حضرت خولہ بنت الازور کندی اسدی رضی اللہ عنہا
بہادری میں افسانوی شہرت کی حامل طبیبہ

تمہید

اسلامی تاریخ ایسے درخشاں کرداروں سے بھری پڑی ہے جنھوں نے دین، علم، جہاد، اور انسانی خدمت کے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہے، جن میں مردوں کے شانہ بہ شانہ خواتین کی کردار بھی ناقابل فراموش ہے، انھوں نے نہ صرف گھریلو ذمہ داریوں کو حسن و خوبی کے ساتھ نبھایا؛ بلکہ بعض اوقات میدانِ جنگ میں وہ کارنامہ انجام دیا جس کے سامنے مردوں کی تلواریں سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ انہی عظیم المرتبت خواتین میں حضرت خولہ بنت ازور رضی اللہ عنہا بھی ہیں، جن کا نام تاریخ کے روشن صفحات میں سنہرے حروف میں لکھا گیا ہے۔ اگرچہ یہ عسکری شجاعت و بہادری کی بنا پر مشہور ہیں؛ لیکن ان کی شخصیت کا ایک اہم اور قابلِ توجہ پہلو ان کی طبی خدمات بھی ہیں، جو انھوں نے زخمی مجاہدین کی مرہم پٹی، علاج و معالجہ اور نگہداشت کے ذریعہ سے سرانجام دیں، آئیے! ان کے تعلق سے جانتے چلیں۔

نام و نسب

ان کا نام ’’خولہ‘‘ ہے، یہ ’’اَزْوَر‘‘ کی بیٹی ہیں، جن کا نام ’’مالک‘‘ ہے، نسب اس طرح ہے: خولۃ بنت الازور مالک بن أوس بن جذیمۃ بن ربیعۃ بن مالک بن ثعلبۃ بن دُودان بن أسد بن خزیمۃ (الطبقات الکبری: ۸؍ ۱۶۲، نمبر شمار: ۲۷۲۳، ذکر ضرار بن الأزور، نیز دیکھئے: طبقات: ۶؍۱۵۹، نمبر شمار: ۱۱۳۸)، ویکی پیڈیا نے اس سلسلہ کو مزید آگے بڑھا کر عدنان تک پہنچایا ہے، جو اس طرح ہے: خزیمۃ بن مدرکۃ بن الیاس بن مضربن نزار بن معد بن عدنان (https://ar.wikipedia.org)۔

پیدائش و اسلام

ان کی پیدائش مکہ میں ہوئی اور انھوں نے اپنے بھائی ضرار بن ازور کے ساتھ فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔ روزنامہ عمان کے ۲۸؍ اپریل ۲۰۲۲ء کے شمارہ میں ان کے تعلق سے ایک مضمون شائع ہوا ہے، اس میں لکھا ہے: ولدت فی مکۃ المکرمۃ وأسلمت مع أخیہا بعد الفتح (https://www.omandaily.com عنوان: خولۃ بنت الأزور ’’الفارسۃ الملثمۃ‘‘) ’’مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں اور فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی کے ساتھ اسلام قبول کیا‘‘۔

بھائی

ان کے ایک بھائی کا تذکرہ کتابوں میں مذکور ہے جن کا نام ’’ضرار بن ازور‘‘ ہے، یہ ایک بہترین شہسوار اور شاعر تھے۔ ابن سعد لکھتے ہیں: 

وکان ضراراً فارساً شاعراً، وہو الذی یقول حین أسلم:
خلعتُ القداح وعزْف القیا
ن والخمرَ تصلیۃ وابتہالاً
وکری المحبر فی غمرۃ
وجہدی علی المشرکین القتالا
وقالت جمیلۃ بددتنا
وطرّحت أہلک شتی شلالا
فیارب لا أغبنن صفقتی
وقد بعثت أہلی ومالی بِدالا
’’میں نے شراب، گانے بجانے اور ناچنے والیوں کو چھوڑ کر توبہ، نماز و دعا کو اختیار کر لیا، میں نے اپنی خوبصورت زرہ پہن کر پوری قوت اور جدوجہد کے ساتھ مشرکوں سے جنگ کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا۔ جمیلہ نے کہا کہ: تم نے ہمیں اور اپنے گھر والوں وادیوں میں بکھرا ہوا چھوڑ دیا ہے، پس اے مرے پروردگار! میری یہ تجارت خسارہ والی نہ ہو کہ میں نے اپنے اہلِ و عیال اور مال و دولت کو تیرے بدلہ قربان کر دیا ہے۔‘‘

انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے ’’حدیث اللقوح‘‘: دع دواعی اللبن (آسائش اور آرام طلبی کو چھوڑ دو) روایت کی ہے (الطبرانی فی الاوسط، حدیث نمبر: ۳۷۴۳، الطحاوی فی مشکل الآثار، حدیث نمبر: ۵۷۰۱، سنن ابن ماجۃ، حدیث نمبر: ۴۱۳۴)، جنگِ یمامہ میں انھوں نے خوب دادِ شجاعت پیش کی؛ حتیٰ کہ ان کی دونوں پنڈلیاں کٹ گئیں تو وہ گھسٹ کر چلتے ہوئے قتال کرنے لگے، اس حال میں گھوڑوں نے انھیں روند ڈالا اور اس طرح انھوں نے جامِ شہادت نوش کیا (الطبقات الکبریٰ: ۶؍۱۵۹، نمبر شمار: ۱۱۳۸)۔

غزوات میں شرکت اور طبابت

ان کی بہادری کے غیر معمولی قصے کتابوں میں مرقوم ہیں، یہ اپنے زمانہ کی بہادر ترین خواتین میں سے تھیں؛ بلکہ انھیں بطلِ جلیل حضرت خالد بن ولیدؓ کے مماثل قرار دیا جاتا ہے۔ یہ اپنے بھائی کی طرح ایک شاعرہ بھی تھیں، عبد مہنّا لکھتی ہیں: 

شاعرۃ کانت من أشجع النساء فی عصرہا، وتشبہ خالد بن الولید فی حملاتہا، وہی أخت ضرار بن الأزور، لہا أخبار کثیرۃ فی فتوح الشام، ولما أسر أخوہا ضرار فی وقعۃ أجنادین، ہجمت بالنساء وقاتلت بہن قتال المستمیت؛ حتی خلصت الأسری من أیدی الروم، فی شعرہا جزالۃ وفخر، کانت تقول:
نحن بنات تبع وحمیر
وضربنا فی القوم لیس ینکر
لأننا فی الحرب نار تسعر
الیوم تسقون العذاب الأکبر
’’وہ ایک شاعرہ تھیں، اپنے زمانہ کی بہادر ترین خاتون میں شمار ہوتی تھیں، جنگی مہمات میں انھیں خالد بن ولید سے تشبیہ دیا جاتا تھا، وہ ضرار بن ازور کی بہن تھیں، ان کے بہت سے واقعات ’’فتوح الشام‘‘ میں مرقوم ہیں، جب ان کے بھائی ’’ضرار‘‘ جنگ اجنادین میں قید ہو گئے تو انھوں نے عورتوں کے ساتھ مل کر دشمن پر حملہ کیا اور پوری جاں نثاری کے ساتھ جنگ لڑی؛ یہاں تک کہ رومیوں کے قبضے سے قیدیوں کو چھڑالیا، ان کا کلام زوردار اور فخر سے بھرپور ہوتا ہے، وہ کہتی تھیں: ’’ہم تُبّع اور حمیر کی بیٹیاں ہیں، ہماری ضربوں کی گونج سے دشمن کانپ اٹھتے ہیں، ہم جنگ میں دہکتے ہوئے شعلے ہیں اور آج تمہیں ’عذاب عظیم‘ کا مزہ چکھایا جائے گا‘‘ (معجم النساء الشاعرات فی الجاہلیۃ والاسلام، ص: ۷۸، نمبر شمار: ۹۱، الأعلام للزرکلی: ۲؍۳۲۵)۔

واقدی نے ان کی بہادری کو زبردست خراج پیش کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:

’’ابھی حضرت خالد بن ولیدؓ چند اشعار گنگنا رہے تھے (جن میں بہادری کی تعریف اور شہادت و جنت کا ذکر تھا) کہ اچانک ان کی نظر ایک شہسوار پر پڑی، جو لمبے قد کے گھوڑے پر سوار تھا، اس کے ہاتھ میں ایک لمبا نیزہ تھا، چمکتی آنکھوں کے سوا پورا چہرہ ڈھکا ہوا تھا، اس کے ہر انداز سے اس کی سوارانہ شان و شوکت نمایاں تھی، اس نے اپنے جنگی لباس کے اوپر سیاہ لباس زیب تن کر رکھا تھا، اس کی کمر پر سبز عمامہ بندھا ہوا تھا، جس کا شملہ اس کے سینے پر اور پیٹھ کے پیچھے لہرا رہا تھا، وہ مجمع عام سے بہت آگے نکل چکا تھا، اس وقت اس کی مثال اس شعلۂ آتش کی سی تھی، جو دشمن کی طرف لپک رہا ہو، جب خالد بن ولیدؓ کی نظر اس پر پڑی تو وہ بے ساختہ بول اٹھے: ’’یہ سوار تو میرے اشعار سے بھی بڑھ کر نکلا، بخدا! یہ غیر معمولی دلیر اور جانباز معلوم ہوتا ہے‘‘، پھر حضرت خالدؓ اور باقی مسلمان بھی اس کے پیچھے روانہ ہوئے، وہ مشرکین کی صفوں تک سب سے پہلے جا پہنچا، اس وقت رافع بن عمیر طائیؓ دشمن سے نبرد آزما تھے اور اپنے رفقاء کے ساتھ بہادری سے دشمن کے مقابلہ میں جمے ہوئے تھے، جب حضرت خالدؓ اور ان کے مجاہد ساتھی پہنچے، اس وقت ان کی نظر بھی اس سوار پر پڑی، وہ نہایت پرجوش انداز میں رومی لشکر پر ٹوٹ پڑا، گویا وہ بھڑکتی ہوئی آگ کا کوئی بگولہ ہو، اس نے دشمن کی صفیں تہہ و بالا کر دیں، ان کے مضبوط دستوں کو تتر بتر کر دیا، پھر دشمن کے قلب میں جا گھسا، ابھی چند ہی لمحے گزرے تھے کہ وہ دشمن کے قلب سے اس حال میں نکلا کہ اس نیزہ سے خون ٹپک رہا تھا، اس نے کئی دشمنوں کو تہہِ تیغ کر دیا تھا، کئی بہادروں کو خاک و خون میں ملا دیا تھا، وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر صفوں کو چیرتا چلا گیا، نہ اسے کسی کا ڈر تھا، نہ کسی کی پروا، پھر وہ دشمن کے بڑے بڑے دستوں پر پل پڑا، جس سے ان کے دل میں کھلبلی مچ گئی، حضرت رافعؓ اور ان کے ساتھیوں نے جب اس کی یہ بے مثال شجاعت دیکھی تو یہ گمان کیا کہ: ’’یقیناً یہ خالد ہی ہیں، اس قدر جراءت مندانہ حملے ان کے سوا کسی کے بس میں نہیں۔‘‘ (فتوح الشام للواقدی: ۱؍۴۰-۴۱، الدرالمنثور فی طبقات ربات الخدور، ص: ۱۸۴، أعلام النساء فی عالمی العرب والاسلام: ۱؍۳۷۴)۔

حضرت خولہؓ نے میدانِ جنگ میں صرف دادِ شجاعت ہی نہیں دی بلکہ علاج و معالجہ کی بھی خدمات انجام دی ہے۔ جنگِ یرموک کے تعلق سے خواتین کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے راجی عباس تکریتی لکھتے ہیں:

’’جہاں تک عورتوں کا تعلق ہے تو یرموک کے دن وہ بڑی تعداد میں نکلیں، میدانِ کارزار میں ان کے جانے کا مقصد مجاہدین کے حوصلوں کو بلند اور ان کے جوش و ولولہ کو برانگیختہ کرنا، ان کے لئے کھانے تیار کرنا، پیاسوں کو پانی پلانا، مرہم پٹیاں لانا اور زخمیوں کی دیکھ بھال و علاج و معالجہ کرنا تھا۔‘‘ (الاسناد الطبی فی الجیوش العربیۃ الإسلامیۃ، ص: ۱۰۰)۔

اس معرکہ میں حضرت خولہؓ بھی شریک تھیں اور جس بہادری کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا، اس کا تذکرہ آچکا ہے، تاہم طبی خدمات انجام دینے والی خواتین میں بھی ان کا نام آتا ہے؛ چنانچہ آگے چل کر یہ لکھتے ہیں:

وإلی أرض الشام ومرافقۃ للمجاہدین ولنساء المسلمین خرجت کذلک خولۃ بنت الأزور الکندی لتقوم بما تقوم بہ نساء المسلمین من رعایۃ لشؤون المقاتلین فی نظافۃ ملابسہم، وطہی طعامہم، وسقیہم الماء، ومعالجۃ الجرحی، ودفن الشہداء۔ (الاسناد الطبی فی الجیوش العربیۃ الإسلامیۃ، ص: ۱۰۴)
’’شام کی سرزمین کی طرف روانہ ہونے والے مجاہدین کے ہمراہ خولہ بنت ازور کندی بھی نکلیں؛ تاکہ وہ ان خدمات کو انجام دے سکیں، جو مسلمان خواتین مجاہدین کے لئے انجام دیا کرتی تھیں، جیسے: ان کے کپڑے صاف کرنا، کھانا تیار کرنا، پانی پلانا، زخمیوں کا علاج کرنا اور شہداء کو دفن کرنا وغیرہ‘‘۔

اسی طرح شیخ عکرمہ صبری اپنے بلاگ میں لکھتے ہیں:

وممن ورد ذکرہن فی کتب الحضارۃ الاسلامیۃ من المجاہدات المتطوعات فی مجال التمریض والاسعاف: خولۃ بنت الأزور (https://ekrimasabri.net عنوان: حدیث الجمعۃ الدینی: الإسلام ویوم التمریض العالمی، تاریخ نشر: ۲۳؍ ستمبر ۲۰۱۶ء)
’’اسلامی عربی تہذیب کی کتب میں جن مجاہد خواتین کا ذکر آیا ہے، ان میں سے رضاکارانہ طور پر نرسنگ اور ابتدائی طبی امداد کے میدان میں خدمت انجام دینے والی خواتین میں خولہ بنت الازور بھی شامل ہیں‘‘۔

وفات 

بالآخر شجاعت و بہادری میں افسانوی شہرت کی حامل یہ خاتون بھی اپنی حیاتِ مستعار کی مدت پوری کر کے خلافتِ عثمانی کے آخری ایام میں دارِ آخرت کی طرف کوچ کر گئیں۔

ایمان الزغول لکھتی ہیں: توفیت فی أواخر عہد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ (https://mawoo3.com عنوان: ’’الصحابیۃ خولۃ بنت الأزور وصفاتہا‘‘

 عبد مہنّا نے سن کی تعیین کی ہے، لکھتی ہیں: توفیت سنۃ ۳۵ھ (معجم النساء الشاعرات فی الجاہلیۃ والاسلام، ص: ۷۸، نمبر شمار: ۹۱) ’’سن پینتیس ہجری میں ان کی وفات ہوئی‘‘۔ 

ڈاکٹر عبد السلام ترمانینی نے بھی سن پینتیس ہجری کے وفات پانے والوں میں ان کا تذکرہ کیا ہے (أحداث التاریخ الإسلامی بترتیب السنین للترمانینی: ۱؍۳۴۷)۔ 

روزنامہ عمان میں ان کی وفات کا سن اس طرح لکھا ہوا ہے: توفیت خولۃ بنت الأزور سنۃ ستمائۃ وتسعۃ وثلاثین، ودفنت فی البلقاء (https://www.omandaily.com عنوان: خولۃ بنت الأزور ’’الفارسۃ الملثمۃ‘‘) ’’خولہ بنت ازور کی وفات چھ سو انتالیس (۶۳۹) میں ہوئی اور بلقاء میں ان کی تدفین عمل میں آئی‘‘، یہ عیسوی سن کے مطابق ہے۔ 

زرکلی نے سن عیسوی ۶۵۵ رقم کی ہے (لأعلام للزرکلی: ۲؍۳۲۵)۔

اللّٰہم ارض عن ہذہ الصحابیۃ الباسلۃ النار المحرقۃ للأعداء، وأجزہا عن الإسلام والمسلمین خیرا الجزاء۔


شخصیات

(الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۴

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۰)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۱)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۴)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

صحیح مسلم کا قدیم ترین نسخہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۱)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۴)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۳)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت خولہ بنت الازور کندی اسدی رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۱)
محمد سراج اسرار

مسئلہ تشبہ امام ابن تیمیہ کی نظر میں
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

زندگی کی قدر اور وقت کی تقسیمِ کار
مولانا فضل سبحان
مولانا عبد المتین

مذہبی رواداری اور غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۳)
پروفیسر خورشید احمد

مفتی طارق مسعود اور شجاع الدین شیخ کا مکالمہ
شجاع الدین شیخ
مفتی طارق مسعود

اسقاطِ حمل اور حقوقِ انسانی کا قانون
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

On the Islamic Status of Pakistan`s Constitution
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عالمِ اسلام کے لیے نئے امکانات — پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
مولانا فضل الرحمٰن

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ اور خطہ میں اس کے ممکنہ اثرات
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

رویتِ ہلال کے متعلق پانچ قانونی سوالات
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

افغانستان اور پاکستان کے علماء کی طرف سے قیامِ امن کیلئے مشترکہ بیان
مولانا حافظ نصر الدین خان عمر
پاکستان شریعت کونسل

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter