باب چہارم: عہدِ خلافت
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اُن کے سب سے قریبی مشیر، معاون اور رفیقِ کار تھے۔ خلافت کے تمام اہم معاملات میں حضرت ابوبکرؓ ان سے مشورہ کرتے تھے اور ان کی رائے کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ مرتدین کے خلاف جنگوں، اسلامی ریاست کے استحکام، فتوحات کے آغاز اور قرآنِ مجید کی تدوین جیسے اہم معاملات میں حضرت عمرؓ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے مختصر دورِ خلافت میں حضرت عمرؓ کی انتظامی صلاحیتوں، دور اندیشی، عدل پسندی اور دینی بصیرت کا گہرا مشاہدہ کیا تھا، اس لیے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کے بعد امتِ مسلمہ کی قیادت کے لیے سب سے موزوں شخصیت حضرت عمرؓ ہیں۔
۱۳ ہجری میں جب حضرت ابوبکر صدیقؓ شدید بیمار ہوئے اور انہیں اپنی وفات کا احساس ہونے لگا تو انہوں نے امت کے مستقبل کے بارے میں غور و فکر شروع کیا۔ ان کی خواہش تھی کہ مسلمانوں میں اختلاف اور انتشار پیدا نہ ہو، اس لیے انہوں نے اپنے بعد خلیفہ مقرر کرنے کے مسئلے پر متعدد جلیل القدر صحابہ کرامؓ سے — جن میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت اسید بن حضیرؓ اور دیگر اکابر صحابہ شامل تھے — حضرت عمرؓ کے بارے میں مشورہ کیا۔ اگرچہ بعض صحابہ نے حضرت عمرؓ کی سخت گیری کی طرف اشارہ کیا، لیکن سب نے ان کی دیانت، تقویٰ، قوتِ فیصلہ اور عدل و انصاف کا اعتراف کیا۔ مشاورت کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے باقاعدہ طور پر حضرت عمرؓ کو اپنا جانشین نامزد کرنے کا فیصلہ کیا اور حضرت عثمانؓ کو بلا کر ایک تحریر لکھوائی، پھر یہ تحریر لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنائی گئی تاکہ سب اس فیصلے سے آگاہ ہو جائیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے اللہ تعالیٰ کے حضور اس فیصلے کی قبولیت کی دعا بھی کی کہ انہوں نے اپنی بساط کے مطابق امت کے لیے سب سے موزوں شخص کو منتخب کیا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات کے بعد مسلمانوں نے حضرت عمر بن خطابؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور اس طرح خلافت ان کی طرف منتقل ہو گئی۔ خلافت سنبھالنے کے بعد حضرت عمرؓ نے مسجد نبوی میں ایک مؤثر خطبہ دیا جس میں انہوں نے فرمایا کہ وہ اپنی ذاتی رائے کی بجائے کتاب اللہ اور سنتِ رسولؐ کے مطابق حکومت کریں گے۔ حضرت صدیق اکبرؓ کے طرزِ عمل کی پیروی کرتے ہوئے انہوں نے عوام کو یہ حق دیا کہ اگر وہ حق سے ہٹیں تو انہیں متنبہ اور درست کیا جائے۔ اس طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ سے حضرت عمر فاروقؓ تک خلافت کا انتقال نہایت منظم، پُرامن اور مشاورت کے اصول کے مطابق ہوا۔ یہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تھا جس نے امتِ مسلمہ کو انتشار سے محفوظ رکھا اور خلافتِ راشدہ کے تسلسل کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
حضرت عمرؓ نے اپنے پیش رو کے اعتماد کو درست ثابت کرتے ہوئے مثالی دورِ حکومت قائم کیا۔ خلیفۂ ثانی کا دورِ خلافت اسلامی تاریخ کے درخشاں ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ حضرت عمرؓ کی خلافت ۱۳ ہجری سے ۲۳ ہجری تک رہی، یعنی تقریباً دس سال اور چھ ماہ، اس زمانے میں اسلامی ریاست کی سرحدیں غیر معمولی طور پر وسیع ہوئیں، عراق، شام، مصر اور ایران کے وسیع علاقے اسلامی اقتدار میں آئے، جبکہ بیت المقدس مسلمانوں کے زیرِ نگیں ہوا۔ ۱۶ھ بمطابق ۶۳۸ء میں حضرت عمرؓ کے دور میں اہلِ بیت المقدس نے صلح کے ذریعے اسلامی اقتدار قبول کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ حضرت عمرؓ نے بیت المال، عدلیہ، نظامِ شرطہ (پولیس)، مالی و انتظامی اندراجات کا منظم نظام، صوبائی نظم و نسق، فوجی رجسٹروں (دیوان) اور عدل و احتساب کا ایسا مضبوط نظام قائم کیا جس نے اسلامی ریاست کو ایک منظم اور مضبوط انتظامی ریاست بنا دیا۔ انہی غیر معمولی فتوحات، اصلاحات اور عدل و انصاف کی وجہ سے حضرت عمرؓ کا دورِ خلافت اسلامی تاریخ کا ایک سنہرا باب سمجھا جاتا ہے۔
فتوحاتِ عراق و ایران
حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں اسلامی ریاست کی سب سے بڑی عسکری کامیابی عراق اور ایران کی فتوحات تھیں۔ اگرچہ ابتدائی مہمات کا اصل ہدف عراق تھا، جو اس وقت ساسانی سلطنت کا سرحدی صوبہ تھا، لیکن ایرانی حکمرانوں کی مسلسل جوابی کارروائیوں اور نئی فوجی تیاریوں کے باعث مسلمانوں کو رفتہ رفتہ ایران کے اندر پیش قدمی کرنا پڑی۔ چنانچہ قادسیہ، مدائن، جلولا اور نہاوند جیسے معرکے ایک ہی تاریخی سلسلے کی مختلف کڑیاں بن گئے۔ انہی فتوحات کے نتیجے میں نہ صرف عراق اسلامی ریاست کا حصہ بنا بلکہ ساسانی سلطنت بھی اپنے اختتام کو پہنچی اور ایران کے وسیع علاقے اسلامی اقتدار میں شامل ہو گئے۔ تاریخی کتب میں ان واقعات کو بعض اوقات صرف فتوحاتِ عراق کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے، کیونکہ ابتدائی مہم کا مرکز عراق تھا، جبکہ بعض مؤرخین انہیں فتوحاتِ عراق و ایران یا فتوحِ فارس کے ضمن میں ذکر کرتے ہیں۔
مہمِ عراق کا آغاز
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہدِ خلافت میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے عراق کے متعدد اہم علاقوں، جن میں بانقیا، کسکر اور حیرہ شامل تھے، فتح کر لیے تھے۔ تاہم جب شام میں رومیوں کے خلاف جنگ کی ضرورت پیش آئی تو حضرت ابوبکرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو شام روانہ ہونے کا حکم دیا۔ انہوں نے عراق میں حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ کو اپنا جانشین مقرر کیا، لیکن ان کے شام روانہ ہوتے ہی عراق میں اسلامی پیش قدمی سست پڑ گئی۔
حضرت عمرؓ جب منصبِ خلافت پر فائز ہوئے تو انہوں نے سب سے پہلے عراق کی مہم کو مکمل کرنے کا عزم کیا۔ بیعتِ خلافت کے موقع پر عرب کے مختلف علاقوں سے ہزاروں افراد مدینہ منورہ میں موجود تھے۔ حضرت عمرؓ نے اس اجتماع کو غنیمت جانتے ہوئے مسلسل کئی دن تک جہاد کی ترغیب دی، مگر اس وقت عربوں میں یہ تاثر عام تھا کہ عراق سلطنتِ فارس کا مضبوط ترین حصہ ہے اور اس کی فتح نہایت دشوار ہوگی، اس لیے ابتدا میں مجمع خاموش رہا اور فوری طور پر کوئی نمایاں جواب سامنے نہ آیا۔
چند روز بعد حضرت عمرؓ کی ولولہ انگیز تقریر نے حاضرین کے دلوں میں نیا جوش پیدا کر دیا۔ حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ وہ ایرانیوں کی قوت کو آزما چکے ہیں اور وہ ناقابلِ شکست نہیں ہیں۔ اسی دوران قبیلہ ثقیف کے سردار حضرت ابو عبید ثقفیؓ نے اٹھ کر اعلان کیا ’’انا لها‘‘ (میں اس مہم کے لیے تیار ہوں)۔ ان کے اس اعلان نے مجمع میں جوش کی لہر دوڑا دی اور بہت سے افراد جہاد کے لیے آمادہ ہوگئے۔ حضرت عمرؓ نے مدینہ اور اس کے نواح سے ایک لشکر تیار کیا اور حضرت ابو عبید ثقفیؓ کو اس کا سپہ سالار مقرر کر کے عراق روانہ فرمایا۔
جنگِ پل اور مسلمانوں کا پہلا بڑا امتحان
دوسری جانب حضرت خالد بن ولیدؓ کی مہمات نے سلطنتِ فارس کو خطرے کا احساس دلا دیا تھا۔ ساسانی سلطنت اس وقت شدید سیاسی انتشار کا شکار تھی۔ اسی ہنگامہ خیز دور میں پوران دخت سمیت کئی حکمران آئے، اور بالآخر یزدگرد سوم تخت نشین ہوا۔ جب خراسان کے گورنر فرخ زاد کے بیٹے رستم کو — جو ایک قابل سپہ سالار اور مدبر سیاست دان تھا — جنگی امور کا نگران مقرر کیا گیا تو رستم نے ایرانیوں کو متحد کیا، ان میں قومی اور مذہبی جوش پیدا کیا اور سلطنتِ ساسانیہ کو دوبارہ منظم کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
حضرت ابو عبید ثقفیؓ کی آمد سے پہلے ہی رستم نے فرات کے اطراف بغاوتیں بھڑکا دیں، جس کے نتیجے میں کئی علاقے مسلمانوں کے قبضے سے نکل گئے۔ اس نے مزید فوجیں روانہ کیں جن کی قیادت نرسی اور جابان کر رہے تھے۔ جابان کی فوج کا مسلمانوں سے مقابلہ ہوا، لیکن اسے سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایرانی فوج کے کئی بڑے افسر مارے گئے اور جابان گرفتار ہوگیا۔ تاہم جس مسلمان سپاہی نے اسے گرفتار کیا تھا وہ اسے پہچان نہ سکا۔ جابان نے دو غلاموں کے بدلے اپنی رہائی حاصل کر لی۔ بعد میں حقیقت سامنے آئی تو بعض لوگوں نے اس معاہدے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن حضرت ابو عبید ثقفیؓ نے فرمایا کہ اسلام میں عہد شکنی کی اجازت نہیں۔
اس کامیابی کے بعد مسلمانوں نے سقاطیہ میں نرسی کی فوج کو بھی شکست دی، جس کے نتیجے میں اردگرد کے کئی مقامی سردار مسلمانوں کے مطیع ہوگئے۔ ان پے در پے ناکامیوں کے بعد رستم نے ایک اور لشکر روانہ کیا، لیکن جلد ہی فیصلہ کن معرکہ پیش آیا جسے تاریخ میں جنگِ پل Battle of the Bridge کہا جاتا ہے۔ حضرت ابو عبید ثقفیؓ نے بعض فوجی کمانڈروں کے اختلاف کے باوجود فرات عبور کر کے ایرانیوں کا مقابلہ کیا۔ میدان تنگ اور غیر ہموار تھا، جبکہ مسلمانوں کے لیے پہلی مرتبہ ایرانی جنگی ہاتھیوں کا سامنا کرنا بھی ایک بڑا امتحان تھا۔ نتیجتاً مسلمانوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا، حضرت ابو عبید ثقفیؓ شہید ہوگئے اور لشکر کا بڑا حصہ شہید یا منتشر ہو گیا۔
جنگِ بویب اور مسلمانوں کی نئی پیش قدمی
اس شکست کی خبر مدینہ پہنچی تو حضرت عمرؓ نے عرب قبائل کو دوبارہ جہاد کے لیے ابھارا۔ ان کی پرجوش اپیل کا اثر یہ ہوا کہ بعض عیسائی عرب قبائل نے بھی یہ کہہ کر مسلمانوں کا ساتھ دیا کہ یہ عرب و عجم کا مقابلہ ہے، اس لیے وہ اپنی قوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ حضرت جریر بن عبد اللہؓ کو ایک لشکر دے کر عراق روانہ کیا گیا، جبکہ حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ نے بھی سرحدی قبائل کو جمع کر کے نئی فوج تیار کر لی۔
ایرانیوں نے مہران بن مہرویہ کی قیادت میں بارہ ہزار منتخب سپاہیوں کو میدان میں اتارا، لیکن حیرہ کے قریب ہونے والی جنگ میں انہیں شکست ہوئی اور مہران مارا گیا۔ حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ نے پل بند کروا دیا، جس کے باعث ایرانی فوج کی بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔ اس فتح کے بعد مسلمان دوبارہ عراق کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے اور سورا، کسکر، صراۃ اور فلالیح جیسے علاقے ان کے زیرِنگیں آگئے۔
یہ خبریں مدائن پہنچیں تو ایران میں نئی اصلاحات شروع ہوئیں اور بالآخر یزدگرد سوم ساسانی سلطنت کا حکمران بنا۔ سلطنت کو ازسرِنو منظم کیا گیا، فوجی قلعوں کو مضبوط بنایا گیا اور مسلمانوں کے زیرِقبضہ علاقوں میں بغاوتیں کرائی گئیں۔ نتیجتاً کئی علاقے دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئے اور حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ عرب کی سرحد کی طرف واپس ہٹنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے عرب قبائل کو متحد ہونے کی دعوت دی اور حضرت عمرؓ کو ایرانی تیاریوں سے تفصیل سے آگاہ کیا۔
معرکۂ قادسیہ اور فتحِ مدائن و جلولا
حضرت عمرؓ نے اس مرحلے پر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو تقریباً بیس ہزار مجاہدین کے ساتھ عراق کی فیصلہ کن مہم پر روانہ کیا۔ اس لشکر میں بدر اور فتح مکہ کے متعدد ممتاز صحابہ کرام شامل تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ شراف پہنچے، لیکن اسی دوران حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ کا انتقال ہوگیا، حضرت سعدؓ کو ان کی وصیتیں اور جنگی مشورے پہنچائے گئے۔ حضرت عمرؓ عراق کے جغرافیے سے بخوبی واقف تھے، اس لیے وہ مسلسل خطوط کے ذریعے فوجی نقل و حرکت، پڑاؤ، رسد اور دفاعی انتظامات کی رہنمائی کرتے رہے۔ انہی ہدایات کے مطابق حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے شراف سے آگے بڑھ کر قادسیہ کو مستقل جنگی مرکز بنایا۔
اس سے پہلے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے متعدد اکابر صحابہ پر مشتمل وفود یزدگرد کے دربار بھیجے تاکہ اسے اسلام قبول کرنے یا جزیہ دینے کی دعوت دی جائے، مگر ایرانی دربار نے اس دعوت کو قبول نہ کیا۔ کئی ماہ تک دونوں فوجیں آمنے سامنے رہیں۔ رستم ساٹھ ہزار کے لشکر کے ساتھ ساباط میں پڑا رہا اور حتی الامکان جنگ سے گریز کرتا رہا، لیکن بالآخر وہ بھی قادسیہ کے میدان میں آگیا۔ قادسیہ کی جنگ اسلامی تاریخ کی فیصلہ کن جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ کئی دن تک جاری رہی۔
پہلے دن، جسے یومِ ارماث کہا جاتا ہے، دونوں افواج نے زبردست جنگ کی، مگر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ دوسرے دن، یعنی یومِ اغواث، شام سے مسلمانوں کی تازہ کمک میدان میں پہنچ گئی۔ اسی دوران حضرت عمرؓ کا قاصد بھی انعامات لے کر آیا اور اعلان کیا کہ یہ انعام ان مجاہدین کے لیے ہیں جو ان کا حق ادا کریں گے۔ اس اعلان نے مسلمانوں کے حوصلے مزید بلند کر دیے، لیکن اس دن بھی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ تیسرے دن، جسے یومِ عماس کہا جاتا ہے، مسلمانوں نے ایرانی جنگی ہاتھیوں کا مؤثر توڑ نکالا۔ بعض تجربہ کار افراد کے مشورے سے ہاتھیوں کی آنکھوں اور سونڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حضرت قعقاع بن عمروؓ اور دیگر جانبازوں نے اس حکمتِ عملی پر عمل کیا، جس سے ہاتھی بدک کر میدان چھوڑ گئے اور ایرانی صفوں میں انتشار پھیل گیا۔ اسی رات، جسے لیلۃ الہریر کہا جاتا ہے، پوری رات شدید جنگ جاری رہی۔ آخرکار رستم زخمی ہو کر فرار ہونے لگا، مگر ایک مجاہد صحابی نے اسے پکڑ کر قتل کر دیا۔ رستم کی موت کے ساتھ ہی ایرانی فوج کا حوصلہ ٹوٹ گیا اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا اور فیصلہ کن فتح حاصل کی۔
قادسیہ کی اس عظیم کامیابی کے بعد مسلمانوں نے بابل، کوثی، بہرہ شیر اور بالآخر ساسانی دارالحکومت مدائن پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد جلولا کا معرکہ پیش آیا، جہاں طویل محاصرے کے بعد فتح حاصل ہوئی۔ حضرت قعقاعؓ نے حلوان پہنچ کر اعلان کرایا کہ جو اسلام قبول کرے یا جزیہ ادا کرے، اسے امن دیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد بہت سے مقامی سردار مسلمانوں کے مطیع ہوگئے۔
ایران کی فیصلہ کن فتح اور ساسانی سلطنت کا خاتمہ
عراق کی فتح کے باوجود یزدگرد سوم نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے مرو کو اپنا مرکز بنایا اور پورے ایران میں مسلمانوں کے خلاف مزاحمت کی اپیل کی۔ اس کے نتیجے میں ایک بہت بڑا لشکر جمع ہوا جس کی قیادت مختلف ایرانی امراء نے سنبھالی۔ حضرت عمرؓ نے اس خطرے کے مقابلے کے لیے حضرت نعمان بن مقرنؓ کو تقریباً تیس ہزار مجاہدین کے ساتھ روانہ کیا۔ نہاوند کے مقام پر سخت جنگ ہوئی۔ اس معرکے میں حضرت نعمان بن مقرنؓ شہید ہوگئے تو حضرت حذیفہ بن یمانؓ نے سپہ سالاری سنبھالی اور جنگ جاری رکھی۔ آخرکار ایرانی فوج کو فیصلہ کن شکست ہوئی۔ اس عظیم کامیابی کو مسلمانوں نے فتح الفتوح کا نام دیا، کیونکہ اس کے بعد سلطنتِ ساسانیہ کی مرکزی قوت عملاً ٹوٹ گئی۔
نہاوند کی فتح کے بعد حضرت عمرؓ نے حالات کو دیکھتے ہوئے مزید مہمات کی اجازت دی اور مختلف اسلامی لشکر ایران کے مختلف علاقوں کی طرف روانہ کیے گئے۔ مختصر عرصے میں ایران کے بیشتر علاقے اسلامی ریاست کے زیرِنگیں آگئے اور ساسانی سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔ یزدگرد سوم مختلف علاقوں میں پناہ لیتا پھرا، حتیٰ کہ ترک حکمران (خاقان) سے بھی مدد طلب کی، مگر کوئی مستقل کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ بالآخر وہ بے سروسامانی کی حالت میں دربدر ہوتا رہا اور اس کی سلطنت ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی۔
مدینہ میں ان فتوحات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا گیا، اور حضرت عمرؓ مسلمانوں کو یہ نصیحت کرتے رہے کہ اقتدار اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، اگر وہ بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے ہٹ گئے تو حکومت ان سے بھی چھین لی جائے گی، کیونکہ اقتدار کا حقیقی مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے: ’’اللهم مالك الملك تؤتی الملك من تشاء وتنزع الملك ممن تشاء وتعز من تشاء وتذل من تشاء بيدك الخير‘‘۔
فتوحاتِ شام
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہدِ خلافت میں شام کے کئی اہم علاقے، جن میں اجنادین، بصریٰ اور متعدد چھوٹے شہر شامل تھے، اسلامی ریاست میں شامل ہو چکے تھے۔
فتحِ دمشق اور جنگِ فحل
جب حضرت عمرؓ منصبِ خلافت پر فائز ہوئے تو دمشق مسلمانوں کے محاصرے میں تھا۔ مسلمان افواج نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی نمایاں عسکری قیادت کے ساتھ رجب ۱۴ ہجری میں دمشق فتح کیا۔ یہ فتح شام میں اسلامی پیش قدمی کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔ دمشق کی فتح نے سلطنتِ روم کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔ قیصرِ روم نے شام کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں فوجیں جمع کر کے بیسان کے قریب مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی تیاری کی۔ مسلمانوں نے بھی فحل کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ جنگ سے قبل مسلمانوں کی طرف سے سفارتی مذاکرات کی کوشش کی گئی لیکن فریقین کے درمیان کسی معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔
چنانچہ ذوالقعدہ ۱۴ ہجری میں جنگِ فحل پیش آئی۔ کئی دن تک شدید لڑائی جاری رہی اور آخری معرکہ نہایت خونریز ثابت ہوا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور رومی فوج پسپا ہوگئی۔ اس کامیابی کے بعد اردن کے بیشتر شہر اور علاقے اسلامی اقتدار میں آگئے۔ فتح کے بعد مسلمانوں نے مفتوحہ علاقوں کے باشندوں کو ذمی کی حیثیت سے امن دیا اور اعلان کیا کہ ان کی جان، مال، زمینیں، مکانات، گرجا گھر اور دیگر عبادت گاہیں مکمل طور پر محفوظ رہیں گی۔ اس عادلانہ طرزِ حکومت نے مقامی آبادی میں اعتماد پیدا کیا اور بہت سے لوگوں نے اسلامی اقتدار کو اطمینان کے ساتھ قبول کیا۔
حمص اور ساحلی علاقوں کی فتوحات
دمشق اور اردن کے استحکام کے بعد اسلامی لشکر شمال کی طرف بڑھا۔ راستے میں بعلبک، حماۃ اور معرۃ النعمان سمیت کئی اہم مقامات فتح ہوتے گئے، یہاں تک کہ مسلمان حمص پہنچ گئے۔ حمص کا کچھ عرصہ محاصرہ جاری رہا، لیکن آخرکار اہلِ شہر نے مصالحت کو قبول کر لیا۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے وہاں انتظامی ذمہ دار مقرر کیے اور خود ساحلی علاقوں کی طرف پیش قدمی کی۔ اس کے بعد لاذقیہ کا رخ کیا گیا، جو اپنے مضبوط قلعوں اور دفاعی انتظامات کے باعث ایک اہم فوجی مرکز سمجھا جاتا تھا۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے نہایت مؤثر جنگی تدبیر اختیار کی، جس کے نتیجے میں لاذقیہ بھی مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔ حمص اور لاذقیہ کی فتوحات کے بعد اسلامی لشکر نے قیصرِ روم کے اہم مرکز انطاکیہ کی جانب بڑھنے کا ارادہ کیا، لیکن مدینہ منورہ سے حضرت عمرؓ کا حکم پہنچا جس کے مطابق کچھ عرصہ فتوحات کو مستحکم کرنے پر توجہ دی گئی۔ چنانچہ اسلامی فوجیں اسی مقام سے واپس آگئیں اور اپنی فتوحات کو مضبوط بنانے میں مصروف ہوگئیں۔
رومیوں کی فیصلہ کن تیاری
دمشق، حمص اور لاذقیہ کی مسلسل شکستوں نے قیصرِ روم کو سخت مشتعل کر دیا۔ اس نے سلطنت کے مختلف حصوں سے عظیم فوج جمع کی اور انطاکیہ کو اپنی جنگی تیاریوں کا مرکز بنایا۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو شام سے مکمل طور پر بے دخل کرنا تھا۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد اپنے تمام فوجی کمانڈروں سے مشورہ کیا۔ اس مشورے کے نتیجے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ منتشر افواج کو واپس بلا کر ایک ہی مقام پر مجتمع کیا جائے تاکہ رومیوں کے فیصلہ کن حملے کا متحد ہو کر مقابلہ کیا جا سکے۔ چنانچہ مسلمانوں نے بعض مفتوحہ علاقوں سے وقتی طور پر انخلا کیا اور دمشق کے گرد اپنی قوت مجتمع کر لی۔
اس فیصلے کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو اسلامی عدل و دیانت کی روشن مثال سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ مسلمان اب وقتی طور پر ان علاقوں کے باشندوں کی حفاظت کی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتے تھے، اس لیے ان سے وصول کیا گیا جزیہ واپس کر دیا گیا۔ اس غیر معمولی دیانت داری نے مقامی عیسائیوں اور یہودیوں کے دل جیت لیے۔ روایت ہے کہ بہت سے لوگ رنجیدہ ہو کر مسلمانوں کے لیے دعائیں کرتے اور کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ جلد واپس لائے، کیونکہ انہوں نے ان جیسا عادل حکمران کبھی نہیں دیکھا۔ حضرت عمرؓ کو جب صورتحال سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے فوجی کمانڈروں کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے فرمایا کہ یقیناً اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی مصلحت ہوگی۔
معرکۂ یرموک: شام کی قسمت کا فیصلہ
فوجی نقطۂ نظر سے دریائے یرموک کے قریب واقع میدان اس عظیم معرکے کے لیے نہایت موزوں تھا، چنانچہ یہی مقام فیصلہ کن جنگ کے لیے منتخب کیا گیا۔ رومی فوج کی تعداد مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ تھی۔ مختلف تاریخی روایات میں اس کی تعداد کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم یہ بات مسلم ہے کہ رومی لشکر عددی اعتبار سے مسلمانوں پر نمایاں برتری رکھتا تھا، جبکہ مسلمانوں کی تعداد تقریباً تیس سے چالیس ہزار کے درمیان تھی۔ اگرچہ تعداد کم تھی، لیکن ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار صحابہ کرام شریک تھے جن میں اہلِ بدر اور دیگر نامور مجاہدین بھی شامل تھے۔ ان کے علاوہ عرب کے وہ قبائل بھی شریک تھے جو اپنی جنگی مہارت اور شجاعت کے لیے مشہور تھے۔
ابتدائی جھڑپوں کے بعد رجب ۱۵ ہجری میں فیصلہ کن جنگ شروع ہوئی۔ رومیوں کا جوش اس قدر تھا کہ ان کے ہزاروں سپاہیوں نے میدان سے نہ بھاگنے کے عزم کے اظہار کے لیے اپنے آپ کو زنجیروں سے باندھ لیا تھا، جبکہ بشپ اور راہب صلیبیں اٹھائے سپاہیوں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ دونوں لشکروں کے درمیان نہایت سخت اور خونریز جنگ ہوئی۔ کئی گھنٹوں تک معرکہ جاری رہا، مگر مسلمانوں کی ثابت قدمی، بہترین عسکری نظم اور غیر معمولی شجاعت کے سامنے رومی فوج زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی۔ آخرکار ان کی صفیں ٹوٹ گئیں اور وہ میدان چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔
جنگِ یرموک سلطنتِ روم کے لیے ایک فیصلہ کن شکست ثابت ہوئی۔ اس معرکے کے بعد شام پر رومی اقتدار عملاً ختم ہوگیا۔ روایت ہے کہ جب قیصر ہرقل کو اس شکست کی اطلاع ملی تو اس نے شام کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا: ’’سلام ہو اے شام! اب تم سے ہمیشہ کے لیے جدائی ہے‘‘۔ اس کے بعد وہ قسطنطنیہ واپس چلا گیا۔
مدینہ منورہ میں اس عظیم فتح کی خبر پہنچی تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا گیا۔ فتحِ یرموک کے بعد اسلامی فوجوں نے شام کے مختلف علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کی۔ قنسرین، انطاکیہ، سرمین، قورس، تل غرار، ولوک، رعیان اور متعدد دوسرے شہر اور قلعے یکے بعد دیگرے اسلامی اقتدار میں شامل ہوتے گئے۔ اس طرح شام میں رومی سلطنت کی سیاسی اور فوجی طاقت کا خاتمہ ہوگیا اور شام کا بیشتر حصہ اسلامی اقتدار میں آگیا۔
فلسطین کی مہم اور بیت المقدس کی فتح
شام کے جنوبی علاقوں کی فتح کے بعد حضرت عمرؓ نے فلسطین کی مہم حضرت عمرو بن العاصؓ کے سپرد کی۔ انہوں نے نہایت کامیابی کے ساتھ فلسطین کے مختلف علاقوں میں پیش قدمی کی اور یکے بعد دیگرے نابلس، لُد، عمواس، بیت جبرین اور متعدد دوسرے اہم مقامات کو اسلامی ریاست کے زیرِنگیں کر لیا۔ ان فتوحات کے بعد مسلمانوں نے ایلیا (بیت المقدس) کا رخ کیا، جو اس وقت رومی سلطنت کا ایک نہایت اہم مذہبی اور سیاسی مرکز تھا۔
بیت المقدس کا محاصرہ اور صلح کی پیشکش
حضرت عمرو بن العاصؓ نے بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا۔ کچھ ہی عرصے بعد حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ بھی شام کے دوسرے محاذوں سے فارغ ہو کر اس محاصرے میں شریک ہوگئے۔ شہر کے باشندوں نے کئی ہفتوں تک دفاع جاری رکھا، لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ مزید مزاحمت سودمند نہیں رہی تو انہوں نے صلح کی خواہش ظاہر کی۔ اہلِ بیت المقدس نے یہ شرط پیش کی کہ وہ شہر کی کنجیاں صرف اس صورت میں مسلمانوں کے حوالے کریں گے جب خود امیر المؤمنین حضرت عمرؓ تشریف لا کر معاہدۂ صلح کریں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ انہیں براہِ راست اسلامی حکومت کی ضمانت حاصل ہو اور مستقبل میں ان کے مذہبی اور شہری حقوق محفوظ رہیں۔
حضرت عمرؓ کا سفرِ بیت المقدس
جب یہ اطلاع مدینہ منورہ پہنچی تو روایات کے مطابق حضرت عمرؓ نے ممتاز صحابہ کرام سے مشورہ کیا اور سب کی رائے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا، جبکہ حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ اور دیگر اکابر صحابہ نے بھی اس فیصلے کی تائید کی۔
چنانچہ رجب ۱۶ ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نہایت سادہ انداز میں مدینہ سے شام کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ سفر اسلامی تاریخ میں سادگی، تواضع اور عدل کی ایک روشن مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ کے ہمراہ صرف ایک خادم تھا اور دونوں ایک ہی اونٹ پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ راستے میں جب خادم کی باری آتی تو وہ سواری کرتا اور حضرت عمرؓ اونٹ کی نکیل پکڑ کر پیدل چلتے۔ روایت ہے کہ جب بیت المقدس کے قریب پہنچنے کا وقت آیا تو اتفاقاً سواری کی باری خادم کی تھی، چنانچہ امیر المؤمنین خود پیدل چل رہے تھے۔ بعض لوگوں نے عرض کیا کہ اہلِ شہر آپ کو اس حالت میں دیکھیں گے تو شاید مسلمانوں کی ہیبت کم ہو جائے، لیکن حضرت عمرؓ نے اس مشورے کو قبول نہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اسلام کے ذریعے عزت عطا کی ہے، اگر وہ عزت کے لیے کسی اور ذریعہ کی تلاش کریں گے تو اللہ انہیں ذلیل کر دے گا۔
جابیہ میں معاہدۂ صلح (عہدِ عمری)
شام پہنچنے پر اسلامی لشکر کے سپہ سالاروں نے مقامِ جابیہ میں حضرت عمرؓ کا استقبال کیا۔ جابیہ میں قیام کے بعد حضرت عمرؓ بیت المقدس تشریف لے گئے، جہاں معاہدۂ صلح پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ یہ معاہدہ بعد میں عہدِ عمری کے نام سے مشہور ہوا، جس میں اہلِ شہر کی جان، مال، عبادت گاہوں، اور مذہبی آزادی کے مکمل تحفظ کی ضمانت دی گئی۔ ساتھ ہی یہ بھی طے پایا کہ کسی گرجا کو منہدم نہیں کیا جائے گا، نہ ہی کسی شخص کو اس کے مذہب سے زبردستی ہٹایا جائے گا۔ معاہدہ مکمل ہونے کے بعد حضرت عمرؓ بیت المقدس میں داخل ہوئے، شہر کا جائزہ لیا اور اس مقام کی زیارت کی جہاں مسجدِ اقصیٰ واقع ہے۔ بعد میں اموی دور میں اس مسجد کی موجودہ عظیم عمارت تعمیر ہوئی۔ روایات کے مطابق اس وقت وہ جگہ طویل عرصے کی بے توجہی کے باعث ملبے سے ڈھکی ہوئی تھی۔ حضرت عمرؓ نے خود اپنے ہاتھوں سے اس کی صفائی میں حصہ لیا اور مسلمانوں کو بھی اس کام میں شریک ہونے کی ترغیب دی۔
بعد ازاں حضرت عمرؓ کو شہر کے ایک بڑے گرجا کا معائنہ کرایا گیا۔ اسی دوران نماز کا وقت ہوگیا۔ عیسائی پیشواؤں نے احتراماً انہیں گرجا کے اندر نماز ادا کرنے کی دعوت دی، لیکن حضرت عمرؓ نے اس پیش کش کو قبول نہیں کیا، گرجا سے باہر تشریف لائے اور وہاں نماز ادا کی۔ پھر فرمایا کہ اگر میں گرجا کے اندر نماز پڑھ لوں تو ممکن ہے آئندہ مسلمان اسے دلیل بنا کر اس عبادت گاہ پر اپنا حق جتانے لگیں، جبکہ اسلامی حکومت کا عہد اس کی حفاظت کا ضامن ہے۔ اس طرح حضرت عمرؓ نے مذہبی رواداری اور عدل کا ایک ایسا نمونہ پیش کیا جو دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا گیا۔
شام کے انتظامی امور کی تنظیم
بیت المقدس میں چند روز قیام کے بعد حضرت عمرؓ نے شام کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، سرحدی انتظامات کا جائزہ لیا، فوجی چھاؤنیوں اور انتظامی امور کو منظم کیا، مقامی حکام کو ضروری ہدایات دیں، اور اس کے بعد خیریت کے ساتھ مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئے۔
بیت المقدس کی فتح اگرچہ شام کی مہم کا اہم ترین سنگِ میل تھی، لیکن اس کے بعد بھی مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں۔ رومی سلطنت نے اہلِ جزیرہ اور دوسرے عیسائی قبائل کی مدد سے بعض علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کی، خصوصاً حمص کو واپس لینے کی ایک بڑی مہم چلائی گئی، مگر مسلمان ثابت قدم رہے اور رومی اس کوشش میں ناکام رہے۔
قیصریہ اور شام کے دیگر علاقوں کی فتوحات
فلسطین میں قیصریہ (قیساریہ) اس خطے کا ایک مضبوط، خوشحال اور ساحلی تجارتی مرکز تھا۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے اس کا محاصرہ کیا، لیکن شہر کی مضبوط فصیلوں اور بحری امداد کے باعث یہ فوری طور پر فتح نہ ہو سکا۔ کئی برس تک مختلف اوقات میں محاصرہ جاری رہا، یہاں تک کہ ۱۹ ہجری کے قریب حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ کی قیادت میں شہر فتح ہوا اور فلسطین میں رومی اقتدار کا ایک اور اہم مرکز مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔ اسی دوران ۱۶ ہجری میں حضرت عیاض بن غنمؓ نے جزیرہ (بالائی بین النہرین) کی طرف پیش قدمی کی۔ تکریت کا محاصرہ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہا اور متعدد حملوں کے بعد شہر فتح ہوا۔ اس کے بعد جزیرہ کے دوسرے اہم علاقے بھی یکے بعد دیگرے اسلامی ریاست میں شامل ہوتے گئے۔
خوزستان اور شوستر کی فتح
عراق کے مشرقی محاذ پر خوزستان کی مہم بھی جاری رہی۔ ابتدا میں حضرت مغیرہ بن شعبہؓ اس محاذ کے نگران تھے، لیکن بعد میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو اس کی ذمہ داری سونپی گئی۔ انہوں نے اہواز، مناذر، سوس اور رامہرمز سمیت کئی اہم علاقوں کو فتح کیا اور بالآخر خوزستان کے مضبوط دارالحکومت شوستر کا محاصرہ کر لیا۔ شوستر ایک نہایت مستحکم قلعہ بند شہر تھا، جسے براہِ راست فتح کرنا آسان نہ تھا۔ آخرکار ایک مقامی شخص کی راہنمائی سے مسلمانوں نے زیرِزمین راستے کے ذریعے شہر میں داخل ہونے میں کامیابی حاصل کی اور قلعہ فتح کر لیا۔ اس مہم میں ایرانی سپہ سالار ہرمزان گرفتار ہو کر مدینہ منورہ بھیجا گیا۔ وہاں اس نے بعد میں اسلام قبول کر لیا۔ حضرت عمرؓ نے اس کے ساتھ حسنِ سلوک کا برتاؤ کیا، اسے مدینہ میں رہائش کی اجازت دی اور اس کے لیے وظیفہ بھی مقرر فرمایا۔
ان مسلسل فتوحات کے نتیجے میں شام، فلسطین، جزیرہ اور خوزستان میں اسلامی اقتدار مضبوط ہوتا گیا اور حضرت عمرؓ کے عہد میں اسلامی ریاست ایک وسیع اور منظم نظامِ خلافت میں تبدیل ہو گئی۔
فتوحاتِ مصر
شام اور فلسطین کی فیصلہ کن فتوحات کے بعد اسلامی ریاست کی سرحدیں مصر سے ملنے لگیں۔ اس زمانے میں مصر سلطنتِ روم (بازنطینی سلطنت) کا ایک نہایت اہم صوبہ تھا۔ زرعی پیداوار، تجارتی اہمیت اور بحیرۂ روم پر اس کے ساحلی مراکز کی وجہ سے اسے رومی سلطنت کی معاشی شہ رگ سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ مصر پر رومی اقتدار قائم تھا، لیکن مقامی قبطی آبادی مذہبی اختلافات اور حکومتی مظالم کے باعث رومی حکومت سے مطمئن نہ تھی۔
حضرت عمرو بن العاصؓ کی مصر روانگی
حضرت عمرو بن العاصؓ، جو شام کی فتوحات میں نمایاں کردار ادا کر چکے تھے، اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ جب تک مصر رومی اقتدار میں رہے گا، شام کی سرحدیں مستقل خطرے سے دوچار رہیں گی۔ اسی بنا پر انہوں نے حضرت عمرؓ سے مصر کی مہم کی اجازت طلب کی۔ ابتدا میں حضرت عمرؓ نے احتیاط کے پیشِ نظر تردد کا اظہار کیا، لیکن حضرت عمرو بن العاصؓ کے اصرار اور حالات کے جائزے کے بعد بالآخر انہیں محدود فوج کے ساتھ پیش قدمی کی اجازت دے دی۔ روایات کے مطابق حضرت عمرؓ نے ایک خط بھیجا تھا کہ اگر تم مصر کی سرحد میں داخل ہونے سے پہلے میرا خط پا لو تو واپس آ جانا، اور اگر سرحد پار کر چکے ہو تو آگے بڑھنا۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے سرحد عبور کرنے کے بعد خط کھولا۔
حضرت عمرو بن العاصؓ تقریباً چار ہزار مجاہدین کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں انہوں نے سرحدی علاقوں کو فتح کرتے ہوئے فرما، بلبیس، ام دنین اور متعدد دوسرے مقامات کو اسلامی اقتدار میں شامل کر لیا۔ ان کامیابیوں کے بعد اسلامی لشکر نے مصر کے مضبوط ترین فوجی مرکز بابلیون کے قلعے کے قریب پہنچ اس کا محاصرہ کر لیا۔ بعد میں اسی کے قرب میں فسطاط شہر آباد کیا گیا۔
بابلیون کے قلعے کا محاصرہ اور فتح
بابلیون کا قلعہ مضبوط فصیلوں، گہری خندقوں اور رومی فوج کے باعث نہایت مستحکم سمجھا جاتا تھا۔ محاصرہ طویل ہونے لگا تو حضرت عمرو بن العاصؓ نے مدینہ منورہ میں حضرت عمرؓ سے مزید کمک کی درخواست کی۔ حضرت عمرؓ نے تقریباً دس ہزار مجاہدین پر مشتمل امدادی لشکر روانہ کیا۔ اس لشکر کے ساتھ چار ممتاز صحابہ کرام شامل تھے: حضرت زبیر بن العوامؓ، حضرت عبادہ بن صامتؓ، حضرت مقداد بن عمروؓ اور حضرت سلمہ بن مخلدؓ۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے حضرت زبیر بن العوامؓ کے مقام و مرتبہ اور عسکری تجربے کے پیشِ نظر انہیں لشکر کی اہم قیادت سونپی۔ تقریباً سات ماہ تک محاصرہ جاری رہا۔ بالآخر حضرت زبیر بن العوامؓ نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چند منتخب مجاہدین کے ساتھ رات کی تاریکی میں قلعے کی فصیل پر چڑھائی کی۔ اس کارروائی نے قلعے کے دفاعی نظام کو منتشر کر دیا اور مسلمانوں نے بابلیون پر قبضہ کر لیا۔ اس فتح کے بعد مصر میں رومی اقتدار کی بنیادیں کمزور ہونا شروع ہو گئیں۔
اسکندریہ کی فتح اور رومی اقتدار کا خاتمہ
بابلیون کی فتح کے بعد اسلامی لشکر نے اسکندریہ کی طرف پیش قدمی کی، جو مصر کا سب سے بڑا شہر، بحری اڈہ اور رومی حکومت کا مرکزی انتظامی مرکز تھا۔ راستے میں مختلف مقامات پر رومی فوج نے مزاحمت کی، جن میں کریون اور دوسرے علاقوں کی لڑائیاں قابلِ ذکر ہیں، لیکن ہر معرکے میں مسلمانوں کو کامیابی حاصل ہوئی۔ بالآخر اسلامی فوج اسکندریہ پہنچ گئی اور شہر کا محاصرہ کر لیا۔ اسکندریہ مضبوط فصیلوں، بلند برجوں اور بحری راستوں کی وجہ سے ایک نہایت محفوظ شہر سمجھا جاتا تھا، اس لیے اس کا محاصرہ کئی ماہ تک جاری رہا۔ مسلسل دباؤ اور مختلف مذاکرات کے بعد رومی حکام نے شہر مسلمانوں کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی اور معاہدۂ صلح طے پایا، جس کے تحت مقامی آبادی کی جان و مال، عبادت گاہوں اور مذہبی آزادی کو مکمل تحفظ دیا گیا۔
مصر میں اسلامی نظمِ حکومت کا قیام
جب حضرت عمرؓ کو مصر کی اس عظیم فتح کی خبر پہنچی تو مدینہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا گیا اور اس کامیابی کو اسلامی ریاست کے لیے ایک بڑی نعمت قرار دیا۔ اسکندریہ کی فتح کے بعد مصر کا بیشتر حصہ اسلامی اقتدار میں آ گیا۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے انتظامی مرکز کے طور پر بابلیون کے قریب ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی، جو بعد میں فسطاط کے نام سے مشہور ہوا۔ یہی شہر کئی صدیوں تک مصر کا دارالحکومت رہا اور بعد میں قاہرہ کی آبادی اسی کے گرد پروان چڑھی۔ اسلامی حکومت کے قیام کے بعد مصر میں ایک منظم انتظامی نظام نافذ کیا گیا۔ مقامی قبطی آبادی کو مذہبی آزادی دی گئی، ان کی عبادت گاہوں اور املاک کا تحفظ کیا گیا اور محصولات کے نظام میں بھی اعتدال اختیار کیا گیا۔ رومی دور کی مذہبی سختیوں کے خاتمے کے باعث بہت سے قبطیوں نے اسلامی حکومت کا خیر مقدم کیا، جبکہ بعد کے ادوار میں ان میں سے ایک بڑی تعداد نے اپنی رضامندی سے اسلام قبول کیا۔
مصر کی فتح نے اسلامی ریاست کو صرف ایک نئے صوبے کا اضافہ ہی نہیں دیا، بلکہ بحیرۂ روم کے جنوبی ساحل پر اس کی سیاسی اور عسکری حیثیت کو بھی مضبوط کیا۔ اس کامیابی کے نتیجے میں شمالی افریقہ کی آئندہ فتوحات کی راہ ہموار ہوئی اور اسلامی ریاست کی سرحدیں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئیں۔ اسکندریہ فتح ہونے کے چند برس بعد، حضرت عثمانؓ کے دور میں، رومیوں نے دوبارہ اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ ناکام رہے۔
آخری ایام اور شہادت
خلیفۂ ثانی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تقریباً دس برس تک اسلامی ریاست کی قیادت کی۔ اس عرصے میں اسلامی سلطنت عرب سے نکل کر عراق، شام، مصر اور ایران کے وسیع علاقوں تک پھیل گئی۔ انہوں نے صرف فتوحات ہی نہیں کیں بلکہ عدل و انصاف قائم کیا اور مضبوط انتظامی نظم کے ساتھ بیت المال، عدلیہ، شرطہ (پولیس)، اندراجات (مالی، فوجی، آبادی)، صوبائی نظم و نسق اور عوامی فلاح کے ایسے ادارے قائم کیے جنہوں نے اسلامی حکومت کی مستقل بنیادیں استوار کیں۔
اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی حضرت عمرؓ معمول کے مطابق رعایا کے مسائل سنتے، بیت المال کی نگرانی کرتے اور گورنروں کے معاملات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ انہی دنوں حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے ایک فارسی غلام فیروز — جس کی کنیت ابو لؤلؤ تھی — نے حضرت عمرؓ سے اپنے آقا کی طرف سے مقرر کیے گئے محصول کی شکایت کی۔ حضرت عمرؓ نے اس کی بات سنی اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد محسوس کیا کہ اس پر عائد ذمہ داری اس کی صلاحیت کے مطابق ہے، اس لیے اس میں کمی مناسب نہیں۔ یہ فیصلہ ابو لؤلؤ کو ناگوار گزرا اور اس کے بعد اس نے حضرت عمرؓ کے قتل کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔
ابو لؤلؤ کا حملہ
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کئی روز تک منصوبہ بندی کی اور ایک دو دھاری خنجر تیار کیا، جسے زہر میں بھی بجھایا گیا تھا۔ آخرکار ۲۶ ذوالحجہ ۲۳ ہجری کی صبح، جب حضرت عمرؓ مسجد نبوی میں فجر کی نماز کی امامت کر رہے تھے، ابو لؤلؤ صفوں میں چھپ کر کھڑا ہو گیا۔ نماز شروع ہوتے ہی اس نے اچانک آگے بڑھ کر حضرت عمرؓ پر پے در پے خنجر کے کئی وار کیے، ان میں سے متعدد وار ان کے جسم پر لگے اور ایک گہرا زخم ناف کے نیچے لگا، جو بعد میں جان لیوا ثابت ہوا۔ حملے کے بعد قاتل نے مسجد سے فرار ہونے کی کوشش کی اور راستے میں جو شخص اسے روکنے آیا، اس پر بھی خنجر سے حملہ کرتا گیا۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ اب فرار ممکن نہیں تو اس نے خود اپنے ہی خنجر سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
حضرت عمرؓ شدید زخمی ہو کر زمین پر گر پڑے۔ فوراً حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو اشارہ فرمایا کہ وہ آگے بڑھ کر نماز مکمل کرائیں۔ حضرت عبدالرحمٰن نے مختصر قراءت کے ساتھ نماز مکمل کرائی، جبکہ مسلمان شدید رنج و اضطراب کی کیفیت میں اپنے خلیفہ کی طرف متوجہ تھے۔ حضرت عمرؓ کو ان کے گھر منتقل کیا گیا۔ طبیبوں نے زخموں کا معائنہ کیا۔ جب دودھ پلایا گیا تو وہ زخم کے راستے باہر نکل آیا، جس سے اندازہ ہو گیا کہ زخم انتہائی گہرا ہے اور صحت یابی کی امید بہت کم رہ گئی ہے۔ اسی دوران حضرت عمرؓ نے دریافت فرمایا کہ حملہ آور کون تھا۔ جب بتایا گیا کہ وہ ایک فارسی غلام ابو لؤلؤ تھا تو انہوں نے فرمایا: الحمد للہ! میری موت ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں ہوئی جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہو۔
خلافت کے لیے مجلسِ شوریٰ کا قیام
اس نازک حالت میں بھی حضرت عمرؓ کی سب سے بڑی فکر امت کا مستقبل تھا۔ انہوں نے خلافت کے مسئلے کو باہمی اختلاف کا سبب بننے سے بچانے کے لیے چھ ممتاز صحابہ کرام پر مشتمل ایک مجلسِ شوریٰ قائم کی، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں جنت کی بشارت دی تھی۔ حضرت عمرؓ نے ہدایت فرمائی کہ یہ حضرات باہمی مشورے سے تین دن کے اندر اپنے میں سے ایک شخص کو خلیفہ منتخب کر لیں، تاکہ امت انتشار کا شکار نہ ہو:
- حضرت عثمان بن عفانؓ
- حضرت علی بن ابی طالبؓ
- حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ
- حضرت زبیر بن العوامؓ
- حضرت سعد بن ابی وقاصؓ
- حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ
آخری وصیتیں
اس کے بعد حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے حضرت عبد اللہؓ کو کئی اہم وصیتیں کیں۔ بیت المال کے حقوق کی ادائیگی، اپنے ذمے موجود قرض کی ادائیگی اور مہاجرین، انصار، سرحدوں پر مقیم مجاہدین، اہلِ ذمہ اور عام رعایا کے ساتھ حسنِ سلوک کی خصوصی تلقین فرمائی۔ فرمایا کہ اگر میری جائیداد سے قرض ادا ہو جائے تو بہتر، ورنہ پہلے قبیلہ بنو عدی سے مدد طلب کرنا اور اگر وہاں سے بھی پوری رقم نہ ملے تو قریش سے کہنا، لیکن اس کے بعد کسی اور کو تکلیف نہ دینا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک بڑی خواہش یہ تھی کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں دفن ہونے کی سعادت حاصل ہو۔ چنانچہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا کہ وہ اس کی اجازت طلب کریں۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ وہ اس جگہ کو اپنے لیے محفوظ رکھنا چاہتی تھیں، لیکن آج وہ حضرت عمرؓ کو اپنی ذات پر ترجیح دیتی ہیں۔
وفات اور روضۂ رسولؐ کے پہلو میں تدفین
چند روز تک زخموں کی شدت برداشت کرنے کے بعد حضرت عمرؓ یکم محرم ۲۴ ہجری کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً تریسٹھ برس تھی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی عمر کے قریب تھی۔ حضرت صہیب بن سنانؓ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد انہیں مسجد نبوی کے اس حجرۂ مبارک میں سپردِ خاک کیا گیا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پہلے سے مدفون تھے۔ اس طرح اسلام کے دوسرے خلیفۂ راشد کو اپنے عظیم پیش روؤں کی رفاقت ہمیشہ کے لیے نصیب ہوئی۔
حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت اسلامی تاریخ کا ایک عظیم سانحہ تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی عدل، تقویٰ، سادگی اور عوامی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی۔ ان کا دورِ خلافت اسلامی طرزِ حکمرانی کی تاریخ میں عدل، نظم و نسق، احتساب اور عوامی خدمت کے اعتبار سے ایک مثالی عہد کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے عہد میں اسلامی ریاست ایک مضبوط، منظم اور وسیع ریاستی نظام میں ڈھل گئی۔ جبکہ انصاف، احتساب اور مساوات کے وہ اصول قائم ہوئے جو آج بھی اسلامی حکمرانی کے لیے مشعلِ راہ سمجھے جاتے ہیں۔ اسی لیے مؤرخین حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت کو اسلام کی سیاسی، انتظامی اور تمدنی تاریخ کا ایک سنہرا دور قرار دیتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے وسعت پذیر اسلامی ریاست کو جس حکمت، بصیرت اور انصاف کے ساتھ منظم کیا، اس عظیم دورِ حکومت کی نمایاں خصوصیات اور انتظامی کارناموں کا جائزہ ہم اگلی قسط میں پیش کریں گے۔



















