امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۱)

قرآن کا پیغام تمام انسانیت کی بھلائی اور خیر خواہی کا پیغام ہے، اس کی دعوت جمیع انسانیت کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کی دعوت ہے، اس کا پیش کردہ نظامِ حیات زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہے؛ کیونکہ یہ اسی فاطر السماوات والارض کا بنایا ہوا ہے جس نے زندگی اور اس سے متعلق تمام چیزوں کو اپنے لامحدود علم اور قدرتِ کاملہ سے پیدا فرمایا ہے۔ یہ دعوت اور نظام ایسی عالمگیر ابدی صداقتوں پر مبنی ہے جو نہ صرف فطرت کے اصولوں اور قوانین کے عین مطابق ہے، بلکہ اس کے تقاضوں کا مثبت جواب بھی ہے؛ کیونکہ اللہ رب العالمین کے قول یعنی قرآن اور فعل یعنی زندگی میں کوئی تضاد نہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت، قرآن کے پیغام یعنی تمام انسانیت کی بھلائی اور خیر خواہی کا عملی نمونہ ہے۔ قرآنی دعوت جمیع انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول کی عملی جدوجہد کا نام ہے؛ اور اس کے پیش کردہ نظامِ حیات کو زندگی کے تمام شعبوں میں عملی طور پر نافذ کرنے کی کامیاب کوشش سے عبارت ہے۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے لے کر قیامت کی صبح تک آنے والی تمام انسانیت — بلا تفریقِ رنگ و نسل اور مذہب و ملت — آپؐ کی امت ہے، یعنی امتِ محمدیہؐ ہے، جس کے لیے آپؐ رحمت کا پیغامبر بن کر تشریف لائے۔ اور آپؐ کا مقصدِ دعوت تعلیم اور تربیت کے ذریعے ایسی امتِ مسلمہ کو تشکیل دینا تھا جو قرآنی نظام کے نفاذ کی کوشش، مقاصدِ شریعت کی تکمیل اور تمام انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول اور تحفظ کی جدوجہد کرتی رہے۔ چنانچہ دعوت، تعلیم اور تربیت کے میدان میں آپؐ کی کامیاب جدوجہد سے جماعتِ صحابہ کرامؓ کی شکل میں ایک امتِ مسلمہ، یعنی امتِ اجابت وجود میں آئی؛ جس نے نہ صرف قرآنی نظام کے نفاذ کو اپنی کوشش سے یقینی بنایا، بلکہ مقاصدِ شریعت کی تکمیل اور تمام انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول اور تحفظ کی کامیاب جدوجہد بھی کی؛ اور باقی تمام انسانیت کے لیے — جسے امتِ دعوت کہا جاتا ہے — خیر اور بھلائی کی علامت بن گئے۔ گویا امتِ محمدیہ دو حصوں پر مشتمل ہے:

  1. ایک حصہ وہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو تسلیم کیا، قرآنی نظام کو نافذ کیا، مقاصدِ شریعت کی تکمیل کی اور تمام انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول اور تحفظ کی جدوجہد میں مصروف ہو گئے۔ یہ حصہ امتِ مسلمہ کہلاتا ہے، جسے امتِ اجابت بھی کہا جاتا ہے۔
  2. دوسرا حصہ وہ ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو تسلیم نہیں کیا، خود ساختہ نظام اپنایا، ذاتی مفادات اور مقاصد کی تکمیل میں مصروف رہا۔ اس حصے کو امتِ دعوت کہا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ قرآنی نظام کے نفاذ، مقاصدِ شریعت کی تکمیل اور تمام انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول اور تحفظ کے حوالے سے آج امتِ مسلمہ کہاں کھڑی ہے؟ کیا اس کی تعمیر و تشکیل اور قیام کا مقصد صرف یہی نہیں تھا کہ وہ قرآنی نظام کو نافذ کرے، مقاصدِ شریعت کی تکمیل کرے، اور تمام انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول اور تحفظ کے حوالے سے اپنے فرائض ادا کرے؟ اگر امتِ مسلمہ کو امتِ دعوت کی طرح خود ساختہ نظاموں پر ہی چلنا تھا، اس کے افراد کو ذاتی مفادات اور مقاصد کی تکمیل ہی میں مصروف رہنا تھا، تو اسے امتِ مسلمہ کہلانے کا حق کیونکر حاصل ہے؟ ان سوالوں کے جواب کا قرض تمام امت کے سر ہے، خصوصاً ان لوگوں کے ذمے ہے جو لیڈری کے زعم میں مبتلا ہیں اور اس شوق میں زار و نزار ہو رہے ہیں۔

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبویؐ منہج

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل اور قیام کے حوالے سے آپؐ کی سنت، طریقہ اور منہج کیا تھا؟ تاکہ اس باب میں آپؐ کی سنت اور آپؐ کے منہج و میتھڈ (Method) کو اپنا کر نئے سرے سے امت کی تعمیر و تشکیل کی جائے؛ اور وہ دوبارہ اپنے فرائضِ منصبی ادا کرنے کے قابل ہو سکے جنہیں تخریب اور انتشار کا شکار ہو کر بھلا چکی ہے۔ لیکن اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ امت کی اس تخریب اور انتشار کی نوعیت کیا ہے اور اس کے اسباب کیا ہیں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امتِ مسلمہ کی داخلی و ذہنی تشکیل بھی فرمائی تھی اور خارجی و بیرونی تنظیم بھی۔ یعنی انہیں ذہنی طور پر بھی نظامِ شریعت کے نفاذ، مقاصدِ شریعت کی تکمیل، اور تمام انسانیت کے مشترکہ مفادات کے حصول اور تحفظ کے لیے تیار کیا، اور عملاً بھی۔ اور جب یہ امت تخریب اور انتشار کا شکار ہوئی تو دونوں طرح سے ہوئی؛ داخلی و ذہنی طور پر بھی اور خارجی و عملی طور پر بھی۔ بلا شبہ امتِ مسلمہ کا خارجی انتشار یعنی سیاسی، معاشی اور معاشرتی افتراق اور انارکی، اس کو درپیش مسائل میں سے اہم ترین مسئلہ ہے؛ لیکن درحقیقت بڑا اور اہم مسئلہ جو اسے درپیش ہے وہ اس کا فکری انتشار، شعوری افتراق، علمی انارکی اور عقلی بے راہ روی ہے۔ امتِ مسلمہ کا یہی وہ داخلی اضطراب اور اضمحلال ہے جو اس کے ہر عملی شعبے کو گھن کی طرح چاٹتا چلا جا رہا ہے۔ دراصل اس کا خارجی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی انتشار اور افتراق اسی زبردست فکری بے راہ روی کا چربہ اور شاخسانہ ہے؛ کیونکہ کمزوری پہلے اندر آتی ہے، اس کا بیرونی اظہار بعد میں ہوتا ہے۔ یہی وہ داخلی بے راہ روی ہے جس کا خاتمہ اسلام کا سب سے بڑا اعجاز اور عظیم الشان کارنامہ تھا۔ ایسا اعجاز اور کارنامہ جسے بڑی سے بڑی قیمت دے کر بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

والف بین قلوبہم لو انفقت ما فی الارض جمیعا مآ الفت بین قلوبہم ولکن اللہ الف بینہم انہ عزیز حکیم۔ (الانفال ۶۳)
’’اور اللہ پاک نے (اپنے احکامِ تعلیم اور قوانینِ تربیت کے ذریعے) صحابہ کرامؓ کے قلوب میں الفتِ ایمانی رکھ دی۔ اے پیغمبرؐ! اگر آپ پوری دنیا بھی خرچ کر ڈالتے تب بھی ایمان کا یہ رشتۂ الفت ان میں پیدا نہ کر سکتے جو اللہ پاک نے ان کے دلوں میں پیدا فرما دیا۔ بے شک وہ زبردست حکمت و دانائی رکھتا ہے۔‘‘ 

مگر وہ وحدتِ فکری، شعورِ اجتماعی، اعتصام بحبل اللہ، جمعیتِ قلوب و اذہان، یک جائی و یک رنگی، امت پن اور یگانگت، جسے ساری دنیا تج کر بھی پایا نہیں جا سکتا، جو ہمارا سب سے قیمتی ورثہ تھا، افسوس صد افسوس! اسے ہم نے دنیا کے حقیر ٹکڑوں کے عوض بیچ ڈالا، ایسے ٹکڑے جن پر ہمارا اختیار بھی نہیں۔

اولٓئک الذین اشتروا الضلالۃ بالہدیٰ فما ربحت تجارتہم وما کانوا مہتدین۔ (البقرہ ۱۶)
’’یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے گمراہی (کے ساز و سامان) کے عوض ہدایت و راست بازی کو بیچ ڈالا، مگر نہ ان کی یہ تجارت نفع رساں ہوئی، نہ وہ سیدھے راستے پر باقی رہے۔‘‘
؏ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم

امتِ مسلمہ کے فکری انتشار کے مظاہر

امتِ مسلمہ آج جس علمی، فکری اور شعوری بحران کا شکار ہے، اس کے مظاہر انتہائی پیچیدہ اور گنجلک ہیں؛ اور جیسے جیسے اس بحران میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ویسے ویسے اس کے مظاہر بھی پیچیدہ ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ کیونکہ جب کسی عمارت کی تعمیر کی جا رہی ہوتی ہے تب تو اس میں استعمال ہونے والی ہر چیز کو ناپ تول کر، شمار کر کے پورے توازن اور ترتیب کے ساتھ چنا جاتا ہے؛ لیکن جب کوئی عمارت گر رہی ہوتی ہے تو اس کی کوئی ترتیب ہوتی ہے نہ توازن، اور نہ اس میں کوئی شمار ہوتا ہے نہ ناپ تول؛ وہاں فقط بے ترتیب ملبہ ہوتا ہے جس کے ڈھیر جا بجا بکھر جاتے ہیں؛ اور جسے جو اچھا لگتا ہے اٹھا لے جاتا ہے، اس پر اپنے حق جتلاتا ہے، اسے اپنے کسی مفاد میں لگاتا ہے۔ یوں عمارت کا شیرازہ بکھرتا چلا جاتا ہے اور اس کے اجزا کو جوڑ کر دوبارہ تعمیر کرنا پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ پھر یہ معاملہ اس وقت اور بھی گنجلک ہو جاتا ہے جب یہ عمارت اور اس کے اندر استعمال ہونے والا کنکریٹ نایاب ہو۔ 

کچھ یہی حال امتِ مسلمہ کی فکرِ اجتماعی میں نظامِ شریعت کی عمارت کے تصور کا ہے کہ گزشتہ کئی صدیوں سے مسلسل اس سے صَرفِ نظر کیے رکھا اور ان کے تخیل کی یہ عمارت بہت سے معلوم اور نامعلوم اسباب کی بناء پر گرتے گرتے ملبے میں تبدیل ہونے لگی؛ اور جہاں جہاں خلا پیدا ہوتا گیا، اس میں نئے نئے تصورات — جو نہ صرف مقامی تھے بلکہ غیر پائیدار بھی — اپنی جگہ بنانے لگے۔ امت کی فکرِ اجتماعی میں نظامِ شریعت کے تصور کی عمارت کا شیرازہ بکھرا تو اس کے نایاب اجزاء کو لوگوں نے اپنے تصورات کے خود ساختہ گھروندوں میں سجا لیا، جس کی نہ کوئی پختہ بنیاد ہے اور نہ بقا کی گارنٹی و ضمانت۔

اب صورتحال یہ ہے کہ امت کے اجتماعی ذہن میں نظامِ شریعت کی عمارت کا تصور بکھر چکا ہے۔ اور جن چیزوں کو ناپ تول کر مکمل ترتیب اور پورے توازن کے ساتھ ان کی صحیح اور اصل جگہوں پر چن کر معمارِ امتؐ نے یہ عمارت تعمیر فرمائی تھی، انہیں مختلف فرقوں اور گروہوں نے ’جو ہاتھ لگا اٹھا لیا‘ کے مصداق آپس میں بانٹ لیا؛ اور ان بانٹے ہوئے پر اپنا اپنا حق جتلانے لگے اور ملکیت کے دعویدار بن بیٹھے۔ کسی کو اپنے حصے میں دوسرے کی شراکت ہرگز گوارا ہے، نہ اس کے بارے میں کسی اور کی بات سننا پسند ہے، اور اس پر مستزاد یہ کہ ان میں سے ہر ایک، دوسرے کے پاس جو کچھ ہے، اسے گمراہی قرار دے رہا ہے، یا کم از کم اسے اپنے ہاں جگہ دینے کو تیار نہیں۔ حالانکہ یہ تمام اجزاء ایک ہی نظام کے مختلف حصے اور ایک ہی عمارت کے مختلف ٹکڑے تھے۔

ایسے اجزاء کہ جن پر تمام مسلمانوں کا یکساں حق ہے کہ ان سے فائدہ اٹھائیں، کسی گروہ یا کسی فرد کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس نظامِ شریعت کو یا اس کے کسی حصے کو صرف اپنے لیے مخصوص کر لے؛ اور نہ ہی اس بات کا کوئی شرعی جواز ہے کہ نظامِ شریعت کے کسی بھی جزو کو کوئی بھی گروہ یا فرد اپنے ذاتی مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرے؛ یا اس کی بنیاد پر کوئی نئی تصوراتی عمارت بنا لے جس سے نظامِ شریعت کے اجزاء میں دائمی تفریق پیدا ہو جائے۔ بلکہ ہر ایک کا فرض ہے کہ امت کی فکرِ اجتماعی میں نظامِ شریعت کے تصور کی شیرازہ بندی کا اعادہ کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کرے، مگر اس اعلیٰ ظرفی کو پیدا کرنے کے لیے امت کے فکری انتشار کے اسباب کا پتا لگانا ضروری ہے۔

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی

(الشریعہ — اگست ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اگست ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۸

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۴)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۱)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

محاضراتِ فقہ (۳)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۴)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۸)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

کیا خدا کو ڈھونڈنا آج زیادہ مشکل ہے؟
مولانا سیف الرحمٰن ادیب

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۵)
محمد سراج اسرار

امام طحاوی رحمہ اللہ کے مختصر حالات
مولانا مفتی رضاء الحق
مولانا محمد عثمان بستوی

عورت کا حقِ مہر و ملازمت: شرعی حقیقت اور رائج تصورات
مفتی سید انور شاہ

فیمنزم اور شاہ ولی اللہ کے عمرانی افکار
مولانا غالب شمس قاسمی

زکوٰۃ سے متعلق دو اہم استفسار
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

A Proven Path to Conquering Physical Limitations
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

رجوع الی اللہ — جشنِ آزادی کی اصل روح
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

سیاسی سفر اور ملکی و عالمی معاملات پر نقطۂ نظر
مولانا فضل الرحمٰن

اسلام کے سیاسی نظام پر کتب
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مذہب، قانون اور جذبات
خورشید احمد ندیم

پاکستان کے لیے سعودی عرب کی حفاظت کا اعزاز
مولانا مفتی عبد الرحیم
مفتی عبد المنعم فائز
مولانا عبد الودود

وسطی ایشیا میں دینی روایت کے عروج و زوال اور بقا کی داستان
مفتی سید عدنان کاکاخیل

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۲)
حافظ مجددی

تلاش

شماریات