مولانا عبد الودود:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ناظرینِ محترم! آج کی نشست بھی ہمیشہ کی طرح خاص ہے، لیکن آج بہت خاص ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی آپ کو پتہ ہے کہ ایک دو روز پہلے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ایک بڑا ہی تاریخی، الحمد للہ، دفاعی معاہدہ ہوا ہے۔ اس معاہدے کے تناظر میں حضرت استاذ صاحب دامت برکاتہم کے کچھ شارٹ وائس میسجز تو ہم تک پہنچے — ایک دو منٹ کے — لیکن آج ہم ان کے ساتھ اس نشست میں خاص طور پر اس معاہدے کی اہمیت جاننے کی کوشش کریں گے۔ اور یہ اہمیت پاکستان کے لیے سفارتی سطح پہ، سیاسی سطح پہ، دفاعی سطح پہ، ہر ہر سطح پہ کس قدر زیادہ ہے، اس کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اور عالمی منظر نامے میں پاکستان کی حیثیت اور سعودی عرب کا پورا جو ماحول ہے، وہ اس معاہدے کے بعد کس طرح سے تبدیل ہو جائے گا، یہ بھی ان سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اور اس سب میں، ہمارے پاکستان کے اندرونی طور پہ جو ایک خانہ جنگی کا ماحول ہے اور ہمارے کچھ پڑوسی ممالک کے معاملات آپ کے سامنے ہیں، اور پھر حضرت استاذ صاحب کی ان کے حوالے سے گفتگو بھی ہم سن رہے ہیں؛ تو ان پڑوسیوں کے لیے اس معاہدے کے بعد کیا نصیحتیں ہیں، اور ان سے کیا ہم گزارش کریں گے، تو وہ بھی ہم حضرت کی زبانی سنیں گے۔ آج کی اس نشست میں آپ آخر تک، ان شاء اللہ، ہمارے ساتھ رہیں گے، تو آئیے آغاز کرتے ہیں۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، حضرت!
مولانا مفتی عبد الرحیم:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
مولانا عبد الودود:
حضرت، بہت شکریہ اور آپ کو بہت مبارکباد اس تاریخی معاہدے کے اوپر، ما شاء اللہ، تو سب سے پہلے سوال آپ کی خدمت میں ہم رکھیں گے۔ ایک تو آپ سے یہ جاننا چاہیں گے، جیسے ہم نے اپنے انٹرویو میں بھی ذکر کیا، کہ یہ معاہدہ یقیناً پاکستانی قوم کے لیے بڑی خوشگوار ہوا کا جھونکا ہے، الحمد للہ، پورا پاکستان بہت خوش ہے، سعودی عرب میں بہت خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ تو پاکستان اور سعودی عرب کے تناظر میں، اور اس کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام کے تناظر میں اگر ہم دیکھیں، تو اس معاہدے کی ان دونوں ممالک کے لیے اور پورے عالمِ اسلام کے لیے کون کون سے محاذوں پر کتنی اہمیت ہے؟ ذرا آپ اس سے گفتگو کا آغاز فرمائیے گا۔
مولانا مفتی عبد الرحیم:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یہ جو معاہدہ ہے، اس کی اہمیت، اس کی گہرائی کتنی ہے، اس کی وسعتیں کتنی ہیں؛ ہمارے ملک کے لیے، پاکستانیوں کے لیے، ہماری آرمی کے لیے، ایئر فورس کے لیے، نیوی کے لیے، ایس پی ڈی (SPD) جو ہمارا ایٹمی پروگرام ہے اس کے لیے، امتِ مسلمہ کے لیے، برصغیر کے لیے، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کے لیے اور بالخصوص حرمین شریفین اور سعودی عرب کے تحفظ کے حوالے سے اس کی بہت اہمیت ہے۔
ایک بات تو میں یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں کہ آپس میں اتفاق و اتحاد کی کتنی برکتیں ہوتی ہیں۔ ستاون اسلامی ممالک میں کتنے ملک ایسے ہیں جن کی خواہش ہے کہ ہم ایٹمی طاقت بن جائیں۔ ایٹامک انرجی کے لیے لوگ کتنی کوششیں کرتے ہیں۔ ایٹمی پاور بننے کے لیے خواہشات تو بہت ہیں، لیکن آپس کے اتفاق و اتحاد سے سعودی عرب ایک ہی جست میں، ایک ہی چھلانگ میں ایٹمی پاور بن گیا۔ اس سے بڑھ کر کیا چیز ہو سکتی ہے؟ اور شاید یہ نیٹو کے بعد پہلا ایک ایگریمنٹ ہے جس میں ایٹمی پاور کی وجہ سے ایٹمی پاور بن گئے۔ تو اس حوالے سے اس کو دیکھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جس طرح سے عراق، شام اور لیبیا اور پڑوسی ممالک کو جس طریقے سے اسرائیل نے بالکل تہس نہس کر دیا، اور دو تین ہفتوں میں ہی چھ سات ملکوں پر ان کا حملہ ہوا۔ اسرائیل کا جو وزیر اعظم ہے، وہ پارلیمنٹ میں ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا نقشہ خود لے کر کھڑا ہوا تھا، اور اس میں آدھا سعودی عرب آتا ہے۔ ان کی باچھیں اتنی کھلی ہوئی تھیں کہ ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ ہر چیز کو روندتے چلے جائیں گے۔ ان کے سامنے نہ مسلمانوں کی، نہ غزہ کی، نہ فلسطین کی، نہ بچوں کی کوئی قیمت ہے، نہ خواتین کی، نہ بوڑھوں کی، نہ ان کی جان، مال، عزت کی، نہ دنیا کے قانون کی، نہ بین الاقوامی قانون کی اور نہ ہی انسانیت کی۔ تو ایسے میں جب وہ بالکل بے لگام ہو گئے اور انہوں نے باقاعدہ یہ کہنا شروع کر دیا کہ جہاں بھی لوگ ہوں گے ہم ان کو ہٹ (hit) کریں گے۔
تو ایسے وقت میں مشرقِ وسطیٰ کے مسلمان اور خاص طور پر بلادِ حرمین شریفین کے جو مسلمان تھے، وہاں کی حکومت اور وہاں کی جو ریاست تھی، وہ ایک بہت بڑے پریشر میں تھی۔ ظاہر ہے کہ اتنے بڑے ملک کی اس طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے دہائیاں چاہیے ہوتی ہیں۔ دنیا نے اپنے آپ کو اتنا منظم کر لیا ہے اور اتنا شکنجے میں کسا ہوا ہے کہ اب کسی مسلمان ملک کے لیے ایٹمی پاور بننا بہت مشکل ہے۔ آپ نے دیکھا ایران کے ساتھ کیا ہوا، بغداد کے ساتھ کیا ہوا، لیبیا کے ساتھ کیا ہوا؟ جس ملک نے بھی کوشش کی ہے، اس کو وہیں انہوں نے دبوچا ہے جا کر۔ تو سعودی عرب کی خواہش تو تھی، لیکن یہ کہ محمد بن سلمان اور وہاں کی جو قیادت ہے، ان کو میں شاباش دوں گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے بہت بڑا فیصلہ کیا، بہت بروقت فیصلہ کیا، اور ایک ایسا فیصلہ کیا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا اور عالمِ اسلام اور بین الاقوامی سطح پہ اس کو تاریخی سمجھا جائے گا، اور یہ تاریخی ہے بھی، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔
تو کل جب یہ معاہدہ ہوا، اس کے بعد سے یہود و ہنود پہ، اسرائیل اور بھارت پہ، اور جتنی بھی یہ صہیونی طاقتیں ہیں اور جتنے بھی ہندوتوا کے لوگ ہیں، ان کے اوپر جو بجلی بن کے گری ہے، اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس معاہدے کی گہرائی کتنی ہے اور اس کی وسعت کتنی ہے۔ اس کو شمال میں، جنوب میں، سعودی عرب کے اور عالم اسلام کے مشرق، مغرب اور فرش سے لے کر عرش تک، اوپر نیچے اس کی گہرائی دیکھیں تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ اس لحاظ سے بھی کہ جو ایٹمی پاور ہوتی ہے، اس کا دفاع یا اس کا حملہ یا اس کی فوجی طاقت، وہ اتنی مختلف ہوتی ہے کہ دوسرے ملکوں کے ساتھ اس کا موازنہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔
تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ سعودی حکومت نے، وہاں کے جو بادشاہ ہیں، وہاں کے جو ولی عہد ہیں، یا وہاں کے جو بھی ذمہ دار لوگ ہیں، انہوں نے پاکستان کو دیر سے پہچانا لیکن صحیح پہچانا ہے۔ تو جہاں ہمارے لیے، پاکستان کے لیے یہ بہت بڑی بات ہے، وہاں سعودی عرب کے لیے بھی بہت بڑی بات ہے کہ سب کو ایک تحفظ حاصل ہو گیا۔ اور (اسرائیل کے) قطر پر حملے کے بعد سعودی عرب بھی بالکل ایک متزلزل حالت میں تھا اور وہاں عدمِ تحفظ کا احساس تھا۔ الحمد للہ، رات کو جس طرح سے آپس میں معاہدہ ہوا ہے، تو یہ حرمین شریفین کی حفاظت بھی ہے اور ان شاء اللہ باذن اللہ بیت المقدس اور فلسطین کی حفاظت بھی اس سے ہو گی۔
دوسرا، اس میں یہ بھی بتا دوں کہ برصغیر میں جو چیزیں چل رہی تھیں، جس طریقے سے انڈیا کو ایک چوہدری بنایا گیا اور اتنے بڑے پیمانے پر ان کو ہم پر مسلط کیا گیا، جس طریقے سے وہ دھمکیاں دے رہے تھے اور جتنی بڑی طاقت ان کے پاس ہے؛ ان سب چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جو معاہدہ ہوا ہے، یہ فوجی اعتبار سے بھی برصغیر کے لیے اور پاکستان کے لیے بہت بڑی سعادت بھی ہے، بہت بڑی قوت اور طاقت بھی ہے۔ سیاسی حوالے سے بھی، معاشی حوالے سے بھی اور عالمِ اسلام کے حوالے سے بھی میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
مفتی عبد المنعم:
اچھا، استاذ صاحب نے بڑی تفصیل سے اس بات پر تو گفتگو کی کہ عالمِ اسلام کے لیے اس کی کتنی بڑی اہمیت ہے۔ تو خود پاکستان — کیونکہ بہت سارے داخلی اور خارجی مسائل کا سامنا ہے پاکستان کو — تو پاکستان کی اپنی جو عالمی حیثیت ہے اس میں کتنی تبدیلی آئے گی؟ پاکستان کے لیے اس معاہدے کی کتنی بڑی اہمیت ہے؟ خصوصاً حرمین شریفین، مکہ مکرمہ، روضۂ رسول اور ان مقدس مقامات کی حفاظت کا یہ بہت مقدس موقع جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے، اس کے پاکستان کے مستقبل پر کیا مثبت اثرات مرتب ہوں گے؟
مولانا مفتی عبد الرحیم:
ایک تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس معاہدے کے بعد ہر پاکستانی، روحانی اعتبار سے، ایمانی اعتبار سے، نظریاتی اعتبار سے، وہ فرش سے عرش تک پہنچ گیا ہے، بہت بڑی بات ہو گئی ہے۔ ہر پاکستانی، ہر آدمی جب یہ سوچتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر کی، مکہ مکرمہ کی، بیت اللہ کی، روضۂ رسول کی ہمیں نوکری مل گئی ہے، تو اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز سوچی جا سکتی ہے؟ اب صحیح معنوں میں، میں سمجھتا ہوں کہ ہم پاکستانی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کی بات کر سکتے ہیں۔ اس کو روحانی اعتبار سے انجوائے کرنا چاہیے، کیونکہ ہمارا تو حرمین شریفین سے ایمان وابستہ ہے۔ ہمارا دین و ایمان حرمین شریفین سے وابستہ ہے۔ تو اس کے لیے اگر ہمیں موقع ملتا ہے وہاں کی حفاظت کے لیے اور ہمارا نام بھی اس میں آتا ہے، تو ہماری شفاعت کے لیے، آخرت میں مغفرت کے لیے اور دنیا میں کامیابی کے لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑی بات ہے۔ ہر پاکستانی اس کو انجوائے کرے، ہر اعتبار سے، خاص طور پر نظریاتی اور روحانی اعتبار سے۔
بہت سے لوگ جو اس وقت بیمار ہیں، ہسپتالوں میں پڑے ہوئے ہیں، وہ اس بات کو سوچیں کہ ہم کہاں تک پہنچے ہیں، تو ان شاء اللہ ان کو شفا اور صحت بھی ملے گی۔ جتنے ہمارے فوجی حضرات ہیں، چاہے وہ آرمی کے ہوں، نیوی کے ہوں، ایئر فورس کے ہوں، یا ایس پی ڈی میں جو لوگ کام کر رہے ہیں، وہ آج سے کتنے اونچے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ تو جتنا اس بات کو سوچیں گے، جتنا اس کو اہمیت دیں گے، اتنا ان کے اندر کا ایمان بھی بڑھے گا، ان کی روحانیت بھی بڑھے گی اور ان کو حوصلہ بھی ملے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اسی طریقے سے جو اس خطے کے مسائل تھے؛ اندرونی مسائل، جس طریقے سے یہاں خلفشار تھا، جس طریقے سے یہاں فوج پہ حملے ہو رہے تھے، فوج کے خلاف چیزیں ہو رہی تھیں اور اینٹی اسٹیٹ (anti-state) نظریہ چل رہا تھا، ان سب کے لیے یہ جو معاہدہ ہے، یہ بہت مؤثر ایک ضربِ کاری ہے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ان شاء اللہ اس کی وجہ سے ہمارے ملک کی قدر، ہماری افواج کی اہمیت، پاکستان کی اہمیت، پاکستانیوں کی اہمیت، پاکستان کے جھنڈے کی اہمیت اور پاکستانی پاسپورٹ کی اہمیت اتنی زیادہ ہو گئی ہے اور مزید بڑھے گی، بشرطیکہ ہم اس نعمت کی قدر کریں۔
مولانا عبد الودود:
اچھا، حضرت، میں نے اپنے پہلے سوال میں بھی ذکر کیا تھا کہ جو آرمی چیف ہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب، ان کی ہم بہت ساری ملاقاتیں وزیراعظم کے علاوہ بھی (سعودی فرمانروا) محمد بن سلمان صاحب کے ساتھ دیکھتے رہے ماضی میں، بہت سارے ان کے وزٹ ہوتے رہے سعودی عریبیہ کے، اور آپ نے اپنے ایک میسج میں ان کی کوششوں اور کاوشوں کا ذکر بھی کیا۔ تو میں آپ سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کل بڑا اچانک all of a sudden یہ معاہدہ منظرِ عام پر آیا ہے، کوئی بھی شاید اتنے بڑے breakthrough کی توقع نہیں کر رہا تھا، سب حیران تھے کہ اتنا والہانہ استقبال اور یہ سارا کچھ کیوں ہو رہا ہے، ہم سبھی حیران تھے، پوری دنیا دیکھ رہی تھی ان چیزوں کو، تو میں آپ سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اس کے پیچھے کوششیں اور کاوشیں کب سے ہو رہی تھیں اور اس معاہدے کے پیچھے آرمی چیف کا خاص طور پر کتنا بڑا کردار ہے؟
مولانا مفتی عبد الرحیم:
دیکھیے، اس پر تو جو لوگ وزارتِ خارجہ اور دفاعی نظام سے وابستہ ہیں، وہ زیادہ روشنی ڈال سکتے ہیں، لیکن جو میں نے اندازہ کیا ہے مختلف ملاقاتوں میں اور جو میری معلومات ہیں، کافی مدت سے اس کی کوشش ہو رہی تھی۔ سعودی عرب خود اس کوشش میں تھا کہ کسی طریقے سے ہمیں پاکستان کی یہ قوت حاصل ہو، لیکن اس میں بہت ساری سیاسی پارٹیاں، بہت سارے علاقائی مسائل اور بہت سارے بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز جو پوری دنیا میں ہیں، وہ بیچ میں رکاوٹ تھے۔ اس کی کوششیں کافی مدت سے ہو رہی تھیں لیکن اتنی ہمت محمد بن سلمان کے علاوہ کسی نے نہیں دکھائی۔
میں اس معاہدے پر — جہاں ہم اور حوالوں سے اہمیت دیں گے — وہاں میں محمد بن سلمان کی شجاعت اور ہمت کو بھی داد دوں گا۔ جب یہاں ان کے خلاف لوگ بہت باتیں کرتے تھے، اس وقت بھی ہمیں اندازہ تھا کہ اس پر بات چیت ہو رہی ہے اور وہ اپنے طور پر مختلف طریقوں سے سعودی عرب کو اس حوالے سے فوجی اعتبار سے خودکفیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تو الحمد للہ یہ چیز اب ہوئی ہے۔ اور سعودی عرب کا سب سے زیادہ پاکستانی فوج کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔ سعودی عرب کا سفارت خانہ ہو یا کوئی اور، جب بھی ان کی ملاقاتیں ہوتی ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم فوج کے ساتھ ہیں، فوج کے ساتھ ہم چلیں گے، اور فوج کے بغیر ہم کسی چیز کو نہیں مانتے۔ تو یہ کافی مدت سے کوششیں ہو رہی تھیں۔
اس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر صاحب کی کوششیں بہت ہی اخلاص پر مبنی تھیں۔ اس میں کہیں کوئی سیاست نہیں تھی، کہیں کوئی پیسہ نہیں تھا، کہیں کوئی شہرت نہیں تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے حصے میں اتنی بڑی نیکی، اتنی بڑی فتحِ مبین اور عظیم بشارت عطا فرمائی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ جو لوگ مخلص ہوتے ہیں، ان کے اندر جرأت ہوتی ہے، تقویٰ ہوتا ہے، لوگ تو بہت باتیں کرتے ہیں، لیکن میں جتنا ان کو جانتا ہوں، وہ انتہائی متقی اور پرہیزگار شخصیت ہیں اور ان کے دل میں اسلام اور عالمِ اسلام کی بہت قدر ہے، بہت ان کے اندر کے جذبات ہیں۔ لوگوں نے دیکھا کہ معرکۂ حق میں، ’’بنیان مرصوص‘‘ میں کس طریقے سے ان کی شخصیت سامنے آئی۔ اور جو ان کے اقدامات ہیں اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ بے لاگ اور بے داغ شخصیت ہیں۔ ان کی اس محنت کا پھل اور ان کے اخلاص کا پھل آج پوری امتِ مسلمہ کو، مشرقِ وسطیٰ کو، بلادِ حرمین شریفین کو، پاکستان کو اور پاکستان کی تمام افواج کو مل رہا ہے، اور ہر پاکستانی کو جنرل عاصم منیر صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
اس میں ایک بہت اہم بات میں اور بتا دوں، وہ یہ کہ جو ہمارے وزیر اعظم ہیں، محترم جناب شہباز شریف صاحب، میں شروع سے ہی دیکھ رہا ہوں کہ وہ آرمی چیف کے ساتھ اور آرمی چیف ان کے ساتھ اس طریقے سے اکٹھے ہیں، جو ہمارے ملک کی بہت بڑی خوش قسمتی ہے۔ لوگ اس پہ اعتراض کرتے ہیں، حالانکہ یہی تو کامیابی کی ضمانت ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے جب اکٹھے ہو جاتے ہیں تو ملک ترقی کرتا ہے۔ تو الحمد للہ، اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بہت عزت بخشی ہے، کس طریقے سے ان کا استقبال ہوا ہے اور کس طریقے سے ان کو عزت دی گئی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپس میں مل کر رہنا اور اتفاق و اتحاد کے ساتھ رہنا کتنی بڑی اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق بھی ہے اور نعمت بھی ہے، اس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔
جنرل عاصم منیر صاحب بہت سارے چیلنجز سے نمٹے ہیں۔ جب وہ آرمی چیف بنے تھے، اس وقت پاکستان کہاں کھڑا تھا؟ سکیورٹی کے حوالے سے، معاشی حوالے سے، سیاسی حوالے سے، نظم و ضبط کے فقدان کے حوالے سے، خارجہ پالیسی اور داخلہ پالیسی کے حوالے سے؛ اور آج الحمد للہ ان کے خصوصی اخلاص کی وجہ سے ملک یہاں تک پہنچا ہے۔ تو سب سے زیادہ اس میں جو سرخیل ہیں، سب سے زیادہ جن کو مبارکباد دینی چاہیے، جن کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، وہ فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل حافظ سید عاصم منیر صاحب ہیں۔ اللہ ان کو دن دگنی رات چوگنی ترقی نصیب فرمائے۔ پورے عالمِ اسلام کی طرف سے ان کا شکریہ، سعودی عرب کی طرف سے، پاکستان کی طرف سے اور تمام پاکستانیوں کی طرف سے ان کا شکریہ بھی ہم ادا کرتے ہیں، ان کو خراجِ تحسین بھی پیش کرتے ہیں، ان کو مبارکباد بھی پیش کرتے ہیں اور ان سے ہم یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم آپ کو سپورٹ کریں گے۔ جب تک آپ کے اندر یہ اخلاص ہوگا، عالمِ اسلام کے ساتھ آپ کی وفاداری رہے گی، ہم آپ کے دائیں بائیں، آگے پیچھے آپ کو سپورٹ کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔
اس کے جو اور بہت سارے فوائد ہیں نا ہمارے پاکستان کے لیے، ایک بہت بڑا فائدہ پاکستان کی افواج کے لیے اور پاکستانیوں کے لیے یہ ہے کہ جتنی بھی حرمین شریفین میں دعائیں ہوتی ہیں — رجالِ امن کے لیے، فوج کے لیے، ستائیسویں شب میں رمضان میں، اور دعائے قنوت میں، جمعے میں — تو اس رات کے معاہدے کے بعد ہم پاکستانی لوگ اور خاص طور پر ہماری فورسز، وہ باقاعدہ حرمین شریفین کی محافظ بھی ہیں اور ان کی دعاؤں میں شامل ہو گئی ہیں۔ تو جیسے ائمہ حرمین دعا کرتے ہیں کہ
’’یا اللہ! ہماری فوج کی حفاظت فرما، سلامتی فرما، ان کو کامیابی عطا فرما، ان کے شہداء کی شہادت قبول فرما، ان کے جو زخمی ہیں ان کو صحت عطا فرما۔‘‘
تو الحمد للہ ہماری افواج اب ائمہ حرمین کی باقاعدہ دعاؤں میں، حرمین شریفین کی دعاؤں میں شامل ہو گئی ہیں۔ تو دیکھیے، بیٹھے بیٹھے اللہ تعالیٰ نے کتنا بڑا مقام عطا فرمایا ہے۔ خاص طور پر میں پاکستان میں جب دیکھتا ہوں، تو جتنے نیک لوگ ہیں، دیندار لوگ ہیں، مدارس کے لوگ ہیں، مذہبی جماعتیں ہیں، ان میں جلدی سے ہمت نہیں ہوتی فوج کے لیے دعا کرنے کی۔ تو اگر آپ دعا نہیں کریں گے تو اللہ نے کتنی بڑی کامیابی عطا فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہاں کی دعاؤں میں ہماری افواج کو شامل کر لیا، تو یہ کتنی بڑی بات ہے، ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ، اللہ تعالیٰ نظرِ بد سے بچائے۔
مفتی عبد المنعم:
اچھا، استاذ صاحب، یہ جو ابھی پاکستان کو، الحمد للہ، اتنا بڑا اعزاز حاصل ہوا ہے، تو اس کے بعد جو پاکستان کی ریاست کے خلاف پروپیگنڈا ہوتا تھا کہ یہ کفریہ ریاست ہے، یہاں کا جو نظام ہے وہ کفریہ ہے، یہ کفر کے حامی اور مددگار ہیں؛ تو اس بیانیے کو اس سے کیا زد پہنچے گی، اس پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اور دوسرے نمبر پہ، ایسے لوگ جو یہ بیانیہ لے کر چل رہے ہیں، ان کے لیے آپ کیا میسج دینا چاہیں گے کہ اب پاکستان کو جب اتنی بڑی اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت عطا فرمائی ہے، تو اس کے بعد ان کا بیانیہ اب کہیں پر بھی اسٹینڈنگ نہیں رکھتا، کہیں پہ اس کا کوئی وجود نہیں رہا؟
مولانا مفتی عبد الرحیم:
دیکھیے، ایک تو یہ ہے کہ کسی فوج کے کسی افسر پہ، کسی خاص واقعے پہ اگر کوئی اعتراض کرتا ہے، کوئی تنقید کرتا ہے، یہ تو الگ بات ہے۔ لیکن ادارے پر، فوج بحیثیت فوج کے، اگر کوئی اس پہ اعتراض کرتا ہے تو یہ تو بڑی بدقسمتی بھی ہے، بہت بے دینی کی بات بھی ہے اور بے وقوفی کی بات بھی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کا اسلام سے اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ حرمین شریفین کس منہ سے جائے گا؟ یہ وہ افواج ہیں جو حرمین شریفین کی حفاظت کرنے جا رہے ہیں۔ آخر وہ لوگ جن کے پاس اتنا بڑا بجٹ ہے، ان کے پاس گیس دیکھیں، پٹرول کے ذخائر دیکھیں، ان کی آبادی دیکھیں، ان کی معاشی قوت اور طاقت دیکھیں، آخر ان کو کیا ضرورت پیش آئی کہ وہ پاکستان کے ساتھ دفاع میں ایگریمنٹ کریں، معاہدہ کریں؟ اس سے معلوم یہ ہوا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے اتنی فوجی قوت عطا فرمائی ہے کہ وہ حرمین شریفین کی، بلادِ حرمین شریفین کی اور عالم اسلام کی حفاظت کر سکتا ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر فوج کے پیچھے کوئی پڑتا ہے، تو میں سمجھتا ہوں وہ اپنے ایمان کی خیر منائے۔
ہاں، اگر کسی فوجی افسر کے بارے میں بات کرتا ہے کہ اس نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے، یا کسی خاص واقعے کے بارے میں بات کرتا ہے، تو وہ الگ بات ہے۔ اس میں تنقید کرنا اور مثبت تنقید کرنا، یہ بالکل ہونا چاہیے، تاکہ فوج کو بھی اندازہ ہو کہ ان کی ہر چیز کو لوگ خاموشی سے قبول نہیں کرتے رہیں گے۔ تو ان کے بارے میں بولنا، یہ بالکل ٹھیک ہے، لیکن فوج کو بے عزت کرنا، ان کی memes بنانا، اس کا استہزا کرنا، مذاق اڑانا۔ میرے خیال میں آج کے بعد، اس معاہدے کے بعد، ایک تو یہ ہے کہ وہ کس منہ سے یہ مذاق اڑائیں گے؟ دوسرے یہ کہ وہ حرمین شریفین اور بیت اللہ میں حج اور عمرے کے لیے کس منہ سے جائیں گے؟ ان کو شرم آنی چاہیے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سامنا کس منہ سے کریں گے کہ جس فوج کو اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا فضل، اتنا بڑا شرف بخشا ہے، آپ اس کے خلاف پوری ایک مہم چلا رہے ہیں؟ تو ایک تو یہ کہ جو لوگ بھی ہماری فوج کے خلاف مہم چلائے ہوئے ہیں، ان کو اس سے باز آنا چاہیے۔ میں صحیح بات عرض کر رہا ہوں، جتنا میں جانتا ہوں اپنی افواج کو، جتنی ان کی فوجی قوت اور طاقت ہے اور جتنے وہ لوگ عالمِ اسلام سے اور حرمین شریفین سے مخلص ہیں، ایسے لوگوں پر اتنی پھبتیاں کسنا، ان کو برا بھلا کہنا اور اس کو اپنا مشن بنا لینا، یہ ایمان کے لیے بہت خطرناک ہو گا۔
دوسرے نمبر پہ، پاکستانیوں کو بھی بالعموم اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے۔ بہت بڑی بڑی نعمتیں ہمیں اللہ نے عطا فرمائی ہیں، لیکن جب ہم ناقدری کرتے ہیں، ناشکری کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس نعمت سے محروم کر دیتے ہیں۔ تو اس نعمت کا ہم شکر ادا کریں، اور ہم زبان سے بھی شکر ادا کریں، دل سے بھی کریں اور اپنے عمل سے بھی کریں۔ عمل سے کیسے ہم شکر ادا کریں؟ کہ اس ملک میں انصاف کا نظام ہونا چاہیے، امن ہونا چاہیے، کسی پر ظلم اور زیادتی نہ ہو۔ اور پاکستان اور ریاستِ پاکستان کے جتنے مواقع ہمیں ملے ہوئے ہیں ترقی کرنے کے — معاشی طور پر، فوجی اعتبار سے — اس میں ہم روڑے نہ اٹکائیں، ہم سپورٹ کریں۔ جب بھی ہمیں موقع ملتا ہے اپنی ریاست کی معیشت کو آگے بڑھانے کے لیے یا اس ملک کی نیک نامی کے لیے، تو بہت سارے لوگ بیچ میں کود پڑتے ہیں۔ اگر انڈیا بیچ میں آئے، یہودی بیچ میں آئیں، یا انڈیا کے لوگ آئیں، صہیونی لوگ آئیں، تو ان کو تو آنا چاہیے، ظاہر ہے کہ وہ دشمن ہیں؛ لیکن جب اپنے لوگ آتے ہیں تو بڑا دکھ ہوتا ہے اس بات سے۔ تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ اپنے پاکستانیوں کو بھی اس کی قدر کرنی چاہیے، شکر بھی ادا کرنا چاہیے اور اپنی بدعملیوں سے باز آنا چاہیے۔
یہ ٹھیک ہے کہ یہاں پاکستان کا آئین اسلامی ہے، یہ اسلامی ملک ہے۔ اور جتنی بھی ہمارے فقہاء نے دارالاسلام کی تعریفیں کی ہیں، یا کسی ملک کو اسلامی کہا گیا ہے، تو وہ سب یہاں موجود ہیں۔ لیکن عملی طور پر جہاں جہاں بھی اسلام کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، جہاں جہاں بد اَمنی ہوتی ہے، جہاں نا انصافی ہوتی ہے، اور خاص طور پر ہماری جوڈیشری، اس کی بہت اہمیت ہے، تو ہمیں اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی بھی قدر کرنا ہوگی اور اپنی بدعمالیوں سے ہمیں توبہ کرنا ہوگی، پھر جا کر یہ شکر ادا ہو گا۔
ایک چیز اور میں بتا دوں کہ آج کے دور میں جو سب سے زیادہ خیبر پختونخوا میں فتنۃ الخوارج کا سلسلہ چل رہا ہے، بلوچستان میں فتنۃ الہند یا فتنۂ ہندوستان، اور اس کے پیچھے پڑوسی ممالک سے جو کچھ ہو رہا ہے، اب وہ آپ کے سامنے ہے۔ ان سب کا جو موقف ہے، یہ سب اس پہ اکٹھے ہیں کہ پاکستانی فوج کے خلاف ہیں اور ان سے وہ لڑ رہے ہیں۔ روزانہ ہمارے جو جوان ہیں، ہمارے شیر بہادر جوان ہیں، ان کے جنازے اٹھ رہے ہیں، ان کی قربانیاں لگ رہی ہیں اور اتنے بڑے پیمانے پہ قربانیاں ہو رہی ہیں کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔ اس معاہدے سے یہ بات بالکل ثابت ہو گئی ہے کہ ان کو اب اپنی لڑائی بند کرنی چاہیے، چاہے وہ ٹی ٹی پی (TTP) کے لوگ ہوں، چاہے ان کے پیچھے دوسرے لوگ ہوں، یا وہ لوگ ہوں جو مذہبی بنیادوں پہ، شریعت کے نام پہ، جہاد کے نام پہ ان کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ یہ کیسے جائز ہوگا ان کے لیے؟ پہلے بھی ہم اس کو حرام سمجھتے تھے، خروج سمجھتے تھے، ان کو خوارج کہتے تھے، بغاوت کہتے تھے اور ان کی موت کو حرام موت، ہم سب یہ سمجھتے ہیں۔
تو میں ان نوجوانوں سے جو اُن کے چنگل میں آئے ہوئے ہیں، اور جو ان کے لیڈر ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ ہم دین کے حساب سے لڑ رہے ہیں، تو میں ان سے یہ کہنا چاہوں گا کہ کیا اب بھی آپ باز نہیں آئیں گے؟ میرے خیال میں اب تو باز آنا چاہیے۔ اس کے باوجود بھی اگر آپ پاکستانی فوج سے لڑیں گے، جو حرمین شریفین کی محافظ ہے، جیسے آپ نے پوچھا تھا سید عاصم منیر صاحب کے بارے میں، تو جیسے محمد بن سلمان خادم الحرمین شریفین ہیں، تو ہمارے فیلڈ مارشل محافظ الحرمین شریفین ہیں۔ تو یہ کتنی بڑی اللہ نے ہمیں نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ تو میں یہ عرض کرنا چاہ رہا ہوں ان نوجوانوں سے — چاہے وہ افغانستان سے آ رہے ہیں، یا یہاں سے کسی دین کے لیے یا شریعت کے نام پر ان کو بہکایا گیا ہے — کہ یہ شریعت اور دین نہیں ہے، یہ آپ کی حرام موت ہے اور یہ بغاوت ہے، خروج ہے اور یہ جاہلیت کی موت ہے۔
اب اگر پاکستانی فوج سے آپ لوگ لڑیں گے، تو آپ اس فوج سے لڑ رہے ہیں جس کے ذمے روضۂ رسول کی حفاظت ہے، جس کے ذمے بیت اللہ کی حفاظت ہے، جس کے ذمے مکہ مکرمہ کی حفاظت ہے، جس کے ذمے مدینہ طیبہ کی حفاظت ہے۔ تو ایسی فورس سے جو بھی لڑے گا، وہ کس منہ سے وہاں جائے گا، کس منہ سے اپنے آپ کو مسلمان کہے گا؟ تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑی اس حوالے سے بھی پیشرفت ہے کہ ہمارے ملک میں اب امن قائم ہونا چاہیے، اور علماءِ کرام اور ہماری مذہبی جماعتیں اپنے کارکنوں کو سمجھائیں اور ان کو بتائیں کہ یہ جائز نہیں ہے آپ کے لیے۔
جہاں تک اس کی بات ہے کہ اسلام کیسے نافذ ہوگا، تو اسلام نافذ کرنے کے لیے ہمارے پاس درسِ نظامی میں جو کچھ لکھا ہوا ہے، کتبِ عقائد میں جو کچھ لکھا ہوا ہے، ہمارے آئین میں جو کچھ لکھا ہوا ہے — ہمارے آئین پہ اتنے بڑے بڑے اکابر نے دستخط کیے ہیں، پیغامِ پاکستان پہ سب لوگوں کے دستخط ہیں — اور جو عقائد میں جو کچھ لکھا ہوا ہے، اس کو سامنے رکھتے ہوئے بہت سارے طریقے ہیں کہ ہم یہاں نفاذِ اسلام کے لیے کوشش کریں۔ تو جب اس پہ بات ہوگی، پھر دوبارہ سے میں اس پہ بات کر لوں گا کہ دس پندرہ طریقے ہیں نفاذِ اسلام کے۔ اگر ہم متفق ہو جائیں، جو ہمارے مذہبی لوگ ہیں، تو پاکستان میں اسلامائزیشن کا بہت کام ہو سکتا ہے۔ اور جتنا کام ابھی ہو رہا ہے، کیا یہ کم ہے؟ یہ بھی تو بہت بڑی بات ہے، تو اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے۔
میں ایک دفعہ پھر امارتِ اسلامی افغانستان سے بھی درخواست کروں گا کہ اگر آپ کے پاس وہ قوت نہیں ہے جس سے آپ حرمین شریفین اور اس کی حفاظت کے لیے انتظام کر سکیں، اور آپ کے پاس اگر وہ ڈسپلن نہیں ہے، وہ ایٹمی پاور نہیں ہے، وہ فوجی قوت نہیں ہے، وہ میزائل نہیں ہیں، وہ جنگی طیارے نہیں ہیں؛ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ایک پڑوسی کو یہ چیز عطا فرمائی ہے، اور جس کو آپ ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ یہ ہمارا دوسرا گھر ہے، اور آپ نے چالیس پینتالیس سال یہاں گزارے ہیں، یہاں آپ نے مدرسوں میں علم حاصل کیا ہے، یہاں آپ نے کاروبار کیا ہے، یہاں دو تین نسلیں آپ کی پیدا ہوئی ہیں؛ اس ملک سے لڑنے سے پیچھے ہٹ جائیں اور جو لوگ وہاں سے لڑ رہے ہیں تو ان کو بھی منع کریں۔ اس کے بعد یہ دونوں ملک ترقی کریں گے اور ان دونوں ملکوں کے پاس اتنے مواقع ہیں ترقی کرنے کے — اقتصادی لحاظ سے، فوجی اعتبار سے، معاشی اعتبار سے، سیاسی اعتبار سے، علاقائی اعتبار سے، بین الاقوامی اعتبار سے — دنیا اس بات کو سوچ رہی ہے کہ کسی دن اگر ان کا آپس میں اتفاق ہو گیا تو کیا ہو گا؟
میں یہ بھی اس میں عرض کروں گا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے معاہدے کے بعد سعودی عرب خود ایٹمی پاور بن گیا ہے اور وہ علاقے محفوظ ہو گئے ہیں، اور سارا پریشر صہیونیوں پر اور ہندوتوا اور ان لوگوں پر ہے، مودی اینڈ کمپنی پر۔ اسی طریقے سے اگر ہم اور اکٹھے ہو جائیں، باقی عالمِ اسلام کے ممالک اپنے مشترک مفادات کے لیے اکٹھے ہو جائیں، تو آپ یقین کریں کہ جیسے ہم ایٹمی پاور ہیں، ہم دنیا کے لیے سپر پاور بھی بن سکتے ہیں۔
تو پاکستان کے بغیر، جیسے پہلے میں نے عرض کیا تھا اور کئی بزرگوں نے اس سے پہلے پیشگوئی بھی کی تھی کہ ایسا وقت آئے گا کہ پاکستان کے بغیر دنیا کے کوئی فیصلے نہیں ہوں گے، دنیا کے فیصلے پاکستان کے ہاتھوں ہوں گے اور پاکستان فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ ایسے ہی جو لوگ کہہ رہے تھے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ایک طرف مغربی دنیا اور امریکہ سپر پاور ہے اور دوسری طرف چائنا ہے اور رشیا ہے، تو پاکستان یہ کیا کرے گا؟ تو پاکستان نے ان حالیہ پانچ چھ مہینوں میں ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان ان دونوں بڑی طاقتوں کو نہ صرف یہ کہ بیلنس کر سکتا ہے بلکہ دونوں کو چلا بھی سکتا ہے۔
آپ دیکھیں گے کہ اگر ہم لوگ اپنی اس نعمت کی قدر کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ہم ادا کرتے رہیں، تو سعودی عرب اور پاکستان کے اس معاہدے کے بعد آپ دیکھیے گا کہ بہت سارے ملکوں کی لائن بھی لگ سکتی ہے۔ پاکستان کے پاس جو فوجی قوت ہے، وہ اتنی بڑی ہے اور اتنی زبردست ہے اور اتنی جدید ترین ہے کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے اسلامی ملک تو اسلامی ملک، دوسرے لوگ بھی آ رہے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
میں ایک دفعہ پھر اپنی مذہبی جماعتوں سے اور ان نوجوانوں سے — جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم جہاد کر رہے ہیں — یہ جہاد نہیں ہے، یہ فساد ہے، امتِ مسلمہ کے اندر بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ ایسے ہی جذباتی لوگوں نے عراق کو تباہ کیا ہے، شام کو تباہ کیا ہے، لیبیا کو تباہ کیا ہے، یمن تباہ ہو گیا ہے، صومالیہ تباہ ہو گیا ہے، سوڈان تباہ ہو گیا ہے۔ ایک اتنی بڑی ایٹمی طاقت کو، عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت کو، واحد ایک منظم فوجی قوت کو، جس کی ایک ہزار سال میں کوئی مثال نہیں ملتی، اس کو اپنے ہاتھوں سے خراب نہ کریں۔ جو شکایتیں ہیں فوج سے یا کسی بھی ادارے سے، اس شکایت کو حل کرنے کے لیے دوسرے پرامن راستے اختیار کرنے چاہئیں۔ اور آج کے دور میں اتنے راستے مل سکتے ہیں کہ ہم بہت سی چیزوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے نوجوان کسی کے لیے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں؛ کوئی پیسے لے رہا ہے، کوئی ڈالر لے رہا ہے، اس کی وجہ سے یہود و نصاریٰ کے لیے، یہود و ہنود کے لیے ہم اپنی جانیں دے رہے ہیں، اسلام کا اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔
مولانا عبد الودود:
جی حضرت، بہت شکریہ، جزاک اللہ، ایک آخری سوال حضرت کی اجازت سے۔ جس طرح سے آپ نے ابھی بڑی تفصیل سے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اس وقت سارا پریشر یہود و ہنود کے اوپر ہے اور ہم وہ محسوس بھی کر رہے ہیں۔ کل جب یہ معاہدہ ہوا تو رات کو، جو محمد بن سلمان کے بھائی ہیں، سعودی عرب کے وزیرِ دفاع ہیں، خالد بن سلمان؛ تو انہوں نے دو ٹویٹ کیے، ایک انگریزی میں اور ایک اردو زبان میں۔ وہ میں پڑھ رہا ہوں کہ
’’سعودیہ اور پاکستان جارح کے مقابل ایک ہی صف میں ہیں، ہمیشہ اور ابد تک۔‘‘
تو اس واضح اور clear stance کے بعد یقیناً جو پہلے ایک صف بندی تھی اور جن پر پہلے سعودی عرب کا انحصار تھا دفاع کے حوالے سے، اب وہ انحصار یقیناً کم ہوا اور شفٹ ہوا ہے پاکستان کی طرف۔ انڈیا کے چینل بھی یہی بات کر رہے ہیں کہ اگر پاکستان کے ساتھ ہمارا کوئی بھی معاملہ ہوتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم سعودیہ کے ساتھ بھی لڑ رہے ہیں۔ تو اتنی بڑی جو انڈیا کی مارکیٹ ہے، تو ظاہر ہے کہ سعودی عرب اور وہ عملاً آپس میں ایک دوسرے سے دور ہوں گے۔ ادھر سے اسرائیل کے اوپر ایک پریشر آئے گا۔ تو یقینی بات ہے کہ جو عالمی قوتیں ہیں، وہ اس اتحاد کو، اس اتفاق کو ناکام بنانے کی کوشش بھی کریں گی۔ کچھ ایسے ٹویٹس وغیرہ ان کے ایجنٹس کی طرف سے اس وقت سامنے بھی آ رہے ہیں۔ تو بطورِ پاکستانی ہم آپ سے رہنمائی لینا چاہتے ہیں۔ اور ظاہر ہے آپ کا یہ کلپ ان شاء اللہ ہمارے عربی چینل کے لیے ٹرانسلیٹ بھی ہوگا۔ تو آپ تھوڑا سا بتائیں گے کہ پاکستانی قوم، سعودی عرب کے ہمارے بھائی، بطورِ قوم ہم لوگوں کو کس طرح سے اِس یکجہتی کو سنبھالنا ہے آگے، تاکہ اس کو ہم فتنوں سے محفوظ رکھ سکیں۔
مولانا مفتی عبد الرحیم:
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی صلاحیت پر، اپنے ملک کی طاقت پر، جو اللہ نے ہمیں حیثیت عطا فرمائی ہے، اس کا ہمیں اعتراف بھی کرنا چاہیے اور بغیر مرعوب ہوئے اس کا اعلان بھی کرنا چاہیے۔ تو اگر ہماری سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں اور جتنی ہماری یہاں پارٹیاں ہیں، چاہے اپوزیشن ہو، چاہے حکومت کے لوگ ہوں، وہ سب اس بات پر اکٹھے ہو جائیں تو باہر کے جو ممالک ہیں، جو نقصان پہنچانا چاہ رہے ہیں، جو بہت زیادہ پریشان ہیں — جس میں ہمارا پڑوسی انڈیا ہے سب سے پہلے اور دوسرا اسرائیل — یہ سرِفہرست ہیں، تو یہ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ہمارا۔
دنیا میں چائنا، رشیا، نیٹو، امریکہ، یہی بڑی طاقتیں ہیں جن کے پاس فوجی اعتبار سے قوت ہے۔ تو اس میں نیٹو اور امریکہ نے تو ظاہر ہے کہ وہ کردار ادا نہیں کیا جو ان کی ذمہ داری تھی، تبھی تو سعودی عرب مجبور ہوا۔ اور قطر کا جو واقعہ ہوا ہے اس سے تو سب چیزیں سامنے آ گئی ہیں۔ تو اب سعودی عرب کے پاس بظاہر تین ہی آپشن تھے: ایک رشیا کا تھا، دوسرا چائنا کا۔ تو رشیا اور چائنا دونوں یہ نہیں کر سکتے تھے، کیونکہ ظاہر ہے کہ حرمین شریفین سے تو ایک ایمانی اور اسلامی رشتہ ان کا نہیں ہے، اور ان کے اپنے مسائل بھی بہت ہیں۔ تو اِس وقت پاکستان واحد ایک ایٹمی طاقت ملک تھا جو اس کو بیلنس بھی کر سکتا تھا، اور پاکستان نے کر کے دکھایا ہے۔
اب آپ دیکھیں کہ سعودی عرب سے فارغ ہو کر ہماری قیادت برطانیہ جا رہی ہے، پھر وہاں سے امریکہ جائیں گے۔ تو پاکستان نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ ہماری لوکیشن اتنی زبردست ہے اور اللہ نے جو طاقت عطا فرمائی ہے، جو ہمیں صلاحیت عطا فرمائی ہے، اتنی بڑی ہے کہ ہم دنیا کے لیے ایک نمونہ بن سکتے ہیں، دنیا کو ہم چلا سکتے ہیں۔ تو سعودی عرب کے لیے پاکستان سے بہتر اور پاکستان کے لیے سعودی عرب سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ اس حوالے سے بہت اہمیت ہے۔
میں عرض کر رہا تھا کہ یہ جو پاکستانی قوم ہے، اس میں بہت سارے طبقات ہیں۔ تو اس موقع پہ وہ (پاکستان کے مخالفین) کوشش کریں گے کہ مختلف طبقات کو اٹھائیں۔ کہیں ہو سکتا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے آپس کے جو اختلافات ہیں، اس کو ایشو بنائیں۔ کئی اور یہاں کے آپس کے جو مسائل ہیں، علاقائی مسائل ہیں، اور ان میں وہ کافی دخیل بھی ہو چکے ہیں۔ تو پوری قوم کو بحیثیتِ قوم کے، ریاست کے، اکٹھے ہونا ہو گا۔ اور اللہ کے لیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے، حرمین شریفین کے لیے، جب ہم اکٹھے ہوں گے تو ان شاء اللہ ہم مزید مضبوط ہوں گے اور باہر سے جتنی سازشیں ہوں گی، یہ لوگ منہ کی کھائیں گے، ان شاء اللہ۔
آخر میں، میں اپنی افواج کے لیے خاص طور پر اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہوں گا۔ سچی بات ہے کہ اتنی بڑی نعمت کے اوپر میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں کن الفاظ کا چناؤ کروں۔ رات سے میں سوچ رہا ہوں کیونکہ یہ وہ چیز ہے جس کی کئی دہائیوں سے ہمارے ذہن میں یہ بات تھی کہ کاش امتِ مسلمہ، سعودی عرب اور ہمارے مسلمان، اور خاص طور پر پاکستانی قوم اپنی حیثیت کو پہچانے۔ اب اللہ تعالیٰ نے ایک تو معرکۂ حق اور ’’بنیان مرصوص‘‘ کا منظر اپنی آنکھوں سے دکھا دیا، دوسرا یہ اتنا بڑا جو معاہدہ ہوا ہے۔ اسی طرح سے قطر میں ہماری لیڈرشپ نے جو گفتگو کی ہے، جو مشورے دیے ہیں، جو تجاویز دی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ ہمیں اپنی قدر کرنی چاہیے، اپنی لیڈرشپ کی بھی قدر کرنی چاہیے اور ان کو ہمیں سپورٹ بھی کرنا چاہیے۔ تو اللہ تعالیٰ ہمیں ہمت دے اتفاق و اتحاد کی۔
تو جو آپ نے سوال کیا تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ ہم ’’بنیان مرصوص‘‘ بنے رہیں، اکٹھے رہیں، تو یہ سازشیں بھی ناکام ہو جائیں گی۔ اور آپ دیکھیے گا کہ جو کچھ مظالم مسلمانوں پر ہو رہے ہیں، چاہے وہ غزہ ہو، فلسطین ہو، یا کسی اور جگہ ہو، ہمارے آپس کے اتفاق و اتحاد کی وجہ سے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کی جان، مال، عزت محفوظ ہو جائے گی۔ اور اگر آپس میں ہم لڑیں گے، تو جہاں جہاں عزتیں لٹیں گی اس میں بھی ہم گنہگار ہوں گے، شریک ہوں گے اس میں۔ تو اللہ تعالیٰ ہمیں آپس میں اتفاق و اتحاد نصیب فرمائے۔ اور یہ جو مرعوبیت کی ذہنیت ہے کہ ہم مرعوب ہو جاتے ہیں، مغرب سے کوئی پیغام آ جاتا ہے، کوئی ڈیلیگیشن آ جاتا ہے، وہاں سے کوئی اعتراض ہو جاتا ہے تو ہم اپنی صفائیاں دینا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے، ہمیں ان کے اوپر اعتراض کرنا چاہیے کہ تم کیسے انسان ہو؟ تمہارے ہوتے ہوئے کتنا ظلم ہو رہا ہے۔ ہمیں مرعوبیت سے نکل کر اپنی حیثیت کو پہچاننا چاہیے، اور جب ہم اپنے آپ کو پہچان لیں گے تو سارے مسئلے بہت آسانی سے حل ہو جائیں گے، ان شاء اللہ۔
مولانا عبد الودود:
بہت بہت شکریہ حضرت استاذ صاحب دامت برکاتہم۔
ناظرین محترم، گفتگو آپ نے سنی اور وقت کی بہت اہم ترین ضرورت تھی یہ گفتگو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت کی تمام باتوں، جن کو ہم نے سنا، سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے اور بحیثیتِ ایک قوم ہم سب کو اتفاق و اتحاد عطا کرے۔ ہم ایک قوم بن کر رہیں، بجائے اس کے کہ ہم چھوٹے چھوٹے گروہوں میں اور اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل میں پہلے کی طرح آگے بڑھتے چلے جائیں، اور نتیجتاً ہم اپنے ہی ملک کو، اپنی ہی ریاست کو کوئی نقصان دے بیٹھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اتفاق و اتحاد نصیب کرے۔ بہت شکریہ، آمین ثم آمین۔
مولانا مفتی عبد الرحیم:
اچھا، ایک بات اور اس میں رہ گئی۔ یہ جو تاریخی معاہدہ ہوا، یہ تو رات کو ہوا ہے نا، یعنی سترہ ستمبر کو یا غالباً اٹھارہ ستمبر کو ہوا ہے۔ تو ہمارے جامعۃ الرشید کے معہد کے تین طلبہ نے، آپس میں ان کا انٹرویو ہوا تھا، تو اس میں انہوں نے ایک مہینہ پہلے یہ مشورہ دیا تھا کہ اس وقت اس کی ضرورت ہے کہ ہمارے مسلمان (ملک) پاکستان کے ساتھ فوجی تحالف اور معاہدے کریں آپس میں۔ تو میں اپنے قارئین، سامعین اور ناظرین سے کہوں گا کہ اس کو ایک دفعہ ضرور سن لیں۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ جامعۃ الرشید کے طلبہ، بچے کتنا وسیع ذہن رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو کتنی توفیق عطا فرمائی ہے۔ میں نے وہ سنا تو مجھے بڑی خوشی بھی ہوئی کہ الحمد للہ جامعۃ الرشید، ابنائے جامعۃ الرشید کو صحیح راستہ دے رہا ہے۔ تو ان تین بچوں کی جو گفتگو ہے، وہ میں JTR والوں سے کہوں گا کہ اردو ترجمے کے ساتھ — کیونکہ وہ عربی میں ہے — اس کو ضرور شائع کریں اور اس سے اندازہ لگائیں کہ عالمِ اسلام کے بچے بھی کیا سوچ رہے ہیں اس وقت۔ تو اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔
میں جے ٹی آر میڈیا، مولانا عبد المنعم صاحب، مولانا عبد الودود صاحب، آپ کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ کی برکت سے مجھے بھی موقع مل جاتا ہے کچھ بات کرنے کا۔ اور یہ جو موضوع ہے، اس کی اور بہت ساری جہتیں ہیں، ان شاء اللہ وقتاً فوقتاً اس پر ہم بات کرتے رہیں گے۔ بہت شکریہ، جزاکم اللہ، السلام علیکم۔
مفتی عبد المنعم، مولانا عبد الودود:
ان شاء اللہ۔



















