابتدا تابعین سے ہوئی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صحابہؓ کی تفسیر میں اسرائیلیات کی تعداد کافی زیادہ تھی تقریباً‌ نو سو (900) روایتیں، جو مجموعی تفسیر کا تقریباً‌ 10٪ ہیں۔

اسرائیلیات کے ذکر کرنے کا مقصد

بعض تحقیقات کے مطابق صحابہؓ نے اسرائیلیات صرف از راہ تفنن ذکر کیں نہ کہ تفسیر بیان کرنے کے لیے، لیکن تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ روایات اکثر آیات کی تفسیر کے لیے ذکر کی گئیں، اور بعض آیات کی تفسیر ان کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

تفسیر میں سلف کے مکاتبِ فکر

بعض جدید تحقیقات سلف کی تفسیر کو مختلف فکری مکاتب اور مذاہب کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں، لیکن تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تفسیری منہج یکساں تھا، اس لیے انہیں الگ الگ مذاہب میں تقسیم کرنا درست نہیں۔

سلف کے جائے رہائش سے متعلق

جدید تحقیقات جنہوں نے سلف کو تفسیر کے منہج کی بنیاد پر مختلف مکاتبِ فکر میں تقسیم کیا ہے، انہوں نے انہیں صرف تین یا زیادہ سے زیادہ چار مکاتب میں محدود کر دیا: مکہ، مدینہ، اور عراق (اور اگر تفصیل کریں تو کوفہ اور بصرہ الگ الگ ہیں)۔

جبکہ تحقیق سے حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ سلف کی تعلیم و تربیت صرف مکہ، مدینہ اور عراق تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ شام، یمن، مصر وغیرہ میں بھی علم پھیلاتے رہے۔ نیز بعض صحابہؓ ایک سے زیادہ مقامات پر مقیم رہے، جس کی وجہ سے انہیں مکاتبِ فکر میں تقسیم کرنا ہی غلط ثابت ہوتا ہے۔

تفسیر کے طریقے اور اقسام

اصولِ تفسیر کی کتب میں عموماً‌ تفسیر کی دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں (1) تفسیر القرآن بالقرآن (2) تفسیر القرآن بالسنہ۔ اور ان دونوں کے تحت مختلف اقسام بیان کی جاتی ہیں جیسے: بیانِ مجمل، اطلاقِ مقید، تخصیصِ عام، وغیرہ۔ لیکن تفاسیر کا بخوبی مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آئی کہ ان تقسیمات کا تفسیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اصولِ فقہ سے لی گئی ہیں۔

مفسرین صحابہؓ کی تعیین

اکثر کتب میں مشہور مفسرین کی تعداد زیادہ سے زیادہ آٹھ یا دس بتائی جاتی ہے، لیکن مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ جن صحابہؓ سے تفسیر روایت کی گئی ان کی تعداد تقریباً‌ ایک سو تک تھی۔ اور ان صحابہؓ سے، جنہیں کتابوں میں مشہور کہا گیا ہے، انتہائی کم مَرویات ملتی ہیں، اور بعض کی تو بلکہ کوئی روایت نہیں ملتی۔ اور بعض غیر مشہور صحابہؓ جن کا علومِ قرآن کی کتب میں ذکر تک نہیں کیا گیا، ان کی مرویات دس مشہور صحابہؓ سے بھی زیادہ ہیں۔ تو اس مسئلہ پر نظرثانی کی ضرورت ہے، اور یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ علماء نے جو شہرت کا ذکر کیا ہے اس سے ان کی مراد کیا ہے۔

سوال 4: صحابہؓ کی تفسیر کے مضبوط اور جامع مطالعے کا منہج: اہم خصوصیات

آپ نے ابھی فرمایا تھا کہ آپ نے تفسیرِ صحابہؓ کے مضبوط اور پختہ مطالعہ کیلئے ایک منصوبہ بندی کی ہے تو کیا آپ اس منصوبے کی نمایاں خصوصیات سے ہمیں آگاہ فرمائیں گے؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

یہ منصوبہ دراصل صحابہ کرامؓ کے مصادرِ تفسیر کا تحلیلی مطالعہ ہے، جس کا مقصد ایک طرف یہ واضح کرنا ہے کہ وہ کن ذرائع سے قرآن کی تفسیر کرتے تھے اور ان کے بیان تفسیر کے پہلو کیا ہیں۔ اور دوسری طرف یہ منصوبہ اسی تفسیرِ صحابہؓ کی بنیاد پر اصولِ تفسیر کی تشکیل کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ اس کے ساتھ مفسرین کے ان آثار کے فہم اور ان سے استفادہ کے طرق سے بھی مدد لی گئی ہے۔

اسی سلسلے میں، میں نے صحابہ کرامؓ کے اقوالِ تفسیریہ کو جمع کیا، پھر انہیں ان کے مصادرِ تفسیر کی بنیاد پر مرتب کر کے ان کے مطالعے کا آغاز کر دیا ہے، کچھ حصہ مکمل ہو چکا ہے۔ البتہ سلف صالحین کی تفسیر سے متعلق ایسے مباحث پوری پختگی اور مہارت کے ساتھ سامنے آنے کے لیے طویل محنت کا تقاضا کرتے ہیں، کیونکہ ان کے کلام کی تحلیل و تہذیب میں متعدد دشواریاں پیش آتی ہیں۔

میں نے اسی منصوبے کا ایک تحقیقی مقالہ "الجامعۃ الاسلامیۃ للعلوم الشرعیۃ" کے شمارہ 191 میں شائع بھی کیا ہے، جس کا عنوان ہے: "تفسیر القرآن بتاریخ العرب عند الصحابۃ رضی اللہ عنہم؛ جمعا ودراسۃ وصفیۃ"۔ اس میں صرف وصفی مطالعہ شامل کیا ہے جیسا کہ اس کے عنوان سے ظاہر ہے تاکہ علمی مجلہ کے دائرہ کار کے مطابق ہو۔ اس میں ابھی مطلوبہ تحلیلی پہلو شامل نہیں کیے گئے۔ تاہم یہ وصفی مطالعہ بھی اسی بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اسے مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین۔

سوال 5: تحقیق سے حاصل شدہ نتائج اور مستقبل کا لائحہ عمل

تفسیرِ صحابہؓ پر ریسرچ کے دوران آپ کے سامنے کیا نئے علمی پہلو ابھر کر آئے؟ اور آپ کی نظر میں مستقبل میں کن تحقیقی موضوعات پر کام کرنا اس تفسیر کی خدمت کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے؟

ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد:

میں ان اہم پہلوؤں کو درج ذیل نکات میں سمیٹ کر پیش کر رہا ہوں:

  1. صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تفسیر کا بعد کے لوگوں پر اثرات کا مطالعہ کرنا۔
  2. ان مقامات کا تتبع کیا جائے جہاں مفسرین صحابہؓ نے سکونت اختیار کی، اور وہاں ان کے اثرات کا جائزہ لیا جائے۔
  3. ہر صحابی کی تفسیر کا الگ الگ تجزیاتی مطالعہ تاکہ ان کی خاص خصوصیات اور امتیازات واضح ہوں۔
  4. صحابہ کرامؓ کے تفسیری اسالیب و طرق کا مطالعہ۔
  5. تفسیر میں صحابہؓ کے مصادر اور مراجع کا تجزیاتی مطالعہ۔
  6. تفسیر صحابہؓ پر حالات و زمانہ کے اثرات کا جائزہ۔
  7. صحابہ کرامؓ کا تفسیر میں قرآن و سنت آثار و لغت کے طرق استعمال کا مطالعہ۔
  8. صحابہ کرامؓ کے ہاں علومِ قرآن کے مباحث کا مطالعہ۔
  9. تفسیر میں صحابہؓ کے باہمی اختلافات کا جائزہ۔
  10. صحابہؓ کی تفسیر میں عربی زبان کے عام قواعد سے ہٹ کر آنے والے مقامات کا مطالعہ۔

(جاری)

قرآن / علوم القرآن

اقساط

(الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۴

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۰)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۱)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۴)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

صحیح مسلم کا قدیم ترین نسخہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۱)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۴)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۳)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت خولہ بنت الازور کندی اسدی رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۱)
محمد سراج اسرار

مسئلہ تشبہ امام ابن تیمیہ کی نظر میں
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

زندگی کی قدر اور وقت کی تقسیمِ کار
مولانا فضل سبحان
مولانا عبد المتین

مذہبی رواداری اور غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۳)
پروفیسر خورشید احمد

مفتی طارق مسعود اور شجاع الدین شیخ کا مکالمہ
شجاع الدین شیخ
مفتی طارق مسعود

اسقاطِ حمل اور حقوقِ انسانی کا قانون
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

On the Islamic Status of Pakistan`s Constitution
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عالمِ اسلام کے لیے نئے امکانات — پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
مولانا فضل الرحمٰن

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ اور خطہ میں اس کے ممکنہ اثرات
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

رویتِ ہلال کے متعلق پانچ قانونی سوالات
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

افغانستان اور پاکستان کے علماء کی طرف سے قیامِ امن کیلئے مشترکہ بیان
مولانا حافظ نصر الدین خان عمر
پاکستان شریعت کونسل

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter