حنفی اصولی منہج (۴)

فقہی جزئیات سے اصولی قواعد کا استخراج اور فقہ و اصول کا باہمی ارتباط

اب میں امام سرخسی رحمہ اللہ کی اس کتاب سے چند چیزیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، جو اصولِ سرخسی کے نام سے مشہور ہے، ویسے تو نام اس کا ’’تمہید الفصول فی الاصول‘‘ انہوں نے رکھا تھا۔ اور آپ کو یاد ہوگا کہ امام جصاصؒ نے بھی اصول پر جو کتاب لکھی تو ’’الفصول فی الاصول‘‘ اس کا نام انہوں نے رکھا تھا۔ اور امام سرخسیؒ کے بارے میں آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ وہ کس پائے کے فقیہ اور اصولی تھے۔ میں اس تفصیل میں مزید نہیں جانا چاہتا، جو ان کا مرتبہ اور مقام ہے، لیکن میں ان کی کتاب سے چند چیزیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، ایک بات کا اضافہ کر کے۔ جب وہ قید میں تھے اور انہوں نے پہلے ’’الکافی‘‘ پر شرح لکھوائی، املاء کروائی، تیس جلدوں میں جو ’’المبسوط‘‘ کے نام سے شائع ہوتی ہے۔ تو یہ اصول (تمہید الفصول فی الاصول) انہوں نے اس کے بعد املاء کروائے ہیں، اور اس کی تصریح انہوں نے خود ابتدا میں کی ہوئی ہے۔ اور اس وجہ سے یہ جو اصول کی کتاب ہے، اس کو آپ مبسوط کے ساتھ ایک جوڑے (کمپینئن) کے طور پر سمجھیے۔ اِس میں آپ کو بعض اوقات اُس کے حوالے ملیں گے۔ بعض اوقات یہاں اختصار ہوگا اور اس کی تفصیل وہاں ہوگی۔ اور وہ خود بتاتے ہیں کہ جب میں نے املاء کروائی تو میرے بعض شاگردوں نے کہا کہ جن اصولوں پر آپ نے یہ شرح ہمیں بتائی ہے اور جو اصول معلوم ہوئے ہیں، ان کو الگ سے لکھنا چاہیے۔ تو پھر اس کو املاء کروایا۔

’’فصل فی بیان حکم العام‘‘۔ اب دیکھیں، وہ شروع کس طرح کرتے ہیں: ’’قال بعض المتأخرین ممن لا سلف لہم فی القرون الثلاثۃ‘‘۔ بہت سخت الفاظ سے شروع کیا ہے نا؟ یہ اُن کے دور کے متأخرین ہیں۔ ہمارے والے متأخرین تو پھر کسی قطار و شمار میں نہیں ہیں۔ اور علامہ شامیؒ اپنے اساتذہ اور ان کے اساتذہ اور ان کے اساتذہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’فناقلون وحاقون‘‘، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اچھا، تو فرماتے ہیں کہ متأخرین میں سے بعض نے یہ کہا ہے: ’’حکمہ الوقف‘‘۔ توقف نہیں بلکہ وقف۔ ’’فیہ حتی یتبین المراد منہ بمنزلۃ المشترک او المجمل ویسمی ہؤلاء الواقفیۃ‘‘۔ یہ لوگ واقفیہ ہیں۔ تو ایک موقف یہ ہوا کہ وقف کریں، رک جائیں، عمل نہیں کرنا، جب تک معلوم نہ ہو کہ ’عام‘ سب پر شامل ہے یا نہیں۔ مراد کیا ہے؟ ’’الا ان طائفۃ منہم یقولون‘‘۔ البتہ ان واقفیہ میں سے کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں ’’یثبت بہ اخص الخصوص‘‘ کہ عام سے the most specific of the specifics ثابت ہو سکتا ہے۔ ’’اخص الخصوص‘‘۔ مثال کے طور پر اگر جمع ہے، ’’المشرکین‘‘ کا لفظ آیا ہے، یا ’’الاقربون‘‘، تو اقلِ جمع تین ہے اور مفرد ایک ہے۔ یہ ’’اخص الخصوص‘‘ ہوا۔ تو بس اتنا تو ثابت ہے۔

یعنی پہلے گروہ نے تو یہ کہا کہ کچھ بھی نہیں، جب تک خود شارع کی جانب سے بیان نہ آجائے۔ دوسرے نے کہا کہ اتنا تو ثابت ہے کہ اگر جمع ہے تو اس سے مراد تین افراد ہیں، اور اگر واحد ہے تو اس سے مراد ایک ہی بندہ ہے۔ ’’وفیما وراء ذلک الحکمہ الوقف حتى یتبین المراد بالدلیل‘‘ (اور اس کے علاوہ باقی صورتوں میں اس کا حکم توقف کرنا ہے، یہاں تک کہ دلیل کے ذریعے اصل مراد واضح ہو جائے۔) اس سے آگے البتہ پھر انتظار کرنا پڑے گا۔

تیسرا موقف، امام شافعیؒ فرماتے ہیں: ’’ہو مجر علىٰ عمومہ موجب للحکم فیما تناولہ مع ضرب شبہۃ فیہ‘‘ کہ اس سے حکم تو ثابت ہوتا ہے، لیکن تھوڑا اس میں شبہ ہوتا ہے۔ شبہ کیسے؟ ’’لاحتمال ان یکون المراد بہ الخصوص‘‘ کیونکہ یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد شاید سارے نہ ہوں، کچھ لوگ ہوں۔ ہر عام میں، وہ کہتے ہیں، کچھ نہ کچھ تخصیص کا احتمال تو ہوتا ہے۔ ’’فلا یوجب الحکم قطعاً بل ظناً‘‘ (تو یہ حکم قطعی نہیں بلکہ) یہ ظنی ہے، اس میں احتمال موجود ہے۔ ’’ولہٰذا جوز تخصیص العام بالقیاس ابتداءً‘‘۔

اب آگے دیکھیں کہ وہ امام شافعیؒ کے مسلک کی وضاحت کے لیے کیا کر رہے ہیں، کہ ان کا یہ اصول میں نے کہاں سے اخذ کیا ہے؟ یعنی میں کیسے کہتا ہوں کہ امام شافعیؒ کے نزدیک عام کی جو دلالت ہے، اس کے لیے وقف ان کا موقف نہیں ہے، بلکہ وہ اس سے حکم تو ثابت کرتے ہیں لیکن ’’ظناً‘‘ ظنی طور پر۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو واقفیہ تھے، ان میں اکثر وہ تھے جو عقیدے کے باب میں اشاعرہ کی طرف منسوب تھے۔ اور اشاعرہ میں اکثر وہ تھے جو فقہ میں امام شافعیؒ کی طرف منسوب تھے۔ تو گویا امام سرخسیؒ ان کو بتاتے ہیں کہ آپ اپنے ہی امام کے اصول کے خلاف جا رہے ہیں۔

اچھا، کیا امام شافعیؒ وقف کے قائل نہیں ہیں؟ کیا واقعی وہ عام کی ظنیت کے قائل ہیں؟ جی، وہ فرماتے ہیں: ’’علىٰ ہذا دلت مسائلہ‘‘۔ یہ اصول کہاں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے؟ ان کے مسائل سے معلوم ہوتا ہے۔ پھر آگے انہوں نے مثالیں دی ہیں۔ امام شافعیؒ نے فلاں مسئلے میں یہ رائے قائم کی ہے، فلاں میں یہ رائے قائم کی ہے، فلاں میں یہ رائے قائم کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک عام ظنی ہے۔ ان کے ان مسائل میں ان کا موقف کس اصول پر مبنی ہے؟ اس اصول پر کہ عام ظنی ہے۔

اب آئیے: ’’والمذہب عندنا ان العام موجب للحکم فیما تناولہ قطعاً‘‘ ہمارے نزدیک مذہب یہ ہے کہ عام اپنی دلالت میں قطعی ہے ’’بمنزلۃ الخاص‘‘ خاص کی طرح۔ آگے انہوں نے پھر اس کی تھوڑی مزید تفصیل دی ہے، یہ موقع نہیں ہے، تفصیل میں نہیں جا سکتے۔ لیکن جو پوائنٹ میں رکھنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے، فرماتے ہیں: ’’وعلىٰ ہذا دلت مسائل علماءنا رحمہم اللہ‘‘ کہ ہم یہ اصول اپنے علماء کے مسائل سے لے رہے ہیں۔ کس مسئلے سے؟ اب وہ یہ بتاتے ہیں۔ 

’’قال محمد رحمہ اللہ فی الزیادات‘‘ زیادات میں امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ اگر کسی بندے نے اپنی انگوٹھی کے بارے میں وصیت کی کہ یہ الف کی ہوئی، اور اگلی ہی سانس میں کہا کہ، لیکن جو اس کا نگینہ ہے وہ ب کا ہے۔ یعنی انگوٹھی اِس کی اور نگینہ اُس کا۔ تو وہ کہتے ہیں کہ جو چھلا ہے وہ تو سارے کا سارا الف کا ہے، اور جو نگینہ ہے وہ الف اور ب دونوں کا ہے۔ کیونکہ جب اس نے کہا انگوٹھی، تو اس میں چھلا اور نگینہ دونوں شامل ہیں، چنانچہ چھلا اور نگینہ دونوں الف کے ہوئے۔ لیکن ساتھ ہی اس نے کہا: اور نگینہ ب کا۔ تو اس نے نگینہ ب کا بھی کر دیا، جو الف کا تو پہلے سے ہی تھا،  کیونکہ اس نے اس کو منسوخ نہیں کیا اور نہ اس سے رجوع کیا۔ 

البتہ اگر یہ الگ الگ جملوں میں مفصولاً کہا کہ انگوٹھی الف کی ہے۔ ابھی یہ انگوٹھی اسے دی نہیں ہے، کیونکہ یہ وصیت ہے جو موت کے بعد نافذ ہونی ہے، اور وصیت سے رجوع کا حق بھی اسے حاصل ہے۔ اور پھر کچھ دیر بعد کہا کہ نگینہ ب کا ہے۔ تو گویا اِس دوسری وصیت نے اُس پہلی وصیت کو جزوی طور پر منسوخ کر دیا۔ تو اب پورا نگینہ ب کا، اور صرف چھلا الف کا ہوا۔ لیکن جب دونوں جملے ایک ہی وصیت میں ہیں اور کلام موصول ہے، تو چھلا الف کا ہے، جبکہ نگینہ نصف نصف دونوں کا ہے۔ اس سے معلوم یہ ہوا کہ عام اور خاص برابر ہیں۔ انگوٹھی کے عموم میں چھلا اور نگینہ دونوں شامل تھے، یہ عام ہوا۔ اور نگینہ خاص ہے۔ اگر خاص کو عام پر فوقیت حاصل ہوتی، اگر خاص قطعی ہوتا اور عام ظنی ہوتا، تو چاہے کلام مفصول ہو یا موصول ہو، دونوں صورتوں میں الف کا صرف چھلا ہی ہونا تھا۔ اس کا تو بھلا ہوا کہ عام قطعی ہے۔

اچھا، آگے وہ مضاربہ والی مثال دی ہے اور اس میں پھر ’’کتاب الوصایا‘‘ کا یہاں حوالہ دیا ہے۔ اس کتاب پر تین بندوں نے تحقیق کی تھی، تین الگ جلدوں میں، ’’اصولِ سرخسی‘‘ پر بہت اچھا کام کیا ہے، اللہ ان کو جزائے خیر دے۔ لیکن ان سے یہاں تھوڑی سی تحقیق میں کمی ہوئی ہے، کیونکہ یہاں امام سرخسیؒ نے ’’کتاب الوصایا‘‘ کا حوالہ دیا ہے، ’’کتاب الوصایا‘‘ کا حوالہ وہ ڈھونڈ نہیں پائے، کیونکہ وہ ’’کتاب الوصایا‘‘ کے نام سے اسے ڈھونڈ رہے تھے اور ’’المبسوط‘‘ میں وہ ’’کتاب العین والدین‘‘ کے نام سے پائی جاتی ہے، ’’فی الوصایا‘‘۔ تو بہرحال وہاں اس کی تفصیل ہے۔ وہاں انہوں نے یہ لکھا ہے کہ چھلے اور نگینے والے مسئلے میں اگر انہوں نے تاریخیں بتا دیں کہ یہ تو بیس مئی کو کہا تھا اور وہ بائیس مئی کو کہا تھا، تو جو متأخر (بعد والا) ہوگا اس پر عمل ہوگا، متقدم (پہلے والے) پر نہیں ہوگا، چاہے وہ خاص ہو یا عام ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عام اگر متأخر ہو تو وہ خاص متقدم کو منسوخ کر سکتا ہے۔ پہلے خاص آیا، پھر عام آیا، تو ہم عام پر عمل کریں گے۔ پہلے عام آیا، پھر خاص آیا، تو ہم خاص پر عمل کریں گے۔ اور اگر (ترتیب) نامعلوم ہو تو دونوں پر جس حد تک عمل ہو سکتا ہے وہ کریں گے۔

پھر آگے انہوں نے مزید بتایا ’’وظہر من مذہب ابی حنیفۃ رحمہ اللہ ترجیح العام على الخاص فی العمل بہ‘‘ (انہوں نے امام ابوحنیفہؒ کے مذہب سے یہ ظاہر کیا ہے کہ ترجیح عام کو خاص پر دی جائے گی، عمل کرنے کے لیے)۔ بعض بزرگوں نے، جن کا میں نام نہیں لینا چاہتا کہ سوئے ادب نہ ہو، کہا کہ امام ابوحنیفہؒ نے تو نہیں کہا کہ عام قطعی ہے، جبکہ یہاں امام سرخسیؒ  آپ کے سامنے امام ابوحنیفہؒ کے مسائل رکھ رہے ہیں اور وہ بتا رہے ہیں کہ دیکھیں، یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک عام اور خاص برابر ہیں، اور جو متأخر ہوگا اس پر عمل ہوگا، چاہے وہ عام ہو یا خاص ہو۔ اور یہاں انہوں نے ایک مثال یہ دی ہے ’’نسخ الخاص بالعام‘‘ کی کہ ’’کما فعلہ فی بول ما یأکل لحمہ‘‘  جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہے، اس کا پیشاب نجس ہے یا نہیں ہے؟ ایک مثال ہمارے سامنے ’’عرنیین‘‘ والی ہے، اور دوسری مثال جس کو امام ابوحنیفہؒ نے ترجیح دی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث مبارک کو، ’’استنزہوا من البول‘‘۔ 

اگر اللہ نے آئندہ کبھی موقع دیا حنفی اصولی منہج پر بات کرنے کا، تو میری خواہش ہے کہ ہم حدیث کے متعلق فقہائے احناف کے اصولی منہج پر بات کریں، کہ فقہائے احناف حدیث کو کیسے دیکھتے ہیں، کیونکہ بہت سارے لوگوں کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ وہ حدیث تو بخاری کی ہے اور یہ حدیث دارمی کی ہے، اور امام ابوحنیفہؒ اِس کو ترجیح دے رہے ہیں، اُس کو نہیں دے رہے۔ یہ جو ترجیح والی بحث ہے خصوصاً، یہ بہت اہم ہے۔

اچھا، آگے انہوں نے پھر اس کی ساری تفصیل دی ہوئی ہے، میں اس میں نہیں جانا چاہتا، لیکن جو اگلی فصل ہے ’’فی بیان حکم العام اذا خص منہ شیء‘‘۔ اس میں وہ ایک اہم بات فرماتے ہیں ’’قال ابو الحسن الکرخی رحمہ اللہ من عند نفسہ لا علىٰ سبیل الحکایۃ عن السلف‘‘۔ امام کرخیؒ کا بہت بڑا مقام ہے۔ لیکن امام سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ وہ جو بات کر رہے ہیں وہ اپنی بات کر رہے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ امام محمدؒ نے یہ فرمایا ہے، یا امام ابو یوسفؒ نے یہ فرمایا ہے، یا امام ابوحنیفہؒ نے یہ فرمایا ہے۔ وہ اپنے طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر عام کی تخصیص ہو جائے تو وہ حجت باقی نہیں رہتی، بلکہ اب بیان کی ضرورت ہے۔ یعنی ایک فرد اگر اس میں سے نکالا گیا ہے تو ہو سکتا ہے اور بھی نکالے گئے ہوں، اور ہو سکتا ہے نہ نکالے گئے ہوں، تو اب ہم وقف کریں گے۔ وہ کہتے ہیں ہمارا مذہب یہ نہیں ہے۔ 

آگے وہ فرماتے ہیں ’’والصحیح عندی‘‘۔ آپ جانتے ہیں ’’اصح‘‘ اور ’’صحیح‘‘ میں فرق ہے۔ یہاں وہ فرماتے ہیں امام کرخیؒ کی بات صحیح نہیں ہے۔ صحیح کیا ہے؟ ’’ان المذہب عند علماءنا رحمہم اللہ فی العام اذا لحقہ خصوص یبقی حجۃ فیما وراء المخصوص‘‘ جو اس میں سے تخصیص کی گئی وہ تو نکال لیا گیا، جو باقی ہے اس پر وہ حجت ہے۔ لیکن ’’الا ان فیہ الشبہۃ حتى لا یکون موجباً قطعاً ویقیناً‘‘ بلکہ وہ امام شافعیؒ کے اس قول کی طرح ہو جائے گا جسے وہ قبل از تخصیص کہتے ہیں۔ اچھا، اب میرے نزدیک ہمارے علماء کا مذہب یہ ہے۔ یہ کیوں ہے؟ وہ کہتے ہیں ’’والدلیل علىٰ ان المذہب ہٰذا‘‘۔ مذہب یہ ہے، اس کی دلیل کیا ہے؟ ’’ان ابا حنیفۃ استدل علىٰ فساد بیع بالشرط بنہی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع وشرط وہذا عام دخلہ خصوص‘‘ جو بیع و شرط کی نہی ہے، یہ عام ہے، لیکن اس کی تخصیص تو ہو چکی ہے، اس کے باوجود امام ابوحنیفہؒ اس سے استدلال کر رہے ہیں۔ پھر آگے انہوں نے شفعہ کی مثال دی ہے، پھر آگے اور مثالیں دی ہیں۔

یہ طریقہ ہے جو حنفی منہج کی اساس ہے۔ دو چیزیں: یعنی ایک تو عام کی قطعیت کو ہم نے بطور مثال ذکر کیا تھا، لیکن جو طریقہ اس سے ہمارے سامنے آتا ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اصولوں کو کہاں سے لیتے ہیں؟ جو ہماری فروعات ہیں، بالخصوص امام محمدؒ کی جو چھ کتابیں ہیں، جن کو ہم ’’ظاہر الروایہ‘‘ کہتے ہیں، ان سے ہم لیتے ہیں۔ اور ہمارے نزدیک اصول بیان کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم کیسز کے ذریعے، جزئیات کے ذریعے اپنے اصول بتاتے ہیں۔ ان اصولوں کو الفاظ کے ذریعے روایت کرنے کو ہم ضروری نہیں سمجھتے۔ اگرچہ امام محمدؒ کی کتابوں میں بالخصوص ’’الحجۃ علىٰ اہل المدینۃ‘‘ میں آپ کو بعض اوقات اصول کی تصریح بھی مل جاتی ہے۔ اسی طرح ’’کتاب الاصل‘‘ میں بھی مختلف ابواب میں بعض اوقات آپ کو الفاظ میں بھی اصول مل جاتے ہیں۔ بعض اوقات سوال و جواب کی صورت میں بھی مل جاتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات کیا ہوتا ہے کہ اصول آپ کو جزئیے سے مستخرج کرنا پڑتا ہے۔ اور اس میں ظاہر ہے بہت ساری جزئیات ہیں، چونکہ ابتدا میں ابھی تدوین کا مرحلہ جاری تھا، ان اصولوں کے استخراج میں انہوں نے بڑا کام کیا، لیکن ہو سکتا ہے کہ ان سے یہ چند جزئیات رہ گئیں۔ تو بعد میں آنے والے نے اس کام پر بنا کرتے ہوئے ان جزئیات کو بھی ذکر کیا اور اس اصول کی تھوڑی تصحیح کر دی کہ بھئی، یہ اصول دراصل اس طرح ہے کیونکہ یہ (جزئیات) بھی اس میں کور کرنی ہیں۔

امام سرخسیؒ کو اللہ تعالیٰ نے یہ موقع عنایت کیا اور اللہ نے ان کو یہ توفیق دی، جس کا بدلہ اللہ ہی ان کو دے گا، کہ انہوں نے اس سارے معاملے کو — فقہ اور اصول کو آپس میں ملا کر — تیس جلدوں میں املاء کروا کر، اور اس کے علاوہ ’’السیر الکبیر‘‘ کی الگ سے املاء کروا کر اور ’’الزیادات‘‘ کی الگ سے املاء کروا کر، اس طرح سے اصول مستخرج کر کے ہمارے سامنے رکھے کہ اس کے بعد کسی کے لیے یہ کہنے کی گنجائش نہیں رہی کہ حنفی اصول ہے کیا؟  مثبت اولیٰ ہے یا نافی اولیٰ ہے؟ بعض نے یہ کہا ہے، بعض نے وہ کہا ہے۔ اچھا، جن بعض نے یہ کہا ہے، وہ اِن جزئیات کی بنا پر کہا ہے۔ اور جن بعض نے وہ کہا ہے، وہ اُن جزئیات کی بنا پر کہا ہے۔ لیکن امام سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ ہم تو نہ اِن جزئیات سے انکار کر سکتے ہیں اور نہ اُن سے۔ تو اصول ہے کیا؟ وہ ایسا اصول بیان کر دیتے ہیں کہ یہ جزئیات بھی فٹ ہو جاتی ہیں اور وہ جزئیات بھی فٹ ہو جاتی ہیں۔ اور پھر اس اصول کے لیے چند اور جزئیات ذکر کرتے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعی اصول یہ ہے۔

یہ وہ طریقہ ہے جس کو ’’تخریج‘‘ کہا جاتا ہے۔ اور وہ ’’المبسوط‘‘ میں مسلسل آپ کو بیان کرتے رہتے ہیں کہ  ’’وتخریج المسئلۃ علىٰ اصل محمد‘‘  اگر امام محمدؒ کے اصول پر ہم اس مسئلے کی تخریج کریں تو یہ بنتا ہے۔ اصحابِ تخریج کا کام صرف یہ نہیں تھا کہ وہ اصول آپ کو بتائیں، بلکہ وہ یہ بھی کرتے تھے کہ ان اصولوں کی بنا پر وہ بعض نئی جزئیات بھی آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ اور اس کی بے شمار مثالیں آپ کو ’’المبسوط‘‘ میں اور امام سرخسیؒ کی دیگر کتابوں میں ملتی ہیں۔ اور اس وجہ سے اس مسئلے کا بہت ہی گہرا تعلق اس تقسیم سے بھی ہے جس کو ہم فقہاء کے طبقات کہتے ہیں۔ اس بحث سے قطع نظر، جو بات اِس طریقے سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ امام محمدؒ کو بھی اپنا مقام و مرتبہ بخوبی معلوم تھا اور امام سرخسیؒ کو بھی اپنے مقام و مرتبے کے ساتھ اپنی حدود کا بخوبی علم تھا۔ اس وجہ سے وہ ان مسائل کو جوں کا توں مان کر ان سے اصول نکال کر ہمارے سامنے رکھتے ہیں اور پھر اس کی روشنی میں ہمیں آگے کچھ مزید مسائل بھی بتاتے ہیں۔

تو جو آج کی ڈھائی یا تین گھنٹے کی ہماری گفتگو تھی، اس کا خلاصہ اگر میں ایک جملے میں بیان کرنا چاہوں تو وہ یہ ہوگا کہ یہ جو ’’ظاہر الروایہ‘‘ ہیں، یہ ہمارے لیے صرف فقہی جزئیات نہیں ہیں، بلکہ یہ اصل میں ہمارے لیے ’’مسائل الاصول‘‘ ہیں۔ اور ہمارے ائمہ نے اپنے اصول ان جزئیات کے ذریعے ہمیں بتائے ہیں۔ کیس میتھڈ کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے ہمیں اپنے اصول ان مسائل کے ذریعے بتائے ہیں۔ گویا یہ صرف فتویٰ کے لیے نہیں ہے — کہ وضو ٹوٹا یا نہیں، طلاق ہوئی یا نہیں — اپنی جگہ اس کا وہ فائدہ تو عظیم القدر ہے، اس کے علاوہ ان جزئیات کا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمیں اصول بتاتی ہیں اور ان کو برتنے کا طریقہ سکھاتی ہیں۔ ’’ہذا ما عندی والعلم عند اللہ‘‘۔

سوال کا جواب

میں پھر ڈورکن کا حوالہ دوں گا۔ ڈورکن یہ کہتا ہے کہ جو جج ہوتے ہیں، وکیل ہوتے ہیں، قانون دان ہوتے ہیں، ان کو ماضی کے نظائر میں، فیصلوں میں، گریویٹیشنل فورس (کششِ ثقل کی قوت) محسوس ہوتی ہے۔ ’’گریویٹیشنل فورس‘‘ کی ترکیب وہ استعمال کرتا ہے۔ کیونکہ وہ اس سے جڑے رہتے ہیں، اس سے نکلنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے، اس کی پابندی کرتے ہیں۔ اس لیے جج کے سامنے اگر کوئی ایسا کیس آئے جس میں بظاہر قانون خاموش ہے، تو وہ اپنے جی سے فیصلہ نہیں کرتا، بلکہ وہ ان نظائر کے ساتھ جڑا ہوا ہے، ان کی روشنی میں وہ فیصلہ کرتا ہے۔ اس لیے آپ کسی بھی سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا فیصلہ اٹھا کر پڑھ لیں، آپ کو اس میں بے شمار ماضی کے نظائر کے حوالے ملتے ہیں کہ 1984ء میں سپریم کورٹ نے یہ کیا تھا، 1998ء میں پھر وہ کیا، وغیرہ۔ 

اور جو وکلاء ہوتے ہیں، ان کا اصل کام یہ ہوتا ہے کہ وہ عدالتی نظائر پر نظر رکھیں کہ یہ قانون تھا، اس کی تشریح کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ طے کیا۔ پھر اگلی دفعہ اسی سے ملتا جلتا ایک کیس سپریم کورٹ میں آیا، اس نے یہ طے کیا۔ تو کیا اس نے اس (پہلے والے) کا مفہوم تبدیل کر دیا؟ نہیں، مفہوم تو وہی رہا، لیکن اس کے ساتھ ان مخصوص حالات میں، جو اس سے تھوڑے مختلف تھے، یہ اضافہ کیا۔ یعنی فلاں سال یہ ہوا، پھر یہ ہوا، پھر یہ ہوا، اب صورتحال یہاں تک آئی ہے۔ اس کی روشنی میں پھر وکیل اپنے کلائنٹ کو مشورہ دیتے ہیں کہ آپ آپس میں تجارت کا معاہدہ کر رہے ہیں تو اس میں الفاظ یہ نہ لکھیں، اگر یہ لکھیں گے تو کل کوئی تنازعہ ہوا اور عدالت میں بات جائے گی تو یہ فیصلہ ہوگا، اس لیے الفاظ کو یوں کر دیں۔

اچھا، یہی کام جب ہمارے علماء کرام کرتے ہیں تو ان کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ یہ تو حیلے بنا رہے ہیں۔ بھئی حیلہ کیا ہوتا ہے؟ حیلہ یہی تو ہے کہ جو احکام ہیں، ان کے اندر رہتے ہوئے، ان کو نہ توڑتے ہوئے، کس طرح سے مسئلہ حل ہو؟

سوال کا جواب

شخصی تقلید تو میں نہیں کہوں گا، اصولی تقلید کہوں گا۔ کیونکہ شخصی تقلید سے مراد تو یہ ہوگی کہ مثال کے طور پر فلاں جج کی تقلید ہو رہی ہے۔ نہیں! جو اصولی نظام ہے اس کی تقلید ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے تو جب صاحبینؒ اور امام صاحبؒ کا اختلاف ہو، یا بعد میں اگر اصحابِ ترجیح یا اصحابِ تخریج آپ کو بتاتے ہیں کہ اس مسئلے میں فتویٰ امام صاحبؒ کی بجائے صاحبینؒ کے قول پر ہے، تو یہ (اس اصولی نظام کی تقلید ہے)۔

آج تو ہم نے عراقی سمرقندی کی بات کی، میں ایک اور گروہ ’’مصری‘‘ کی بھی بات کرنا چاہ رہا تھا، جس کو لوگ ایک گروہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یعنی ابن الہمامؒ تو مصری تھے، اور ابن نجیمؒ مصری تھے۔ مثال کے طور پر امام ابن نجیمؒ تقلیدِ شخصی کے زبردست قائلین میں سے ہیں۔ اسی طرح اور بھی آپ کو آرا نظر آئیں گی۔ لیکن اگر کبھی تقلید اور اجتہاد پر تفصیلی گفتگو کا موقع ملا، تو اس میں ہم واضح کرنے کی کوشش کریں گے کہ اصل بات جو ہوتی ہے، وہ اس اصولی نظام کی تقلید ہوتی ہے، اس کی پابندی ہوتی ہے، اور اس کی وجہ سے کام آسان بھی ہو جاتا ہے۔

سوال

سر، یہاں ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ، جب آپ نے گفتگو فرمائی کہ عام اور خاص کے اندر قطعیت کا فرق محسوس نہیں ہو رہا، تاریخی تناظر میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ جو بعد میں آیا وہ پہلے والے کو منسوخ کر رہا ہے، تو کیا پھر خاص کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی؟ یہ سوال ایک ابھرتا ہے کہ وہاں پر پھر خاص کو چھوڑ کر ہم صرف عام کی بحث میں ہی لگ جائیں … تو خاص کو الگ بیان کرنے کی وجہ؟

جواب

وہ اس طرح ہے کہ مثال کے طور پر آپ وصیت کی بات کر رہے ہیں کہ اس نے پہلے وصیت کی اور اس میں ایک خاص لفظ استعمال کیا، بعد میں اس نے ایک اور وصیت کی۔ اس کو وصیت سے رجوع کا حق تو حاصل ہے نا؟ اس نے پہلے آپ کے حق میں نام لے کر وصیت کی، بعد میں وہ اس کو منسوخ کر کے اِن کے حق میں نام لے کر بھی وصیت کر سکتا ہے۔ اس خاص کو اس خاص کے ذریعے تبدیل کر سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پہلے اس نے خاص آپ کے حق میں وصیت کی، پھر خاص ان کے حق میں وصیت کی، تو اِس خاص نے اُس کو منسوخ کر دیا۔ اب خاص آپ کے حق میں وصیت کی، پھر ساری کلاس کے حق میں (عام) وصیت کی۔ کیا یہ اس (خاص) کو منسوخ کر سکتا ہے یا نہیں؟ تو امام ابوحنیفہؒ کہتے ہیں کہ کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بھی قطعی ہے، وہ بھی قطعی ہے۔ تو خاص کا اپنا مقام ہے اور عام کا اپنا۔ اگر دونوں بیک وقت ہوں تو ہم دونوں پر عمل کریں گے۔ اس لیے یہ کہنا کہ ہم نے خاص کو اہمیت نہیں دی، یہ بات صحیح نہیں ہے، خاص کا تو اپنا مقام ہے، لیکن دونوں قطعی ہیں، تو کسی بھی دو قطعی دلیلوں میں جب تعارض آ جائے، تو اگر ہمیں تاریخ معلوم ہو، تو ظاہر ہے ہم متأخر پر عمل کریں گے۔

https://youtu.be/aKUMIHHZ7_A

https://youtu.be/Lku2jpF9zeU

https://youtu.be/OYuXJdZqmJo

https://youtu.be/5QnxCXDW1gw 

فقہ / اصول فقہ

اقساط

(الشریعہ — اگست ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اگست ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۸

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۴)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۱)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

محاضراتِ فقہ (۳)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۴)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۸)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

کیا خدا کو ڈھونڈنا آج زیادہ مشکل ہے؟
مولانا سیف الرحمٰن ادیب

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۵)
محمد سراج اسرار

امام طحاوی رحمہ اللہ کے مختصر حالات
مولانا مفتی رضاء الحق
مولانا محمد عثمان بستوی

عورت کا حقِ مہر و ملازمت: شرعی حقیقت اور رائج تصورات
مفتی سید انور شاہ

فیمنزم اور شاہ ولی اللہ کے عمرانی افکار
مولانا غالب شمس قاسمی

زکوٰۃ سے متعلق دو اہم استفسار
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

A Proven Path to Conquering Physical Limitations
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

رجوع الی اللہ — جشنِ آزادی کی اصل روح
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

سیاسی سفر اور ملکی و عالمی معاملات پر نقطۂ نظر
مولانا فضل الرحمٰن

اسلام کے سیاسی نظام پر کتب
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مذہب، قانون اور جذبات
خورشید احمد ندیم

پاکستان کے لیے سعودی عرب کی حفاظت کا اعزاز
مولانا مفتی عبد الرحیم
مفتی عبد المنعم فائز
مولانا عبد الودود

وسطی ایشیا میں دینی روایت کے عروج و زوال اور بقا کی داستان
مفتی سید عدنان کاکاخیل

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۲)
حافظ مجددی

تلاش

شماریات