۲- فقہِ اسلامی کے امتیازی خصائص
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ و اصحابہ اجمعین۔ آج کی گفتگو کا عنوان ہے ’’فقہِ اسلامی کے امتیازی خصائص‘‘۔
فقہِ اسلامی ایک ایسا نظامِ قانون ہے جس کی اساس اور جڑیں شریعتِ الٰہی میں ہیں؛ جس کے ثمرات اور برکات سے انسانی زندگی کا ہر پہلو مستفید اور متمتع ہوتا ہے؛ جس نے کم و بیش بارہ سو سال تک دنیا کے انتہائی متمدن اور مہذب علاقوں کو قانونی، انتظامی اور ادارتی رہنمائی فراہم کی؛ جس نے نہ صرف ماضی میں اربوں انسانوں کی زندگیوں کو منظم کیا، بلکہ آج بھی وہ زندگی کے بہت سے پہلوؤں میں ایک ارب بیس کروڑ انسانوں کو رہنمائی اور تنظیم فراہم کر رہا ہے۔ یہ نظامِ قانون — جس میں ایک لمحے کے لیے بھی خلا پیدا نہیں ہوا — اپنے روزِ آغاز سے آج تک کئی اعتبار سے نافذ العمل ہے۔
اگرچہ ایک مسلمان اس بات کو دکھ کے ساتھ نوٹ کرتا ہے کہ اسلامی شریعت یا اسلامی فقہ کے بعض میدان اور پہلو ایسے ہیں جن پر آج مسلمان عملدرآمد نہیں کر رہے، لیکن ہمیں امید ہے اور بطور ایک مسلمان کے اس بات کا یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن ہماری زندگی کے تمام پہلو اور زندگی کے تمام گوشے اسلامی شریعت کی رہنمائی سے مستنیر ہوں گے اور اسلامی فقہ کے قواعد و ضوابط کے مطابق ان کی تنظیمِ نو کی جائے گی۔ اس کے باوجود ہماری زندگی کے بہت سے پہلو اب بھی ایسے ہیں جو شریعت کی رہنمائی میں کام کر رہے ہیں، جن کی تنظیمِ نو اسلامی فقہ کے اصولوں کی روشنی میں ہو رہی ہے، اور مسلمان اپنے بہت سے روزمرہ کے معاملات فقہِ اسلامی کے ان احکام کی روشنی میں انجام دے رہے ہیں۔ عبادات فقہِ اسلامی کا ایک اہم شعبہ ہے، عبادات کے تمام معاملات اور عبادات سے متعلق تمام سرگرمیاں فقہِ اسلامی کے احکام کے مطابق انجام پا رہی ہیں۔ شخصی قوانین (نکاح، طلاق، وراثت، وصیت)، افرادِ خاندان کے درمیان تعلقات اور روابط، ماں باپ اور اولاد کے درمیان روابط، رشتہ داروں کے درمیان روابط — یہ سارے معاملات آج بھی بہت حد تک اسلامی شریعت کے احکام کے مطابق انجام پا رہے ہیں۔ مسلمانوں کے انفرادی معاملات، خرید و فروخت، تجارت، لین دین، میل جول، دو جنسوں کے درمیان مراسم اور روابط، لباس، خوراک اور حلال اور حرام کے بہت سے احکام پر مسلمان آج بھی عمل پیرا ہے۔
اس لیے مسلمانوں کے لیے فقہِ اسلامی کا مطالعہ کسی مردہ قانون کا مطالعہ نہیں ہے۔ یہ کسی ماضی کے ورثے کا مطالعہ نہیں ہے۔ یہ کسی تاریخ کے ایسے شعبے کا مطالعہ نہیں ہے جس کا تعلق ماضی سے ہو، جو محض قوموں کی یادداشت کو بیدار رکھنے کے لیے کیا جاتا ہو، جو لوگوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے کیا جاتا ہو، جس کی وجہ سے ماضی سے مسلمانوں کا رشتہ جڑتا ہو؛ محض یہ بات نہیں ہے۔ فقہِ اسلامی کا مطالعہ ایک زندہ، ایک Vibrant قانون کے طور پر مسلمان کرتے ہیں؛ اس لیے کہ مسلمانوں کے لیے آج بھی زندگی کے بہت سے حصوں میں یہ ایک زندہ، نافذ العمل اور زندگی کی رو سے بھرپور اور متحرک قانون ہے۔
پہلے دن کی گفتگو میں، میں نے بعض قدیم قوانین کا ذکر کیا تھا۔ حمورابی کا قانون دنیا کا قدیم ترین قانون بتایا جاتا ہے۔ رومن لاء جس پر اہلِ مغرب کو بڑا فخر ہے، یہودی لاء، ہندوؤں کا منو شاستر — یہ سب قوانین اکثر و بیشتر مردہ قانون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے بعض قوانین آج زندگی کھو چکے ہیں؛ آج ان کا تذکرہ قدیم کتابوں میں، علمِ آثار Archaeology میں ملتا ہے۔ کوئی دو انسان ایسے نہیں ملیں گے جو آج حمورابی کے قانون کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہوں۔ دنیا کا کوئی ایک گاؤں بھی ایسا نہیں ہے جہاں آج معاملات اس رومن لاء کے مطابق طے ہو رہے ہوں جو رومن لاء جسٹینین نے تیار کروایا تھا۔ یہی حال بڑی حد تک دوسرے قوانین کا ہے۔
اس کے برعکس اسلامی قانون ایک زندہ قانون کے طور پر موجود ہے۔ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کے بڑے حصے اس قانون سے منظم و مرتب ہو رہے ہیں۔ لیکن اس قانون میں اور دنیا کے بہت سے قوانین میں ایک بڑا بنیادی فرق ہے۔ اگر آپ انگریزی، فرانسیسی یا دنیا کے دوسرے متمدن قوانین — جن کو ان کے ماننے والے متمدن سمجھتے اور کہتے ہیں — ان کا جائزہ لیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ اس قانون میں ایک چیز قدرِ مشترک ہے جو دنیا کے ہر قانون میں پائی جاتی ہے۔ یہ قدرِ مشترک وہ ہے جس سے قانون کا قانون ہونا پتا چلتا ہے، جس سے قانون کی ماہیت کا پتا چلتا ہے، جس سے قانون کی حقیقت کا تعین ہوتا ہے، جس کی وجہ سے قانون اور اخلاق میں امتیاز واقع ہوتا ہے، جس کی وجہ سے قانون اور غیر قانون میں تمیز ہوتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو ان کے ہاں قانون کی تعریف میں شامل ہے، یعنی: قانون وہ ہے جو کسی بالا دست حکمران یا بااختیار فرمانروا نے اپنے ماتحتوں کو دیا ہو اور ملکی عدالتیں اس کو تسلیم کرتی ہوں۔ اس کو مغرب کی دنیا میں قانون کہتے ہیں۔
ایک مشہور مغربی قانون دان گزرا ہے، جان آسٹن؛ اس نے قانون کی تعریف کی ہے کہ Law is the command of the sovereign یعنی سوورین یا حاکمِ اعلیٰ کا حکم ہی قانون ہے۔ ایک اور ماضیِ قریب کا مشہور انگریز قانون دان گزرا ہے کیلسن، جس نے قانون کا ایک پازیٹو تصور پیش کیا کہ قانون وہ ہے جسے فی الوقت اور بالفعل کسی علاقے کے حکمران اور عدالتیں قانون کے طور پر تسلیم کرتی ہیں۔ یہ قانون کی تعریف تقریباً دنیا کے ہر نظام میں پائی جاتی ہے۔ جو چیز اس تعریف پر پوری نہیں اترتی، وہ قانون نہیں ہے اور جو چیز اس تعریف پر پوری اترتی ہے، وہ قانون ہے۔
اس روشنی میں اگر آپ قوانین کا جائزہ لیں اور کسی قانون کی لائبریری میں جا کر دیکھیں، تو آپ کو تین طرح کی کتابیں نظر آئیں گی:
- یا تو وہ کتابیں ہیں جن کو Statutory Law کہا جاتا ہے، جو کسی پارلیمنٹ یا کسی قانون ساز ادارے نے قوانین بنائے ہیں، یا کسی حاکمِ اعلیٰ نے بطور آرڈیننس یا بطورِ فرمان کے اس کو جاری کیا ہے۔ بہت سے قوانین اس نوعیت کے ہیں۔
- یا وہ اس نوعیت کی کتابیں ہیں کہ ان میں سے کسی ایک قانون کی شرح ہے۔ آپ لاء کی لائبریری میں جا کر دیکھیں تو مثلاً ایک انڈین پینل کوڈ رکھا ہوا ہے، اور اس کی آٹھ یا دس جلدوں میں شرح رکھی ہوئی ہے۔ ایک لیمیٹیشنز ایکٹ رکھا ہے اور ایک لیمیٹیشنز ایکٹ کی شرح ہے۔ ایک مثال کے طور پر سول پروسیجر یا کریمنل پروسیجر کوڈ ہے اور ایک اس کی شرح ہے۔ یہ دو قسم کی کتابیں آپ کو قانون کی لائبریری میں ملیں گی۔
- تیسری قسم کی کتابیں آپ کو قانون کی لائبریری میں وہ ملیں گی کہ کسی ماضی کے سابقہ قانون یا کسی مردہ قانونی روایت کو کسی نے آج سمجھنے اور بیان کرنے کی کوشش کی ہو۔ جیسے رومن لاء پر کتابیں ملیں گی، ہندو لاء پر ہندو مصنفین نے بہت سی کتابیں لکھ دی ہیں، یہودیوں نے جیوش لاء پر کتابیں لکھی ہیں۔ یہ ایک ماضی کے ورثے کا مطالعہ ہے۔ ماضی کے ایک ذخیرے کو آج کے انداز میں انہوں نے سمجھنے کی کوشش کی ہے اور دوسروں کو بتانے کی کوشش کی ہے۔
فقہِ اسلامی کی کتابیں ان میں سے کسی کیٹیگری میں نہیں آتیں۔ نہ وہ کسی بادشاہ یا فرمانروا کا دیا ہوا چارٹر یا آرڈیننس ہے۔ فقہ کی کوئی کتاب، کسی بھی مسلک یا کسی بھی فقہی مذہب کی ہو، وہ کسی حکمران یا فرمانروا کی عطا کردہ نہیں ہے۔ حتیٰ کہ خلفائے راشدین کی عطا کردہ بھی نہیں ہے۔ خلفائے راشدین، جن سے بہتر فرمانروا اور جن سے زیادہ عادل اور خدا ترس حکمران دنیا نے نہیں دیکھا، یہ ان کا عطا کردہ بھی نہیں ہے۔ یہ کسی پارلیمنٹ کا دیا ہوا بھی نہیں ہے۔ فقہ کی کوئی کتاب یا فقہ کا کوئی حکم، جس پر آج مسلمان عمل کرتے ہیں، وہ کسی پارلیمنٹ کا دیا ہوا نہیں ہے۔
- جب مسلمان نماز پڑھتے ہیں، کچھ لوگ ہاتھ اٹھا کے رکوع میں جاتے ہیں، کچھ ہاتھ اٹھائے بغیر جاتے ہیں، کچھ لوگ آمین زور سے کہتے ہیں، کچھ آمین آہستہ سے کہتے ہیں۔ لیکن جو لوگ آمین آہستہ سے کہتے ہیں، وہ اس لیے نہیں کہتے کہ کسی پارلیمنٹ نے ریزولوشن پاس کیا تھا کہ مسلمان آہستہ سے آمین کہا کریں؛ اور جو زور سے کہتے ہیں، وہ اس لیے نہیں کہتے کہ کسی فرمانروا نے آرڈیننس جاری کیا تھا کہ آمین زور سے کہا کریں۔ اس لیے مسلمانوں کا قانون نہ کسی فرمانروا کا دیا ہوا ہے، نہ کسی قانون ساز ادارے کا دیا ہوا ہے۔ کوئی ایک کتاب بھی آپ کو فقہ کے ادب میں ایسی نہیں ملے گی — ابتدائی بارہ سو سال تک — جو کسی حکمران یا کسی سرکاری ادارے نے دی ہو۔
- جب سرے سے قانون دیا ہی نہیں تو ایسے قانون کی شرح کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لہٰذا، جو دوسری کیٹیگری میں نے بتائی تھی کہ قانون کی شرحیں اور کمنڑیریز ہوتی ہیں، اسلامی قانون کسی سرکاری قانون کی شرح بھی نہیں ہے۔
- اسی طرح اسلامی قانون کسی مردہ قانون کا مطالعہ بھی نہیں ہے۔ جس زمانے میں جن لوگوں نے اسے لکھا، انہوں نے اس کو زندہ قانون کے طور پر لکھا۔ اور جب لکھا، وہ اسی وقت، اسی لمحے، بلکہ اس سے پہلے ہی سے وہ لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بن گیا۔ جس شخص نے جو بھی کتاب لکھی — امام مالکؒ نے جب ’’مؤطا‘‘ لکھی تو اس میں جو احکام دیے گئے ہیں، وہ پہلے سے لوگوں کی زندگیوں میں جاری و ساری تھے، اور اگر نہیں تھے تو امام مالکؒ کے ’’مؤطا‘‘ لکھنے کے بعد جاری و ساری ہو گئے۔ اس لیے کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی مردہ قانون نہیں تھا۔ یہ تو تھا کہ مسلمانوں نے اپنی کمزوری کی وجہ سے کسی ایک پہلو پر عمل چھوڑ دیا یا دوسرے پہلو پر عمل چھوڑ دیا، مسلمان اس کمزوری کا اعتراف بھی کرتے رہے ہیں اور آج بھی کرتے ہیں، لیکن وہ مردہ قانون کبھی نہیں رہا۔
یہ خصوصیت ایسی ہے جو ہر شخص کو نظر آ سکتی ہے اور ہر شخص اس کا اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ وہ خصوصیت ہے جو دنیا کے تمام قوانین سے اسلامی قانون کو یا فقہ کو ممیز کرتی ہے۔ یہ خصوصیت آزادی اور حریت کی خصوصیت ہے۔ اسلامی قانون دنیا کا واحد قانون ہے جو حکمرانوں اور فرمانرواؤں کے اثرات اور رسوخ سے آزاد رہا ہے۔ اس کی تمام تر ترقی اور پیشرفت، اس کی ساری توسیع، اور اس میں ساری گہرائی اور گیرائی جو پیدا ہوئی ہے، وہ سب کی سب غیر سرکاری کاوشوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں کبھی بھی (سرکاری) قانون ساز ادارے کا وجود نہیں رہا، ایسا قانون ساز ادارہ جیسے آج دنیا کے بہت سے نظاموں میں پائے جاتے ہیں۔ آج برطانیہ میں ایک پارلیمنٹ ہے جو برطانوی لوگوں کے لیے قانون بناتی ہے، اچھا یا برا، لوگ اس کو مانتے ہیں۔ امریکہ میں کانگریس ہے جو امریکی قوم کے لیے قانون بناتی ہے۔ ایسی کوئی کانگریس یا ایسی کوئی پارلیمنٹ کسی اسلامی دور میں نظر نہیں آتی۔
مسلمانوں میں پھر قانون سازی پرائیویٹ طور پر کیسے ہوئی؟ یہ بڑی دلچسپ اور اہم بات ہے، اور یہ ہر مسلمان صاحبِ علم کے ذہن میں رہنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو آزاد بنایا ہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے حکم دیا تھا اور اس حکم نامے میں یہ جملہ تحریر فرمایا تھا: ’’متیٰ استعبدتم الناس وقد ولدتہم امہاتہم احرارا‘‘ ’’تم نے لوگوں کو غلام کب سے بنا لیا ہے، جبکہ ان کی ماؤں نے تو ان کو آزاد جنا تھا؟‘‘ لہٰذا ہر انسان اگر آزاد ہے اور ہر انسان صاحبِ کرامت ہے ’’ولقد کرمنا بنی آدم‘‘ (الاسراء ۷۰) اگر ہر انسان ایک دوسرے کے برابر ہے ’’الناس سواسیۃ کاسنان المشط‘‘ جیسے کنگھی کے دندانے برابر ہوتے ہیں، اس طرح ہر انسان اگر برابر ہے، تو پھر اس برابری کا تقاضا یہ ہے کہ قانون سب کے لیے ایک ہو، سب کے لیے یکساں ہو۔ اگر قانون ایک اور یکساں نہیں ہے تو برابری نہیں ہو سکتی، اور اگر برابری نہیں ہو سکتی تو کرامتِ آدمؑ نہیں ہو سکتی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ میں اور مسٹر اے ایک دوسرے کے برابر نہ ہوں لیکن کرامت ہم دونوں کو حاصل ہو۔ جو مجھ سے اونچا ہے اس کو کرامت زیادہ حاصل ہوگی، میں نیچا ہوں تو مجھے کرامت کم حاصل ہوگی؟ انسانی عزت اور کرامت یا Dignity اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب قانون کی نظر میں سارے انسان برابر ہوں۔ اس سے بھی کوئی اختلاف نہیں کرے گا، یہ ایک واضح بات ہے۔
قانون کی نظر میں برابری تب ہو سکتی ہے جب سارے انسان ایک ہی قانون کے پابند ہوں۔ اگر سارے انسان ایک قانون کے پابند نہیں ہیں، تو پھر قانون کی نظر میں برابری نہیں ہو سکتی۔ اور سب انسان ایک قانون کے پابند اسی وقت ہو سکتے ہیں جب قانون کا ماخذ ماورائے انسانی ذریعہ ہو۔ اگر کچھ انسان دوسرے انسانوں کے لیے قانون بناتے ہیں تو قانون بنانے والے برتر ہوں گے اور قانون کو قبول کرنے والے اور اس پر عمل کرنے والے زیرِ دست ہوں گے۔ جو قانون بنائے گا، وہ اپنی فلاح و بہبود کے لیے بنائے گا، وہ اپنے مقاصد اور مفاد کے لیے بنائے گا۔ یہ بات میں پہلے عرض کر چکا ہوں۔ لہٰذا اسلام نے، اسلام کی شریعت نے ایک ایسا خودکار نظام وضع کر دیا کہ جس میں قانون اور نظام، دستور اور آئین، اور ان کے بنیادی تصورات اور احکام انسانوں کے فیصلے سے ماورا ہیں۔ قانون کے بنیادی اصول، قانون کے بنیادی احکام اور تصورات، وہ سب کے سب قرآنِ پاک میں موجود ہیں۔
آج علمِ اصولِ قانون کا ایک شعبہ ہے جو ابھی پچھلے تیس چالیس سال سے سامنے آیا ہے، اس کو کہتے ہیں میٹا جورِس پروڈنس۔ میٹا جورس پروڈنس کے معنی یہ ہیں کہ یہ اصولِ قانون کی میٹافزکس ہے؛ کہ اصولِ قانون سے ماورا جو اعلیٰ اخلاقی اور فکری تصورات ہیں، جن پر اصولِ قانون کا دارومدار ہے، وہ کیا ہیں؟ پھر ان اصولِ قانون پر قانون کا دارومدار ہے۔ گویا میٹا جورِس پروڈنس پر مغربی دنیا اب پچھلے تیس چالیس سال سے آئی ہے، اس سے پہلے میٹا جورِس پروڈنس کا تصور مغربی دنیا میں نہیں تھا۔ اس کے برعکس، میٹا جورِس پروڈنس کے تصورات سارے کے سارے قرآنِ پاک میں موجود ہیں۔ قرآنِ پاک نے ان تمام بنیادی سوالات کا جواب دے دیا ہے جن پر جورِس پروڈنس کی اساس ہوتی ہے۔ اور جورِس پروڈنس کی بنیاد پر — جیسا کہ کل تفصیل سے میں عرض کر چکا ہوں — فقہِ اسلامی کے جزئیات اور فروعی احکام نکلے ہیں۔ ان کا ماخذ وہ بنیادی قوانین ہیں جن سے کام لے کر قرآن و سنت سے احکام معلوم کیے جا سکے ہیں۔ لہٰذا قرآنِ مجید نے بنیادی سوالات تو طے کر دیے، اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بنیادی سوالات میں، جہاں جہاں انسان کی عقل کے بھٹکنے کا امکان تھا، غلطی فہمی کا امکان تھا، ان کا جواب بھی دے دیا۔
اب مزید تفصیلات طے کرنے کا یا مزید جزئی مسائل کے جواب دینے کا فریضہ بھی کسی بادشاہ یا حکمران کے سپرد نہیں کیا گیا؛ نہ یہ کام کسی فرمانروا نے کیا، نہ بادشاہ نے، نہ خلیفہ نے، نہ حکمران نے اور نہ پارلیمنٹ نے۔ اس میں سرکار اور دربار کا کبھی کوئی دخل نہیں رہا۔ یہ کام امت کے اور امت کے اہلِ علم کے کرنے کا ہے ’’فسألوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘ (النحل ۴۳)۔ امت کا کام یہ ہے کہ وہ شریعت کے مطابق زندگی گزارے، قرآن و سنت کے احکام کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو منظم کرے۔ اور اگر کسی شخص، گروہ یا جماعت کو کسی معاملے میں تامل ہو کہ اس میں شریعت کا حکم کیا ہے، شریعت کی فہم کیا کہتی ہے، تو وہ اہلِ علم سے جا کر معلوم کرے؛ اور جو اہلِ علم ایسے ہوں جن کے علم اور دین دونوں پر اعتماد ہو، علم اور تقویٰ پر اعتماد ہو، ان کی بات مان لی جائے۔
چنانچہ اسی نظام کے تحت فقہائے اسلام نے اور علمائے اسلام نے اس ذمہ داری کو انجام دینا شروع کیا۔ مسلمانوں میں جن جن حضرات کے فقہی آرا کی پیروی ماضی میں کی گئی یا آج کی جا رہی ہے، ان میں سے کوئی بھی کسی سرکاری منصب کا حامل نہیں تھا۔ امام مالکؒ نے ’’مؤطا‘‘ لکھی۔ امام مالکؒ نے بہت سے فقہی اور قانونی مسائل کے جوابات دیے۔ امام مالکؒ کے جوابات اور ان کی رولنگز پر دنیائے اسلام کے بہت بڑے حصے میں ان کے زمانے سے عمل ہو رہا ہے۔ امام مالکؒ سے محبت اور عقیدت کی کیفیت یہ تھی کہ لوگ چھ چھ مہینے کی مسافت طے کر کے ان سے مسائل معلوم کرنے آیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک شخص چھ مہینے کی مسافت طے کر کے اسپین (اندلس) سے پہلے مراکش پہنچا، ظاہر ہے کشتی میں مراکش گیا ہو گا۔ مراکش سے اونٹ پر سوار ہو کر تیونس، الجیریا، لیبیا، مصر، صحرائے سینا؛ صحرائے سینا سے پھر جزیرۂ عرب کا آدھا حصہ، یہ سب کراس کرتے ہوئے مدینہ پہنچا اور کہا کہ مجھے اہلِ اندلس نے آپ سے اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ اس سے آپ اندازہ کریں کہ اہلِ اندلس کی امام مالکؒ سے عقیدت کی کیا کیفیت ہو گی! اور امام مالکؒ کے فتاویٰ، ارشادات اور اجتہادات پر کتنی شدت سے اہلِ اندلس اور اہلِ مغرب عمل کرتے ہوں گے! کیا امام مالکؒ کسی علاقے کے فرمانروا تھے؟ کیا امام مالکؒ کو کسی حکمران یا خلیفہ نے مقرر کیا تھا کہ آپ قوانین بنائیں؟ کیا امام مالکؒ کسی پارلیمنٹ کے رکن تھے؟ کیا امام مالکؒ کسی کانگریس کے ممبر تھے؟ ان میں سے کوئی چیز نہیں تھی۔ امام مالکؒ ایک پرائیویٹ شہری تھے، ایک بالکل غیر سرکاری حیثیت رکھتے تھے۔ ان کا جو درجہ اللہ نے دیا، وہ علم و فضل اور تقویٰ کی وجہ سے تھا۔ علم اور تقویٰ کے علاوہ کوئی دنیوی منصب، عہدہ یا اختیار ان کو حاصل نہیں تھا۔ لیکن ان کے زمانۂ مبارک میں چھ چھ مہینے کا لوگ سفر کر کے آیا کرتے تھے اور ان سے مسائل پوچھ کر اس پر عمل کیا کرتے تھے؛ عدالتیں بھی عمل کرتی تھیں، افراد بھی کرتے تھے اور حکمران بھی کرتے تھے۔
امام اوزاعیؒ، امامِ اہلِ شام کہلاتے ہیں، بیروت میں رہتے تھے؛ اور ایک زمانے میں پورا شام —جس میں موجودہ زمانے کا فلسطین، لبنان، اردن، شام اور سعودی عرب کا کچھ حصہ بھی شامل تھا — یہ پورا علاقہ امام اوزاعیؒ کے اجتہادات کی پیروی کرتا تھا۔ یہاں تک کہ حکمرانوں کو بھی جب ضرورت پڑتی تھی، وہ امام اوزاعیؒ سے فتویٰ معلوم کر کے اس پر عمل کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ہارون الرشید کو کسی ایسے معاملے میں، جو بین الاقوامی قانون سے متعلق تھا، جس میں ایک غیر قوم کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنا تھا، انٹرنیشنل ٹرانزیکشن قسم کی چیز تھی، اس نے امام اوزاعیؒ کو بھیجا، امام اوزاعیؒ نے جو رائے دی، اس کے مطابق ہارون نے عمل کیا۔ کیا امام اوزاعیؒ وزیر خارجہ تھے؟ کیا امام اوزاعیؒ وزیر قانون تھے؟ کیا امام اوزاعیؒ چیف جسٹس تھے؟ ان میں سے کچھ بھی نہیں تھے۔ امام اوزاعیؒ ایک شہری تھے، جیسے بہت سے شہری ہوتے ہیں۔
امام ابو حنیفہؒ کے اجتہادات کی آج دنیا میں بڑی تعداد میں مسلمان پیروی کر رہے ہیں۔ مسلمانوں میں اکثریت امام ابو حنیفہؒ کے اجتہادات کے پیروکاروں کی ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے پاس کوئی سرکاری منصب نہیں تھا۔ امام جعفر صادقؒ، امام زید بن علیؒ، یہ سب حضرات پرائیویٹ شہری تھے۔
طریقہ کار یہ تھا کہ جب کسی شخص کو کوئی مسئلہ پیش آئے، وہ ان میں سے جس فقیہ یا جس مجتہد کے علم اور تقویٰ پر بھروسہ رکھتا ہو، اس کے پاس جائے، اس سے جا کر معلوم کر لے؛ اور جو اجتہاد یا جو فتویٰ وہ بتائیں، اس فتوے کے مطابق لوگ عمل کیا کرتے تھے۔ آج بھی یہی ہوتا ہے، آپ بھی یہی کرتے ہیں، میں بھی یہی کرتا ہوں۔ جب آپ کو کوئی مسئلہ پیش آتا ہے جس میں کسی فقہی رہنمائی یا شریعت کی کسی تعبیر کی ضرورت ہو، تو آپ یا میں کسی وزیرِ قانون کے پاس نہیں جاتے، کسی عدلیہ کے افسر کے پاس نہیں جاتے، کسی پارلیمنٹ کے ممبر کے پاس نہیں جاتے؛ ہم کسی ایسے شخص کے پاس جاتے ہیں جس کے علم اور تقویٰ پر ہمیں اعتماد ہو۔
بعض اوقات علم پر اعتماد ہوتا ہے، تقویٰ پر اعتماد نہیں ہوتا؛ بعض اوقات تقویٰ پر اعتماد ہوتا ہے، علم پر اعتماد نہیں ہوتا۔ آپ نے بہت بڑے بڑے بزرگ دیکھے ہوں گے جن کی ساری زندگی شریعت کی اتباع میں گزری، لیکن ان کے پاس وہ علم نہیں ہوتا جو رہنمائی دے سکے، لوگ ان کے پاس (مسائل کے لیے) نہیں جاتے۔ بعض اوقات ایسے صاحبِ علم ہوتے ہیں کہ جن کے علم کا دوست اور دشمن سب اعتراف کرتے ہیں، لیکن ان کے تقویٰ پر بھروسہ نہیں ہوتا، ان کے پاس بھی لوگ نہیں جاتے۔ جن کے پاس دونوں چیزیں ہوں، ان سے جا کر آج بھی لوگ رہنمائی لیتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں۔
اس طرح فقہِ اسلامی پر عملدرآمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد سے شروع ہوا۔ ایک اعتبار سے حضورؐ کے زمانے میں بھی اس پر عملدرآمد ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما نہ ہوتے، تو جس صحابیؓ یا جس مسلمان کو ضرورت پڑتی تھی، وہ اہلِ علم سے پوچھا کرتا تھا۔ اس کی مثالیں احادیث میں موجود ہیں؛ ایک دو نہیں، درجنوں بلکہ شاید سینکڑوں موجود ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف فرما نہ ہونے کی صورت میں، لوگوں نے، ضرورتمندوں نے صحابہ کرامؓ میں ان حضرات سے پوچھا جو علم اور فہم میں زیادہ ممتاز تھے۔ تقویٰ میں تو سب برابر تھے، لیکن علم میں مدارج اور درجات تھے؛ اس لیے جس کے علم پر زیادہ اعتماد ہوتا تھا، ان سے پوچھا کرتے تھے۔ اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کرامؓ کے علم کی گواہی دی تاکہ لوگ ان سے پوچھا کریں۔
اس طریقے سے فقہِ اسلامی اور شریعتِ اسلامی پر عملدرآمد کوئی بارہ سو سال تک ہوتا رہا۔ ان بارہ سو سالوں میں کبھی بھی کسی حکمران یا فرمانروا کو شریعت کے کسی جزوی حکم پر بھی اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں ملی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے کوشش نہیں کی؛ کوشش کی لوگوں نے؛ بعض لوگوں نے اچھے ارادے سے کوشش کی اور بعض نے غلط ارادے سے کوشش کی۔ نہ اچھے ارادے کی کوشش کو مسلمان فقہاء نے کامیاب ہونے دیا، نہ برے ارادے سے کوشش کرنے والوں کو کامیاب ہونے دیا۔ اچھے ارادے سے کوشش ایک مرتبہ ہارون الرشید نے کی تھی۔ ہارون الرشید نے امام مالکؒ سے ملاقات کی۔ جب وہ حج کے لیے حجاز گیا تو وہ امام مالکؒ سے ملنے کے لیے گیا۔ حکمران ان سے ملنے کے لیے ان کے گھر پر جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ غالباً ہارون نے ملاقات کے وقت درخواست کی کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے دو بیٹوں امین اور مامون کے لیے الگ سے کوئی حلقۂ درس قائم کریں۔ امام مالکؒ نے فرمایا کہ ’’العلم یؤتیٰ ولا یأتی‘‘ علم کی خدمت میں حاضر ہوا جاتا ہے، علم کسی کی خدمت میں حاضر نہیں ہوتا۔ میرا درس ہوتا ہے، وہ بھی آ کر بیٹھیں۔ امام مالکؒ نے ہارون الرشید کی اس درخواست کو قبول نہیں کیا، جو خود ان سے ملاقات کے لیے گیا تھا۔
تو اس لیے یہ کہنا کہ ہارون الرشید نے کسی بدنیتی سے یہ فیصلہ کیا ہو گا یا رائے قائم کی ہو گی، یہ صحیح نہیں ہے۔ نیک نیتی سے وہ یہ سمجھتا تھا کہ دنیائے اسلام — جو اس وقت اسپین سے لے کر ملتان تک پھیلی ہوئی تھی — اس میں مختلف قاضی مختلف فتووں کے مطابق فیصلے دے رہے ہیں؛ کوئی کسی مجتہد کی رائے پر فتویٰ دے رہا ہے، کوئی کسی مجتہد کی رائے پر فیصلہ کر رہا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ چیز آگے چل کر کسی غلط فہمی یا الجھن کا ذریعہ بنے۔ تو کیا یہ مناسب نہ ہو گا کہ تمام قاضی صاحبان کو کسی ایک اجتہاد کا پابند کر دیا جائے؟ میرے خیال میں یہ بڑی نیک نیتی سے اس نے سوچا ہو گا۔ اس نے غور کیا تو اس کو پتا چلا کہ امام مالکؒ نے ایک کتاب بھی تحریر فرمائی ہے۔ وہ اپنے زمانے کے جید ترین ائمہ حدیث اور ائمہ فقہ میں شمار ہوتے ہیں؛ اس لیے اگر ان کی کتاب کو معیار بنا دیا جائے اور ’’مؤطا امام مالک‘‘ کو پوری سلطنتِ اسلامیہ کے لیے قانون کے طور پر نافذ کر دیا جائے، تو شاید یہ بہتر ہو، امت کی وحدت کے لیے، فیصلوں اور قوانین کی ہم آہنگی کے لیے، اور عدالتی کام کی یکجہتی کے لیے۔
اگر کسی شخص میں ایک فی لاکھ بھی دنیا داری ہوتی — میں جب غور کرتا ہوں تو مجھے بڑا اثر ہوتا ہے اس پر — اگر امام مالکؒ میں ایک فی کروڑ بھی دنیا داری کا شائبہ ہوتا، تو اس سے بڑھ کر خوشی اور مسرت کی بات نہیں ہو سکتی تھی کہ ان کی لکھی ہوئی کتاب، ان کے لکھے ہوئے اجتہادات، ان کے فتاویٰ اور ان کے فہمِ شریعت کو دنیا کی سب سے بڑی سلطنت بطورِ قانون کے جاری کر دے؛ اور ان کے فتاویٰ کے مطابق اسپین سے لے کر کشمیر تک فیصلے ہوا کریں، سائبیریا سے لے کر سوڈان تک ان کے اجتہادات کو قانون کا درجہ حاصل ہو جائے۔ لیکن امام مالکؒ نے ایک لمحے کی بھی اس میں مہلت نہیں مانگی، فوراً کہا کہ امیر المؤمنین! آپ ایسا نہ کریں، اس لیے کہ جتنے فقہاء اور مجتہدین اجتہادات کر رہے ہیں اور فیصلے کر رہے ہیں، یہ سب کے سب مختلف صحابہ کرامؓ کے اسلوبِ اجتہاد کے پیرو ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم سیکھا، اجتہاد کی تربیت پائی، شریعت پر غور و خوض کرنے کے آداب سیکھے اور وہ دنیائے اسلام کے مختلف علاقوں میں جا کر بس گئے، جہاں انہوں نے اپنے اپنے اسلوب کے مطابق لوگوں کو تیار کیا۔ اس لیے یہ ساری چیزیں بالآخر صحابہ کرامؓ تک اور صحابہ کرامؓ کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ تک پہنچتی ہیں۔ اس لیے آپ اس آزادی اور اس وسعت کو، جو امتِ مسلمہ کو حاصل ہے، محدود نہ کریں؛ اور جس انداز سے کام چل رہا ہے، اسی انداز سے چلنے دیں۔
امام مالکؒ نے اتفاق نہیں فرمایا اور قانون کی آزادی اور خودمختاری پر ایک ہلکا سا دھبہ بھی نہیں آنے دیا۔ یہ فقہِ اسلامی کی پہلی بنیادی خصوصیت ہے، جس کو آپ حریت یا آزادی کہہ سکتے ہیں۔ آج دنیا میں دعویٰ ہے رُول آف لاء کا۔ دنیا کہتی ہے کہ قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔ امریکہ کے قانون دانوں کا ایک طویل عرصے تک یہ دعویٰ رہا کہ رول آف لاء کا تصور سب سے پہلے دنیا کو انہوں نے دیا ہے۔ امریکی دستور کو اگر آپ میں سے کچھ لوگوں نے پڑھا ہو، امریکی دستور کی تشریحات یا تعبیرات جتنی امریکی ماہرینِ قانون نے لکھی ہیں، اس میں وہ بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں کہ American constitution is the most precious export of America, is the most valueable export of America امریکہ کی جتنی ایکسپورٹس ہیں، ان میں سب سے قیمتی امریکہ کا دستور ہے؛ وہ یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے دنیا کو ایک نیا تصور قانون کی بالادستی کا دیا ہے۔ قانون کی بالادستی وہ تین چیزوں کو قرار دیتے ہیں:
- پورے ملک میں یا پوری ریاست میں ایک قانون ہو جو سب کے لیے ہو، یعنی Uniformity of Law ہو۔
- دوسرے، اس یونیفارم قانون کو، یکساں قانون کو سب شہریوں پر نافذ کرنے کے لیے ایک اعلیٰ ترین، بااختیار اور غیر جانبدار عدالت ہو۔ A uniform, impartial, independent judicial system دوسری چیز وہ یہ کہتے ہیں۔
- تیسری چیز وہ یہ کہتے ہیں کہ ہر شہری کو یکساں طور پر آزادی اور موقع ہو کہ اس عدالت کے سامنے جا کر اس قانون کے تحت اپنا حق وصول کر سکے اور داد رسی حاصل کر سکے۔
یہ تین چیزیں ان کے دعوے کے مطابق رول آف لاء یعنی قانون کی بالادستی کے معیار ہیں۔ امریکہ کے نظام نے دنیا کو کتنا رول آف لاء دیا ہے، وہ آپ کے سامنے بھی ہے اور میرے سامنے بھی ہے، اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی افغانی سے پوچھیں، کسی عراقی سے پوچھیں، اور مسلمانوں سے پوچھیں کہ امریکہ کتنا رول آف لاء آپ کو دے رہا ہے، لوگ بتا دیں گے۔ لیکن رول آف لاء اگر دنیا میں کسی قانون نے دیا ہے تو وہ اسلامی شریعت نے دیا ہے؛ جس میں نہ صرف یہ کہ قانون کے ماتحت اور تابع ہونے میں حکمران اور رعایا میں کوئی فرق نہیں تھا، بلکہ قانون بنانے کا اختیار بھی حکمران سے لے لیا گیا۔ یہ دنیا کا کوئی قانون آج تک نہیں کر سکا۔ ہر فرمانروا اپنے مفاد کی خاطر قانون بناتا ہے، ہر بااثر آدمی اپنے مفاد کو قانون کے ذریعے بچانے کی اور بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ صرف اسلامی شریعت ہے جو تمام بااثر طبقات کے مفادات سے بالاتر اور ماورا ہے۔
لہٰذا رول آف لاء کا تصور یا قانون کی بالادستی کا تصور اگر حقیقی طور پر کسی نظام نے دیا ہے، تو وہ صرف اسلامی شریعت ہے۔ جس میں یہ کہا گیا کہ تم سے پہلے قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ ان کے ہاں کمزور کے لیے الگ نظام تھا اور طاقتور کے لیے الگ نظام تھا؛ کمزور چوری کرتا تھا تو اس پر سزا جاری ہوتی تھی اور بالادست، طاقتور اور بااثر آدمی چوری کرتا تھا تو اس کو سزا سے محفوظ رکھا جاتا تھا۔ خدا کی قسم! پھر حضورؐ نے قسم کھا کر فرمایا — رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمن بھی سچا جانتے تھے، دشمن بھی دیانتدار سمجھتے تھے، قاتل بھی اپنی امانتیں انہی کے پاس رکھوایا کرتے تھے، جو قتل کرنے کے لیے آئے تھے گھر پر، ان کی امانتیں اسی گھر میں موجود تھیں، اس لیے حضورؐ کو قسم کھانے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن آپؐ نے مزید تاکید کے لیے قسم کھائی کہ ’’وایم اللہ‘‘ قسم ہے خدا کی اگر فاطمہ بنتِ محمدؐ بھی چوری کرتی تو ’’لقطعت یدہا‘‘ میں اس کا ہاتھ کاٹنے میں تامل نہ کرتا۔
یہ خصوصیت صرف فقہِ اسلامی کو حاصل ہے، دنیا کے کسی اور قانون یا نظام کو کبھی حاصل نہیں رہی۔
(جاری)



















