سیاسی سفر اور ملکی و عالمی معاملات پر نقطۂ نظر

ریحان اللہ والا:

کیسے ہیں آپ لوگ؟ ہمارے بزرگوں میں ایک بزرگ مولانا فضل الرحمٰن ہیں اور مولانا فضل الرحمٰن کے بارے میں جو ہمارے ینگ بچے ہیں، جو خاص طور پر کراچی یا بڑے شہروں کے بچے ہیں، وہ زیادہ نہیں جانتے۔ میرا جب بھی ان کو سننے کا اتفاق ہوا ہے تو مجھے تو بہت مزا آتا ہے سننے میں، بہت انٹیلیکچوئل کنورسیشن سننے کو ملتی ہے۔ تو آج مولانا صاحب نے ٹائم دیا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ان کی پرسنل لائف کو تھوڑا سا ڈسکس کریں، ان کے بارے میں جانیں کہ یہ ہیں کون، یہ کیسے ۳۸ سال سے اپنی جماعت چلا رہے ہیں۔ تو اس سے پہلے جو نان پولیٹیکل مولانا صاحب تھے، وہ کیسے آدمی تھے، ان کی تربیت کیسے ہوئی، کیسے گھرانے میں ہوئی؟ اور آپ ان کو بطورِ انسان جاننے کی آج کوشش کیجیے گا۔

مولانا صاحب! شکریہ بہت بہت ٹائم دینے کا۔ آپ تھوڑی سی اپنی کہانی بچپن کی سنائیں، کہاں پیدا ہوئے، کیسے بڑے ہوئے؟ ماحول تو ہمیں معلوم ہے کہ دینی تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن:

میں تو ۱۹۵۳ء میں عبدالخیل نامی گاؤں میں پیدا ہوا، ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں، اور میرا بچپن وہیں گزرا ہے۔ والد صاحب چونکہ مدرسہ قاسم العلوم ملتان کے شیخ الحدیث تھے، اور میری تربیت جو ہے میرے چچا جان نے کی، خلیفہ محمد صاحب نے، تو ابتدائی تعلیم، قرآنِ کریم ناظرہ اور جو ابتدائی کتابیں ہوتی ہیں، وہ انہوں نے پڑھائیں مجھے۔ پھر چھٹی جماعت میں، میں نے ملتان میں داخلہ لیا، ملت ہائی اسکول میں، اور میٹرک وہیں سے کیا۔

ریحان اللہ والا:

تو چھٹی سے پہلے شیطانیاں ویطانیاں کرتے تھے نارمل بچوں کی طرح، یا؟

مولانا فضل الرحمٰن:

جو بچپن میں فطرت ہوتی ہے ہر بچے کی، وہ ہماری بھی تھی، دیہاتی ماحول میں، میں نے تو قریب قریب دیہاتوں کو بھی نہیں دیکھا تھا، بس اپنے ہی گاؤں اور اپنے ماحول میں ہی۔

ریحان اللہ والا:

تو کتنا بڑا گاؤں تھا یہ؟ اور وہاں اسکول وغیرہ تھے؟

مولانا فضل الرحمٰن:

اس زمانے میں تو خیر چھوٹا تھا، یوں سمجھیے سات آٹھ ہزار کی آبادی کا، اور اب بہرحال دس بارہ ہزار تک پہنچ گیا ہو گا۔ تو یہ اس ماحول میں۔ اسکول پرائمری تھا پہلے، پھر اس کے بعد، بلکہ میرے ہوتے ہوئے تو پرائمری ہی تھا، اس سے زیادہ نہیں تھا۔ تو دیہاتی ماحول میں ہم وقت گزارتے تھے۔ ہمارے گھر میں اگر کوئی بھیڑ بکری تھی یا کوئی گائے تھی یا بھینس تھی، تو ہم اس کو صبح کھول کے پہاڑ کی طرف لے جاتے تھے، اس کو چراتے تھے (ریحان اللہ والا: سنت پر عمل کرتے تھے) تو ان کے لیے گھاس وغیرہ کاٹ کے لانا، تو یہ سارے کام ہم نے کیے ہیں بچپن میں، اور بالکل دیہاتی ماحول میں، یہی ہماری زندگی تھی۔ صبح ہم پڑھتے تھے، پھر اس کے بعد ہم کام پہ نکلتے تھے، پھر اس کے بعد ظہر کو پھر پڑھتے تھے۔ یہ مشغلے رہے ہیں۔

پھر اسکول میں آ گیا، تو ۱۹۷۰ء میں، میں نے میٹرک کیا۔ پھر میں دیہاتوں میں چلا گیا پڑھنے کے لیے۔ ان دیہاتوں میں کوئی پانی تک بھی نہیں ہوتا تھا، کھارا پانی ہوتا تھا، ہم دریا سے میٹھا پانی لاتے تھے۔ اور بجلی بھی نہیں ہوتی تھی، تو لالٹین کے سامنے ہم رات کو پڑھتے تھے۔ کبھی غفلت ہو جاتی تھی کہ تیل ختم ہو گیا ہے اور ہم نیا لائے بھی نہیں ہیں، تو پھر اندھیرا ہوتا تھا جی۔ تو وہ بڑا تکلیف دہ وقت ہوتا تھا، کیونکہ صبح استاد نے سننا ہوتا تھا، اور ہم حفظ یاد کرتے تھے سبق کو، اور صبح پورا سبق ہم سناتے تھے استاد کو، تو بڑا مشکل ہوتا تھا۔

تو کبھی کبھی پھر ہمیں یہ بھی کرنا پڑتا تھا کہ روڈ پہ نکل آتے تھے، تو کوئی بس آ رہی ہے یا کبھی کوئی ٹرک آ رہا ہے، تو اس کی روشنی میں پھر وہ کاپی کھول لیتے تھے؛ تو جب تک اس کی روشنی پڑتی تھی، تو تھوڑا تھوڑا یاد کرتے تھے۔ تو اس طریقے سے ہماری ابتدا تعلیم کی ہوئی ہے۔ پھر اس کے بعد ۱۹۷۰ء کا الیکشن ہو گیا، پھر ۱۹۷۱ء میں پاکستان دولخت ہو گیا، لیکن میری زندگی دیہاتوں میں گزری hw جی۔

ریحان اللہ والا:

ٹی وی آ گیا تھا آپ کے گاؤں میں یا نہیں؟

مولانا فضل الرحمٰن:

نہیں نہیں، بجلی بھی نہیں تھی۔ بجلی آئی ہے جب ۱۹۷۲ء میں میرے والد صاحب چیف منسٹر بنے صوبے کے۔ ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد پہلے وزیرِ اعلیٰ میرے والد صاحب تھے صوبے کے، تو انہوں نے پھر اپنے علاقے کے لیے پلان بنایا۔ جتنی بھی دیہاتیں تھیں وہاں پر — کیونکہ کہیں بھی بجلی نہیں تھی — تو ان کے لیے بجلی، پینے کا پانی، کہیں پہ ڈسپنسری، کچھ اسکولز وغیرہ انہوں نے ایک پلان کیا۔ لیکن وہ نو مہینے کی حکومت تھی، مشکل سے ایک ہی بجٹ پاس کر کے منظوری دے دی انہوں نے، اور پھر وہ بعد میں روک دی گئیں ساری چیزیں، لیکن ہمارے گاؤں میں بجلی کم از کم آ گئی تھی۔ تو یہ وہ زمانہ تھا جس میں ہم —

پھر اس کے بعد میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک چلا گیا۔ میں نے پھر ۱۹۷۹ء میں وہاں سے فراغت حاصل کی، دورۂ حدیث پڑھا۔ اور اس کے بعد میں ملتان چلا آیا۔ تو اگلے سال میں نے ملتان میں جامعہ قاسم العلوم میں تدریس شروع کی۔ ایک سال میں نے پڑھایا اور اگلے سال بھی میں نے جب پڑھانا شروع کیا، تو ابھی عید الاضحیٰ کی چھٹیاں ہو گئی تھیں اور والد صاحب حج پہ روانہ ہو گئے تھے، ابھی کراچی میں ہی تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا۔

پھر تو جمعیت علماء کی ذمہ داریاں سر پر آگئیں۔ دوستوں نے کہا، آپ نے اس میدان میں آنا ہے، اس محاذ پہ۔ تو مجھے تو تجربہ بھی نہیں تھا سیاست کا اور بس زیادہ سے زیادہ چونکہ میرے گھر کا ماحول سیاسی تھا، والد صاحب کو اٹھتے بیٹھتے، لوگوں سے ملتے، گفتگو کرتے دیکھتے تھے۔ تو پھر وہاں سے ہم نے سیاسی کام شروع کیا۔ تو اس سے میری تدریس کا عمل جو ہے، بڑا متاثر ہوا۔ چند سال تو میں نے کوشش کی کہ میں اس کو برقرار رکھ سکوں، لیکن پھر میں نے پہلے تو اپنی تنخواہ رکوا دی، جب میں حاضری نہیں دے سکتا مدرسے میں تو میں تنخواہ کیوں لوں؟ پھر اس کے بعد جب میں نے محسوس کیا کہ میں بالکل بھی مدرسے کو وقت نہیں دے سکتا، تو پھر میں جامعہ قاسم العلوم سے رخصت لے کر ڈیرہ اسماعیل خان چلا گیا اور وہاں میں نے پھر ایک جامعہ کی بنیاد رکھی ’’جامعۃ المعارف الشرعیہ‘‘ کے نام سے۔ ابھی بھی وہاں پر تعلیمی خدمات ہیں، گو کہ میں زیادہ وہاں پر تدریسی خدمات نہیں انجام دے سکتا، میری سارا سال کی جو سیاسی مصروفیات ہوتی ہیں، لیکن ایک سلسلہ وہاں، ایک نسبت علم کے ساتھ اور دینی علوم کے ساتھ، وہ برقرار ہے میری۔ تو یہی زندگی ہماری چلی آ رہی ہے، الحمد للہ۔

ریحان اللہ والا:

۳۸ سال آپ نے گزارے سیاست کرتے ہوئے۔ آج کے دور کے جو بچے ہیں، جو آپ سے گائیڈنس لینا چاہیں گے، ان کو آپ کیا تین مشورے دیں گے کہ دیکھو یہ ہے سیاست اور ایسے کرنی چاہیے؟

مولانا فضل الرحمٰن:

دیکھیے، جب میرے والد صاحب کا انتقال ہوا تو وہ اپنی زندگی ہی میں جنرل ضیاء الحق سے مایوس ہو گئے تھے۔ ایک تو انہوں نے شریعت کے نفاذ کی بات کی، مفتی صاحب کی رائے یہ تھی کہ یہ لوگوں کو دھوکہ دے رہا ہے، کوئی ارادہ اس کا نہیں ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ انہوں نے قوم سے الیکشن کا وعدہ کیا ہے، وہ الیکشن نہیں دے رہا ہے۔ تو پیپلز پارٹی کے ساتھ جو ہمارا معاہدہ ہوا ہے، وہ تو ایک نیشنل لیول کی ایک کمٹمنٹ تھی، اور قوم کے ساتھ ایک وعدہ تھا، تو ہم قوم کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو نبھانا چاہتے ہیں۔

تو اس بنیاد پر پھر انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کیے کہ باقاعدہ تمام پولیٹیکل فورسز جو ہیں وہ اکٹھی ہوں اور وہ آئین کی بحالی کی جدوجہد کریں۔ ان رابطوں میں ہی تھے، کراچی میں بھی یہی رابطے تھے، تمام سیاسی قیادت یہاں کراچی میں موجود تھی اور یہیں پر ان کا پھر انتقال ہوا۔

تو اس کے بعد جب میں میدان میں آیا تو ظاہر ہے جی کہ مارشل لاء، مارشل لاء کا مقابلہ، ایم آر ڈی بنی اور پھر میں پانچ سال تک مسلسل جیلوں میں آتا جاتا رہا۔ اور جیلیں بھی ایسی کہ سی کلاس کی جیلیں۔ تو کبھی کبھی ہمیں بی کلاس بھی مل جاتا تھا بیچ میں، لیکن یہ ہے کہ جیلیں ایسی بن گئیں میرے لیے کہ جیسے کوئی اپنا گھر بن گیا، آنا جانا معمول سا بن گیا ہمارا، اور کبھی یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ اوہ یہ تو پھر آرڈر گرفتاری کا آگیا! ایک معمول سی زندگی بن گئی، آج باہر ہیں تو کل جیل میں ہیں، چند دن گھر پہ گزار دیے، پھر چند دن جیل میں گزار دیے۔ تو اس طریقے سے ہماری ابتدا جو ہے، وہ بہت مشقت کے ساتھ ہوئی ہے۔ مشقت کی سیاسی زندگی سے میں نے آغاز کیا ہے۔ ایک بہت بڑے ڈکٹیٹر کے ساتھ پنگا لیا ہم نے اور پھر اس کے سامنے ڈٹ گئے ہم لوگ اور کوئی کمپرومائز ہم نے نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ۱۹۸۵ء میں الیکشن ہوا اور سیاسی جماعتوں نے اور ایم آر ڈی نے بائیکاٹ کیا اس کا، غیر جماعتی تھا۔ تو پھر اس کے بعد جنرل ضیاء الحق صاحب کا طیارے کا حادثہ ہو گیا ۱۹۸۷ء میں۔ اور ۱۹۸۸ء میں پھر جب الیکشن ہوا تو ہم الیکشن میں آئے ہیں۔ اور ۱۹۸۸ء سے پارلیمنٹ ہے، سیاست ہے، جماعت ہے، اس میں ہم مصروف ہیں۔

ریحان اللہ والا:

کوئی بچہ اگر پولیٹکس میں آنا چاہتا ہو آج کے دور کا، اس کو آپ تین کیا مشورے دیں گے؟

مولانا فضل الرحمٰن:

پہلی بات تو یہ ہے جی کہ سیاست میں نظریہ ہونا چاہیے۔ آپ سیاست کس لیے کرنا چاہتے ہیں؟ آپ کا ویژن کیا ہے؟ تو اس حوالے سے بہرحال پاکستان کی تاریخ میں جو میں نے مشاہدہ کیا ہے، کہ یہاں پر جب تک سوویت یونین موجود تھا، تو اس وقت دنیا میں نظریاتی جنگ تھی۔ ایک طرف مغرب کی سرمایہ دارانہ طرزِ معیشت اور وہ نظریہ تھا؛ دوسری طرف جو ہے پھر وہ ایک اشتراکیت؛ اور دونوں انتہائیں تھیں۔ اس بیچ میں ہمارے علماء اسلامی معیشت کی بات کرتے تھے، قرآن و سنت پر مبنی معیشت، جو دونوں کے بیچ میں ایک اعتدال کا راستہ تھا۔ لیکن بین الاقوامی سطح پر بہرحال جو گروپنگ تھی، وہ انہی دو کی تھی۔

تو جب پاکستان میں، سوویت یونین کے ہوتے ہوئے ہم دیکھتے تھے، تو کوئی سیاستدان جب گرفتار ہوتا تھا، تو جیل میں اس کو سیاسی قیدی کہا جاتا تھا۔ کوئی مذہبی آدمی بھی اگر گرفتار ہوتا تھا، تو ایک مذہبی قیدی ہے، کسی مذہبی مسئلے میں آیا ہے۔ لیکن جب سے سوویت یونین ختم ہو گیا ہے، تو دنیا میں وہ جنگ ختم ہو گئی ہے۔ اب پوری دنیا پر سرمائے کی حکومت ہے اور مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام میں آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ اگر کسی سیاست دان کو پکڑا جاتا ہے، تو کہتے ہیں: یہ چور ہے، کرپٹ ہے۔ یعنی اب وہ سیاسی عنوان سے نہیں پکڑے جاتے تھے۔ اور پھر جب یہ نائن الیون ہو گیا اور دنیا میں مذہب کے خلاف امریکہ اور مغربی دنیا نکل آئی ہے، آج اگر کوئی مذہبی آدمی پکڑا جاتا ہے، تو اس کو کہتے ہیں: یہ دہشت گرد ہے۔ یہ سینیریو پوری دنیا کا تبدیل ہو گیا ہے۔

میں ایک سے دوسرے میں آیا ہوں، یعنی اس سیاست کو بھی میں نے دیکھا ہے اور اس سیاست کو بھی۔ لیکن جب میں سیاست میں آیا تو اس وقت افغانستان میں روس کے خلاف جنگ شروع ہو چکی تھی اور ۱۹۸۰ء سے لے کر ۹۳ء-۱۹۹۲ء تک یہ جنگ جاری رہی، یہاں تک کہ سوویت یونین ٹوٹ گیا۔ تو میری سیاست کا آغاز جو ہے، وہ اس جنگ کے دوران ہوا ہے۔ اور پھر جب اس کا خاتمہ ہوا تو بظاہر تو ہم خوشیاں منا رہے تھے کہ جہاد جیت گیا اور سوویت یونین ٹوٹ گیا۔ لیکن اس کے بعد جو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑے، وہ آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ آیا، کیسے آیا؟ کس طرح انہوں نے افغانستان کو برباد کیا؟ کس طرح عراق کو برباد کیا؟ کس طرح لیبیا کو برباد کیا؟ کس طرح شام کو برباد کر رہا ہے؟ کس طرح یمن کو برباد کر رہا ہے؟ کس طرح وہ اسلامی دنیا کے اوپر ایک دباؤ رکھے ہوئے ہیں۔

دہشت گردی اس طرح پھیل گئی کہ اب الزام جو ہے وہ مذہب پر ہے کہ وہ دہشت گردی پیدا کر رہا ہے، جبکہ ان کی پالیسیوں سے دنیا میں ایک ایسی جنگ چھڑی ہے کہ خون ریزی ہی خون ریزی ہو رہی ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ سوویت یونین کا خاتمہ جہاں پر ایک بہت بڑی فتح تھی دنیا کی، وہ کچھ مغربی اور امریکی سیاست کی بھینٹ چڑھ گئی ہے۔ تو یہ کامیابیاں اور ناکامیاں جو ہیں، ساتھ ساتھ چلتی رہی ہیں اور ابھی تک ہم اس کشت و خون سے نکلے نہیں ہیں۔

آپ دیکھیں جی، جب سوویت یونین کے خلاف جنگ ہو رہی تھی، تو ہمارا یہ قبائلی بیلٹ جتنا تھا، یہاں سے جہادی لوگ منظم ہو کر افغانستان میں جاتے تھے۔ یہیں پر ان کا بیس کیمپ تھا، یہیں پر بھاری اسلحے ہوتے تھے، یہیں سے عبور کر کے افغانستان میں جاتے تھے۔ اس کے باوجود قبائلی علاقے میں امن تھا۔ کسی نے نہیں کہا کہ قبائلی علاقے میں کوئی دہشت گردی ہوئی ہے، کوئی بم دھماکا ہوا ہے، کوئی خودکش حملہ ہوا ہے، کچھ بھی نہیں تھا۔ 

آج جب قدغنیں لگ گئی ہیں، قبائلی علاقے کو بالکل بند کر دیا گیا ہے، فوج اندر چلی گئی ہے پاکستان کی، افغانستان سائیڈ پر امریکہ کی فوج موجود ہے، آج وہ بارود کا ڈھیر بن گیا ہے۔ یہ کیا پالیسی ہے؟ کہاں سے بن گئی ہیں جی؟ تو یہ کہنا کہ قبائلی علاقے جو ہیں، یہ فساد کا مرکز ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اگر فساد کا مرکز ہوتا تو اس وقت زیادہ بہتر انداز میں ہوتا کہ جب وہاں پر سب کچھ تھا، مجاہدین تھے، ان کے جتھے تھے، ان کی تنظیمیں تھیں، اسلحہ تھا، سب کچھ بارود تھا۔ لیکن وہ افغانستان میں جا کر تو لڑتے تھے لیکن یہ علاقے خاموش تھے۔ کیوں خاموش تھے؟ ظاہر ہے ایسی وجوہات آ گئی ہوں گی کہ آج اس علاقے کو بارود کا ڈھیر کیوں بنا دیا گیا ہے؟ 

تو ان ادوار سے گزر گزر کر ہم یہاں پر آئے ہیں اور اس وقت جو بین الاقوامی سینیریو ہے، اس میں ہمارا اپنا ایک موقف ہے، اس حوالے سے ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ تو ایک بات ہو گئی کہ نمبر ایک، نظریہ ہونا چاہیے۔ وہ نظریاتی جنگ دنیا میں نہیں رہی ہے، اب سرمائے کی جنگ ہے۔ اب آپ کا جو بھی لیڈر آئے گا اور عوام میں مقبول ہو گا، تو اسی نعرے سے کہ جی یہ کرپٹ ہے، اس کرپٹ کو پکڑو، اس کو یہ کرو، کوئی نظریہ اس کے پاس نہیں ہے۔

آئین آپ کا کہتا ہے کہ اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہے، آئین کہتا ہے قوانین قرآن و سنت کے مطابق بنیں گے؛ ۱۹۷۳ء سے لے کر آج تک ایک قانون سازی نہیں ہو رہی ہے۔ کون ذمہ دار ہے اس کا؟ (اس کے علاوہ) ہر قانون ناگزیر ہے، بہت جلدی ہے، فوجی عدالتیں بناؤ، جلدی کرو، نیشنل ایکشن پلان پاس کرو، یہ کرو وہ کرو، دہشت گردی کے خلاف نیکٹا بناؤ، فلاں چیز بناؤ! یہ ساری چیزیں بہت ناگزیر ہیں، لیکن اگر کوئی چیز غیر ضروری ہے پاکستان میں، تو وہ قرآن و سنت کی قانون سازی ہے جو آج تک نہیں ہو رہی ہے۔ 

تو اس اعتبار سے نظریاتی سیاست ہی ختم ہو گئی ہے اور اب یہی کھیل ہو گا کہ سیاست دانوں پر کبھی ایک پر کرپشن، کبھی دوسرے پر کرپشن۔ زرداری کی حکومت ہو گی تو وہ سب سے بڑا کرپٹ ہو گا، جب اس کی حکومت چلی جائے گی تو اس کو نواز شریف کے خلاف لڑانے کے لیے صادق و امین قرار دے دیا جائے گا۔ پھر یہ کرپٹ ہوں گے۔ پھر جب اِن کی حکومت نکل جائے گی تو پھر اُن سے کہیں گے کہ اب ان کے خلاف لڑو، تو آپ کو صادق و امین بنا دیا جائے گا۔ یہ کھیل ہمارے ملک میں ہو رہے ہیں۔ اور ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم اس غیر سنجیدہ کھیل کا حصہ نہیں بن سکتے۔

ریحان اللہ والا:

تو پہلا تو نظریہ ہونا چاہیے۔ دوسری دو چیزیں کیا ہونی چاہئیں؟

مولانا فضل الرحمٰن:

دوسری چیز یہ ہے کہ آپ کو سیاست میں آنے کے بعد دیانتدار ہونا چاہیے۔

ریحان اللہ والا:

وہ تو ہر کام میں ہونا چاہیے، مسلمان ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن

سیاست میں — چونکہ ایک ہے انفرادی کام، آپ انفرادی ہیں، آپ چوری نہ کریں، محنت کریں، جو حلال کمائی ہے اس سے آپ زندگی گزاریں، اچھی ہو، بری ہو، جو اللہ دے رہا ہے اس پر قناعت۔ اور پھر یہی چیز آپ کو مملکت میں ساتھ دینی چاہیے کہ آپ مکمل طور پر اس ملک کے سرمائے کو عام آدمی کی امانت سمجھیں، اور کسی قسم کی کوئی خیانت نہیں ہونی چاہیے۔ آپ ملک میں حکومت بھی کرتے ہیں، بحیثیت حکمران کے کچھ آپ کو حقوق بھی دیے جاتے ہیں، کچھ آپ کو سہولتیں بھی دی جاتی ہیں، کچھ آپ کو صوابدیدی اختیارات بھی دیے جاتے ہیں، اس کے اندر رہتے ہوئے اگر کوئی سیاستدان کرے، تو سمجھ میں آئے گی کہ جائز کام کر رہا ہے۔ اور اس پر بھی اگر وہ احتیاط کرے تو اچھی بات ہے، لیکن پھر بھی جائز تصور کیا جائے گا۔ لیکن جب ہم اس سے تجاوز کرتے ہیں اور بڑی بڑی دولتیں بنا رہے ہوتے ہیں، اور غریب آدمی جو ہے وہ بیچارہ صبح و شام روٹی کے لیے ترستا ہے، اور ہم بہت بڑے جاگیردار اور سرمایہ دار اور صنعت کار بن جاتے ہیں، تو یہ چیزیں جو ہیں، اس کا رجحان اگر ہم ملک میں ختم کریں، یہی ہماری کامیابی کی علامت ہو سکتی ہے۔

ریحان اللہ والا:

الیکشن سر پہ ہیں، آپ ایم ایم اے کے ساتھ بہت لوگ ہیں، آپ وزیرِ اعظم بن جاتے ہیں، پہلے تین کیا کام کریں گے؟

مولانا فضل الرحمٰن:

دیکھیے، ہمارے ملک میں پہلے سے یہ کہہ دینا کہ میں یہ کر دوں گا اور یہ کر دوں گا، پاکستان کے اندر اس وقت جو اسٹیبلشمنٹ ہے اور جس طرح نظام پر اس کی گرفت ہے، یہ پھر نعرے اور دعوے ہی رہ جاتے ہیں اور پھر اس کے بعد بڑا مشکل ہوتا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ آپ اپنی حکمت و تدبیر کی بنیاد پر، جو حکومتی ادارے ہیں، ان کو جب آپ اپنے ساتھ ملاتے ہیں — کیونکہ حکومت پارٹی نہیں کرتی اکیلی، حکومت آپ کے تمام ادارے مل کر پارٹی کے ساتھ (کرتے ہیں)، آپ کی ترجیحات کو وہ ضرور قبول کریں گے — تو وہ سب مل کر جب ایک آئیڈیا طے کرتے ہیں کہ ہم نے اس طریقے سے آگے بڑھنا ہے، تو ظاہر ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے سامنے دو چیزیں ہونی چاہئیں:

نمبر ایک: عام آدمی کو امن مہیا کرنا، اس کی جان، مال اور عزت و آبرو کو تحفظ دینا۔ اور قوانین کو ایسی حکمت کے ساتھ استعمال کرنا کہ کم از کم آپ کے شہری جو ہیں، وہ اپنے آپ کو محفوظ تصور کریں۔ اور ظاہر ہے جی کہ وہ اسی صورت میں ہو گا جب آپ لوگوں کو انصاف دے سکیں گے۔

دوسری چیز ہے: خوشحال معیشت۔ اگر ہم اپنی پالیسیاں ٹھیک کر لیں، اپنے ملکی وسائل پر ہم اعتماد کر لیں، اسی پہ ہم انحصار کر لیں، تو پھر ان کو استعمال میں لا کر یا ہم خودکفیل ہو جائیں گے، اور اگر خودکفیل نہیں بھی ہوں گے تو باہر کی امداد پر ہمارا دارومدار کم از کم ہو گا۔اس وقت ہمارا ۸۰ فیصد سے زیادہ باہر کے قرضوں، آئی ایم ایف کی شرائط، مغربی دنیا کی پالیسیاں، اس پر دارومدار ہے۔ اور ہم ملکی وسائل استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ کیونکہ جب باہر کے سودے ہوتے ہیں اور قرضے آپ لیتے ہیں اور باہر کی انویسٹمنٹ آپ لیتے ہیں، تو اس میں بہت زیادہ کمیشنیں آتی ہیں۔ اور بدقسمتی سے ہماری جو ستر سال سے موجود ایک بیوروکریسی ہے، اس کی جو ایک ذہنیت بن گئی ہے اور اسی کی پاداش میں کچھ مفاد پرست طبقہ سیاست دانوں کا بھی، جو روایتی سیاست کرتے ہیں، وہ اس مشکل میں پڑ گئے ہیں کہ ہم بس کمائیں! اور اگر ہم ملکی وسائل استعمال کریں گے تو شاید ہمیں کمیشن نہیں ملیں گی، کہ وہ تو گھر کی بات ہو جائے گی۔ تو ہمیں اپنے وسائل پر کھڑا ہونا چاہیے، تاکہ ایک خوشحال معیشت کی طرف ہم قدم رکھ سکیں۔

چائنا ہم سے بعد میں آزاد ہوا ہے، ایشیا کے کتنے کتنے ممالک ہیں، کہ جو پاکستان کے یا ہم عمر ہیں یا عمر میں کچھ کم ہیں، آج وہ معاشی لحاظ سے کیوں اتنی ترقی کر چکے ہیں اور ہم کیوں پیچھے ہیں؟ ہم نے تو برصغیر کے مسلمانوں کو کہا تھا کہ تم معاشی لحاظ سے ہندو کے غلام ہو اور اس کی بالادستی ہے، اس سے نکلنا ہے۔ آج وہ ہندوستان معاشی لحاظ سے کہاں پہنچ گیا اور ہم کہاں کھڑے ہیں؟ تو یہ ساری صورتحال ہے کہ جس کو ہم نے ترجیحات کے طور پر اپنانا ہے۔

اور تیسری بات کہ بہرحال یہ ملک اگر اسلام کے لیے بنا ہے، تو اس میں قانون سازی جو ہے، وہ قرآن و سنت کے مطابق ہونی چاہیے، باہمی مشاورت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اور اسلامی نظریاتی کونسل بنی ہی اسی لیے ہے کہ اس میں تمام مکاتبِ فکر کے نمائندے ہوں، اس میں ماہرینِ آئین، ماہرینِ قانون، ریٹائرڈ لوگ، تجربہ کار، تاکہ وہاں سے جو بھی سفارشات آئیں، وہ فرقہ واریت سے بالاتر ہوں اور ایک قومی سوچ کی وہ نمائندگی کریں۔ الحمد للہ، اس میں وہ کامیاب ہو گیا ہے، اس نے آج تک جتنی سفارشات مرتب کی ہیں، تقریباً متفقہ ہیں۔ اس کے مطابق قانون سازی کا آغاز کیا جائے، طریقے سے کیا جائے، ایسی صورتحال کہ ہم بھی قائل نہیں ہیں کہ ہم اپنی خواہش کے بدلے میں ایک دنیا میں ہنگامہ اپنے خلاف کھڑا کروا دیں۔ تو جو چیز بھی کریں ہم، ایک بڑے تدریجی انداز سے، کیونکہ جمہوریت تدریجی اصلاحات کا نام ہے اور اس کو ہم ایک انقلاب نہیں کہہ سکتے، کیونکہ انقلاب تو تلچھٹ کر دیتا ہے، سارے نظام کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ کیا پاکستان کا ماحول اس کا متحمل ہے؟ میری تجربے کے مطابق شاید ہم اس کے متحمل نہیں ہیں۔

ریحان اللہ والا:

ڈونلڈ ٹرمپ آپ کو فون کرتے ہیں، کہتے ہیں: فضل الرحمٰن صاحب! آپ کوئی تین مشورے دیجیے مجھ کو، سر آنکھوں پہ، آپ مسلمانوں کے ریپریزنٹیٹو ہیں، کوئی تین مجھے مشورے دیجیے۔

مولانا فضل الرحمٰن:

ہم امریکہ سے، مغربی دنیا سے پہلی بات یہ کہتے ہیں کہ تمام ملکوں کی اور تمام قوموں کی خود مختاری کو تسلیم کر لو۔ نمبر ایک۔

دوسری بات یہ کہ دنیا آج ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔ اگر امریکہ میرے سے وابستہ ہے تو میں اس سے وابستہ ہوں؛ اگر مغرب اسلامی دنیا سے وابستہ ہے تو اسلامی دنیا اس سے وابستہ ہے۔ اسی طریقے سے جو ہمارے براعظم ہیں، اس کے اپنے اندر کے تعلقات ہیں۔ تو ان تمام چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم ایک دوسرے کو فائدہ بھی پہنچائیں اور ایک دوسرے سے فائدہ بھی حاصل کریں۔ کیونکہ رب العزت نے جو خزانے پیدا کیے ہیں، انسان کے فائدے کے لیے پیدا کیے ہیں، اس میں کہیں پر کسی قوم کی پیداواری صلاحیت کچھ ہے تو کہیں پر کسی قوم کی پیداواری صلاحیت کچھ ہے۔ یہ دونوں جب آپس میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے، تو اس صورتحال میں انسانیت ایک دوسرے پہ اعتماد کر سکے گی۔

اور اگر یہ ہو کہ اسلامی دنیا کا تیل، اسلامی دنیا کی معدنیات، اسلامی دنیا کا کوئلہ، اسلامی دنیا کا سونا چاندی، اس کے ذخائر، اپنی قوم کا تو اس پہ حق نہ ہو، لیکن جب مغربی دنیا کو ضرورت پڑی تو پھر وہ سارے اس پہ قبضہ کر کے ہمارے وسائل اپنے مفادات کے لیے استعمال کریں۔ تو ہمیں کنگال کرنا اور چند ڈالر دے کر ہمیں کہنا جی ہم تو آپ کی بڑی مدد کر رہے ہیں، فلاں شعبے میں ہم آپ کو اتنے ڈالر دے رہے ہیں، فلاں میں آپ کو اتنے ڈالر دے رہے ہیں۔ بابا! میں اسی سے تو نجات حاصل کرنا چاہتا ہوں، وہ دن بھی تو آئے کہ میں آپ کے ڈالروں کے بغیر زندگی گزار سکوں؟

تو ہم پاکستان کو ایک ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں کہ جس میں ہم بیرونی جو خیراتیں ہیں، ان خیراتوں کے اوپر ہمارا انحصار نہ ہو، اور کم از کم اس کو کر دیا جائے پھر برابری کی بنیاد پر۔ تو ہم امریکہ کو بڑا ملک مانتے ہیں، ایک سپر پاور مانتے ہیں۔ ہم مغربی دنیا کو اپنے سے زیادہ طاقتور تسلیم کرتے ہیں، مادی لحاظ سے وہ طاقتور ہیں، ان کے وسائل زیادہ ہیں، لیکن کیا اس کا یہ معنی ہے کہ پھر وہ غریب دنیا کو نوچتے رہیں، ان کو بھوکا مارتے رہیں؟ اور پھر جب ہمیں چند ڈالر وہ بھیجتے ہیں، تو اس کو خیرات سمجھ کر ہمیں کہیں کہ بس ٹھیک ہو رہا ہے جی! تو اس اعتبار سے قوموں کی خود مختاری کو تسلیم کرنے کے بعد ان کے وسائل پر ان کو مالک بنانا چاہیے اور ان کی ترقی کے لیے ان کو راستے دینے چاہئیں۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ سیاسی مداخلت بھی نہیں ہونی چاہیے۔ آج امریکہ جو ہے، وہ پاکستان کے لیے وزیرِ اعظم کا نام بھی طے کرتا ہے کہ اگلا وزیرِ اعظم آپ کا فلاں ہو گا۔ ایسی ایسی مخلوق آ جاتی ہے کہ کبھی قوم نے اس کا نام سنا تک نہیں ہوتا۔ معین قریشی بھی ہمارے ملک کا وزیرِ اعظم بن جاتا ہے، اور جس دن وہ عہدے سے اترتا ہے پھر پاکستان کو دیکھتا بھی نہیں ہے۔ نہ اس سے پہلے پاکستان کو دیکھا نہ بعد میں، اور وزیرِ اعظم بھی رہا۔ شوکت عزیز نے اس سے پہلے بھی پاکستان کو نہیں دیکھا، اس کے بعد بھی پاکستان میں نہیں آیا اور پاکستان کا وزیرِ اعظم ہو کر چلا گیا، اور ایک ووٹ بھی پاکستان میں اپنا استعمال کرنا گوارا نہیں کیا انہوں نے۔ اب اس قسم کے لوگ جو بیرونی ایجنڈے پہ کام کرتے ہیں اور یہاں آ کر ہمارے لیے بڑے خیرخواہ بن جاتے ہیں، یہ چیزیں بھی ہمیں ختم کرنی چاہئیں اور بیرونی سپورٹ جو ایسی قوتوں کو حاصل ہوتی ہے — میرے خیال میں وہ قوم پہ اعتماد کریں اور قوم پر اپنی مرضی کے لوگوں کو مسلط کرنے کا رویہ ترک کریں۔

ریحان اللہ والا:

تیسرا مشورہ رہ گیا، تیسرا ان کو کیا مشورہ دیں گے؟

مولانا فضل الرحمٰن:

تیسرا یہی ہے کہ وہ اپنے عوام کی خوشحالی کے لیے کریں۔ اپنے ملکوں میں ہر حکومت کو حق ہے۔ ہم امریکی عوام کے دشمن تو نہیں ہیں، امریکہ میں بھی انسان رہتے ہیں، وہاں بھی غریب رہتے ہیں، اپنے اپنے ملکوں کو خوشحال کرنے کے لیے زیادہ توجہ دیں۔ اور دوسری دنیا کو کنٹرول کرنا اور دوسری دنیا پر تمام توانائیاں صَرف کرنا، اس سے باز آ جائیں، تو میرے خیال میں دنیا میں کوئی امن کے راستے نکل آئیں گے۔

ریحان اللہ والا:

آپ کشمیر کمیٹی کے بھی صدر ہیں۔ مودی صاحب فون کرتے ہیں، بولتے ہیں بھئی! تین کام بتاؤ، میں کرنے کو تیار ہوں۔ کیا مانگیں گے آپ؟

مولانا فضل الرحمٰن:

دیکھیے، انڈیا کے ساتھ ہمارا معاملہ بالکل مختلف ہے اور بہرحال کشمیر ہماری نظر میں ایک کور ایشو ضرور ہے۔ لیکن میں ایک بات آپ سے عرض کر دینا چاہتا ہوں، ہمارے ہاں اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کا بڑا آسان طریقہ ہے کہ اگر فضل الرحمٰن کشمیر کمیٹی کا چیئرمین ہے، تو پھر فضل الرحمٰن نے کشمیر کے لیے کیا کیا؟ مسئلہ کشمیر کیوں حل نہیں کیا؟ کشمیریوں کو کیوں آزاد نہیں کیا؟ یہ چیزیں جو ہیں، یہ قوم کو گمراہ کرنے والی باتیں ہیں۔

کشمیر ملک کا مسئلہ ہے، کسی کمیٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔ صرف پارلیمنٹ کا بھی مسئلہ نہیں ہے، صرف حکومت کا بھی مسئلہ نہیں ہے، یہ قوم کا مسئلہ ہے۔ اگر پاکستان اتنا طاقتور ہے اور پاکستان کی حکمتِ عملی اتنی مضبوط ہے، تو پھر اس میں کمیٹی بھی طاقتور ہے، پارلیمنٹ بھی طاقتور ہے، حکومت بھی طاقتور ہے، سب طاقتور ہیں۔ اور اگر ایک کمزور ہے تو سب کمزور ہیں، تو اس کا معنی یہ ہے کہ ہم کچھ بھی نہیں کر سکیں گے۔

پاکستان کا کشمیر کے مسئلے پر موقف ضرور ہے کہ حقِ خود ارادیت ہونا چاہیے اور استصوابِ رائے ہونا چاہیے اور کشمیریوں کو خود فیصلہ کرنا چاہیے، لیکن اس پر کوئی آپ کی حکمتِ عملی اور پالیسی نہیں ہے۔ تو میں ایک بات ڈرتے ڈرتے کہتا ہوں کہ کشمیری دو پاٹوں کے بیچ میں پس رہے ہیں: ایک طرف ہندوستان کا ظلم اور دوسری طرف پاکستان کا تذبذب! ان دو چیزوں نے کشمیریوں کو برباد کر دیا ہے۔

ریحان اللہ والا:

تو مودی سے کیا ڈیمانڈ کریں گے؟

مولانا فضل الرحمٰن:

یہی کہیں گے کہ اگر معاملہ طے کرنا ہے، تو آئیں بیٹھ کر سنجیدگی کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کو طے کریں۔ 

جب ہم بین الاقوامی فورم پر کشمیر کے مسئلے کو اٹھاتے ہیں تو انڈیا چیختا ہے کہ یہ تو بائی لیٹرل کیس ہے، شملہ معاہدے کے تحت۔ اور اگر ہم انڈیا کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یہ ہمارا انٹرنل کیس ہے۔ یہ کیا پالیسی ہے کہ انڈیا ایک تو کشمیر کو بائی لیٹرل کیس کہتا ہے بین الاقوامی فورم پر جاتے وقت، اور جب ہم ان کے ساتھ براہِ راست بیٹھتے ہیں تو کہتے ہیں، نہیں، کوئی تجارت کی بات کرو، کوئی ٹماٹر آلو کی بات کرو، ہم اس کا تبادلہ کیسے کریں گے؟ کلچر کیسے ایکسچینج کریں گے ایک دوسرے کا؟ کشمیر کے مسئلے پر بات ہی نہیں کرتے ہمارے ساتھ۔

تو اس حوالے سے ہندوستان جو ہے، اگر وہ مسئلے کے حل پہ سنجیدہ ہے، آئے! پاکستان اس پر بات کرنے کو تیار ہے۔ اگر ہم دونوں ممالک کسی مسئلے کو آپس میں طے نہیں کر سکتے، تو پھر ہم بین الاقوامی ثالثی کو قبول کر لیں۔ بہت سی دنیا ہے جو کہتی ہے کہ ہم اس میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ تو ہندوستان ثالثی بھی قبول نہیں کرتا۔ ارے بھئی پانی کے مسئلے پر آپ ورلڈ بینک کی ثالثی کو قبول کر چکے ہیں۔ اگر کوئی ایسی بات ہو کہ اس کی مثال میرے اور آپ کے بیچ میں نہ ہو پہلے سے، تو پھر آپ کشمیر پر ضرور کہیں کہ ثالثی سے کیا ہوتا ہے ہم خود طے کریں گے۔

اس حوالے سے بھی ہم یہی کہیں گے کہ جو چیز عوام سے تعلق رکھتی ہو، غریب انسان سے تعلق رکھتی ہو، ہمیں ہندوستان کو سپورٹ کرنا چاہیے، وہاں کا غریب انسان ہے، وہاں ہندو بھی رہتا ہے، وہاں مسلمان بھی رہتا ہے، اور وہاں کا مسلمان پاکستانی مسلمان سے زیادہ ہے، لہٰذا وہاں انسانی حقوق ہیں۔ ہم اس حوالے سے ہندوستان کے عام آدمی کو اپنی طرح کا انسان سمجھتے ہیں اور اس کی خوشحالی کے خواہشمند ہوتے ہیں۔

لیکن ہندوستان بھی اس طرح کرے نا! وہ ڈیم پہ ڈیم بنائے جا رہے ہیں، پاکستان کے دریاؤں کا رخ موڑ رہے ہیں، پاکستان کی زراعت کو آئندہ کے لیے بالکل بنجر کر رہے ہیں، اور آنے والے مستقبل میں عام پاکستانی کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ یہ جو حربہ ہے اس کا، یہ پاکستان کے غریب آدمی کے خلاف ہے، یہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہوتا۔ اس طرح کے اقدامات کرنا! اس پر دنیا اس کے ہاتھ روکے۔ امریکہ اس کو سپورٹ کر رہا ہے اِس وقت۔ اور یہاں پاکستان کے انسانی حقوق، بائیس کروڑ مسلمانوں کے اور عام انسانوں کے جو حقوق ہیں، اس کو تو وہ خطرے میں ڈال رہا ہے۔ تو یہ رویے جو ہیں اگر ہم ترک کر دیں —

اختلاف جو ہوتا ہے، اصل اختلاف دو اسٹیٹس کے بیچ میں ہوتا ہے۔ ہمیں اس لیول پر مسائل کو ٹیکل کرنا ہے۔ اختلاف اسٹیٹس کا ہوتا ہے۔ حکومتیں جو ہیں وہ نمائندگی کرتی ہیں اسٹیٹس کی، اور ان کے رویے حالات پہ اثر انداز ہوتے ہیں، کبھی حالات نرم ہو جاتے ہیں، کبھی سخت ہو جاتے ہیں۔ اور پیپلز ٹو پیپلز جو ہمارے رابطے ہوتے ہیں وہ ماحول پیدا کرتے ہیں۔ تو جب عوام آپس میں رابطے میں رہتے ہیں تو وہ مفاہمت کے لیے ایک ماحول تیار کر سکتے ہیں کہ ان کا آپس میں کوئی جھگڑا نہیں ہوتا، اسٹیٹس کا جھگڑا ہوتا ہے۔ ایک عوام اپنی اسٹیٹ کے ساتھ ہو گا، دوسرا اپنی اسٹیٹ کے ساتھ ہو گا، لیکن ان کے بیچ میں باہمی رابطے جو ہیں وہ علاقے میں اخوت کی ایک فضا بناتے ہیں۔

تو اس حوالے سے ہمیں ہر چیز کو الگ الگ سوچنا چاہیے: (۱) اسٹیٹ ٹو اسٹیٹ معاملات اپنی جگہ پر (۲) حکومت ٹو حکومت معاملات اپنی جگہ پر (۳) اور عوام کے جو پیپلز ٹو پیپلز کانٹیکٹ ہیں وہ اپنی جگہ پر۔ تب جا کر ہم ایک پر امن ماحول خطے میں بنا سکتے ہیں۔ اور یہی مودی صاحب کو بھی کرنا چاہیے، وہ تو ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے روزانہ۔

ریحان اللہ والا:

ٹائم قلیل ہے، آخری سوال اور ریکویسٹ کہ آپ کا پیغام پاکستان کے لوگوں کے نام کہ آپ کو الیکشن میں ووٹ کیوں دیں؟

مولانا فضل الرحمٰن:

دیکھیے، ہم پاکستانیوں کو، اپنی قوم کو یہ ضرور پیغام دینا چاہتے ہیں کہ یہ ملک بنا کس لیے تھا؟ آپ کے اور ہمارے آبا و اجداد نے اس ملک کے لیے قربانیاں کس بنیاد پر دی تھیں؟ اگر ملک بنا ہے اور ستر سال سے جتنا ہم سفر کر رہے ہیں اتنا ہی منزل دور ہوتی چلی جا رہی ہے، تو اس منزل کو قریب تر لانے کے لیے اس نظریے کے ساتھ کمٹڈ لوگ کون ہیں؟ ظاہر ہے کہ اس نظریے کے ساتھ کمٹمنٹ جو ہے وہ اس وقت مذہبی جماعتوں کی ہے، متحدہ مجلسِ عمل کی ہے، کہ وہ پاکستان کو سوچتے ہیں، پاکستان کی اسلامی حیثیت کو سوچتے ہیں، اقلیتوں کے حقوق کا سوچتے ہیں، خواتین کے حقوق کا سوچتے ہیں، اور ملک میں امن و امان اور اس کی معاشی ترقی کا سوچتے ہیں۔ تو اس حوالے سے، جو نظریاتی حوالے سے ملک کی اصلاح اور ملک میں بہتری لانے کا سوچتے ہیں، وہ زیادہ حقدار ہوتے ہیں عام آدمی کے ووٹ کا۔ نہ کہ وہ لوگ جو پاکستان کی وفاداری کی بات تو کرتے ہیں لیکن آگے جا کر نہ دینِ اسلام ان کا مقصد ہے، بلکہ اپنے ذاتی مفادات کو وہ ترجیح دیا کرتے ہیں، یا پھر وہ کسی بین الاقوامی ایجنڈے کو پاکستان میں لانے کے لیے تگ و دو کر رہے ہوتے ہیں اور وہاں سے مراعات حاصل کرتے ہیں۔ ایسی مخلوق کو ہمیں شکست دینی چاہیے اور خالص جو پاکستان، پاکستانی نظریے، اسلام کے لیے اور ملک میں امن و امان اور معاشی خوشحالی کا سوچتے ہیں، ان کو ہمیں فوکس کرنا چاہیے اور ان کو ہمیں سپورٹ کرنا چاہیے۔

ریحان اللہ والا:

مولانا صاحب، بہت شکریہ، خوش رہیے، آباد رہیے، پاکستان زندہ باد! اور امید کرتا ہوں آئندہ دوبارہ آپ پھر ٹائم دیں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن:

ان شاء اللہ، ان شاء اللہ۔

https://youtu.be/2sQgoZwUJXg

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل

(الشریعہ — اگست ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اگست ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۸

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۴)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۱)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

محاضراتِ فقہ (۳)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۴)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۸)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

کیا خدا کو ڈھونڈنا آج زیادہ مشکل ہے؟
مولانا سیف الرحمٰن ادیب

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۵)
محمد سراج اسرار

امام طحاوی رحمہ اللہ کے مختصر حالات
مولانا مفتی رضاء الحق
مولانا محمد عثمان بستوی

عورت کا حقِ مہر و ملازمت: شرعی حقیقت اور رائج تصورات
مفتی سید انور شاہ

فیمنزم اور شاہ ولی اللہ کے عمرانی افکار
مولانا غالب شمس قاسمی

زکوٰۃ سے متعلق دو اہم استفسار
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

A Proven Path to Conquering Physical Limitations
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

رجوع الی اللہ — جشنِ آزادی کی اصل روح
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

سیاسی سفر اور ملکی و عالمی معاملات پر نقطۂ نظر
مولانا فضل الرحمٰن

اسلام کے سیاسی نظام پر کتب
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مذہب، قانون اور جذبات
خورشید احمد ندیم

پاکستان کے لیے سعودی عرب کی حفاظت کا اعزاز
مولانا مفتی عبد الرحیم
مفتی عبد المنعم فائز
مولانا عبد الودود

وسطی ایشیا میں دینی روایت کے عروج و زوال اور بقا کی داستان
مفتی سید عدنان کاکاخیل

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۲)
حافظ مجددی

تلاش

شماریات