اضافے
مملکت کی پالیسی کے رہنما اُصول
مذکورہ بالا ترمیمات کے علاوہ ہمارے نزدیک رپورٹ کے رہنما اصولوں میں حسبِ ذیل امور کا اضافہ بھی ضروری ہے۔
شق (۲) ضمن (و): ’’اسلامی علوم و ثقافت کے فروغ کا مؤثر انتظام کیا جائے۔‘‘
شق (۷) ضمن (د): ’’حکومت کے ادنیٰ و اعلیٰ ملازمین کے معاوضوں کا تفاوت اعتدال پر لایا جائے۔‘‘
مزید نئی دو شقیں:
(۱) (الف): ’’مملکت کے لیے اس امر کا اہتمام لازمی ہو گا کہ مسلم امیدوارانِ ملازمت اور ملازمینِ حکومت کے انتخاب، تقرر اور ترقی کے مواقع پر قابلیت اور کارکردگی اور دیگر متعلقہ عوامل کے ساتھ ساتھ اسلامی کردار اور شعائرِ اسلام کی پابندی کا مؤثر لحاظ رکھا جائے۔‘‘
(ب): ’’تمام سرکاری ملازمتوں کی ٹریننگ میں، خواہ وہ فوجی ہوں یا سول، مسلمانوں کے لیے دینی و اخلاقی تعلیم و تربیت کا خاص انتظام کیا جائے تاکہ ریاست پاکستان کے ملازمین کا اخلاقی معیار بھی معیارِ قابلیت کی طرح بلند ہو۔‘‘
(ج): مسلمان ملازمینِ حکومت کو فرائضِ دینی کی پابندی اور شعائرِ اسلام کے التزام میں پوری سہولتیں بہم پہنچائی جائیں۔‘‘
(۲) ’’دہریت و الحاد کی تبلیغ، اور قرآن و سنت کی توہین و استہزاء کا بذریعہ قانون سازی انسداد کیا جائے۔‘‘
قرآن پاک اور سنت کے خلاف قانون سازی کا سدباب
پیراگراف ۳:
اس پیراگراف میں صرف سلبی حیثیت سے یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ کوئی قانون سازی قرآن اور سنت کے خلاف نہ ہو گی۔ بلکہ ایجابی طور پر اس اصولی حقیقت کو دستور میں ثبت ہونا چاہیے کہ اس ریاست میں قرآن اور سنت کے احکام و ہدایات ہی قانون کا اصل سرچشمہ ہوں گے۔ اس لیے موجودہ پیراگراف کے بعد اس عبارت کا اضافہ ضروری ہے:
’’اور مملکت کے قوانین کے مآخذِ اساسی (چیف سورس) قرآن و سنت ہوں گے۔‘‘
پیراگراف ۴، ۵، ۶ اور ۸:
(حضرت مولانا ابوالحسنات صاحب، حضرت مولانا عبد الحامد صاحب بدایونی اور حضرت مفتی محمد صاحبداد صاحب نے اِس کی بجائے ایک دوسری تجویز پیش کی، جو ضمیمے میں درج ہے۔)
ان میں قرآن اور سنت کے خلاف قانون سازی کی روک تھام کے لیے علماء کے ایک بورڈ کے قیام کی جو صورت پیش کی گئی ہے وہ نہ کسی لحاظ سے معقول ہے اور نہ اس طرح کی قانون سازی کو روکنے کے لیے مؤثر ہی ہو سکتی ہے۔ البتہ اس سے بہت سی نئی خرابیوں کے پیدا ہو جانے کا قوی امکان ہے۔ ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ جس طرح دوسرے قوانین کے معاملے میں حدودِ دستور سے متجاوز قانون سازی کی روک تھام کے لیے تعبیرِ دستور کے اختیارات سپریم کورٹ کے سپرد کیے گئے ہیں، اسی طرح پیراگراف ۳ کے معاملے کو بھی سپریم کورٹ ہی پر کیوں نہ چھوڑا جائے۔
البتہ یہ امر ضروری ہے کہ جس وقت تک ہمارے ملک میں نئے دستور کے تقاضوں کے مطابق کتاب و سنت میں بصیرت رکھنے والے فاضل جج پیدا نہ ہوں، اس وقت تک کے لیے کوئی ایسا عارضی انتظام تجویز کر دیا جائے جس سے سپریم کورٹ میں — پیراگراف ۳ کے منشا کے مطابق — کتاب و سنت کی صحیح تعبیر کی جا سکے۔
لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پیراگراف ۴ تا ۶ کو، اور ان سے تعلق رکھنے والے پیراگراف ۸ کو حذف کر دیا جائے، اور ان کے بجائے حسبِ ذیل پیراگراف رکھا جائے:
(۱) ’’پیراگراف ۳ کے تحت مجالسِ قانون ساز کے بنائے ہوئے قوانین کے خلاف جو دستوری اعتراضات یا تعبیرِ دستور کے مسائل پیدا ہوں، ان کا فیصلہ کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں پانچ علماء مقرر کیے جائیں گے، جو سپریم کورٹ کے کسی ایسے جج کے ساتھ — جسے امیرِ مملکت تدین و تقویٰ اور واقفیتِ علوم و قوانینِ اسلامی کے پیش نظر اس مقصد کے لیے نامزد کرے گا — مل کر اس امر کا فیصلہ کریں گے کہ قانون کتاب و سنت کے مطابق ہے یا نہیں۔‘‘
(۲) ’’ان علماء کا تقرر اسی طریقے سے ہو گا جو سپریم کورٹ کے ججوں کے لیے بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی سفارشات میں تجویز کیا گیا ہے۔‘‘
(۳) ’’اس منصب کے لیے صرف ایسے ہی علماء اہل ہوں گے جو
(الف) کسی دینی ادارے میں کم از کم دس سال تک مفتی کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہوں، یا
(ب) کسی علاقے میں کم از کم دس سال تک مرجعِ فتویٰ رہے ہوں، یا
(ج) کسی باقاعدہ محکمہ قضاء شرع میں کم از کم دس سال تک قاضی کی حیثیت سے کام کر چکے ہوں، یا
(د) کسی دینی درسگاہ میں کم از کم دس سال تک تفسیر، حدیث یا فقہ کا درس دیتے رہے ہوں۔‘‘
(۴) ’’یہ انتظام پندرہ سال کے لیے ہو گا اور اگر ضرورت ہو تو رئیسِ مملکت اس مدت میں توسیع کر سکتا ہے۔‘‘
(۵) ’’ان عالمِ دین ججوں کے لیے جملہ ضوابط وہی ہوں گے جو بنیادی اصولوں کی کمیٹی کی سفارشات میں دوسرے ججوں کے متعلق تجویز کیے گئے ہیں۔‘‘
پیراگراف ۷:
رپورٹ میں اس پیراگراف کو دیکھ کر ہمیں سخت حیرت ہوئی کہ جن لوگوں نے پیراگراف ۳ میں اس اصول کو تسلیم کیا ہے کہ اس مملکت میں قرآن اور سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بننا چاہیے، ان کے قلم سے یہ بات کیسے نکلی کہ اس مملکت کے مالی معاملات قرآن اور سنت کے احکام کی پابندی سے آزاد رہیں گے!
اگر یہ ریاست خدا اور رسول کے احکام و فرامین کو بالاتر قانون تسلیم کرتی ہے — جیسا کہ پیراگراف ۳ کے الفاظ سے ظاہر ہے — تو کوئی وجہ نہیں کہ اس ریاست کے مالیات خدا اور رسول کے دائرہ اثر (جورسڈکشن) سے باہر ہوں۔ ہمارے نزدیک جس طرح اسلام دنیا کے ہر معاملے میں ہمارا بہترین رہنما ہے، اسی طرح مالی معاملات میں بھی ہے۔ ہم اس کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں کہ ہمارے دستور کی ایک دفعہ میں مالیات کی حد تک اسلام کی رہنمائی پر صاف صاف عدمِ اعتماد کا اعلان کر دیا جائے۔
البتہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ سرِدست کچھ مدت تک ریاست کے مالی معاملات کو اسلام کے مطابق درست کرنے میں عملی مشکلات مانع ہوں گی۔ مگر اس کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ مالی مسوداتِ قانون پر باب سوم کے احکام کا اطلاق ہونے کے لیے پانچ سال کی مدت مقرر کر دی جائے۔ لہٰذا اس باب کا پیراگراف ۷ حذف کر کے اس کی جگہ یہ عبارت ہونی چاہیے:
’’باب ہٰذا کے احکام کا اطلاق مالی مسوداتِ قانون پر تاریخِ نفاذِ دستور سے پانچ سال کی مدت کے اختتام پر ہو گا۔‘‘
وفاقیہ اور اس کے علاقہ جات
پیراگراف ۹:
اس دفعہ کی شق (۱) میں مملکت کا نام صرف پاکستان تجویز کیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ کافی نہیں ہے۔ اس کے بجائے مملکت کا نام ’’جمہوریہ اسلامیہ پاکستان‘‘ ہونا چاہیے۔
اس نام پر یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کی موجودگی اسے اسلامی جمہوریہ کہنے میں مانع ہے۔ آخر جب روس میں کثیر التعداد غیر اشتراکیوں کی موجودگی جمہوریہ روس کو اشتراکی جمہوریہ کہنے میں مانع نہیں ہے، تو پاکستان کے لیے غیرمسلموں کی موجودگی اسے اسلامی جمہوریہ کہنے میں کیوں مانع ہے؟
’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کا مفہوم صرف یہ ہے کہ یہ ایک ایسی جمہوریت ہے جو اسلام کے اصولوں پر قائم ہوئی ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جس کا اظہار ’’قراردادِ مقاصد‘‘ میں بھی کیا جا چکا ہے۔ اور اس رپورٹ کا پیراگراف ۳ بھی اس پر دلالت کر رہا ہے۔
علاوہ بریں اس پیراگراف میں حسبِ ذیل اضافے بھی ہونے چاہئیں۔
شق (۱) کے بعد حسبِ ذیل عبارت:
’’ملک کے مختلف ولایات و اقطاع مملکتِ واحدہ کے اجزائے انتظامی متصور ہوں گے۔ ان کی حیثیت نسلی، لسانی یا قبائلی وحدہ جات کی نہیں، بلکہ محض انتظامی علاقوں کی ہو گی، جنہیں انتظامی سہولتوں کے پیش نظر مرکز کی سیادت کے تابع اختیارات سپرد کیے جائیں گے۔‘‘
شق (۲) کے بعد حسبِ ذیل عبارت:
’’ولایاتِ مملکت کو مرکز سے علیحدگی کا حق حاصل نہ ہو گا۔‘‘
اس کے بعد موجودہ شق (۲)، شق (۴) ہو جائے گی۔
عاملہ
پیراگراف ۲۳ شق (۲):
اس میں انتخابی عدالتیں مقرر کرنے کا اختیار اُن امور میں داخل کیا گیا ہے جو صدرِ ریاست کی صوابدید پر چھوڑے گئے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ درست نہیں ہے۔ انتخابات میں انصاف قائم کرنا اس ریاست کے وجود کے لیے غایت درجہ اہمیت رکھتا ہے۔ اور انصاف کے تمام دوسرے شعبوں کی طرح یہ شعبہ بھی انتظامیہ کی مداخلت سے آزاد اور عدلیہ کے دائرۂ عمل میں ہونا چاہیے۔ لہٰذا اس پیراگراف کی شق (۲) سے ’’اور انتخابی عدالتوں‘‘ کے الفاظ حذف کر دینے چاہئیں۔ اس کی متبادل تجویز ہم حصہ دوازدہم در بابِ انتخابات میں پیش کریں گے۔
پیراگراف ۲۸ شق (۲) و (۳):
ان دونوں شقوں میں اس امر کا امکان رکھا گیا ہے کہ ایسے اشخاص وزیراعظم اور وزیر بن سکیں جو مجالسِ قانون ساز میں منتخب ہو کر نہ آئے ہوں، یا انتخاب میں ناکام ہوئے ہوں، اور پھر اقتدار کی کرسی پر چھ مہینے تک فائز رہنے کے بعد انتخاب جیتنے کی کوشش کریں۔ یہ چیز نہایت قابلِ اعتراض اور نقصان دہ بھی ہے۔ کسی شخص کو وزارت کی کرسی پر بٹھا کر پھر انتخاب جیتنے کا موقع دینا، حکومت کی انتظامی مشینری کو اور رائے دہندوں کو سخت اخلاقی انحطاط میں مبتلا کرنے کا موجب ہو گا۔ لہٰذا اس دروازہ کو قطعی بند ہونا چاہیے اور یہ دونوں شقیں حذف کی جانی چاہئیں۔
اس غلطی کا اعادہ پیراگراف ۸۹ شق (۲) میں بھی کیا گیا ہے، جہاں ولایات (یونٹس) میں غیرمنتخب لوگوں کے وزیر اعلیٰ اور وزیر بن جانے اور پھر انتخاب جیتنے کے امکانات رکھے گئے ہیں۔ لہٰذا پیراگراف ۸۹ شق (۲) کو بھی حذف کیا جانا چاہیے۔
وفاقی مقننہ
اس باب میں ایوانِ ولایات (ہاؤس آف یونٹس) اور ایوانِ جمہور (ہاؤس آف دی پیپل) کی ترکیب و تشکیل جس طرح کی گئی ہے، اس میں متعدد امور ایسے ہیں جو اس مجلس کے نزدیک سخت قابلِ اعتراض ہیں اور ان میں بڑی بے اصولی بھی پائی جاتی ہے۔ مگر چونکہ اس وقت مختلف صوبوں کے سیاسی رہنماؤں کے درمیان ان امور میں گفت و شنید ہو رہی ہے، اور ہم اس میں خلل ڈالنا پسند نہیں کرتے، اس لیے ان کے بارے میں ہم سرِدست اپنی رائے محفوظ رکھتے ہیں۔
پیراگراف ۴۰ شق (۱):
اس میں ایوانِ ولایت کی نشست پُر کرنے کے لیے کسی شخص کے نااہل ہونے کے جو چار وجوہ بیان کیے گئے ہیں، ان میں مسلم ارکان کے لیے پانچویں وجہ کا بھی اضافہ ہونا چاہیے، جس کے الفاظ یہ ہوں:
’’فرائضِ اسلام کا پابند اور فواحش سے مجتنب نہ ہو۔‘‘
اس وجہ کا اضافہ پیراگراف ۴۷ در باب ایوانِ جمہور، اور پیراگراف ۱۰۱ در باب مجالسِ مقننۂ ولایات میں بھی ہونا چاہیے۔
پیراگراف ۴۰ شق (۱) ضمن (۴):
اس ضمن کی موجودہ عبارت قابلِ اعتراض ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایوانِ ولایات کا ہر رکن لازماً اس ولایت کا باشندہ ہونا چاہیے کہ جس سے وہ منتخب ہو کر آئے۔ یہ پاکستانیوں کے درمیان صوبائی تعصبات کو مستقل طور پر قائم رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہو گا۔ لہٰذا ہم تجویز کرتے ہیں کہ اس عبارت کو بدل کر یوں کر دیا جائے:
’’مملکت کے کسی حصہ کی فہرستِ رائے دہندگان میں اس کا نام درج نہ ہو۔‘‘
اس غلطی کا اعادہ پیراگراف ۴۷ شق (۴) میں بھی کیا گیا ہے اور اس کی بھی مذکورہ بالا طریقے پر اصلاح ہونی چاہیے۔
پیراگراف ۴۲ ضمن (۵):
اس میں ہر شخص کو ایوانِ ولایات کی رکنیت کے لیے نا اہل قرار دیا گیا ہے جسے کسی عدالتِ مجاز نے کسی جرم کے ارتکاب پر دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا دی ہو۔ یہ ’’کسی جرم‘‘ کا لفظ بہت وسیع ہے، اس کی زد میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جنہیں سیاسی اسباب کی بنا پر سزا دی گئی ہو۔ اس کی بجائے ہم تجویز کرتے ہیں کہ اس شق میں کسی دوسرے جرم کے الفاظ حذف کر کے ’’کسی اخلاقی جرم‘‘ کے الفاظ رکھے جائیں۔
یہی اصلاح پیراگراف ۴۸ شق (۵) اور پیراگراف ۱۰۲ شق (۵) میں بھی ہونی چاہیے۔
پیراگراف ۴۲ شق (ز):
اس شق میں ایوانِ ولایات کی رکنیت کے لیے ہر اس شخص کو نااہل قرار دیا گیا ہے جو سرکاری ملازمت سے ’’بداطواری‘‘ کی بنا پر برخاست کیا گیا ہو۔ یہ بداطواری بھی بہت وسیع مفہوم رکھتی ہے اور اس کی زد میں ایسے لوگ بھی آجاتے ہیں جن کو کسی وقت کسی پارٹی کی حکومت سیاسی اسباب سے خارج کر دے درآں حالیکہ وہ کسی اخلاقی خرابی میں مبتلا نہ پائے گئے ہوں۔ لہٰذا اس شق ’’بداطواری‘‘ کے بعد ’’جو اخلاقی جرم کی نوعیت کی ہو‘‘ کا اضافہ ہونا چاہیے۔
یہی اصلاح پیراگراف ۴۸ شق (ز) اور پیراگراف ۱۰۲ شق (ز) میں بھی ہونی چاہیے۔
پیراگراف ۵۰ شق (د):
اس میں ہر شخص کو رائے دہندگی کے حق سے محروم کیا گیا ہے جس نے کسی عدالتِ مجاز سے ’’کسی جرم‘‘ کے ارتکاب پر دو سال یا اس سے زیادہ کی سزا پائی ہو۔ اس پر بھی ہم کو وہی اعتراض ہے جو پیراگراف ۴۲ شق (۵) کے سلسلہ میں بیان کیا جا چکا ہے۔ لہٰذا ’’کسی جرم‘‘ کے بعد ’’جو اخلاقی نوعیت کا ہو‘‘ کے الفاظ کا اضافہ ہونا چاہیے۔
یہی اصلاح پیراگراف ۱۰۶ شق (د) میں بھی ہونی چاہیے۔
پیراگراف ۶۶ شق (۱):
اس میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ مقننہ کے ہر رکن کے لیے پاکستان کی وفاداری کا حلف اٹھانا لازم ہو گا۔ یہ بالکل مناسب ہے، لیکن اس کے ساتھ ہر رکنِ مقننہ کو یہ حلف بھی اٹھانا چاہیے کہ وہ مقننہ کی کارروائیوں میں اپنا ووٹ دیانتداری کے ساتھ دے گا۔ لہٰذا اس شق میں ’’وہ پاکستان کی وفاداری کا حلف اٹھائے‘‘ کے بعد ان الفاظ کا اضافہ ہونا چاہیے: ’’نیز اس امر کا حلف اٹھائے کہ وہ اپنا ووٹ دیانتداری کے ساتھ استعمال کرے گا۔‘‘
اس فقرے کا اضافہ پیراگراف ۱۱۸ شق (۱) میں بھی ہونا چاہیے۔
عدلیہ
عدلیہ کے باب میں کسی مقام پر حسبِ ذیل دو دفعات کا اضافہ ہونا ضروری ہے:
(۱) ’’عدلیہ کے ہر اہلِ منصب کے لیے تقرر و ترقی میں، تقرر کرنے والے کے پیش نظر — منجملہ دیگر عواملِ متعلقہ کے — تقویٰ و تدین اور اصلی ماخذ کے ذریعہ علوم و قوانینِ اسلامی سے واقفیت بھی مؤثر عوامل اور وجہِ ترجیح کی حیثیت رکھیں گے۔‘‘
یہ اس لیے ضروری ہے کہ اسلام انتظامیہ اور مقننہ کے ارکان سے بھی بڑھ کر عدالت ہائے انصاف کے حکام کے تدین و تقویٰ کو اہمیت دیتا ہے۔ اور جبکہ اس مملکت میں یہ اصول تسلیم کر لیا گیا ہے کہ یہاں کے قوانین اسلام کے اصول و احکام پر مبنی ہوں گے۔ تو یہ نہایت ضروری ہے کہ اس کے حکامِ عدالت قوانینِ اسلامی سے واقف ہوں۔
(۲) ’’مقننہ یا انتظامیہ کو ٹربیونلز (خاص عدالتیں) مقرر کرنے کے اختیارات نہ ہوں گے۔‘‘
یہ اس لیے ضروری ہے کہ کسی خاص مقدمہ کے لیے یا خاص نوعیت کے مقدمات کے لیے انتظامیہ کا اپنی اغراض اور مصلحتوں کی بنا پر خود، یا مقننہ کے ذریعہ سے خاص عدالتیں قائم کرنا، اور ان کے اختیاراتِ دادرس پر من مانی حدود و قیود عائد کرنا قطعاً خلافِ انصاف ہے۔ اور اس اختیار کو جس بے جا طریقے سے استعمال کیا جاتا رہا ہے اس کی نہایت بری مثالیں دیکھی جا چکی ہیں۔ اس لیے خاص عدالتیں مقرر کرنے کے طریقے کو ازروئے دستور بند ہونا چاہیے اور ہر قسم کے مقدمات ملک کی عام عدالتوں ہی کی طرف رجوع کیے جانے چاہئیں۔
عدالتِ عظمیٰ
پیراگراف ۱۸۲:
اس میں سپریم کورٹ کو اس اختیار سے محروم کیا گیا ہے کہ وہ مسلح افواج سے متعلق کسی عدالت یا ٹربیونل کے صادر کیے ہوئے کسی حکم کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت دے۔ ہمارے نزدیک یہ قید غیر منصفانہ ہے، جبکہ ہمارے دستور میں سپریم کورٹ کو آخری عدالتِ انصاف قرار دیا جائے گا، تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک کے کسی شخص کو — خواہ وہ فوجی ہو، سویلین یا عام شہری — انصاف حاصل کرنے کے لیے اس کا دروازہ کھٹکھٹانے کا موقع نہ دیا جائے۔ اگر فوجی عدالتوں میں کسی شخص کو بے انصافی کی شکایت ہو تو آخر کیوں وہ ملک کی آخری عدالتِ انصاف سے اپیل نہ کر سکے۔ لہٰذا پیراگراف ۱۸۲ کی حسبِ ذیل عبارت حذف کی جانی چاہیے۔
پیراگراف ۱۸۷:
اس پیراگراف میں سپریم کورٹ کے اس اختیار کو کہ وہ انصاف کی غرض کے لیے کوئی شہادت یا دستاویز طلب کر سکے، وفاقی مقننہ کے بنائے ہوئے قوانین سے محدود کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر مقننہ کوئی ایسا قانون بنا دے جس میں کسی خاص قسم کی شہادتیں یا دستاویزیں طلب کرنا ممنوع ہو، تو سپریم کورٹ انہیں طلب نہ کر سکے۔ خواہ انصاف کے لیے اس کا طلب کرنا کتنا ہی ضروری ہو۔ یہ بات اسلامی اصولِ عدل کے قطعاً خلاف ہے۔ اسلام کی رو سے جس شہادت کے بغیر انصاف نہ کیا جا سکتا ہو، وہ جس کے پاس بھی ہو، عدالت اس کو طلب کرنے کا حق رکھتی ہے اور اس شخص کے لیے کتمانِ حق جائز نہیں۔ لہٰذا اس پیراگراف سے یہ الفاظ حذف کر دیے جائیں: ’’بحفظ احکام موضوعہ مقننہ وفاقی‘‘۔
نیز پیراگراف کے اختتام پر حسبِ ذیل عبارت کا اضافہ کیا جائے:
’’البتہ عاملہ کو حق ہونا چاہیے کہ اگر اس کے نزدیک کسی شہادت یا دستاویز کا افشا مملکت کے تحفظ و استحکام کے منافی ہو تو وہ عدالت سے استدعا کر سکتی ہے کہ اس کے اخفا کا خاطرخواہ انتظام کیا جائے۔‘‘
عدالت ہائے عالیہ
پیراگراف ۲۰۵ شق (۲):
اس پیراگراف میں ہائی کورٹ کے اختیارات پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماتحت کسی عدالت کے ایسے فیصلوں پر اعتراض کر سکے جن کی اپیل یا نگرانی کسی اور طریقہ سے ہائی کورٹ میں نہ ہو سکتی ہو۔ ہمارے نزدیک یہ پابندی ولایات کی بلند ترین عدالت کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے روکتی ہے۔ ہائی کورٹ کو تو اس امر کے پورے اختیارات حاصل ہونے چاہئیں کہ جب کبھی اس کے علم میں کوئی ایسا معاملہ آئے — جس میں اس کی ماتحت عدالتیں انصاف کرنے سے قاصر رہی ہوں — وہ اس کا نوٹس لے اور انصاف بہم پہنچانے کی کوشش کرے۔ لہٰذا اس پیراگراف کی یہ شق پوری کی پوری حذف کی جانی چاہیے۔
ملازمین و ماموریۂ ملازمت سرکاری
پیراگراف ۲۲۲ شق (۱):
اس شق میں یہ کہا گیا ہے کہ وفاقی مقننہ میں امیرِ مملکت کی اجازت کے بغیر اور ولایات (یونٹس) کی مجالسِ مقننہ میں حاکمانِ ولایات کی اجازت کے بغیر کوئی ایسا مسودۂ قانون پیش نہیں کیا جا سکتا جو اُن تحفظات کو منسوخ یا محدود کرتا ہو جو دفعہ ۱۹۷ ضابطۂ فوجداری اور دفعات ۸۰ تا ۸۲ ضابطۂ دیوانی میں سرکاری ملازمین کو دیے گئے ہیں۔
ہمارے نزدیک یہ شق سخت قابلِ اعتراض ہے۔ اگر ریاست پاکستان کے ملازمین امیرِ مملکت اور حاکمانِ ولایت کے ملازم نہیں بلکہ پاکستان کی پبلک کے ملازم ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پبلک کے نمائندے اس کے ملازموں کے حقوق، اختیارات اور امتیازات میں تغیر و تبدل کرنے کے لیے کوئی مسودۂ قانون پیش کرنے میں امیرِ مملکت اور حاکمانِ ولایات کی اجازت کے محتاج ہوں۔ آزاد پاکستان میں تو دفعہ ۱۹۷ فوجداری اور دفعات ۸۰ تا ۸۲ ضابطۂ دیوانی جیسی صریح غیر منصفانہ دفعات کا کتابِ آئین پر موجود رہنا ہی شرمناک ہے۔ کجا کہ دستور میں ان دفعات کو بچانے کے لیے یہ پابندی عائد کر دی جائے کہ ان میں ترمیم اور تنسیخ کرنے کے لیے کوئی مسودۂ قانون نہ پیش کیا جا سکے جب تک کہ امیرِ مملکت اور حاکمانِ ولایات اس کی اجازت نہ دیں۔
لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس پیراگراف کی یہ شق حذف کی جائے۔
انتخابات
اس باب میں کسی مقام پر حسبِ ذیل عبارات کا بصورت پیراگراف اضافہ ہونا ضروری ہے:
(الف) ’’امیرِ مملکت، حاکمانِ ولایات اور عُمالِ حکومت کے لیے یہ ممنوع ہونا چاہیے کہ وہ انتخابات میں کسی شخص یا پارٹی کے خلاف یا موافق رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کرے۔‘‘
(ب) ’’مرکزی اور صوبائی وزراء اعظم، وزراء مملکتی، وزراء اور نائب وزراء اور پارلیمنٹری سیکرٹری کے لیے ممنوع ہونا چاہیے کہ وہ کسی شخص یا پارٹی کے موافق یا خلاف سرکاری اثرات اور وسائل کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کریں۔
(ج) ’’مرکزی مقننہ اور ولایات کی مجالسِ مقننہ میں ہر نشست جو خالی ہو گئی ہو، زیادہ سے زیادہ چار ماہ کے اندر اندر بذریعہ ضمنی انتخابات پُر کرنی ضروری ہو گی۔‘‘
پیراگراف ۲۳۴ شق (۲):
اس میں انتخابی کمیشن کے ارکان کا تقرر بھی چیف کمشنر کے تقرر کی طرح محض امیر مملکت کی صوابدید پر موقوف کر دیا گیا ہے۔ جہاں تک چیف کمشنر کا تعلق ہے اس کے تقرر کے معاملے میں تو اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ وہ امیر مملکت ہی کی صوابدید پر ہو۔ لیکن انتخابات کی آزادی کے لیے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پورا الیکشن کمیشن محض امیر مملکت ہی کا ساختہ پرداختہ نہ ہو۔ لہٰذا ہم تجویز کرتے ہیں کہ اس شق کے الفاظ ’’اور چیف کمشنر انتخابات‘‘ سے لے کر ’’اپنی صوابدید پر مقرر کرے گا‘‘ تک حذف کر دیے جائیں اور ان کی جگہ یہ عبارت رکھی جائے:
’’اور امیر مملکت چیف کمشنر انتخابات کو اپنی صوابدید پر اور دوسرے انتخابی کمشنروں کو چیف کمشنر انتخابات کی سفارش پر ایسے قانون کے احکام … کرے گا جو وفاقی مقننہ اس کے بارے میں وضع کرے۔‘‘
نیز انتخابی … کو محفوظ کرنے کے لیے پیراگراف ۲۳۴ شق (۲) میں یہ اضافہ ہونا چاہیے:
’’چیف الیکشن کمشنر کا تقرر مستقل ہونا چاہیے۔ اس کے سپرد مرکز اور ولایات میں نہ صرف عام انتخابات کا انتظام ہو گا بلکہ وقتاً فوقتاً خالی ہونے والی نشستوں کے لیے ضمنی انتخابات کا انتظام بھی ہو گا۔ نیز انتخابات کے لیے رائے دہندگان کی فہرستوں کو ہر وقت تیار رکھنا بھی اس کا فرض ہو گا۔ چیف الیکشن کمشنر کا مرتبہ سپریم کورٹ کے ججوں کے مماثل ہو گا اور اس پر بھی وہ پابندیاں عائد کی جائیں جو پیراگراف ۲۲۷ شق (۲) و (۳) میں پبلک سروس کمیشن کے صدر پر عائد ہوتی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر وہی شخص مقرر کیا جائے گا جو کم از کم تین سال کسی ہائی کورٹ میں جج رہ چکا ہو۔‘‘
پیراگراف ۲۳۹ شق (۲):
اس شق میں انتخابی عدالتیں مقرر کرنے کا اختیار مرکز میں امیرِ مملکت اور ولایات میں حاکمانِ ولایات کو دیا گیا ہے۔ لیکن جیسا کہ حصہ سوم کے پیراگراف ۲۳ میں ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ چیز انتخابات کی آزادی کے لیے مضر ہے، لہٰذا اس شق کی موجودہ عبارت کی بجائے یہ عبارت ہونی چاہیے:
’’انتخابی عدالتیں مقرر کرنے کا اختیار مرکز میں سپریم کورٹ اور ولایات میں ہائی کورٹ کو ہونا چاہیے۔‘‘



















