ملی مجلس شرعی
ابراہیمی معاہدے (ابراہام ایکارڈز) پر حکومت دستخط نہ کرے
ملی مجلس شرعی جو سارے دینی مکاتبِ فکر کے علماء کرام کی مشترکہ علمی مجلس ہے اور جس کے صدر مولانا زاہد الراشدی ہیں، اس کے علماء کرام نے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے جس میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ٹرمپ کے دباؤ پر معاہدۂ ابراہیمی پر ہرگز دستخط نہ کریں کیونکہ اس معاہدے (ابراہام ایکارڈ) کا اصل مقصد یہ ہے کہ مسلمان ممالک اسرائیل کو تسلیم کر لیں اور اس کے ساتھ دوستی کر لیں۔ اس کا براہ راست فائدہ اسرائیل کو ہوگا اور یہ فلسطین اور غزہ میں اس کے مظالم پر مہرِ تصدیق ثبت کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس لیے سارے مسلم ممالک خصوصاً پاکستان کو اس بارے میں امریکی دباؤ کو مسترد کرنا ہوگا اور امریکہ و اسرائیل کی بجائے حق کا ساتھ دینا ہوگا اور فلسطین و غزہ کے مظلوم و مقہور مسلمانوں کی حمایت کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے علماء پہلے ہی اس قسم کے نام نہاد اتحاد مذاہب ثلاثہ کے پروگراموں کی مذمت کر چکے ہیں۔
جن علماء کرام نے اس قرارداد کی حمایت کی، ان میں مندرجہ ذیل علماء کرام شامل ہیں:
۱۔ مولانا زاہد الراشدی (صدر ملی مجلس شرعی و شیخ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ)
۲۔ مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان (چیئرمین وفاق المدارس الرضویہ، پاکستان)
۳۔ حافظ عبدالغفار روپڑی (مہتمم جامعہ اہلحدیث، لاہور)
۴۔ مولانا عبد المالک (صدر وفاق رابطۃ المدارس، پاکستان)
۵۔ ڈاکٹر محمد امین (سیکرٹری جنرل ملی مجلس شرعی، پاکستان)
۶۔ مفتی شاہد عبید (چیف مفتی جامعہ اشرفیہ، لاہور)
۷۔ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ (رہنما جماعت اسلامی و مدیر علماء اکیڈمی، منصورہ)
۸۔ حافظ ڈاکٹر حسن مدنی (مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ و پروفیسر پنجاب یونیورسٹی، لاہور)
۹۔ مولانا محمد عمران طحاوی (مدیر مرکز قباء، جوہر ٹاؤن، لاہور)
۱۰۔ مولانا غضنفر عزیز (رہنما جمعیت علماء اسلام، پاکستان)
۱۱۔ حافظ نعمان حامد (صدر لجنۃ العلماء، پاکستان)
۱۲۔ مولانا محمد اسلم نقشبندی (سیکرٹری لجنۃ العلماء، پاکستان)
۱۳۔ مولانا رضاء الحق (ناظم شعبہ تعلقاتِ عامہ تنظیمِ اسلامی، پاکستان)
ڈاکٹر محمد امین، سیکرٹری جنرل
۱۵ جون ۲۰۲۶ء
گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی شدید مذمت
ملی مجلس شرعی، جو ساری دینی مکاتبِ فکر کی مشترکہ علمی مجلس ہے، کے علماء کرام نے ’جیو نیوز‘ کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے خاکے نشر کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ماضی میں غیر مسلم ممالک کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکوں کی اشاعت پر احتجاج کرتے رہے ہیں اور اس پر کئی مسلمانوں نے اپنی جان کی قربانی دی ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک نیوز چینل نے یہ دلخراش حرکت کی ہے۔
علماء کرام نے کہا کہ اس شنیع جرم پر پندرہ دن کی بندش کوئی سزا نہیں ہے بلکہ یہ تو اس ادارے کو تحفظ دینے والی بات ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جیو نیوز کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائے اور باقاعدہ قانونی کاروائی کی جائے اور اسے سخت سزا دی جائے تاکہ یہ دوسروں کے لیے عبرت کا سامان ہو اور کسی دوسرے کو اس طرح کی جرأت نہ ہو۔
ان گستاخانہ خاکوں کی مذمت کرنے والے علماء کرام میں مجلس کے صدر مولانا زاہد الراشدی، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد امین، مولانا شجاع الدین شیخ (امیر تنظیم اسلامی) اور معزز علماء کرام خصوصاً مولانا مفتی محمد کریم خان، مولانا مفتی شاہد عبید، مولانا عبد المالک، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، مولانا عبد الرؤف فاروقی، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، ڈاکٹر حافظ حسن مدنی، مولانا غضنفر عزیز، مولانا حافظ محمد عمران طحاوی، مولانا حافظ نعمان حامد، مولانا اسلم ندیم نقشبندی، حاجی عبداللطیف چیمہ، مولانا رضاء الحق، حافظ ڈاکٹر محمد سلیم، مفتی محمد شبیر انجم، ڈاکٹر مفتی محمد حسیب قادری، مولانا محمد عثمان رمضان، مولانا عبداللہ مدنی اور مولانا مزمل بھکر شامل ہیں۔
ڈاکٹر محمد امین، سیکرٹری جنرل
یکم جولائی ۲۰۲۶ء
تنظیمِ اسلامی
کرپٹو کرنسی اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے ترجیحی بجلی فراہمی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
محترم و مکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب
مجلس اتحادِ امت پاکستان کی خدمت میں
عنوان: کرپٹو کرنسی، بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے حکومت کی ترجیحی بجلی فراہمی اور انصاف، مساوات اور عوامی امانت کی اسلامی رہنمائی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دعا گو ہوں کہ آپ کو میرا خط ایمان و یقین کی بہترین کیفیت اور اہل و عیال کی خیر و عافیت کے ساتھ ملے!
آپ کو یہ خط گہری تشویش کے ساتھ لکھ رہے ہیں، کیونکہ یہ معاملہ معاشی پالیسی، عوامی وسائل کے استعمال اور اسلامی انصاف کے دائمی اصولوں سے متعلق ہے۔ ہمارا مقصد نہ تو ٹیکنالوجی کی ترقی کی مخالفت کرنا ہے اور نہ ہی بلاک چین یا مصنوعی ذہانت کے معاشی فوائد یا نقصانات پر بحث کرنا۔ ہماری عاجزانہ رائے میں ایک مخصوص حکومتی پالیسی ایسی معلوم ہوتی ہے جو انصاف، عوامی امانت اور ظلم کی ممانعت سے متعلق قرآنی اور نبوی تعلیمات سے ہٹتی نظر آتی ہے، اس لیے اس پر سنجیدگی سے غور ضروری ہے۔
مئی 2025ء میں حکومتِ پاکستان نے وزارتِ خزانہ اور پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) کے ذریعے پہلے مرحلے میں 2000 میگا واٹ بجلی خصوصی طور پر بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے مختص کرنے کا اعلان کیا۔ اس اقدام کو اضافی بجلی کے استعمال، غیر ملکی سرمایہ کاری، آمدنی میں اضافے اور پاکستان کو ڈیجیٹل جدت کا مرکز بنانے کی حکمتِ عملی قرار دیا گیا۔ کرپٹو ٹریڈنگ کو قانونی شکل دینا اور PCC کا قیام ایسے اقدامات ہیں جنہیں کئی ماہرینِ معیشت مثبت سمجھتے ہیں۔ تاہم، کرپٹو ٹریڈنگ بجلی کی اس ترجیحی تقسیم نے انصاف، معاشی اخلاقیات اور اسلامی احکامات کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
مزید یہ کہ ایسی ترجیح جس سے معاشرے کے ایک طبقے پر بوجھ پڑے اور دوسرا فائدہ اٹھائے، ناانصافی کو بڑھا سکتی ہے۔ بجلی کوئی نجی سرمایہ نہیں بلکہ قومی اثاثہ اور عوامی امانت ہے۔ ایک مخصوص شعبے کو رعایت دینا جبکہ باقی شعبے مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہوں، عوامی وسائل میں جانبداری کے مترادف ہے۔ اگر اسلامی نقطۂ نظر سے جائز ہو تو پاکستان کو یقیناً ڈیجیٹل دنیا میں آگے بڑھنا چاہیے۔ تاہم، اس کے لیے ایسا نظام ہونا چاہیے جو شفاف، غیر امتیازی اور تمام شعبوں کے لیے یکساں مواقع فراہم کرے۔ تمام فیصلے کھلے مباحثے، مسابقتی عمل اور برابری کے اصول پر مبنی ہونے چاہئیں۔ اس پالیسی کا قرآن، سنت، اسلامی مالیات، معاشی انصاف اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے جائزہ لیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ یہ شرعی اصولوں کے مطابق ہے یا نہیں۔ مزید برآں، مالیاتی جدتوں کے حوالے سے رہنمائی درکار ہے۔
لہٰذا، ہم مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ:
اتحاد تنظیمات المدارس / اسلامی نظریاتی کونسل اس پالیسی کا قرآن، سنت اور فقہِ اسلامی کے قائم شدہ اصولوں — خصوصاً عوامی مالیات، معاشی انصاف اور ٹیکنالوجی میں جدت — کی روشنی میں جائزہ لیں۔ اسی طرح، آپ ایک واضح اور دلائل پر مبنی رائے یا فتویٰ جاری کریں کہ آیا ترجیحی الاٹمنٹ اور اس سے متعلق خفیہ طریقہ کار اسلامی احکامات کے مطابق ہے یا نہیں۔ کیا یہ پالیسی آئینِ پاکستان کے درج ذیل آرٹیکل کے تحت اسلامی احکامات کے خلاف سمجھی جا سکتی ہے؟
آرٹیکل 227: تمام موجودہ قوانین کو قرآن و سنت میں بیان کردہ اسلامی احکامات کے مطابق بنایا جائے گا، اور کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جائے گا جو ان احکامات کے خلاف ہو۔
ہم یہ بھی گزارش کرتے ہیں کہ آپ وفاقی شرعی عدالت سے، ازخود نوٹس یا درخواست کے ذریعے، عوامی مفاد میں اس معاملے کا جائزہ لینے پر غور کریں۔ آپ کی مداخلت نہ صرف حکومتی نظام کے اسلامی تشخص کے تحفظ کا ذریعہ بنے گی بلکہ معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق کی حفاظت بھی کرے گی۔ ایسے وقت میں جب پاکستان شدید معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، ریاستی فیصلوں کو شریعت کے اعلیٰ مقاصد — یعنی دین، جان، عقل، نسل اور مال کے تحفظ — کے مطابق بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ البتہ بدرجۂ اولیٰ علماء کرام کی خصوصی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو درست فیصلہ کرنے کی توفیق دے اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی کوششوں کا بہترین اجر عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت پر استقامت عطا فرمائے اور ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین
والسلام مع الاکرام
اظہر بختیار خلجی (ناظم رابطہ و قانونی امور)
۲ ذوالحجہ ۱۴۴۷ھ / ۱۹ مئی ۲۰۲۶ء
خودکشی کی کوشش کو دوبارہ قابلِ تعزیر جرم قرار دینے کا فیصلہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
محترم و مکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب
مجلس اتحادِ امت پاکستان کی خدمت میں
عنوان: خودکشی کی کوشش کو دوبارہ قابلِ تعزیر جرم قرار دینے سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر شرعی رہنمائی اور رائے کی درخواست
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دعاگو ہوں کہ آپ کو میرا یہ خط ایمان و یقین کی بہترین کیفیت اور اہل و عیال کی خیریت و عافیت کے ساتھ ملے۔
وفاقی شرعی عدالت نے اپنے حالیہ فیصلے میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے خودکشی کی کوشش کو جرم کے دائرے سے خارج کرنے کی والی ترمیم کو خلافِ شریعت قرار دیتے ہوئے تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعہ کو دوبارہ بحال کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد علمی، قانونی، نفسیاتی اور سماجی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
اس حوالے سے بعض ماہرینِ نفسیات اور سماجی علوم کا موقف ہے کہ خودکشی کی کوشش کرنے والے افراد اکثر شدید ذہنی دباؤ، نفسیاتی بیماری، گھریلو تشدد، معاشی تنگی، مایوسی یا دیگر سماجی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کو سزا دینے کے بجائے علاج، بحالی اور معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔
دوسری جانب وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں شرعی اصولوں کی بنیاد پر اس عمل کو قابلِ سزا قرار دیا ہے۔
اس اہم اور حساس معاملے میں آپ کے معززینِ جماعت سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ قرآن و سنت، فقہِ اسلامی، مقاصدِ شریعت، مصالحِ عامہ اور موجودہ سماجی و نفسیاتی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی مفصل شرعی رائے اور رہنمائی سے آگاہ فرمائیں۔
بالخصوص درج ذیل امور پر آپ کی رہنمائی مطلوب ہے:
- کیا وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ قطعی شرعی حکم پر مبنی ہے یا اجتہادی تعبیر ہے؟
- کیا مقاصدِ شریعت، مصالحِ عامہ اور انسانی جان کے تحفظ کے پیشِ نظر اس معاملے میں مختلف اجتہادی آراء کی گنجائش موجود ہے؟
- کیا ایسے افراد، جو شدید نفسیاتی یا سماجی مجبوریوں کے باعث خودکشی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے ساتھ تعزیری سزا کے بجائے اصلاح، علاج اور بحالی کا طریقہ اختیار کرنا شریعت کے زیادہ قریب ہے؟
- کیا اس فیصلے پر سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بینچ میں نظرثانی کی گنجائش موجود ہے، اور اس سلسلے میں شرعی طور پر آپ کی کیا رائے ہے؟
ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس اہم قومی اور دینی مسئلے پر اپنی علمی رہنمائی سے امت کی رہنمائی فرمائیں گے۔
والسلام مع الاکرام
اظہر بختیار خلجی (ناظم رابطہ و قانونی امور)
۲۴ محرم الحرام ۱۴۴۸ھ / ۱۰ جولائی ۲۰۲۶ء
توہینِ قرآنِ حکیم کے نسخوں کا معاملہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
محترم و مکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب
صدر ملی مجلسِ شرعی کی خدمت میں
عنوان: توہینِ قرآنِ حکیم کے نسخوں کا معاملہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
دعا گو ہوں کہ آپ کو میرا خط ایمان و یقین کی بہترین کیفیت اور اہل و عیال کی خیر و عافیت کے ساتھ ملے!
سوشل میڈیا کے ذریعے ایک صاحبِ خیر محترم قیصر احمد راجہ کی طرف سے درج ذیل سنگین معاملے پر توجہ دلائی گئی ہے اور ہم اس معاملے کو آپ تک اس لئے پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ آپ اس سلسلے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے اس کے فوری حل کے لئے کوشش فرمائیں۔
ابھی رمضان المبارک کے مہینہ کا اختتام ہوا ہے جس میں ہم نے مساجد میں تراویح کے دوران پورے قرآن مجید کو حفاظ کرام سے سنا ہے اور یہ عمل لاکھوں مقامات پر ہوا، اور اس سے بڑھ کر کئی مساجد و دیگر مقامات پر اس پورے قرآن مجید کا ترجمہ یا ترجمانی (خلاصہ) بھی بیان ہوا ہے۔ اس طرح ہم نے قرآن مجید سے اپنے تعلق کو از سر نو تازہ کیا ہے۔ اور یہ قرآن مجید ہماری شناخت اور ہمارے ایمان کی بنیاد ہے۔ مگر نہایت دکھی دل کے ساتھ عرض ہے کہ حال ہی میں پاکستان میں توہینِ مقدسات کے بعض مقدمات کے سلسلے میں اسی کتاب مقدس (قرآن مجید) کے متعدد نسخے ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کے دفاتر میں بطور ثبوت پیش کیے گئے ہیں اور یہ ابھی تک اسی حالت میں موجود ہیں۔ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ ان نسخوں کو مبینہ طور پر ناپاک مواد سے آلودہ کیا گیا ہے۔
اس ضمن میں عرض ہے کہ قانونی تقاضے اپنی جگہ اہم ہیں مگر قرآن کی حرمت اپنی جگہ ایک لازمی اور اہم ترین فریضہ ہے۔ اس ضمن میں موصوف کی جانب سے درج ذیل موصولہ تجاویز سے ہمیں کافی حد تک اتفاق ہے، لہٰذا انہیں آپ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:
- ان تمام نسخوں کا فوری طور پر ڈی این اے ٹیسٹ مکمل کیا جائے تاکہ قانونی ثبوت محفوظ ہو جائیں۔
- ان رپورٹس اور دستاویزی ثبوتوں کو محفوظ کرنے کے بعد ایک با اختیار ریاستی عہدیدار کی نگرانی میں ان نسخوں کو اس غلاظت سے پاک کر کے غسل دے کر شرعی طریقے سے تدفین کی جائے۔
- اگر کوئی قانونی رکاوٹ درپیش ہو تو اس مقصد کے لئے فوری سوموٹو ایکشن، قانون سازی یا صدارتی آرڈیننس کے ذریعے طریقہ کار وضع کیا جائے۔ ہم آپ تمام اکابرینِ امت و منتظمینِ مجلسِ اتحادِ امت اور دیگر مکاتبِ فکر کے علماء کرام کو اس حوالے سے بروقت مؤثر اقدامات کرنے کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں تاکہ متعلقہ حکام یہ محسوس کریں کہ ان مقدسات کی حرمت کا دفاع محض زبانی جمع خرچ نہیں، بلکہ اگر ضرورت داعی ہوئی تو ایسے ہر موقع پر تمام علمائے امت اجتماعی طور پر بھی اقدامات کرتے رہیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی شعائرِ دینی کی حفاظت کی کاوشوں کا تسلسل جاری رہے گا۔ ان شاء اللہ
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت پر استقامت عطا فرمائے اور ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین
والسلام مع الاکرام
اظہر بختیار خلجی (ناظم رابطہ و قانونی امور)
۱۹ صفر المظفر ۱۴۴۸ھ / ۲۷ جولائی ۲۰۲۶ء




















