وسطی ایشیا میں دینی روایت کے عروج و زوال اور بقا کی داستان

اللہ تعالی دین کے مراکز کو بدلتا رہتا ہے۔ اور دین کے مرکز کا مطلب وہ جگہ ہے جہاں پر دین کی ایسی محنت ہوتی ہے، جہاں سے پوری امت کے دینی مستقبل اور دینی حال کی رہنمائی اور نگرانی ہو رہی ہوتی ہے۔ وہاں سے وہ پیغام اس جگہ پر محفوظ ہوتا ہے جہاں سے اس نے پورے عالم کو جانا ہوتا ہے اور قیامت کی صبح تک اس نے محفوظ رہنا ہوتا ہے۔

عروج کا دور

مدینہ منورہ سے کوفہ اور بصرہ سے ہوتا ہوا دین ایک زمانے میں نہر کے اس پار چلا گیا — جیحون اور سیحون کی نہروں کے پار — جس کو عربی میں کہتے ہی ’’ما وراء النہر‘‘ ہیں، کہ نہر کے پار کا علاقہ۔ نہر عربی میں دریا اور سمندر کو کہتے ہیں۔ تو ان دریاؤں کے پار کا جو علاقہ ہے، اللہ نے دین بڑی جلدی پہنچا دیا۔ کوئی دوسری تیسری صدی ہجری میں ہی— پہنچ تو پہلی صدی ہجری میں گیا تھا — مرکزِ دین دوسری تیسری صدی ہجری کے اندر بننا شروع ہو گیا۔ اور ایسے ایسے علماء وہاں پر پیدا ہوئے ہیں کہ آج بھی تاریخِ اسلام ان کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ہم مدرسوں میں جو درسِ نظامی پڑھتے اور پڑھاتے ہیں، اس کے تقریباً‌ ستر اسی فیصد مصنفین، کتابیں لکھنے والوں کا تعلق انہی علاقوں سے ہے، جس کو آپ سمرقند و بخارا کہتے ہیں؛ تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور یہ جتنی ریاستیں ہیں، جو وسطی ایشیا کی ریاستیں کہلاتی ہیں۔

اس کے پڑوس میں روس تھا اور روس کے اندر یہودیوں کی ایک بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ ان ریاستوں میں دین کے ایسے مراکز قائم تھے اور یہاں کے مدارس — آج بھی علماء جب جاتے ہیں اور ان کو دیکھتے ہیں — ان کا تاریخ کے اندر ہم تذکرہ پڑھتے ہیں، تو تعجب ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی شانِ بے نیازی کے اوپر، کہ یا اللہ! تیری ذات کتنی بے نیاز ہے ’’اللہ الصمد‘‘ واقعی بے نیاز ہے کہ اس کے نزدیک انسان کے کام اور بظاہر ان کے پھیلے ہوئے نقشے اور ان کے ظاہری مظاہر، ایسے لگتا ہے کہ اللہ کے ہاں اس پر فیصلے نہیں ہیں کہ ضرور اس کا خیال رکھا جائے گا۔ اور اس بات تک خیال رکھا جائے گا کہ چاہے ان لوگوں نے ایک زمانے میں دین کی خدمت کی ہے تو ان کے ساتھ دین کی خدمات کو جوڑ دیا جائے، ایسا ضروری نہیں ہے۔

ان وسطی ایشیائی ریاستوں کی دینی حالت کیسی تھی؟ یہاں کیسے محدثین پیدا ہوئے، یہاں کیسے فقہاء پیدا ہوئے، یہاں کیسے متکلمین پیدا ہوئے:

  • آپ دیکھیں، آج امتِ مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ کلام اور عقیدے میں امام ابو منصور ماتریدیؒ کی تشریح پر یقین رکھتا ہے اور اپنے آپ کو ’’ماتریدی‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ ماترید کا جو گاؤں ہے، یہ بھی سمرقند کے قریب ایک گاؤں ہے، اسی علاقے سے ان کا تعلق ہے۔
  • ہمارے ہاں فقہ حنفی میں، جو دنیا میں ستر اسی کروڑ مسلمانوں کا فقہی مذہب ہے، اس کی سب سے بڑی اور معروف کتاب ’’ہدایہ‘‘ کہلاتی ہے جو مدارس میں پڑھائی جاتی ہے، علامہ مرغینانیؒ کی۔ یہ مرغینان بھی اسی علاقے میں ہے۔
  • ہمارے ہاں ’’شرح الوقایہ‘‘، ’’کنز الدقائق‘‘ وغیرہ پڑھائی جاتی ہیں، یہ بھی انہی علاقوں کے اندر ہیں۔
  • جب ہمارے مدارس کے طلبہ دورۂ حدیث میں پہنچتے ہیں تو یہ بخاری، مسلم، ترمذی وغیرہ پڑھتے ہیں، یہ سارے یہی علاقے ہیں۔ ترمذ تو افغانستان کی سرحد کے بالکل پار ہے؛ افغانستان کی سرحد پر کھڑے ہو کر دیکھیں تو آگے سے نظر بھی آتا ہے اور آپ میں سے شاید کچھ لوگوں نے دیکھا بھی ہو۔

یہاں دین کی کیسی بہار تھی، یہاں کیسے علماء تھے، کیسے فقہاء تھے، کیسے محدثین تھے، کتنے بڑے مشائخِ عظام تھے، ائمہ کرام تھے، صوفیاء تھے! یہ تو ایسی تفصیل ہے جس کو اگر بیان کیا جائے تو بہت وقت لگ جائے گا۔

زوال اور بقا کا دور

لیکن اسی خطے نے پھر دین کی ایک عجیب خزاں بھی دیکھی۔ اور آج وہ لوگ زندہ ہیں اور آج بھی آپ میں سے کوئی جا کر اس خزاں کے آثار دیکھ سکتا ہے۔ جب روس نے ستر سال کے بعد ان علاقوں کو چھوڑا تو علماء کی جو پہلی جماعت وہاں پر گئی، ہمارے مفتی جمیل خان صاحب شہیدؒ اس میں تھے اور دوسرے حضرات اس میں تھے؛ کہتے تھے بلا مبالغہ، وہاں امام مسلمؒ، امام ترمذیؒ، امام نسائیؒ، ابن ماجہؒ اور امام بخاریؒ کی اولادوں کو کلمۂ طیبہ نہیں آتا تھا، کلمہ نہیں پڑھ سکتے تھے وہ لوگ! تو کیسے اتنی بڑی تبدیلی وہاں پر آئی اور اتنا نظام پیچھے گیا؟

اور پھر اس میں سے اللہ جل جلالہ کیسے خیر برآمد کرتا رہا کہ اس حد تک ہوا کہ ان لوگوں کو کلمہ آتا نہیں تھا، پڑھ نہیں سکتے تھے، اپنے بچوں کو پڑھا نہیں سکے، لیکن پھر بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے اور اسلام سے اپنے تعلق کا اظہار کرتے تھے، اگرچہ اپنے اسلام کا ثبوت نہیں دے سکتے تھے۔

اس کی تاریخ اگر آپ اٹھا کے دیکھیں، اس کی بڑی تفصیلات موجود ہیں۔ آج کل ہمارے ہاں وہاں سے طلبہ بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ ہم جب پڑھتے تھے تو ہمارے ساتھ بہت سارے پڑھتے تھے اور ہم کرید کرید کر ان سے ان ملکوں کے حالات پوچھا کرتے تھے۔ آج تک مجھے یاد ہے، ہمارے طالب علمی کے زمانے میں، آج سے آٹھ دس سال پہلے، ہمارے ہاں ایک مختصر سی کتاب ملتی ہے ’’مختصر المعانی‘‘ کے نام سے، تو میں نے وہ ایک طالب علم کو تحفے میں دی۔ تاجکستان کا طالب علم تھا، مجھ سے چھوٹا تھا، پڑھتا تھا مجھ سے۔ میں نے اس کو کتاب تحفے میں دی۔ اس زمانے میں وہ کتاب ہمارے کتب خانوں کے اندر کوئی پچاس یا ساٹھ روپے کی ملتی تھی۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہ کتاب ہمارے ہاں ڈھائی ہزار روپے کی ملتی ہے۔ اس لیے کہ نہ چھپتی ہے، نہ آنے کی اجازت ہے۔ جس طرح اسمگلنگ ہوتی ہے کسی چیز کی، کوئی بستروں کے درمیان چھپا کر، کوئی سامان کے درمیان چھپا کر افغانستان کی سرحد سے اس کو پار لے جائے۔ حالانکہ وہ بلاغت کی کتاب ہے، علمِ معانی کی کتاب ہے۔ اس زمانے میں اس نے مجھے کہا کہ ہمارے ہاں یہ ڈھائی ہزار کی ہے، یعنی یہ اس طرح قیمتی ہے۔ جس طرح ہمارے ہاں مخطوطات بکتے ہیں، مخطوطات یعنی ہاتھ سے لکھے ہوئے نسخے، جس طرح وہ بکتے ہیں، ایسے وہاں دینی کتابیں ملا کرتی تھیں۔

علماء نے لکھا ہے کہ یہ ہوا کیسے۔ میں آپ کو ان ساری صدیوں کے درمیان کا سفر چھوڑ کر، اندلس اور اسپین کے سارے معاملات کو چھوڑ کر، آپ کو میں آپ کے پڑوس میں اس لیے لے آیا ہوں کہ یہاں جو اقدامات ہوئے اور اس کے جو نتائج نکلے، اس کو آپ اپنے آج کے ماحول کے ساتھ ذرا Relate کیجیے اور اس کی Relevancy دیکھیے کیسی ہے۔ وہاں پر کیا کیا گیا، اس کے مراحل کیا تھے؟ اور کیا نتائج برآمد ہوئے؟ آپ اس تاریخ کو سامنے رکھیں، اور پھر اِس مملکت خداداد میں ۱۹۴۷ء سے لے کر آج ۲۰۱۲ء تک کے اس سارے Scenario کو سامنے رکھیں، آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ ایک ہی تاریخ ہے جو دہرائی جا رہی ہے بار بار۔

1- مسلم صفوں میں ’’ادخال‘‘ 

مورخین نے لکھا ہے کہ روس سے یہودیوں کے کچھ گھرانے اٹھ کر تجارت کے نام پر سمرقند و بخارا گئے اور تجارت وہاں پر شروع کی۔ اور جس طرح یہودیوں کی عادت ہے، جس چیز میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو بڑی مضبوطی سے ڈالتے ہیں، پکا ڈالتے ہیں، جن چیزوں پر بھی ان کی اجارہ داری ہے بڑی مضبوط ہے، بہت جلدی ان کا شمار سمرقند و بخارا کے اونچے درجے کے تاجروں میں ہونے لگا۔ انہوں نے پیسہ کمایا۔

مسلمانوں کا نظامِ تعلیم اتنا مضبوط تھا کہ غیر مسلم بچے ان کے اداروں میں پڑھنے کے لیے آتے تھے۔ اس پر تعجب مت کیجیے گا۔ آج آپ کے بچے عیسائی مشنری اداروں میں جاتے ہیں یا نہیں جاتے ہیں؟ ان کا نظامِ تعلیم مضبوط ہے، آپ کے بچے عیسائیوں کے پاس پڑھنے جاتے ہیں۔ صبح صبح فادر ان کو دعا کراتا ہے اور ننز ان کو بتاتی ہیں۔ آج پاکستان کے ہر شہر میں، آپ کے سینکڑوں ہزاروں بچے عیسائیوں کے پاس پڑھنے کے لیے جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک زمانے میں یہ لوگ ہمارے پاس پڑھنے کے لیے آیا کرتے تھے۔ آپ کو تعجب ہو گا، اس لیے میں نے آپ کو آج کی صورتحال بتائی۔

ان یہودی تاجروں کے پاس اپنا نظامِ تعلیم تو تھا نہیں، سمرقند و بخارا کے مدارس پوری دنیا کو علم و حکمت بانٹ رہے تھے، علم و عرفان وہاں سے جا رہا تھا، انہوں نے اپنے بچے انہی مدرسوں میں داخل کرا دیے، انہی تعلیمی اداروں میں داخل کرا دیے، اور ان بچوں نے وہی کچھ پڑھا جو مسلمان بچے پڑھتے ہیں۔ اور اس اختصاص کے بغیر کہ بعضوں کی شناخت ہی نہیں ہو سکی کہ یہ لوگ یہودی ہیں، یہ پتہ ہی نہیں چل سکا۔

جیسے بدقسمتی سے آج بہت سے مسلمانوں کی شناخت نہیں ہوتی کہ یہ مسلمان ہیں۔ ایسے ہی ہے، آج آپ کے صفحہ اول کے لوگوں میں سے ان کے خیالات کے اعتبار سے، ان کی شکل و شباہت کے اعتبار سے، ان کے جذبات کے اعتبار سے، ان کی وفاداریوں کے اعتبار سے کیا شناخت ہوتی ہے کہ یہ مسلمان ہیں؟ کہاں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسلمان ہیں؟ کس طرف سے پتہ چلتا ہے اس بات کا؟ کسی کو ان کے اسلام پر شک ہو جائے تو شک کرنے کے پورے قرائن موجود ہوتے ہیں۔

ایسے ہی ان یہودیوں کے بارے میں، بہت سوں کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا کہ یہ یہودی ہیں یا نہیں ہیں۔ انہوں نے وہاں پر پڑھا اور پڑھنے کے بعد ان تعلیمی اداروں سے نکلے اور باقاعدہ مسلمان علماء کے روپ میں انہوں نے خدمات انجام دینی شروع کیں۔ اور مورخین نے لکھا ہے کہ اس میں سے بعض لوگ بڑے بڑے مفتی بنے اور بعض مفتیوں کے بارے میں آج بھی تاریخ میں ایک سے زیادہ آراء پائی جاتی ہیں، جس میں کہا جاتا ہے کہ اس دور میں جو وہاں مفتی تھے، وہاں کے لوگوں سے پوچھیں گے تو وہ کہیں گے کہ اس پر یہودیت کا الزام ہے۔ فلاں جو مفتی تھا فلاں علاقے کا، اس کے بارے میں یہ شک ہے کہ اس کا تعلق یہودی گھرانے سے تھا۔ جیسے آج بھی یہاں پر ہوا ہے اور بہت سے لوگوں نے اپنے لوگ داخل کیے۔

اور اس کا ایک طریقہ ہے اس کو پہچانے کا۔ دیکھیں، جو شخص علمِ دین کا دعویٰ کرتا ہے اور جو شخص علمِ دین کی طرف منسوب ہے، تو امت کی تاریخ یہ رہی ہے کہ اس کے علم کے آثار کم سے کم اس کی اپنی زندگی پر نمایاں ہونے چاہئیں۔ اس امت نے چودہ سو سالوں میں ربانی علماء بھی دیکھے ہیں، غیر ناجی فرقے بھی دیکھے ہیں، اور دین میں رخنہ اندازی کرنے والے لوگ بھی دیکھے ہیں۔ زندگیوں سے فیصلہ ہوا کرتا ہے۔ اسی لیے علماء کی زندگیاں بہت نمایاں اور ممتاز ہونی چاہئیں کہ ان کے قول کا، ان کی حقانیت کا، ان کی درستگی کا، ان کے راہِ راست پر ہونے کا فیصلہ ان کی زندگیاں کر سکتی ہیں، ان کی باتیں نہیں کرتیں۔ باتیں تو ہر بندہ کر سکتا ہے اور ایک سے بڑھ کر ایک اچھی باتیں کر سکتا ہے۔ فیصلہ تو زندگیاں کرتی ہیں۔

اسی لیے ہمارے ہاں حدیث کی روایات جب کی جاتی ہیں تو راویوں کے احوال بیان ہوتے ہیں، ان کے اقوال نہیں بیان ہوتے۔ رجال کی کتابوں میں راویوں کے احوال بیان کیے جاتے ہیں، ان کی زندگیاں بیان ہوتی ہیں۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں ان کے معاصرین کیا کہتے تھے، ان کے بارے میں ان کے شاگرد کیا کہتے ہیں، ان کے بارے میں عام لوگ کیا کہتے ہیں، ان کے بارے میں ان کے بڑے کیا کہتے ہیں، اساتذہ کیا کہتے ہیں۔ اور ان کی پوری زندگی کے مختلف پہلوؤں سے ان کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے بیان کے قابل ہے یا نہیں ہے۔ یہ Criteria امتِ مسلمہ نے رکھا ہے اور اس پر وہ پرکھتی چلی آ رہی ہے۔

آج ہم سے یہ پیمانے بھی گڈمڈ کیے جا رہے ہیں۔ آج ہم جن لوگوں سے دین سن رہے ہیں اور آج جن لوگوں کی دینی تشریح و تعبیر ہمارے کانوں میں ٹھونسی جا رہی ہے —ہم سن نہیں رہے، زبردستی ٹھونسی جا رہی ہے — اور ہمیں ان کی تشریح و تعبیر کا قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہ سارے کے سارے وہ لوگ ہیں کہ خود ان کی زندگیاں ان کے دینی تصورات کا کھلا مذاق اڑا رہی ہیں۔

پہلا مرحلہ ’’ادخال‘‘ کا ہوا کہ علماء کی صفوں کے اندر ایسے لوگوں کو داخل کیا جائے جو ربانی علماء نہ ہوں، جو مخلصین نہ ہوں۔ 

2- رفاہی کاموں کا جال اور روشن خیالی کا فریب

دوسرے مرحلے میں روس نے ان ریاستوں کے ساتھ ایسے تعلقات کی بِنا رکھی جس میں ان کے ہاں رفاہی کاموں کو شروع کیا گیا۔ وہ آج کل کا دور نہیں تھا کہ این جی اوز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے کام کیا جاتا۔ زارِ روس کا زمانہ تھا۔ براہ راست ان ریاستوں کو بتایا گیا کہ آپ معدنی وسائل سے مالامال ہیں، آپ کے ہاں پٹرول ہے، گیس ہے، قدرتی وسائل ہیں، جنہیں آپ نکال نہیں سکتے اور اپنے کام میں نہیں لا سکتے۔ ہم آپ کو نکال کر دیتے ہیں، ہمیں آنے کی اجازت دیں، اپنے معاشرے میں پھلنے پھولنے اور پھیلنے دیں، ہم آپ کا معیارِ زندگی بلند کریں گے۔

میں چاہوں گا کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں، آپ تاجکستان اور ازبکستان کے ماحول سے نکل کر ہمارے اِس ماحول میں ان باتوں کو سنیے اور ان کو سمجھیے۔ اپنے نقشے کو سامنے رکھیں۔ ان سے کہا گیا کہ ہم آپ کا معیارِ زندگی بلند کریں گے، آپ کے قدرتی وسائل، آپ کی گیس، آپ کا پٹرول، آپ کا کوئلہ اور آپ کے معدنیات ہم نکال کر آپ کو دیں گے، آپ کی خدمت کریں گے۔ ہم تو خدمت خلق کے لیے آئے ہیں، آپ کا معیارِ زندگی بلند کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کے لیے تعلیمی ادارے بنانا چاہتے ہیں، آپ کے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں، آپ کی صحت کی ہمیں بڑی فکر ہے، ہم آپ کے لیے ہسپتال بنانا چاہتے ہیں، ویکسینیشن کی مہمیں چلانا چاہتے ہیں۔ اور یہ سارا مقاصد ہیں۔

اُس دور میں، آپ اس کی تاریخ اٹھا کے دیکھیں کہ علماء منع کرتے رہے اور بتاتے رہے کہ یہ لوگ، یہ سرخ بھیڑیے اگر تمہارے ملک میں داخل ہو گئے، آئیں گے تمہاری مرضی سے، جائیں گے اپنی مرضی سے، تم سے تمہاری قیمتی متاع لوٹ کر لے کر جائیں گے۔ علماء پر دقیانوسیت کا، رجعت پسندی کا، پرانے زمانے کے خیالات کے حامل ہونے کا، نئی روشنی سے بے خبر ہونے کا، معتدل اور اعتدال پسند اور روشن خیال نہ ہونے کا الزام لگایا گیا۔ یہ باتیں تاجکستان اور ازبکستان میں کی گئیں۔ کہا گیا کہ یہ علماء تو دشمن ہیں ترقی کے، یہ خود بھی پسماندہ اور دقیانوس ہیں اور ساری قوم کو پسماندہ اور دقیانوس رکھنا چاہتے ہیں، ان سے لوگوں کی ترقی برداشت نہیں ہوتی۔ اُدھر دیکھو کیسی کیسی چیزیں لا رہے ہیں وہ لوگ، دیکھیں کیسے ہماری چیزیں نکال کر ہمیں دے رہے ہیں، دیکھیں کیسے تعلیمی ادارے بنا رہے ہیں، دیکھیں کیسے صحت کے منصوبے چلا رہے ہیں۔ تو اس کے نتیجے میں روس کو اس مملکت میں پورے طور پر اندر داخل ہونے کا موقع ملا، لوگوں کو علماء کا دشمن بنا دیا گیا۔

آج پاکستان کے جو علاقے اپنی مشرقی روایات سے بہت زیادہ Attach ہیں، جیسے کوہستان ہے، یہاں پر اگر کوہستانی عالم بیٹھے ہوئے ہیں یا کوئی دیندار آدمی بیٹھے ہوئے ہیں، آپ کبھی ان سے پوچھیں کہ ان کے علاقوں کی صورتحال کیا ہے اور وہاں پر این جی اوز اس وقت کیا کر رہی ہیں؟ مقامی آبادی روز بروز علماء سے کتنی متنفر ہو کر این جی اوز کے دامن میں جا رہی ہے کہ جو لوگ ہمیں پانی پلانے کے لیے آنا چاہتے ہیں، جو لوگ ہمیں ٹیکے لگانے کے لیے آنا چاہتے ہیں، جو لوگ ہمارے لیے کنویں کھودنے کے لیے آنا چاہتے ہیں، جو ہمارے بچوں کو پڑھانے کے لیے آنا چاہتے ہیں، جو ہمارے لیے پل اور سڑکیں بنانے کے لیے آنا چاہتے ہیں، علماء کو ان سے کیا تکلیف ہے؟ یہ کیوں کہتے ہیں کہ ان لوگوں کا راستہ روکو اور اپنا معاشرہ ان کے حوالے مت کرو اور اپنے معاشرے کی باگیں ان کے ہاتھ میں مت دو؟ ہمیں لوگ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس صرف باتیں کرنے کے لیے ہیں، وہ تو ہمارے کام کر رہے ہیں۔

اس کے لیے اگر کبھی آپ کو موقع ملے تو دیکھیں کہ یہ اسرائیل کیسے قائم ہوا اور فلسطینیوں سے ان کی زمینیں کیسے خریدی گئیں؟ اور اس زمانے میں علماء کے فتوے کیا تھے؟ جب فلسطینی اپنی زمینیں یہودیوں کو بیچ رہے تھے تو علماء کیا کہہ رہے تھے؟ اور اس کے جواب میں اس زمانے کے روشن خیال لوگ ہمیں کیا کہہ رہے تھے؟ جب ہم کہہ رہے تھے کہ یہ زمینیں مت بیچو، جائز نہیں ہے زمینیں بیچنا۔ ہندوستان کے علماء نے فتویٰ دیا کہ یہ زمینیں بیچنا جائز نہیں ہے یہودیوں کو۔ کہا گیا کہ آپ کوئی سوشلسٹ ہیں؟ آپ لوگ اسلام کے ملکیت کے تصور کو نہیں مانتے؟ ایک آدمی مالک ہے اپنی زمین کا، اس کی مرضی ہے یہودی کو بیچے یا عیسائی کو بیچے۔ آج یہ ریاست انہی زمینوں کے اوپر قائم ہے۔ 

یہی حال تاجکستان میں ہوا تو روس کو نفوذ کا موقع ملا۔ اس نے اتنا نفوذ پا لیا اور پورے معاشرے کی اپنے ہاتھ میں اتنی گرپ لے لی کہ اس کو اپنی فوجیں داخل کرنے میں کوئی تامل اور کوئی مزاحمت ہی پیش نہیں آئی، بڑی آسانی کے ساتھ اس کی فوجیں داخل ہوئیں۔ اور یہ دوسرا مرحلہ تھا، پہلے مرحلے کے بعد۔

3- سرخ انقلاب اور علماء کی نسل کشی

تیسرے مرحلے میں علماء کی باقاعدہ نسل کشی شروع ہوئی۔ چن چن کر علماء کو مارا گیا۔ اور آپ حیران ہوں گے کہ جو جو طریقے آزمائے گئے۔ بالکل مستند اور Authentic ذرائع سے آپ اس کی معلومات کیجیے۔ علماء کو لے جا کر باقاعدہ کشتیوں میں بٹھا کر، بھرے ہوئے بڑے بڑے جہازوں میں بٹھا کر جہازوں کو ڈبو دیا گیا۔ سائبیریا میں لے جا کر چھوڑ دیا گیا۔ علماء کی جماعت نے، جو لوگ نکل کر آئے اور بتایا کہ سائبیریا کے برف زاروں میں لے جا کر زندہ چھوڑ دیا گیا وہاں پر۔ اور اتنا وہ برفستان ہے کہ اگر وہ رک جائیں اور کھڑے ہو جائیں تو ادھر ہی جم جائیں۔ ان کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ چلتے رہیں۔ اگر چلتے رہیں گے تو جسم کی حرارت سے زندہ رہیں گے۔ لیکن کھائیں گے کیا؟ کہتے ہیں ادھر ہی چلتے چلتے، جیسے سائبیریا کا ماحول ہے، اوپر برف جمی ہوتی ہے نیچے دریا بہہ رہے ہوتے ہیں، برف پر مکا مار کر پانی توڑ کر نیچے سے مچھلیاں پکڑ کر زندہ مچھلیاں کھاتے تھے اور چلتے رہتے تھے۔ اگر رکتے ہیں تو جمتے ہیں۔ اس حال کے اندر گرتے پڑتے کچھ مر گئے، وہیں دفن ہو گئے۔ اور کچھ اس برف زار جہنم سے نکلنے میں کامیاب ہوئے جنہوں نے یہ پوری داستان بیان کی ہے۔

اور یہ واقعہ تک موجود ہے ریکارڈ پر کہ علماء کو دو علاقوں سے ٹرینوں کے اندر بٹھایا گیا، ایک ٹرین وہاں سے بھری گئی، دوسری ٹرین یہاں سے بھری گئی، دونوں کو ایک ہی پٹری پر چلایا گیا، اور جب وہ ٹرینیں پوری رفتار کے ساتھ چلتی ہوئی ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرائیں تو سارے کے سارے وہاں کٹ گئے، کچھ ساری عمر کے لیے معذور ہو گئے، باقی مر گئے۔ ایسے واقعات بھی وہاں پر نسل کشی کے لیے پیش آئے۔

اور یہ صرف یہاں پر نہیں ہوا، آپ ترکی میں دیکھیں مصطفیٰ کمال نے کیا کیا، (مصر میں) حسنی مبارک نے کیا کیا، (شام میں) حافظ الاسد نے کیا کیا، آپ کبھی اس کی داستان اٹھا کے دیکھیں۔ چالیس چالیس ہزار، پینتالیس پینتالیس ہزار لوگ ایک دن کے اندر شہید کیے گئے ہیں، دینداروں کے مدرسوں پر بمباریاں کی گئی ہیں؛ اس کے ذریعے سے پورے معاشرے سے ان کے نفوذ کو ختم کیا گیا۔ جو بندہ ان کے خیال میں ان کے قابو میں نہیں آتا تھا، اسے ختم کر دیا گیا، یہ تیسرا مرحلہ تھا۔

4- دینی روایت کے خلاف سات بڑے اقدامات

چوتھے مرحلے پر کچھ اقدامات ہوئے۔ جب ظاہر بات ہے علماء ختم ہو گئے اور تجارت و معیشت ان کے ہاتھ میں آ گئی اور رفاہی کام ان کے ہاتھ میں آ گئے تو جو اقدامات کیے گئے، وہ سات بڑے بڑے اقدامات ہیں جو میں آپ سے عرض کروں گا۔

(1)  قرآن پاک پر پابندی

پہلے مرحلے میں قرآن پر پابندی لگائی گئی۔ باقاعدہ مصحف پر پابندی۔ قرآن پاک کا نسخہ کوئی انسان اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتا تھا، اس کا کوئی صفحہ نہیں رکھ سکتا تھا، اس کی سطر لکھ کر نہیں رکھ سکتا تھا، بالکل پوری کی پوری پابندی۔ آپ کو یاد ہوگا اور آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب یہ ریاستیں آزاد ہوئی تھیں تو یہاں کراچی سے لاکھوں کی تعداد میں قرآن پاک چھاپ کر وہاں پر لے جائے گئے تھے۔ تو کیا ضرورت تھی کہ قرآن چھاپ کر ایک مسلمان ملک میں لے جائے جا رہے ہیں؟ ’’بضاعتنا ردت الینا‘‘۔ اور اللہ کی شانِ بے نیازی دیکھیں کہ مصحف چھپ کر بت کدۂ ہندوستان سے بخاریؒ اور مسلمؒ کے دیس میں جا رہے ہیں! اللہ کی شانِ بے نیازی دیکھیں۔ بخاریؒ اور مسلمؒ کی اولادوں کو ہندی مسلمانوں کی جانب سے مصحف کے تحفے جا رہے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے جو تمہارے ہاں سے ہمارے ہاں آیا تھا۔ اور قرآن کے یہی الفاظ کہ ’’بضاعتنا ردت الینا‘‘ ہماری پونجی ہمیں لٹائی جا رہی ہے۔

(2) رسم الخط کی تبدیلی

اس کے بعد رسم الخط کو تبدیل کیا گیا۔ یہ فارسی رسم الخط میں لکھا کرتے تھا، فارسی رسم الخط عربی رسم الخط ہی ہے، اس کو رشین بنایا گیا تاکہ نئی نسلیں کسی بھی صورت میں قرآن کو پڑھ نہ سکیں۔ کوئی عربی کتاب، کوئی قرآن و حدیث کی چیز اگر ان کے گھروں کے اندر موجود ہے تو یہ اس کو سمجھ نہ سکیں۔

(3)  حجاب پر پابندی

خواتین کے حجاب اور نقاب پر باقاعدہ پابندی لگی۔ اور آپ اخبارات اٹھا کر دیکھیں کہ پولیس والے چوراہوں کے اوپر کھڑے ہوتے تھے جو لڑکیوں، بچیوں اور ماؤں کے چہروں سے نقاب نوچتے تھے۔ اور قینچیاں ہاتھ میں رکھتے تھے اور ان کے لمبے بالوں کو کاٹتے تھے۔ یہ منظر آپ دیکھیں کہ اسلامی ملک میں بچیوں کے چہروں سے نقاب نوچے جا رہے ہیں اور جس کے لمبے بال نظر آ رہے ہیں، کٹے ہوئے بال نہ ہوں، اس کے بال کانوں تک کاٹے جاتے تھے۔ چوراہوں کے اوپر چٹیاں پڑی ہوتی تھیں کٹی ہوئی اور نقاب پڑے ہوئے ہوتے تھے نوچے ہوئے، باقاعدہ یہ منظر وہاں پر ان چوراہوں پر دیکھا گیا۔

(4) اخلاقی بے راہ روی کا نصاب

اخلاقی بے راہ روی کو اس حد تک عام کر دیا گیا تھا، آپ اس زمانے کے نصاب کی کتابوں میں پڑھ لیں، ایسی تعلیمات ہیں  کہ اگر تمہیں بھوک لگتی ہے تو تم کھانا کھاتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے، اگر تمہیں پیاس لگتی ہے تو تم پانی پیتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے، اگر تمہیں نیند آتی ہے تو تم سوتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے، تو اگر تمہارے جسم میں کوئی شہوانی جذبہ پیدا ہو تو اس کو پورا کرتے ہوئے تمہیں شرم کیوں آتی ہے؟ اس میں شرمانے کی کیا بات ہے؟ جس طرح اپنے جسم کی باقی ضروریات پوری کرتے ہوئے تمہیں حیا نہیں آتی، تمہیں اس میں کوئی جھجک نہیں ہوتی، تمہیں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی، تو اِس میں کیا رکاوٹ ہے؟ یہ بچوں کو پڑھایا جاتا تھا، یہ نصاب کا حصہ تھا، اس زمانے کی کتابیں اٹھا کر دیکھیں۔

(5)  سرکاری ریڈیو اور موسیقی کا جبر

موسیقی کی ترویج پانچویں چیز تھی۔ گھر میں ایک باقاعدہ سرکاری ریڈیو تھا جس کا لائسنس لینا ہر فرد کے لیے لازمی تھا۔ اس زمانے میں ٹی وی نہیں آیا تھا۔ ہر گھر میں ایک ریڈیو سیٹ رکھنا اور اس کا لائسنس لینا ضروری قرار دیا گیا تھا اور چوبیس گھنٹے وہ ریڈیو آن رہے گا۔ اگر پولیس والا گشت کے دوران دیکھے کہ آپ نے ریڈیو بند کیا ہے، تو وہ آئیں گے اور آپ کو پکڑ کر لے جائیں گے۔ اس پر سارا دن موسیقی چلتی تھی، بے ہودگی اور بد اخلاقیاں چلتی تھیں۔ چونکہ اس قوم کے مزاج کو مکمل بدلنا تھا اور اس کے لیے بڑی سخت محنت کی ضرورت تھی۔ اس محنت کی شاید امریکہ اور لندن میں ضرورت نہ پیش آئے کسی کو، لیکن یہاں چونکہ اسلام بالکل راسخ تھا ان کی جڑوں کے اندر، اس کو وہاں سے وہ کھینچ کر نکالنا چاہتے تھے۔ اس لیے یہ موسیقی کی ترویج ہوئی۔

آپ اپنے معاشرے کے ساتھ ان سارے اقدامات کو Relate کرتے چلے جائیے۔ ایک فرق کے ساتھ کہ جبر کے ذریعے ایسا کرنے کے چونکہ نتائج نہیں نکلے، اس لیے اب جبر کے ذریعے یہ کام نہیں ہو رہے، بلکہ برضا و رغبت کیے جا رہے ہیں۔ اس کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ اس لیے کہ جبر نے نتائج نہیں دیے۔ اب آپ کو یہ چیزیں Sugar-coated کر کے، چینی میں لپیٹ کر دی جا رہی ہیں۔ اور آپ خود برضا و رغبت کر رہے ہیں اپنے گھروں کے اندر، کسی کو آپ پر مسلط ہونے کی ضرورت نہیں ہے اس کے لیے۔

(6)  سستی شراب کی فراہمی

شراب کو اتنا عام کیا گیا تھا، اس زمانے کے اخبارات بتاتے ہیں کہ سوڈے کی بوتل چار روبل کی تھی اور شراب کی بوتل دو روبل کی تھی۔ آج کل پیپسی کتنے کی ہوتی ہے؟ گویا پیپسی کی بوتل بیس روپے کی تھی اور شراب کی بوتل دس روپے کی تھی۔ اور یہ ’فضائل‘ بھی سنائے جاتے تھے کہ یہاں بڑی سردی ہے، سردی میں جسم گرم رکھنے کے لیے شراب بڑی ضروری ہے۔ یہ معدے کو تقویت پہنچاتی ہے، جسم گرم کرتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اتنا عام کر دیا گیا تھا کہ گلی گلی کے اندر جو چیز موجود تھی وہ گھر گھر کے اندر پہنچ گئی۔

(7)  حرام گوشت کی ترویج

حرام چیزوں کو عام کر دیا گیا۔ خنزیر کا گوشت اور ساری وہ چیزیں جو اسلام میں حرام ہیں، ان کو بازاروں میں عام اور انتہائی سستا کیا گیا۔ کہتے ہیں کہ خنزیر کے گوشت کا کباب سمرقند و بخارا میں اتنا سستا تھا کہ اس سے زیادہ کھانے پینے کی کوئی چیز سستی نہیں تھی۔ اور ذبیحہ کی اجازت نہیں تھی، اگر چوری چھپے کہیں پر ذبیحہ ہو اور اس کا گوشت بازار میں پہنچے، تو اس کی اتنی ہوشربا قیمت ہوتی تھی کہ کوئی آدمی اس کو خریدنے کا تصور ہی نہیں کر سکتا تھا۔ تو جب ویسے ہی ساری چیزیں ان کی تائید میں ہو چکی تھیں تو پھر سور کا گوشت کھانے میں بھی کسی کو کوئی تامل نہیں تھا۔ سور کے گوشت کے کباب پورے سمرقند و بخارا کے بازاروں میں عام بھنتے تھے، جیسے آج ہمارے ہاں دوسرے گوشت کے کباب اور باربی کیو بھن رہا ہوتا ہے۔

یہ پورا کا پورا ماحول بنا دیا گیا۔ اس ماحول میں آپ یقین کریں کہ بچوں کے اسکولوں میں اساتذہ کو KGB کو رپورٹ دینی ہوتی تھی کہ اس سال کی رپورٹ بتاؤ کہ تمہاری کلاس میں کون سا بچہ ہے جس کو ’’بسم اللہ‘‘ آتی ہے، یا اس کو ’’الحمد للہ‘‘ آتی ہے، یا اس کو عربی کا کوئی جملہ آتا ہے؟ اس بچے کا نام دینا استاد کی ذمہ داری تھی اور جیسے ہی اس کا پتہ چلتا تھا، اس کے سارے گھر والے پابند سلاسل ہو جاتے تھے۔ اس کا باپ تو عام طور پر پھانسی چڑھا دیا جاتا تھا۔ یہ بات خود وہاں کے علماء، وہاں کے لوگ بتاتے ہیں، آپ کبھی یہ داستان وہاں کے کسی بوڑھے سے سنیں جس نے وہ دور دیکھا ہو، یا اپنے باپ سے یہ ساری کی ساری باتیں اس نے سنی ہوں۔ ان حالات میں بھی وہ لوگ مسلمان رہے ہیں۔

5- بقائے دین کی خفیہ جدوجہد

آپ ذرا تھوڑی دیر کے لیے ان پابندیوں کو اپنے اوپر لا کر دیکھیے، تو ان حالات کے اندر بھی وہ لوگ مسلمان رہے ہیں۔ وہاں کے علماء سے لوگوں نے پوچھا۔ ایک بہت بڑے عالم یہاں سے گئے تھے، انہوں نے اپنے سفرنامے میں لکھا کہ میں نے وہاں کے مفتی سے پوچھا کہ تم لوگ کیسے قرآن و حدیث کے عالم رہ گئے، اس سب کے باوجود؟ اس نے کہا کہ میرا والد عالم تھا، جیسے ہی یہ سرخ انقلاب آیا، تو میرے والد نے اپنے آپ کو ایک جاہل انسان بنا دیا۔ وہ کوئی مشہور عالم نہیں تھے کہ ان کے علم کی شہرت ہوتی، تو میرے والد کو ناخواندہ لوگوں کی فہرست میں لکھا گیا۔ اور چونکہ سوشلزم آ گیا تھا تو ساری چیزیں سرکار کی ملکیت ہو گئی تھیں، تو میرے والد اٹھارہ گھنٹے سرکاری کھیتوں میں ٹریکٹر چلایا کرتے تھے۔ اٹھارہ گھنٹے مزدوری کرنے کے بعد جب گھر آتے تھے، تو آتے ہی مجھے پڑھایا کرتے تھے۔ کہتے ہیں، لیکن جب میں چھوٹا تھا تو میرے والد جب گھر پر آتے تھے اور ان کو نماز پڑھنی ہوتی تھی تو میری ماں سے کہتے تھے کہ اس کو کسی اور کام میں لگاؤ، اس کو چائے پلاؤ، اس کو باورچی خانے میں بٹھاؤ، میری نظروں سے اوجھل کرو تاکہ میں چپکے سے نماز پڑھ لوں۔ تو کہتے ہیں مجھے میری ماں اِدھر اُدھر کرتی تھی، پھر میرا باپ نماز پڑھتا تھا۔ کیونکہ جب میں گھر کے باہر کھڑا ہوتا تھا تو پولیس والا آتا تھا، مجھے دو ٹافیاں دے کر پوچھتا تھا کہ بیٹا! تیرا باپ نماز پڑھتا ہے گھر کے اندر؟ تو میں کہتا تھا کہ نہیں پڑھتا، کیونکہ میں نے پڑھتے ہوئے دیکھا نہیں تھا۔ تو اس حد تک آ کر گھروں پر جانچ ہوتی تھی کہ تیرا باپ نماز پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا۔ اور بچوں سے باقاعدہ پوچھا جاتا تھا کہ تمہارے گھر میں کیا ہوتا ہے۔

پوچھا کہ پڑھاتے کیسے تھے؟ بچوں کو کیسے پڑھایا، کلمہ کیسے سکھایا، قرآن کیسے سکھایا؟ اس حال کے اندر بھی کچھ لوگ عالم بنے، پڑھنے پڑھانے کا نظام اندرونِ خانہ چلتا رہا۔ اس عالم نے بتایا کہ ہمارے علاقے میں ہم نے ایک ہال بنایا اور اس کے چاروں طرف کمرے بنائے، اور اس ہال میں چھ مہینے کا کھانا پینا اور خشک چیزیں ذخیرہ کی گئیں۔ استاد اور شاگرد، قرآن پڑھنے پڑھانے والے اس کے اندر چلے جاتے تھے۔ اور جہاں سے اس کو بند کرنا ہوتا تھا، وہاں پر لکڑی کا فریم لگایا جاتا تھا، لکڑی کے فریم کے باہر الماری لگائی جاتی تھی اور اس الماری میں شراب کی بوتلیں رکھی جاتی تھیں، اس کے اندر بے راہ روی کی تصویریں رکھی جاتی تھیں، اور اس باہر کے کمروں کا سارا ماحول ایسے بنایا جاتا تھا جیسے یہ انتہائی بدقماشوں کا گھر ہے۔ تو جب کبھی اس گھر پر چھاپا پڑتا تھا یا تفتیش والے لوگ آتے تھے اور چاروں طرف کمرے دیکھتے تھے تو ان کو گندی تصویریں نظر آتی تھیں، گندے رسالے نظر آتے تھے، ان کو شراب کی بوتلیں نظر آتی تھیں، تو وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ان باہر کے کمروں کی دیواروں کے پیچھے ایک ہال ہے اور اس ہال میں علماء اور طلبہ بیٹھ کر قرآن پاک یاد کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہاں ہم قرآن یاد کرتے تھے۔ اور مائیں انہی گھروں کے اندر چھ چھ مہینے اپنے بچوں کو نہیں دیکھتی تھیں، وہ دیواروں کے پیچھے ہوتے تھے۔ وہ بچہ جو ایک حرف عربی کا نہیں پڑھ سکتا تھا، اس کو چھ مہینے بعد نکالا جاتا تھا تو بعض پورے پورے قرآن کے حافظ ہوتے تھے۔ وہاں اس طریقے سے انہوں نے اس دین کو محفوظ رکھا ہے۔

آپ بتائیں، کوئی اور مذہب اپنے بچاؤ اور اپنے بقا کے لیے ایسی مزاحمت کر سکتا ہے؟ مولانا ابو الحسن علی ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ یہ آزمائشیں کسی اور مذہب پر آتیں تو اس کا اپنا وجود اور اپنی بقا قصہ پارینہ ہو جاتا۔ اسلام کے قلب و جگر پر جو حملے ہوئے ہیں اور اسلام کو کھرچ کھرچ کر لوگوں کے دلوں سے نکالنے کی جو کوشش ہوئی ہے، اس کے باوجود وہ ریاستیں آج پھر آزاد ہیں اور پھر ان ریاستوں کے اندر علماء کی آمد و رفت ہے۔ آج ہمارے کراچی کے کتنے احباب ان ریاستوں میں مدارس چلا رہے ہیں۔ کرغزستان میں اور اِدھر اُدھر لوگ پڑھ رہے ہیں۔ اور ان کے بچے پڑھنے کے لیے ہمارے مدارس میں آئے ہوئے ہیں۔ وہ پوری دنیا میں جا رہے ہیں پڑھنے کے لیے۔ یقین کیجیے میں آپ کو ستر سال کے اس جبر کی پوری تفصیلات نہیں بتا سکا۔ پوری تفصیل آپ کے سامنے ہو اور پھر آپ دیکھیں کہ پھر بھی دین زندہ رہا، پھر بھی وہاں پر اسلام زندہ رہا، پھر بھی وہاں پر قرآن زندہ رہا، پھر بھی وہاں پر لوگ مسلمان رہے۔ باوجود ان ساری کوششوں کے۔ سخت جان ہے یہ مذہب۔ 

اللہ کا فیصلہ ہے ’’ان الدین عند اللہ الاسلام‘‘ (اٰل عمران ۱۹) اللہ نے طے کیا کہ دین جو ہے، اللہ کے نزدیک وہ اسلام ہے۔ ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ (الحجر ۹) اللہ فرماتے ہیں کہ خود نازل کیا ہے، حفاظت بھی میں خود کروں گا۔ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نبی کو بھیجنے کا مقصد یہ تھا ’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون‘‘ (الصف ۹) جس نے نبی کو بھیجا ہدایت کے ساتھ اور دینِ حق کے ساتھ کہ سارے ادیان پر، سارے نظاموں پر، ساری ترتیبوں پر محمدِ عربی کا کلمہ اور اس کا نظام غالب ہو کر رہے، اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمدِ عربی کو بھیجا ہی اس لیے ہے، بھیجنے کا مقصد ہی یہ ہے۔

تو ان پھونکوں سے یہ چراغ نہیں بجھائے جاتے۔ دین کے معاملے میں ہر دور میں اہلِ عزیمت نے اور اہلِ علم نے اس چیلنج کو قبول کیا ہے۔ اگر دین کا پیغام پہنچانا قابلِ گردن زدنی جرم ٹھہرے تو اس کو قبول کیا جائے گا؟ اگر کسی بھی دور کے علماء نے اس آزمائش کے مقابلے میں خاموشی کا فیصلہ کیا اور انہوں نے طے کر لیا کہ بس اب دور نہیں رہا دین کی بات کرنے کا، اب دور نہیں رہا قرآن کا پیغام پہنچانے کا، اب دور نہیں رہا محمدِ عربی کی باتیں پہنچانے کا، اگر یہ فیصلہ کسی دور میں ہوا تو یقیناً‌ وہ قیامت کا زمانہ ہوگا، جب امت پر تکلیف ختم ہو جائے گی اس کے بعد، یعنی مکلف نہیں رہے گی امت اس کے بعد، تب یہ فیصلے ہوں گے۔ جب تک لوگوں نے آنا ہے، زمانے نے آنا ہے، یہ بات چلے گی اور آگے بڑھے گی۔ ہر دور میں یہ بات آگے بڑھتی ہے۔

پیغامِ حق کی قیمت اور ہمارا محاسبہ

آپ سے ایک آخری بات میں عرض کر کے بات ختم کروں گا۔ بات طویل بھی ہو گئی کہ موضوع ہی ایسا تھا۔ آپ سارے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان علماء کو بہت سنا ہے جو آج ہمارے درمیان نہیں۔ آپ میں سے بہت سوں نے حضرت مفتی نظام الدین صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ کو بھی سنا ہوگا۔ آپ لوگوں نے حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمٰن صاحب شہید رحمۃ اللہ علیہ کو بھی سنا ہوگا، آپ نے مولانا سعید احمد صاحب جلال پوری رحمۃ اللہ علیہ کو بھی سنا ہوگا، آپ نے مفتی جمیل خان صاحب شہید مرحوم کو بھی دیکھا ہوگا، اور مولانا اسلم شیخوپوری صاحب شہید کی تو یہ مسند ہے جہاں پر ہم بیٹھے ہیں، انہی کے حوالے سے یہ ساری چیز میں ذکر کر رہا ہوں۔

انہوں نے تو یہ قیمت ادا کی آپ تک پیغام پہنچانے کی۔ اور تو ان کا کوئی جرم نہیں تھا، یقینی بات ہے۔ اگر ان کی زندگی کے اوپر فرد جرم عائد کریں تو سوائے ان باتوں کے، جو آج آپ سے ہو رہی ہیں، اس کے علاوہ تو کوئی اور جرم نہیں تھا۔ کسی کے ساتھ کوئی کاروباری لین دین نہیں تھا، کسی کے ساتھ کوئی اور مزاحمت نہیں تھی، ان کی دعوت میں تو کسی کے ساتھ ٹکراؤ بھی نہیں تھا، کسی کے ساتھ گالی گلوچ نہیں تھی، کسی کو برا بھلا کہنا نہیں تھا۔ ایک قرآن کا بیان تھا، قرآن کی آیتیں پڑھ کر لوگوں کو اس کا مطلب سمجھانا تھا، دین کی حقانیت کا بیان تھا۔ پیغام پہنچانے والا تو پیغام پہنچانے کی اتنی بڑی قیمت ادا کرے۔ آپ کو یاد ہے مولانا یہاں پر کیا کہا کرتے تھے؟ اللہ غریق رحمت کرے، آج یہاں آتے ہوئے مجھے وہ نئے سرے سے بہت زیادہ یاد آئے۔ اسی نشست پر آپ نے ان کو کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ آپ کے پاس ہم لوگ جو آتے ہیں اور اپنے گھروں سے جب نکلتے ہیں تو اپنے بچوں پر آخری نگاہ ڈال کر نکلتے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ ان کو پتہ نہیں ہے کہ یہ قیمت ہمیں ادا کرنی ہے۔ جو لوگ آپ کے سامنے آ کر بیٹھتے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ ان کو پتہ نہیں ہے کہ اس کی قیمت کیا ہے اور کیا ادا کرنی پڑے گی، لیکن یہ قیمت ادا کرنے پر وہ تیار ہیں۔ 

پیغام پہنچانے والا تو یہ قیمت ادا کر رہا ہے، سننے والے نے کیا کیا ہے؟ یقین جانیں، میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ جس دن نبی آواز لگائیں گے نا کہ ’’یا رب ان قومی اتخذوا ہذا القرآن مہجورا‘‘ (الفرقان ۳۰) قرآن کہتا ہے کہ نبی قیامت کے دن اللہ کے دربار میں دہائی دیں گے کہ یا اللہ! میری اس قوم نے —اگر میں ترجمہ نہ کروں، ترجمانی کروں، تو — میری اس قوم نے قرآن کا حق ادا نہیں کیا، جس کتاب کو میں نے ان تک پہنچایا، میری قوم نے اس کو سینے سے نہیں لگایا۔ اگر یہ شہید علماء قیامت کے دن اپنی خون آلود داڑھیوں اور خون آلود لباس کے ساتھ اٹھیں اور آپ سے پوچھیں کہ تم تک دین کی بات پہنچانے کے جرمِ بے گناہی پر ہم نے تو یہ قیمت ادا کی، تم نے کیا کیا؟

https://youtu.be/kCW5TMAaBVs

سیرت و تاریخ

(الشریعہ — اگست ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اگست ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۸

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۴)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۱)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

محاضراتِ فقہ (۳)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۴)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۸)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

کیا خدا کو ڈھونڈنا آج زیادہ مشکل ہے؟
مولانا سیف الرحمٰن ادیب

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۵)
محمد سراج اسرار

امام طحاوی رحمہ اللہ کے مختصر حالات
مولانا مفتی رضاء الحق
مولانا محمد عثمان بستوی

عورت کا حقِ مہر و ملازمت: شرعی حقیقت اور رائج تصورات
مفتی سید انور شاہ

فیمنزم اور شاہ ولی اللہ کے عمرانی افکار
مولانا غالب شمس قاسمی

زکوٰۃ سے متعلق دو اہم استفسار
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

A Proven Path to Conquering Physical Limitations
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

رجوع الی اللہ — جشنِ آزادی کی اصل روح
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

سیاسی سفر اور ملکی و عالمی معاملات پر نقطۂ نظر
مولانا فضل الرحمٰن

اسلام کے سیاسی نظام پر کتب
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مذہب، قانون اور جذبات
خورشید احمد ندیم

پاکستان کے لیے سعودی عرب کی حفاظت کا اعزاز
مولانا مفتی عبد الرحیم
مفتی عبد المنعم فائز
مولانا عبد الودود

وسطی ایشیا میں دینی روایت کے عروج و زوال اور بقا کی داستان
مفتی سید عدنان کاکاخیل

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۲)
حافظ مجددی

تلاش

شماریات