مسلمان حکمرانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کی فقہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

(مصنف کی کتاب ’’جہاد، مزاحمت اور بغاوت‘‘ کی ایک فصل)


شیخ یوسف القرضاوی کی ’’فقہ الجہاد‘‘ میں ایک اہم بحث مناقشۃ فقہ جماعات العنف کے عنوان کے تحت ہے ، جس میں شیخ قرضاوی نے کوشش کی ہے کہ مسلمان ریاستوں میں حکومتوں کے خلاف خروج کے قائلین کی فقہ کے اہم مبادی سامنے لا کر ان کی غلطی واضح کی جائے ۔ یہ بحث بہت مفید نکات پر مشتمل ہے ۔ 

و من نظر الی جماعات العنف ، القائمۃ الیوم فی عالمنا العربی مثلاً ( جماعۃ الجھاد، الجماعۃ الاسلامیۃ ، السلفیۃ الجھادیۃ ، جماعہ انصار الاسلام ۔۔۔ انتھاء بتنظیم القاعدۃ ): وجد لھا فلسفتھا و وجھۃ نظرھا ، و فقھھا الذی تدعیہ لنفسھا ، و تستند بالادلۃ من القرآن و السنۃ، و من اقوال العلماء ۔ (۱) 
[جو بھی ان تشدد پسند جماعتوں کا جائزہ لے گا جو آج عرب دنیا میں قائم ہیں ، جیسے جماعۃ الجہاد، الجماعۃ الاسلامیۃ ، السلفیۃ الجہادیۃ ، جماعۃ انصار الاسلام ۔۔۔ جن کی انتہا القاعدہ کی تنظیم پر ہوتا ہے ، تو وہ دیکھے گا کہ ان کا ایک مخصوص فلسفہ ، نقطۂ نظر اور فقہ ہے جس کا یہ اپنے لیے دعوی کرتی ہیں اور قرآن و سنت کے دلائل اور علما کے اقوال سے استدلال کرتی ہیں۔]

اس ضمن میں شیخ قرضاوی خصوصاً درج ذیل امور ذکر کرتے ہیں کہ ان تنظیموں کی نظر میں : 

۱ ۔ مسلمانوں کے حکمران مرتد ہوچکے ہیں ؛ 

۲ ۔ امام ابن تیمیہ کے مشہور فتوے کی رو سے ایسے حکمرانوں کے خلاف خروج واجب ہے ؛ 

۳ ۔ یہ حکومتیں مسلمانوں پر غیر مسلموں نے مسلط کی ہوئی ہیں ؛ 

۴ ۔ یہ حکمران برائی کو فروغ دیتے اور نیکی سے لوگوں کو روکتے ہیں اور اللہ کے حرام کردہ کاموں کو جائز ٹھہراتے ہیں ؛ 

۵ ۔ مسلمان ریاست میں مستقل رہایش پذیر غیر مسلم عقد ذمہ توڑ چکے ہیں کیونکہ وہ مسلمانوں کو جزیہ نہیں دیتے ؛ 

۶ ۔ مسلمان ریاستوں میں سیاحت یا تجارت کی غرض سے آنے والے غیر مسلم بھی مباح الدم ہیں کیونکہ ان کی ریاستیں مسلمانوں سے برسرجنگ ہیں ؛ 

و لو درس ھولاء فقہ الامان و الاستئمان ، و أحکامہ فی الشریعۃ الاسلامیۃ بمختلف مذاھبھا ، لایقنوا ان ھولاء السیاح و امثالھم لھم حق الامان ، الذی اعطاھم ایاہ الاسلام ، و لو کانوا فی الاصل حربیین ، و دولھم محاربۃ للاسلام و المسلمین ، و بھذا حرمت دماؤھم و اموالھم۔ (۲) 

شیخ قرضاوی صراحت کرتے ہیں کہ یہ فقہ صحیح نہیں ہے اور علما کی ذمہ داری ہے کہ اس کی غلطی واضح کریں ۔(۳) 

وہ خصوصاً ذکر کرتے ہیں کہ ان کی فقہ کی اہم غلطیاں درج ذیل امور میں ہیں : 

۱ ۔ جہاد کے حکم کی حقیقت اور غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کی صحیح نوعیت ؛ 

۲ ۔ اہل ذمہ کے ساتھ تعلقات کی صحیح نوعیت ؛ 

۳ ۔ برائی کو بدلنے ( تغییر منکر ) کا صحیح طریق کار ؛ 

۴ ۔ حکمران کے خلاف خروج کے لیے شرائط ؛ اور 

۵ ۔ مسلمان کی تکفیر کا مسئلہ ۔ (۴) 

پھر نتیجہ وہ یہ نکالتے ہیں کہ ان لوگوں کے خلوص میں کوئی شک وہ شبہ نہیں ہے لیکن مسئلہ ان کی فکر میں ہے : 

ازمۃ ھولاء ازمۃ فکریۃ ۔ لقد تبین ان آفۃ ھولاء ۔ فی الاغلب ۔ فی عقولھم ، و لیست فی ضمائرھم ، فاکثرھم مخلصون ، و نیاتھم صالحۃ ، و ھم متعبدون لربھم ۔۔۔ (۵) 

تاہم ساتھ ہی وہ یہ بھی قرار دیتے ہیں کہ حسن نیت سے غلط کام صحیح نہیں ہوجاتا ۔ 

تغییر منکر کے طریق کار میں ان لوگوں کو کیا غلطی لاحق ہوئی ہے ؟ شیخ قرضاوی اس سوال کے جواب میں ان شرائط کا ذکر کرتے ہیں جن کی پابندی تغییر منکر کے لیے اٹھنے والوں پر عائد ہوتی ہے : 

ا۔ یہ کہ اس کام کے برائی ہونے پر اجماع ہو کیونکہ اجتہادی مسائل پر اس حکم کا اطلاق نہیں ہوتا ؛ 

۲ ۔ وہ برائی واضح و آشکارا ہو جس کے لیے تجسس کی ضرورت نہ ہو ؛ 

۳ ۔ جس وقت اس برائی کا ارتکاب ہورہا ہو اس وقت اسے روکنے اور تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے ، ایسا نہ ہو کہ ارتکاب کے بعد یا ارتکاب سے پہلے تغییر منکر کے نام پر اقدام کیا جائے۔ 

۴ ۔ تغییر منکر کے لیے کی جانے والی کوشش میں زیادہ بڑی برائی یا برابر کی برائی وجود میں نہ آئے کیونکہ شرعی طور پر مسلم ہے کہ ضرر کو اس سے بڑے یا برابر کے ضرر کے ذریعے دور نہیں کیا جائے گا ۔ (۶) 

یہاں شیخ قرضاوی امام غزالی کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں کہ تغییر منکر کے متعدد مراتب ہیں ، جیسے اس بات کی توضیح کہ یہ کام برا ہے ، اس کے خلاف وعظ و نصیحت ، زجر اور تخویف ، ہاتھ سے براہ راست تبدیل کرنے کی کوشش ، مارپیٹ کی دھمکی ، برائی کے مرتکب کے خلاف طاقت کا استعمال اور اسے اور اس کے ساتھیوں کو مغلوب کرنے کی کوشش اور اس ضمن میں آخری تدبیر کے طور پر اسلحے کا استعمال یا اس کی دھمکی ۔ 

شیخ قرضاوی کی یہ بات بالکل صحیح ہے کہ تغییر منکر کے لیے اسلحے کا استعمال بالکل آخری حربہ ہے لیکن وہ اس کے عدم جواز کے لیے استدلال یہ کرتے ہیں کہ اس کام کے لیے معاصر قوانین کے تحت افراد کو اجازت نہیں ہے بلکہ یہ ریاست کے کرنے کا کام ہے ۔ درحقیقت شرعی و فقہی لحاظ سے بھی یہ کام افراد کے کرنے کا نہیں ، بلکہ ان لوگوں کے کرنے کا ہے جن کے پاس ولایہ ہے ، جیسا کہ اس باب میں ہم تفصیل سے واضح کرچکے ہیں ۔ شیخ قرضاوی نے خود بھی آگے تصریح کی ہے : 

و ھذا فی الغالب انما یکون لکل ذی سلطان فی دائرۃ سلطانہ، کالزوج من زوجتہ، و الأب مع أبناۂ و بناتہ، الذین یعولھم و یلی علیھم، و صاحب المؤسسۃ داخل مؤسستہ، و الأمیر المطاع فی حدود امارتہ و سلطتہ، و حدود استطاعتہ، و ھکذا ۔ (۷) 

عام لوگ یہ کام اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں تو جس فساد کا وہ خاتمہ چاہتے ہیں اس سے بڑا فساد وجود میں آجاتا ہے ۔ 

شیخ قرضاوی یہ بھی تصریح کرتے ہیں کہ منکر سے مراد حرام ہے ، خواہ صغائر میں ہو یا کبائر میں ، اگرچہ صغائر کے معاملے میں کبائر کی بہ نسبت تخفیف سے کام لیا جائے گا ۔ چنانچہ منکر کی تعریف میں مثال کے طور پر مستحبات کا ترک شامل نہیں ہے ۔ (۸) 

اس کے بعد شیخ قرضاوی اس امر کی طرف آتے ہیں کہ جب منکر کا ارتکاب حکمران کی جانب سے ہورہا ہو تو کیا اس کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جاسکتا ہے ؟ اس ضمن میں وہ ان روایات کی ، جن میں ایسے حکمرانوں کے خلاف طاقت کے استعمال کا ذکر آیا ہے ، وہ تاویل ذکر کرتے ہیں جو محدثین نے اختیار کی ہے اور جس پر اس باب میں ہم تفصیلی بحث کرچکے ہیں ، کہ یہاں طاقت کے استعمال سے مراد لازماً اسلحے کا استعمال نہیں ہے ۔ (۹) 

ہم اس باب میں امام جصاص کے حوالے سے اس پر تنقید کرچکے ہیں ۔ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ طاقت کے استعمال کا لازمی مفہوم اسلحے کا استعمال نہیں ہے لیکن آخری تدبیر کے طور پر ، جبکہ دوسری شرائط پوری ہورہی ہوں ، تو اسلحے کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے ، جیسا کہ امام ابو حنیفہ کا موقف ہے۔ (۱۰) 

البتہ شیخ قرضاوی کا اٹھایا گیا یہ نکتہ نہایت اہم ہے کہ حکمران انفرادی طور پر برائی کا ارتکاب کرتا ہو تو معاملہ کچھ اور ہوتا ہے لیکن جب پوری ریاستی مشینری منکر کے ارتکاب پر لگی ہوئی ہو تو کیا شراب کی چند بوتلیں توڑدینے ، یا موسیقی کی کسی محفل پر دھاوا بول کر چند لوگوں کی مارپیٹ سے تغییر منکر ہوجاتا ہے ؟ 

ولکن السؤال الأصعب فی المنکر اذا کان من عمل الدولۃ و أجھزتھا و مؤسساتھا المختلفۃ ، و تجلی ذلک المنکر فی انحرافات فکریۃ و تشریعیۃ و اعلامیۃ وسیاسیۃ واقتصادیۃ و تربویۃ و سلوکیۃ ۔ ھذہ لا یستطیع الأفراد أن یغیروھا بالید ، لأنھا لیست مجرد قدح من الخمر یشرب ، أو حفل غناء محرم ، انھا منکرات تغلغلت فی کیان المجتمع ، مھدت لھا أفکار ، و قامت علیھا تقالید، و حمتھا قوانین ، و رعتھا مؤسسات ۔ فلا یتصور تغییر ھذا کلہ من قبل فرد غیور أو أفراد متحمسین ، ان ھذا یحتاج الی تغییر نظام بنظام ، و حیاۃ بحیاۃ، و فلسفۃ بفلسفۃ أخری ۔ (۱۱) 

شیخ قرضاوی نے اس باب میں اور بھی کئی اہم نکات اٹھائے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی اہلِ علم بھی آگے بڑھ کر پاکستان کے خصوصی تناظر میں اس موضوع پر تفصیلی مباحثہ کرکے اس حیران و ششدر قوم کے لیے صحیح طرز عمل تجویز کریں ۔ و ما علینا الا البلاغ ۔ 


حوالہ جات

۱ ۔ فقہ الجہاد ۔ ج ۲ ، ص ۱۰۳۰ 

۲۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۳۴ 

۳۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۳۵ 

۴۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۳۵ ۔ ۱۰۳۶ 

۵۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۳۶ 

۶ ۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۴۰ ۔ ۱۰۴۱

۷۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۴۵ 

۸۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۴۱ 

۹ ۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۴۷ ۔ ۱۰۴۸ 

۱۰ ۔ تفصیل کے لیے دیکھیے : 

Sadia Tabassum, "Recognition of the Right to Rebellion in Islamic Law with Special Reference to the Hanafi Jurisprudence", Hamdard Islamicus, 34: 4 (2011), 55-91. 

مزید تفصیل کے لیے انھی مصنفہ کا پی ایچ ڈی کا غیر مطبوعہ مقالہ دیکھیے : 

Legal Status and Consequences of Rebellion in Islamic and Modern International Law: A Comparative Study (Islamabad: International Islamic University, 2016)

۱۱ ۔ ایضاً ۔ ص ۱۰۴۹ 

حالات و واقعات

اکتوبر ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۱۰

Since 1st December 2020

Flag Counter