صحیح مسلم کا قدیم ترین نسخہ

امام مسلم بن حجاج نیشاپوری (متوفی: ۲۶۱ھ) کی کتاب صحیح مسلم کا شمار سنتِ نبوی کی جلیل القدر کتابوں میں ہوتا ہے۔ یہ اہلِ علم کے نزدیک امام محمد بن اسماعیل بخاری کی صحیح بخاری کے بعد حدیث کی معتمد ترین کتاب سمجھی جاتی ہے۔ منصۂ شہود پر آنے کے بعد سے ہی اس پر وسیع علمی کام ہوا ہے۔ علما نے اس کی روایت، کتابت، سماع، ضبط و شرح کا اہتمام کیا، صدیوں نسل در نسل یہ کتاب علمی حلقوں میں پڑھی جاتی رہی، یہاں تک کہ حدیث کے اہم مصادر میں شمار ہونے لگی اور فقہا ومحدثین نے استنباط واستدلال میں اس پر اعتماد کا اظہار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ صحیح مسلم کے مخطوطات، روایات، شروح اور اس کتاب کے حوالے سے کی گئی قدیم وجدید تحقیقات کثرت سے موجود ہیں۔ اس سلسلے کی آخری کڑی راقم سطور کی شرح ’’معالم المنہاج فی شرح صحیح مسلم بن حجاج‘‘ ہے۔

صحیح مسلم کی اسی علمی قدر و منزلت کو پیش نظر رکھتے ہوے، اس کے قدیم ترین قلمی نسخوں کی تحقیق بھی سنتِ نبوی کی اہم علمی خدمت گردانی جاتی ہے؛ کیوں کہ اسی سے متن کتاب کی تصدیق ہوتی ہے اور علما کے مابین اس کی منتقلی اور گردش کے مراحل کا علم ہوتا ہے، نیز ایسی تحقیقات سے اسلامی تہذیب کی علمی زندگی کے متعدد پہلو آشکار ہوتے ہیں۔ اسی ضمن میں صحیح مسلم کے ایک عمدہ مخطوط کے ایک حصے کی اہمیت کا ہمیں پتا چلتا ہے۔ یہ مخطوط حافظ ابوبکر دقاق بغدادی (متوفی: ۴۸۹ھ) کا لکھا ہوا ہے۔ آپ ابن خاضبہ کے نام سے مشہور تھے۔ اس مخطوط کا شمار صحیح مسلم کے دست یاب قدیم ترین خطی نسخوں میں ہوتا ہے۔ ہمارے بھائی، جلیل القدر عالم و محقق ڈاکٹر عبد اللہ بن یحییٰ العوبل کو اس مخطوط کی دقیق علمی تحقیق کا شرف حاصل ہوا ہے۔ آپ نے مستقل طور پر اس مخطوط کا ممتاز تحقیقی تعارف وتجزیہ پیش کیا ہے، اس کی علمی قدروقیمت کا واضح کیا ہے اور صحیح مسلم کے نقلِ متن کی تاریخ میں اس کی عظمت کو اجاگر کیا ہے۔ معاصر علمی کاوشوں میں ان کی یہ تحقیق، حدیثی تراث کے احیاء اور دقیق علمی شکل میں اس کے اظہار کی اہم مثال ہے۔ آپ مقدمے کے آغاز میں فرماتے ہیں: ’’ یہ اسلام کے عظیم دواوین ومجموعات میں سے ایک اعلیٰ مرتبت مجموعے کا حصہ ہے۔ ائمہ ٔ ہدایت وعالی مقام علما کے نزدیک حدیث کی صحیح کتابوں میں اس کا دوسرا درجہ ہے‘‘۔

حدیث کے قدیم مخطوطات، تاریخ متون اور ان کی زمانہ وار گردش کے اہم شواہد ہیں؛ کیوں کہ اولین (قلمی) نسخے عموماً‌ مولف کے قریبی زمانے میں لکھے گئے ہوتے ہیں، اسی بنا پر تحقیق وضبط متون میں ان نسخوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ نسخے کا زمانۂ کتابت مولف کے زمانے سے جتنا قریب ہوگا، اتنی ہی اس نسخے کی قدر وقیمت زیادہ ہوگی، کیوں کہ ایسے نسخوں میں، زمانۂ مابعد میں لکھےگئے نسخوں کی بہ نسبت، غلطی کا احتمال کم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتبِ تراث کی تحقیق کرتے ہوے محققین کی کوشش رہتی ہے کہ قدیم ترین دست یاب نسخوں کی طرف رجوع کیا جاے، اور ان کا موازنہ دیگر نسخوں کے ساتھ کیا جاے، تاکہ مولف کے لکھے ہوے متن تک بقدرِ امکان رسائی ممکن ہو سکے۔ ابن خاضبہ کا لکھا ہوا مخطوط ایسے ہی اہم قلمی نسخوں میں شمار ہوتا ہے۔ کتاب کا یہ حصہ پانچویں صدی ہجری کا لکھا ہوا ہے، جو زمانۂ مولف سے نسبتاً‌ قریب ہے۔ یہ حصہ کتاب الصلاۃ سے شروع ہوتا ہے اور کتاب الجنائز پر ختم ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ مکمل کتاب نہیں ہے، اس کے باوجود علمی واہم تاریخی خصوصیات کی بنا پر اس مخطوط کی قدروقیمت بہت زیادہ ہے۔ محقق نے مقدمے میں نہایت باریک بینی سے اس نسخے کا تعارف پیش کیا ہے اور صحیح مسلم کے دیگر خطی نسخوں میں اس کی عظمت کو اجاگر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نسخے کا شمار کتاب کے قدیم ترین مخطوطات میں ہوتا ہے۔ اس کا تعارف بیان کرتے ہوے آپ فرماتے ہیں: ’’صحیح مسلم کا یہ سب سے قدیم اور معروف قلمی نسخہ ہے‘‘۔ اس بیان سے حدیثی وتحقیقی میدان میں اس مخطوط کی جلالت قدر کھل کر سامنے آجاتی ہے۔

اس سے قبل محققین کو، نسخے پر اطلاع کے باوجود، اس کے کاتب کا علم نہ ہو سکا، جس کی وجہ سے یہ نسخہ طویل عرصے تک غیر منسوب چلا آرہا تھا۔ ڈاکٹر عبد اللہ العوبل نے اس مخطوط پر دقیق علمی تحقیق کی، خط (لکھائی) کا تجزیہ کیا، سوانح (تراجم) کی کتابوں میں ابن خاضبہ کے خط کی جو خصوصیات لکھی ہوئی تھیں، ان کے ساتھ اس کا موازنہ کیا، اسی طرح مخطوط سے جڑے ہوے علمی وتاریخی قرائن کو دیکھ کر یہ اہم نتیجہ مستنبط کیا کہ اس مخطوط کے کاتب حافظ ابوبکر دقاق بغدادی ہیں، جو ابن خاضبہ کے نام سے مشہور ہیں۔ محقق مقدمے میں فرماتے ہیں:

کان اسم ناسخہا متواریا عن الانظار حتی یسر اللہ بمنہ وکرمہ تکشیف ہذا الامر ومعرفتہ۔
(اس مخطوط کے کاتب کا نام نظروں سے اوجھل رہا۔ حتاکہ اللہ تعالیٰ کے کرم واحسان کے سبب اس کے نقل نویس کی پہچان ممکن ہوئی اور یہ معما حل ہوا)

ابن خاضبہ پانچویں صدی ہجری میں علمِ حدیث سے اشتغال رکھنے والے عالم تھے۔ آپ تالیفات حدیث کی کتابت، سماع اور روایت حدیث میں معروف تھے۔ مقدمے میں محقق کے بیان کے مطابق، آپ کا شمار مشہور محدثین اور حدیث وکتب حدیث کے کاتبین میں ہوتا تھا۔ بلاشبہ، ایک محدث کے ہاتھوں نسخے کا لکھا جانا، مخطوط کی علمی قیمت بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے؛ کیوں کہ محدثین حدیثی متون کے ضبط ومراجعت کا سب سے بڑھ کر خیال رکھتے تھے اور لکھی گئی احادیث کا معتمد نسخوں (اصول) کے ساتھ شدید اہتمام سے موازنہ کرتے تھے۔اسی بنا پر، جو نسخے علما لکھتے ہیں یا جو نسخے ان کی نگرانی میں لکھے جاتے ہیں، جاہل کاتبوں کے برخلاف، اکثر صحت متن کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔

اس مخطوط کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں متعدد ’’سماعاتِ حدیث‘‘ کا ذکر ہے۔ اس سے مخطوط کی انفرادی حیثیت نمایاں ہوتی ہے۔ محدثین کی اصطلاح میں ’’سماع‘‘ کہتے ہیں: ’’طالب علم شیخ کے سامنے بیٹھ کر کتاب پڑھے یا شیخ کی موجود گی میں کتاب کی قراءت کی جاے اور طالب علم سنے، پھر روایت اور سننے کے اس عمل کو بطور ثبوت مخطوط میں لکھ دیا جاے‘‘۔ یہ طریقہ، اسلامی کتبِ تراث کی گردش و پھیلاؤ کا اہم ذریعہ تھا۔ طلبۂ کرام، علما سے کتابوں کی سماعت وقراءت کے لیے مجالسِ علم میں جمع ہوتے، پھر اپنی حاضری کو سامنے رکھے نسخوں میں درج کر دیتے۔ یہ سماعات اہم علمی دستاویزات ہیں، جس سے محققین کو علما کے مابین کتابوں کی منتقلی اور گردش کی تاریخ کا علم ہوتا ہے۔

محقق مقدمے میں اسی خصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرماتے ہیں: اس نسخے میں کئی بیش قیمت سماعات درج ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نسخہ علما کے درمیان منتقل ہوتا رہا اور مجالس حدیث میں پڑھا جاتا رہا۔ ان سماعات سے ہمیں اسلامی تہذیب میں موجود علمی زندگی کے ایک اہم پہلو کا پتا چلتا ہے کہ کتابوں کی گردش واشاعت قراءت، سماع اور تصدیق وثبوت کے ساے میں پورے نظم وضبط کے ساتھ عمل میں آتی تھی۔ انھی سماعات کی بدولت ان بعض علما کے ناموں سے بھی واقفیت ہو جاتی ہے، جو قراءتِ کتاب اور سماع میں شریک رہے اور نسل در نسل نسخے کی منتقلی کا طریق کار بھی جانا جا سکتا ہے۔

یہ ’’سماعات‘‘ مخطوط کے صرف تاریخی پہلو کی طرف اشارہ نہیں کرتے؛ بلکہ متنی خدمت بھی سرانجام دیتے ہیں؛ کیوں کہ کبھی کبھار یہ مخطوط میں موجود بعض متنی مظاہر کی تشریح میں مدد دیتے ہیں اور متن کی تصحیح اور نظر ثانی کے مختلف مراحل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے محققین، تحقیق مخطوطات کے دوران میں ’’سماعات‘‘ و ’’تقییدات‘‘ کو پڑھنے کا خاص طور سے اہتمام کرتے ہیں، کیوں کہ یہ تاریخِ نص کا اہم جزو شمار ہوتے ہیں۔

دوسری جانب صحیح مسلم کے متن کی تحقیق میں مندرجہ بالا مخطوط اہم مصدر شمار ہوتا ہے؛ کیوں کہ اس نسخے کا تقابل دوسرے نسخوں کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ نسخوں میں اختلاف کے وقت محقق، نص صحیح تک پہنچنے کے لیے زمانی لحاظ سے قدیم ترین اور زیادہ قابلِ اعتماد نسخے کی عبارت کو ترجیح دیتا ہے، اس اعتبار سے بھی نسخۂ ابن خاضبہ کی اہمیت نکھر کر سامنے آتی ہے، کیوں کہ یہ صحیح مسلم کا قدیم ترین نسخہ ہے، مزید براں، یہ ایک معروف محدث کا لکھا ہوا ہے۔ محققِ کتاب نے مقدمے میں اسی چیز کو واضح کرتے ہوے کہا ہے کہ اس نسخے کی اہمیت صرف اسی میں پوشیدہ نہیں کہ یہ زمانی لحاظ سے قدیم ہے، بلکہ اس میں ایسے شواہد بھی پاے جاتے ہیں، جس سے اس قلمی نسخے کی علما کے درمیان منتقلی کا علم ہوتا ہے۔

ڈاکٹر عبد اللہ العوبل کی تحقیق سے دنیاے اسلام کی علمی تاریخ کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے، کہ علما مجالسِ سماع میں کیسے کتابوں کا تبادلہ کرتے تھے اور کیسے قلمی نسخوں میں اس کی تصدیق ثبت کی جاتی تھی؟ اسی طرح اس تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ آلاتِ طباعت کی ایجاد سے صدیوں قبل مخطوطات کا علمی تراث کی حفاظت اور نسل در نسل اس کی منتقلی میں کیا کردار تھا؟

ہمارے نیک، صالح وصاحبِ علم بھائی ڈاکٹر عبد اللہ بن یحییٰ العوبل کا اس مخطوط کی قدروقیمت کے اظہار اور دقیق علمی تعارف میں بڑا کردار ہے۔ طویل عرصے سے یہ غیر منسوب چلا آرہا تھا، آپ کی کوششوں سے معلوم ہوا کہ اس کے کاتب ابن خاضبہ ہیں۔ اس کی تحریری وعلمی خصوصیات کا عمیق علمی جائزہ پیش کیا، سماعات وتقییدات کو پڑھا، جس سے صحیح مسلم کے دیگر نسخوں کے درمیان اس نسخے کی عظمت سامنے آئی۔ ہم صحیح مسلم کی عظیم علمی خدمت پر خلوص دل سے ڈاکٹر عبد اللہ بن یحییٰ العوبل کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ایسے نفیس نسخے کے تعارف اور ان کی مبارک کوششوں بدولت محققین و طلبۂ علم کے لیے اس کی ارزانی پر ڈاکٹر صاحب کے مشکور ہیں۔ یہ بھی سنتِ نبوی علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام اور تراثِ مخطوط کی خدمت کی ایک شکل ہے۔

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۴

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۰)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۱)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۴)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

صحیح مسلم کا قدیم ترین نسخہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۱)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۴)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۳)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت خولہ بنت الازور کندی اسدی رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۱)
محمد سراج اسرار

مسئلہ تشبہ امام ابن تیمیہ کی نظر میں
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

زندگی کی قدر اور وقت کی تقسیمِ کار
مولانا فضل سبحان
مولانا عبد المتین

مذہبی رواداری اور غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۳)
پروفیسر خورشید احمد

مفتی طارق مسعود اور شجاع الدین شیخ کا مکالمہ
شجاع الدین شیخ
مفتی طارق مسعود

اسقاطِ حمل اور حقوقِ انسانی کا قانون
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

On the Islamic Status of Pakistan`s Constitution
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عالمِ اسلام کے لیے نئے امکانات — پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
مولانا فضل الرحمٰن

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ اور خطہ میں اس کے ممکنہ اثرات
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

رویتِ ہلال کے متعلق پانچ قانونی سوالات
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

افغانستان اور پاکستان کے علماء کی طرف سے قیامِ امن کیلئے مشترکہ بیان
مولانا حافظ نصر الدین خان عمر
پاکستان شریعت کونسل

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter