لال مسجد کا سانحہ اور حنفی فقہ

محمد مشتاق احمد

لال مسجد کے سانحے کے مختلف پہلوؤں پر اہلِ علم کی بحث جاری ہے۔ اس سلسلے میں ایک موضوع یہ ہے کہ لال مسجد کے خطیب اور مہتمم اور دیگر متعلقہ افراد شریعت کی تعبیر کے معاملے حنفی فقہ کے پیروکار تھے، تو کیا ان کا طرز عمل فقہ حنفی کی رو سے درست تھا؟ اگر ہاں تو دیگر حنفی علما نے کیوں ان کی تائید نہیں کی؟ اور اگر نہیں تو حنفی ہوتے ہوئے انہوں نے حنفی فقہ کے قواعد سے روگردانی کیسے کی؟ یہ اور اس قسم کے دیگر کچھ سوالات روزنامہ ’’جناح‘‘ کے کالم نگار جناب آصف محمود ایڈووکیٹ صاحب نے اٹھائے ہیں۔ فاضل کالم نگار کے نزدیک حنفی فقہا کی رائے یہ رہی ہے کہ افراد کو نہی عن المنکر کے لیے طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں ہے اور اس ممانعت کی علت یہ ہے کہ اس طرح معاشرے میں انارکی اور انتشار پھیلتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حنفی فقہا، باوجود اس کے کہ موسیقی کے آلات کے استعمال کو ناجائز قرار دیتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کسی دوسرے شخص کے موسیقی کے آلات توڑ ڈالے تو وہ اسے تاوان ادا کرنے کا پابند ہے۔ اسی طرح ’’قانون ہاتھ میں لینے‘‘ کو حنفی فقہا ناجائز قرار دیتے ہیں۔ ہم ان تینوں امور کے متعلق حنفی فقہ کی جزئیات کی کچھ وضاحت پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر لال مسجد والوں کے طرز عمل کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ نیز ان امور کے ساتھ کچھ اور امور بھی متعلق ہیں جن پر فاضل کالم نگار نے بحث نہیں کی ہے۔ جب تک وہ امور بھی زیر بحث نہ لائے جائیں، لال مسجد والوں کے طرز عمل یا زیادہ صحیح الفاظ میں ’’رد عمل‘‘ کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ 

نہی عن المنکر کے لیے طاقت کا استعمال 

حنفی فقہا جب عام افراد کو نہی عن المنکر کے معاملے میں طاقت کے استعمال سے روکتے ہیں تو وہ اس حکم کی علت یہ نہیں ذکر کرتے کہ اس طرح معاشرے میں انارکی پھیلتی ہے۔ یقیناًانارکی پھیلنا ایک بڑا شر ہے جس سے معاشرے کو بچانا چاہیے لیکن یہ ایسا وصف نہیں ہے جسے اصطلاحی مفہوم میں ’’علت‘‘ کہا جائے۔ اسے زیادہ سے زیادہ اس حکم کی ’’حکمت‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ حنفی فقہا اس حکم کی علت یہ ذکر کرتے ہیں کہ اگر آپ کسی شخص سے کوئی کام جبراً لینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے قانونی طور پر ضروری ہے کہ آپ کو اس شخص پر ’’ولایت‘‘ (Authority) حاصل ہو۔ یہ ولایت دو طرح سے وجود میں آتی ہے۔ کبھی تو بعض افراد کو بعض دیگر افراد پر، مثلاً باپ کو نابالغ بیٹے پر، شریعت کے کسی حکم کی رو سے حاصل ہوتی ہے اور کبھی باہمی معاہدے کے نتیجے میں کسی کو ولایت حاصل ہوجاتی ہے، مثلاً عقد وکالت (Contract of Agency) کے نتیجے میں وکیل (Agent) کو اصیل (Principal) کی نمائندگی کے لیے ولایت حاصل ہو جاتی ہے، اس لیے وکیل کو اگر خرید و فروخت کے لیے ولایت دی گئی ہو تو وہ عقد وکالت کے حدود کے اندر رہتے ہوئے اصیل کے لیے خرید و فروخت کرسکتا ہے۔ قاضی اور مفتی کا کام اس لحاظ سے تو ایک ہی ہوتا ہے کہ دونوں کسی پیش آمدہ مسئلے میں شریعت کا حکم متعین کرتے ہیں، لیکن ان کے فیصلوں میں اصل جوہری فرق یہی ہے کہ مفتی کی رائے کے پیچھے الزامی قوت (Binding Force) نہیں ہوتی، جبکہ قاضی کی رائے ریاستی جبر کے ذریعے نافذ کی جاتی ہے کیونکہ قاضی کو ولایت عامہ حاصل ہے جو مفتی کو حاصل نہیں ہوتی۔ پس دین کا علم اور فہم رکھنے والا شخص کسی برے کام کو برا تو کہہ سکتا ہے اور اس برائی کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش بھی اس کا فرض ہے، لیکن اس برائی کی جبراً روک تھام کے لیے اگر اس کے پاس ولایت نہیں ہے تو وہ زبردستی اسے نہیں روک سکتا۔ وہ صرف انہی لوگوں کو جبراً اس برائی سے روک سکتا ہے جن پر اسے ولایت حاصل ہو۔ دیگر لوگ، جن پر اسے ولایت حاصل نہ ہو، اگر اس برائی کا ارتکاب کر رہے ہوں تو اسے صاحب ولایت کی طرف رجوع کرنا چاہیے تاکہ وہ انہیں جبراً روکے۔ میری ناقص رائے میں حنفی فقہا کی رائے کی یہی صحیح تعبیرہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو ولایت حاصل ہو، وہ اس برائی کو نہ روکنا چاہیں یا وہ اسے برائی ہی نہ کہیں تو کیا کیا جائے گا؟ یہی وہ اصل مسئلہ ہے جس سے دیگر سنگین نوعیت کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ جو لوگ برائی کی روک تھام چاہتے ہیں، انہیں ولایت حاصل نہیں ہے اور جنہیں ولایت حاصل ہے، وہ برائی کی روک تھام میں ناکام رہے ہیں۔ 

قانون ہاتھ میں لینے پر سزا اور جرمانہ 

جناب آصف محمود صاحب کے مطابق حنفی فقہ کا اصول یہ ہے کہ اگرچہ موسیقی کے آلات کا استعمال حرام ہے، لیکن اگر کسی شخص نے کسی دوسرے شخص کے آلات موسیقی توڑ ڈالے ہیں تو اس پر لازم ہے کہ وہ ان کا تاوان ادا کرے۔ ہماری ناقص رائے میں فقہ حنفی کی یہ تعبیر درست نہیں ہے۔ آصف محمود صاحب جانتے ہیں کہ شریعت کی اصطلاح میں مال دو طرح کا ہے: مال متقوم اور غیر متقوم۔ مثلاً شراب لوگوں کے نزدیک خواہ مال ہو، لیکن شریعت کی اصطلاح میں مال نہیں ہے ، اس لیے اسے مال غیر متقوم کہا جاتا ہے، یعنی شریعت کے نزدیک اس مال کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ جس مال کی قیمت نہ ہو، اس کا ضمان (تاوان) بھی ادا نہیں کیا جاتا، اس لیے اگر کسی مسلمان کے پاس شراب ہو اور کوئی دوسرا مسلمان اسے بہادے تو حنفی فقہا کے نزدیک بھی اس شراب کا ضمان نہیں ادا کیا جائے گا۔ البتہ اگر اس نے شراب کا برتن بھی توڑ ڈالا اور وہ برتن محض شراب ہی کے لیے نہیں تھا، بلکہ دیگر جائز مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا تو اس برتن کی قیمت ادا کرنی لازم ہوگی۔ اسی طرح اگر موسیقی کے آلات توڑ ڈالے تو آلے کی کوئی قیمت نہیں ادا کی جائے گی، البتہ اگر مثال کے طور پر وہ آلہ لکڑی سے بنایا گیا ہو تو اس لکڑی کی قیمت ادا کر دی جائے گی۔ 

باقی رہا یہ سوال کہ ایسا کرکے اس شخص نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے یا بہ الفاظ دیگر ولایت نہ رکھنے کے باوجود اس نے جبراً ایک برے کام کی روک تھام کی ہے تو اس پر حاکم اس کی تادیب اور سرزنش کرسکتا ہے کیونکہ ایسا کرکے اس نے حاکم کے اختیارات میں مداخلت ( سرخسی کے الفاظ میں افتیات علی رأی الامام) کی ہے۔ اس قسم کی تادیبی کارروائی کے لیے حکمران کو جو اختیار حاصل ہے، اسے حنفی فقہ کی اصطلاح میں ’’سیاسۃ‘‘ کہتے ہیں۔ یہ حنفی فقہ کا ایک نہایت اہم قاعدہ ہے جس کی وضاحت بہت ضروری ہے، اس لیے مناسب ہوگا کہ یہاں اس کی کچھ تفصیل کی جائے ۔ 

معاشرے سے فساد کے خاتمے کے لیے حکمران کا اختیار اور اس کی حدود 

حکمران کے فرائض میں ایک اہم فریضہ معاشرے کو فساد اور انتشار سے بچانے کا ہے۔ اس ضمن میں شریعت نے اسے اختیار دیا ہے کہ وہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو مناسب تادیبی سزا سنائے۔ جرم کی مناسبت سے اس سزا میں کمی بیشی اور تخفیف یا معافی کا اختیار بھی حاکم کے پاس ہے اور ثبوت جرم کا طریق کار بھی وہی وضع کرے گا۔ بہت سے امور ایسے ہیں جنہیں شریعت نے ممنوع قرار دیا ہے، لیکن ان کے لیے کوئی دنیوی سزا قرآن یا سنت میں مقرر اور متعین نہیں کی گئی ہے ۔ ایسے امور میں قانون سازی کا اختیار سیاسۃ کے قاعدے کے تحت حکمران کو حاصل ہے۔ ابن عابدین نے سیاسۃ کی تعریف کچھ اس طرح کی ہے کہ اس سے مراد حکمران کو شریعت کا عطا کردہ وہ اختیار ہے جس کے تحت وہ معاشرے سے فساد کے خاتمے کے لیے ان امور میں مناسب سزا سنا سکتا ہے جن کو شریعت نے ممنوع قرار دیا ہو۔ چنانچہ اس قاعدے کے تحت حنفی فقہا نے قرار دیا ہے کہ لواطت یا ہم جنس پرستی پر زنا کی حد لاگو نہیں ہوتی، لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کا اتفاق تھا کہ اس شنیع کام کے مرتکب کو عبرت ناک طریقے سے سزائے موت دی جائے۔ اس بنا پر حنفی فقہا نے قرار دیا ہے کہ اس طرح کے عادی مجرم کو سیاسۃً سزائے موت دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح جب عہد رسالت میں ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر بھاری پتھر سے کچل دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی طرح کی سزا سنائی تھی تو حنفی فقہا اسے حد یا قصاص قرار دینے کے بجائے سیاسۃ قرار دیتے ہیں۔ 

یہاں یہ واضح کرنا نہایت ضروری ہے کہ سیاسۃ کا یہ اختیار مطلق نہیں ہے کہ فساد کے خاتمے کے نام پر حکمران اپنی مرضی سے اپنے مخالفین کو سزائیں سناتا رہے۔ حکمران کا یہ اختیار شریعت کے قواعد عامہ کے ذریعے مقید اور محدود کردیا گیا ہے، چنانچہ سزا سناتے وقت حاکم کو ان قواعد کا لازماً لحاظ رکھنا ہوگا۔ مثلاً جرم کی نوعیت کیا تھی؟ کیا ملزم کو صفائی کا موقع دیا گیا؟ کیا انصاف کے تقاضے پورے کیے گئے؟ نیز کہیں سزا جرم کی مناسبت سے زیادہ شدید تو نہیں ہے؟ موجودہ دور میں دستور اور فوجداری قانون کے جو مقتضیات ہیں، ان کو پورا کرنا بھی سیاسہ شرعیہ میں شامل ہے۔ ابن عابدین اور دیگر حنفی فقہا نے صراحت کی ہے کہ سیاسہ کی دو قسمیں ہیں : سیاسہ عادلہ جس کا شریعت حکم دیتی ہے، اور سیاسہ ظالمہ جس کو شریعت حرام ٹھہراتی ہے ۔ 

یہاں ہم ان چند مباحث کے متعلق بھی اپنی رائے واضح کرنا چاہتے ہیں جو موضوع زیر بحث سے براہ راست متعلق ہیں لیکن جن سے جناب آصف محمود صاحب نے تعرض نہیں کیا۔ ہماری ناقص رائے میں ان پر بحث کیے بغیر اس معاملے کی محض ادھوری تصویر ہی پیش کی جاسکتی ہے اور اس معاملے کی صحیح نوعیت کو نہیں سمجھا جاسکتا۔ 

نہی عن المنکر اور حکومت کی ذمہ داری 

یہ ایک معلوم اور مسلم حقیقت ہے کہ اسلامی شریعت کی رو سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ریاست کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر ریاست اس فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی کا ارتکاب کرتی ہے تو وہ گویا اپنا مقصد وجود کھو بیٹھتی ہے ۔ جب اس فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی ہونے لگے تو کون سے مراحل سامنے آتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں اس کی بھی تفصیلی وضاحت کی گئی ہے۔ پہلے تو لوگ اس فریضے کی ادائیگی میں سستی کا اظہار کرنے لگتے ہیں، پھر بتدریج برائی کو برائی سمجھنے کا احساس ہی مرجھا جاتا ہے اور پھر بالآخر وہ مرحلہ آجاتا ہے جب برائی کی دعوت کھلے عام دی جاتی ہے اور اچھائی سے لوگوں کو زبردستی روکا جانے لگتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشاد ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ اس طرح کے معاشرے پر ایسا فتنہ لے آتا ہے کہ اس معاشرے کے دانشور بھی اس کا حل تلاش نہیں کرپاتے ۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ چند لوگوں کے جرم کی وجہ سے معاشرے کو عمومی عذاب نہیں دیا کرتا ، یہاں تک کہ لوگ کھلے عام برائی کا ارتکاب دیکھیں اور اس کی روک تھام پر قادر ہوتے ہوئے بھی اس کو نہ روکیں ۔ جب ایسی حالت ہو تو پھر اللہ تعالیٰ ان مجرموں کے ساتھ ساتھ اس معاشرے کو بھی عمومی عذاب دیتا ہے۔ یہ عذاب ضروری نہیں کہ قدرتی آفت کی صورت میں ہی ہو۔ سورۃ الانعام آیت ۶۵ کے مطابق عذاب کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ لوگ آپس میں کٹ مرنے لگتے ہیں ۔ 

یہ تو اس معاملے کا اخلاقی اور معاشرتی پہلو ہوا۔ جہاں تک اس مسئلے کے قانونی پہلو کا تعلق ہے، اسے فقہا بغاوت اور خروج کے مباحث میں ذکر کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو حکم ہے کہ وہ معاشرے میں انتشار پھیلانے سے گریز کریں، اس لیے کہا گیا ہے کہ اگر انہیں حاکم کا کوئی حکم پسند نہ بھی ہو تو وہ اطاعت کی روش اختیار کریں، الا یہ کہ حاکم کوئی ایسا حکم دے جو شریعت سے متصادم ہو۔ مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ خلافِ شریعت حکم میں کسی کی اطاعت کرے ۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ لازماً بغاوت ہی کرے۔ خلافِ شریعت حکم کی اطاعت سے انکار اور ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا مسلمان کے ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ اس وجہ سے اگر اسے مشکلات پیش آئیں تو انہیں خندہ پیشانی سے سہنا اور ثابت قدم رہنا بھی ایمان کے مقتضیات میں شامل ہیں ۔ 

البتہ بعض امور ایسے ہیں جن کے ارتکاب پر حاکم کا ہٹانا لازم ہو جاتا ہے۔ مثلاً اگر حاکم نے کفر کا ارتکاب کیا تو وہ حکومت کا حق کھو بیٹھتا ہے۔ اس کی قانونی وجہ بھی بالکل سیدھی سادھی ہے۔ اسلامی قانون کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ غیر مسلم کو مسلمانوں پر ولایت عامہ حاصل نہیں ہے۔ نیز حدود اور قصاص کے معاملات میں غیر مسلم کی گواہی ناقابل قبول ہے، چنانچہ حدود اور قصاص کے مقدمات میں غیر مسلم قاضی نہیں بن سکتا۔ حاکم کے فرائض میں ایک اہم فریضہ حدود اللہ کا نفاذ ہے ۔ اس لیے غیر مسلم اسلامی ریاست کا حاکم نہیں ہوسکتا۔ فقہا نے اس امر پر تو اختلاف کیا ہے کہ اگر حاکم یا قاضی فاسق ہو جائے (مثلاً وہ کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرے) تو کیا اسے حکومت اور قضا سے ہٹانا واجب ہے اور کیا اس کے فیصلے نافذ ہوں گے ؟ تاہم اس امر پر کوئی اختلاف نہیں ہے کہ کفر کی صورت میں حاکم یا قاضی کی معزولی واجب ہو جاتی ہے۔ اب یہ بھی ایک مسلمہ امر ہے کہ کفر کا ارتکاب جیسے قول کے ذریعے کیا جاتا ہے، اسی طرح بعض افعال کے ارتکاب پر بھی کسی شخص پر کفر کا حکم لاگو ہو سکتا ہے۔ البتہ اگر مسلمان کے کسی قول یا فعل کی کئی تعبیرات ممکن ہوں تو اس تعبیر کو اختیار کیا جائے گا جس کے تحت اس کی طرف کفر کی نسبت نہ ہو۔ تاہم اگر کسی قول یا فعل کی ایسی تاویل ممکن نہ ہو اور وہ ہر لحاظ سے کفر کے زمرے میں آتا ہو تو اس قول کے قائل یا اس فعل کے مرتکب پر کفر کے احکام کا اطلاق ہوتا ہے جن میں ایک اہم حکم یہ ہے کہ اگر وہ حاکم یا قاضی ہو تو اس کی معزولی واجب ہو جاتی ہے۔ 

فسق یا کفر کی صورت میں خروج اور بغاوت 

اگر حاکم کے فسق کی وجہ سے یا اپنے فرائض کی عدم ادائیگی کی وجہ سے اس کی معزولی جائز ہو جاتی ہے تو دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے کیسے معزول کیاجائے؟ اگر تو اسے ہٹانے کے لیے پر امن راستے کھلے ہیں تو ظاہر ہے انہی میں سے کسی کا انتخاب کرنا ہوگا، لیکن اگر پر امن ذرائع سے ایسے حاکم کا ہٹانا ممکن نہ ہو تو کیا اسے جبراً ہٹایا جا سکتا ہے؟ دوسرے الفاظ میں کیا اس کے خلاف بغاوت کی جاسکتی ہے؟ اس سلسلے میں فیصلے کے لیے ایک اہم عامل یہ ہے کہ کیا بغاوت کرنے والے اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ وہ حکمران کی قوت سے ٹکرا سکیں؟ نیز حکمران کے ہٹانے میں جو خونریزی ہوگی، کیا وہ حکمران کے برقرار رہنے کے شر سے کم ہے یا زیادہ؟ ہر بغاوت کے موقع پر ان دونوں سوالات پر اہل علم کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی تاریخ میں جب بھی حکمران کے خلاف خروج ہوا ہے تو حکمران کے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں میں کچھ نے بغاوت اور خروج کی راہ اختیار کی اور کچھ نے اس کے نتیجے میں ہونے والی خونریزی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے یہ راہ اختیار کی کہ حاکم کے ظلم کو ظلم کہتے ہوئے اور اس کے غیر شرعی احکام کو نہ مانتے ہوئے اس کے ظلم و ستم کو سہتے رہے۔ تاہم اگر حاکم کے کفر کی وجہ سے اس کی معزولی شرعاً واجب ہو چکی ہو اور پر امن ذرائع سے اس کا ہٹانا ممکن نہ ہو تو اس کے خلاف خروج اور بغاوت لازم ہو جاتی ہے۔ 

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد دیگر ائمۂ اہل بیت کے خروج کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ یا تو ان کے نزدیک حاکم کی معزولی واجب ہو چکی تھی یا کم ازکم جائز ہوچکی تھی اور ان کے اجتہاد کے مطابق اس کے ہٹانے کے سلسلے میں جو خونریزی متوقع تھی، وہ اس شر کی بہ نسبت کم تھی جو اس حاکم کے حکمران رہنے کی صورت میں وقوع پذیر ہورہا تھا۔ دوسری طرف جن اہل علم نے خروج اور بغاوت کی راہ اختیار نہیں کی، ان کے نزدیک حاکم کی معزولی واجب نہیں ہوئی تھی۔ (اس نے کفر کا ارتکاب نہیں کیا تھا) اور ان کے اجتہاد کے مطابق یا تو پر امن ذرائع سے تبدیلی ممکن تھی یا خروج کی صورت میں ہونے والی خونریزی حاکم کے شر سے زیادہ تھی۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہر جائز و ناجائز میں حاکم کی اطاعت کا درس دیتے رہے اور ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کی مدد کرتے رہے۔ یاد ہوگا کہ امام ابو حنیفہ نے بنو امیہ اور بنو عباس کے خلفا کے خلاف خروج میں عملی شرکت نہیں کی لیکن کئی مواقع پر ان کی ہمدردیاں باغیوں ہی کے ساتھ تھیں اور انہوں نے ان کی مالی مدد بھی کی۔ وہ ظالم حکمرانوں کے ظلم کے خلاف آواز بھی بلند کرتے رہے اور اس ’’جرم‘‘ کی پاداش میں انہیں سزائیں بھی دی جاتی رہیں ۔ 

یہی اختلاف رائے آج کل کے اہل علم میں بھی پایا جاتا ہے۔ جو لوگ خروج اور بغاوت کی راہ اختیار کرتے ہیں، وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ حکومت اپنا جواز کھو بیٹھی ہے اور پر امن ذرائع سے اس کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ پس اصل سوال یہ نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہ کے پیروکاروں نے حنفی فقہ کے اصولوں سے کیسے روگردانی کی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ حکومت کی تبدیلی اور اصلاحِ احوال کے پر امن ذرائع پر لوگوں کا اعتماد کیوں ختم ہوگیا ہے؟ کیا اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ حکومت جمہوری اصولوں کے بجائے جبر اور طاقت سے قائم کی گئی ہے، اس لیے جو لوگ حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں، وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ جمہوری اصولوں کے بجائے طاقت اور جبر ہی کے ذریعے تبدیلی لائی جا سکتی ہے؟ 

باغیوں کے ساتھ سلوک 

سرخسی اور دیگر حنفی فقہا نے تصریح کی ہے کہ جب مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں اور معلوم نہ ہوپا رہا ہو کہ کون حق پر ہے تو اصلاحِ احوال کی کوشش تو لازم ہے مگر کسی متحارب گروہ کا ساتھ نہیں دینا چاہیے جب تک کہ یہ یقین نہ ہو کہ وہ گروہ حق پر ہے۔ چنانچہ اگر یہ معلوم ہو کہ حکمران ہی حق پر ہے اور اس کے خلاف خروج کرنے والے باطل پر ہیں تو حکمران کا ساتھ دینا چاہیے۔ واضح رہے کہ بغاوت کے احکام تبھی لاگو ہوں گے جب حکومت کے خلاف خروج کرنے والوں نے کسی خاص خطۂ زمین پر قبضہ کر لیا ہو اور وہاں اپنی حکومت اس طور پر قائم کرلی ہو کہ مرکزی حکمران کا وہاں کوئی عمل دخل نہ ہو ، باغیوں کی اپنی فوج ہو اور وہ مرکزی فوج کو باغیوں کی سرزمین (دارالبغی) میں داخل ہونے سے روکے رکھے۔ حکمران باغیوں کی بغاوت کچلنے کے لیے اور معاشرے میں امن کے قیام کے لیے باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی بھی کرسکتا ہے لیکن اس فوجی کارروائی میں اور اس میں جو دشمنوں کے خلاف کی جاتی ہے، کئی فروق ہیں ۔ 

حنفی فقہا نے بغاوت کے باب میں تقریباً تمام احکام سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے اخذ کیے ہیں ۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ حکومت کے خلاف خواہ کوئی کتنی ہی تنقید کرے، لیکن جب تک اس نے مسلح جنگ شروع نہ کی ہو، اس کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کی جاسکتی ۔ کوفہ کی جامع مسجد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ جمعے کا خطبہ دیتے تھے تو کئی لوگ ان کے سامنے ان کو برا بھلا کہتے تھے، لیکن آپ نے واضح کیا کہ آپ لوگوں کا نعرہ تو صحیح ہے لیکن اس سے آپ جو نتیجہ نکالتے ہیں وہ غلط ہے ۔ اس کے باوجود حکومت کی جانب سے دی گئی ساری مراعات آپ کو حاصل رہیں گی جب تک آپ لوگ ہم سے جنگ نہ کریں۔ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے حنفی فقہا نے یہ قاعدہ بھی اخذ کیا کہ باغی اگر میدان جنگ چھوڑ کر فرار ہونا چاہے تو اس کا تعاقب نہیں کرنا چاہیے، الا یہ کہ وہ کسی اور گروہ کی طرف جا کر دوبارہ جنگ کی آگ بھڑکانا چاہے۔ باغیوں میں اگر کوئی ہتھیار ڈالے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ محض بغاوت کی بنا پر سزائے موت نہیں دی جاسکتی، بلکہ جنگ میں کسی کو قتل کرنے پر بھی سزائے موت نہیں دی جاسکتی، الا یہ کہ اس نے جنگ سے پہلے یا جنگ کے دوران میں یا قید ہونے کے بعد کوئی ایسا جرم کیا ہو جس کی بنا پر وہ سزائے موت کا مستحق ہو چکا ہو۔ باغی عورتوں کو صرف ایک صورت میں قتل کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جنگ کے دوران میں کوئی باغی عورت کسی پر حملہ کرے اور حملے کی زد میں آنے والے شخص کے پاس اپنی جان بچانے کے لیے اور کوئی راستہ نہ ہو۔ اس کے علاوہ اور کسی صورت میں باغی عورتوں کو قتل نہیں کیا جاسکتا، بلکہ ان کو زیادہ سے زیادہ جو سزا سنائی جا سکتی ہے، وہ یہ ہے کہ انہیں اس وقت تک قید میں رکھا جائے جب تک بغاوت مکمل طور پر ختم نہ ہو جائے۔ اس کے بعد ان کو رہا کرنا پڑے گا۔ باغیوں سے حاصل ہونے والا اسلحہ اور مال اس وقت تک سرکاری تحویل میں ہوگا جب تک بغاوت مکمل طور پر ختم نہ ہو۔ اس کے بعد ہر شخص کو اس کا مال واپس لوٹایا جائے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جنگ کے بعد سارا مال ایک بڑے میدان میں رکھ دیا تھا اور ہر شخص نے اپنا مال پہچان کر اور اس کا ثبوت دے کر واپس لے لیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے فقہاے احناف نے یہ قاعدہ بھی اخذ کیا کہ باغیوں کے ساتھ توہین آمیز اور غیر انسانی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ 

اس ساری بحث کے بعد لال مسجد کے سانحے میں حکومت کے طرز عمل کے متعلق حنفی فقہ کی رو سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ کیا لال مسجد والوں کو باغی اور لال مسجد کے احاطے کو دارالبغی کہا جاسکتا تھا؟ اگر ہاں تو حکومت نے ان باغیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا، کیا وہ صحیح اور جائز تھا؟ اور اگر لال مسجد والوں کا جرم اتنا سنگین نہیں تھا کہ اسے بغاوت قرار دیا جاسکے، تب اس سے زیادہ اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ حکومت نے جو کچھ کیا، اسے سیاسہ عادلہ کہا جائے یا سیاسہ ظالمہ؟ 

حالات و واقعات

(اگست ۲۰۰۷ء)

اگست ۲۰۰۷ء

جلد ۱۸ ۔ شمارہ ۸

Flag Counter