’’سیاست شرعیہ کے حوالے سے ہمارے نصاب میں ضرور ایک کتاب ہونی چاہیے۔‘‘
آج مولانا فضل الرحمان صاحب نے یہ بات کہی ہے تو کئی لوگوں نے اس پر لکھنا شروع کیا ہے۔ یہ بہت اہم تجویز ہے۔
عام طور پر یونیورسٹیوں میں امام ابن تیمیہ کی کتاب السیاسۃ الشرعیۃ کو نصابی کتاب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ کتاب یقینا اچھی ہے لیکن امام ابن تیمیہ سے صدیوں پہلے حنفی فقہاے کرام نے سیاسہ شرعیہ کا تصور نہ صرف وضع کیا تھا بلکہ پورے قانونی نظام میں برتا بھی تھا۔ امام محمد کی کتابوں سے سیاسہ شرعیہ کا پورا تصور نہایت واضح طور پر سامنے آتا ہے۔ میں نے اپنا پی ایچ ڈی مقالہ سیاسہ شرعیہ کے موضوع پر لکھا تھا اور اس میں حنفی فقہاے کرام کے کام کی روشنی میں سیاسہ شرعیہ کی تفصیل دی تھی، تاہم اس مقالے میں اس کا اطلاق خصوصا جرم و سزا کے قانون کے تناظر میں کیا گیا۔ اس مقالے میں ایک مقام سے کچھ اقتباسات کا اردو ترجمہ یہاں پیش خدمت ہے۔ ان اقتباسات سے اس کتاب کا بھی پتہ معلوم ہو جائے گا جو علامہ شامی نے سیاسہ شرعیہ کے تصور کی بہتر تفہیم کے لیے تجویز کی تھی۔
سیاسہ کے تصور کے تین دائرے
علامہ ابن عابدین شامی تراث کی بعض کتب سے سیاسہ کی یہ تعریف نقل کرتے ہیں:
فالسیاسۃ استصلاح الخلق بارشادہم الی الطریق المنجی فی الدنیا والآخرۃ۔
(پس سیاسہ سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو دنیا وآخرت میں نجات کا راستہ دکھا کر ان کی حالت بہتر کی جائے۔)
علامہ شامی کہتے ہیں کہ اس لحاظ سے سیاسہ کا یہ تصور پورے دین کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ سیاسہ کے تصور کا وسیع ترین دائرہ ہے۔ سیاسہ کے اس تصور کی بہترین تفہیم کے لیے علامہ شامی نویں صدی ہجری کے مشہور حنفی فقیہ اور قاضی علاؤ الدین ابو الحسن علی بن ابراہیم الطرابلسی (م 844ھ/1440ء) کی کتاب معین الحکام کا حوالہ دیتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب میں اس تصور کی نہایت خوبصورت اور جامع توضیح پیش کی گئی ہے۔
چنانچہ قاضی طرابلسی پہلے یہ واضح کرتے ہیں کہ اپنے وسیع ترین مفہوم میں سیاسہ دراصل شریعت کا مترادف تصور ہے کیونکہ انبیاء کی بعثت کا مقصد ہی یہی ہے کہ خواہشات کے منہ زور گھوڑے کو لگام ڈال کر نفس کو اللہ کی بندگی پر آمادہ کیا جائے اور یوں دنیا و آخرت کی کامیابی کا حصول ممکن ہو سکے۔ اس کے بعد وہ شریعت کے پانچ شعبے بیان کرتے ہیں:
- سرکش نفس کو قابو میں کرنے کے لیے کچھ احکام عبادات کے باب میں دیے گئے؛
- انسان کی بقا کے لیے کھانے پینے، رہن سہن اور اس طرح کے دیگر امور کو مباحات کے باب میں رکھا گیا؛
- چونکہ انسان تنہا رہ نہیں سکتا اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اسے دوسرے انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنا پڑتا ہے، اس لیے کچھ احکام تجارت، بیع، قرض وغیرہ کے لیے دیے گئے؛
- احکام کے ایک حصے کا تعلق مکارم اخلاق سے ہے کیونکہ انسان کی صرف مادی ضروریات ہی نہیں ہوتیں، بلکہ اس کا اصل امتحان تو اخلاق کے باب میں ہے؛ اور
- نیز شرعی احکام کی خلاف ورزی سے روکنے کے لیے کچھ خصوصی احکام دیے گئے ہیں۔
یہاں قاضی طرابلسی فرماتے ہیں کہ سیاسہ کا نسبتا چھوٹا دائرہ شریعت کے اس پانچویں شعبے پر محیط ہوتا ہے۔ گویا اس لحاظ سے شریعہ عام ہے اور سیاسہ اس کا ایک خاص شعبہ ہے۔ یہ سیاسہ کے تصور کا دوسرا دائرہ ہوا۔ شریعت کے اس پانچویں حصے کی، جسے سیاسہ کا خاص مفہوم کہا جا سکتا ہے، قاضی طرابلسی چھے ذیلی قسمیں بیان کرتے ہیں:
- اس شعبے کے بعض احکام وہ ہیں جن کا مقصد انسانی جان کی حفاظت ہے؛
- بعض احکام نسب کی حفاظت کے لیے دیے گئے ہیں؛
- بعض احکام کا تعلق عزت کی حفاظت سے ہے؛
- اسی طرح بعض احکام مال کی حفاظت کے لیے دیے گئے ہیں؛
- جبکہ بعض احکام کا تعلق عقل کی حفاظت سے ہے؛ اور
- بعض احکام وہ ہیں جو سزا اور تادیب کے لیے دیے گئے ہیں تاکہ لوگ ان احکام کو توڑنے سے باز رہیں۔
یوں قاضی طرابلسی سیاسہ کے تصور کو مقاصد شریعت کے نظریے کے ساتھ ہم آہنگ کر دیتے ہیں اور واضح کر دیتے ہیں کہ سیاسہ کا تصور شریعت کے قواعد عامہ پر مبنی ہے جو شریعت کے مقاصد کے حصول کی راہ دکھاتا ہے۔ اسی لیے بحث کی ابتدا میں ہی قاضی طرابلسی فرماتے ہیں کہ سیاسہ اگر شریعت کے احکام سے متصادم ہو تو وہ سیاسہ ظالمہ ہے اور حرام ہے:
اعلم ان السیاسۃ شرع مغلظ۔ والسیاسۃ نوعان: سیاسۃ ظالمۃ، فالشریعۃ تحرمہا؛ و سیاسۃ عادلۃ تخرج الحق من الظالم وتدفع کثیرا من المظالم وتردع اہل الفساد ویتوصل بہا الی المقاصد الشرعیۃ للعباد، فالشرعیۃ، تجب المصیر الیہا والاعتماد فی اظہار الحق علیہا۔
(جان لو کہ سیاسہ سخت قانون ہے اور سیاسہ دو طرح کا ہے: ظالمانہ سیاسہ، جسے شریعت حرام قرار دیتی ہے؛ اور عادلانہ سیاسہ جو ظالم سے حق چھینے، بہت سے مظالم دور کرے، فساد کرنے والوں کو ڈرائے اور جس کے ذریعے بندوں کے شرعی مقاصد تک رسائی ممکن ہو سکے، تو یہ سیاسہ شرعیہ ہے اور اس کی طرف جانا اور حق کو غالب کرنے کے لیے اس پر تکیہ کرنا واجب ہے۔)
واضح رہے کہ قاضی طرابلسی کی یہ کوئی انوکھی اپج نہیں تھی بلکہ ان سے پانچ سو سال قبل امام سرخسی سیاسہ کو اسی طرح مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کر کے پیش کر چکے تھے۔ چنانچہ ارتداد کی سزا پر بحث کرتے ہوئے امام سرخسی فرماتے ہیں:
ان تبدیل الدین واصل الکفر من اعظم الجنایات، ولکنہا بین العبد وبین ربہ؛ فالجزاء علیہا مؤخر الی دار الجزاء؛ وما عجل فی الدنیا، سیاسات مشروعۃ لمصالح تعود الی العباد؛ کالقصاص لصیانۃ النفوس، وحد الزنا لصیانۃ الانساب والفرش، وحد السرقۃ لصیانۃ الاموال، وحد القذف لصیانۃ الاعراض، وحد الخمر لصیانۃ العقول؛ وبالاصرار علی الکفر یکون محاربا للمسلمین، فیقتل لدفع المحاربۃ؛ الا ان اللہ تعالی نص علی العلۃ فی بعض المواضع، بقولہ تعالی: فان قتلوکم فٱقتلوہم؛ وعلی السبب الداعی الی العلۃ فی بعض المواضع، وہو الشرک۔
(دین کا تبدیل کرنا اور اصل کفر تو سنگین ترین جرائم میں ہے لیکن یہ معاملہ بندے اور اس کے آقا کے درمیان ہے؛ اس لیے اس کی سزا تو دارالجزاء تک ہی مؤخر کی گئی ہے اور دنیا میں جرائم پر جو فوری سزائیں مقرر کی گئی ہیں تو لگام ڈالنے کے لیے ہیں جو اس لیے مشروع کی گئی ہیں کہ ان کے ذریعے بندوں تک پہنچنے والے مصالح کی حفاظت ہو سکے۔ چنانچہ زندگی کے تحفظ کے لیے قصاص، نسب اور خاندان کے تحفظ کے لیے حد زنا، اموال کی حفاظت کے لیے حد سرقہ، عزت کے تحفظ کے لیے حد قذف اور عقل کی حفاظت کے لیے حد خمر مقرر کی گئی ہیں۔ اسی طرح کفر پر اصرار کی وجہ سے یہ شخص (مرتد) مسلمانوں کے لیے لڑنے والا قرار پاتا ہے تو اس کی اس جنگ کے خاتمے کے لیے اسے قتل کیا جاتا ہے۔ البتہ اللہ تعالی نے بعض مواقع پر علت کا ذکر کیا ہے، جیسا کہ فرمایا: "اگر وہ تم سے جنگ کریں تو تم انھیں قتل کر دو۔" اور بعض مواقع پر اس سبب کا، یعنی شرک کا ذکر کیا، جو اس علت کی طرف لے جاتا ہے۔)
اسی طرح علامہ شامی فرماتے ہیں:
انہا داخلۃ تحت قواعد الشرع، وان لم ینص علیہا بخصوصہا، فان مدار الشریعۃ بعد قواعد الایمان علی حسم مادۃ الفساد لبقاء العالم۔
(سیاسہ شرعی قواعد کے تحت ہے، خواہ اس کے لیے خصوصی طور پر تصریح نہ کی گئی ہو کیونکہ ایمان کی بنیادوں کے بعد شریعت کا مدار عالم کے بقا کے لیے فساد کے خاتمے پر ہے۔)
قاضی طرابلسی آگے ان چھے شعبوں کے متعلق متعدد قرآنی آیات، رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور خلفاے راشدین کے نظائر پیش کرتے ہیں، جیسے حرم میں شکار پر سزا، غزوۂ تبوک کے موقع پر پیچھے رہ جانے والے تین صحابۂ کرام کی سرزنش، مانعین زکوۃ کے خلاف ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جنگ اور عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے گورنر کا محل جلانے کا فعل وغیرہ۔ اس کے بعد وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا سیاسہ کا یہ اختیار صرف حکمران کے پاس ہے یا قاضی بھی اس کا استعمال کر سکتا ہے؟ وہ پہلے مالکی فقیہ قرافی، شافعی فقیہ ماوردی اور حنبلی فقیہ ابن قیم الجوزیہ کی راے پیش کرتے ہیں جو اس سوال کا جواب اثبات میں دیتے ہیں اور پھر حنفی فقہ سے تفصیلی شواہد پیش کر کے دکھاتے ہیں کہ یہی موقف حنفی فقہاے کرام کا بھی ہے۔ اس کے بعد وہ قاضی اور والی الجرائم (انتظامی مجسٹریٹ) کے اختیارات میں فرق واضح کرتے ہیں اور پھر آخر میں فقہ کے مختلف ابواب سے حکمران اور قاضی کے اس اختیار کی تفصیلی مثالیں پیش کرتے ہیں۔ بلاشبہ سیاسہ کے تصور سے متعلق اصول اور جزئیات کے لیے یہ کتاب ایک مخزن کی حیثیت رکھتی ہے۔
حکومت یا عدالت کے اس اختیار کے لیے جب سیاسہ کی تعبیر استعمال کی جائے تو اس کی تعریف زین العابدین ابراہیم ابن نجیم المصری (970ھ/1563ء) ان الفاظ میں کرتے ہیں:
السیاسۃ فعل شیء من الحاکم لمصلحۃ یراہا، وان لم یردبذلک الفعل دلیل جزئی۔
(سیاسہ حکمران کا وہ اقدام ہے جو وہ کسی مصلحت کی بنا پر اٹھائے، خواہ اس فعل کےلیے کوئی خاص نص نہ پائی جائے۔)
اس کے بعد سیاسہ کا وہ دائرہ آتا ہے جو جرائم کی سزاؤں کے متعلق ہےاور اس مفہوم میں علامہ شامی تراث سے سیاسہ کی یہ تعریف یوں پیش کرتے ہیں:
السیاسۃ تغلیظ جنایۃ لہا حکم شرعی حسما لمادۃ الفساد۔
(سیاسہ کسی ایسے جرم کی، جس کے متعلق شرعی حکم موجود ہو، سخت سزا کو کہتے ہیں جس کا مقصد فساد کا خاتمہ ہو۔)
اس دائرے میں بھی بالخصوص جب کسی سنگین جرم میں سزاے موت دی جائے، تو اسے سیاسہ کہا جاتا ہے، جیسا کہ توہین رسالت کے مرتکب ذمی کی سزا کے متعلق کہا جاتا ہے، یا پتھر سے کسی کا سر کچلنے والے کی سزاے موت کو سیاسہ کہتے ہیں۔
واضح رہے کہ سیاسہ کے اس دائرے میں صرف سزائیں ہی نہیں آتیں بلکہ جرائم کی روک تھام کے لیے اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر (preventive measures) بھی اس میں شامل ہیں۔ چنانچہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خدشہ ہوا کہ نصر بن حجاج کی وجہ سے مدینہ منورہ میں کوئی جرم وقوع پذیر ہو جائے گا، تو آپ نے انھیں مدینہ منورہ سے جلاوطن کر دیا اور جب اس نے پوچھا کہ میرا جرم کیا ہے، تو آپ نے واضح فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے شہر میں بے حیائی کا وقوع نہ ہونے دینا بہ حیثیت حکمران آپ کی ذمہ داری ہے۔
اسلام کے سیاسی نظام پر کتب کی چار بڑی قسمیں
مولانا فضل الرحمان صاحب کی تجویز کے بعد سے اس موضوع پر کئی لوگوں نے لکھنا شروع کیا ہے۔ یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے۔
اس موقع پر مناسب معلوم ہوا کہ اس موضوع پر کتابوں کی قسموں کے متعلق ایک بنیادی بات مکرر پیش کی جائے۔
مشہور برطانوی مورخ این لیمبٹن (م 2008ء) نے اپنی مشہور کتاب State and Government in Medieval Islam میں ریاست اور سیاست سے متعلق مسلمانوں کی کاوشوں کو تین بنیادی مناہج میں تقسیم کیا ہے:
- فقہاے کرام کا منہج (بہ الفاظ دیگر وقت کے قانون دانوں کا زاویۂ نظر)؛
- فلاسفہ کا منہج؛ اور
- ادیبوں کا منہج۔
فلاسفہ کے نقطۂ نظر کے لیے عام طور پر فارابی کی ”المدینۃ الفاضلۃ“ کا رخ کیا جاتا ہے۔ ادیبوں کا زاویۂ نظر دیکھنے کے لیے ابن المقفع کے کام کے علاوہ ”نصیحۃ الملوک“ اور ”سیر الملوک“ جیسی کتب کا رخ کیا جاتا ہے۔
فقہاے کرام کے نقطۂ نظر سے اس مسئلے کو دیکھنے کے لیے بالعموم ”الاحکام السلطانیۃ“ یا زیادہ سے زیادہ ”السیاسۃ الشرعیۃ“ جیسی کتب کی طرف توجہ کی گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کتب کے مصنفین (امام ماوردی اور امام ابن تیمیہ) بڑے فقیہ تھے (ایک شافعی اور دوسرے حنبلی)، تاہم حقیقت یہ ہے کہ فقہی (یعنی قانونی) نظام کو سمجھنے کے لیے یہ کتب ناکافی ہیں۔ اس مقصد کے لیے فقہ کی مخصوص کتب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔
تفہیم میں آسانی کی خاطر فقہ کی ان مخصوص کتب کو پھر ہم دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہیں گے:
- فقہ اصغر (عام فقہی ذخیرہ)؛ اور
- فقہ اکبر (جس میں عموما عقائد سے متعلق امور کی وضاحت کی گئی ہے)۔
عام فقہی کتب میں بعض ابواب بالخصوص بہت اہم ہوتے ہیں، جیسے کتاب السیر، کتاب البغی، کتاب ادب القاضی، کتاب الشھادات، کتاب الحدود۔ ان ابواب میں بہت اہم قانونی اصول مذکور ہوتے ہیں جن کا صحیح فہم اسلامی سیاسی نظام کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔
فقہ اکبر کی کتب میں ایک تو ظاہر ہے کہ امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب ”الفقہ الاکبر“ کا متن ہے۔ اس نسبت بعض لوگوں نے شک بھی کیا ہے لیکن محققین کا عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ اس میں ”امامت“ کے متعلق جو اصول دیے گئے ہیں وہ امام ابوحنیفہ ہی کے موقف پر مبنی ہیں۔ اس کے علاوہ ”العقیدۃ الطحاویۃ“ بہت اہم ہے لیکن اس کی عام طور پر رائج شرح پر، جو ابن ابی العز الدمشقی کی ہے، حنفی اصولوں کی روشنی میں کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ شرح بہرحال مفید ہے لیکن اسے فقہ حنفی اور اس کے اصولوں کے ساتھ ملا کر پڑھنے کی ضرورت ہے۔
ان دو بنیادی مآخذ کے علاوہ اہم ترین ماخذ امام الحرمین الجوینی کی ”غیاث الامم فی التیاث الظلم“ ہے جس کی عبارت بے شک بہت مشکل ہے لیکن حقیقتا وہ اس موضوع پر جامع ترین کتاب ہے اور جواہر کا معدن ہے۔ اس کا بہت ہی مختصر لیکن جامع خلاصہ ان کے شاگرد رشید امام غزالی نے ”الاقتصاد فی الاعتقاد“ میں پیش کیا ہے۔ خلاصہ یقینا جامع ہے اور آسان ہے لیکن بہرحال خلاصہ ہے۔ غیاث الامم پڑھنے سے پہلے بے شک الاقتصاد میں امامت کی بحث پڑھی جائے لیکن اس کے بعد غیاث الامم کئی بار پڑھنے کے بعد ہی سیاسی نظام کے متعلق اسلامی قانون کے اصول اور قواعد سمجھ میں آنے کی توقع ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ سیاسی نظام کے متعلق مسلمانوں کی کاوشوں کی چار قسمیں ہیں (نہ کہ تین):
- فلاسفہ کی کتب؛
- ادیبوں کی کتب؛
- سیاسی نظریے کی کتب؛ اور
- خالص قانونی کتب۔
اس مؤخر الذکر کی پھر دو قسمیں ہیں: قانون کی کتب (فقہ) اور آئینی اصولوں کی کتب (فقہ اکبر)۔
اگر مسلمانوں کے قانونی اصولوں کو ان کے لوازم اور شرائط کے ساتھ سمجھنا ہے تو مؤخر الذکر کتب کا رخ کرنا پڑے گا۔ تیسری قسم میں شامل کتب، خواہ فقہاے کرام نے لکھی ہوں، کافی نہیں ہیں۔ ایک دفعہ یہ قانونی اصول اور قواعد اپنے مقتضیات اور حدود و قیود سمیت سمجھ میں آجائیں تو اس کے بعد ہی عصرِ حاضر میں ان کی تطبیق اور موجودہ ریاستی ڈھانچے کی شرعی تکییف کی بات کی جا سکے گی۔
لا تحسب الفقہ تمرا انت آکلہ
لن تبلغ الفقہ حتی تلعق الصبرا



















