علماء کرام دعوتِ دین کے جدید اسلوب اپنائیں
جاری کردہ: مولانا نصر الدین خان عمر — امیر پاکستان شریعت کونسل ضلع گوجرانوالہ
یکم جولائی ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ علمائے کرام امتِ مسلمہ کے مقتدا، رہنما اور پیشوا ہیں، اس لیے انہیں وقت کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے دعوتِ دین کے جدید اسلوب اختیار کرنے چاہئیں تاکہ نئی نسل اور معاشرے کے مختلف طبقات تک دینِ اسلام کا پیغام مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امتِ مسلمہ اس وقت اندرونی و بیرونی سطح پر بے شمار چیلنجز سے دوچار ہے، جن کا مقابلہ باہمی اختلافات اور تفرقہ بازی سے نہیں بلکہ اتحاد، حکمت، بصیرت اور مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد علی المرتضیٰ اور مدرسہ عربیہ اسلامیہ (سنی بینک، مری) میں منعقدہ علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ دینی مدارس اور مساجد ہمیشہ سے امت کی فکری، دینی اور اخلاقی رہنمائی کے مراکز رہے ہیں، اس لیے علماء کرام پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں اعتدال، رواداری، اخوت اور اتحادِ امت کے فروغ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ دعوت و تبلیغ، اصلاحِ معاشرہ اور دین کی خدمت کے لیے روایتی ذرائع کے ساتھ ساتھ جدید ذرائع ابلاغ اور ابلاغی تقاضوں سے بھی بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے تاکہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو صحیح انداز میں عوام تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ علماء کرام نوجوان نسل کی دینی، فکری اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں عصرِ حاضر کے فتنوں اور گمراہ کن افکار سے محفوظ رکھنے کے لیے مضبوط علمی اور فکری رہنمائی فراہم کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل کا حل قرآن و سنت کی تعلیمات، باہمی اعتماد، اتحادِ امت اور ملی یکجہتی میں مضمر ہے۔ انہوں نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ اختلافی مسائل کو ہوا دینے کی بجائے مشترکہ دینی مقاصد کے حصول، اتحادِ امت کے استحکام اور دین کی دعوت کو عام کرنے پر اپنی توانائیاں صَرف کریں۔
علماء کنونشن میں ملکہ کوہسار مری کی ممتاز دینی شخصیت مفتی خالد حسین عباسی، مولانا عبد الرؤف محمدی، مولانا قاسم عباسی، مفتی عبد اللہ عباسی، مولانا حافظ علی محی الدین، مفتی محمد نعمان، مولانا قاری عثمان رمضان، پروفیسر حافظ منیر احمد، صاحبزادہ نصر الدین خان عمر، مولانا طارق عباسی، مولانا حق نواز عباسی، مولانا ذوالفقار گل ایڈووکیٹ، مفتی محمد سعد سعدی، مولانا محمد نوید، مولانا صلاح الدین، مولانا اسد اللہ غالب، مولانا مجیب الرحمٰن عباسی، مولانا عاصم جمشید عباسی، مولانا طالب الرحمٰن اور کثیر تعداد میں دیگر علماء کرام، طلباء اور دینی ذوق رکھنے والے کارکنوں نے شرکت کی۔
مری میں اہم اجلاس: کشمیر اور ملکی حالات پر تشویش کا اظہار
رپورٹ: شعبہ نشر و اشاعت پاکستان شریعت کونسل، مری
یکم جولائی ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل مری کے زیر اہتمام اور مری شریعت کونسل کے امیر مولانا محمد قاسم شعیب کی زیر نگرانی مرکزی جامع مسجد علی المرتضٰیؓ (سنی بنک) میں ایک اہم علمی و فکری سیمینار اور مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ سیمینار کا موضوع ’’عصر حاضرِ میں دعوتِ دین کا صحیح منہج‘‘ رکھا گیا تھا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مفکر اسلام شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی حفظہ اللہ نے کہا کہ جدید دور کے چیلنجز، سوشل میڈیا اور فرقہ واریت کے ماحول میں دعوتِ دین کا کام حکمت، اعتدال اور علم کی بنیاد پر کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے علماء کرام کو توجہ دلائی کہ وہ نوجوانوں کو صحیح منہج اپنانے کی تلقین کے لیے خود کو علمی اور فکری طور پر تیار کریں۔
سیمینار کے بعد مرکزی اور صوبائی قیادت کا ایک خصوصی مشاورتی اجلاس بھی ہوا۔ اجلاس نے کشمیر کی تازہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاملات کو اس نہج تک نہیں پہنچنا چاہیے تھے۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ کشمیر کی دینی قیادت اپنا تاریخی اور فکری کردار ادا کرے۔ شرکاء نے کہا کہ حالات کا بیک وقت بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر میں خراب ہونا ملک کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، اور اس پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔
اجلاس میں مرکزی رہنماؤں میں پروفیسر حافظ منیر احمد، مولانا عبد الرؤف محمدی اور مولانا علی محی الدین شریک ہوئے۔ صوبائی قیادت میں مولانا قاری محمد عثمان رمضان، مولانا مفتی محمد نعمان احمد، مولانا عمر خان قارن، مولانا کامران حیدر، مولانا ذوالفقار علی اور مولانا عبداللہ سعید برادران نے شرکت کی۔
تمام شریک علماء نے مولانا محمد قاسم شعیب، مولانا عبد اللہ سعید برادران اور شریعت کونسل مری کی بہترین مہمان نوازی کو سراہا۔ پروگرام کا اختتام ملک، امت اور کشمیر کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا پر ہوا۔
مولانا مفتی تقی عثمانی اور مولانا قاری حنیف جالندھری کو مبارکباد
رپورٹ: مولانا عبدالرؤف محمدی — ڈپٹی سیکرٹری جنرل، پاکستان شریعت کونسل
اسلام آباد (۳ جولائی ۲۰۲۶ء) پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی قائدین نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے حالیہ انتخابات میں شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کو بلامقابلہ صدر اور مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب کو مسلسل ساتویں مرتبہ جنرل سیکرٹری منتخب ہونے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس اعتماد کو ملک بھر کے دینی مدارس، اساتذہ اور وابستگانِ وفاق کی طرف سے ان کی علمی، دینی، انتظامی اور ملی خدمات کا بھرپور اعتراف قرار دیا ہے۔
پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی، جنرل سیکرٹری مولانا عبدالرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات حافظ منیر احمد اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں سے دینی مدارس کے نظم، اتحاد، ترقی اور تعلیمی معیار کے فروغ میں تاریخی کردار ادا کیا ہے، اور نومنتخب قیادت کی موجودگی میں یہ خدمات مزید مضبوط اور مؤثر انداز میں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیت، فقہ و افتاء کے معتبر مرجع اور امت مسلمہ کا عظیم سرمایہ ہیں، جبکہ مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب نے بطور جنرل سیکرٹری وفاق المدارس کو مضبوط، فعال اور منظم ادارہ بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کی مسلسل کامیابی اس امر کا ثبوت ہے کہ وفاق کے ذمہ داران اور وابستگان کو ان کی قیادت پر مکمل اعتماد حاصل ہے۔ رہنماؤں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ نومنتخب قیادت کو صحت، عافیت اور استقامت کے ساتھ دین اسلام، دینی مدارس، طلبہ و اساتذہ اور ملک و ملت کی مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کو مزید ترقی، استحکام اور قبولیت سے نوازے اور اسے امت مسلمہ کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔ آمین
جمعیت علماء اسلام کی قصور کانفرنس وقت کی اہم ضرورت ہے
منجانب: مولانا نصرالدین خان عمر — امیر پاکستان شریعت کونسل ضلع گوجرانوالہ
۹ جولائی ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے گیارہ جولائی کو پھول نگر قصور میں جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی عوامی حقوق کانفرنس کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے ایک بیان میں علاقہ بھر کے علماء کرام اور دینی کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس میں جوق در جوق شریک ہوں اور اس کی بھرپور کامیابی کے لیے کانفرنس کی انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں۔
اہلِ سنت رابطہ کمیٹی لاہور کے عہدہ داران کی الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ آمد
جاری کردہ: مولانا امجد محمود معاویہ — سیکرٹری اطلاعات جمعیت اہلسنۃ والجماعۃ گوجرانوالہ
۱۴ جولائی ۲۰۲۶ء: مفکر اسلام شیخ الحدیث علامہ زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار۔ حضرت علامہ راشدی صاحب کی سرپرستی میں جمعیت اہلسنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی رجسٹرڈ گوجرانوالہ اور اہل سنت رابطہ کمیٹی لاہور کا مشترکہ طور پہ پورے پنجاب میں تمام اہل سنت نمائندگان سے رابطے اور مشترکہ نظریاتی معاملات میں جدوجہد کو فروغ دینے کی ضرورت پہ زور۔ اجلاس میں مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد اعوان، مولانا نعمان حامد جالندھری، مفتی ظہیر احمد ظہیر، حافظ حسین احمد، مولانا قاسم بلوچ، قاری محمد اسلم ندیم نقشبندی، مولانا قاری ریاض چشتی، حاجی بابر رضوان باجوہ، مولانا جواد محمود قاسمی، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا عامر حبیب، حافظ عبد الجبار، مولانا طبیب الرحمٰن اور دیگر شریک تھے۔
گوجرانوالہ میٹرو پروجیکٹ کے بارے میں تحفظات
جاری کردہ: مولانا امجد محمود معاویہ — سیکرٹری اطلاعات جمعیت اہلسنۃ والجماعۃ گوجرانوالہ
۲۶ جولائی ۲۰۲۶ء: مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب مولانا زاہد الراشدی نے میٹرو منصوبے سے متاثر ہونے والے شہریوں اور تاجروں کے موقف کی حمایت کی ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس منصوبہ پر نظر ثانی کریں اور شہریوں کو اعتماد میں لیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایسے منصوبے کی ضرورت اور اہمیت سے انکار نہیں ہے مگر اس کے لیے پہلے اس بات کا اہتمام ضروری ہے کہ اس منصوبے کی وجہ سے گوجرانوالہ اور اس کے شہریوں کا کم سے کم نقصان ہو۔ انہوں نے کہا ہے کہ اول تو ان نقصانات پر مناسب معاوضہ دینا بنتا ہے، نہیں تو اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے تاجروں اور شہریوں کو ہونے والے نقصان کو کم سے کم کرنا بہت ضروری ہے، ورنہ یہ منصوبہ شہریوں کی حمایت حاصل نہیں کر سکے گا۔
مجاہدِ ختمِ نبوت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ کے انتقال پر اظہارِ تعزیت
رپورٹ: مولانا عبدالرؤف محمدی — ڈپٹی سیکرٹری جنرل، پاکستان شریعت کونسل
۲۹ جولائی ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی، جنرل سیکرٹری مولانا عبدالرؤف فاروقی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی اور سیکرٹری اطلاعات حافظ منیر احمد نے معروف عالمِ دین، مجاہدِ ختمِ نبوت اور تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ کے عظیم داعی مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ کے سانحۂ ارتحال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی وفات کو دینی حلقوں اور بالخصوص تحریکِ ختمِ نبوت کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ اپنے مشترکہ تعزیتی بیان میں پاکستان شریعت کونسل کے رہنماؤں نے کہا کہ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ نے اپنی پوری زندگی عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ اور ناموسِ رسالتؐ کی پاسبانی کے لیے وقف کیے رکھی۔ وہ اس عظیم محاذ پر پوری استقامت، جرأت اور بصیرت کے ساتھ زندگی بھر پہرہ دیتے رہے اور قادیانیت کے فتنہ کے تعاقب، رد اور مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کے تحفظ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ کی علمی، تحقیقی، دعوتی اور قلمی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے عقیدۂ ختمِ نبوت کے موضوع پر متعدد اہم اور گراں قدر کتابیں تصنیف کیں اور اپنی تحریروں، خطابات اور عملی جدوجہد کے ذریعے نئی نسل کو عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت سے آگاہ کرنے اور اس کے تحفظ کے لیے بیدار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
پاکستان شریعت کونسل کے رہنماؤں نے کہا کہ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ کی زندگی ہمارے لیے اس بات کا روشن نمونہ ہے کہ دین کے بنیادی عقائد کے تحفظ کے لیے اخلاص، استقامت اور مسلسل جدوجہد کس طرح کی جاتی ہے۔ انہوں نے تحفظِ ختمِ نبوت کے محاذ پر جو خدمات سرانجام دیں، وہ ان کے لیے صدقۂ جاریہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی علمی و دینی سرمایہ ہیں۔
دریں اثناء پاکستان شریعت کونسل کے رہنماؤں مولانا مفتی رویس خان ایوبی، مولانا عبدالرزاق، مولانا رشید احمد درخواستی، مولانا تنویر الحق تھانوی، مولانا شبیر احمد کشمیری، چوہدری خالد محمود ایڈووکیٹ، مولانا رمضان علوی، مولانا قاری اللہ داد، مفتی محمد نعمان پسروری، مولانا عبدالحفیظ محمدی، مولانا اسد اللہ غالب، مولانا عبدالحسیب خوستی، مولانا محمد امین، مولانا قاسم عباسی، مولانا حافظ علی محی الدین، مولانا قاری عثمان رمضان، سعید احمد اعوان، مولانا امجد محمود معاویہ، مولانا صاحبزادہ نصرالدین خان عمر، مفتی جعفر طیار، مولانا عطاء اللہ علوی، مولانا ڈاکٹر سیف الرحمٰن آرائیں، مولانا عبید الرحمٰن معاویہ، ذوالفقار گل ایڈووکیٹ اور دیگر نے بھی مولانا عزیز الرحمٰن جالندھریؒ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت، بلندیٔ درجات اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے دعا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی دینی و ملی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے اہلِ خانہ، متعلقین، تلامذہ اور تمام محبین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور عالمِ اسلام کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔
قومی معاملات میں سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت
منجانب: مولانا امجد محمود معاویہ — سیکرٹری اطلاعات پاکستان شریعت کونسل پنجاب
۳۱ جولائی ۲۰۲۶ء: پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو قومی معاملات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی سطح پر باہمی مشاورت و مفاہمت کی صورت نکالنی چاہیے۔ آج مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے سن ۱۹۷۰ء جیسے حالات محسوس ہو رہے ہیں، میں نے ۱۹۷۰ء کا ماحول اسی مسجد میں اور اسی منبر پر دیکھا ہے اور نہ صرف پوری طرح یاد ہے بلکہ بہت ڈر بھی لگ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ بلا امتیاز قومی مشاورت کا اہتمام اور دستور کی پاسداری اور تحفظ ہماری اس وقت سب سے بڑی قومی ضرورت ہے اور قومی اداروں کے بعد سیاسی جماعتوں اور طبقات کو اس میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دستور کا مقصد ملک کو اس کے مطابق چلانا ہوتا ہے اور اس کی وفاداری کا حلف بھی اسی مقصد کے لیے اٹھایا جاتا ہے اس لیے تمام طبقات، شخصیات اور اداروں کو دستور کی بالادستی اور عملی نفاذ کے تقاضوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ ہونا چاہیے۔
مولانا زاہد الراشدی نے نماز جمعہ کے بعد بتایا کہ پاکستان شریعت کونسل ملک کی انتخابی اور تحریکی سیاست کا حصہ نہیں ہے لیکن دستور کی بالادستی، قومی خودمختاری کے تحفظ اور ملک کی سالمیت کے لیے آواز اٹھاتے رہنا ہماری ذمہ داری ہے اور اسی سلسلہ میں لائحہ عمل طے کرنے کے لیے پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس مشاورت کا اجلاس ۱۹ اگست ۲۰۲۶ء کو اسلام آباد میں طلب کر لیا گیا ہے جس میں آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، ان شاء اللہ۔




















