نام و نسب
ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامہ بن سلمہ بن عبدالملک، ازدی، حجری، مصری، طحاوی۔
’’ازد‘‘ یمن کا مشہور قبیلہ ہے، ’’حجر‘‘ اس کی ایک شاخ ہے، امام طحاوی رحمہ اللہ ’’ازد‘‘ کی اسی شاخ کی طرف منسوب ہیں؛ اس لیے آپ کو ازدی اور حجری کہتے ہیں۔
جب مصر اسلامی سلطنت میں داخل ہوا تو آپ کے آبا و اجداد نے مصر میں سکونت اختیار کرلی، اس لیے آپ کو مصری کہتے ہیں، اور ’’طحا‘‘ مصر کے بالائی حصہ پر ایک گاؤں ہے جو آپ کی جائے ولادت ہے، اس لیے آپ کو طحاوی کہتے ہیں۔ (الجواہر المضیۃ ۳۲۶/۲، لسان المیزان ۲۷۴/۱)
لیکن امام طحاوی اصل طحا کے رہنے والے نہیں تھے، بلکہ طحا سے قریب ایک چھوٹی سی بستی طحطوط کے رہنے والے تھے، لیکن اس کی طرف نسبت کر کے طحطوطی کہلانا پسند نہیں تھا، اس لیے طحا کی طرف نسبت کر کے طحاوی کہے گئے۔ (تاریخ ابن یونس ۲۰/۱، ط: دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اور آپ مصر کے ’’جیزہ‘‘ نامی شہر میں بھی رہے ہیں، اس لیے آپ کو جیز ی بھی کہتے ہیں۔ (معانی الاخیار فی شرح اسامی رجال معانی الآثار للعینی ۳۹۵/۳) جیزہ قاہرہ کے ساتھ ملا ہوا شہر ہے۔
ولادت: مختلف اقوال کی تحقیق
آپ کی ولادت اتوار کی رات ۱۱ ربیع الاول کو ہوئی۔ سنہ کے بارے میں مختلف اقوال ہیں:
- ۲۲۹ھ
- ۲۳۷ھ
- ۲۳۸ھ
- ۲۳۹ھ
آخری قول راجح ہے۔
پہلا قول: ۲۲۹ھ
ابن نقطہ نے التقیید (ص ۱۷۴) میں آپ کی تاریخ ولادت ۲۲۹ لکھی ہے۔ اور عبدالقادر قرشی نے الجواہر المضیۃ (۲۷۳/۱) میں، ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ (۱۷۴/۱۱) میں سمعانی سے ۲۲۹ نقل کی ہے، جبکہ سمعانی نے الانساب (۷۳/۴، ۵۳/۹) میں ابن یونس سے ۲۳۹ نقل کی ہے۔ اور ابن کثیر نے یہ بھی لکھا ہے کہ امام طحاوی کی وفات ۸۲ سال کی عمر میں ہوئی، اور ۸۲ سال عمر اسی وقت ہو سکتی ہے جبکہ ولادت ۲۳۹ میں ہو، کیونکہ وفات کا ۳۲۱ میں ہونا تقریبا متفق علیہ ہے، صرف ابن ندیم نے ۳۲۲ لکھا ہے۔
امام طحاوی کے حالات پر لکھی گئی بعض اردو کتابوں میں لکھا ہے کہ سمعانی نے ۲۲۹ کے قول کو صحیح قرار دیا ہے، اور امانی الاحبار کے مقدمہ (ص ۲۹) میں اور وفیات الاعیان (۷۲/۱) میں سمعانی سے ۲۲۹ کا قول نقل کیا ہے اور اس کی تصحیح کی ہے۔ اور مظاہر علوم سہارنپور کے موقر اور قابل قدر استاذ مولانا اسعد اللہ رحمہ اللہ نے امام طحاوی کی وفات اور ولادت اور عمر کے بارے میں یہ شعر فرمایا ہے ؎
طحاوی کی توفی اور تولد اور زمان عمر
محمد مصطفی ہے مصطفی ہے اور محمد ہے
۳۲۱ ۲۲۹ ۹۲
مولانا اسعد اللہ صاحب کے بعض علمی اشعار عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ فاقد الطہورین کے بارے میں امام مالک کہتے ہیں: لا یؤدی ولا یقضی، امام شافعی کہتے ہیں: یؤدی ویقضی، امام احمد کہتے ہیں: یؤدی فقط، اور امام ابو حنیفہ کہتے ہیں: یقضی فقط۔ مولانا اسعد اللہ رحمہ اللہ نے ان مذاہب کو اس شعر میں جمع فرمایا ہے:
مالک ہیں شافعی ہیں احمد ہیں اور ہم
لا لا، نعم نعم، نعم لا، و لا نعم
(الدرالمنضود۱۷۹/۱)
اسی طرح علامہ عینی نے نخب الافکار کے مقدمہ میں لکھا ہے: «وقال ابو سعید بن یونس: قال لی الطحاوی رحمہ اللہ: ولدت سنۃ تسع وعشرین، وکذا قالہ السمعانی، وصححہ»۔ (نخب الافکار ۷۶/۱، تحقیق: السید ارشد المدنی، ط: دار الیسر)
جبکہ ابن یونس نے تاریخ مصر میں ۲۳۹ لکھا ہے: «ولد سنۃ تسع وثلاثین ومئتین»۔ (تاریخ مصر لابن یونس ۲۰/۱، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
نیز ابن یونس کی اس کتاب میں «قال لی الطحاوی» کے الفاظ نہیں ہیں۔
اسی طرح علامہ سمعانی نے بھی الانساب میں حجری و طحاوی دونوں نسبتوں کے تحت امام طحاوی کی تاریخ پیدائش ۲۳۹ لکھنے پر اکتفا کیا ہے، تصحیح نہیں کی ہے؛ «ولد سنۃ تسع وثلاثین ومئتین»۔ (الانساب للسمعانی ۱۷۹/۲، و ۵۳/۴، ط: دار الکتب العلمیۃ، بیروت) اور ۲۲۹ کے قول کو ذکر ہی نہیں کیا ہے۔
دوسرا قول: ۲۳۷ھ
سیوطی نے طبقات الحفاظ (۳۳۹/۱) میں ۲۳۷ لکھا ہے۔ اور ذہی نے تذکرۃ الحفاظ (۲۱/۳) میں ابن یونس سے ۲۳۷ نقل کیا ہے؛ جبکہ ابن یونس کی تاریخ میں ۲۳۹ لکھا ہوا ہے۔ اور خود ذہبی نے تاریخ الاسلام (۴۳۹/۷) میں ابن یونس سے ۲۳۹ نقل کیا ہے۔ اور سیر اعلام النبلاء (۱۵/ ۲۷) میں اور العبر فی خبر من غبر میں بھی ۲۳۹ لکھا ہے۔ معلوم ہوا کہ تذکرۃ الحفاظ میں تاریخ کے نقل میں غلطی ہوئی ہے۔ اور خود سیوطی نے بھی حسن المحاضرہ میں ۲۳۹ لکھا ہے۔ اور ذہبی نے العبر میں یہ بھی لکھا ہے کہ ۸۲ سال کی عمر میں امام طحاوی کی وفات ہوئی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ طبقات الحفاظ اور تذکرۃ الحفاظ میں تاریخ کے نقل میں غلطی ہوئی ہے۔ ابن تغری بردی نے بھی ’’النجوم الزاہرہ‘‘ (۲۴۲/۳) میں، اور ابو الفلاح نے ’’شذرات الذہب‘‘ (۱۰۵/۳) میں لکھا ہے کہ ۸۲ سال کی عمر میں امام طحاوی کی وفات ہوئی۔
تیسرا قول: ۲۳۸ھ
شیرازی نے طبقات الفقہاء (۱۴۲/۱) میں، ابن خلکان نے وفیات الاعیان (۷۱/۱) میں، اور ابن الوردی نے تاریخ ابن الوردی (۲۵۶/۱) میں ۲۳۸ لکھا ہے۔
چوتھا قول: ۲۳۹ھ
ابن یونس صدفی نے تاریخ مصر (۲۲/۱) میں ۲۳۹ لکھا ہے۔ اور ابن یونس امام طحاوی کے استاذ یونس بن عبد الاعلی صدفی (م: ۲۶۴) کے پوتے ہیں اور مصری شخصیات کے بارے میں آپ کا قول سند شمار کیا جاتا ہے؛ نیز ابن یونس کے علاوہ متعدد علماء: ابن ماکولا نے الاکمال (۸۵/۳) میں، ابن عساکر نے تاریخ دمشق (۳۶۷/۵) میں، سمعانی نے الانساب (۱۷۹/۲) میں ذہبی نے العبر فی خبر من غبر (۱۱/۲) میں، ابن حجر نے لسان المیزان (۲۷۴/۱) میں، زرکلی نے الاعلام (۲۰۶/۱) میں، یاقوت حموی نے معجم البلدان (۲۲/۴) میں، ابن جوزی نے المنتظم (۳۸۱/۱۳) میں، سیوطی نے حسن المحاضرہ (۳۵۰/۱) میں، اور ابن التغری نے النجوم الزاہرہ (۲۳۹/۳) میں اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ اور یہی قول راجح معلوم ہوتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
وفات
مشہور قول کے مطابق آپ کی وفات ۸۲ سال کی عمر میں شب جمعرات ۱ ذوالقعدہ ۳۲۱ھ کو ہوئی۔ (تاریخ ابن یونس ۲۰/۱، ط: دارالکتب العلمیۃ بیروت، تاریخ دمشق لابن عساکر ۳۶۷/۵)
ابن ندیم نے ۳۲۲ لکھا ہے۔ لیکن یہ صحیح نہیں۔
قرافہ مصر میں دفن ہوئے۔ (وفیات الاعیان ۷۱/۱)
آپ کا خاندان
آپ کے والد محمد بن سلامہ صاحب علم و فضل تھے۔ امام طحاوی نے اپنے والد سے بھی احادیث سنی ہیں۔ (الجواہر المضیۃ ۱۰۲/۱) آپ کے والد کی وفات ۲۶۴ ہجری میں ہوئی۔ (وفیات الاعیان ۷۲/۱)
آپ کی والدہ امام مزنی کی بہن عالمہ و فقیہہ تھیں۔ امام سیوطی نے ان کو ’’حسن المحاضرہ‘‘ (۳۹۹/۱) میں مصر کے شافعی فقہاء میں شمار فرمایا ہے۔
اور آپ کے ماموں امام مزنی اسماعیل بن یحیی امام شافعی کے شاگرد تھے۔ اور آپ کے رضاعی والد عیسی بن ابراہیم المثرو دی الغافقی ثقہ و ثبت تھے۔ امام طحاوی نے اپنے رضاعی والد سے بھی علم حاصل کیا۔ (تہذیب التہذیب ۲۰۵/۸)
آپ کے صاحبزادے ابو الحسن علی بن احمد آپ کی طرح صاحب علم و تقوی تھے، انھوں نے آپ سے علم حاصل کیا اور آپ سے روایت بھی کی۔ علامہ قرشی نے الجواہر المضیۃ (۳۵۲/۱) میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔ اور آپ کے پوتے ابو علی الحسین بن علی بن احمد کا سمعانی نے الانساب (۵۴/۹) میں ذکر فرمایا ہے۔
امام طحاوی رحمہ اللہ کا عہدِ زرّیں
امام طحاوی (۲۳۹-۳۲۱ھ) کے عہدِ زریں میں اس وقت کی مایہ ناز ہستیاں بقید حیات تھیں۔ آپ نے صحاح ستہ کے مصنفین امام بخاری (م: ۲۵۶)، امام مسلم (م: ۲۶۱)، امام ابو داود (م: ۲۷۵)، امام ترمذی (م: ۲۷۹)، امام نسائی (م: ۳۰۳)، امام ابن ماجہ (م: ۲۷۳)، اور ان حضرات کے علاوہ امام دارمی (م: ۲۵۵) اور امام ابن خزیمہ (م: ۳۱۱) وغیرہ کا زمانہ پایا ہے۔
امام طحاوی رحمہ اللہ نے امام مسلم، امام ابو داود، امام نسائی اور امام ابن ماجہ کے شیوخ سے حدیث بھی سنی ہے۔ مثلا ہارون بن سعید الایلی سے روایت کرنے والوں میں مسلم، ابو داود، نسائی، اور ابن ماجہ کے ساتھ امام طحاوی بھی شامل ہیں۔ (تہذیب الکمال ۳۰/ ۹۰-۹۱)
حضرت مولانا یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ نے امانی الاحبار کے مقدمہ میں ۳۶ ان مشائخ کے نام شمار کرائے ہیں جن سے روایت کرنے میں امام طحاوی صحاح ستہ کے بعض یا اکثر مؤلفین کے ساتھ شریک ہیں۔ (مقدمۃ امانی الاحبار فی شرح معانی الآثار، ص ۴۴-۴۶)
اور امام نسائی بھی آپ سے روایت کرتے ہیں۔ «قال ابو جعفر: کتب ہذا الحدیث «اذا تبایع الرجلان فکل واحد منہما بالخیار ما لم یتفرقا۔۔۔» عنی ابو عبد الرحمٰن یعنی: النسائی»۔ (شرح مشکل الآثار ۲۶۵/۱۳، ط: الرسالۃ)
مصر میں مالکی، شافعی، اور حنفی تینوں فقہ رائج تھے۔
مالکی فقہاء میں عبد الرحمٰن بن قاسم (م: ۱۹۱)، عبد اللہ بن وہب (م: ۱۹۷)، اسحاق بن فرات التجیبی (م: ۲۰۴)، اشہب بن عبد العزیز العامری (م: ۲۰۴) مصر کے ان قابل ذکر مالکی فقہاء میں سے تھے جن کا شمار ائمہ مجتہدین میں ہوتا تھا۔ (تاریخ مصر لابن یونس، والاعلام للزرکلی)
شافعی فقہاء میں خود امام شافعی رحمہ اللہ ۱۹۵ھ میں مصر تشریف لے گئے اور وفات ۲۰۴ھ تک علم کی نشر و اشاعت کرتے رہے اور الام، الرسالہ اور سنن وغیرہ کی تالیف فرمائیں۔ پھر آپ کے شاگردوں میں یوسف بن یحیی بویطی (م: ۲۳۲)، ابو حفص حرملہ بن یحیی تجیبی (م: ۲۴۳)، ابو ابراہیم اسماعیل بن یحیی المزنی (م: ۲۶۴)، ابو محمد ربیع بن سلیمان مؤذن (م: ۲۷۰) وغیرہ بہت سے شافعی فقہاء مصر میں علم کی نشر و اشاعت میں مشغول رہے، جس کی وجہ سے فقہ شافعی مصر میں مشہور ہو گئی۔ (تاریخ مصر لابن یونس، والاعلام للزرکلی)
حنفی فقہاء میں ابو عبد الرحمٰن محمد بن مسروق الکندی ۱۷۷ سے ۱۸۴ تک مصر کے قاضی رہے۔ (تاریخ مصر لابن یونس ۲۲۴۷/۲)
اور ابو عبد اللہ عبد الرحمٰن بن عبد اللہ العمری ۱۸۵ سے ۱۹۵ تک مصر کے قاضی رہے۔ (تاریخ مصر لابن یونس ۱۲۳/۲)
ابراہیم بن الجراح بن صبیح ۲۰۵ سے ۲۱۱ تک مصر کے قاضی رہے۔ (تاریخ مصر لابن یونس ۷/۲)
بکار بن قتیبہ ۲۴۶ میں مصر کے قاضی ہوئے اور ۲۷۵ میں مصر میں وفات پائی۔ یہ امام طحاوی رحمہ اللہ کے زمانہ طالب علمی کے قاضی اور بڑے محدث وفقیہ تھے، امام طحاوی نے ان سے خوب فائدہ اٹھایا۔ «روی عنہ الطحاوی فاکثر، وبہ انتفع وتخرج»۔ (الجواہر المضیۃ ۱۶۸/۱)
بکار بن قتیبہ کے بعد ابو جعفر احمد بن ابی عمران بن موسی مصر کے قاضی ہوئے۔ یہ بھی امام طحاوی کے شیخ ہیں۔ (الجواہر المضیۃ ۱۲۷/۱)
زمانہ طالب علمی میں شافعی مذہب سے حنفی مذہب کی طرف منتقلی کی وجوہات
کتب تراجم میں امام طحاوی کے شافعی مسلک کو چھوڑ کر حنفی مسلک اختیار کرنے کے سلسلے میں پانچ روایات ملتی ہیں، جن میں سے اول الذکر دو صحیح ہیں اور آخر الذکر تین صحیح نہیں۔
۱- امام طحاوی فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے میں نے مزنی سے حدیث لکھی اور امام شافعی کا قول اختیار کیا۔ چند سالوں کے بعد جب ہمارے یہاں احمد بن ابی عمران قاضی بن کر آئے تو میں نے ان کی صحبت اختیار کی اور ان کا قول اختیار کر لیا، وہ کوفیین کے مذہب پر تھے، اور اپنا پہلا قول چھوڑ دیا۔ «قال الطحاوی: کان اول من کتبت عنہ العلم المزنی، واخذت بقول الشافعی۔ فلما کان بعد سنین، قدم الینا احمد بن ابی عمران قاضیا علی مصر، فصحبتہ، واخذت بقولہ، وکان یتفقہ علی مذہب الکوفیین، وترکت قولی الاول»۔ (تاریخ مصر لابن یونس ۲۱/۱، تاریخ دمشق لابن عساکر ۳۶۹/۵، سیر اعلام النبلاء ۲۹/۱۵، معجم البلدان للحموی ۲۲/۴)
یہ روایت ابن عساکر نے اپنی سند کے ساتھ امام طحاوی سے ذکر کی ہے۔
۲- محمد بن احمد شروطی نے پوچھا کہ آپ نے اپنے ماموں امام مزنی سے اختلاف کر کے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب کیوں اختیار کیا؟ امام طحاوی نے فرمایا: میں اپنے ماموں کو دیکھتا تھا کہ وہ ابو حنیفہ کی کتابوں میں غور کیا کرتے تھے، اس لیے ان کی طرف منتقل ہو گیا۔ «قال احمد بن محمد الشروطی: قلت للطحاوی: لم خالفت خالک واخترت مذہب ابی حنیفۃ؟ قال: لانی کنت اری خالی یدیم النظر فی کتب ابی حنیفۃ، فلذلک انتقلت الیہ»۔ (الارشاد فی معرفۃ علماء الحدیث للخلیلی ۴۳۱/۱، طبقات المفسرین لاحمد بن محمد الادنہ وی، ص۶۰، الطبقات السنیۃ، ص۱۳۷، مرآۃ الجنان ۲۱۱/۲)
اس روایت کو ابو یعلی خلیلی نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے۔
۳- ابراہیم بن علی ابو اسحاق شیرازی (م: ۴۷۶) سے بلا سند یہ منقول ہے کہ امام طحاوی پہلے شافعی تھے، امام مزنی سے پڑھتے تھے، مزنی نے ایک دن ان سے فرمایا: بخدا تم سے کچھ نہ ہو سکا «واللہ لا جاء منک شیء»۔ اس سے طحاوی ناراض ہو کر ابن ابی عمران کے یہاں چلے گئے۔ جب امام طحاوی نے مختصر الطحاوی لکھی تو فرمایا: اللہ تعالی ابو ابراہیم (امام مزنی) پر رحم کرے، اگر وہ زندہ ہوتے تو کفارہ دیتے۔ (تاریخ الاسلام للذہبی ۴۳۹/۷، تذکرۃ الحفاظ للذہبی ۲۱/۳، سیر اعلام النبلاء ۲۹/۱۵، طبقات المفسرین للداوودی ۷۵/۱، تاریخ ابن الوردی ۲۵۶/۱، مرآۃ الجنان ۲۱۱/۲، الوافی بالوفیات ۸/۸، وفیہ: واللہ لا جاء منک خیر۔)
علامہ کوثری فرماتے ہیں کہ یہ روایت صحیح نہیں، اس لیے کہ «واللہ لا جاء» صیغہ ماضی ہے، اور صیغہ ماضی کے ساتھ قسم لغو ہوتی ہے۔ اور امام طحاوی ایسے مشہور مسئلے سے ناواقف نہیں ہو سکتے۔ (الحاوی فی سیرۃ الامام ابی جعفر الطحاوی، ص۱۶)
۴- امام قدوری (۳۶۲-۴۲۸ھ) فرماتے ہیں کہ ایک دن مزنی نے طحاوی سے کہا «واللہ لا افلحت» تو طحاوی ناراض ہو کر چلے گئے اور احناف کی فقہ حاصل کی اور فقہ حنفی کے امام بن گئے۔ جب کوئی مشکل مسئلہ پڑھاتے یا بتاتے تو فرماتے کہ اللہ تعالی ابو ابراہیم پر رحم فرمائے، اگر زندہ ہوتے اور مجھے دیکھتے تو اپنی قسم کا کفارہ دیتے۔ (معجم السفر لابی طاہر السلفی، ص ۱۶، الجواہر المضیۃ ۷۶/۱)
اس روایت میں بھی قسم کے الفاظ صیغہ ماضی کے ساتھ ہیں۔ نیز امام قدوری کی پیدائش امام طحاوی کی وفات کے ۴۱ سال بعد ہوئی ہے، اس لیے سند منقطع ہے۔
۵- امام طحاوی نے ایک روز امام مزنی کے سامنے ایک مسئلہ پر گفتگو کی تو مزنی نے ان سے کہا: «واللہ لا تفلح ابدا» اس پر طحاوی ناراض ہو گئے اور ابو جعفر بن ابی عمران سے جا ملے۔ اور امام ابو حنیفہ کے قول کو اختیار کر لیا اور اس میں کمال پیدا کیا۔ اس کے بعد مزنی کی قبر سے گزرے تو فرمایا: اے ابو ابراہیم! اگر آپ زندہ ہوتے تو اپنی قسم کا کفارہ دیتے۔
اس روایت کو ابن عساکر نے «بلغنی» کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
نیز آخر الذکر تینوں حکایتوں میں یہ مذکور ہے کہ امام طحاوی امام مزنی کو چھوڑ کر احمد بن ابی عمران کے پاس چلے گئے؛ جبکہ امام مزنی کی وفات ۲۶۴ ہجری میں ہوئی اور احمد بن ابی عمران ۲۷۰ کے بعد مصر آئے؛ اس لیے آخر الذکر یہ تینوں حکایات صحیح نہیں۔
امام طحاوی رحمہ اللہ کے اساتذہ
مولانا یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ نے امانی الاحبار کے مقدمہ میں امام طحاوی رحمہ اللہ کے ان ۸۸ مشائخ کے مختصر حالات اور ان پر جرح و تعدیل کا ذکر فرمایا ہے جن سے آپ نے معانی الآثار اور مشکل الآثار میں روایات لی ہیں۔ پھر ان ۲۶ مشائخ کا ذکر کیا ہے جن سے آپ نے صرف معانی الآثار میں روایت کی ہے۔ پھر ان ۱۳۵ مشائخ کا ذکر کیا ہے جن سے آپ نے مشکل الآثار میں روایت کی ہے۔ پھر ان ۲۳ مشائخ کا ذکر کیا ہے جن سے امام طحاوی رحمہ اللہ نے معانی الآثار اور مشکل الآثار کے علاوہ کسی اور کتاب میں روایت کی ہے۔ اس طرح امانی الاحبار کے مقدمہ میں ذکر کردہ آپ کے مشائخ کی تعداد ۲۷۲ ہے۔
آپ کے مشہور اساتذہ میں ہارون بن سعید الایلی، جن سے امام مسلم، ابو داود، نسائی، اور ابن ماجہ بھی روایت ہیں۔
ربیع بن سلیمان جیزی، جن سے امام ابو داود اور امام نسائی بھی روایت کرتے ہیں۔
امام مزنی، جو امام طحاوی کے ماموں ہیں، آپ سے امام طحاوی نے بکثرت احادیث سنی ہیں۔
یونس بن عبد الاعلی صدفی، جن سے امام مسلم، امام نسائی اور امام ابن ماجہ بھی روایت کرتے ہیں۔
ابو محمد ربیع بن سلیمان المؤذن جو امام شافعی کے شاگرد اور ان کی کتابوں کے راوی ہیں۔
ان کے علاوہ اور بھی آپ کے بہت سے قابل ذکر اساتذہ ہیں۔
امام طحاوی رحمہ اللہ کے تلامذہ
امام طحاوی رحمہ اللہ کے تلامذہ اور مستفیدین کی فہرست سیکڑوں سے متجاوز ہے۔ مولانا یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ نے امانی الاحبار کے مقدمہ میں آپ کے ۴۹ تلامذہ کا ذکر فرمایا ہے۔
آپ کے مشہور تلامذہ میں چند یہ ہیں:
حافظ ابو القاسم سلیمان بن احمد الطبرانی، جو معجم کبیر، معجم صغیر اور معجم اوسط وغیرہ کے مصنف ہیں۔
حافظ ابو سعید عبد الرحمٰن بن احمد بن یونس المصری، جو تاریخ مصر کے مصنف ہیں۔
حافظ ابو بکر محمد بن ابراہیم المقری، جو شرح معانی الآثار کے راوی ہیں۔
حافظ عبد اللہ بن عدی جرجانی، جو الکامل فی ضعفاء الرجال کے مصنف ہیں۔
حافظ محمد بن مظفر بغدادی، جنہوں نے امام اعظم کی مسند کو جمع کیا، یہ دار قطنی کے شیخ ہیں، دار قطنی ان کی موجودگی میں روایت بیان نہیں کرتے تھے۔ (تاریخ الاسلام للذہبی ۴۷۲/۸)
امام طحاوی کے بارے میں ائمہ جرح وتعدیل کے تعریفی کلمات
ابن یونس لکھتے ہیں: «کان ثقۃ ثبتا، فقیہا عاقلا، لم یخلف مثلہ»۔ (تاریخ مصر لابن یونس، ص ۲۲/۱)
ابن یونس کے اس قول کو ابن عساکر، علامہ ذہبی، حافظ ابن حجر، امام سیوطی وغیرہ متعدد حضرات نے اپنی کتابوں میں نقل فرمایا ہے۔
علامہ سمعانی فرماتے ہیں: «کان اماما ثقۃ ثبتا فقیہا عالما، لم یخلف مثلہ»۔ (الانساب ۵۳/۹)
علامہ ابن جوزی لکھتے ہیں: «و کان ثبتا فہما فقیھا عاقلا»۔ (المنتظم فی تاریخ الملوک والامم ۳۱۸/۱۳)
ابن کثیر لکھتے ہیں: «ھو احد الثقات الاثبات، والحفاظ الجھابذۃ»۔ (البدایۃ والنہایۃ ۱۷۴/۱۱)
اور علامہ ذہبی لکھتے ہیں: «الامام، العلامۃ، الحافظ الکبیر، محدث الدیار المصریۃ وفقیھھا،۔۔۔ من نظر فی توالیف ھذا الامام علم محلہ من العلم، وسعۃ معارفہ»۔ (سیر اعلام النبلاء ۲۷/۱۵)
امام ذہبی تاریخ الاسلام میں لکھتے ہیں: «المحدث الحافظ احد الاعلام»۔ پھر ذہبی نے ابن یونس کے قول کو نقل کیا ہے۔
صلاح الدین صفدی لکھتے ہیں: «کان ثقۃ نبیلا ثبتا فقیھا عاقلا لم یتخلف بعدہ مثلہ»۔ (الوافی بالوفیات ۸/۸، ومثلہ فی تاج التراجم، ص ۱۰۰، وطبقات المفسرین للادنہ وی، ص ۵۹، والجواہر المضیۃ ۱۰۲/۱)
ابن عبد البر فرماتے ہیں: «کان الطحاوی من اعلم الناس بسیر الکوفیین واخبارھم وفقھھم مع مشارکتہ فی جمیع مذاھب الفقھاء»۔ (لسان المیزان ۶۲۰/۱)
یوسف بن تغری بردی لکھتے ہیں: «الفقیہ الحنفی المحدث الحافظ احد الاعلام وشیخ الاسلام،… کان امام عصرہ بلا مدافعۃ فی الفقہ والحدیث واختلاف العلماء والاحکام واللغۃ والنحو، وصنف المصنفات الحسان»۔ (النجوم الزاہرۃ فی ملوک مصر والقاہرۃ ۲۴۰/۳)
علامہ عینی لکھتے ہیں: «امام عظیم ثبت ثقۃ حجۃ کالبخاری ومسلم، وغیرھما من اصحاب الصحاح والسنن، یدل علی ذلک اتساع روایتہ ومشارکتہ ایاھم، بل ھو اثبت منھم فی استنباط الاحکام من القرآن والسنۃ، واقعد منھم فی الفقہ، یصدق ذلک من ینظر فی کلامہ وکلامھم، ویدل علی ذلک ایضا تصانیفہ المفیدۃ»۔ (مقدمۃ نخب الافکار ۷۹/۱)



















