اسقاطِ حمل اور حقوقِ انسانی کا قانون

(اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام ویبینار میں خواتین ڈاکٹروں کے ساتھ گفتگو  کا کچھ حصہ)

میں چند باتیں حقوقِ انسانی کے قانون کے زاویۂ نظر سے بھی آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ 

ظاہر ہے کہ حقوقِ انسانی کے قانون کا پورا نظام مغرب سے آیا ہے، اور مغربی غیر مذہبی اقدار کو دنیا کے سامنے یوں پیش کیا جاتا ہے جیسے وہ عالمی انسانی اقدار ہوں حالانکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے اور اس میں اس خاص مسئلے کے تناظر میں خود یورپ اور امریکہ میں بھی کئی مسائل پائے جاتے ہیں۔

ایک دلچسپ مثال ’یورپی عدالت برائے حقوقِ انسانی‘ کے ایک فیصلے کی ہے جس کو VO v. France کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ  2004ء کا فیصلہ ہے۔ اس میں ہوا یہ تھا کہ دو خواتین کے ایک جیسے نام تھے؛ اور ایک حاملہ تھیں، اور ایک وہ جس نے مانعِ حمل طریقہ اختیار کیا ہوا تھا جسے نکالنے کے لیے وہ ہسپتال آئی تھیں۔ ڈاکٹر سے غلطی یہ ہوئی کہ ایک مریضہ کےلیے  جو طریقِ کار اختیار کرنا تھا وہ دوسری کے ساتھ کر دیا، تو اس کا جنین ضائع ہو گیا۔ اس نے اس پر مقدمہ کیا اور فرانس سے معاملہ یورپی عدالت برائے حقوقِ انسانی تک پہنچا۔ وہاں بنیادی طور پر سوال یہ تھا کہ کیا جنین کو زندگی کا حق حاصل ہے یا نہیں ہے؟  یورپی عدالت برائے حقوقِ انسانی نے اس پر فیصلہ دینے سے گریز کیا اور کہا کہ یورپین یونین کے رکن بعض ممالک میں اسقاطِ حمل کا حق لوگوں کو دیا گیا ہے، بعض میں نہیں دیا گیا، اور بعض میں محدود ہے، پس  یکسانیت کی عدم موجودگی کی بنا پر ہم اس میں فیصلہ دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ وہاں اصل میں سوال یہی تھا کہ کیا جنین ایک مستقل ’شخص‘ ہے یا نہیں ہے؟ کیونکہ حقوقِ انسانی کے یورپی میثاق میں ہر ’شخص‘ کے لیے زندگی کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ تو جنین شخص ہے یا نہیں ہے، یورپی عدالت برائے حقوقِ انسانی نے اس پر فیصلہ دینے سے گریز کیا۔

امریکہ میں یہ بحث زیادہ بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے اور میں اپنے شاگردوں اور دوستوں سے بعض اوقات مذاق میں کہا کرتا ہوں کہ ہمیں بہت سارے معاملات میں امریکہ کا تو شاید نہیں، لیکن امریکیوں کا شکر گزار رہنا چاہیے کہ بعض مسائل میں وہ بحث اٹھاتے ہیں اور اس کا فائدہ ہمیں ملتا ہے، ورنہ شاید ہمارے پاس اس طرح کے معاملات میں بات کرنے کے لیے جگہ ہی نہ ہو۔ اس میں ایک مسئلہ اسقاطِ حمل کا بھی ہے۔ Roe v. Wade 1973ء کا مشہور مقدمہ ہے جس میں امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا۔ امریکہ میں چونکہ ایک جانب اسقاطِ حمل کے حامی ہیں اور دوسری جانب اس کے مخالفین ہیں، تو اس فیصلے میں ان کے درمیان ایک طرح سے سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی گئی اور یہ قرار دیا گیا کہ پہلے سہ ماہی عرصے (trimester) میں عورت کا حق ترجیح رکھتا ہے؛ اس کے بعد دوسرے سہ ماہی عرصے میں جنین کا حق زیادہ قوی ہو جاتا ہے، اور اس وجہ سے بغیر کسی مضبوط وجہ کے اسقاطِ حمل نہیں کیا جا سکتا۔ پس اس دوسرے مرحلے میں ڈاکٹر کی رائے اور دوسری متعلقہ باتیں اہم ہو جاتی ہیں۔

تقریباً اسی طرح ایک اور معروف فیصلہ امریکی سپریم کورٹ نے  1992ء میں Planned Parenthood v. Casey میں دیا۔ اس میں بنیادی سوال یہ تھا کہ جب ”اسقاطِ حمل کا حق“ کہا جاتا ہے تو امریکی آئین میں دیے گئے حقوق کی فہرست میں کون سا حق مراد ہوتا ہے کیونکہ اس فہرست میں اس نام سے کوئی حق نہیں پایا جاتا۔ امریکا میں ابتدائی دس ترامیم اور ان کے ساتھ چودھویں ترمیم کے ذریعے امریکی آئین میں انسانی حقوق کا اضافہ کیا گیا، ان ترامیم کو یکجا ”حقوق کی دستاویز“ (Bill of Rights)  کہا جاتا ہے۔ تو ان میں کس حق کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ اسقاطِ حمل کا حق اس میں شامل ہے؟ 

اس ضمن میں عام طور پر دو حقوق کی کی بات کی جاتی رہی ہے،  اور آج بھی حقوقِ انسانی کے نقطۂ نظر سے جو لوگ اسقاطِ حمل پر بات کرتے ہیں تو وہ انھی دو حقوق کی بات کرتے ہیں:  ایک نجی زندگی کے حق کی، اور ایک آزادی کے حق کی۔’’میرا جسم میری مرضی‘‘  کا نعرہ تو آزادی کے حق سے نکلا ہے۔ جہاں تک نجی زندگی کے حق (right to privacy)  کا تعلق ہے، تو بہ حیثیتِ طبیب، آپ جانتی ہیں کہ مریض کی نجی معلومات کا تحفظ کتنا اہم ہوتا ہے اور اس کی اجازت کے بغیر یہ معلومات دوسروں کے سامنے نہیں آنی چاہییں۔ چونکہ ان دونوں حقوق کی امریکی بل آف رائٹس میں ضمانت دی گئی ہے، تو اس بنا پر اس مقدمے میں مان لیا گیا کہ پہلے سہ ماہی عرصے میں خاتون کو اسقاطِ حمل کا حق حاصل ہے۔ البتہ دوسرے سہ ماہی عرصے میں اس خاتون کا حق اور جنین کا حق برابر کی سطح پر آ جاتے ہیں، اور اب ترجیح کے لیے کوئی مضبوط وجہ ہونی چاہیے۔

تاہم جون 2022ء میں معروف مقدمے  Dobbs v. Jackson   میں امریکی سپریم کورٹ منقسم ہو گئی، اور اکثریت نے ان دونوں فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا۔ امریکی سپریم کورٹ میں نو جج ہوتے ہیں، اور پاکستان کی سپریم کورٹ کی طرح وہ الگ الگ بنچوں کی صورت میں نہیں بیٹھتے، بلکہ تمام نو جج اکٹھے بیٹھتے ہیں۔ یہ نو جج تین آراء میں تقسیم ہو گئے۔ 

اسقاطِ حمل کے جواز کےلیے عام طور پر اس سوال پر غور کیا جاتا ہے کہ ”جنین کے زندہ رہنے کی صلاحیت“ (fetal viability)  کتنی ہے،  لیکن اس مقدمے میں ریاست مسی سپی (Mississippi) کے  جس قانون پر بحث تھی اس میں یہ قرار دیا گیا تھا کہ پندرہ ہفتوں کے بعد اگر خاتون کی زندگی بچانے کے لیے یا جنین میں شدید جسمانی خرابی کی صورت نہ ہو، تو ان دو صورتوں کے سوا کسی صورت میں اسقاطِ حمل نہیں کیا جا سکے گا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر اور دیگر افراد کے لیے مختلف نتائج اور سزائیں ذکر کی گئی تھیں۔ بعض لوگ اس قانون کو Roe  اور  Casey مقدمات کے فیصلوں کی روشنی میں امریکی آئین سے متصادم قرار دینے کےلیے وفاقی عدالت میں گئے اور  بالآخر معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ 

سپریم کورٹ میں پانچ ججوں نے ان پچھلے دو فیصلوں کو کالعدم کرتے ہوئے قرار دیا کہ امریکی آئین میں اسقاطِ حمل کا حق سرے سے موجود ہی نہیں ہے اور اس وجہ سے اس قانون کو آئین سے متصادم نہیں کہا جاسکتا۔ چیف جسٹس رابرٹس نے بھی اس قانون کو تو برقرار رکھا لیکن انھوں نے پہلے سے موجود فیصلوں کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینے سے اتفاق نہیں کیا۔ باقی تین نسبتاً آزاد خیال جج تھے، انھوں نے اس قانون کے خلاف فیصلہ دیا اور اسقاطِ حمل کے حق کے حق میں فیصلہ دیا۔ خلاصہ یہ ہوا کہ پانچ ججوں نے کہا کہ اسقاطِ حمل کا حق موجود نہیں ہے، ایک نے درمیانی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی، اور تین نے کہا کہ اسقاطِ حمل کا حق موجود ہے۔ یوں پانچ ججوں کے اکثریتی فیصلے کی رو  سے امریکی سپریم کورٹ نے کہا کہ امریکی آئین نے اسقاطِ حمل کا حق نہیں دیا، اور اس وجہ سے اسقاطِ حمل کے متعلق مختلف امریکی ریاستیں اپنا اپنا قانون بنا سکتی ہیں۔

یہ تو امریکہ کا معاملہ ہوا۔ تاہم بین الاقوامی سطح پر ’ہیومن رائٹس واچ‘ کا مؤقف دیکھیں، یا ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘  کا، یا دیگر ایسی تنظیموں کا، تو وہ اقوام متحدہ کی حمایت سے Right to Safe and Legal Abortion، یعنی محفوظ اور قانونی اسقاطِ حمل کے حق، کی بات کرتی ہیں اور اس معاملے میں وہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدات کی ان دفعات سے استدلال کرتی ہیں جن میں یا تو زندگی کے حق کا ذکر ہوتا ہے یا تولیدی صحت کے حق کا ذکر ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس پر دلیل امتیازی سلوک کے خلاف حق کے زاویۂ نظر سے دی جاتی ہے کہ خواتین کے ساتھ امتیاز ہو رہا ہے اور اس وجہ سے یہ CEDAW ، یعنی خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے میثاق، سے متصادم ہے۔ ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ اسقاطِ حمل کے خلاف قوانین سے اسقاطِ حمل تو نہیں رکتا لیکن وہ بہت زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے اور نتیجتاً بہت ساری اموات واقع ہوتی ہیں۔ 

کیا یہ بین الاقوامی معاہدات پاکستان میں براہ راست نافذ کیے جا سکتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ نہیں ۔ پاکستان ایک Dualist (دوئی پر مبنی) ریاست ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی بین الاقوامی معاہدہ پاکستان کے قانونی نظام میں براہ راست نافذ نہیں ہوتا، عدالتیں اسے نافذ نہیں کر سکتیں، جب تک پاکستان کی پارلیمان اس معاہدے کو ملک کے اندر نافذ کرنے کےلیے قانون نہ بنائے۔ پاکستان کا قانون ایک الگ دائرے میں کام کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون ایک الگ دائرے میں۔ اس کو Dualism کہا جاتا ہے۔ تاہم ایک جانب اقوام متحدہ کا دباؤ ہوتا ہے، اور دوسری جانب مختلف حقوقِ انسانی کی غیر سرکاری تنظیمیں اس ایجنڈے کو لے کر آتی ہیں، اور ہماری پارلیمان کو قوانین تبدیل کرنے کے لیے مجبور کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کے لیے استدلال بنیادی طور پر یہ ہوتا ہے کہ پاکستان نے CEDAW یا دیگر حقوقِ انسانی کے بین الاقوامی معاہدات کی توثیق کی ہوئی ہے، اس لیے ان معاہدات کی روشنی میں اپنے قوانین کو تبدیل کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ یہ تنظیمیں ان معاہدات کی تشریح اس طرح کرتی ہیں کہ ان سے اسقاطِ حمل کا حق ثابت کیا جا سکے۔ جیسے میں نے ذکر کیا کہ زندگی کا حق، تولیدی صحت کا حق، یا امتیازی سلوک کے خلاف حق جیسی چیزوں کی تشریح کر کے وہ اس سے اسقاطِ حمل کا حق اخذ کرتی ہیں، پھر کہتی ہیں چونکہ آپ نے یہ حقوق تسلیم کیے ہوئے ہیں تو اسقاطِ حمل کا حق بھی آپ نے مان لیا ہے، اس لیے اب آپ اپنے قانون کو تبدیل کر لیں۔ اس کے لیے مختلف پہلوؤں سے پارلیمان کے ارکان کو قائل کرنے اور ان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے اور قانون کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

تاہم ایک اور پہلو بھی بہت اہم ہے۔ ہماری سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ججوں کے پاس چونکہ تشریح کا اختیار ہوتا ہے تو قانون کے متن کو تبدیل کیے بغیر بھی وہ قانون کو اس طرح سمجھنا اور بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں وہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ رجحان ہمیں بدقسمتی سے بعض ججوں میں نظر آتا ہے کہ وہ کسی حقوقِ انسانی کے بین الاقوامی معاہدے کی روشنی میں اپنے قانون کی تشریح کرنا شروع کر دیتے ہیں، حالانکہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اس کے دستور میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ یہاں اقتدارِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اور پاکستان میں حکومت اور ریاست کے تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر استعمال کیے جائیں گے؛ اس کے علاوہ یہ کہ  پاکستان کا ریاستی مذہب اسلام ہے، اور یہاں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو ایسا ماحول فراہم کرے کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلام کی روشنی میں بسر کر سکیں اور زندگی کا مفہوم اسلامی اصولوں کی روشنی میں سمجھ سکیں؛ نیز یہ کہ یہاں کوئی قانون ایسا نہیں بنایا جائے گا جو اسلامی احکام سے متصادم ہو اور رائج الوقت تمام قوانین کو اسلامی احکام سے ہم آہنگ بنانا لازم ہے۔ ان آئینی دفعات کے علاوہ ہمارے پاس قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء ہے جس میں دفعہ 4 میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ تمام موجودہ قوانین کی تشریح اسلامی اصولوں کی روشنی میں کی جائے گی۔ اسقاطِ حمل کے متعلق قانون ہمارے ہاں مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان میں ’قصاص و دیت‘ کے متعلق باب کا حصہ ہے اور اس باب کی دفعہ 338 ایف میں تو خصوصاً یہ بات کہی گئی ہے کہ اس باب کی دفعات کی تشریح قرآن و سنت کی روشنی میں کرنا لازم ہے۔

پچھلے کچھ عرصے سے، خصوصاً جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب کے مختلف فیصلوں میں، ان دفعات کا خصوصی حوالہ دیا جاتا رہا ہے، آئین کی دفعہ 227، قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء کی دفعہ 4، اور مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 338 ایف، جن میں یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قوانین کی ایسی تشریح کرنا لازم ہے جو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔

facebook.com/reel/882022229693598

دستور و قانون

(الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۴

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۰)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۱)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۴)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

صحیح مسلم کا قدیم ترین نسخہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۱)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۴)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۳)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت خولہ بنت الازور کندی اسدی رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۱)
محمد سراج اسرار

مسئلہ تشبہ امام ابن تیمیہ کی نظر میں
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

زندگی کی قدر اور وقت کی تقسیمِ کار
مولانا فضل سبحان
مولانا عبد المتین

مذہبی رواداری اور غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۳)
پروفیسر خورشید احمد

مفتی طارق مسعود اور شجاع الدین شیخ کا مکالمہ
شجاع الدین شیخ
مفتی طارق مسعود

اسقاطِ حمل اور حقوقِ انسانی کا قانون
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

On the Islamic Status of Pakistan`s Constitution
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عالمِ اسلام کے لیے نئے امکانات — پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
مولانا فضل الرحمٰن

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ اور خطہ میں اس کے ممکنہ اثرات
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

رویتِ ہلال کے متعلق پانچ قانونی سوالات
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

افغانستان اور پاکستان کے علماء کی طرف سے قیامِ امن کیلئے مشترکہ بیان
مولانا حافظ نصر الدین خان عمر
پاکستان شریعت کونسل

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter