سورۃ الانعام اور سورۃ النحل کے زمانۂ نزول کے تعین کا مسئلہ

محمد مشتاق احمد

شان نزول کی روایات اور سورتوں کی اندرونی شہادتیں 

کتب تفاسیر میں بعض اوقات ایک ہی سورت کے متعلق شان نزول کی بہت سی روایات مل جاتی ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی آیت کے کئی اسباب نزول ذکر کیے جاتے ہیں۔ کبھی آیات کے مضامین کی اندرونی شہادت یہ ہوتی ہے کہ ان کا نزول مکہ میں ہوا تھا، لیکن شان نزول کی روایت میں مدنی دور کا واقعہ ذکر ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات سورت کے نظم کی گواہی یہ ہوتی ہے کہ پوری سورت بیک وقت نازل ہوئی مگر روایات میں بعض آیات کا الگ الگ شان نزول ذکر ہوتا ہے۔ اس قسم کی الجھنوں کے حل کے لیے امام الہند شاہ ولی اللہ نے جو تحقیق اپنے رسالے ’’الفوز الکبیر فی علوم التفسیر‘‘ میں پیش کی ہے، اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

صحابہ کرام اور دیگر متقدمین علما جب نزلت فی کذا  اور اس قسم کی دیگر تراکیب استعمال کرتے تھے تو ان کا یہ مطلب نہیں ہوتا تھا کہ بعینہ وہی واقعہ اس آیت کے نزول کا سبب بنا جو اس روایت میں بیان ہوا، بلکہ بعض اوقات ان کی مراد یہ ہوتی تھی کہ عہد نبوی یا اس کے بعد کا یہ واقعہ بھی اس آیت کا مصداق ہے۔ کبھی صحابہ کوئی سوال کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی سے نازل شدہ کسی آیت سے اس کا حکم مستنبط کرکے بیان فرما دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استنباط بھی دراصل وحی، القا اور نفث فی الروع کی قسم ہوتی، اس لیے اس طرح کے موقع پر فانزل اللہ تعالی قولہ کے الفاظ کا استعمال جائز ہوتا۔ کبھی صحابۂ کرام کے باہمی مباحثوں میں آیات سے استشہاد ہوتا یا بطور تمثیل ان کا ذکر ہوتا۔ اس قسم کی روایات کو بھی مفسرین اسباب نزول میں ذکر کرتے ہیں۔ اسی طرح صحابۂ کرام یہود ، نصاریٰ، مشرکین اور دوسرے فرق ضالہ کی اعتقادی اور عملی برائیاں بیان کر کے کسی آیت کی تلاوت کرتے اور کہتے کہ نزلت فی کذا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا تھا کہ بعینہ یہی اعمال و عقائد ان آیات کے نزول کا سبب بنے، بلکہ ان کی مراد یہ ہوتی تھی کہ اسی قسم کے عقائد اور اعمال کے متعلق یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔ بہ الفاظ دیگر یہ آیات ان عقائد اور اعمال پر بھی منطبق ہوتی ہیں۔ اسی طرح کبھی قرآن مجید میں اچھے اور برے لوگوں کی صفات بیان کی جاتی ہیں۔ ان صفات کا کسی خاص شخص یا اشخاص سے مخصوص کرنا ضروری نہیں ہوتا، بلکہ عام طور پر جن میں بھی وہ صفات ہوں، وہ ان آیات کے مصداق شمار ہوں گے۔ 

شاہ ولی اللہ کہتے ہیں کہ فی الجملہ مفسر کے لیے دو چیزوں کی معرفت ضروری ہے : ایک وہ واقعات جن کی طرف آیات میں اشارہ ہو کیونکہ ان کے علم کے بغیر آیات کے ایما کو سمجھنا ممکن نہیں ہوتا۔ دوسرے وہ واقعات جن سے عام کی تخصیص ہوتی ہو یا اور کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہو۔ اس مؤخر الذکر اصول کو شاہ ولی اللہ علم توجیہ اور تاویل سے متعلق کر دیتے ہیں۔ (۱) 

شاہ صاحب کی رائے کوئی انوکھی یا منفرد رائے نہیں ہے۔ یہی رائے دیگر محققین علما نے بھی اختیار کی ہے۔ (۲) اس اصولی تحقیق کو ماننے کے باوجود مفسرین بالعموم شان نزول کی روایات کو ان کے ظاہری مفہوم کے ساتھ قبول کرکے انہیں سورت کی اندرونی شہادتوں پر فوقیت دیتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بعض سورتوں کا نزول ٹکڑوں میں ہوا۔ یہ بھی مسلم ہے کہ بعض سورتوں کے چند ٹکڑے ہجرت سے قبل اور چند ٹکڑے ہجرت کے بعد نازل ہوئے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان ٹکڑوں کی پہچان کے لیے سورت کے اندر کوئی نشانی نہیں پائی جاتی۔ نیز ان دونوں حقائق کے ساتھ ساتھ ایک تیسری حقیقت بھی مسلم ہے کہ بہت سی سورتوں کا نزول یک بارگی ہوا ہے۔ پس کسی سورت کی مختلف آیات کے متعلق محض یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ چونکہ بعض سورتیں ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہیں، اس لیے یہ بھی ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہوگی، کیونکہ اس کے جواب میں بالکل برابر کی سطح پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ بعض سورتیں پوری کی پوری بیک وقت نازل ہوئی ہیں، اس لیے یہ سورت بھی یک بارگی ہی نازل ہوئی ہوگی۔ گویا ہر سورت کے متعلق الگ سے تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ پوری کی پوری یک بارگی نازل ہوئی یا اس کا نزول ٹکڑوں میں ہوا، اور اگر ٹکڑوں میں ہوا تو وہ ٹکڑے کب نازل ہوئے؟ اس سلسلے میں شان نزول کی روایات سے یقیناًمدد لی جاسکتی ہے، لیکن کیا سورت کی اندرونی شہادتوں مثلاً سورت کے نظم اور آیات کے سلسلۂ بیان کی بھی اس ضمن میں کچھ اہمیت ہے؟ اگر شان نزول کی روایت اور سورت کی اندرونی شہادت متصادم ہوں تو پھر ترجیح کسے دی جائے گی؟ کیا سورت کی اندرونی شہادت پر اعتماد کرتے ہوئے شان نزول کی روایت کی اسی طرح تاویل کی جائے گی جس طرح شاہ ولی اللہ اور دیگر محققین نے کی ہے یا شان نزول کی روایت کو قبول کرتے ہوئے سورت کی اندرونی شہادت نظر انداز کی جائے گی، یا اس کی تاویل کی جائے گی ؟ 

مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ سورت کے زمانۂ نزول کے تعین کے لیے شان نزول کی روایات کے علاوہ سورت کی اندرونی شہادتوں کا بھی بعض مقامات پر تجزیہ کرتے ہیں۔ سورۃ ابراہیم کے زمانۂ نزول کا تعین کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں : 

’’عام انداز بیان مکہ کے آخری دور کی سورتوں کا سا ہے۔ سورۂ رعد سے قریب زمانہ ہی کی نازل شدہ معلوم ہوتی ہے۔ خصوصاً آیت ۱۳ کے الفاظ: و قال الذین کفروا لرسلھم لنخرجنکم من ارضنا او لتعودن فی ملتنا (انکار کرنے والوں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ یا تو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے ) کا صاف اشارہ اس طرف ہے کہ اس وقت مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم انتہا کو پہنچ چکا تھا اور اہل مکہ پچھلی کافر قوموں کی طرح اپنے ہاں کے اہل ایمان کو خارج البلد کردینے پر تل گئے تھے۔ اسی بنا پر ان کو وہ دھمکی سنا ئی گئی جو ان کے سے رویہ پر چلنے والی پچھلی قوموں کو دی گئی تھی کہ لنھلکن الظٰلمین (ہم ظالموں کو ہلاک کرکے رہیں گے ) اور اہل ایمان کو وہی تسلی دی گئی جو ان کے پیش روؤں کو دی جاتی رہی ہے کہ لنسکننکم الارض من بعدھم (ہم ان ظالموں کو ختم کرنے کے بعد تم ہی کو اس سرزمین میں آباد کریں گے) اسی طرح آخری رکوع کے تیور بھی یہی بتاتے ہیں کہ یہ سورہ مکہ کے آخری دور سے تعلق رکھتی ہے۔ ‘‘ (۳) 

بسا اوقات وہ شان نزول کے متعلق مفسرین کے اقوال پر سورت کی اندرونی شہادتوں کو فوقیت دیتے ہیں۔ مثلاً سورۃ العنکبوت کے زمانۂ نزول کے متعلق وہ کہتے ہیں: 

’’آیات ۵۶ تا ۶۰ سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ یہ سورۃ ہجرت حبشہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی۔ باقی مضامین کی اندرونی شہادت بھی اسی کی تائید کرتی ہے، کیونکہ پس منظر میں اسی زمانہ کے حالات جھلکتے نظر آتے ہیں۔ بعض مفسرین نے صرف اس دلیل کی بنا پر کہ اس میں منافقین کا ذکر آیا ہے اور نفاق کا عملی ظہور مدینہ میں ہوا ہے، یہ قیاس قائم کر لیا کہ اس سورہ کی ابتدائی دس آیات مدنی ہیں اور باقی سورہ مکی ہے۔ حالانکہ یہاں جن لوگوں کے نفاق کا ذکر ہے، وہ وہ لوگ ہیں جو کفار کے ظلم و ستم اور شدید جسمانی اذیتوں کے ڈر سے منافقانہ روش اختیار کررہے تھے، اور ظاہر ہے کہ اس نوعیت کا نفاق مکہ ہی میں ہوسکتا تھا نہ کہ مدینہ میں۔ اسی طرح بعض دوسرے مفسرین نے یہ دیکھ کر کہ اس سورہ میں مسلمانوں کو ہجرت کی تلقین کی گئی ہے، اسے مکہ کی آخری نازل شدہ سورت قرار دے دیا ہے۔ حالانکہ مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مسلمان حبشہ کی طرف بھی ہجرت کرچکے تھے۔ یہ تمام قیاسات دراصل کسی روایت پر مبنی نہیں ہیں بلکہ صرف مضامین کی اندرونی شہادتوں پر ان کی بنا رکھی گئی ہے اور یہ اندرونی شہادت ، اگر پوری سورت کے مضامین پر بحیثیت مجموعی نگاہ ڈالی جائے، مکہ کے آخری دور کی نہیں بلکہ اس دور کے حالات کی نشاندہی کرتی ہے جس میں ہجرت حبشہ واقع ہوئی تھی۔‘‘ (۴) 

بعض سورتوں کے زمانۂ نزول کی تحقیق میں مولانا مودودی روایات کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک روایت کو دوسری پر فوقیت بھی دے دیتے ہیں۔ (۵ ) سورۃ الانعام کی تفسیر کے دیباچے میں انہوں نے مکی سورتوں کے مضامین پر بڑی معرکہ آرا تحقیق کی ہے اور مکی دور کے مختلف ادوار متعین کیے ہیں۔ (۶) تاہم انہوں نے تمام سورتوں میں تحقیق کا یہ معیار برقرار نہیں رکھا۔ مثلاً سورۃ البینۃ کے زمانۂ نزول کے متعلق وہ پہلے مختلف اقوال نقل کرتے ہیں : 

’’اس کے بھی مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک یہ مکی ہے اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک مدنی ہے۔ ابن الزبیر اور عطاء بن یسار کا قول ہے کہ یہ مدنی ہے۔ ابن عباسؓ اور قتادہ کے دو قول منقول ہیں۔ ایک یہ کہ یہ مکی ہے ، دوسرا یہ کہ مدنی ہے۔ حضرت عائشہؓ اسے مکی قرار دیتی ہیں۔ ابو حیان صاحب بحر المحیط اور عبد المنعم ابن الفرس صاحب احکام القرآن اس کے مکی ہونے کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔ ‘‘ (۷) 

اس کے بعد سورت کی اندرونی شہادتوں کے متعلق اتنا کہہ دینے پر اکتفا کرتے ہیں : 

’’جہاں تک اس کے مضمون کا تعلق ہے، اس میں کوئی ایسی علامت نہیں پائی جاتی جو اس کے مکی یا مدنی ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہو۔‘‘ (۸) 

مولانا امین احسن اصلاحیؒ سورت کے زمانۂ نزول کے تعین کے لیے سورت کی اندرونی شہادتوں اور نظم کی طرف بھرپور توجہ دیتے ہیں اور انہوں نے اپنے استاد حمید الدین فراہیؒ سے ایک قدم آگے بڑھا کر یہ طے کیا ہے کہ قرآن مجید کی سورتیں سات گروپوں میں تقسیم ہیں جن میں ہر گروپ کا اپنا ایک الگ مضمون ہوتا ہے۔ ہر گروپ کا آغاز ایک یا زائد مکی سورتوں سے ہوتا ہے اور ہر گروپ کا اختتام ایک یا زائد مدنی سورتوں پر ہوتا ہے۔ مولانا اصلاحی نے گروپوں کی جو تقسیم کی ہے اور ان میں مدنی اور مکی سورتوں کی جس طرح تقسیم کی ہے، وہ حسب ذیل ہے : 

پہلا گروپ : الفاتحۃ تا المآئدۃ ۔ اس گروپ میں صرف الفاتحۃ مکی ہے ۔ باقی چار سورتیں مدنی ہیں ۔ 

دوسرا گروپ : الانعام تا التوبۃ ۔ اس گروپ میں دو سورتیں الانعام اور الاعراف مکی ہیں جبکہ دو سورتیں الانفال اور التوبۃ مدنی ہیں ۔ 

تیسرا گروپ : یونس تا النور ۔ اس گروپ میں مولانا اصلاحی کی تحقیق کے مطابق آخری سورت النور کے ماسوا باقی تمام سورتیں مکی ہیں ۔ سورۃ الحج کی صرف چار آیات کو مدنی مانتے ہیں اور مجموعی لحاظ سے وہ اسے مکی دور کے آخر کی سورت قرار دیتے ہیں ۔ 

چوتھا گروپ : الفرقان تا الاحزاب۔ اس میں بھی آخری سورت کے ماسوا باقی تمام سورتیں مکی ہیں ۔ 

پانچواں گروپ : سبا تا الحجرات ۔ اس میں سبا سے الاحقاف تک سورتیں مکی ہیں ، جبکہ آخری تین سورتیں: محمد ، الفتح اور الحجرات مدنی ہیں ۔ 

چھٹا گروپ : ق تا التحریم ۔ اس گروپ میں ق تا الواقعۃ سات مکی سورتیں ہیں ، جبکہ الحدید تا التحریم دس مدنی سورتیں ہیں ۔ 

ساتواں گروپ : الملک تا الناس ۔ اس گروپ میں مولانا اصلاحی کی تحقیق کے مطابق الملک تا الکافرون مکی سورتیں ہیں ، جبکہ آخری پانچ سورتیں: النصر ، لہب ، الاخلاص ، الفلق اور الناس مدنی ہیں ۔ (۹) 

مولانا اصلاحی قرار دیتے ہیں کہ ان میں ہر گروپ کا اپنا الگ موضوع اور مضمون ہوتا ہے اور گروپ کی ہر سورت اس مرکزی مضمون کے کسی خاص پہلو کی وضاحت کرتی ہے۔ وہ یہ بھی قرار دیتے ہیں کہ ہر گروپ کے اندر گروپ کے مضمون کا بتدریج ارتقا ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک گروپ کے اندر سورتوں کی ترتیبِ نزولی کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ مثلاً سورۃ النسآء اور سورۃ المآئدۃ ایک ہی گروپ میں یکے بعد دیگرے رکھی گئی ہیں ، اس لیے سورۃ النسآء سورۃ المآئدۃ سے قبل نازل ہوئی۔ 

مولانا اصلاحی سورتوں کے باہمی ربط ، گروپ کے مضمون ، سورت کی اندرونی شہادتوں ، نظم اور آیات کے سلسلۂ بیان پر تدبر کرکے سورت کا زمانۂ نزول متعین کرتے ہیں اور اس سلسلے میں یقیناًانہوں نے بڑا قابل قدر کام کیا ہے۔ تاہم زمانۂ نزول کے تعین میں وہ بالعموم روایات کا تجزیہ نہیں کرتے۔ 

سورتوں کے زمانۂ نزول کے تعین میں نظمِ قرآن سے استدلال کے طریقِ کار کو مولانا اصلاحی کے شاگرد جناب جاوید احمد غامدی نے مزید آگے بڑھایا ہے۔ مثلاً سورتوں کے آخری گروپ (سورۃ الملک تا سورۃ الناس) کے زمانۂ نزول کو انہوں نے پانچ مراحل میں تقسیم کیا ہے اور طے کیا ہے کہ سورۃ الملک تا سورۃ الجن ’’مرحلۂ انذار‘‘ میں نازل ہوئیں۔ سورۃ المزمل تا سورۃ الم نشرح ’’مرحلۂ انذار عام‘‘ سے تعلق رکھتی ہیں۔ سورۃ التین تا سورۃ الکوثر ’’اتمام حجت‘‘ کے دور کی ہیں۔ سورۃ الکافرون تا سورۃ الاخلاص ’’براء ت وہجرت ‘‘ کے مرحلے کی سورتیں ہیں۔ یہ تمام مراحل مکی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ آخری دو سورتیں، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس، مدنی دور کی ابتدا میں نازل ہوئیں۔ (۱۰) 

سورۃ الانعام اور سورۃ النحل کازمانۂ نزول 

سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ میں بظاہر اشارہ سورۃ الانعام کی آیت ۱۴۶ کی طرف ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ الانعام کا نزول پہلے ہوا۔

وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْْکَ مِنْ قَبْلُ وَمَا ظَلَمْنَاہُمْ وَلَکِنْ کَانُوْا أَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُونَ (النحل ، آیت ۱۱۸)
’’اور جو یہودی ہوئے، ان پر بھی ہم نے وہی چیزیں حرام کیں جو ہم نے پہلے تم کو بتائیں۔ اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔‘‘
وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُواْ حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْْہِمْ شُحُوْمَہُمَا إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُہُورُہُمَا أَوِ الْحَوَایَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَالِکَ جَزَیْْنَاہُم بِبَغْیِہِمْ وِإِنَّا لَصَادِقُونَ (الانعام، آیت ۱۴۶) 
’’اور جو یہودی ہوئے، ان پر ہم نے سارے ناخن والے جانور حرام کیے اور گائے اور بکری کی چربی حرام کی بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا انتڑیوں سے وابستہ ہو یا کسی ہڈی سے لگی ہوئی ہو۔ یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی اور ہم بالکل سچے ہیں۔‘‘

لیکن دوسری طرف سورۃ الانعام کی آیت ۱۱۹ میں بظاہر اشارہ سورۃ النحل کی آیت ۱۱۵ کی طرف ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ النحل کا نزول پہلے ہوا۔

وَمَا لَکُمْ أَلاَّ تَأْکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْْہِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْْکُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَیْْہِ (سورۃ الانعام ، آیت ۱۱۹)
’’اور تم کیوں نہ کھاؤ ان چیزوں میں سے جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو جب کہ اس نے تفصیل سے بیان کردی ہیں وہ چیزیں جو اس نے تم پر حرام ٹھہرائی ہیں اس استثنا کے ساتھ جس کے لیے تم مجبور ہوجاؤ ۔ ‘‘
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْْکُمُ الْمَیْْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَا أُہِلَّ لِغَیْْرِ اللّٰہِ بِہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (النحل ، آیت ۱۱۵)
’’اس نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام ٹھہرایا ہے ۔ پس جو کوئی مجبور ہوجائے ، نہ طالب ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا ، تو اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے ۔ ‘‘

اس مسئلے کے حل کے لیے ہم نے مختلف قدیم اور جدید تفاسیر کا مطالعہ کیا اور مفسرین کرام کی کاوشوں کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ شان نزول کی روایات اور آیات کی اندرونی شہادتوں کے درمیان توافق و ترجیح کے مسئلے کی شاید سب سے اچھی مثال یہی ہے۔ نیز اس اشکال کے حل سے تورات کے نزول کے متعلق بھی ایک اہم حقیقت ثابت ہوتی ہے۔ 

امام آلوسی نے سورۃ الانعام کے شان نزول کے متعلق عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ یہ سورت پوری کی پوری ایک ہی رات کو مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس کے بعد آلوسی نے بعض دیگر اقوال بھی نقل کیے ہیں جن کے مطابق اس سورت کی چند آیات مدنی ہیں۔ کسی روایت میں آیات ۱۹ ۔ ۲۰ کو، کسی میں صرف آیت ۱۱۱ کو، کسی میں آیات ۱۵۱ تا ۱۵۳ کو اور کسی میں آیات ۱۹ تا ۲۱ اور آیات ۱۵۱ تا ۱۵۳ کو مدنی قرار دیا گیا ہے ۔ (۱۱) تاہم سورت کے نظم اور آیات کے مضامین اور سلسلۂ بیان کو مدنظر رکھا جائے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے ہی صحیح معلوم ہوتی ہے کہ یہ پوری کی پوری سورت ایک ہی موقع پر نازل ہوئی۔ جہاں تک بعض آیات کے مدنی ہونے کے متعلق روایات کا تعلق ہے، اگر شان نزول کی روایات کے متعلق علمائے محققین کے بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں ان کا جائزہ لیا جائے تو ان کی توجیہ بہت آسانی سے کی جاسکتی ہے۔ یہی بات ان روایات کے متعلق کہی جاسکتی ہے جن میں سورۃ الانعام کی بعض آیات کا الگ الگ شان نزول بیان ہوا ہے۔ 

سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا اشارہ سورۃ الانعام کی طرف ہے ۔ یہاں ہم سورۃ النحل کی آیت ۱۱۵ سے ۱۱۸ تک نقل کردیتے ہیں تاکہ آیت ۱۱۸ کا سیاق بھی معلوم ہو : 

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْْکُمُ الْمَیْْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِیْرِ وَمَا أُہِلَّ لِغَیْْرِ اللّٰہِ بِہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ ۔ وَلاَ تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلاَلٌ وَہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ إِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لاَ یُفْلِحُونَ ۔ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ ۔ وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُواْ حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْْکَ مِنْ قَبْلُ وَمَا ظَلَمْنَاہُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْا أَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُون (النحل ، آیت ۱۱۵ ۔۱۱۸)
’’اس نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام ٹھہرایا ہے ۔ پس جو کوئی مجبور ہوجائے، نہ طالب ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا، تو اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے ۔ اور اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ نہ کہو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو ۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، وہ ہر گز فلاح نہیں پائیں گے ۔ ان کے لیے چند روزہ عیش اور پھر دردناک عذاب ہے ۔ اور جو یہودی ہوئے، ان پر بھی ہم نے وہی چیزیں حرام کیں جو ہم نے پہلے تم کو بتائیں ۔ اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے ۔ ‘‘

آیت ۱۱۸ کے الفاظ کی سورۃ الانعام کی آیت ۱۴۶ کے الفاظ کے ساتھ ظاہری مشابہت کی بنا پر عام طور پر مفسرین نے یہ رائے قائم کی ہے کہ سورۃ النحل کا اشارہ سورۃ الانعام ہی کی طرف ہے۔ مثال کے طور پر امام ابن الجوزی کہتے ہیں : 

’’یعنی بہ ما ذکر فی الانعام و ھو قولہ تعالی : و علی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر۔‘‘ (۱۲) 

امام قرطبی بھی اسی کے قائل ہیں ۔ (۱۳) یہی رائے امام بیضاوی نے قائم کی ہے۔ (۱۴) امام آلوسی بھی اسی کے قائل ہیں ۔ (۱۵) امام طبری نے اس قول کو عکرمہ اور قتادہ جیسے ائمہ تفسیر سے نقل کیا ہے ۔ (۱۶) 

اگر یہ بات تسلیم کی جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ سورۃ الانعام کا نزول سورۃ النحل سے پہلے ہوا تھا۔ اب سورۃ الانعام کی آیت ۱۱۹ پربھی نظر ڈالیں : 

وَمَا لَکُمْ أَلاَّ تَأْکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْْہِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْْکُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَیْْہِ (سورۃ الانعام ، آیت ۱۱۹)
’’اور تم کیوں نہ کھاؤ ان چیزوں میں سے جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو جب کہ اس نے تفصیل سے بیان کردی ہیں وہ چیزیں جو اس نے تم پر حرام ٹھہرائی ہیں اس استثنا کے ساتھ جس کے لیے تم مجبور ہوجاؤ ۔ ‘‘

یہ تفصیل قرآن مجید میں چار مقامات پر ذکر ہوئی ہے: سورۃ الانعام ، آیت۱۴۵؛ سورۃ النحل، آیت ۱۱۵؛ سورۃ البقرۃ آیت ۱۷۳ ، اور سورۃ المآئدۃ ، آیت ۳۔

اب یہاں چار امکانات ہیں : 

(۱) سورۃ الانعام کے اس اشارے کو سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۷۳ کی طرف مانا جائے ؛ 

(۲) اسے سورۃ المآئدۃ کی آیت ۳ کی طرف مانا جائے ؛ 

(۳) اسے سورۃ الانعام ہی کی آیت ۱۴۵ کی طرف مانا جائے ؛ یا 

(۴) اسے سورۃ النحل کی آیت ۱۱۵ کی طرف مانا جائے ۔ 

پہلی دو صورتوں میں ماننا پڑے گا کہ سورۃ البقرۃ یا سورۃ المآئدۃ کی مذکورہ آیت مکی ہے، لیکن دونوں سورتوں میں آیات کا سیاق و سباق اور نظم اس مفروضے کی تردید کرتے ہیں ۔ تیسری صورت مانی جائے تو ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگرچہ سورۃ الانعام کی آیت ۱۴۶ تلاوت میں آیت ۱۱۹ سے مؤخر ہے مگر یہ نزول میں اس سے مقدم ہے۔ گویا نہ صرف یہ کہ ایک ہی سورت کی آیات کی ترتیب تلاوت اور ترتیب نزول میں فرق کو تسلیم کرنا ہوگا بلکہ یہ بھی ماننا ہوگا کہ سورۃ الانعام کی آیات کئی ٹکڑوں میں نازل ہوئیں۔ یہ بات نہ صرف یہ کہ سورت کے نظم کے خلاف ہے بلکہ شان نزول کی روایات سے بھی اس کی تائید نہیں ہوتی ۔ چوتھی صورت مانی جائے تو ماننا پڑے گا کہ سورۃ النحل کا نزول سورۃ الانعام سے قبل ہوا تھا۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ کا اشارہ سورۃ الانعام کی آیت ۱۴۶ کی طرف کیسے ہوسکتا ہے؟ اس کا صرف ایک ہی امکان ہے اور وہ یہ کہ یہ مانا جائے کہ پہلے سورۃ النحل کی آیت ۱۱۵ نازل ہوئی، پھر سورۃ الانعام نازل ہوئی، اس کے بعد سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ نازل ہوئی۔ لیکن کیا سورۃ النحل کی آیات کا نظم اس بخیہ گری کی اجازت دیتا ہے؟ 

مولانا مودودی نے اس اشکال کا ذکر کیا ہے اور یہی حل پیش کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں : 

’’ ہمارے نزدیک اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ پہلے سورۂ نحل نازل ہوئی تھی جس کا حوالہ سورۂ انعام کی مذکورۂ بالا آیت [۱۱۹] میں دیا گیا ہے۔ بعد میں کسی موقع پر کفارِ مکہ نے سورۂ نحل کی ان آیتوں پر وہ اعتراضات عائد کیے جو ابھی ہم بیان کرچکے ہیں۔ اس وقت سورۂ انعام نازل ہوچکی تھی، اس لیے ان کو جواب دیا گیا کہ ہم پہلے ، یعنی سورۂ انعام میں بتا چکے ہیں کہ یہودیوں پر چند چیزیں خاص طور پر حرام کی گئی تھیں۔ اور چونکہ یہ اعتراض سورۂ نحل پر کیا گیا تھا، اس لیے اس کا جواب بھی سورۂ نحل ہی میں جملۂ معترضہ کے طور پر درج کیا گیا۔‘‘ (۱۷) 

یہی رائے مولانا اشرف علی تھانوی نے قائم کی ہے۔ وہ اس اشارے کا سورۃ الانعام کی آیت ۱۴۵ کی طرف ہونا بعید اور سورۃ المآئدہ آیت ۳ کی طرف ہونا مستحیل قرار دیتے ہیں ۔ (۱۸) لیکن چونکہ وہ بھی یہی قرار دیتے ہیں کہ سورۃ النحل آیت ۱۱۸ کا اشارہ سورۃ الانعام آیت ۱۴۶ کی طرف ہے، اس لیے وہ اس پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ یہ قرار دیں کہ یہ آیات مختلف ٹکڑوں میں نازل ہوئیں ۔

یمکن ان یکون تقدم النحل علی الانعام باعتبار اکثر الاجزاء لا کلھا، و یکون قولہ تعالی: و علی الذین ھادوا حرمنا ما قصصنا الخ متأخراً عن سورۃ الانعام، لاسیما عن قولہ تعالی: و علی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر ، فافھم۔(۱۹) 

لیکن جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ، سورۃ النحل کی آیات ۱۱۵ تا ۱۱۸ کے سلسلۂ بیان اور نظم کی قطعی شہادت یہ ہے کہ یہ آیات ایک ہی موقع پر نازل ہوئی ہیں۔ پھر اس اشکال کا حل کیا ہوسکتا ہے ؟ 

بعض مفسرین نے یہ رائے اختیار کی کہ سورۃ الانعام کی آیت ۱۱۹ کا اشارہ سورۃ المآئدۃ آیت ۳ کی طرف ہے لیکن اس پر یہ اعتراض ہوا کہ سورۃ المائدۃ تو مدنی ہے۔ (۲۰) امام قرطبی نے بھی اس اعتراض کا ذکر کیا ہے اور پھر کہا ہے کہ فصّل کو یفصّل سمجھا جائے تو پھر یہ اشارہ سورۃ المائدۃ کی طرف ہوسکتا ہے۔ (۲۱) لیکن اس تاویل کا ضعف نہایت واضح ہے کیونکہ آیت میں لوگوں کو توبیخ کی جارہی ہے کہ تمہارے لیے حرام ذبائح کا حکم پہلے ہی سے واضح کیا جاچکا ہے، پھر بھی تم اس حلال ذبیحے کے کھانے میں ہچکچاہٹ محسوس کررہے ہو جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ! اگر فعل ماضی کو فعل مضارع میں تبدیل کیا جائے تو یہ توبیخ بالکل ہی بے معنی ہوجاتی ہے۔ 

امام آلوسی نے خود یہ رائے اختیار کی کہ یہ اشارہ سورۃ الانعام ہی کی آیت ۱۴۵ کی طرف ہے ۔ اس پر یہ اعتراض ہوا کہ آیت ۱۴۵ تو آیت ۱۱۹ کے بعد ہے۔ آلوسی اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ تلاوت میں مؤخر ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ نزول میں بھی مؤخر ہے ۔ (۲۲) لیکن بصد ادب و احترام گزارش ہے کہ یہ بات نہایت ضعیف ہے کیونکہ اولاً تو تلاوت میں مؤخر ہونے کی وجہ سے اصولاً یہ احتمال پیدا ہوگیا ہے کہ وہ نزول میں بھی مؤخر ہے، اس لیے جو اسے نزول میں مقدم کہتے ہیں ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے دعوے کے حق میں قوی دلیل پیش کریں۔ ثانیاً ہم نے پیچھے ذکر کیا ہے کہ سورۃ الانعام کا نظم اور آیات کا سلسلۂ بیان قطعی شہادت دیتے ہیں کہ یہ پوری کی پوری سورت بیک وقت نازل ہوئی ہے ، اور یہی بات ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہوئی ہے۔ خود امام آلوسی نے سورۃ الانعام کے نزول کے متعلق جو روایات نقل کی ہیں، ان سب سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت ۱۱۹ اور آیت ۱۴۵ کا نزول ایک ہی موقع پر ہوا ہے ۔ جن بعض آیات کے مدنی ہونے کے متعلق انہوں نے روایات نقل کی ہیں، ان میں آیت ۱۴۵ نہیں ہے ۔ 

ان چاروں اقوال کی بنا یہ امر ہے کہ سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ کا اشارہ سورۃ الانعام کی آیت ۱۴۶ کی طرف ہے کیونکہ ان کے الفاظ میں بھی ظاہری مشابہت ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی قول مانا جائے تو سورت کی آیات کے سلسلۂ بیان اور نظم کو توڑنا پڑتا ہے۔ بعض مفسرین نے ایک پانچواں امکان بھی ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ سورۃ الانعام آیت ۱۱۹ میں اشارہ وحی غیر متلو میں بیان شدہ احکام کی طرف ہے۔ (۲۳) لیکن ظاہر ہے کہ یہ محض بات بنانا ہی ہے۔ یہ قول محض اس وجہ سے وجود میں آیا ہے کہ چاروں اقوال کی غلطی واضح تھی اور کوئی اور حل نظر نہیں آیا۔ لیکن کیا کوئی اور حل نہیں ہے؟ کیا سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ کے اشارے کو سورۃ الانعام کی آیت ۱۴۶ کے بجائے سورۃ النحل ہی کی آیت ۱۱۵ کی طرف سمجھا جا سکتا ہے؟ یہاں ہم یہ آیات پھر نقل کردیتے ہیں : 

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْْکُمُ الْمَیْْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِیْرِ وَمَا أُہِلَّ لِغَیْْرِ اللّٰہِ بِہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ ۔ وَلاَ تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلاَلٌ وَہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ إِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لاَ یُفْلِحُونَ ۔ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ ۔ وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُواْ حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْْکَ مِنْ قَبْلُ وَمَا ظَلَمْنَاہُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْا أَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُون (النحل ، آیت ۱۱۵ ۔۱۱۸)
’’اس نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام ٹھہرایا ہے ۔ پس جو کوئی مجبور ہوجائے، نہ طالب ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا، تو اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اور اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ نہ کہو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو ۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، وہ ہر گز فلاح نہیں پائیں گے ۔ ان کے لیے چند روزہ عیش اور پھر دردناک عذاب ہے ۔ اور جو یہودی ہوئے، ان پر بھی ہم نے وہی چیزیں حرام کیں جو ہم نے پہلے تم کو بتائیں۔ اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے ۔ ‘‘

مولانا امین احسن اصلاحی سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ کی تفسیر میں کہتے ہیں : 

’’یعنی اصلاً یہود پر بھی وہ چیزیں حرام ٹھہرائی گئی تھیں جو اوپر آیات ۱۱۵ میں مذکور ہوئیں لیکن پھر انہوں نے خود اپنے جی سے کچھ چیزیں اپنے اوپر حرام کرلیں جو ان کی سرکشی کی سزا کے طور پر ان پر حرام کردی گئیں۔ خدا نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔‘‘ (۲۴) 

مفسرین نے چونکہ بالعموم سورۃ النحل آیت ۱۱۸ کے اشارے کو سورۃ الانعام آیت ۱۴۶ کی طرف سمجھا ہے، اس لیے وہ اس بحث میں پڑ گئے کہ سورۃ الانعام آیت ۱۱۹میں اشارہ کس طرف ہے؟اگر یہ بات تسلیم کی جائے کہ سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ کا اشارہ سورۃ النحل ہی کی آیت ۱۱۵ کی طرف ہے تو سارا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ پھر سورۃ الانعام کی آیت ۱۱۹ کے اشارے کو سورۃ النحل کی آیت ۱۱۵ کی طرف ماننے میں کوئی اشکال پیش نہیں آتا، نہ ہی ان میں سے کسی بھی سورت کے نظم کو توڑنے کی ضرورت پڑتی ہے ، اور نہ ہی وحی غیر متلو میں مذکور احکام فرض کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ گویا پہلے سورۃ النحل کا نزول ہوا جس میں بتایا گیا کہ شریعت ابراہیمی میں انعام(مویشیوں) میں اصلاً حرام چار چیزیں تھیں۔ یہی شریعت موسوی کا بھی حکم تھا۔ بعد میں ان پر مزید چیزیں ان کے اپنے ظلم کی وجہ سے حرام کی گئیں۔ یہ چیزیں جو اصل میں حلال تھیں لیکن یہود کے ظلم کی وجہ سے حرام کردی گئیں، ان کی تفصیل سورۃ الانعام میں دے دی گئی جو بعد میں نازل ہوئی۔ سورۃ الانعام میں بعض مسلمانوں کو بھی توبیخ کی گئی جو مشرکین کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر بعض ان چیزوں کے کھانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے جنہیں شریعت نے حلال قرار دیا تھا۔ ان کو کہا گیا کہ تمہارے لیے حرام چیزوں کی وضاحت اور اضطرار کی حالت کا حکم پہلے ہی سے سورۃ النحل میں واضح کیا جاچکا ہے، پھر تم کیوں ہچکچاہٹ محسوس کررہے ہو ؟ 

اس طرح دونوں سورتوں کے زمانۂ نزول کے تعین کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔ تاہم اس قول کے ماننے کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ پھر ماننا پڑے گا کہ تورات کا نزول بھی قرآن ہی کی طرح تدریجی ہوا تھا نہ کہ یک بارگی۔ اس بات کی تھوڑی سی وضاحت یہاں پیش کی جاتی ہے۔ 

تورات کے احکام کا تدریجی نزول

قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے بعض طبی وجوہات کی بنا پر اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیا تھا، تاہم یہ شریعت ابراہیمی میں حرام نہیں تھا ۔ 

کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلاًّ لِّبَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ إِلاَّ مَا حَرَّمَ إِسْرَاءِیْلُ عَلٰی نَفْسِہِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاۃُ قُلْ فَأْتُوْا بِالتَّوْرَاۃِ فَاتْلُوْہَا إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ (آل عمران ، آیت ۹۳) 
’’کھانے کی ساری چیزیں بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں، مگر وہ جو اسرائیل نے تورات کے نازل کیے جانے سے پہلے اپنے اوپر حرام ٹھہرالی تھیں۔ کہہ دو کہ لاؤ تورات اور پڑھو اس کو، اگر تم سچے ہو۔ ‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ تورات کے نزول سے پہلے بنی اسرائیل کے لیے وہ سبھی چیزیں حلال تھیں جو شریعت ابراہیمی میں حلال سمجھی جاتی تھیں اور جو سلیم انسانی فطرت کے مطابق کھانے کی چیزیں (الطعام) سمجھی جاتی تھیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تورات میں یہ تصریح بھی تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل پر جو مزید بعض چیزیں حرام کی گئیں، وہ حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام کے زمانے میں حرام نہیں تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہود کو چیلنج کیاگیا کہ اگر تم اس بات کو غلط سمجھتے ہو تو تورات لے آؤ اور اسے پڑھو ۔ 

بائبل کے سِفر پیدائش میں حضرت نوح علیہ السلام کی طرف وحی کیے گئے بعض احکام بھی موجود ہیں ۔ ان میں وہ بھی ہیں جن کے متعلق کہا گیا کہ یہ حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد کو دیے گئے۔ ان کو ’’حضرت نوح علیہ السلام کا عہد نامہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہود کے بہت سے علما کی رائے یہ ہے کہ ’’غیر قوموں‘‘ کے لیے تورات کے تمام احکام پر عمل کرنا واجب نہیں بلکہ ان کی نجات کا دارومدار حضرت نوح علیہ السلام کے عہد نامے پر عمل ہے۔ (۲۵) اس عہد نامے میں جو احکام دیے گئے ہیں، وہ یہ ہیں : 

’’سب جیتے چلتے جانور تمہارے کھانے کے واسطے ہیں۔ میں نے ان سب کو نباتات کی طرح تمہیں دیا ۔ مگر تم گوشت کو اس کے خون کے ساتھ مت کھانا، کیونکہ میں تمہارا خون ہر ایک جنگلی جانور سے اور ہر ایک آدمی کے ہاتھ سے طلب کروں گا۔ اس آدمی سے بھی جو اپنے بھائی کو مار ڈالے، میں آدمی کی جان طلب کروں گا۔‘‘ (۲۶) 

یہاں نباتات کی طرف اشارے اور جنگلی جانوروں کے ساتھ تقابل سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’کھانے کے واسطے ‘‘ (الطعام) حلال جانوروں سے مراد مویشی (انعام) ہیں۔ یہی کچھ قرآن مجید سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شریعت ابراہیمی میں مویشیوں میں اصلاً چار ہی چیزیں حرام تھیں : مردار ، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیاگیا : 

قُلْ لاَّ أَجِدُ فِیْ مَا أُوْحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّماً عَلیٰ طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ مَیْْتَۃً أَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِیْرٍ فَإِنَّہُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقاً أُہِلَّ لِغَیْْرِ اللّٰہِ بِہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ رَبَّکَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (الانعام، آیت ۱۴۵) 
’’کہہ دو میں تو اس وحی میں جو مجھ پر آئی ہے کسی کھانے والے پر کوئی چیز جس کووہ کھائے حرام نہیں پاتا ، بجز اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ، یا سؤر کا گوشت، کہ ان میں ہر چیز ناپاک ہے، یا فسق کرکے اس کو غیر اللہ کے لیے نامزد کردیا گیا ہو۔ پھر جو مجبور ہوجائے ، نہ چاہنے والا بنے اور نہ حد سے بڑھنے والا ، تو تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں بھی ابتدا میں یہی چار چیزیں حرام تھیں، جیسا کہ سورۃ النحل کی آیت ۱۱۸ میں ذکر ہوا ہے۔ بعد میں ان کے ظلم کی بنا پر ان پر مزید کئی چیزیں حرام کردی گئیں ۔ آیت ۱۱۸ کا اشارہ ، جیسا کہ پیچھے تفصیل سے واضح کیا گیا، سورۃ النحل ہی میں اس سے قبل آنے والی آیت ۱۱۵ کی طرف ہے۔ گویا آیات کا مجموعی پیغام یہ ہوا کہ یہود پر اصلاً یہی چار چیزیں حرام تھیں، لیکن بعد میں ان کے اپنے ظلم کی وجہ سے ان پر مزید کئی چیزیں حرام کردی گئیں جن کی تفصیل سورۃ الانعام کی آیت ۱۴۶ میں بیان کی گئی ہے ۔ یہی بات سورۃ النسآء میں یوں کہی گئی ہے: 

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْْہِمْ طَیِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَہُمْ (النساء ، آیت۱۶۰) 
’’پس جو یہودی ہوئے، ان کے ظلم ہی کے سبب سے ہم نے بعض پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کردیں جو ان کے لیے پہلے حلال کی گئی تھیں۔‘‘

اس کی وجہ یہود کا رویہ تھا۔ وہ طرح طرح کے سوالات کرکے خود ہی اپنے لیے مشکلات کھڑی کرتے تھے ۔ اسی لیے مسلمانوں کو اس قسم کے سوالات سے روکا گیا :

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَسْأَلُواْ عَنْ أَشْیَاء إِن تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَإِن تَسْأَلُواْ عَنْہَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللّہُ عَنْہَا وَاللّہُ غَفُورٌ حَلِیْمٌ ۔ قَدْ سَأَلَہَا قَوْمٌ مِّن قَبْلِکُمْ ثُمَّ أَصْبَحُواْ بِہَا کَافِرِیْنَ (المآئدۃ ، آیت ۱۰۱ ۔ ۱۰۲) 
’’اے ایمان والوا! ایسی چیزوں کے متعلق سوال نہ کرو جو اگر ظاہر کی گئیں تو تمہیں گراں گزریں گی ۔ اور اگر تم ان کی بابت ایسے زمانے میں سوال کروگے جب قرآن اتررہا ہو تم پر ظاہر کردی جائیں گی ۔ اللہ نے ان سے درگزر کیا ، اور اللہ بخشنے والا بردبار ہے ۔ اسی طرح کی باتیں تم سے پہلے ایک قوم نے پوچھیں پھر انہی کے سبب سے کافر ہوگئے ۔ ‘‘

اس کی ایک اور مثال گائے کے ذبح کا واقعہ ہے ۔ ابتدا میں انہیں کوئی سی گائے ذبح کرنے کا حکم تھا ۔ (۲۷) پھر انہوں نے طرح طرح کے سوالات کرکے اس حکم کو ایک مخصوص گائے کے ساتھ خاص کرلیا ۔ 

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ چربی کی حرمت کے حکم کو یہود کے احبار کے تشدد نے اور بھی سخت کردیا تھا ۔ چنانچہ اسفار خمسہ میں جہاں چربی کی حرمت کا ذکر ملتا ہے وہاں نہ صرف یہ حکم انتہائی تعمیم کے ساتھ دیا گیا ہے ، بلکہ قرآن مجید کی مذکورہ استثناء ات بھی صراحتاً ختم کردی گئی ہیں۔ سِفر احبار میں یہ حکم یوں بیان کیا گیا ہے : 

’’اور خداوند نے موسیٰ سے کہا: بنی اسرائیل سے کہہ کہ تم لوگ نہ تو بیل کی، نہ بھیڑ کی اور نہ بکری کی کچھ چربی کھانا۔ جو جانور خود بخود مرگیا ہو اور جس کو درندوں نے پھاڑا ہو، ان کی چربی اور کام میں لاؤ تو لاؤ، پر تم کسی حال میں نہ کھانا کیونکہ جو کوئی ایسے چوپائے کی چربی کھائے جسے لوگ آتشین قربانی کے طور پر خداوند کے حضور چڑھاتے ہیں، وہ کھانے والا آدمی اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔‘‘ (۲۸) 

ایک اور جگہ اس حکم کی مزید وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے: 

’’جس چربی سے انتڑیاں ڈھکی رہتی ہیں اور وہ سب چربی جو انتڑیوں پر لپٹی رہتی ہے اور دونوں گردے اور ان کے اوپر کی چربی جو کمر کے پاس رہتی ہے اور جگر پر کی جھلی گردوں سمیت، ان سبھوں کو وہ الگ کرے اور کاہن مذبح پر جلائے۔ یہ اس آتشیں قربانی کی غذا ہے جو راحت انگیز خوشبو کے لیے ہوتی ہے۔ ساری چربی خداوند کی ہے۔ یہ تمہاری سب سکونت گاہوں میں نسل در نسل ایک دائمی قانون رہے گا کہ تم چربی یا خون مطلق نہ کھاؤ۔‘‘(۲۹) 

اس سے بخوبی معلوم ہوا کہ سورۃ النحل میں حلت و حرمت کے ضابطے کے بیان کے بعد یہ کیوں کہا گیا کہ اللہ پر جھوٹ نہ باندھو۔ یہ گویا اصر اور اغلال کی ایک مثال ہوئی جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو آزاد کرانے کے لیے آئے۔ (سورۃ الاعراف ، آیات ۱۵۶۔۱۵۷) مگر یہود نے اس نعمت کبریٰ کی قدر نہ کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے سے انکار کے لیے دلیل یہ پیش کی کہ وہ تورات کے حکم کو منسوخ کررہے ہیں۔ 


حواشی 

(۱) مزید تفصیل کے لیے دیکھئے : الفوز الکبیر فی علوم التفسیر ، اردو ترجمہ مولانا رشید احمد انصاری ، (مکتبہ برہان ، اردو بازار ، دہلی ، ۱۹۶۳ء)، ص ۳۸ تا ۴۳۔

(۲) تفصیل کے لیے دیکھئے : بدر الدین الزرکشی ، البرہان فی علوم القرآن، (دار الفکر ، بیروت ، ۱۹۸۸ء) ، ج ۱، ص ۴۵۔۶۰۔ 

(۳) تفہیم القرآن ، (ادارۂ ترجمان القرآن، لاہور ، ۱۹۷۴ء)، ج ۲ ، ص ۴۶۸ 

(۴) تفہیم القرآن ، ج ۳ ، ص ۶۷۲ 

(۵) مثال کے طور پر ملاحظہ ہو : سورۃ النور کے زمانۂ نزول پر ان کی تحقیق ، تفہیم القرآن ج ۳ ، ص ۳۰۶۔۱۸ ۳ ۔ 

(۶) تفہیم القرآن ، ج ۱ ، ص۵۲۰ ۔۵۲۳ 

(۷) تفہیم القرآن ، ج ۶ ، ص ۴۱۰ 

(۸) ایضاً

(۹) تدبر قرآن ، (فاران فاؤنڈیشن ، لاہور ، ۲۰۰۱ء ) ، ج ۱ ، ص ۲۴۔۲۷ ؛ ج ۸ ، ص ۴۷۹ 

(۱۰) البیان ، دار الاشراق لاہور ، ۲۰۰۱ ء 

(۱۱) روح المعانی ، (دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱۹۸۵ء )، ج ۷، ص ۷۷ 

(۱۲) زاد المسیر ، (مکتبۃ حقانیۃ ، پشاور ) ، ج۴ ، ص۳۸۳ 

(۱۳) الجامع لاحکام القرآن ، (مکتبۃ رشیدیۃ ، کوئٹہ ) ج ۱۰ ، ص ۱۹۷ 

(۱۴) تفسیر البیضاوی ، (مکتبۃ مدنیۃ ، لاہور ) ج۳ ، ص۲۲۴ 

(۱۵) روح المعانی ، ج ۱۴ ، ص ۲۵۷ 

(۱۶) جامع البیان ، (دار الفکر ، دمشق ، ۱۹۷۸ ء ) ، ج ۱۴ ، ص ۱۲۷ 

(۱۷) تفہیم القرآن ، ج ۲ ، ص ۵۷۹ 

(۱۸) بیان القرآن ، (ادارۂ تالیفات اشرفیہ ، ملتان ، ۱۴۲۷ھ ) ، ج ۱ ، ص ۵۸۷ 

(۱۹) ایضاً 

(۲۰) روح المعانی ، ج ۸ ، ص ۱۴ 

(۲۱) الجامع لاحکام القرآن ، ج ۷ ، ص ۷۳ 

(۲۲) روح المعانی ، ج ۸ ، ص ۱۴ 

(۲۳) آلوسی نے اس قول کا ذکر ضعیف صیغے قیل کے ساتھ کیا ہے ۔ (ایضاً ) 

(۲۴) تدبر قرآن ، ج ۴ ، ص ۴۶۰ 

(۲۵) ملاحظہ کیجئے یہودی ربی مائیکل ویشوگروڈ (Michael Wyschogrod) کا مقالہ زیر عنوان Islam and Christianity in the Perspective of Judaism (اسلام اور مسیحیت ، یہودیت کے تناظر میں ) ۔ 

Al-Faruqi, Isma'il Raji, Trialogue of the Abrahamic Faiths, (Virginia: International Institute of Islamic Thought, 1991), pp 13-18 

(۲۶) پیدائش : باب ۹ ، آیات ۳۔۵ 

(۲۷) سورۃ البقرۃ آیت ۶۷ میں گائے کے ذبح کے متعلق پہلا حکم ذکر ہوا ہے ۔ اس میں بقرۃً لفظ آیا ہے جو اسم نکرہ ہے ۔ 

(۲۸) احبار : باب ۷ ، آیات ۲۲۔۲۵ 

(۲۹) ایضاً : باب ۳ ، آیات ۱۵۔۱۷ 

قرآن / علوم قرآن