فیمنزم اور شاہ ولی اللہ کے عمرانی افکار

عصری فکری منظرنامے میں مسلم معاشروں کو جن نظریاتی اور تہذیبی چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں معاصر نسائیت (فیمنزم) اور اس کے زیرِ اثر پروان چڑھنے والا تشکیکی و الحادی رویہ سرفہرست ہے۔ موجودہ دور میں ارتداد اور فکری بے راہ روی کا سب سے زیادہ شکار مسلم نوجوان بالخصوص لڑکیاں ہو رہی ہیں، جنہیں مساواتِ مطلق اور انفرادی خود مختاری کے دلفریب مغربی تصورات نے شدید نظریاتی الجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔ جدیدیت کی اس یلغار کا سب سے مربوط اور منظم حملہ اسلام کے خاندانی، معاشی اور سماجی قوانین پر ہوا ہے۔ اس کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ناگزیر ہے کہ مغرب میں ابھرنے والی یہ نسائی تحریک ابتدا میں سماجی اور معاشی مساوات کی داعی رہی، پھر اس نے بتدریج ایک باقاعدہ 'فیمنسٹ تھیولوجی' (نسائی الہیات) کا روپ دھار لیا۔ بیسویں صدی کے وسط میں ویلری سیونگ اور میری ڈیلی جیسی فیمنسٹ مفکرین نے یہ دعویٰ کیا کہ تمام الہامی مذاہب کی الہیات 'پیٹریارکی' (پدرسری نظام) کی پروردہ ہیں۔ اس گمراہ کن تصور نے 'جیوش فیمنزم' (یہودی نسائیت) اور 'کرسچئین فیمنزم' (عیسائی نسائیت) کو جنم دیا، جس کا بنیادی مقصد مذہبی متون میں اصلاح کے نام پر تحریف کرنا، خواتین کو مخصوص عبادات کی قیادت سونپنا اور خدا کے مذکر تصور کو مونث میں تبدیل کرنا تھا۔ جب روایتی مذاہب کے متون میں کی جانے والی یہ تانیثی تعبیرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکیں تو بغاوت کے اس فلسفے نے 'ساٹانک فیمنزم' (شیطانی نسائیت) کی شکل اختیار کر لی، جس میں شیطان کو حوا کا خیر خواہ اور پدرسری نظام کی حاکمیت سے نجات دہندہ بنا کر پیش کیا گیا۔

مغرب کا یہ فکری ارتقاء جب مسلم معاشروں کی طرف بڑھا تو اس نے 'اسلامک فیمنزم' کا خوشنما لبادہ اوڑھ لیا۔ مارگوٹ بدران، اسماء برلاس، لیلیٰ احمد اور امینہ ودود جیسی فیمنسٹوں نے قرآن و سنت کی ایسی تعبیرِ نو شروع کی جو مغربی صنفی مساوات کے طے کردہ فریم ورک پر پوری اتر سکے۔ اس تحریک نے ریاست، سول اداروں اور روزمرہ زندگی میں صنفی مساوات کے نفاذ کے لیے نجی و عوامی شعبے کی تفریق کو یکسر مسترد کر دیا۔ امینہ ودود کا نیویارک میں نمازِ جمعہ کے مخلوط اجتماع کی امامت کروانا، اسراء نعمانی کا مساجد میں صنفی اختلاط کے لیے مہم چلانا، یا فدیلا عمارہ کا حجاب کو 'خواتین کی آزادی کا کفن' قرار دے کر اس پر پابندی کی بھرپور حمایت کرنا، دراصل اسی مغربی ایجنڈے کی کڑیاں ہیں۔ ان نسائی تحریکوں کا سب سے بڑا ہدف اسلام کا ازدواجی و عائلی نظام بنا، جس میں تعددِ ازدواج، مرد کا یک طرفہ حقِ طلاق، سرپرست (ولی) کی شرط اور وراثت میں تفاوت کو عورت کی مظلومیت اور محکومی کی علامت بنا کر پیش کیا گیا۔

جب ہم اسلام کے عمرانی ڈھانچے کا معروضی مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظام عدلِ تکمیلی اور صنفین کی حیاتیاتی جبلت پر استوار ہے۔ اس حوالے سے برصغیر کے عبقری مفکر اور متکلم، شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اپنی تصنیف 'حجۃ اللہ البالغہ' کے مباحثِ ارتفاقات میں خاندانی نظام کی جو عقلی، نفسیاتی اور کلامی اساس 'تدبیرِ منزل' کے عنوان سے فراہم کی ہے، وہ اس معاصر نسائی چیلنج کا ایک محکم اور مسکت جواب پیش کرتی ہے۔ البتہ شاہ صاحبؒ کے ان دقیق فلسفیانہ افکار کو موجودہ دور کے تناظر میں سمجھنے کے لیے برصغیر کے نامور عالم اور شارحِ حجۃ اللہ البالغہ، مفتی سعید احمد پالنپوریؒ کی شرح 'رحمۃ اللہ الواسعہ' بہترین رہنما ہے۔ مفتی صاحبؒ نے عصری تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ان عمرانی، خاندانی اور نفسیاتی حکمتوں کو اس سلیس اور مدلل انداز میں واضح کیا ہے جو آج کے جدید ذہن کے پیدا کردہ شکوک و شبہات کا مکمل ازالہ کر دیتا ہے۔

شاہ صاحبؒ اور ان کے شارح کی تفہیم کے مطابق، خاندان ایک حیاتیاتی اکائی ہے، اور 'ارتفاقِ ثانی' یعنی تمدنی ارتقا کا دوسرا اہم ترین مرحلہ اور ایک مکمل انتظامی ادارہ بھی۔ علمِ تدبیرِ منزل وہ حکمتِ عملی ہے جو ترقی یافتہ تمدن میں خاندانی تعلقات کی نگہداشت سے بحث کرتی ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ازدواجی زندگی کی بنیاد انسانی طبعی ضرورتوں سے جڑی ہے؛ ہم بستری کی ضرورت نے مرد و زن میں رفاقت پیدا کی اور پھر اولاد پر شفقت نے ان کی پرورش میں باہمی تعاون کی بنیاد رکھی۔ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت، دونوں کی فطری و جسمانی ساخت میں کچھ مخصوص کمالات اور کچھ کمزوریاں رکھی ہیں۔ عورت فطری طور پر اولاد کی پرورش کے طریقے مرد سے بہتر جانتی ہے۔ اس کی جبلت میں حیا اور خانہ نشینی کا رجحان غالب ہوتا ہے اور وہ گھریلو و لطیف کاموں میں طبعاً ماہر ہوتی ہے۔ فطری طور پر اس میں تابعداری اور موافقت کی صلاحیت مرد سے زیادہ ہوتی ہے۔ شاہ صاحبؒ کی اصطلاح میں اس کی عقلِ تدبیری، بدن اور عزم و حوصلہ نرم ہوتا ہے، جس کے باعث وہ سخت محنت اور بیرونی مشقت کے کاموں سے فطری طور پر گریزاں رہتی ہے۔ اس کے برعکس مرد کی ساخت اور عقلِ تدبیری بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ سخت اور صائب الرائے ہوتی ہے۔ مرد کی فطرت میں تسلط، مناقشے کی صلاحیت اور غیرت و حمیت کامل ہوتی ہے جو خاندان کے بیرونی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ مرد میں اولاد کی پرورش کا وہ لطیف سلیقہ نہیں پایا جاتا، نہ ہی وہ ہر وقت گھر میں بند رہ سکتا ہے۔ اس فطری تقسیمِ کار کی روشنی میں یہ بات پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ نکاح استحصالی معاہدہ بالکل نہیں ہے، بلکہ دونوں اصناف کی مجبوری اور ضرورت ہے جس سے وہ ایک دوسرے کی خامیوں کی تلافی کر کے ایک پرسکون معاشرتی اکائی تشکیل دیتے ہیں۔

فیمنسٹ ڈسکورس کی جانب سے ولایت (سرپرست کی شرط) پر جو شدید اعتراض کیا جاتا ہے، شاہ صاحب اس کی نہایت شاندار عقلی توجیہ پیش کرتے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ عورت کے معاملے میں مردوں کے اندر رقابت اور غیرت کا مادہ شدید ہوتا ہے، اس لیے سماجی امن کے لیے ضروری ہے کہ گواہوں، منگنی اور مہر کے ذریعے مرد کا کسی عورت کے ساتھ اختصاص (خاص ہونا) برملا اور درست طریقے سے طے کر دیا جائے۔ عورت چونکہ اپنے ولی کو عزیز ہوتی ہے، اس لیے ولی اسے ہر بیرونی دست درازی اور دھوکے سے محفوظ رکھتا ہے۔ نسائی تحریکیں ولایت کو عورت کی خود مختاری کی نفی سمجھتی ہیں، جبکہ درحقیقت یہ ایک ایسا حفاظتی حصار ہے جس کے ذریعے پورا خاندان عورت کے حقوق کا ضامن بن جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح محرم رشتہ داروں سے نکاح کی کامل حرمت میں بھی عظیم عمرانی اور نفسیاتی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ مفتی صاحبؒ تشریح فرماتے ہیں کہ اگر محارم میں اولیاء کی رغبت کا دروازہ کھول دیا جاتا تو اس سے عورت کو ناقابلِ تلافی ضرر پہنچتا۔ ولی خود عورت پر غاصبانہ قبضہ کر لیتا، اور مشکل وقت یا شوہر کی حق تلفی کی صورت میں عورت کے حقوق کا مطالبہ کرنے والا پشت پناہ ادارہ (یعنی میکہ) ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا۔ علاوہ ازیں، محارم سے نکاح کی صورت میں پیدا ہونے والے سوکنوں کے جھگڑے خونی رشتوں اور صلہ رحمی کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر دیتے۔

معاشی تفاوت اور وراثت میں عورت کے نصف حصے کو جدید دور کی فیمنسٹ مفکرین فرسودہ اور استحصالی قرار دیتی ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ آج کی انڈیپنڈنٹ اور خودمختار عورت چونکہ معاشی میدان میں مرد کے شانہ بشانہ ہے، اس لیے وراثت کا یہ قانون بدلنا چاہیے۔ یہ اعتراض دراصل اسلامی معاشیات کے بنیادی ڈھانچے سے کامل ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ اسلام میں مالی تقسیم کا معیار 'جینڈر' (صنف) ہے ہی نہیں، بلکہ اس کا اکلوتا معیار مالی ذمہ داری ہے۔ شاہ صاحب کے مطابق اسلام کا قانونِ نفقہ عورت کو جو مکمل معاشی تحفظ فراہم کرتا ہے، اس کی کوئی نظیر مغربی تہذیب میں نہیں ملتی۔ عورت بیٹی، بیوی یا ماں کی حیثیت میں مالی طور پر ہمیشہ کسی نہ کسی مرد کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ عورت جو کچھ کماتی ہے، وہ اس کی خالص ذاتی ملکیت ہے جس پر خاندان کا ایک روپیہ خرچ کرنا بھی اس پر شرعاً لازم نہیں۔ اس کے برعکس، مرد پر اپنی ذات، بیوی، بچوں اور بوقتِ ضرورت دیگر غریب رشتہ داروں کا نفقہ فرض کیا گیا ہے۔ عدل و انصاف اور معاشی توازن کا یہی بے لاگ تقاضا ہے کہ جس پر مالی بوجھ زیادہ ہو، اسے وراثت میں حصہ بھی دوگنا دیا جائے۔ اگر عورت کو معاشی ذمہ داریوں سے مکمل آزاد رکھنے کے باوجود مرد کے برابر حصہ دیا جاتا تو یہ مرد پر صریح ظلم اور خاندانی اقتصادیات کی تباہی کا سبب بنتا۔ اسلام نے مرد کی جسمانی ساخت اور انہی مالی ذمہ داریوں کے سبب اسے 'قوامیت' (خاندانی سربراہی) سونپی ہے۔ مغربی تہذیب نے جب عورت کو معاشی کفالت کے اس فطری حق سے محروم کیا تو وہاں خاندانی زندگی مہر و محبت سے خالی ہو کر ایک کچے دھاگے کی مانند رہ گئی ہے۔

قانونی اور سماجی مساوات کے حوالے سے عورت کی آدھی گواہی پر بھی معاصر لبرل اور نسائی حلقوں میں مستقل طعن و تشنیع کی جاتی ہے۔ شاہ ولی اللہؒ نے 'حجۃ اللہ البالغہ' میں عورت کی جبلت کے لیے 'أخفهما عقلاً' (عقلِ تدبیری میں ہلکا ہونا) اور 'أكثرهما انحجاماً من المشاق' کی جو اصطلاحات استعمال کی ہیں، ان اصطلاحات، یا احادیث میں وارد ہونے والے لفظ 'ناقصات عقل' سے مراد انسانی شرف، فہم، یادداشت یا 'آئی کیو' (ذہنی استطاعت) کی کمی ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد 'عقلِ تدبیری و تجارتی' ہے، جس کا تعلق خالصتاً بیرونی معاملات، کاروباری جوڑ توڑ اور عدالتی محاذ آرائی سے ہے۔ مالی و تجارتی تنازعات میں عورت کی گواہی کو نصف کرنا اس کی تحقیر نہیں ہے،، بلکہ اس کی فطری جبلت، لطافتِ مزاج اور 'امومہ' (ممتا) کے تقدس کا پاس رکھنا ہے، تاکہ عدالتی جرح اور کارروائیوں کے دوران اس پر نفسیاتی بوجھ نہ پڑے۔ ایک عورت کی بھول چوک پر دوسری کا اسے یاد دلانا اسی اعصابی و نفسیاتی تحفظ کا ایک لازمی اور مشفقانہ حصہ ہے۔ اسی بنیاد پر امامتِ صغریٰ و کبریٰ (ریاست کی سربراہی اور مخلوط مجمع کی امامت) عورت کے لیے ممنوع قرار دی گئی ہیں، کیونکہ یہ امور عورت کی فطری حیا اور تدبیرِ منزل کے اصل دائرے سے براہِ راست متصادم ہیں۔ اسلام کے احکامِ حجاب عورت کی سماجی پاکیزگی کو برقرار رکھنے اور معاشرے کو اخلاقی انارکی سے بچانے کا بنیادی ستون ہیں، جسمانی خود مختاری پر قدغن لگانا مقصود نہیں ہے۔

خاندانی تنازعات اور طلاق کے حوالے سے بھی اسلام کا موقف مکمل عدل پر مبنی ہے۔ شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ چونکہ مرد پر خاندان کی کفالت کا بوجھ ہے، اس لیے طلاق کا اختیار بنیادی طور پر اسے دیا گیا ہے تاکہ وہ نکاح ٹوٹنے کے مالی نقصان کے پیشِ نظر جذباتی اور عجلت پسندانہ فیصلوں سے گریز کرے۔ دوسری جانب عورت کو 'خلع' کا حق دے کر مضبوط عدالتی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ طلاق یا وفات کے بعد عدت کی پابندی 'استبراءِ رحم' اور نسب کی حفاظت کے لیے ایک ناگزیر عمل ہے تاکہ رشتوں کا تقدس خلط ملط ہونے سے بچ جائے۔ تعددِ ازدواج کو تنقید کا نشانہ بنانے والے مغربی مفکرین فراموش کر دیتے ہیں کہ یہ مرد کا کوئی بے مہار حق نہیں ہے، یہ سنگین سماجی مسائل کا ایک تدارک اور حل ہے۔ جنگوں اور آفات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیواؤں، یتیموں اور بے سہارا خواتین کے معاشی اور جنسی تحفظ کا اس سے بہتر اخلاقی راستہ کوئی نہیں۔ مغربی معاشرے نے جب اس پاکیزہ قانونی حل کو رد کیا، تو اسے ناگزیر طور پر مسٹریس کلچر (خفیہ داشتہ کی روایت) کی غلاظت میں پناہ لینی پڑی۔ اسی طرح گھریلو معاملات میں سورہ نساء کی آیت 'ضرب' کو گھریلو تشدد کے شرعی جواز کے طور پر پیش کرنا فیمنسٹ طبقے کی ایک اور بڑی فکری خیانت ہے۔ شاہ صاحبؒ کے نزدیک چونکہ خاندان ایک انتظامی ادارہ ہے، اس لیے اس کے نظم و ضبط کو قائم رکھنے کے لیے ناظم کے پاس تادیبی اختیارات کا ہونا لازم ہے۔ قرآن نے خاندانی بکھراؤ کو روکنے کے لیے ایک نفسیاتی علاج تجویز کیا ہے، جس میں افہام و تفہیم اور بستر الگ کرنے کے بعد آخری مرحلہ ایک علامتی ضرب ہے۔ احادیثِ مبارکہ کی صراحت کے مطابق یہ ضرب غیر مبرح ہونی چاہیے، جس سے جسم پر کوئی نشان نہ پڑے، اور چہرے پر مارنے کی تو سختی سے ممانعت ہے۔ نبی کریم ﷺ کا یہ اسوہ حسنہ تاریخ کے صفحات پر روشن ہے کہ آپ ﷺ نے پوری زندگی کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامک فیمنزم کا دعویٰ سرتاسر باطل اور فکری تضادات کا ملغوبہ ہے۔ فیمنسٹ تھیولوجی دراصل الہامی متون کو مسخ کر کے، اور اصلاحِ مذہب کا مغربی لبادہ اوڑھ کر، فرد کو خاندان کے حصار سے نکال کر تنہا اور مادر پدر آزاد کرنے کا ایک استعماری پروجیکٹ ہے۔ جب کہ اسلامی فقہ اور قوانین خالقِ کائنات کے وضع کردہ عدلِ تکمیلی کے کامل عکاس ہیں۔

اسلامی روایت اور جدید مباحث

(الشریعہ — اگست ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — اگست ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۸

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۴)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

امتِ مسلمہ کی تعمیر و تشکیل کا نبوی منہج (۱)
مولانا ڈاکٹر محمد ابوبکر فاروقی

محاضراتِ فقہ (۳)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۴)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۸)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

کیا خدا کو ڈھونڈنا آج زیادہ مشکل ہے؟
مولانا سیف الرحمٰن ادیب

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۵)
محمد سراج اسرار

امام طحاوی رحمہ اللہ کے مختصر حالات
مولانا مفتی رضاء الحق
مولانا محمد عثمان بستوی

عورت کا حقِ مہر و ملازمت: شرعی حقیقت اور رائج تصورات
مفتی سید انور شاہ

فیمنزم اور شاہ ولی اللہ کے عمرانی افکار
مولانا غالب شمس قاسمی

زکوٰۃ سے متعلق دو اہم استفسار
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

A Proven Path to Conquering Physical Limitations
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

رجوع الی اللہ — جشنِ آزادی کی اصل روح
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

سیاسی سفر اور ملکی و عالمی معاملات پر نقطۂ نظر
مولانا فضل الرحمٰن

اسلام کے سیاسی نظام پر کتب
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

مذہب، قانون اور جذبات
خورشید احمد ندیم

پاکستان کے لیے سعودی عرب کی حفاظت کا اعزاز
مولانا مفتی عبد الرحیم
مفتی عبد المنعم فائز
مولانا عبد الودود

وسطی ایشیا میں دینی روایت کے عروج و زوال اور بقا کی داستان
مفتی سید عدنان کاکاخیل

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۲)
حافظ مجددی

تلاش

شماریات