زندگی کی قدر اور وقت کی تقسیمِ کار

خداداد زندگی اور نعمتوں کی قدر کیجیئے

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، آپؐ کی بات اور آپؐ کا ہر عمل، وہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے اور اس کا ادب اور احترام لازم اور ضروری ہے۔ قرآن کریم میں 26ویں پارے میں سورہ حجرات میں انہی آدابِ معاشرت پر بات کی گئی ہے کہ ’’لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ‘‘ (الحجرات ۱) اللہ اور اس کے رسولؐ سے آگے نہ بڑھو، نہ چلنے میں، نہ بات کرنے میں، نہ رائے دینے میں۔ اور پھر فرمایا ’’لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی‘‘ (الحجرات ۲) نبی کی آواز پر اپنی آوازوں کو اونچا مت کرو، جیسے ایک دوسرے کو بلاتے اور پکارتے ہو، ایسی آوازیں نہیں لگاؤ۔ ہوگا کیا؟ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے، تمہیں پتہ ہی نہیں چلے گا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اتنا گھبرا گئے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اتنی پست آواز سے بات کرنے لگے کہ آقا ﷺ کو پوچھنا پڑتا، عمر! تم نے کیا کہا ہے؟ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ خطیب تھے، آواز ان کی تیز تھی، وہ اپنے گھر میں دروازہ بند کر کے محصور ہو کے بیٹھ گئے کہ میں آقا کی مجلس میں جاؤں گا تو بے خیالی میں آواز تیز ہو جائے گی، بے ادبی کا مرتکب ہو جاؤں گا، اعمال ضائع ہو جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کر تسلی دی کہ آپ ان لوگوں میں سے نہیں ’’لست منھم، بل تعیش بخیر وتموت بخیر‘‘  تمہارا جینا اور تمہارا مرنا خیر کی حالت میں ہو گا۔ ’’تعیش حمیدً‌ا وتموت شھیدً‌ا‘‘۔ آپؐ نے یہ تسلی کے الفاظ کہے۔

آج جہاں اللہ رسول کی بات ہو رہی ہو تو بالکل انہی آداب کو ملحوظِ نظر رکھا جائے گا۔ کسی عالم نے ایک موقع پر کہا کہ بھئی اللہ رسول کی بات ہو گی، اگر کسی کا اس سے زیادہ ضروری کام ہو تو وہ جا سکتا ہے۔ ہمارا زیادہ وقت موبائل میں، فضولیات میں، لغویات میں، بے ہودہ چیزوں میں لگ جاتا ہے۔ اور حدیثِ پاک میں آتا ہے ’’من حسن اسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ‘‘ اسلام کی خوبی یہ ہے کہ لایعنی اور بیکار چیزوں کو چھوڑ دے۔ لایعنی کا معنی علماء نے کیا ہے کہ ایسا کام جس میں نہ دین کا فائدہ ہو، نہ دنیا کا۔ نہ جسمانی کوئی فزیکل ایکٹیوٹی ہو جو صحت کے لیے مفید ہو، اور نہ روحانی اعتبار سے فائدے مند ہو۔ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے یہ کہا ہے کہ اللہ کے راضی ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اللہ ان کاموں میں لگا دے جس کا تمہیں کوئی فائدہ ہو، چاہے دنیا کا ہو، یا آخرت کا ہو۔ اور اللہ کی ناراضگی کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ ایسے کاموں میں لگ جائیں جس کا آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہونا۔

اگر ہم اپنی چوبیس گھنٹے کی زندگی کو ایک بیلنس شیٹ بنا کر چیک کریں، اِن پٹ اور آؤٹ پٹ دیکھیں، تو ایک سروے کے مطابق سات سے آٹھ گھنٹے ہر آدمی موبائل استعمال کر رہا ہے۔ اور اس موبائل میں ہم کیا دیکھتے ہیں؟ بلکہ، ہم سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، یا سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے؟مطلب یہ کہ:

  • ہم کوئی بیان سننے کے لیے جاتے ہیں اور اچانک کوئی ویڈیو آتی ہے ہم اس کو دیکھنا شروع کر دیتے ہیں، وہ ختم ہونے کو لگتی ہے، بیچ میں کوئی ایڈ آتا ہے ہم کسی دوسرے لنک پر چلے جاتے ہیں۔ تو جس چیز کو سننے کے لیے ہم گئے تھے اس کو سنا ہی نہیں اور دس غلط چیزیں دیکھ کر اور سن کر آگئے۔ 
  • پھر تبصرہ کرنے میں، پوسٹ پر کمنٹ کرنے میں، اپنی رائے دینے میں؟ ہم نے کچھ بھی لکھ دیا، کچھ بھی بول دیا۔ اس سے دل ٹوٹ گئے، اس سے گھر اجڑ گئے، اس سے خاندان کا شیرازہ بکھر گیا، اس سے نفرت اور عداوتیں پھیل گئیں، اس سے ملک میں انتشار اور انارکی کی صورتحال پیدا ہو گئی، اس سے دو ملک آپس میں لڑ پڑے۔ ہم نے کسی چیز کا خیال اور لحاظ نہیں رکھنا، ہم نے تو بس اپنی بات کر دینی ہے۔ 

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعا سکھلائی، اور وہ دعا ہم پڑھیں اور اس کو یاد کریں کہ ’’اللہم انی اعوذ بک من زوال نعمتک وتحول عافیتک وفجاءۃ نقمتک وجمیع سخطک‘‘ اللہ میں پناہ مانگتا ہوں نعمتوں کے زائل ہو جانے سے۔ یہ نعمت ہے، صحت بھی ہے اور امن بھی ہے اور فرصت بھی ہے، اور اللہ نے اولاد کی نعمت، بیوی کی نعمت، ماں باپ کی نعمت، بہن بھائیوں کی نعمت، اچھے دوستوں کی نعمت، اور یہ ہواؤں کا چلنا اور یہ دن اور رات کا نظام، اور یہ سب کچھ اللہ نے دیا ہے۔ تو میں پناہ مانگتا ہوں کہ یہ نعمتیں زائل نہ ہو جائیں۔

ایک جھٹکے میں کلاؤڈ برسٹ ہوا، لوگ جاں بحق ہو گئے۔ اور زلزلہ آیا اور لاکھوں لوگ لقمۂ اجل بن گئے اور پورے گاؤں کے گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ سیلاب آیا اور کئی دیہات زیرِ آب آگئے۔ زکوٰۃ دینے والے، لینے والوں کی صف میں آ کھڑے ہوئے ؎

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے
ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا

اللہ نے بینائی چھین لی، اور ایکسیڈنٹ ہو گیا، فالج کا اٹیک ہو گیا، کڈنی فیل ہو گئے، کینسر ہو گیا، تو اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں نعمتوں کے زائل ہونے سے۔ ’’وتحول عافیتک‘‘ اور عافیت کے پلٹ جانے سے۔ ایک آدمی صبح اٹھتا ہے اور بدن بھی سلامت ہے، گھر والے بھی سلامت ہیں، ایمان بھی سلامت ہے، یہ عافیت ہے۔ ایمان کے بعد قیمتی چیز عافیت ہے۔ کتنے لوگ، اللہ اکبر کبیرا، ان کے اوپر حالات آتے ہیں اور عافیت اور سکون ختم ہو جاتے ہیں۔ ’’وفجاءۃ نقمتک‘‘ اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیرے عذاب کے انتقام کے اچانک آ جانے سے۔

اللہ فرماتے ہیں، ہم ڈھیل دیتے ہیں، استدراج ہوتا ہے، مہلت ملتی ہے۔ ’’اخذناھم بغتۃ‘‘ (الانعام ۴۴) پھر ہم اچانک پکڑتے ہیں۔ اور ’’ان بطش ربک لشدید‘‘ (البروج ۱۲) تیرے رب کی پکڑ بہت زیادہ سخت ہے۔ ’’افامن اھل القریٰ ان یاتیھم باسنا بیاتا وھم نآئمون (الاعراف ۹۷) کیا یہ گاؤں والے بے خوف ہیں اِس بات سے کہ اللہ کا عذاب رات میں آئے جب یہ سوئے ہوئے ہوں؟ کیا یہ بے خوف ہیں اس بات سے کہ اللہ کا عذاب دن میں آئے جب یہ کھیل کود میں مصروف ہوں؟ ’’افامنوا مکر اللہ فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخاسرون‘‘ (الاعراف ۹۹) اللہ کے عذاب سے بے خوف رہنے والے، وہ خسارے میں پڑنے والے ہیں۔

تو اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو سننا، اس پر عمل کرنا، اس کو یاد کرنا، اس کو آگے پہنچانا اور پھیلانا۔ بعض لوگ کہتے ہیں نا کہ کچھ لوگ اسباب اور وسائل نہ ہونے کے باوجود، بہت زیادہ پیسہ نہ ہونے کے باوجود بھی بڑی پرسکون اور سیٹزفائیڈ لائف گزارتے ہیں۔ تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سرسبز اور شاداب، تروتازہ رکھ، ان لوگوں کو، جو دین کی بات، میری بات سنیں، اس کو یاد رکھیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔ تو جو دین کی بات کو پھیلانے میں، اللہ کے حکم پر عمل کرنے میں مصروف رہے گا، تو اللہ اس کے منتشر کاموں کو یکجا کر دیں گے، آسان کر دیں گے۔ سہولت، عافیت والی روزی اس کا مقدر ہو گی۔ اللہ ہم سب کو ان باتوں پر عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔

facebook.com/reel/1523463479587613

وقت کی تقسیم کار کے متعلق چند گزارشات

وقت کو منظم انداز سے استعمال نہ کرنا زندگی میں انتشار پیدا کر دیتا ہے، اور انتشار کام کے بگڑنے کے ساتھ ساتھ انسانی ذہن کے لیے بوجھ بن جاتا ہے، جسے عام طور پر بے چینی (stress) کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق انسان جو کام کر سکتا ہو، لیکن بدنظمی کی وجہ سے نہ کرتا ہو، تو یہ بدنظمی بھی انسان کو بے چین کر دیتی ہے۔ چین و سکون میں آنے کا ایک بڑا طریقہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے کرنے کے کام کو سمجھے اور ان کاموں کے لیے باقاعدہ وقت طے کرے اور ان کو اپنے مقررہ وقت پر انجام دے۔

ایک بات کا خاص اہتمام کر لیں کہ جن چیزوں یا لوگوں کی وجہ سے وقت ضائع ہوتا ہے، ان سے اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ کنارہ کش کر لیں۔ اسی طرح جو کام آپ کسی اور سے کرا سکتے ہیں تو بلاوجہ مجاہد بن کر وہ کام خود کرنا ضروری نہیں ہے، کیونکہ اوروں کو ذمہ داریاں تقسیم کرنے سے وقت، ذہن، صلاحیت اور صحت کی بچت ہوتی ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں وہ لوگ بھی احساسِ ذمہ داری محسوس کرنے لگتے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کی صلاحیتوں کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔ یاد رہے سب کچھ خود کرنا کمال نہیں ہے، لیکن سب کچھ اپنی نگرانی میں کرانا بہت بڑا کمال ہے، یہ ایسی خوبی ہے کہ انسان مر بھی جاتا ہے لیکن اس کا کام جاری رہتا ہے۔

کاموں کو یومیہ، ہفتہ وار، ماہانہ، سالانہ، یا طویل المدتی مقاصد امور وغیرہ کے نام سے تقسیم کیا جانا چاہیے۔ تمام کاموں کو روزانہ یا فوراً‌ کرنے والی لسٹ میں نہ رکھیں:

  • کچھ کام روزانہ کرنے کے ہوتے ہیں جیسے ورزش، عبادت، تلاوت، ملازمت اور کاروبار وغیرہ۔
  • کچھ کام ہفتہ وار جیسے گھریلو مصروفیات، عیادت و تعزیت، صحبت اہل اللہ وغیرہ۔
  • اور اسی طرح ماہانہ جیسے بجٹ بنانا، صدقہ کرنا وغیرہ۔

یہ طے کر لیا جائے کہ یومیہ آپ کی جامد اور پکی ٹھکی مصروفیت کون کون سی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ان کاموں کے وقت کو بھی اس میں شامل کر لیں جو اچانک (ایمرجنسی) کی صورت میں کرنے ہی ہوتے ہیں۔ اس میں ملازمت، آرام، کھانا پینا، اہل خانہ اور اپنی صحت کے ضروری امور کا حساب لگا لیں اور احتیاطا کچھ وقت زیادہ کا اندازہ مقرر کر لیں۔ 

مذکورہ طریقہ کار مقرر کرنے کے بعد دیکھ لیں کہ آپ کے پاس یومیہ کتنے گھنٹے بچتے ہیں۔ یومیہ مصروفیت سے جو وقت بچ جائے اسے اپنے مختلف ذاتی مقاصد کے لیے تول تول کر خرچ کیا جائے۔ جیسے مطالعہ، تحقیق، لکھنا پڑھنا، عبادت و ریاضت، خط و کتابت، مسیجز کے جواب دینا، لوگوں کی خدمت کرنا، صلہ رحمی، عیادت و تعزیت، خاندانی امور، اہلِ خانہ کے حقوق، علاقائی امور، فلاح و بہبود کے کام، قومی مقاصد، دوستوں کے ساتھ گپ شپ، کھیل ہنسی مذاق اور تفریح وغیرہ۔ مذکورہ تمام امور کو یومیہ، ہفتہ وار، ماہانہ، سالانہ اور طویل المدت خانوں میں وقت، ضرورت اور ترجیح کے موافق تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

اصلاح و تربیت

(الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اپریل ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۴

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۰)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۱)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

سلف صالحین کی تفسیر کے متعلق مباحث (۴)
ڈاکٹر عبد الرحمٰن المشد
عمرانہ بنت نعمت اللہ
سارہ بنت برکات

صحیح مسلم کا قدیم ترین نسخہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ (۱)
ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی
عمار خان یاسر

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۴)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۳)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

حضرت خولہ بنت الازور کندی اسدی رضی اللہ عنہا
مولانا جمیل اختر جلیلی ندوی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۱)
محمد سراج اسرار

مسئلہ تشبہ امام ابن تیمیہ کی نظر میں
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

زندگی کی قدر اور وقت کی تقسیمِ کار
مولانا فضل سبحان
مولانا عبد المتین

مذہبی رواداری اور غیر مسلموں کی تقریبات میں شرکت
مفتی سید انور شاہ

قیامِ پاکستان: بنیادِ فکر، راہِ عمل، منزلِ مقصود (۳)
پروفیسر خورشید احمد

مفتی طارق مسعود اور شجاع الدین شیخ کا مکالمہ
شجاع الدین شیخ
مفتی طارق مسعود

اسقاطِ حمل اور حقوقِ انسانی کا قانون
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

On the Islamic Status of Pakistan`s Constitution
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عالمِ اسلام کے لیے نئے امکانات — پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
مولانا فضل الرحمٰن

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ اور خطہ میں اس کے ممکنہ اثرات
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

رویتِ ہلال کے متعلق پانچ قانونی سوالات
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

افغانستان اور پاکستان کے علماء کی طرف سے قیامِ امن کیلئے مشترکہ بیان
مولانا حافظ نصر الدین خان عمر
پاکستان شریعت کونسل

مولانا راشدی کے خطابات و بیانات
ادارہ الشریعہ

مطبوعات

شماریات

Flag Counter