عورت کا حقِ مہر و ملازمت: شرعی حقیقت اور رائج تصورات

انسان کو زندگی گزارنے کیلئے جیسے روٹی، کپڑے اور مکان کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح خاندان بھی اس کی ایک نہایت اہم ضرورت ہے، خاندان کے بغیر زندگی قیدِ تنہائی سے کم نہیں۔ انسان کو زندگی کے تقریباً‌ ہر اہم مرحلے میں خاندان کے تعاون اور رفاقت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ خوشی ہو یا غم، دونوں کا حقیقی اندازہ اور اثر خاندان کی شرکت ہی سے مکمل ہوتا ہے۔ اگر خاندان کی دلجوئی اور ہمدردی شاملِ حال نہ ہو تو معمولی غم بھی ناقابلِ برداشت محسوس ہونے لگتا ہے۔ 

اسی لئے اسلام میں خاندانی نظام کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کو اپنے انعامات میں شمار فرمایا ہے جعلنا کم شعوباً‌ و قبائل" (یعنی ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا)۔ ہر شادی شدہ شخص کے ساتھ خاندان کی تین شاخیں وجود میں آتی ہیں: دادیہال، نانیہال، اور سسرال۔ یہ تینوں رشتے نکاح ہی کے ذریعے قائم ہوتے ہیں، اسی وجہ سے اسلام میں نکاح کو نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ نکاح مرد اور عورت کے درمیان انجام پانے والا قابلِ احترام عقد ہے، جس سے عائلی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ نکاح کے ذریعے دو اجنبی مرد و عورت ایک مودت و محبت اور اعتماد کی فضا میں زندگی گزارنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ 

حقِ مہر

اسلام رشتہ نکاح کو پائیدار اور مستحکم دیکھنا چاہتا ہے، اسی لئے اس نے نکاح کے سلسلے میں ایسے احکام اور ہدایات دیئے ہیں جن کے نتیجے میں دونوں کے حقوق کا مکمل تحفظ ہو جاتا ہے۔ انہی احکام میں سے ایک اہم حکم حقِ مہر ہے۔ مہر کے معاملے میں لوگ افراط و تفریط اور مختلف غلطیوں کا شکار ہیں۔ خاص کر یہ تاثر تو بہت زیادہ عام ہے کہ مہر جتنا کم سے کم طے کیا جائے، شریعت کی نگاہ میں اتنا ہی مستحسن ہے۔ اس کے علاوہ بھی مہر کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں لوگوں میں پائی جاتی ہے جن کی اصلاح نہایت ضروری ہے۔ لہٰذا اس تحریر میں ان غلطیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

مہر کی حقیقت

مہر دراصل شوہر کی طرف سے عورت کا ایک اعزاز و اکرام ہے، یہ نہ تو عورت کی قیمت ہے، جسے ادا کر کے یہ سمجھا جائے کہ وہ شوہر کے ہاتھوں بِک گئی ہے اور اب اس کی حیثیت محض ایک لونڈی کی ہے، اور نہ یہ محض ایک فرضی اور رسمی کاروائی ہے، جس کے بارے میں یہ سمجھا جائے کہ اسے عملاً‌ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ شرعی نقطہ نظر سے شوہر کے ذمہ بیوی کا مہر لازم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب کوئی شخص بیوی کو اپنے گھر میں لائے تو اس کا مناسب اکرام کرے، اور اسے ایسا ہدیہ پیش کرے جو اس کے اعزاز و اکرام کے مناسب ہو۔ اس لئے شریعت کا تقاضہ یہ ہے کہ مہر کی مقدار نہ تو اتنی کم رکھی جائے جس میں اعزاز و اکرام کا یہ پہلو بالکل مفقود ہو جائے اور نہ اتنی زیادہ رکھی جائے کہ شوہر اس کی ادائیگی پر قادر نہ ہو اور بالآخر یا تو مہر ادا کئے بغیر دنیا سے رخصت ہو جائے یا آخر میں بیوی سے معاف کرانے پر مجبور ہو۔ 

مہر کا تعین محض ایک فرضی یا رسمی کاروائی نہیں ہے، جو غور و فکر اور سوچے سمجھے بغیر کر لی جائے، بلکہ یہ ایک دینی فریضہ ہے جو پوری سنجیدگی اور بیداری کا محتاج ہے، شرعاً‌ اس کے تمام پہلو واضح اور صاف ہونے چاہئیں اور اس کے مطابق ادائیگی کی فکر کرنی چاہئیے۔ یہ بڑی نا انصافی ہو گی کہ اس حق کی ادائیگی سے ساری عمر بے فکر رہنے کے بعد بسترِ مرگ پر بیوی سے اس کی معافی حاصل کر لی جائے، جب کہ ماحول کے جبر سے اس کے پاس معاف کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو۔

مہرِ معجل اور مہرِ مؤجل

مہر کی مشہور دو قسمیں ہیں: (۱) مہر معجل (۲) مہر مؤجل۔ یہ الفاظ عقدِ نکاح کے موقع پر سنائی دیتے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کو ان کا مطلب معلوم نہیں ہوتا۔ 

مہرِ معجل شرعی اعتبار سے اس مہر کو کہتے ہیں جو نکاح ہوتے ہی شوہر کے ذمہ لازم ہو جاتا ہے، اب اس کا فریضہ یہ ہے کہ یا تو نکاح کے وقت ہی ادا کر دے، یا اس کے بعد جتنا جلدی ممکن ہو ادا کر دے۔ عورت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ جب چاہے اس کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ چونکہ ہمارے معاشرے میں خواتین عام طور سے مطالبہ نہیں کرتیں، اس لئے اس سے یہ نہیں سمجھنا چایئے کہ اس کی ادائیگی ہمارے ذمہ ضروری نہیں، بلکہ شوہر کے ذمہ لازم ہے کہ وہ عورت کے مطالبے کا انتظار کیے بغیر جس قدر جلد ممکن ہو اس فریضہ سے سبکدوش ہو جائے۔

مہرِ مؤجل اس مہر کو کہا جاتا ہے جس کی ادائیگی کیلئے فریقین نے آئندہ کوئی تاریخ متعین کی ہو، مثلاً‌ دو سال بعد شوہر مہر ادا کرے گا وغیرہ۔ عورت مقررہ میعاد سے پہلے مہرِ مؤجل کا مطالبہ کرنے کی مجاز نہیں۔ لہٰذا مہر کے مؤجل ہونے کا اصل مطلب یہ ہے کہ اس ادائیگی کیلئے کوئی تاریخ نکاح کے وقت ہی مقرر کر لی جائے۔ لیکن ہمارے معاشرے کے رواج کے مطابق اس کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ مہر کی یہ مقدار اس وقت واجب الادا ہوگی جب نکاح ختم ہوگا، یعنی اگر طلاق ہو جائے تب مہر مؤجل کی ادائیگی لازم ہوگی، یا میاں بیوی میں سے کسی کا انتقال ہو جائے تب اس کی ادائیگی لازم سمجھی جاتی ہے، جو کہ درست تصور نہیں ہے۔

مہر کی کم سے کم مقدار کیا ہے؟ (اَقَل مہر)

مہر کی کم از کم مقدار حنفی مذہب کے مطابق دس درہم ہے۔ دس درہم کا مطلب دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی ہے۔ موجودہ اوزان کے اعتبار سے اس کی مقدار 30 گرام 618 ملی گرام چاندی ہے۔ چاندی کی قیمت اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے، آج کل ایک تولہ چاندی کی قیمت تقریباً‌ چھ ہزار (6000) روپے ہے، اس حساب سے کم از کم مہر کی مقدار 15756 روپے بنے گی۔ 

اس کم سے کم مقدار کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اتنا مہر رکھنا شرعاً‌ پسندیدہ ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس سے کم مہر پر اگر عورت خود بھی راضی ہو جائے تو شریعت راضی نہیں ہے، کیونکہ اس سے مہر کا مقصد، یعنی عورت کا اعزاز و اکرام پورا نہیں ہوتا۔ یہ کم از کم حد بھی ان لوگوں کا خیال کر کے رکھی گئی ہے جو مالی اعتبار سے کمزور ہیں اور زیادہ رقم خرچ کرنے کے متحمل نہیں، ان کے لئے یہ گنجائش دی گئی ہے کہ اگر عورت راضی ہو تو کم از کم اس مقدار پر نکاح ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب لینا ہرگز درست نہیں ہے کہ شریعت کو منظور ہی یہ ہے کہ مہر کی مقدار دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی یا اس کی قیمت طے کیا جائے۔

عورت کا مہر کتنا ہونا چاہیے؟ (مہرِ مثل)

شرعی نقطہ نظر سے ہر عورت کا اصل حق یہ ہے کہ اسے "مہر ِمثل" دیا جائے۔ مہر مثل کا مطلب یہ ہے کہ لڑکی کے باپ کے خاندان کی وہ لڑکیاں جو مال، جمال، دین، عمر، عقل، شہر، باکرہ یا ثیبہ ہونے میں اس کے برابر ہوں، ان کا جتنا مہر تھا، اتنا مہر، مہرِ مثل ہے۔ خاندان کے لڑکیوں سے مراد اس کی بہنیں، پھوپھی زاد اور چچا زاد بہنیں وغیرہ ہیں۔ اور اگر اس لڑکی کی خاندان میں دوسری لڑکیاں نہ ہوں تو خاندان کے باہر اس کے ہم پلہ خواتین کا جو مہر عام طور سے مقرر کیا جاتا ہو، وہ اس لڑکی کا مہرِ مثل ہے، اور شرعی اعتبار سے بیوی مہر ِمثل وصول کرنے کی حقدار ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ اگر نکاح کے وقت باہمی رضا مندی سے مہر کا تعین نہ کیا گیا ہو یا مہر کا ذکر کئے بغیر نکاح کر لیا گیا ہو تو مہر ِمثل خودبخود لازم ہو جاتا ہے، اور شوہر کے ذمہ شرعاً‌ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ بیوی کو اس کا مہرِ مثل ادا کرے۔ البتہ اگر بیوی خود مہرِ مثل سے کم پر خوش دلی سے راضی ہو جائے، یا شوہر خوشی سے مہرِ مثل سے زیادہ مہر کی مقدار طے کر لے، تو باہمی رضا مندی سے مہرِ مثل سے کم یا زیادہ مقرر کر لینا جائز ہے، شریعت نے زیادہ سے زیادہ مہر کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے، البتہ کم سے کم مہر کی حد مقرر کر دی ہے۔

مہر مقرر کرنے میں اتباعِ سنت (مہرِ فاطمی)

لوگوں میں یہ تصور بہت زیادہ پھیلا ہوا ہے کہ مہر جتنا کم سے کم معمولی مقدار میں مقرر کیا جائے اتنا ہی شریعت کے نظر میں مستحسن اور افضل ہے۔ اچھے خاصے دیندار لوگ بھی اس غلط فہمی کا شکار ہیں، حالانکہ یہ تصور غلط اور بے بنیاد ہے۔ 

اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کا مہر پانچ سو درہم مقرر کیا تھا، جو 131 تولہ تین ماشہ چاندی کے برابر ہوتا ہے۔ موجودہ حساب کے اعتبار سے اس کی مقدار 1.5309 کلو گرام چاندی ہے۔ آج کے لحاظ سے مہرِ فاطمی کی مقدار پاکستانی 787801 روپے بنے گی۔ خود جناب نبی کریم ﷺ نے اپنی متعدد ازواج مطہرات کا مہر بھی اس کے قریب قریب ہی مقرر کیا، جو اوسط درجے کے اعتبار سے ایک قابلِ لحاظ مہر ہے۔

بہت زیادہ مہر نہ رکھنے کی حکمت

اس سلسلے میں حضرت عمر ؓ کا یہ واقعہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ انہوں نے اپنی خلافت کے زمانے میں ایک مرتبہ تقریر کے دوران لوگوں سے فرمایا کہ وہ نکاح میں بہت زیادہ مہر نہ رکھا کریں۔ اس پر ایک خاتون نے اعتراض کیا کہ قرآن کریم نے ایک جگہ مہر کے لئے "قنطار" کا لفظ استعمال کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چاندی کا ڈھیر مہر ہو سکتا ہے، لہٰذا آپ کا زیادہ مہر مقرر کرنے سے منع کرنا درست نہیں ہے۔ حضرت عمرؓ نے خاتون کی بات سن کر فرمایا: واقعی خاتون کا استدلال اور بات ٹھیک ہے، اور کلی طور پر زیادہ مہر رکھنے سے منع کرنا درست نہیں۔ (السنن الکبری للاِمام البیھقی، کتاب الصداق، ۷/۲۳۳)۔ 

مطلب یہی تھا کہ اگر دکھاوا مقصود نہ ہو، ادائیگی کی نیت بھی ہو اور استطاعت بھی ہو تو زیادہ مہر مقرر کرنا بھی جائز ہے۔ یہاں یہ اصول مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ 

  1. مہر اتنا ہو جس سے بیوی کا اعزاز و اکرام بھی ہو اور شوہر کی استطاعت سے باہر بھی نہ ہو۔ جن حضرات نے زیادہ مہر رکھنے سے منع فرمایا، ان کا مقصد یہی تھا کہ اگر استطاعت سے زیادہ مہر مقرر کر لیا جائے تو وہ محض ایک کاغذی کاروائی ہو کر رہ جاتی ہے، حقیقت میں اسے دینے کی کبھی نوبت ہی نہیں آتی، اور مہر ادا نہ کرنے کا گناہ شوہر کی گردن پر رہ جاتا ہے۔ 
  2. دوسرے، بعض اوقات بہت زیادہ مہر مقرر کرنے کے پیچھے نام و نمود اور دکھاوے کا جذبہ بھی کار فرما ہوتا ہے، لوگ محض اپنی شان و شوکت کے اظہار کیلئے غیر معمولی مہر مقرر کر لیتے ہیں۔ 

ظاہر ہے یہ دونوں باتیں اسلام کے پاکیزہ اور مقدس مزاج کے متصادم ہے۔ اس لئے متعدد علمائے کرام نے غیر معمولی مہر مقرر کرنے سے منع فرمایا ہے۔

مہرِ فاطمی بہتر ہے یا شوہر کی حیثیت کا لحاظ کرنا؟

بعض حضرات مہرِ فاطمی کو مہرِ شرعی کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں، ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ شرعی اعتبار سے اس سے کم یا زیادہ مہر مقرر کرنا پسندیدہ نہیں۔ یہ تصور بھی غلط ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر فریقین مہرِ فاطمی کے برابر مہر طے کر لیں اور نیت یہ ہو کہ آنحضرت ﷺ کی مقرر کی ہوئی مقدار بابرکت اور معتدل ہے، اور اتباعِ سنت کی اجر کا بھی قصد ہو، تو یقیناً‌ یہ جذبہ بہت مبارک اور مستحسن ہے۔ لیکن یہ سمجھنا درست نہیں ہے کہ یہ مقدار اس معنی میں شرعی ہے کہ اس سے زیادہ یا کم مہر مقرر کرنا شرعاً‌ ناپسندیدہ ہے، بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ اس سے کم یا زیادہ مہر مقرر کرنے میں شرعی نقطہ نظر سے کوئی قباحت نہیں ہے۔ ہاں یہ اصول مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ مہر اتنا ہو جس سے بیوی کا اعزاز و اکرام بھی ہو اور شوہر کی گنجائش سے باہر بھی نہ ہو۔

مہر کے اضافے کی شرط رکھنا

طلاق کی صورت میں مہر کے اضافے کی شرط

طلاق ایک ناپسندیدہ چیز ہے اور ساتھ ہی بعض ناگزیر حالات میں ایک ضرورت بھی ہے، لیکن اس کے غلط اور بے جا استعمال سے معاشرہ میں بڑی خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں، جس سے مرد و عورت اور سارا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ لہٰذا طلاق کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اگر عقدِ نکاح کے وقت یوں مہر طے کیا جائے کہ ’’اگر شوہر نے بیوی کو طلاق دی تو عورت کا مہر دو لاکھ روپے ہے، اور اگر اس نے طلاق نہ دی تو پھر عورت کا مہر ایک لاکھ روپے ہے۔‘‘ اس طرح مہر طے کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ شوہر مہر کی بڑی رقم سے بچنے کے لیے ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا غیر مشروع اقدام نہ کرے، آیا اس طرح مہر طے کرنا جائز اور معتبر ہے یا نہیں؟

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے فقہ کے اس مشہور مسئلہ سے رہنمائی لی جا سکتی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر نکاح کے وقت مہر اس طرح مشروط طور پر طے ہو کہ ’’شوہر بیوی کو اس کے آبائی وطن سے باہر لے کر گیا تو مہر دو ہزار ہو گا، اور اگر بیوی کو اس کے آبائی وطن سے باہر نہ لے کر گیا تو اس کا مہر ایک ہزار ہو گا۔‘‘ اس مسئلے میں حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک جس مہر کا پہلے ذکر کیا گیا ہے اسی کا اعتبار کیا جائے گا اور پہلی شرط پائی جانے کی صورت میں مہرِ مسمیٰ (متعین کردہ دو ہزار) لازم ہوگا، اور دوسری شرط پائی جانے کی صورت میں مہرِ مسمیٰ ( ایک ہزار) کا اعتبار نہیں ہو گا بلکہ مہرِ مثل لازم ہوگا (جو خاندان میں معروف ہو)، اس شرط کے ساتھ کہ مہرِ مسمیٰ سے مہرِ مثل زائد نہ ہو۔ جبکہ حضراتِ صاحبین امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک دونوں شرطیں درست ہیں اور ہر دو صورت میں مہرِ مسمیٰ لازم ہوگا، یعنی جو شرط پائی گئی اس کے مطابق۔

موجودہ زمانے میں جبکہ کثرتِ طلاق کی وباء عام ہوتی جا رہی ہے، عوام الناس معمولی معمولی باتوں پر بلاخوف و خطر طلاق دیتے ہیں، جو ایک تشویشناک امر ہے اور وقوعِ طلاق کے نتیجے میں پورے معاشرے میں تباہی و بربادی آتی ہے، جس کے بے حد نقصانات ہیں، مثلاً‌: زوجین اور ان کے رشتہ داروں کے درمیان دشمنی و کینہ اور بغض و حسد پیدا ہو جاتا ہے، انسان کا بسا بسایا گھر اجڑ جاتا ہے، بچے بے سہارا ہو جاتے ہیں اور ان کی پرورش و پرداخت اچھی اور نشونما عمدہ نہیں ہو پاتی، طرفین کا سکون ختم ہو جاتا ہے، قرآن و سنت کی خلاف ورزی لازم آجاتی ہے، حتیٰ کہ بسا اوقات یہ نوبت بھی آجاتی ہے کہ دونوں خاندان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا طلاق کے بے جا اور غلط استعمال کو روکنے اور کثرتِ طلاق پر بند باندھنے کے لیے صاحبین ؒ کے قول پر عمل کی گنجائش نکل سکتی ہے۔

و فی الھدایۃ: و لو تزوجھا علی الف ان اقام بھا، و علی الفین ان اخرجھا، فان اقام بھا فلھا الالف، و ان اخرجھا فلھا مھر المثل، لا یزاد علی الفین و لا ینقص عن الالف، و ھذا عند ابی حنیفۃ، و قالا: الشرطان جمیعا جائزان، حتی کان لھا الالف ان اقام بھا، و الالفان ان اخرجھا۔ (2/45،ط:البشری سن الطباعۃ:1436ھ)

دوسری عورت سے نکاح کی صورت میں مہر کے اضافے کی شرط

اگر عقدِ نکاح کے وقت اس طرح مہر مقرر کیا جائے: ‘‘اگر شوہر نے اس منکوحہ کے عقدِ نکاح میں ہوتے ہوئے کسی دوسری عورت سے نکاح کیا تو اس عورت کا مہر دو لاکھ روپے ہوگا، اور اگر اس عورت کے عقدِ نکاح میں رہتے ہوئے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں کیا تو اس کا مہر ایک لاکھ روپے ہوگا‘‘۔ تو جیسا کہ ماقبل میں تفصیل ذکر جا چکی ہے کہ

  • حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک پہلی شرط پائی جانے کی صورت میں مہرِ مسمیٰ (دو لاکھ) لازم ہوگا، اور دوسری شرط پائی جانے کی صورت میں مہرِ مسمیٰ (ایک لاکھ) نہیں بلکہ مہرِ مثل لازم ہو گا۔ 
  • جبکہ امام ابویوسفؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک دونوں شرطیں معتبر ہوں گی اور ہر دو صورتوں میں مہرِ مسمیٰ لازم ہوگا، یعنی جو شرط پائی گئی اس کے مطابق۔

حقِ مہر کے سلسلہ میں چند معاشرتی امور

انسدادِ مفاسد کیلئے مہر کی تحدید کرنا

لوگوں پر مہر کی ایک متعین مقدار مقرر کر کے لازم کر دینا — تاکہ بعض برادریوں اور قبائل کی مہر کے بارے میں جو افراط و تفریط پائی جاتی ہے اس کا سدباب اور خاتمہ ہو جائے — یہ جائز نہیں ہے۔ اس لئے کہ مہر کی ادنیٰ مقدار تو شریعت میں موجود ہے لیکن زیادہ کی کوئی حد شریعت نے مقرر نہیں کی ہے۔ لہٰذا حاکمِ وقت، کسی فرد یا جماعت کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ برادریوں کیلئے یا قبائل وغیرہ کے لئے مہر کی کوئی خاص مقدار مقرر کر کے ان پر لازم کر دے کہ اس میں کمی و اضافہ کی اجازت ہی نہ رہے اور ہر شخص اس مقدار پر مجبور ہو جائے۔ اس لیے کہ مہر بیوی کا حق ہے، دیگر لوگ اس کے مقرر کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ البتہ دیگر لوگ مناسب مہر مقرر کرنے کی اپیل کر سکتے ہیں۔

نام و نمود کیلئے زیادہ مہر مقرر کرنا

محض فخر و مباہت، نام و نمود اور دکھاوے کیلئے زیادہ مہر مقرر کرنا غلط ہے۔ اس سلسلے میں ایک کوتاہی لڑکی کے والدین اور اس کے عزیز و اقارب کی جانب سے یہ ہوتی ہے کہ مہر مقرر کرتے وقت لڑکے کی حیثیت اور استطاعت کا لحاظ نہیں کرتے، بلکہ زیادہ سے زیادہ مہر طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض اوقات اس سلسلے میں شور شرابا اور جھگڑے کی صورت پیدا ہو جاتی ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر بعض مرتبہ اسی جھگڑے میں نکاح اور شادی رک جاتی ہے۔ لوگ زیادہ مہر مقرر کرنے کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ غیر معمولی مہر مقرر کر کے اس کو فخر کی چیز سمجھنا، اس پر جھگڑے کھڑے کرنا اور باہمی رنجش کی بنیاد بنا لینا جاہلیت کے جراثیم ہیں، جن سے مسلمانوں کو بچنا چاہئیے۔

سوا بتیس روپے مہر

ایک کوتاہی بعض حلقوں میں یہ رائج ہے کہ وہ سوا بتیس روپے کو مہرِ شرعی سمجھتے ہیں اس کو مہرِ محمدی بھی کہتے ہیں۔ جو بالکل غلط ہے۔ خدا جانے یہ غلطی کہاں سے چلی ہے؟ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا مہر کی کم از کم مقدار دس درہم یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی ہے، اس سے کم مہر مقرر کرنا درست نہیں ہوتا۔

پہلے بیٹے کے لحاظ سے مہر طے کرنا

بعض لوگوں میں یہ غلطی پائی جاتی ہے کہ وہ مہر کے تعین میں پہلے بیٹے کا لحاظ کرتے ہیں۔ پہلے بیٹے کی بیوی کے لئے جتنا مہر مقرر کیا ہوتا ہے، اسی مقدار کو دوسرے بیٹے کی بیوی کیلئے بھی طے کرتے ہیں اور اس پر باقاعدہ اصرار کرتے ہیں۔ حالانکہ شرعاً‌ مہر کے تعین میں پہلے بیٹے کی بیوی کا اعتبار نہیں کیا جاتا، بلکہ عورت کے اپنے خاندان کی ہم پلہ خواتین کا اعتبار کیا جاتا ہے، جیسا کہ ماقبل بھی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

جب مہر ادا کرنے کی نیت نہ ہو

ایک کوتاہی یہ ہوتی ہے کہ مہر ادا کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔ یہ رواج بنتا جا رہا ہے کہ لوگ زیادہ مہر مقرر کر لیتے ہیں اور ان کے دل میں یہ ہوتا ہے کہ مہر دینا نہیں ہے۔ حدیث پاک میں ایسے لوگوں کے متعلق بہت سخت وعید آئی ہے۔ حدیث پاک کے مطابق جو شخص نکاح کرے اور مہر ادا کرنے کی نیت نہ رکھتا ہو، وہ زانی ہے۔ (مسند احمد: ۴/۳۳۲ طبع بیروت)

شرما شرمی میں یا ڈرا دھمکا کر مہر معاف کروانا

ہمارے معاشرے میں ایک کوتاہی یہ پائی جاتی ہے کہ عورتوں کیلئے مہر لینا معیوب اور برا سمجھا جاتا ہے، اسی طرح میراث کا حصہ لینا بھی عیب سمجھا جاتا ہے، اس لئے خاتون شرما شرمی میں اور ماحول کے جبر سے معاف کر دینا ضروری سمجھتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو معاشرے میں "نکو" سمجھی جاتی ہے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس معاشرتی برائی کو بالکلیہ ختم کریں اور خواتین کو مہر اور میراث کا حصہ دلوائیں۔ اگر وہ معاف کرنا چاہیں تو ان سے کہہ دیا جائے کہ وہ اپنا حق وصول کر لیں اور کچھ عرصہ اپنے تصرف میں رکھنے کے بعد اگر چاہیں تو مرضی و خوشی اور رضا مندی سے واپس لوٹا دیں۔ اس سلسلے میں ان پر ہرگز جبر نہ کیا جائے۔

اسی طرح اگر شوہر یا اس کے علاوہ کسی نے عورت کو ڈرا دھمکا کر مہر معاف کروایا تو مہر معاف نہ ہوگا بلکہ شوہر کے ذمہ بدستور واجب ہو گا۔ (رد المحتار، کتاب النکاح،۳/۱۱۳،ط: سعید)

حقِ ملازمت

دورِ حاضر میں جہاں مردوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کا رواج عروج پر ہے وہیں ہمارے مسلم معاشرہ کی عورتوں میں بھی اعلیٰ تعلیم کا رواج کافی عام ہوتا جا رہا ہے، چنانچہ تعلیم کے بعد بہت سی عورتیں مختلف ملازمتوں سے وابستہ ہو جاتی ہیں۔ اور چونکہ موجودہ دور کے مسلم دنیا کے اکثر حکمران مغربی نظریات و افکار سے مرعوب ہیں اور ان کے آزادی نسواں کے خوشنما نعروں سے متاثر ہیں، اس لیے وہ بھی عورتوں کی ملازمت پر خاص توجہ دیتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کی بھر پور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ 

خاندانی زندگی کا اسلامی تصور

خاندانی زندگی کے بارے میں اسلام کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کسبِ معاش، خاندان کی کفالت اور گھر سے باہر ذمہ داریوں کی تکمیل مرد کے ذمہ ہے، جبکہ بچوں کی پرورش و تربیت، شوہر کی خدمت اور گھریلو نظم و نسق سنبھالنے کی ذمہ داری عورت کی ہے۔ جیسا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہوا تو حضور اکرم ﷺ ‍‍‍‍ نے کام کی تقسیم یوں فرمائی کہ گھریلو جو امور ہیں ان کو انجام دینے کی ذمہ داری حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ڈالی اور گھر کے باہر کے جو امور ہیں ان کی خدمت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کی۔ قرآنِ مجید میں اندرونِ خانہ کی ذمہ داریاں، بچوں کی پرورش، شوہر کے مال کی نگہداشت اور گھر کے ماحول کو سنوارنے کی ذمہ داری عورت پر ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے: و قرن في بیوتکن  (اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو)۔ فالصالحٰت قانتات حافظات للغیب بما حفظ اللہ   (نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں، مرد کی غیر موجودگی میں اللہ کی دی ہوئی حفاظت سے اس کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں)۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر وہ کام جس کی انجام دہی کے لیے عورت کو گھر کی چار دیواری سے باہر جانا پڑے، اور عورت کے باہر کے کاموں میں مصروف رہنے کی وجہ سے شوہر کا حق متاثر ہوتا ہو یا اسے ضرر لاحق ہو، تو شوہر کو ایسے کاموں سے اپنی بیوی کو روکنے کا حق حاصل ہے۔

بوقتِ نکاح عورت کے حقِ ملازمت کی شرط

اس پس منظر میں اگر کوئی عورت نکاح کے وقت اپنے ہونے والے شوہر کے سامنے یہ شرط رکھے کہ شوہر اسے موجودہ ملازمت سے یا آئندہ ملنے والی ملازمت سے نہیں روکے گا، اور شوہر عقدِ نکاح کے وقت اس شرط کو قبول کر لیتا ہے، تو کیا شوہر کے لیے اس شرط کی پابندی ضروری ہوگی یا نہیں؟ اور اگر شوہر اس شرط کو قبول کرنے کے باوجود عورت کو ملازمت چھوڑنے کا حکم دیتا ہے، یا نئی ملازمت کرنے سے منع کرتا ہے، تو عورت کے لئے شوہر کے اس حکم کی تعمیل ضروری ہو گی یا نہیں؟

غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ شریعت نے حقوقِ زوج کا کتنا خیال رکھا ہے، اگر بیوی ملازمت کے لیے نکلے گی تو یقینی بات ہے کہ پورے دن تھکی ماندی رہے گی، جب شام میں گھر آئے گی تو اپنے آرام و سکون کے فکر میں رہے گی۔ شوہر کا خیال نہیں رکھ سکے گی، بچے کی بھی صحیح تربیت نہیں کر سکے گی، گھر کا نظام بھی درست نہ رکھ سکے گی، جو عورت کا اہم فریضہ ہے۔ فقہائے کرام نے جو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اگر عورت علمی مجلس میں جانا چاہتی ہے اور شوہر اس کو وہاں جانے سے منع کرے تو عورت کو یہ اختیار نہ ہو گا کہ اس کی اجازت کے بغیر وہاں چلی جائے۔ (خانیہ علی ھامش الھندیہ،۱/۴۴۳)

دوسری بات یہ ہے کہ جب شوہر کے ذمہ بیوی کا نان و نفقہ شرعاً‌ واجب ہے تو بیوی کو ملازمت کر نے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ خاص کر آج کل کے پر فتن دور میں جہاں ہر چار جانب فحاشی، عریانی، بے حیائی اور بے پردگی عام ہے۔ اور عام طور پر ملازمت دینے والے اداروں میں بے پردگی، مردوں سے اختلاط و آزادی اور غیر محرم سے بلا حجاب بے تکلفی کے ساتھ بات کرنا عام معمول کی بات ہے۔ دوسری طرف مغرب کی تقلید میں عورت کی ملازمت اور بے جا حقوق کی بات کی جا رہی ہے تو ایسے میں شوہر پر ضروری ہے کہ فتنہ کی وجہ سے عورت کو ملازمت کی اجازت ہی نہ دے۔ عورت چراغِ خانہ ہے شمعِ محفل نہیں۔ حاصل یہ ہے کہ شوہر کو شرط قبول کرنے کے باوجود ملازمت ختم کرنے کا حکم دینے یا نئی ملازمت سے روکنے کا اختیار باقی رہے گا اور اس سلسلے میں شوہر کے حکم کی تعمیل ضروری ہوگی، یہ شرط فاسد اور لغو ہو جائے گی، شوہر پر اس کا ایفا لازم نہیں ہوگا۔ 

البتہ اگر کسی ایسے ادارے میں ملازمت ہو جہاں سارا نظام عورتوں کے ہاتھ میں ہو، مثلاً‌ مدرسۃ البنات ہو جہاں مردوں کے داخلہ پر پابندی ہو، اور آنے جانے میں بے پردگی کے فتنے سے بچاؤ کا اہتمام ہو، اور شوہر بھی مکمل مطمئن ہو، تو ایسی صورت میں شوہر کو اجازت دینی چاہیے۔

فضائل و مسائل

(الشریعہ — اگست ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اگست ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۸

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۴)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۱)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

محاضراتِ فقہ (۳)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۴)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۸)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

کیا خدا کو ڈھونڈنا آج زیادہ مشکل ہے؟
مولانا سیف الرحمٰن ادیب

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۵)
محمد سراج اسرار

امام طحاوی رحمہ اللہ کے مختصر حالات
مولانا مفتی رضاء الحق
مولانا محمد عثمان بستوی

عورت کا حقِ مہر و ملازمت: شرعی حقیقت اور رائج تصورات
مفتی سید انور شاہ

فیمنزم اور شاہ ولی اللہ کے عمرانی افکار
مولانا غالب شمس قاسمی

زکوٰۃ سے متعلق دو اہم استفسار
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

A Proven Path to Conquering Physical Limitations
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

رجوع الی اللہ — جشنِ آزادی کی اصل روح
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

سیاسی سفر اور ملکی و عالمی معاملات پر نقطۂ نظر
مولانا فضل الرحمٰن

اسلام کے سیاسی نظام پر کتب
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مذہب، قانون اور جذبات
خورشید احمد ندیم

پاکستان کے لیے سعودی عرب کی حفاظت کا اعزاز
مولانا مفتی عبد الرحیم
مفتی عبد المنعم فائز
مولانا عبد الودود

وسطی ایشیا میں دینی روایت کے عروج و زوال اور بقا کی داستان
مفتی سید عدنان کاکاخیل

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۲)
حافظ مجددی

تلاش

شماریات