موجودہ عالمی بحران میں مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری
منجانب: عبد القادر عثمان — دفتر مرکزی جامع مسجد، گوجرانوالہ
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے آج مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج کل جس فکری خلفشار اور بیرونی یلغار کا شکار ہیں اس سے نکلنے کے لیے حضرت سیدنا امام حسن اور حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہما سے راہنمائی لینے کی ضرورت ہے:
(۱) سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان جنگ کے موقع پر جب اس وقت کے سب سے بڑے مسیحی بادشاہ قیصرِ روم نے حضرت معاویہؓ کو حضرت علیؓ کے خلاف تعاون کا پیغام بھیجا تو انہوں نے اسے سختی سے مسترد کر دیا تھا اور فرمایا تھا کہ ہماری لڑائی بھائیوں کی لڑائی ہے، اس میں اگر قیصرِ روم نے دخل دیا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پرچم تلے اس کے مقابلہ میں سب سے پہلے معاویہؓ میدان میں کھڑا ہو گا۔
(۲) اور جب حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد ان کے جانشین حضرت امام حسنؓ نے ایک بڑی جنگ کو بڑھتے ہوئے دیکھا تو حضرت امیر معاویہؓ کے ہاتھ پر بیعت کر کے امت کو دوبارہ ایک پلیٹ فارم پر متحد کر دیا، جس کی خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ میرا یہ بیٹا مسلمانوں کے دونوں بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔
مولانا راشدی نے کہا کہ مسلم حکمرانوں کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے جال سے باہر نکل کر امت مسلمہ کی بنیاد پر اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے اور عالمی استعمار کو اپنے اختلافات و تنازعات سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔
انہوں نے ’’ابراہیم اکارڈز‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے ماحول میں اکبر بادشاہ کے دور میں اس کا منظر دیکھ چکے ہیں کہ مختلف مذاہب کی باتیں جوڑ کر اکبر بادشاہ نے ’’دینِ الٰہی‘‘ کے نام سے ایک ملغوبہ تیار کر کے طاقت کے زور سے اسے رائج کرنا چاہا تھا تو علماء امت نے حضرت مجدد الف ثانیؒ کی قیادت میں اسے یکسر مسترد کر کے پسپا کر دیا تھا۔ ہمارا آج بھی اس حوالہ سے وہی موقف ہے جو حضرت مجدد الف ثانیؒ کا تھا اور ہم کسی ’’ابراہیم اکارڈز‘‘ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ (۶ مارچ ۲۰۲۶ء)
مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل کیا ہو گا؟
منجانب: حافظ احمد فداء — شریک دورۂ حدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
استاد محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب سے ایک مجلس میں پوچھا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کا آئندہ کردار کیا ہو گا؟ انہوں نے فرمایا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل اپنے اپنے ایجنڈے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ لڑ رہے ہیں اور اس کے لیے وہ پوری طرح تیار بھی ہیں۔ اسرائیل کا ایجنڈا ’’گریٹر اسرائیل‘‘ ہے جبکہ ایران کا صرف ’’دولتِ فاطمیہ‘‘ کی بحالی ہے۔ تیسرا فریق عرب ممالک ہیں جن کے سامنے اپنی بادشاہتوں کو بچانے کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہیں ہے، اور اس کے لیے بھی ان کی اپنی کوئی تیاری نہیں ہے اور وہ مکمل طور پر امریکہ پر انحصار کیے ہوئے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک عرب ممالک میں سے عراق اور مصر اس نئی صورتحال کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں تھے مگر اُن کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ترکیہ بھی اس میں آگے بڑھ سکتا ہے لیکن اسے عربوں کی مخالفت کا سب سے پہلے سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے عالمِ اسباب میں ایران اور اسرائیل میں سے کسی کی کامیابی ہی عربوں کے مستقبل کا فیصلہ کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اللہ پاک امتِ مسلمہ کے حال پر رحم فرمائے اور مسلم حکمرانوں کو امریکی جال سے جلد از جلد نکل جانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔ (۹ مارچ ۲۰۲۶ء)
15 مارچ کو ’’یوم تحفظ ناموس رسالت ﷺ‘‘ منانے کے اعلان کا خیر مقدم
جاری کردہ: حافظ نصر الدین خان عمر بن قارن — امیر پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے وفاقی وزارت مذہبی امور کی طرف سے 15 مارچ بروز اتوار کو ملک بھر میں ’’یوم تحفظ ناموس رسالت ﷺ‘‘ منانے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور دینی حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اہم دینی و ملی کام میں سنجیدہ دلچسپی لے کر امت مسلمہ کے عقائد و جذبات کے موثر اظہار کی بھر کوشش کریں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے حوالہ سے ہمیں عالمی اور ملکی سطح پر جو حل طلب مسائل درپیش ہیں ان میں سے اہم ترین امور یہ ہیں جن کی طرف عالمی رائے عامہ اور قومی حلقوں کو توجہ دلانے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر کل جمعۃ المبارک کے خطبات میں ان پر آواز اٹھانا ضروری ہے:
(۱) ایک یہ کہ بین الاقوامی حلقوں اور اداروں میں توہین رسالت ﷺ کو جرم کی بجائے آزادی رائے کے عنوان سے حقوق میں شمار کیا جا رہا ہے جو سراسر غلط ہے اس لیے کہ اگر کسی بھی ملک کے عام شہری کی توہین جرم ہے تو حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور دیگر مقدس شخصیات و مقامات کی توہین بھی جرم ہے، بین الاقوامی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کو اسے جرم قرار دینا چاہیے اور مسلم ممالک اور حکمرانوں کو اس کے لیے سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔
(۲) دوسری بات یہ کہ پاکستان میں توہینِ رسالت ﷺ اور توہین مذہب کے حوالے سے نافذ قوانین کو ختم یا کمزور کرنے کی جو کوششیں بین الاقوامی اور قومی سطح پر کی جا رہی ہیں ان کو مسترد کرتے ہوئے دستورِ پاکستان میں شامل اسلامی دفعات کے تحفظ کے لیے منظم اور اجتماعی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔
(۳) تیسری بات یہ کہ جن مقدمات میں گستاخان رسالت ﷺ اور گستاخان مذہب کو سزائیں دی جا چکی ہیں اور وہ مجرم قرار پا چکے ہیں، ان کو سزا دینے میں مسلسل تاخیر قابل قبول نہیں ہے اور متعلقہ اداروں کی قومی اور دینی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے مجرموں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچائیں۔
(۴) چوتھی بات یہ ہے کہ توہین رسالت ﷺ اور توہین مذہب کے مقدمات عدالتوں میں زیر بحث ہیں، ان کے جلد از جلد فیصلے ہونے چاہئیں، فیصلوں میں تاخیر بھی مجرموں کو سہولت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ جبکہ
(۵) پانچویں بات یہ ہے کہ زیر سماعت مقدمات میں ایسے مقدمات بھی یقیناً موجود ہیں جو مختلف قسم کی باہمی مخاصمت کی وجہ سے درج کرائے گئے ہیں، ان کا مجموعی طور پر جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ بے گناہ لوگوں کو سزا اور مقدمات کی اذیت سے بچایا جا سکے کیونکہ جس طرح مجرم کو سزا سے بچانا جرم ہے اسی طرح بے گناہ کو سنگین سزا سے بچانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ (۱۲ مارچ ۲۰۲۶ء)
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں ایران کے اہداف کیا ہیں؟
منجانب: حافظ شاہد رحمٰن میر — سیکرٹری مالیات پاکستان شریعت کونسل گوجرانوالہ
استاذ محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب سے ایک مجلس میں سوال ہوا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ میں ایران کے اہداف کیا دیکھ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ چار عشروں سے مسلسل کہتا آ رہا ہوں کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشمکش کے تین فریق ہیں:
پہلا فریق اسرائیل ہے جس کا ایجنڈا ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا قیام ہے اور اس میں اسے امریکہ کی بھرپور پشت پناہی اور تعاون حاصل ہے۔ دوسرا ایران ہے جو ’’دولتِ فاطمیہ‘‘ کی واپسی کے لیے سنجیدگی سے لڑ رہا ہے۔ یہ دونوں فریق پوری سنجیدگی کے ساتھ لڑ رہے ہیں اور اس کے لیے ان کی تیاری اور وژن واضح ہے۔
تیسرا فریق عرب ممالک و اقوام ہیں جن کا کوئی اجتماعی ایجنڈا نہیں ہے، وہ صرف اپنی بادشاہتوں کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اس کے لیے صرف امریکہ پر انحصار کیے ہوئے ہیں، ان کی اپنی کوئی تیاری نہیں ہے۔ ’’امریکہ ایران جنگ‘‘ کے مسلسل آگے بڑھنے سے ان کا مستقبل خدانخواستہ ایران کے ساتھ وابستہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے جو صرف عربوں کے لیے نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام کے لیے شدید پریشانی کا مرحلہ ہو گا۔
اس ماحول میں مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ ترکیہ کی دلچسپی بھی دکھائی دینے لگی ہے جو ’’خلافتِ عثمانیہ‘‘ کی واپسی کی سوچ رکھتا ہے مگر اس میں اسے سب سے زیادہ عربوں کی طرف سے مخالفت پیش آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میری گزارش ہمیشہ سے یہی رہی ہے اور اب بھی ہے کہ عرب لیگ اور او ائی سی (اسلامی ممالک کی باہمی تعاون تنظیم) کو سنجیدہ ہونا ہو گا اور امریکی جال سے نکل کر مسلم امہ اور عرب ممالک کی بنیاد پر اپنی حکمتِ عملی ازسرنو طے کرنی ہو گی ورنہ انہیں خدانخواستہ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ یا ’’دولتِ فاطمیہ‘‘ میں سے کسی کا سامنا کرنا پڑے گا جو پورے عالمِ اسلام کے لیے بدقسمتی کی بات ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ نصف صدی کے دوران بیسیوں کالموں میں یہ متوقع صورتحال بیان کرتے آ رہے ہیں جن کا مجموعہ ’’سنی شیعہ کشمکش‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ (923007423383) سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہم سب کو جذباتی بیانات اور سطحی نعروں کے ماحول سے نکل کر مجموعی صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے اور قوم و ملت کی صحیح سمت راہنمائی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ (۱۹ مارچ ۲۰۲۶ء)
امریکہ ایران جنگ رکوانے میں پاکستان کے سفارتی کردار کا خیرمقدم
وزیر آباد (نامہ نگار روزنامہ گوجرانوالہ ٹائمز) پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے امریکہ اور ایران کی جنگ میں پاکستان کے سفارتی کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہو گی کہ اس جنگ کو رکوا کر خطے میں امن کی بحالی کے لیے کوئی کردار ادا کر سکیں اور ہم اس کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں لیکن توجہ طلب بات یہ ہے کہ جنگ میں تو اسرائیل بھی پوری طرح شریک ہے بلکہ اس کا اصل فریق ہے مگر جنگ بندی کی کوششوں میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے کہ جنگ بندی کا اس پر کیسے اطلاق ہو گا۔ اصل مسئلہ اسرائیل کو جنگ بندی کا پابند بنانا ہے جس نے اب تک جنگ بندی کے کسی معاہدے کو قبول نہیں کیا اور تمام تر معاہدات، اخلاقیات اور بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے سنگدلانہ جارحیت کو مسلسل جاری رکھنے پر تلا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کو رکوانے کی ہر کوشش کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کی محنت کرنے والے سب حضرات سے ہماری گزارش ہے کہ اسرائیل کو پابند بنانے کے لیے بھی کوئی ماحول بنائیں ورنہ جنگ بندی کا کوئی معاہدہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو گا۔ (۲۶ مارچ ۲۰۲۶ء)
مسلم حکو متوں کا اتحاد اور باہمی مشاورت اُمت کا حق ہے
جاری کردہ: مولانا حافظ امجد محمود معاویہ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل
پریس ریلیز (۲۷ مارچ ۲۰۲۶ء) پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت موجودہ عالمی بحران پر مسلم حکمرانوں کی باہمی مشاورت اور اجتماعی موقف ہے جو امت مسلمہ کا ان پہ حق ہے اور اس میں مسلم حکمرانوں کی کوتاہی تاریخ میں ان کے سنگین جرم کے طور پر ریکارڈ ہو رہی ہے۔
وزیر آباد میں پاکستان شریعت کونسل کے راہنماؤں کی ایک نشست میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں حالیہ جارحیت، اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ کا ماحول پورے عالم اسلام کے لیے تشویش اور اضطراب کا باعث ہے، جس پر او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک ہونا چاہیئے اور اگر یہ فورم قابل عمل نہیں رہا تو پھر پاکستان، ترکی، مصر، انڈونیشیا، ملائیشیا اور دیگر بڑے اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو متبادل کسی فورم کا فی الفور اہتمام کرنا ہو گا۔ امت مسلمہ کو دوسری طاقتوں کے رحم و کرم پہ نہیں چھوڑا جا سکتا، ورنہ اس کے خوفناک نتائج کے لیے تیار رہنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جو طاقتیں دین اسلام اور امت مسلمہ کے تشخص اور امتیاز کو ختم کرنے کے در پے ہیں، اپنے معاملات اور مسائل کو اُن کے حوالے کر دینا خودکشی سے کم نہیں ہے اور امت مسلمہ کے علماء کرام اور دینی راہنماؤں کو آگے بڑھ کر اس کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس وقت دین اور ملت کا سب سے بڑا تقاضہ یہی ہے، اور ہم سب کو اپنے اپنے دائرے میں اس کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔
وزیر آباد نشست میں پروفیسر حافظ منیر احمد، مولانا امجد محمود معاویہ، میاں سعود الحسن الحسن، عمیر، قاری طیب مغل، عبدالقادر عثمان، اور حافظ شاہد میر بھی شریک تھے۔ (۲۷ مارچ ۲۰۲۶ء)
سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی پاکستان آمد کا خیرمقدم
جاری کردہ: مولانا حافظ امجد محمود معاویہ
خیرمقدم اور تائید
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد تشریف آوری کا خیرمقدم کیا ہے۔
ملّی ضرورت اور دعا
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہم وزرائے خارجہ کی سطح پر مسلم حکومتوں کے درمیان مشاورت کے آغاز کی اہم ترین ملی ضرورت کی طرف پیش رفت سمجھتے ہیں اور اس کی کامیابی کے لیے بارگاہِ ایزدی میں دست بدعا ہیں۔
امت مسلمہ کی ذمہ داریاں
امت مسلمہ کو سنگین عالمی بحران سے نکالنے، حرمین شریفین کے تقدس کی حفاظت، بیت المقدس کو صیہونی جارحیت کے مذموم مقاصد سے بچانے، اور فلسطینیوں کی دادرسی کے لیے مسلم حکمرانوں کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اجتماعی مشاورت کے ساتھ مؤثر اقدامات کا اہتمام کرنا ہو گا اور وہ عالمی لابیوں سے بالاتر رہتے ہوئے آزادانہ فیصلوں کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔
دعائیہ اختتام
اللہ پاک امتِ مسلمہ کو وحدت اور خودمختاری سے نوازیں اور ہمارے حکمرانوں کو اس سمت پیش رفت کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ (۲۹ مارچ ۲۰۲۶ء)
