رجوع الی اللہ — جشنِ آزادی کی اصل روح

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سیدنا ونبینا ومولانا محمد خاتم النبیین وامام المرسلین وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین وعلیٰ کل من تبعہم باحسان الیٰ یوم الدین۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج ہم ’’استقلالِ پاکستان‘‘ کا ۷۸ واں جشن منا رہے ہیں۔ الحمد للہ، دارالعلوم میں یومِ آزادی کے موقع پر ولولہ انگیز قسم کا یہ اجتماع ہر سال منعقد ہوتا ہے۔ اور ہمارے والد ماجد، بانی دارالعلوم، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قدس اللہ تعالیٰ سرہ کی ہدایت کے مطابق یومِ آزادی کا آغاز نمازِ فجر کے بعد ختمِ آیتِ کریمہ اور تلاوتِ قرآن سے کیا جاتا ہے۔

دنیا میں یہ رواج ہے کہ یومِ آزادی کی شروعات توپوں کی سلامی سے ہوتی ہے، اکیس توپوں کی سلامی دی جاتی ہے، لیکن ہمارے حضرت والد قدس اللہ تعالیٰ سرہ نے یہ فرمایا کہ پاکستان چونکہ الحمد للہ اسلام کے نام پر وجود میں آیا، اس لیے ہمارے یومِ آزادی منانے کا طریقہ بھی دوسری اقوام سے مختلف ہونا چاہیے؛ اور اسلام کے مطابق کسی بھی قسم کی عید یا کسی بھی قسم کا جشن اگر منانا ہو، تو اس کی روح درحقیقت ’’رجوع الی اللہ‘‘ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے رجوع کر کے اس کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے اور اسی سے یہ فریاد کی جائے کہ اللہ تبارکٰ و تعالیٰ، جس مقصد کے لیے یہ ملک قائم ہوا ہے، اس مقصد میں ہمیں پیش قدمی کی توفیق عطا فرمائیں۔

چنانچہ آج بھی، الحمد للہ، اس یومِ آزادی کا آغاز دارالعلوم کی مسجد میں ختم سے ہوا، دعاؤں سے ہوا؛ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے وہ دعائیں قبول فرمائیں۔ اور آج، ماشاء اللہ، جس طرح ہمارے دارالعلوم کے مختلف شعبوں کے طلبہ نے نہایت نظم و ضبط کے ساتھ اور بہت جوش و خروش کے ساتھ پروگرام پیش کیے، میں ان طلبہ کو بھی اور درحقیقت ان کے اساتذہ اور منتظمین کو بھی، جنہوں نے یہ خوبصورت، پروقار اور منظم پروگرام تیار کیے اور اس کے لیے محنت کی، میں ان سب کو تہہِ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خاص طور پر نچلے درجوں کے طلبہ، دار القرآن کے بچے، دار القرآن کے اساتذہ، ابتدائیہ اور ثانویہ کے، اور حرا فاؤنڈیشن کے اساتذۂ کرام، جنہوں نے یہ خوبصورت اور ولولہ انگیز پروگرام تشکیل دیے، میں ان سب کا شکر گزار ہوں اور انہیں تہہِ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان جذبات کو ملک و ملت کے لیے بہتر مستقبل کا پیش خیمہ بنائے۔

جب بچے، بالکل چھوٹے بچے، مدرسہ ابتدائیہ کے چھوٹے بچے ہمارے سامنے پریڈ کر رہے تھے، تو مجھے اپنا بچپن یاد آ رہا تھا۔ آج اس دنیا میں وہ لوگ کوئی خال خال ہی ہوں گے جنہوں نے پاکستان بنتے ہوئے دیکھا۔ ہم بھی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے بچپن ہی میں سہی، لیکن پاکستان کو بنتے ہوئے، پاکستان کی تحریک کے چلتے ہوئے اور پاکستان کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے دیکھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اس تحریکِ پاکستان میں کسی بھی حیثیت سے شرکت اور حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائی۔ یہ جیسے چھوٹے چھوٹے بچے آپ کے سامنے ابھی پریڈ کر رہے تھے، تو مجھے دیوبند کا وہ منظر یاد آ رہا تھا جب ہم اتنے ہی کم عمر تھے، بلکہ شاید اس سے بھی کم، اور اس وقت اپنی توتلی آواز میں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگایا کرتے تھے اور یہ نعرے لگایا کرتے تھے کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ‘‘۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے وہ تمنائیں، وہ آرزوئیں، وہ دعائیں، وہ قربانیاں اور وہ جدوجہد اس طرح قبول فرمائی کہ ہمالیہ کے دامن میں پھیلا ہوا یہ خطۂ زمین اللہ تبارک و تعالیٰ نے خالص اسلام کے نام پر عطا فرمایا۔ اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایسا ملک جو کسی دین کی بنیاد پر قائم ہوا ہو، وہ پاکستان کے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آتا، سوائے ارضِ حرمین شریفین کے، جو الحمد للہ نبی کریم سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی جدوجہد اور آپؐ کی ہدایات کے مطابق ایک نمونہ بنا کر اللہ تعالیٰ نے بھیجی تھی۔ وہ تو ظاہر ہے کہ مستثنیٰ ہے، اس کا تو کوئی مقابلہ کیا نہیں جا سکتا۔ لیکن اس کے بعد جتنی اِس وقت حکومتیں نظر آتی ہیں، وہ کوئی بھی اسلام کے نام پر نہیں بنیں، وہ قومیت کی بنیاد پر بنیں۔ لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ شرف پاکستان کو عطا فرمایا کہ اس کی بنیاد اسلام پر قائم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے، یہ عظیم نعمت اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اور آپ کو عطا فرمائی۔

اس نعمت کا تھوڑا سا اندازہ آپ اس وقت ہندوستان کے مسلمانوں کے حالات سن کر اور دیکھ کر کر سکتے ہیں کہ وہاں مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے۔ اور یہی وہ چیز تھی جس کی بنا پر قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کانگریس سے علیحدہ ہوئے۔ پہلے وہ کانگریس میں شامل تھے لیکن ہندوؤں کا طرزِ عمل دیکھ کر انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمارا ان کے ساتھ نباہ نہیں ہو سکتا۔ اس کی وجہ سے پاکستان کی تحریک چلی اور پاکستان کا مطالبہ پیش کیا گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آج سے ۷۸ سال پہلے ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو یہ وطن ہمیں عطا فرمایا۔ اس نعمت کا سب سے پہلے تو ہمیں احساس ہونا چاہیے کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہے! آزادی کی فضا میں مسلمان سانس لے سکیں، آزادی کی فضا میں اپنی بات کہہ سکیں، اور اپنے دین کے مطابق چلنے کی کوشش کر سکیں، یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

اس نعمت کا تقاضا یہ تھا کہ ہم سب، اور نہ صرف ہم سب بلکہ ہماری حکومتیں اور ہمارے حُکام اس نعمت کی قدر پہچان کر اُس منزل کی طرف بڑھیں جس منزل کی خاطر ہمارے بے شمار بھائیوں اور بہنوں نے قربانیاں دیں، اور اس ملک میں اسلام کو بحیثیت ایک دین کے، بحیثیت ایک نظام کے، اس طرح اختیار کیا جائے کہ وہ ساری دنیا کے لیے ایک مثال بن سکے۔ افسوس ہے کہ چند قدم شریعت کی طرف بڑھنے کے باوجود، بحیثیتِ مجموعی ہمارے حکمران اپنے اس فریضے سے غافل رہے، اور اس سے غافل ہونے کے نتیجے میں جو منزل ہمیں حاصل کرنی تھی، وہ ۷۸ سال کے بعد بھی ابھی تک حاصل نہیں ہو سکی۔

الحمد للہ، کچھ اقدامات ہمارے بزرگوں کی جدوجہد سے ایسے وجود میں آئے ہیں کہ اس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کریں اور اس پر فخر بھی کر سکتے ہیں، لیکن بحیثیتِ مجموعی حکومتوں کا طرزِ عمل یہ رہا کہ وہ اپنے نظامِ حکومت کو اسی مغربی طرز کے اوپر چلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں جس نے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ اور مجھے بہت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج جب کہ ہم یومِ آزادی منانے کے لیے جمع ہوئے ہیں، اس سے کچھ ہی پہلے دو ایسے اقدامات کیے گئے جو پاکستان کے وجود کے لیے انتہائی خطرناک اور انتہائی شرمناک ہیں۔

ایک یہ کہ کچھ دن پہلے پارلیمنٹ کی طرف سے اسلام آباد میں چار ہوٹلوں کو شراب بیچنے کی اجازت دی گئی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے پاکستان کو شراب سے بچایا تھا، شراب کے قانونی استعمال سے بچایا تھا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پاکستان بننے کے بعد شراب بند ہو گئی تھی، پھر بھی لوگ خلوت میں، چوری چھپے شراب پیتے تھے، لیکن کراچی کا وہ منظر جو ہم نے اپنے بچپن میں دیکھا تھا کہ صدر بازار میں قدم قدم پر شراب خانے تھے اور وہاں شراب اس طرح پی جاتی تھی جیسے کہ آپ ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں، اس طرح اس کا رواج عام تھا، گلیوں میں سے شراب کی بو آیا کرتی تھی۔ لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں اس سے نجات عطا فرمائی تھی، اور ۱۹۷۸ء میں صدر ضیاء الحق مرحوم کے زمانے میں ہماری طرف سے ایک قانون منظور ہوا، اس قانون کے تحت شراب بالکل بند کر دی گئی، شراب کا پینا جرم قرار دیا گیا اور اس کا بیچنا جرم قرار دیا گیا۔ اس قانون کی تیاری میں اِس ناکارہ کا بھی حصہ تھا، اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے وہ قانون منظور کرایا۔

یہاں تک کہ پی آئی اے (PIA) کے جو جہاز تھے، پہلے اس میں مسافروں کو شراب پلانے کا انتظام تھا، اور جب پی آئی اے سے شراب بند کرنے کا حکم آیا تو کہا جاتا تھا کہ اب پی آئی اے نقصان برداشت نہیں کر سکے گا، لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو آنکھوں سے دکھایا کہ جس سال شراب بند ہوئی، پی آئی اے کا منافع پچھلے سالوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بڑھ گیا، اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قانون کو الحمد للہ اس طرح کامیاب بھی فرمایا۔ چوری چھپے قانون کے خلاف ہر جگہ کام ہوتا ہے، یہاں بھی ہوتا رہا، لیکن قانون کے سائے میں شراب کی خرید و فروخت اور اس کے پینے کا معاملہ الحمد للہ حل ہو چکا تھا۔ اب یہ آزادی کے دن سے چند دن پہلے پارلیمنٹ میں یہ بل منظور کیا گیا کہ چار بڑے ہوٹلوں کو شراب فروخت کرنے کی اجازت دی جائے گی، بلکہ دے دی گئی۔ یہ انتہائی شرمناک فیصلہ ہے جو حکومت نے کیا، اور افسوس ہے کہ یومِ آزادی سے چند دن پہلے کر کے یومِ آزادی کی خوشیوں کو مکدر کر دیا۔

اور دوسرا فیصلہ؛ اسلام آباد کی ایک مسجد کو گرایا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ ہم نے مدرسہ گرایا تھا اور مدرسہ والوں سے یہ طے کیا گیا تھا کہ ہم اس کے متبادل زمین ’’بارہ کہو‘‘ میں عطا کریں گے اور وہاں پر مدرسہ قائم ہوگا اور مدرسہ وہاں پر منتقل کر دیا جائے گا۔ اول تو یہ باہمی مذاکرہ کس طرح ہوا، کس نے اس پر اتفاق کا اظہار کیا؟ یہ کچھ پتا نہیں۔ اور دوسرے، اگر مدرسہ کو منتقل کرنے کا معاملہ تھا، وہ ہو سکتا ہے کہ مذاکرے کی بنیاد پر اس کو منتقل کر دیا جائے، لیکن جو مسجد بن گئی تھی، اور جو جگہ ایک مرتبہ مسجد بن جاتی ہے وہ قیامت تک مسجد رہتی ہے، اس کا تقدس برقرار رکھنا ہر مسلمان کے فرائض میں داخل ہے۔ اس مسجد کو گرانے پر کوئی مذاکرہ نہیں ہو سکتا تھا، اس کے بارے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے کہ مسجد بن گئی تھی اور سالہا سال سے اس میں نمازیں پڑھی جا رہی تھیں۔ کسی مذاکرے سے، کسی معاہدے سے اس کو ختم کرنا کسی صورت جائز نہیں تھا۔ لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ایسی افسوسناک اور ایسی شرمناک حرکت کی گئی کہ اس مسجد کو شہید کیا گیا۔

میں یہ کہتا ہوں حکومت کے لوگوں سے کہ آپ مجھے پورے پاکستان میں کوئی ایک مسجد ایسی دکھا دیں جو حکومت نے بنائی ہو۔ جتنی مسجدیں ہیں، وہ عوام نے بنائیں، مسلمانوں نے بنائیں۔ حکومت کی طرف سے، حکومت کے خرچ پر کوئی ایک مسجد پورے پاکستان میں، کم از کم میرے علم میں نہیں ہے۔ شاہ فیصل مسجد اگر ہے تو وہ سعودی عرب کی امداد سے بنائی گئی تھی۔ لیکن وہ مسجد جو پاکستانی بجٹ کے اندر شامل کر کے بنائی گئی ہو، کم از کم میرے علم میں کوئی ایسی مسجد نہیں ہے۔ یہاں تک کہ کل ہی مجھے ایک میرے دوست بتا رہے تھے کہ جس مسجد میں میں امامت کرتا ہوں وہ سرکاری پولیس کا مرکز ہے، سرکاری پولیس کا مرکز جو ہے وہ بھی سرکار کے خرچ پر نہیں بنایا گیا بلکہ عوام سے چندہ لے کر بنایا گیا۔ تو وہ اسلامی ریاست، جس کا سب سے بڑا Motto یہ ہونا چاہیے تھا:

الذین ان مکناہم فی الارض اقاموا الصلوٰۃ (الحج ۴۱)
’’جن کو ہم زمین میں اقتدار دیں تو وہ سب سے پہلے نماز قائم کرتے ہیں۔‘‘

اس ریاست کے حکمرانوں نے کوئی ایک مسجد نہیں بنائی پورے ملک میں، اور جو مسجدیں بنائی جا رہی تھیں ان کو شہید کرنے کے واقعات ایک سے زیادہ ہیں۔ اور افسوس ہے کہ اس موقع پر، جبکہ یومِ آزادی قریب آ رہا تھا، یہ حرکت کر کے سارے مسلمانوں اور پاکستان کے سارے دین پسند عوام کے جذبات کو مجروح کر کے ان کو اس بات کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ انتہائی افسوس، انتہائی صدمہ کہ اس یومِ آزادی کے موقع پر ہمیں یہ نوحہ پڑھنا پڑ رہا ہے، ہمیں اس پر رنج و غم کا اور صدمے کا اظہار کرنا پڑ رہا ہے۔

لیکن میں یقین سے کہتا ہوں کہ یہ حکمران، جنہوں نے یہ حرکت کی ہے، وہ اسلام کے اس مقدس مرکز یعنی پاکستان کے ساتھ جتنی بے وفائی کریں اور اس کے مقصدِ وجود سے کتنا ہی انحراف کریں، یہ ملک اللہ کے نام پر وجود میں آیا، ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ پر وجود میں آیا، لہٰذا ان کی یہ کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی اور کبھی بھی پاکستان کے مسلمان ان حرکتوں کو گوارا نہیں کریں گے۔ یہ پتا نہیں کس احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں کہ وہ ایسے کام کر گزرتے ہیں جن کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ ہم سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے؛ لیکن الحمدللہ یہ قوم مسلمان قوم ہے، یہ بیدار ہے، یہ ایک ایک عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہے۔ کوئی بات قابلِ تعریف ہوتی ہے تو ہم اس کی تعریف بھی کرتے ہیں، ہم اس کی حمایت بھی کرتے ہیں، لیکن ایسے اقدامات، شرانگیز اقدامات، جو ہمارے ملک کے مقصدِ وجود کے خلاف ہیں، ان پر خاموش رہنا ہمارے لیے جائز نہیں۔ ہمیں اس کے خلاف پوری مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تلافی کی پوری کوشش کرنی ہوگی اور اس کے لیے سب مسلمانوں کو تیار رہنا چاہیے۔

بہرحال، انتہائی افسوس ہے کہ خوشی کے اس موقع کو ایک صدمے کا موقع بنا دیا گیا، مسرت کی اس تقریب کو نوحہ پڑھنے کی تقریب بنا دیا گیا۔ اور پورا ملک، علماء، اور علماء ہی نہیں، سب دین کے چاہنے والے عوام بھی اس پر تُف کر رہے ہیں۔ جو قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے، اگر اس کی فورً‌ا تلافی نہ کی گئی تو یہ ایک طوفان میں تبدیل ہو سکتا ہے؛ لہٰذا میں انتہائی درمندانہ اپنے حکمرانوں سے یہ کہوں گا کہ وہ اس صورتحال کا فورً‌ا نوٹس لے کر پاکستان کے اصل مقصدِ وجود کی طرف بڑھیں، اور نہ صرف یہ کہ مسجد کو شہید کرنے کی اس انتہائی منافقانہ حرکت سے توبہ کریں، اور توبہ کر کے اپنے پورے ملک کو اس لحاظ سے مسجد بنائیں کہ اس میں اللہ کا حکم جاری ہو، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل ہو، ہمارا نظامِ تعلیم ایسے لوگ تیار کرے جو سچے پکے مسلمان اور سچے پکے پاکستانی ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

مجھے افسوس ہے کہ اس خوشی کے موقع پر بھی مجھے یہ کلمات کہنے پڑے، لیکن یہ دردِ دل ہے جس کے کہے بغیر ہمارا فریضہ ادا نہیں ہو سکتا تھا۔ بہرحال، اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ یہ انتہائی شرمناک حرکتیں جو بعض اوقات حُکام سے سرزد ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ اس قوم کو ان کے شر سے بچائے اور اس قوم کو اس کا صحیح مداوا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے، اسلام ہی پر ان شاء اللہ یہ قائم رہے گا۔ اور مجھے اپنے بھائی، مولانا زکی کیفی صاحب کا ایک شعر یاد آتا ہے؛ جب ابھی تھوڑی دیر پہلے پاک بھارت جنگ کا جو ذکر ہوا تھا، تو اس میں اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنے فضل و کرم کا مظاہرہ فرمایا کہ اپنے سے پانچ گنا سے زائد طاقتور دشمن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے شکستِ فاش دی اور ہماری افواج کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے برتری عطا فرمائی جس کا ڈنکا پوری دنیا میں بجا ہوا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، اس کا انعام ہے۔ میرے بھائی مرحوم نے کہا تھا کہ ؎

ہر کڑے وقت میں اسلام ہی کام آیا ہے
ہر کڑے وقت میں اسلام ہی کام آئے گا

لہٰذا ہمارے حکمرانوں کو ذرا اپنے گوشِ ہوش سے اس بات کو سننا چاہیے کہ ان کو جو کچھ فتح ملی، وہ اللہ تعالیٰ کی نصرت سے ملی، اس لیے ملی کہ پاکستان کو اسلام کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ اگر وہ اس کے خلاف کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں گے تو پاکستانی قوم کبھی بھی اس کو قبول نہیں کرے گی۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے دین پر استقامت عطا فرمائے، ہمارے ملک کو دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اور جس مقصد کے لیے یہ وجود میں آیا تھا، اس مقصد کی طرف تیز رفتاری کے ساتھ پیش قدمی کی توفیق بخشے۔ ان دعاؤں کے ساتھ میں آپ حضرات سے اجازت چاہتا ہوں اور آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اس تقریب میں شرکت فرمائی۔

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل

(الشریعہ — اگست ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اگست ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۸

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۴)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۱)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

محاضراتِ فقہ (۳)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۴)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۸)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

کیا خدا کو ڈھونڈنا آج زیادہ مشکل ہے؟
مولانا سیف الرحمٰن ادیب

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۵)
محمد سراج اسرار

امام طحاوی رحمہ اللہ کے مختصر حالات
مولانا مفتی رضاء الحق
مولانا محمد عثمان بستوی

عورت کا حقِ مہر و ملازمت: شرعی حقیقت اور رائج تصورات
مفتی سید انور شاہ

فیمنزم اور شاہ ولی اللہ کے عمرانی افکار
مولانا غالب شمس قاسمی

زکوٰۃ سے متعلق دو اہم استفسار
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

A Proven Path to Conquering Physical Limitations
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

رجوع الی اللہ — جشنِ آزادی کی اصل روح
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

سیاسی سفر اور ملکی و عالمی معاملات پر نقطۂ نظر
مولانا فضل الرحمٰن

اسلام کے سیاسی نظام پر کتب
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مذہب، قانون اور جذبات
خورشید احمد ندیم

پاکستان کے لیے سعودی عرب کی حفاظت کا اعزاز
مولانا مفتی عبد الرحیم
مفتی عبد المنعم فائز
مولانا عبد الودود

وسطی ایشیا میں دینی روایت کے عروج و زوال اور بقا کی داستان
مفتی سید عدنان کاکاخیل

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۲)
حافظ مجددی

تلاش

شماریات