جدید الحاد، فلسفہ اور مادیت پرستی کا خدا کی ذات کے بعد دوسرا سب سے بڑا فکری حملہ خدا کی صفات پر ہوتا ہے۔ سرِدست ہم صرف دو پہلو ذکر کرتے ہیں:
- میکانکی خدا اور ربوبیت (Deism)
- رحمت سے عاری خدا (Problem of Evil)
علمِ کلام ان دونوں تصورات کو براہ راست اللہ کی صفات (علم، ارادہ، قدرت) کے اثبات کے ذریعے رد کرتا ہے۔
میکانکی خدا اور ربوبیت
ولیم پیلی (William Paley) نے 1802ء کی کتاب قدرتی الٰہیات میں "گھڑی ساز کی تمثیل" پیش کی ۔ اگرچہ پیلی کا ارادہ خالق کا اثبات تھا، لیکن اس کی یہ تمثیل Deists (ربوبی) نے بڑے پیمانے پر ایسے خالق کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جس نے صرف نظام کو شروع کیا اور پھر کوئی مداخلت نہیں کی (Non-interventionist God)۔ البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) نے خود کو "سائنس دانوں کی خدائی" (God of Spinoza) کے قریب بتایا۔ ان کا نظریہ تھا کہ خدا قوانینِ فطرت میں مداخلت نہیں کرتا۔ آئن سٹائن کا مشہور جملہ ہے: "خدا کائنات کے ساتھ پانسے نہیں کھیلتا" (God does not play dice with the universe)۔ یہ سوچ کانٹ کے اس خیال کی بازگشت تھی کہ کائنات عقل کے طے کردہ غیر متغیر اصولوں پر چلتی ہے۔
جدید فلسفہ اب اس تصور سے بہت آگے نکل چکا ہے اور Neo-Kantianism کے نام سے جدید فلسفیانہ نظریات کی تدوین بھی ہو چکی ہے۔ الفریڈ نارتھ وائٹ ہیڈ (Alfred North Whitehead) کا "عمل کا فلسفہ" (Process Philosophy) ایک فعال خدا کا تصور پیش کرتا ہے جو دنیا کے ساتھ ارتقا پذیر ہوتا ہے۔ یہ نقطہ نظر کانٹ کے بعد کی سوچ اور جدید سائنس کے مابین تعلق قائم کرنے کی ایک کوشش تھی، لیکن یہ بھی روایتی ڈئیزم سے مختلف ہے۔ یونیٹیرین یونیورسل ازم (Unitarian Universalism) اور اس طرح کے دوسرے لبرل گروہ ایسے افراد کو شامل کرتے ہیں جو خدا پر یقین رکھتے ہیں لیکن کسی ایک الہامی کتاب یا مذہب کی اتھارٹی کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ طرزِ فکر ڈئیزم کے جوہر کے بہت قریب ہے۔ مغربی ممالک میں نوجوان نسل میں یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ وہ ایک خالق کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں لیکن وہ کسی بھی مذہب کی رسومات، خدائی حقوق، مذہبی کتابوں یا اتھارٹی پر یقین نہیں رکھتے، کسی خدائی حکم نامے پر عمل ضروری نہیں سمجھتے۔ یہ طرزِ فکر عملی طور پر ثابت کرتا ہے کہ خدا ہے لیکن وہ ہم سے لاتعلق ہے۔ غیر فعال خدا (ڈئیزم ) کو ماننے کی یہ عوامی شکل ہے۔ اِس کی ظاہری وجہ یہ بنی کہ اٹھارہویں صدی کے فلسفی کانٹ نے عقلِ خالص (Pure Reason) سے استدلال کا ایک عجیب خودساختہ فارمولہ استعمال کرتے ہوئے الٰہیات کے دائرے کو محدود کر دیا، جس نے بالواسطہ طور پر خدا کے فعال کردار کو انسانی فہم سے خارج کر دیا، اسی سے لاتعلق خدا (Detached Deity) کے تصور کو تقویت ملی۔
معمولی تامل سے واضح ہوتا ہے کہ یہ فاعل بالایجاب و الاضطرار اور علتِ موجبہ (Agent by Necessity) کا وہی تصور ہے جو قدیم یونانی فلاسفہ (جیسے ارسطو) نے مانا تھا، جس کے مطابق تخلیق ایک بے اختیار عمل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کا وجود ذاتِ الٰہی سے ایسے اضطرار کے عالَم میں صادر ہوا ہے جیسے سورج سے شعاع یا رعشے کے مریض سے رعشہ صادر ہوتا ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر ذاتِ الٰہی ہمیشہ سے ہے، تو کائنات کو بھی ہمیشہ سے ہونا چاہیے (عالم کی قدامت و ابدیت)، کیونکہ خالق تخلیق کرنے پر مجبوری تھا اور اس کے پاس انتخاب کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ تصور Deism (ربوبیت) کے "غیر متعلق خدا" کی بنیاد بناتا ہے، جو کائنات میں کوئی فعال کردار ادا نہیں کرتا۔
متکلمین اِس پوری بحث کو ایڈریس کرنے کے لئے یہ جوابی بیانیہ پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فاعل بالارادۃ والاختیار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے کائنات کو اپنے ارادے، اختیار اور حکمت کے ساتھ بنایا ہے، یہ اس سے کسی میکانکی یا خودکار مشین کی طرح خودبخود صادر نہیں ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمِ کلام میں اللہ کی صفات (جیسے علم، ارادہ، قدرت، حیات) پر تفصیلی بحث کی جاتی ہے۔ یہ صفات یہ ثابت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف موجود ہے بلکہ وہ فعال، زندہ اور ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے۔ اسی سے دعا، عبادت، اور آخرت کا تصور جڑا ہوا ہے۔
علم
اللہ تعالیٰ کا یہ وصف یقینی بناتا ہے کہ اس کا کوئی بھی فعل مقصد یا حکمت کے بغیر نہیں ہوتا۔ جو حکمتیں لوگوں کو بعد میں معلوم ہو جاتی ہیں وہ ازل سے اُس کے علم میں ہوتی ہیں۔ مخلوقات سے متعلق سب اُمور اس لامحدود علم کی روشنی میں انجام دیے جاتے ہیں۔ ممکنات و ناممکنات کوئی بھی چیز اُس کے علمی احاطہ سے باہر نہیں نکل سکتی۔
قدرت
قدرت کی صفت یہ ثابت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ صرف ہر ممکن و ناممکن چیز معلوم ہے، بلکہ ہر ممکن چیز کو وجود میں لانے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ البتہ وجود تب بخشتا ہے جب اُس کے وجود میں لانے کا ارادہ فرماتا ہے۔
ارادہ
ارادہ کی صفت یہ ثابت کرتی ہے کہ خدا کوئی کام مجبوری یا خودکاری (Mechanism) کے تحت نہیں کرتا، بلکہ کسی بھی چیز کا جب نام و نشان نہیں ہوتا، تو وہ اُس کے نہ ہونے کے سارے امکانات و نشانات مٹا کر اُس کی موجودگی کے امکانات و نشانات کو غلبہ و ترجیح دیتا ہے۔ یہی ارادہ ہے، جس کو عمل میں لانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی فعلی صفات ظاہر ہوتی ہیں اور وہ ارادہ پورا کر کے دکھاتی ہیں۔ ’’فعَّال لما یرید‘‘ (جو چاہے کر گزرنے والا) خدا فارغ و معطل کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ صفات یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ ایک فعال، زندہ اور ہر لمحہ کائنات سے متعلق ہستی ہے۔ اسی فعال خدا کے تصور سے دعا، عبادت اور آخرت کا تصور وابستہ ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی صفات مثلاً پہلے سے پر چیز کا علمِ، کامل عدل، اور انسان کی پیدائش سے پہلے تقدیر لکھنے سے براہِ راست متعلق ایک سوال بہت عام اور مشہور ہے کہ اگر اللہ کا علمِ سابق ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اُس نے ہر واقعہ کو لکھ دیا ہے، تو انسان اپنے افعال میں مجبور کیوں نہیں اور سزا و جزا کا مستحق کیسے ہے؟ اکثر لوگ اس سوال سے پریشان رہتے ہیں، حالانکہ اس سوال کا جواب بہت آسان ہے:
- ایک استاد کی کلاس میں 40 سٹوڈنٹس ہیں۔ رولنمبر 201 دس دن میں ایک بار کلاس میں حاضری دیتا ہے، نہ محنتی ہے نہ ذہین۔ چار ماہ گزرنے کے بعد استاد طلبہ سے کہتا ہے: میں لکھ کے دیتا ہوں کہ یہ رولنمبر 201 امتحان میں ناکام ہوگا۔ چار ماہ بعد امتحان ہوا. دو ماہ بعد ریزلٹ آیا. گزٹ بک میں رولنمبر 201 کے سامنے فیل شدہ لکھا تھا۔ اسی سٹوڈنٹ سے والد صاحب نے پوچھا: کیوں فیل ہو گئے؟ تو وہ کہنے لگا کہ میرے ٹیچر نے 6 ماہ قبل لکھا تھا کہ میں فیل ہو جاؤں گا، تو میں اِس لیے فیل ہوا۔ کیا اس سٹوڈنٹ کی بات مانی جائے گی؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ وہ استاد کے لکھنے کی وجہ سے نہیں اپنے عمل کی وجہ سے فیل ہوا ہے۔
- دوسری مثال لے لیجئے، موسمیات والے پیشگوئی کرتے ہیں کہ کل فلاں علاقے میں بارش کا 100 فیصد امکان ہے. پیشگوئی کے مطابق بارش ہو جاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ بارش محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کی وجہ سے ہوئی؟ نہیں۔ بالکل اسی طرح اللہ نے انسان کے بارے میں پہلے سے جو کچھ لکھا ہوتا ہے. انسان اس لکھنے کی وجہ سے مجرم نہیں بنتا، بلکہ ایک استاد اگر اپنے محدود علم کے مطابق سٹوڈنٹ کے بارے میں 6 ماہ قبل لکھ سکتا ہے، یا موسمیات والے کئی دن بارش کی پیشگوئی کر سکتے ہیں تو اللہ تعالی 10 ہزار سال پہلے اگر انسان کی تقدیر لکھ دے تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے۔
متکلمین کا اساسی جواب یہ ہے کہ اللہ کا علمِ ازلی کسی فعل کے وقوع کا سبب (علت) یا جبری میکانزم نہیں بنتا۔ علم ہمیشہ معلوم کے تابع ہوتا ہے، نہ کہ معلوم علم کے تابع۔ اللہ نے یہ اس لیے نہیں لکھا کہ انسان اپنے اختیار سے مجبور ہو کر یہ عمل کرے گا، بلکہ اللہ نے ازل میں یہ جان لیا کہ انسان اپنے دیے گئے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کیا عمل کرے گا۔
تقدیر دراصل اللہ کا حتمی پیمانہ یا لکھا ہوا علم ہے جو انسان کے اختیاری انتخاب کا ریکارڈ ہے۔ یہ محض مستقبل کی پیشگوئی نہیں، بلکہ حکمتِ الٰہی کے تحت اس بات کا تعین ہے کہ کائنات میں کیا ہو گا، مگر یہ تعین انسان کے ارادے اور قوتِ انتخاب کو ختم نہیں کرتا۔ اس مسئلے میں اعتدال کی راہ متکلمین نے نظریۂ کسب (Acquisition) کے ذریعے اختیار کی، جو جبریہ (انسان بالکل مجبور ہے) اور قدریہ (انسان افعال کا خود خالق ہے) کے درمیان ہے۔ متکلمین کے نزدیک تمام افعال کی تخلیق (خلق) صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ کوئی بھی عمل اللہ کی مشیت کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتا۔ تاہم، انسان کو اس فعل کے لیے ارادہ اور قوتِ استعمال (کسب) کی آزادی دی گئی ہے۔ انسان سزا یا جزا کا مستحق اس لیے ہوتا ہے کہ اس نے اپنی قوتِ ارادی کو استعمال کرتے ہوئے ایک مخصوص عمل کو کسب کیا اور اسے اپنی طرف منسوب کیا۔ سزا فعل کی تخلیق پر نہیں، بلکہ قوت و اختیار کے استعمال پر ہے۔ اگر انسان مجبور ہوتا تو سزا دینا ظلم ہوتا، اور ظلم اللہ کے شایانِ شان نہیں۔ چونکہ شرعی اور عقلی طور پر انسان کو جواب دہ ٹھہرایا گیا ہے، یہ قطعی دلیل ہے کہ انسان کو حقیقی اختیارِ انتخاب حاصل ہے، جسے علامہ عثمانیؒ کی تشریح میں ایکشن میں اختیار کہا گیا ہے۔
ملحدین تقدیر کو "طے شدہ سکرپٹ" یا "جبری مادیت" سے تعبیر کرتے ہیں۔ متکلمین یہ واضح کرتے ہیں کہ اللہ کا علمِ ازلی سائنسی یا مادّی دنیا کے جبری قوانین جیسا نہیں ہے۔ مادہ علت و معلول (Cause and Effect) کے دائرے میں کام کرتا ہے، جبکہ اللہ کا علم اس دائرے سے ماورا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو قوتِ ارادی (Free Will) دی ہے، وہ ایک حقیقت ہے، اور سزا و جزا اس ارادے کو آزما کر حجت قائم کرنے کے لیے ہے۔ انسان کو یہ علم نہیں کہ لوحِ محفوظ پر کیا لکھا ہے۔ یہی عدمِ علم اس کے لیے امید اور خوف کے دروازے کھولتا ہے، اور اسے عمل (کوشش) پر آمادہ کرتا ہے۔ اگر تقدیر کا علم ہو جاتا تو عمل اور جدوجہد کا مقصد ہی ختم ہو جاتا۔ جبر و قدر کا مسئلہ درحقیقت علم و قدرت کے درمیان تصادم کا نہیں، بلکہ صفاتِ الٰہیہ کے باہمی کمال کو سمجھنے کا ہے۔ متکلمین نے یہ ثابت کیا کہ الحاد کا اعتراض اللہ کی صفتِ عدل سے حل ہوتا ہے۔ اگر اللہ کی صفت علمِ مطلق ہے اور قدرتِ کامل ہے، تو یہ دونوں صفات خودبخود انسان کو مجبور کر دیتیں، مگر اللہ تعالیٰ کی صفتِ حکمت اور عدل یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے بندوں پر حجت تمام کرے، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ انہیں آزاد ارادہ (اختیار) عطا کرے۔ چونکہ شرعی نصوص میں سزا و جزا کا حکم موجود ہے، جو عدل کی دلیل ہے، لہٰذا جبر کا نظریہ خودبخود باطل ہو جاتا ہے۔ اس طرح تقدیر پر ایمان توکل کو جنم دیتا ہے، جبکہ اختیار پر ایمان عمل اور ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے، اور یہ دونوں پہلو اللہ کی صفات کے کمال کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان تمام مباحث کا نچوڑ یہ ہے کہ اللہ کی صفاتِ علم، قدرت، اور عدل میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ اللہ کا علم کامل ہے، اس کی قدرت حاکم ہے، مگر اس کا عدل تقاضا کرتا ہے کہ انسان کو بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داری کو نبھا سکے۔
رحمت سے عاری خدا
جدید الحاد کا دوسرا اور سب سے مؤثر فکری حملہ خدا کی رحمت اور قدرت کی صفات پر ہے۔ ملحدین، خاص طور پر رچرڈ ڈاکنز اور ڈیوڈ ہیوم جیسے جدید فلاسفہ، اکثر مسئلہ شر (The Problem of Evil) پر زور دیتے ہیں۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ اگر خدا کامل، قادرِ مطلق اور رحیم ہے، تو دنیا میں شر، آفات، زلزلے، سیلاب، بیماریاں اور ظلم کیوں موجود ہیں؟ ایپیکورس نے اسے ایک سوال کی شکل دی تھی کہ اگر خدا برائی کو ختم کرنا چاہتا ہے لیکن کر نہیں سکتا تو وہ قادر مطلق نہیں ہے؛ اگر وہ کر سکتا ہے لیکن کرنا نہیں چاہتا تو وہ رحیم نہیں ہے، جو علمِ عدلِ الٰہی (Theodicy) کی بنیاد ہے۔ جدید نامور ملحدین نے اس سطحی اور غلط انگیز بیانیے کو ہوا دینا الحاد کے فروغ کے لئے ضروری سمجھا۔
- اسکاٹش فلسفی ڈیوڈ ہیوم (1711ء-1776ء) نے اپنی کتاب "قدرتی مذہب پر مکالمات" (Dialogues Concerning Natural Religion) میں فطرت میں موجود بے رحمی اور بے قاعدگی کی مثالیں دے کر یہ دلیل دی کہ دنیا کو کسی ایسے معمار نے بنایا ہے جو شاید بے رحم یا کمزور ہو۔ وہ خدا کی صفات (رحمت، قدرت) کو اس کے افعال میں ظاہر ہوتی نہیں دیکھتے۔
- جرمن فلسفی نطشے (1844ء-1900ء) نے خدا کے وجود پر ہی سوال اٹھایا۔ ان کے نزدیک خدا کا تصور انسان کی کمزوری کا نتیجہ ہے۔ ان کا مشہور قول ہے کہ "خدا مر چکا ہے" (God is dead)، کیونکہ اگر خدا ہوتا تو یہ دنیا اتنی بدحال اور بے معنی نہ ہوتی۔
- برطانوی فلسفی اور ریاضی دان رسل (1872ء-1970ء) نے اپنی کتاب "میں عیسائی کیوں نہیں ہوں" (Why I Am Not a Christian) میں خدا کے افعال پر سخت اعتراضات اٹھائے۔ انہوں نے انسانی تکالیف اور مذہبی تاریخ میں ہونے والی برائیوں کو خدا کے وجود کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کیا۔
- برطانوی ماہرِ حیاتیات رچرڈ ڈاکنز اپنی کتاب "خدا کا وہم" (The God Delusion) میں خدا کے تصور کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ وہ خدا کو ایک بے رحم، متعصب اور حسد کرنے والی ہستی قرار دیتے ہیں، اور قدرتی آفات (سیلاب، زلزلے) اور بیماریوں کو اس کی رحمت کے خلاف دلائل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
ملحدین کی جانب سے خدا کے افعال پر اٹھائے جانے والے اعتراضات اکثر ان افعال کے پیچھے موجود حکمت اور قوانین کو سمجھنے میں ناکامی کی وجہ سے جنم لیتے ہیں۔ ’’الرحمٰن الرحیم‘‘ کی صفات کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفت ’’مالک یوم الدین‘‘ بھی ہے۔ اللہ کی رحمت لامحدود ہے اور یہ دنیا محدود، اس لئے آخرت کی ابدی دنیا میں رحمت کا کماحقہ اظہار ہو سکتا ہے۔ ظالموں کے ساتھ عدل اور حکمت و مہلت کے ساتھ انتقام جیسی صفات جلوہ گری کر سکتی ہیں۔ دراصل یہ اعتراضات صرف مادی اور فوری فوائد کے تناظر میں کیے جاتے ہیں، جبکہ خدا کے افعال (تکوینی اُمور) کو سمجھنے کے لئے اخلاقی، روحانی، اور ابدی تناظر کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔ قرآن میں حضرت خضرؑ کے تین کام نمونہ کے طور پر ذکر ہوئے، جن میں صرف اُخروی جہان کا فائدہ نہ تھا، بلکہ ایسے طویل المیعاد دنیوی فائدے تھے جو بادی النظر میں نامناسب یا نقصان دہ تھے۔ مذہب نے زیادہ تکالیف کی داستانیں انبیاء کرامؑ کی سنائی ہیں۔ سیدنا یوسفؑ کو شرف و رتبہ مظالم کی وجہ سے حاصل ہوا۔ حضور پاک ﷺ کو آسمانی معراج اور حضرت ابراہیمؑ کو انسانیت کی امامت کا منصب دِل لرزانے والی قربانیوں کی وجہ سے ملا۔ پھر خدا کے افعال کا مقصد صرف اس دنیا کی عارضی راحت تک محدود نہیں، بلکہ انسان کی ابدی فلاح اور روحانی ارتقاء ہے۔ اب بتایا جائے کہ جلد باز اور انتہائی محدود علم و نظر کے حامل انسانوں کے اعتراضات کی ایک حکیم و دانا خدا کی اُس غیبی سکیم کے سامنے کیا حیثیت ہو گی جس کو مکمل طور پر حیطۂ ادراک میں لانے کی ہمت سیدنا موسی علیہ السلام جیسا مدبر، رہبر اور حریم راز پیغمبر نہ کر سکا۔ جزئی واقعات کا استقرا و استقصاء تو نوعِ بشر کی بس سے باہر ہے، تاہم اصول کے ذریعے کسی بھی جزئیے کی درست تفہیم و تشخیص تک رسائی ممکن ہے۔ اِسی غرض سے ہم دو اصول ذکر کرتے ہیں۔
اصول اول: حکمتِ کلیہ (Universal Wisdom)
کلامی مفکرین، خاص طور پر ماتریدی مکتبِ فکر، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جسے انسان اپنی محدود نظر سے شر سمجھتا ہے، وہ خدا کی وسیع حکمت اور مصلحت کا حصہ ہوتا ہے، جس میں بڑے فوائد اور مقاصد پوشیدہ ہوتے ہیں۔ انسان کا علم اور فہم محدود ہے۔ وہ کسی ایک واقعے کی حکمت کو تو جان سکتا ہے لیکن پورے کائناتی اور اخلاقی نظام کی حکمت کو سمجھنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ ماتریدیوں کے نزدیک، کائنات کی تخلیق میں کوئی بھی چیز محض اتفاقی، نامناسب یا غیر ضروری نہیں ہے، کیونکہ یہ خدا کے نام الحکیم (All-Wise) کے خلاف ہوگا۔ اشاعرہ بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اللہ کے افعال کے بارے میں سوال نہیں کیا جا سکتا (لا یسئل عمّا یفعل وھم یسألون He is not questioned about what He does, but they will be questioned)، مگر اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ اُس کے تمام افعال غیر مُعلَّل (Ungrounded by Cause/Purpose) ہیں، کیونکہ وہ کسی فعل کے پیچھے بندوں کے لئے کسی مصلحت یا فائدے کا محتاج نہیں۔ وہ جو کچھ کرتا ہے وہ محض اختیار (Sheer Will) سے کرتا ہے، اس کو کسی "لازمی حکمت" یا "غرض" کا پابند قرار دینا اس کی مطلق حاکمیت (Absolute Sovereignty) کے خلاف ہے۔
اصول دوم: کائنات بطور امتحان و ارتقاء
مسئلہ شر کا دوسرا کلامی جواب یہ ہے کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے جہاں انسان کو اختیار (Free Will) دیا گیا ہے۔ دنیا میں شر اور مشکلات کی موجودگی انسان کے لیے ایک آزمائش ہے جس سے اس کے اخلاقی رویے اور ایمان کی جانچ ہوتی ہے۔ شر انسان کو صبر، شکر، استقامت، اور ہمدردی جیسی صفات سیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، اور یہ صفات اس کی روحانی ترقی کا باعث بنتی ہیں۔ دنیا کی تکالیف اور مصیبتوں کا بدلہ آخرت میں اجر کی صورت میں ملتا ہے جو دنیاوی راحت و آسائش سے کہیں زیادہ دائمی اور روحانی ہے۔
جدید الحاد کی بنیادیں اخلاقی نسبتیت (Moral Relativism) کی طرف لے جاتی ہیں، جہاں کسی بھی اخلاقی دعوے کی کوئی ماورائی بنیاد نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، کلامی نظام (خواہ وہ شرعی حسن و قبح ہو یا عقلی حسن و قبح) ایک معروضی اخلاقی نظام کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جو الحادی تنقید کو اخلاقی طور پر ہی بے معنی ثابت کرتا ہے۔
(جاری ہے)
