عالمِ اسلام کے لیے نئے امکانات — پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔

سب سے پہلے میں آپ تمام صحافی دوستوں کو عید مبارک کہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی رمضان شریف کی عبادات کو قبول فرمائیں۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے اس پریس کانفرنس کے ذریعے سے مجھے موقع دیا اور ایک طویل عرصے کے بعد ہم ایک بار پھر ڈیرہ اسماعیل خان میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔ یقیناً‌ یہاں جو سب سے بڑا حساس معاملہ ہے وہ یہاں کے امن و امان کا ہے۔ ٹانک ہو، وزیرستان ہو، ڈیرہ اسماعیل خان ہو، لکی مروت ہو، بنوں ہو۔ دیہاتی علاقے جو ہیں وہ خالی ہو رہے ہیں اور آباد لوگ وہاں سے ہجرت کر رہے ہیں، اس بات کے لیے کہ ان کی زندگیاں محفوظ نہیں، اور حکومتی رِٹ کہیں پر بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔

پھر جہاں حکومت اس ساری صورتحال سے نمٹنے میں کامیاب نظر نہیں آ رہی، وہاں پاکستان مشرقی سرحد پر بھی اور مغربی سرحد پر بھی جنگ میں الجھ گیا ہے، جس سے ملک محصور ہو گیا ہے۔ چین بھی پاکستان سے مطمئن نہیں ہے، ہم نے چین کی پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کو بہت نقصان پہنچایا ہے، اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا ہے۔ ایران بھی اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ پاکستان کے کسی کام آ سکے یا ہمارے ساتھ کوئی تجارت کر سکے، معاملات کر سکے۔

اس لیے میری نظر میں اب یہ کسی ایک پارٹی کا مسئلہ نہیں رہا کہ ہم صرف تنقید کر کے خود کو ذمہ داری سے عہدہ برآ کر سکیں، کسی ایک پارٹی کو اس کا ہم ذمہ دار ٹھہرا سکیں۔ یہ قومی مسئلہ ہے۔ اور ہم یہ تجویز دے چکے ہیں پارلیمنٹ کے فلور پہ، کہ ایک پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس ہو، جس میں

  • عوام کے اس نمائندہ ادارے کو حالات سے آگاہ کیا جائے۔
  • پاکستان کہاں کھڑا ہے، یہ واضح کیا جائے۔
  • اور پھر قومی مشاورت کے ساتھ اس مشکل سے نکلنے کے لیے راہ نکالی جائے۔

پاکستان اس وقت بمقابلہ ہندوستان کے، پاکستان بمقابلہ افغانستان کے، پاکستان چائنہ تعلقات، پاکستان امریکہ تعلقات، اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کہاں کھڑا ہے، فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کہاں کھڑا ہے، عرب ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں، آج عرب کہاں کھڑے ہیں، ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اس سارے بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال میں ہمیں اپنے ملک کی پوزیشن کو واضح کرنا ہے۔ ہم بڑے مبہم حالات میں جا رہے ہیں اور کوئی واضح پالیسی اختیار کرنے کی ہم پوزیشن میں نہیں ہیں۔

سو، وہاں بھی ہماری سوچ یہ ہے کہ چاہے عرب دنیا کی ایک صدی کی ماضی ہو یا پچاس سال کی ماضی ہو، جس طرح انہوں نے اپنی سیاست، اپنی معیشت، اپنی سفارت کا انحصار امریکہ اور مغربی دنیا پر کیا۔ اور جس طرح تحفظ کے نام پر اور تحفظ کے امکان پر امریکہ کو اور یورپ کو ہم نے اڈے دیے، سمندریں اُن کے حوالے کر دیں، ہر طرف ان کے بحری بیڑے کھڑے ہیں، اس خیال کے ساتھ کہ یہ اِس خطے کے لیے امن اور تحفظ کا سبب بنیں گے۔ آج وہ وہاں کی بد اَمنی کا ذریعہ بن گئے ہیں۔

اسلامی دنیا نے کیا کمایا ہے؟ افغانستان میں پچاس پچپن سالوں سے مسلسل جنگ اور جنگ، اور بین الاقوامی قوتیں افغانستان میں دخیل۔ عراق کا کیا بنا؟ لیبیا کا کیا بنا؟ آج ایران کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ ایک ایک کو تنہا کر کے اور ان کے مقابلے میں مسلم دنیا کو لا کر، آج جن نتائج کے ساتھ ہمیں لا کھڑا کیا جا رہا ہے، اس پر اسلامی برادری کو ازسرِنو سوچنا چاہیے۔ اسلامی کانفرنس ہونی چاہیے اور ماضی کے بین الاقوامی تعلقات پر نظرثانی کرنی چاہیے، ہمیں ایک اسلامی بلاک کی طرف جانا چاہیے، اسلامی دنیا کے درمیان سیاسی تعلقات، اسلامی دنیا کے درمیان معاشی تعلقات، تجارتی روابط، اور اسلامی دنیا کے درمیان دفاعی معاہدات، اس کی طرف ہمیں جانا چاہیے۔

ہماری جو باہمی تقسیم ہے، کم از کم آج اسلامی دنیا کی سمجھ میں آ رہا ہے، کیونکہ جب سے ایران کے ساتھ جنگ شروع ہوئی ہے، عرب دنیا میں، وہاں پر امریکیوں کے یا یورپ کے اڈوں پر حملوں کے باوجود عرب دنیا، اسلامی دنیا تحمل مظاہرہ کر رہی ہے، وہ جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتی، وہ اس کو جذباتی طور پر نہیں لے رہے۔ یہ بین الاقوامی سطح پر اسلامی دنیا کی سوچ میں ایک تبدیلی ہے۔ اور یہ بنیاد بننی چاہیے کہ ہم اگلے مستقبل کے لیے اسلامی دنیا کے حوالے سے سوچیں، مسلم برادری کے حوالے سے سوچیں، اسلامی دنیا کے مفادات کے حوالے سے سوچیں، اور اپنے مفادات میں ہم اشتراک پیدا کر کے اس کے لیے مشترک حکمتِ عملی اپنائیں۔

یہ اس وقت ہمارا ایک پیغام ہے، اسلامی دنیا کے لیے بھی، پاکستان کے لیے بھی، پاکستان کی ریاست کے لیے بھی، اور یہ کہ حالات کے تقاضے کیا ہیں، انہیں سمجھنا چاہیے، بند کمروں میں فیصلے کرنا، عوام کا بے خبر رہنا، عوام میں عدمِ اطمینان رہنا، یہ شاید اچھی بات نہ ہو۔ ہمیں ہر سطح پر عوام کو اعتماد میں رکھنا ہو گا۔

سوال

ماضی میں بھٹو کے دور میں، شاہ فیصل کے دور میں، ایک یونٹی کا اتحاد کیا گیا تھا، سربراہ کانفرنس طلب کی گئی تھی، اس کے نتائج ہم نے دیکھے ہیں کہ پھر ان کو چن چن کر علیحدہ علیحدہ کر کے نشانِ عبرت بنایا گیا۔ تو کیا اب ہم متحمل ہو سکتے ہیں دوبارہ سب کو یکجا کرنے کے؟

جواب

میرے خیال میں اب صورتحال وہ نہیں ہے، اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لیے یہ سارا کچھ کر رہا ہے۔ بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کے لیے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کے دفاع کے لیے بھی نہیں کر رہا۔ اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی حاصل نہیں ہے۔ بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا، اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے۔ یہ خود امریکیوں کی اور امریکی عوام کی نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

سو، اس وقت پوری دنیا ازسرنو سوچ رہی ہے۔ اور ظاہر ہے سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے ہی کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گے۔ سو اس وقت پوری دنیا، امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک، یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہے۔ اور ہمیں خود بیٹھ کر خوداعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہو گا۔

سوال

مولانا صاحب، ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ایران، اسرائیل اور امریکی جنگ میں پاکستان کا جو کردار ہے وہ غیر واضح ہے۔ حالانکہ ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ تو اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے، کیا واقعی پاکستان کوئی ثالثی کا کردار ادا کرنے جا رہا ہے؟

جواب

یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے؟ اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا، خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو، اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے، اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کونسا راستہ ہے؟

سوال

مولانا صاحب، یہ افغانستان کے حوالے سے دو متضاد بیانیے پاکستان … کے پی گورنمنٹ ایک طرف کہہ رہی ہوتی ہے، وفاقی حکومت کے بیانات اور ہوتے ہیں … یہ ستر سالوں سے افغانستان پالیسی کیوں نہیں بنا سکے واضح طور پر، کیا مشورہ دیں گے، کیا اس حوالے سے آپ کہیں گے؟

جواب

جب تک ہمارے دماغ سے یہ ’’کیڑا‘‘ نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیرِ نگیں رکھنا ہے، اور افغانستان میں کوئی حکومت ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی، اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ ہمیں ایک آزاد افغانستان، ایک صاحبِ استقلال افغانستان، ایک خودمختار افغانستان، اس پر توجہ رکھنی چاہیے۔ اور ماضی کی جو ہماری اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستر سالہ یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں، یہ مستقل ایک سوال ہے۔ یہ [کہنا] کافی نہیں ہے: ’’ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے‘‘۔ مسئلہ یہ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے؟ کیا ساری غلطیاں ستر سال سے انہی کی طرف ہیں؟ اور کیا ہماری طرف بالکل کوئی غلطی نہیں ہے؟ یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے۔

افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے۔ افغانستان صرف وہاں امارتِ اسلامیہ کا نام نہیں ہے۔ افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے۔ افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں، اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے۔ ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے۔ یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج اور رجیم چینج کی باتیں، یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے۔ ظاہر شاہ کے خلاف ہم نے انقلاب کی حمایت کی۔ پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا، پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد — اس وقت امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے۔ پھر وہی امریکہ تھا، اس نے طرف تبدیل کر دیا، تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے۔ آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کے مطابق۔

یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی۔ اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتا پاکستان ٹھیک جا رہا ہے۔ اس پہ غور کرنا چاہیے۔ یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہیں۔ اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے۔ وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کا شکار ہیں، اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔ پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔

سوال

مولانا صاحب، اسلامی دنیا کے حوالے سے آپ کا اپنا ذاتی اثر و رسوخ بھی بہت زیادہ ہے، عرب ممالک میں، اسلامی دنیا میں، تو کیا ان کو یکجا کرنے کے حوالے سے آپ کوئی سفارتکاری …

جواب

دیکھیے، سفارتکاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے۔ ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں، اس میں مدد دے سکتے ہیں۔ عوام ہم سب مسلمان ہیں، ہم سب بھائی بھائی ہیں، ہم ایک دوسرے پہ ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں۔ بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں۔ اپنے ملک کے عوام کی خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔

سوال

مولانا صاحب، یہ جو ساری صورتحال ہے جس کی طرف آپ نے بریف کیا ہے، آج وزیر اعظم صاحب بھی، جو اتحادی ایک پارٹی ہے پاکستان پیپلز پارٹی … ان کو اعتماد میں لیا ہے شاید، اور کراچی کا انہوں نے وزٹ بھی کیا ہے، شاید ایم کیو ایم کو بھی۔ آپ سمجھتے ہیں کہ as a whole اپوزیشن کو ساتھ شامل نہ کرنا، آپ اپوزیشن میں ہی بیٹھے ہوئے ہیں، تو کیا یہ کسی خاص پالیسی کا حصہ ہے، یا امریکہ کی طرف سے بھی کہ اس معاملے کو زیادہ ہوا نہ دی جائے اور معاملات جو ہیں وہ اندرون خانہ محدود کیے جائیں، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس میں پس منظر کیا ہے؟

جواب

دیکھیے، پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ نون ہو یا ایم کیو ایم، سب اس بات کے دعوے دار ہیں کہ ہماری حکومت ہے اور مشترکہ حکومت ہے۔ گو کہ بیچ میں کچھ کبھی کبھی تحفظات بھی آجاتے ہیں، لیکن وہ اس کو اپنی ایک مشترکہ حکومت کہتے ہیں۔ کیا ضرورت ہے کہ آج فوجی قیادت کی موجودگی میں دونوں پارٹیوں کی قیادت کی باہمی نشست کی ضرورت پڑ گئی؟ میں سوچتا ہوں، یہ کافی نہیں ہے۔ یہ پھر اور اشارات دے رہی ہے، منفی اشارات کی طرف زیادہ شاید معاملات جائیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔ اور جس طرح وزیراعظم نے بھی امید دلائی تھی ہمیں کہ میں اس پر غور کر کے پھر فیصلہ کرتا ہوں، لیکن ابھی تک وہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں آئے۔ اس پر جلدی فیصلہ ہمیں کرنا چاہیے۔

سوالات

مولانا صاحب، یہ فرمائیے گا کہ پاک افغان تنازع کے حل کے لیے آپ مذاکرات کے حامی نظر آتے ہیں، جبکہ ایسی جماعتیں جنہیں ریاست کالعدم قرار دے چکی ہے، خصوصاً‌ میں ٹی ٹی پی کے حوالے سے بات کروں گا، یا ان سے بھی مذاکرات ہونے چاہئیں؟

جواب

دیکھیے، ان سے مذاکرات ہونے یا نہ ہونے کے سوال سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ افغان پاکستان تعلقات کے بیچ میں حائل چیز کیا ہے؟ تو ہم اس کو براہ راست مذاکرات کا حصہ بنائیں یا نہ بنائیں، لیکن اس کو ایڈریس کرنا پڑے گا، اس کو ایڈریس کیے بغیر افغانستان پاکستان کے تعلقات معمول پر آنے میں شاید دقتیں ہوں گی۔ تو، اب اس کو کس لیول پر ایڈریس کیا جاتا ہے، وہ اپنی جگہ پر ایک سوال ہے۔

سوال

سمارٹ لاک ڈاؤن …

جواب

دیکھیے بات یہ ہے کہ یہ جو اس وقت جنگ ہے اور جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، اس نے خود امریکہ کو بھی اور پوری دنیا کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا کے تیل کی رسد کا راستہ ہے، جو بری طرح متاثر ہوا ہے۔ تضاد اس کو کہتے ہیں کہ کبھی تو امریکہ انڈیا کے ٹیرف میں اس بات پر اضافہ کرتا ہے کہ تم روس سے تیل کیوں لے رہے ہو؟ اور اگر تم روس کے خریدار بنتے ہو تو پھر آپ پر ٹیکس بڑھائیں گے، ٹیرف میں اضافہ کریں گے۔ اور یا وہ دن آ گئے ہیں کہ امریکہ خود انڈیا سے کہہ رہا ہے کہ آپ روس سے تیل لیں۔ اسی سے اندازہ لگائیں کہ کس قدر کمزوریاں آگئی ہیں عالمی سطح پہ۔

سوال

مولانا، کیا امریکی اڈوں کے ہوتے ہوئے اتحادِ امت ممکن ہے؟ دوسرا سوال میرا یہ ہے، آپ نے اسلامی بلاک کی بات کی ہے، کیا اس میں روس اور چین کے ساتھ بھی بلاک بننا چاہیے؟

جواب

دیکھیے، اس وقت دنیا میں علاقائی بلاک بنتے جا رہے ہیں۔ میں تو ایشیاٹک فیڈریشن کا بھی قائل ہوں۔ اور تین سو سال قبل جب معیشت کا محور ایشیا تھا، اور پھر وہ [نوآبادیاتی] کالونی بنا اور پوری ہماری معیشت پر مغرب نے اور یورپ نے قبضہ کیا۔ آج پھر دنیا کی معیشت پلٹا کھا رہی ہے اور معیشت کا محور ایک بار پھر ایشیا بنتا جا رہا ہے، جس کی قیادت بہرحال چائنہ کر رہا ہے۔ تو چائنہ کے ساتھ تعلقات، اور ایشیا کی وحدت اُس کی قیادت میں، آنے والے وقت کا تقاضا ہے۔ اور ہمیں اس حوالے سے علاقائی تعلقات پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ 

ہم عالمی قوتوں کے پیروکار بن کر علاقے میں تنہا ہو جاتے ہیں۔ آج ہم افغانستان کے حوالے سے بھی تنہا، انڈیا کے حوالے سے بھی تنہا، ایران کے حوالے سے بھی ہم تنہا ہو گئے، چائنہ کے حوالے سے بھی ہم تنہا ہو گئے، اور ایشیا کے جو پیچھے ممالک ہیں، وہ انڈیا کے زیراثر ہیں، اور وسطی ایشیا کے جو ممالک ہیں، وہ پھر افغانستان کے زیر اثر ہیں۔ ہمارے زیرِ اثر کون ہے، ہم کس کے ساتھ ڈیل کریں گے، کس کے ساتھ بات کریں گے؟ ہمیں اس چیز سے نکلنا پڑے گا، اور بڑی قومی سطح کی سوچ ہمیں پیدا کرنی پڑے گی۔ کسی ایک پارٹی، یا صرف حکمران سوچ، وہ شاید مستقل حل کے لیے کافی نہ ہو۔

سوال

مولانا صاحب، کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اس وقت پاکستان دنیا کے امن کی بات کر رہا ہے، یا دنیا میں امن کی بات کر رہا ہے …

جواب

ہندوستان جو بات کرتا ہے، ریاست کی سطح پہ، اٹھتر سال اس نے کشمیر میں دہشت گردی کی، ریاستی دہشت گردی، کشمیری عوام ان کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے، اور ابھی تک ہیں۔ اور پھر انڈیا کے آئین کے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ان کا خیال یہ تھا کہ یہاں ہندو آبادی آئے گی، یہاں پر ایک ڈیموگراف چینج آئے گا۔ لیکن آپ نے دیکھا کہ سب کے باوجود … تو مودی کو تاریخی شکست ہوئی وہاں پر اور کشمیری عوام نے اس کو مسترد کر دیا۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ پاکستان مشکل میں ہے۔ اور پاکستان جس دہشت گردی کا شکار ہے، تو پاکستان کا تو خود موقف یہ ہے کہ ہماری مشکل کے پشت پہ انڈیا بھی ہے۔ لہٰذا، نہ بنگلہ دیش انڈیا سے مطمئن ہے، نہ پاکستان مطمئن ہے، نہ خطے کے دوسرے ممالک مطمئن ہیں، چائنہ جیسا بڑا ملک بھی انڈین جارحیت سے محفوظ نہیں ہے۔ 

تو ہندوستان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور اپنے شیشے میں اس کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے، دوسروں کی طرف کیچڑ پھینکنا، یہ شاید انہیں زیب نہیں دیتا۔ وہاں پر مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی ہے، تیس کروڑ سے وہاں مسلمان بڑھ گیا ہے، بہت بڑا رول ہے وہاں مسلمان برادری کا۔ اور نریندر مودی جو ہے وہ اسلام اور مسلمان دشمنی میں حد درجہ نفرت کی فرقہ واریت کر رہا ہے، اور نفرت کی فرقہ واری پہ اس کی سیاست کھڑی ہے۔ تو ایک الیکشن میں اس کو سزا ملی ہے۔ اگلے الیکشن کی طرف وہ کیسے جائے گا، یہ ہندوستانی عوام کا مسئلہ ہے۔ لیکن بہرحال وہ اپنا دہشت گردانہ جو تعارف ہے اس کا خطے میں، اس کو ختم کرے، تاکہ خطے کے اندر ایک پر امن ماحول پیدا ہو۔ آج انڈیا کی پالیسیوں کی وجہ سے ’’سارک‘‘ غیر مؤثر ہو گیا ہے۔ ’’آسیان‘‘ غیر موثر ہو گیا ہے۔ اور ہمیں ازسرنو چین کے بشمول ایک ایشیاٹک فیڈریشن کی طرف جانا ہو گا، تو اس کے لیے زمین تو ہموار کرنی ہو گی۔ اور اس میں ظاہر ہے کہ پاکستان اور انڈیا کا بہت بڑا رول ہو گا۔

سوال

… مولانا صاحب، ہماری فارن پالیسی ہے کیا؟ اور اس میں کیا تبدیلی تجویز کریں گے آپ؟

جواب

ہماری کوئی فارن پالیسی ہے ہی نہیں۔ ہماری GHQ پالیسی ہے بس۔

سوال

ہماری حکومت کو کیسے دیکھ رہے ہیں کہ ان کی کارکردگی…

جواب

یہاں کوئی حکومت ہے ہی نہیں۔ بس ایک کھلونا ہے، چل رہا ہے، ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی نہیں چاہتے، ہم فوج کے ساتھ بھی کھڑے ہیں، یہ متضاد قسم کی سوچیں نہیں چلتیں، واضح لائن کی طرف ہمیں جانا پڑے گا۔

سوال

مولانا صاحب، اس وقت سمارٹ لاک ڈاؤن کی بات تو کی جا رہی ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن بھی کیا جا سکتا ہے۔ تو اس وقت جو صورتحال چل رہی ہے عالمی سطح پر مہنگائی کے باعث، پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئے دن بڑھ رہی ہیں، تو اس سے عوام کی کمر جو ہے وہ ویسے ہی ٹوٹ چکی ہے، اگر مکمل لاک ڈاون ہو جائے گا تو کیا عوام گھروں میں محصور نہیں ہو جائے گی مکمل طور پر؟

جواب

دیکھیے، جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، اس موجودہ سمارٹ لاک ڈاؤن سے اس کا کوئی زیادہ تعلق نہیں ہے۔ ایک دہائی سے زیادہ ہو گیا ہے ہماری معیشت بیٹھ گئی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت کہاں چلی گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں آپ افغانستان کو دیکھیں، آپ ایران کو دیکھیں، آپ انڈیا کو دیکھیں، آپ نیپال کو دیکھیں، آپ بنگلہ دیش کو دیکھیں، پورے خطے میں صرف پاکستانی معیشت ہے جو نیچے جا رہی ہے، اور یہ کوئی آج اس نئی صورتحال کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ ہماری مسلسل غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ بہت شکریہ۔

facebook.com/share/v/1G7LgDNBS4

حالات و مشاہدات

(الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۴

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۰)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۱)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۴)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

صحیح مسلم کا قدیم ترین نسخہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۱)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۴)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۳)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت خولہ بنت الازور کندی اسدی رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۱)
محمد سراج اسرار

مسئلہ تشبہ امام ابن تیمیہ کی نظر میں
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

زندگی کی قدر اور وقت کی تقسیمِ کار
مولانا فضل سبحان
مولانا عبد المتین

مذہبی رواداری اور غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۳)
پروفیسر خورشید احمد

مفتی طارق مسعود اور شجاع الدین شیخ کا مکالمہ
شجاع الدین شیخ
مفتی طارق مسعود

اسقاطِ حمل اور حقوقِ انسانی کا قانون
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

On the Islamic Status of Pakistan`s Constitution
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عالمِ اسلام کے لیے نئے امکانات — پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
مولانا فضل الرحمٰن

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ اور خطہ میں اس کے ممکنہ اثرات
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

رویتِ ہلال کے متعلق پانچ قانونی سوالات
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

افغانستان اور پاکستان کے علماء کی طرف سے قیامِ امن کیلئے مشترکہ بیان
مولانا حافظ نصر الدین خان عمر
پاکستان شریعت کونسل

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter