الحمد للہ وکفیٰ والصلوٰۃ والسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ، اما بعد۔
یہ پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے کہ علمِ مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء کیسے ہوا؟ یعنی یہ جو علم ہے، مشکلات القرآن، عہدِ تدوین سے لے کر موجودہ دور تک اس میں کس قسم کی تبدیلیاں آئیں؟ تو اس مقالے میں ان چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ جو تعارفی جائزہ ہو گا، اس میں ہم بنیادی طور پر تین دائروں میں بات کریں گے:
- پہلی بات یہ ہے کہ مشکلات القرآن کے موضوع کو منتخب کرنے کی بنیادی وجہ، یعنی میں نے اس موضوع کو کیوں منتخب کیا، اس موضوع میں وہ کون سے خلا تھے، میری نظر میں جن پر کام کیا جا سکتا تھا۔
- جو بحثِ دوم ہو گی اُس میں اِس مقالے کے خصوصی مباحث کا ہم ذکر کریں گے۔ یعنی اس کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ بطور مقالہ نگار جو میں نے اس میں اضافے کیے، یا جو میری کوشش ہے، وہ آپ دیکھ لیں گے کہ کس حد تک کامیاب ہوئی ہے۔
- اور تیسرے نمبر پر، مقالے کے جو دیگر عمومی مباحث ہیں، اس کی ہم صرف ایک فہرست پیش کر دیں گے کہ اس مقالے میں مزید یہ یہ چیزیں بھی ہیں۔ اور ظاہر ہے کچھ بہت بنیادی نوعیت کی چیزیں ہوتی ہیں، تو ان کا آپ حضرات کے سامنے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
بحثِ اول: مشکلات القرآن کے موضوع کو منتخب کرنے کی بنیادی وجہ
میں آپ کے سامنے مشکلات القرآن کی تعریف وغیرہ میں نہیں جاؤں گا، مختصراً آپ یوں سمجھ لیں کہ مشکلات القرآن سے مراد وہ علم ہے جس میں قرآنی آیات میں کسی بھی وجہ سے کوئی اشتباہ پیدا ہو۔ یعنی قرآنی آیات میں کسی بھی وجہ سے کوئی اشکال، کوئی اشتباہ، کوئی بھی اعتراض، یا کسی وجہ سے کوئی خِفا پیدا ہو، تو اس علم کو ہم مشکلات القرآن کا علم کہتے ہیں۔ اور مقالے کے شروع میں، میں نے اس اصطلاح پر بھی بات کی ہے کہ علوم القرآن کے علماء کے ہاں یہ اصطلاح کیسے استعمال ہوتی ہے۔ اور جو علماءِ علوم القرآن ہیں انہوں نے اس کی کتنی تعریفیں کی ہیں۔ مختلف قسم کی تعریفیں کی گئی ہیں، تو گویا کہ یہ اصطلاحی جائزہ بھی اس میں لیا گیا ہے۔ تو اس لیے آپ کے سامنے میں اُن تعریفات میں نہیں گیا کہ آپ سارے ما شاء اللہ اہلِ علم ہیں، اس کو سمجھتے ہیں۔
کتب کی درجہ بندی
اب دیکھیں، جو مشکلات القرآن کی کتب ہیں، اگر ہم اس کو کیٹیگرائز کریں تو وہ دو طرح سے ہیں:
(۱) مشکلات القرآن کی مختلف انواع
پہلی قسم وہ کتابیں ہیں جس میں مشکلات القرآن کی مختلف انواع کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ یعنی جو قرآن پاک کے مشکل مقامات ہیں، ان میں اس کی تاویل اور توجیہ کی گئی۔ مثلاً ایک آیت ہے ’’وارجلکم الی الکعبین‘‘۔ اب اس آیت میں اشکال ہوتا ہے، تو اس اشکال پر بحث کی گئی، کیف متفق۔ یہ جو کتابیں ہیں، عام طور پر انہی کو مشکلات القرآن کی کتابیں کہا جاتا ہے۔
’’تاویل مشکل القرآن‘‘
جیسے اس میں سب سے پہلی اور مشہور کتاب ابن قتیبہ دینوری کی ’’تاویل مشکل القرآن‘‘۔ مشکلات القرآن کی بالکل صدرِ اول کی کتابوں میں سے ہے۔[1]
اس کتاب کو اگر آپ دیکھیں تو اس میں جو قرآن پاک میں لغوی اشکالات ہوتے ہیں، جو استعارے سے متعلق کوئی اشکال ہے، جو اعراب سے متعلق کوئی اشکال ہے، تو وہ باب باندھتے ہیں، عنوان باندھتے ہیں، اور اس کے تحت جو آیات ہوتی ہیں، ان آیات کو ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں، اس کی توجیہ اور تاویل کرتے ہیں۔ کیف متفق۔ جیسے ان کے ذہن میں آیا، تو وہ اس پر بات کرتے ہیں۔
’’وضع البرہان فی مشکلات القرآن‘‘
یا اسی طرح محمود بن حسن النیسابوری کی ایک کتاب ہے، بڑی مشہور ہے، ’’وضع البرہان فی مشکلات القرآن‘‘۔ یہ بھی اسی انداز کی کتاب ہے، اس میں بھی گویا کہ مشکلات القرآن کی مختلف قسم کی آیتوں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔[2]
’’فوائد فی مشکل القرآن‘‘
اسی طرح ایک بڑی مشہور ہے عز الدین عبد العزیز بن عبد السلام کی ’’فوائد فی مشکل القرآن‘‘ ۔ بڑی مشہور کتاب ہے، اس میں بھی انہوں نے سورہ فاتحہ سے لے کر قرآن کے آخر تک جو جو آیتیں وہ سمجھتے ہیں کہ اس میں کوئی نہ کوئی اشکال ہے، کوئی نہ کوئی توجیہ کی ضرورت ہے، تو انہوں نے اس میں اس کو ذکر کیا ہے۔[3]
’’تفسیر آیات اشکلت علیٰ کثیر من العلماء‘‘
اور ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ایک مختصر سا رسالہ ہے ’’تفسیر آیات اشکلت علیٰ کثیر من العلماء‘‘، جس میں چند ان آیتوں کو انہوں نے لیا جس میں حضرت سمجھتے ہیں کہ اہلِ علم پر یہ مخفی ہے، یا اس میں کوئی نہ کوئی اشکال ہے، تو انہوں نے ان آیتوں کو اس میں جمع کیا ہے۔[4]
’’مشکلات القرآن‘‘
اسی طرح حضرت انور شاہ صاحب کشمیری رحمہ اللہ، ان کی کتاب ’’مشکلات القرآن‘‘ بڑی معروف ہے۔[5]
تو یہ مشکلات القرآن کی چند بنیادی ترین کتابیں ہیں۔ اب ان کتابوں میں ایک سقم ہے۔ وہ سقم کیا ہے، کہ یہ کتابیں تو ہیں بڑی اہم، لیکن اس میں مشکلات القرآن کی اقسام کا استیعاب نہیں کیا گیا۔ یعنی مشکلات القرآن کی جتنی قسمیں بن سکتی ہیں، منطقی ترتیب سے، اس منطقی ترتیب سے اس میں ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ اہلِ علم اپنے اس علم کی بنیاد پر قرآن پاک کی جن آیتوں کے بارے میں سمجھتے تھے کہ ان میں کوئی اشکال ہے، تو وہ آیتیں ذکر کرتے تھے اور اس میں توجیہ اور تاویل، یا رفعِ اشکال اپنے انداز میں کرتے تھے۔ گویا کہ کتابیں تو اہم ہیں لیکن ان کتابوں میں استیعاب نہیں۔
(۲) مشکلات القرآن پر معاصر کتب
اس کے بعد دوسری قسم میں دراصل کچھ معاصر کتابیں ہیں مشکلات القرآن پر، جن میں اس موضوع پر کام کیا گیا ہے۔
’’مشکل القرآن الکریم‘‘
اب اگر ان کتابوں میں ہم دیکھیں تو اس میں خاص طور پر عرب دنیا میں بڑی مشہور کتاب ہے، اگر آپ گوگل پہ سرچ کریں مشکلات القرآن، تو آپ کو یہ کتاب نظر آئے گی ’’مشکل القرآن الکریم‘‘ عبد اللہ بن حمد المنصور کی۔ یہ جو کتاب ہے یہ دراصل جامعہ امام احمد بن سعود سے ایک ایم اے کا مقالہ ہے۔ کتاب کافی بہترین ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے علمِ مشکلات القرآن پر بڑی جامع قسم کی بحث کی ہے، اور خاص طور پر اس کے انواع پر بحث کی ہے، کہ مشکلات القرآن کی کتنی انواع بن سکتی ہیں، یعنی کتنے اعتبارات سے قرآن پاک کی آیات پر اشکال ہو سکتا ہے۔ تو اس میں انہوں نے کوئی پندرہ کے قریب انواع کا ذکر کیا ہے۔ گویا کہ یہ کتاب کافی حد تک بہترین ہے، لیکن اس میں بھی بعض پہلو تِشنہ ہیں، وہ جب ہم اپنے مقالے کی بات کریں گے تو پھر آپ کے سامنے آجائے گا کہ کون کون سی باتیں اِس کتاب میں نہیں ہیں۔[6]
’’المؤلفات فی مشکل القرآن ومناہجھا‘‘
اسی طرح ایک دوسری کتاب ہے، یہ بھی مدینہ منورہ ہی کے ایک صاحب ہیں، عبد الرحمان بن سند الرحیلی۔ ان سے میرا رابطہ بھی ہوا تھا، جب میں مشکلات القرآن پہ کام کر رہا تھا۔ انہوں نے ماشاء اللہ ایک پی ایچ ڈی مقالہ بہت بہترین لکھا ہے ’’المؤلفات فی مشکل القرآن ومناہجھا‘‘۔ اس میں انہوں نے چودہ صدیوں کی جو مشکلات القرآن کی کتب ہیں، ان کا انہوں نے ذکر کیا ہے کہ مخطوط ہے، مطبوع ہے، اور صدی وار ذکر کیا ہے۔ میرے مقالے کا جو کتابوں والا باب ہے، وہ میں نے زیادہ تر یہاں سے لیا ہے، لیکن اس پر کچھ اضافے بھی کیے ہیں، اپنی طرف سے بھی کچھ کتابیں میں نے ڈھونڈی ہیں۔ لیکن بہرحال اس میں بڑا حصہ اس کتاب کا ہے۔ تو گویا کہ اس کتاب کا بنیادی مقصد مشکل القرآن کی کتب کا ذکر ہے۔ جس طرح پچھلی کتاب میں انواع تھیں، کتابیں نہیں تھیں، اِس کتاب میں کتابیں تو ہیں لیکن انواع کا بھی مختصر سا ذکر ہے، لیکن زیادہ زور کتابوں پہ دیا گیا ہے۔ تو یہ بھی ایک اچھی کتاب ہے۔[7]
’’المشکل و اثرہ فی فہم منہج القرآن‘‘
اس کے بعد ایک اور کتاب ہے ’’المشکل و اثرہ فی فہم منہج القرآن‘‘۔ یہ کتاب مجھے ملی تو نہیں لیکن اس کا تعارف پڑھا تو اس کتاب میں انہوں نے یہ کوشش کی ہے کہ مشکلات القرآن کو حل کرنے کے لیے مختلف تفاسیر نے کیا منہج اختیار کیا ہے۔ تو ایک اصولی قسم کی بحث کی ہے۔[8]
اب یہ جتنی بھی کتابیں ہیں، جو مشکلات القرآن کے قدیم مصادر تھے، جن کا ہم نے پہلے ذکر کیا، یا جو معاصر کتابیں ہیں، تو ان سب کتابوں میں:
- ایک منطقی ترتیب سے علمِ مشکلات القرآن کے تاریخی ارتقاء کا ذکر نہیں ہے۔
- اسی طرح خاص طور پر مشکلات القرآن کی انواع اور اقسام کا استیعاب ان کتابوں میں نہیں تھا۔
- اور تیسری بات یہ ہے کہ دورِ جدید میں بھی کیا مشکلات القرآن کی کوئی انواع وجود میں آئیں؟ یعنی کوئی ایسی چیزیں وجود میں آئی ہیں جن کی وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن پاک پر ہونے والے اشکالات، یا قرآن پاک کی آیتوں میں خفا میں اضافہ ہو گیا ہو۔ تو دورِ جدید کے حوالے سے تو ان کتابوں میں مواد نہ ہونے کے برابر ہے۔
اِن وجوہات کی بنیاد پر میں نے سوچا کہ ایک ایسا مقالہ لکھا جائے جس میں: ایک تو اس علم کی مفصل تاریخ ہو۔ دوسرا، جو اشکالات قرآن پاک پر ہوتے ہیں، اس کی کتنی انواع بن سکتی ہیں، یا ابھی تک کتنی انواع وجود میں آئی ہیں، تو اس کا امثلہ کے ساتھ اس میں ذکر ہو، اور تیسرا، دورِ جدید میں مشکلات القرآن کی کون کون سی انواع ہیں، تو اس کا بھی اس میں ذکر ہو۔ تو گویا کہ اس بنیاد پر اس مقالے کو منتخب کیا گیا کہ اِن اِن جہات پر کام کرنے کی ضرورت تھی۔
حواشی
- ابو عبد اللہ بن مسلم بن قتیدہ الدینوری، تاویل مشکل القرآن، دارالکتب العلمیۃ، بیروت 1435ھ
- محمود بن الحسن النیسابوری، وضع البرہان فی مشکلات القرآن، دارالقلم، دمشق 1410ھ
- عز الدین عبد العزیز بن عبد السلام، فوائد فی مشکل القرآن، دارلشروق، جدہ 1402ھ
- احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیۃ، تفسیر آیات اشکلت، مکتبہ الرشد، ریاض 1417ھ
- محمد انور شاہ الکاشمیری، مشکلات القرآن، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان 1414ھ
- عبد اللہ بن حمد المنصور، مشکل القرآن الکریم، دار ابن جوزی، بیروت 1426ھ
- عبد الرحمٰن بن سند الرحیلی کا پی ایچ ڈی مقالہ بہ عنوان ’’المؤلفات فی مشکل القرآن و مناہجھا‘‘۔
- المشکل و اثرہ فی فہم منہج القرآن، ریاض مفضی، یہ جامعہ اٰل البیت اردون سے ماجستیر کا مقالہ ہے۔
(جاری)
