اسلامی یونیورسٹی دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنی؟

محمد مشتاق احمد

۲۰ اکتوبر ۲۰۰۹ء کو ہماری مادر علمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد بد ترین دہشت گردی کا نشانہ بنی ۔ سہ پہر تین بجے کے قریب ایک خود کش حملہ آور نے خواتین کے کیمپس کے سامنے بنے ہوئے کیفے ٹیریا میں خود کو دھماکہ سے اڑادیا اور دوسرے خود کش حملہ آور نے اس کے چند لمحوں بعد امام ابو حنیفہ بلاک میں کلیۂ شریعہ و قانون میں شعبۂ شریعہ کے سربراہ کے دفتر کے سامنے خود کو دھماکہ سے اڑا دیا ۔ سوال یہ ہے کہ ان خود کش حملہ آوروں کا ہدف کیا تھا اور وہ کیا پیغام دینا چاہتے تھے ؟ مختلف لوگوں نے اس سوال کے مختلف جواب دیے ہیں جن کا ہم ذیل میں جائزہ لیں گے۔

دہشت گردی کے لرزہ خیز واقعات ۔ چند چبھتے ہوئے سوالات 

دہشت گردی کی کاروائیوں پر نظر رکھنے والوں کے لیے یہ مفروضہ قابل قبول نہیں ہوسکتا کہ حملہ آوروں نے اسلامی یونیورسٹی کو محض اس بنا پر ہدف بنایا کہ اسے ہدف بنانا آسان تھا ۔ اسی طرح یہ بات بھی کسی طرح قبول نہیں کی جاسکتی کہ یونیورسٹی کے اندر جو دو ٹارگٹ چنے گئے وہ محض اتفاقاً ہی چنے گئے تھے اور ان کے چناؤ کے پیچھے کوئی خاص مقصد کارفرما نہیں تھا ۔ اگرچہ یہ بالکل ممکن ہے کہ بعض اوقات خود کش حملہ آور اپنے اصل ٹارگٹ تک کسی وجہ سے نہ پہنچ سکے تو کسی اور متبادل ٹارگٹ کو نشانہ بنالے ، اور ایسا بھی بعض اوقات ہوجاتا ہے کہ خود کش حملہ آور غلطی میں کسی غلط جگہ کو ٹارگٹ کرلیتا ہے ۔ تاہم کسی بھی اس طرح کے واقعہ کی تحقیق میں پہلا مفروضہ یہی ہونا چاہیے کہ ہدف اور وقت کا انتخاب سوچا سمجھا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں نے اسلامی یونیورسٹی میں ان اہداف کو کیوں چنا اور دہشت گردی کے لیے اس وقت کے انتخاب کی وجہ کیا تھی؟ بعض لوگوں نے ان حملوں کو خود کش حملے ماننے سے انکار کیا ہے اور اس پر بھی انھیں یقین نہیں ہے کہ یہ حملے طالبان یا القاعدہ کی جانب سے کیے گئے ہیں ۔ ان لوگوں کی جانب سے جو مختلف conspiracy theories پیش کی جاتی ہیں، ان پر آگے ہم نظر ڈالیں گے لیکن پہلے ہم ان نظریات پر بحث کریں گے جن کی رو سے یہ خود کش حملے تھے اور ان کی ذمہ داری طالبان یا القاعدہ پر عائد ہوتی ہے ۔ 

اولاً : اسلامی یونیورسٹی میں غیر ملکی اساتذہ اور طلبا موجود ہیں ۔ 

چونکہ اسلامی یونیورسٹی میں غیر ملکی اساتذہ اور طلبا کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں اور ’’غیر ملکی ‘‘ ہونا آج کل پاکستان میں خطرے کی علامت سمجھا جاتا ہے اس لیے میڈیا میں ابتدائی رپورٹس میں اس بات کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کہ اسلامی یونیورسٹی میں بہت سے غیر ملکی مقیم ہیں ۔ ان لوگوں کو شاید یہ معلوم نہیں کہ یہ غیر ملکی وزیرستان میں مقیم غیر ملکیوں کی طرح نہیں ہیں ، بلکہ ان کے پاس ویزا ، پاسپورٹ اور دیگر تمام ضروری دستاویزات موجود ہوتی ہیں اور انھیں وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کی جانب سے اسلامی یونیورسٹی میں اقامت اور تعلیم و تدریس کی باقاعدہ اجازت دی گئی ہے ۔ یہ غیر ملکی آپ کے لیے خطرہ نہیں ہیں ، بلکہ آپ کے لیے اثاثہ اور سرمایہ ہیں ۔ 

مغربی طاقتوں کے اشاروں پر کھیلنے والے بعض مہم جو صحافیوں نے یہ نکتہ اٹھانے کی بھی کوشش کی ہے کہ اسلامی یونیورسٹی سے دہشت گردوں کو افرادی قوت ملتی ہے کیونکہ یہاں جہاد اور دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ جیسا کہ آگے ہم واضح کریں گے ، اسلامی یونیورسٹی میں دہشت گردی کی تعلیم نہیں دی جاتی ،بلکہ دہشت گردی کی نظریاتی بنیادیں اکھاڑی جاتی ہیں اور طلبا کے سامنے جہاد کی صحیح تصویر اور تعبیر پیش کی جاتی ہے اور جہاد کے بارے میں دہشت گردوں کی جانب سے پیش کی گئی مسخ شدہ تعبیرات کی غلطی واضح کی جاتی ہے ۔ تاہم یہاں سوال یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ اسلامی یونیورسٹی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے تو کیا دہشت گرد یہ حملے کرکے خود اپنی محفوظ پناہ گاہ کو غیر محفوظ کرنا چاہتے ہیں ؟ 

ثانیاً : وارننگ 

ایک نظریہ یہ بھی پیش کیا جارہا ہے کہ ان حملوں کا مقصد اسلامی یونیورسٹی کو وارننگ دینا ہے کہ وہ ’’غیر اسلامی حرکتوں‘‘ سے باز آئے ۔ اس نظریہ کے مطابق خواتین کا کیفے ٹیریا اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ ’’فحاشی کا مرکز ‘‘ بن گیا تھا اور کلیۂ شریعہ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہاں سے طالبان اور القاعدہ کے تصور جہاد کے خلاف قرآن وسنت اور فقہ اسلامی کی بنیاد پر جواب سامنے آرہا تھا ۔ اس نظریہ کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے ذریعہ ایسی آوازوں کو خاموش رہنے کے لیے کہا گیا ہے ۔ اس نظریہ پر بھی یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس مقصد کے لیے خود کش حملہ ضروری تھا ؟ کیا عام بم دھماکہ یا ریموٹ کنٹرول دھماکہ یا دیگر بارودی مواد کا استعمال اس وارننگ کے لیے کافی نہیں تھا ؟ اس کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ خود کش حملوں سے جتنی دہشت پھیلتی ہے وہ دہشت گردی کے دیگر طریقوں سے نہیں پھیلتی ۔ 

ثالثاً : اسلامی یونیورسٹی پر حملے آسان تھے 

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک صاحب نے ملبہ کسی اور پر ڈالنے کا اپنا ٹریک ریکارڈ برقرار رکھتے ہوئے ان حملوں پرپہلا رد عمل یہی ظاہر کیا کہ یہ حملے اسلامی یونیورسٹی کی سیکیورٹی ناقص ہونے کی وجہ سے ہوئے ۔ بعض دیگر افراد نے بھی اس طرح کی رائے ظاہر کی ہے ۔ جی ایچ کیو پر حملہ، لاہور میں حملوں اور پشاور میں دھماکوں کے بعد نیز وزیرستان میں جاری جنگ کی وجہ سے یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ فوج کے زیر نگرانی تعلیمی اداروں پر دہشت گردوں کا حملہ متوقع ہے ۔ اس کے بعد وفاق کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کو بھی متوقع ہدف گردانا گیا جس کے نتیجے میں ایسے تقریباً تمام اداروں میں تعطیلات کا اعلان کیا گیا ۔ اس کے بعد دہشت گردوں نے متبادل ہدف کی تلاش شروع کی اور اسلامی یونیورسٹی اس وجہ سے نشانہ بنی کہ سیکیورٹی کے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے کے سبب یہاں دہشت گردی کی کاروائی کرنا نسبتاً آسان تھا ۔ گویا اسلامی یونیورسٹی اصل میں ہدف نہیں تھی بلکہ صرف اس وجہ سے ہدف بنی کہ اس پر حملہ آسان تھا ۔ 

یہ نظریہ کئی سوالات تشنہ چھوڑ دیتا ہے ۔ پہلا سوال یہ ہے کہ اس طرح کے آسان اہداف تو اور بھی بہت سے تھے ، پھر ان سب کو چھوڑ کر اسلامی یونیورسٹی کو کیوں نشانہ بنایا گیا ؟ مثال کے طور پر اسلامی یونیورسٹی سے چند سو گز کے فاصلہ پر نیشنل یونیورسٹی فاسٹ کا کیمپس ہے اور اسلامی یونیورسٹی پر حملوں کی تیاری کرتے ہوئے اور اسلامی یونیورسٹی میں داخل ہونے سے قبل دہشت گردوں کی نظر یقیناًفاسٹ کے اس کیمپس پر بار بار پڑی ہوگی ۔ اس کے باوجود انھوں نے فاسٹ کو چھوڑ کر اسلامی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا ۔ کیا فاسٹ کے کیمپس میں سیکیورٹی کے انتظامات جی ایچ کیو یا ایف آئی اے کی بلڈنگ سے بھی زیادہ سخت تھے جن کی بنا پر دہشت گردوں نے وہاں داخلہ کی کوشش نہیں کی ؟ 

یہ بھی ایک سوال ہے کہ اسلامی یونیورسٹی میں بھی کئی دیگر آسان ہدف تھے ، ان سب کو چھوڑ کر بالخصوص کلیۂ شریعہ اور خواتین کے کیفے ٹیریا کو کیوں نشانہ بنایا گیا ؟ پھر یہ کہ اسلامی یونیورسٹی اگر واقعی آسان ہدف تھا تو یہاں خود کش حملوں کی کیا ضرورت تھی ؟ دونوں خود کش حملہ آور اپنے ساتھ تقریباً پانچ پانچ کلو کا دھماکہ خیز مواد لائے تھے ۔ کیا اس سے کہیں زیادہ ہلاکت خیز مواد خواتین کے کیفے ٹیریا میں یا کسی بھی دوسری بلڈنگ میں نصب نہیں کیا جاسکتا تھا ؟ جو لوگ کینٹ ایریا میں آرمی چیف کی رہائش گاہ کے قریب پل کے نیچے بم نصب کرسکتے ہیں ان کے لیے اسلامی یونیورسٹی میں ایسا کرنا کیا مشکل تھا ؟ پھر خود کش حملہ آور کیوں استعمال کیے گئے ؟ خود کش حملہ آور تو یقیناًدہشت گردوں کا سب سے زیاہ اہم ہتھیار ہیں ۔ پھر اتنے soft target پر انھیں کیوں ضائع کیا گیا ؟ یہ بھی ایک سوال ہے کہ پچھلے چند دنوں میں دہشت گردوں نے جو حملے کیے انھوں نے لوگوں کو یرغمال بنانے کی کوشش کی ۔ اسلامی یونیورسٹی میں جو دو حملے ہوئے ان میں ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔ پھر خود کش حملوں کی کیا ضرورت تھی ؟ 

دھماکوں کی ٹائمنگ بھی قابل غور ہے ۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ، دونوں دھماکے تقریباً تین بجے کے قریب ہوئے ۔ خواتین کے کیمپس میں صبح کی کلاسز ساڑھے آٹھ بجے سے شروع ہوکر ڈیڑھ بجے ختم ہوجاتی ہیں ۔ پھر شام کی کلاسز ڈھائی بجے سے شروع ہو کر ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہتی ہیں ۔ اگرچہ اکا دکا کلاسز اس کے بعد بھی آٹھ بجے تک چلتی ہیں لیکن ساڑھے پانچ بجے کے بعد خواتین کے کیمپس میں عموماً سناٹا ہوتا ہے ۔ ڈیڑھ بجے سے ڈھائی بجے تک کلاسز کا وقفہ ہوتا ہے ۔ جن طالبات کی کلاسز شام کو نہیں ہوتیں وہ ڈیڑھ بجے کے بعد ہاسٹلز یا گھروں کو چلی جاتی ہیں ۔ البتہ جن طالبات کی کلاسز شام کو ہوتی ہیں ان میں بیشتر ، بالخصوص وہ جو ہاسٹل میں مقیم نہ ہوں ، اس وقفہ میں کیفے ٹیریا میں جاکر کھانا کھاتی ہیں ۔ اس لیے اس وقفہ میں خواتین کے کیمپس کے سامنے گاڑیوں کا رش بھی لگا ہوتا ہے اور کیفے ٹیریا میں بھی بہت زیادہ طالبات موجود ہوتی ہیں ۔ 

مردوں کے کیمپس میں صبح کی کلاسز ساڑھے آٹھ بجے سے شروع ہوکر ڈیڑھ بجے ختم ہوتی ہیں جبکہ شام کی کلاسز کلیۂ شریعہ میں ساڑھے تین بجے شروع ہوتی ہیں اور آٹھ بجے تک چلتی ہیں ۔ ڈیڑھ بجے سے ساڑھے تین بجے تک کلاسز میں وقفہ ہوتا ہے جس میں بیشتر طلبا ہاسٹلز میں یا مردوں کے کیفے ٹیریا میں جاتے ہیں ۔ اسی طرح اس وقفہ میں اسٹاف کے اکثر ارکان بھی کھانے اور نماز کے لیے دفتروں سے باہر ہوتے ہیں ۔ جو بسیں طلبا کو دیگر ہاسٹلز سے یا راولپنڈی اسلام آباد کے دیگر مقامات سے لاتی ہیں وہ تقریباً تین بج کر بیس منٹ پر پہنچتی ہیں ۔ اس لیے سوا تین بجے سے ساڑھے تین بجے تک کلیۂ شریعہ کے برآمدوں اور صحن میں بہت زیادہ رش ہوتا ہے ۔ ساڑھے تین بجے کے بعد آٹھ بجے تک کلیۂ شریعہ کی تمام کلاسز بالعموم بھری ہوئی ہوتی ہیں ۔ 

جب تین بجے خواتین کے کیفے ٹیریا میں دھماکہ ہوا اس وقت یقیناًوہاں رش تھا ، اگرچہ اس سے زیادہ رش ڈیڑھ بجے سے ڈھائی بجے تک ہوتا ہے ، لیکن کلیۂ شریعہ کے برآمدے ، صحن اور کلاس رومز میں خال خال ہی کوئی پایا جاتا تھا ۔ اگر یہ دھماکے صرف پندرہ منٹ کی تاخیر سے ہوتے تو خواتین کے کیفے ٹیریا میں رش کی کیفیت تو تقریباً اسی طرح ہوتی، لیکن کلیۂ شریعہ میں رش یقیناًبہت زیادہ ہوتا اور اس صورت میں کلیۂ شریعہ میں زخمی اور جاں بحق ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی ۔ کیا دھماکوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں سے وقت کے تعین میں کوئی غلطی ہوئی ؟ یا وہ کلیۂ شریعہ میں بہت زیادہ تباہی پھیلانا نہیں چاہتے تھے اور اس وجہ سے انھوں نے ساڑھے تین بجے کے بجائے تین بجے دھماکہ کیا ؟ 

سازش کے نظریات 

اب کچھ ان نظریات پر بھی روشنی ڈالی جائے جنھیں ’’ سازش کے نظریات ‘‘ (conspiracy theories) کہا جاتا ہے ۔ اگرچہ سنجیدہ حلقوں میں عام طور پر سازش کے نظریات کو درخور اعتنا نہیں سمجھا جاتا لیکن پھر بھی ان نظریات پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے کیونکہ ان سے بعض اوقات چند اہم سوالات سامنے آجاتے ہیں خواہ یہ نظریات خود ان سوالات کے تشفی بخش جواب نہ دے سکیں ۔ 

اولاً : اسلامی یونیورسٹی پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے یہ حملے کیے گئے ۔ 

بعض طلبا کی جانب سے یہ رائے پیش کی گئی ہے کہ ان حملوں کا اصل مقصد یہ ہے کہ اسلامی یونیورسٹی پر حکومت کی جانب سے مختلف قسم کی پابندیاں عائد کی جائیں ۔ یہ صحیح ہے کہ بعض انتہا پسند سیکولر حلقوں کو اسلامی یونیورسٹی کا وجود ایک آنکھ نہیں بھاتا ۔ یہ بھی صحیح ہے کہ وقتاً فوقتاً مختلف حکومتوں نے اسلامی یونیورسٹی کے اسلامی اور بین الاقوامی تشخص کو ختم کرنے کی کوششیں بھی کی ہیں ۔ لیکن اس نظریہ پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا خود کش حملہ آوروں نے اس لیے اسلامی یونیورسٹی کو ہدف بنایا کہ وہ اسلامی یونیورسٹی کا اسلامی تشخص ختم کرنا چاہتے تھے ؟ ان حملہ آوروں کے ذہن میں کیا تھا ؟ 

یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ طالبان ، بالخصوص سوات کے طالبان ، کے دلوں میں اسلامی یونیورسٹی کے لیے نرم گوشہ تھا ۔ صوبائی حکومت کے ساتھ معاہدہ میں مولانا صوفی محمد کے اصرار پر یہ بات شامل کی گئی کہ قاضیوں کی تقرری کے لیے اسلامی یونیورسٹی کے کلیۂ شریعہ کے فاضل طلبا کو ترجیح دی جائے گی ۔ پھر یہ بات حکومت نے شرعی نظام عدل ریگولیشن مجریہ ۲۰۰۹ء میں بھی شامل کرلی ۔ سوات طالبان کے ترجمان مسلم خان ، جو اس وقت حکومتی تحویل میں ہیں ، سے جب پوچھا گیا کہ شرعی قوانین کے ماہر قاضی کہاں پائے جاتے ہیں جن کی تقرری کا آپ مطالبہ کرتے ہیں ؟ تو ان کا جواب یہ تھا کہ اسلامی یونیورسٹی کے کلیۂ شریعہ سے فارغ التحصیل طلبا اس ضرورت کو پورا کرسکتے ہیں ۔ پھر اچانک کیا ہوا کہ اسلامی یونیورسٹی اور اس کا کلیۂ شریعہ ان کی نظر میں کھٹکنے لگی ؟ کیا اس موضوع پر بھی طالبان اور القاعدہ میں اختلافات پائے جاتے ہیں کہ ان کا ایک گروہ تو کلیۂ شریعہ کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے اور دوسرا گروہ اسے اپنے دشمنوں میں شمار کرتا ہے ؟ 

ثانیاً : یہ حملے امریکا کے اشارہ پر اور وزیرستان میں جنگ کو جواز دینے کے لیے کیے گئے -

یہ نظریہ عمران خان نے بڑے شد و مد سے پیش کیا ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا کے مختلف کونوں میں جنگوں کے جواز کے لیے اس طرح کے غیر انسانی کھیل کھیلے جاتے ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو خود کش حملہ آور خواتین کے کیفے ٹیریا اور کلیۂ شریعہ کو نشانہ بنانے کے لیے آئے کیا وہ امریکا کے لیے اپنی جان دے رہے تھے ؟ اس کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ امریکا یا اس کے حواری تو سات پردوں کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں اور خود کش حملہ آور کو معلوم نہیں ہوتا کہ درحقیقت وہ امریکا کے لیے آلۂ کار بن رہا ہے ۔ اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ ان خود کش حملہ آوروں کو جب ان اہداف کی طرف بھجوایا جارہا تھا تو ان کے مرشد اور امیر نے ان کے سامنے کیا جواز رکھا تھا ؟ کیا یہ ممکن ہے کہ خود کش حملہ آور اپنے ہدف کے جواز کے متعلق یکسو نہ ہو ؟ کیا خود کش حملہ آوروں کا ذہن اتنا مفلوج ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ جائز اور ناجائز ہدف کی تمیز نہیں کرسکتا ؟ کیا اطاعت امیر کا جذبہ ان کے دلوں میں اتنا راسخ کیا جاچکا ہوتا ہے کہ امیر کے ہر حکم وہ چون و چرا کے بغیر بالکل صحیح مان لیتے ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو اس سے زیادہ سنگین سوال سامنے آجاتا ہے ۔ کیا خود کش حملہ آوروں کے مرشد اور امیر دوسروں کے اشاروں پر کھیلتے ہیں اور ان خود کش حملہ آوروں کو محض ہتھیار اور آلہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں ؟ اگر ایسا ہے تب بھی انھوں نے ان حملہ آوروں کو یہ یقین تو دلایا ہوگا کہ ان اہداف پر حملہ کرنے سے وہ دین اور امت کے دشمنوں کو بڑا نقصان پہنچائیں گے ۔ 

ثالثاً : اسلامی یونیورسٹی سے انتقام لیا گیا -

بعض لوگوں کی جانب سے یہ رائے بھی پیش کی گئی ہے کہ دہشت گردی کے ان حملوں کے ذریعہ اسلامی یونیورسٹی سے کسی قسم کا انتقام لیا گیا ۔ اس نظریہ کے حق میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ دیگر حملوں کے برعکس ان حملوں کی ذمہ داری ابھی تک طالبان یا کسی اور تنظیم نے قبول نہیں کی ۔ دہشت گردی کے کسی واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے کی روایت اس لیے قائم ہوئی تھی کہ رائے عامہ کو ان تکالیف اور اسباب کی طرف توجہ دلائی جائے جن کی وجہ سے لوگ دہشت گردی کی کاروائی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ اس کی مثال میں فلسطینی ہائی جیکروں کی کاروائیاں پیش کی جاسکتی ہیں ۔ تاہم بعد میں یہ روایت بتدریج کمزور ہوئی کیونکہ اس طرح کی کاروائیوں میں عام لوگوں کا بہت نقصان ہوتا ہے اور رائے عامہ دہشت گردوں کے خلاف ہوجاتی ہے ۔ نیز دوسرے فریق کی جانب سے بدلہ اور جوابی کاروائی کا اندیشہ بھی ہوتا ہے ۔ ایک اور وجہ یہ ہوتی ہے کہ ’’ پراسرار اور نامعلوم ‘‘ دشمن کے روپ میں آکر دہشت گرد بہت زیادہ دہشت پھیلانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ پاکستان میں دہشت گردی کے اکثر واقعات کی ذمہ داری مختلف تنظیموں نے قبول کی ہے کیونکہ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کاروائی کو اپنی طاقت کا مظاہرہ بنا کر پیش کرتے ہیں ۔ اسلامی یونیورسٹی میں حملے اگر طالبان یا القاعدہ کی جانب سے ہوئے ہیں تو پھر اس خاموشی کا کیا مطلب ہے ؟ کیا انھیں رائے عامہ کی مخالفت کا اندیشہ ہے ؟ اگر ہاں ، تو پھر انھوں نے حملے کیے کیوں ؟ کیا انھیں حکومت کی جانب سے جوابی کاروائی کا اندیشہ ہے ؟ حکومت تو پہلے ہی وزیرستان میں جنگ شروع کرچکی ہے ۔ پھر کیوں وہ اپنی شناخت چھپانا چاہتے ہیں ؟ 

تاہم اس نظریہ پر بھی کئی سوالات اٹھتے ہیں ۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ انتقام کس سے کس بات کا لیا گیا ؟ نیز کیا انتقام لینے والے اپنے ہدف کو کسی اور ایسے طریقہ سے نشانہ نہیں بناسکتے تھے جس سے عام طلبا و طالبات کو نقصان نہ پہنچتا ؟ یہ صحیح ہے کہ کلیۂ شریعہ میں دھماکہ ایسے وقت کیا گیا جب وہاں طلبا کی تعداد نہایت کم تھی لیکن اس کے باوجود اگر دہشت گرد وہاں کسی کو نشانہ بنانا چاہتے تو اس کے لیے خود کش حملہ کی کیا ضرورت تھی ؟ اور یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا خود کش حملہ آوروں کے مرشد اور امیر کرائے کے ٹٹوں (Mercenaries)کے طور پر کام کرتے ہیں ؟ خود کش حملہ آورروں کے پیچھے کسی کا بھی ہاتھ ہو ، اور منصوبہ بندی کرنے کا والوں کا اصل ہدف کچھ بھی ہو ، ان نوجوانوں کے ذہن میں کیا تھا جنھوں نے خود کو ان خود کش حملوں کے لیے پیش کیا ؟ اس سوال کا جواب مل جائے تو القاعدہ اور طالبان کے نظریات اور خود کش حملوں کی حقیقت کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں ( یا خوش فہمیاں ) دور ہوجائیں گی ۔ 

رابعاً : بلیک واٹر کی سرگرمیاں -

پیچھے مذکور تین نظریات کی طرح سازش کا ایک اور نظریہ بھی پیش کیا جارہا ہے ۔ اسلام آباد میں پچھلے کچھ عرصہ میں بدنام زمانہ امریکی پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کی سرگرمیوں کے حوالہ سے مختلف خبریں میڈیا میں گردش کرتی رہی ہیں ۔ اسلامی یونیورسٹی پر حملوں کے ضمن میں بھی بعض مشکوک قسم کی حرکات کا حوالہ دیا جارہا ہے جن کا تعلق بلیک واٹر سے جوڑا جارہا ہے ۔ مثال کے طور پر ایک سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ خواتین کے کیفے میں ہونے والا دھماکہ ہر لحاظ سے کلیۂ شریعہ میں ہونے والے دھماکہ سے زیاہ خوفناک اور تباہ کن تھا اور خواتین کے کیفے میں اس وجہ سے تباہی بھی زیادہ پھیلی ، لیکن حکومتی سیکیورٹی فورسز نے آتے ہی کلیۂ شریعہ کا محاصرہ کرلیا اور اسے ہر طرف سے سیل کرلیا ۔ انھوں نے ایسی کوئی کاروائی خواتین کے کیفے میں نہیں کی ۔ اس کی کیا وجہ تھی ؟ 

کلیۂ شریعہ میں ہونے والے دھماکہ پر اور پہلو سے بھی سوال اٹھایا جاتا ہے ۔ امام ابو حنیفہ بلاک کا ایک تو مین گیٹ ہے جس میں سے داخل ہونے کے بعد پہلے کلیۂ شریعہ کے دفاتر آتے ہیں ۔ اس مین گیٹ کے علاوہ چار دروازے اور بھی ہیں ۔ ان میں دو دروازے دروازہ لڑکوں کے پاسٹلز کی جانب ہیں ۔ پہلا دروازہ اما م ابو حنیفہ بلاک میں موجود میڈیکل سیکشن کی طرف کھلتا ہے ۔ دوسرا دروازہ اس کے بعد آتا ہے جو کلیۂ عربی میں کھلتا ہے ۔ اسی طرح دو دروازے یونیورسٹی کی کارپارکنگ کی طرف ہیں ۔ ان میں ایک دروازہ پارکنگ کی جانب سے کلیۂ اصول الدین میں دوسرا کلیۂ شریعہ میں کھلتا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل تک یونیورسٹی انتظامیہ صرف مین گیٹ کھلا رکھتی تھی لیکن ایک دفعہ جب امام ابن خلدون بلاک کے طلبا نے احتجاج کرتے ہوئے مین گیٹ کو تالہ لگادیا تو انتظامیہ کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ پھر کسی دروازہ سے بلاک کے اندر جانا ممکن نہیں رہا تھا ۔ اس واقعہ کے بعد دونوں بلاکس میں تمام دروازے کھلے رکھے جاتے تھے ۔ تاہم کچھ عرصہ بعد ، شاید سیکیورٹی کے نقطۂ نظر سے ، دوبارہ تمام دروازے بند کردیے گئے اور صرف مین گیٹ کھلا رہنے دیا گیا ۔ بہت عرصہ بعد پہلی دفعہ ۲۰ اکتوبر ۲۰۰۹ ء کو ایسا ہوا کہ کلیۂ عربی کا دروازہ کھول دیا گیاتھا اور اسی دن کلیۂ شریعہ میں یہ دھماکہ ہوا ۔ اگر صرف مین گیٹ کھلا ہوتا تو دھماکہ کے بعد افراتفری میں شاید اور بھی زیادہ نقصان ہوتا ۔ یہ بھی واضح رہے کہ امام ابوحنیفہ بلاک کے مین گیٹ پر دو سیکیورٹی گارڈز تعینات ہوتے ہیں جبکہ کلیۂ عربی اور دیگر دروازوں کے کھلے ہونے کی صورت میں ان پر کبھی ایک گارڈ متعین ہوتا ہے اور کبھی وہاں کوئی بھی گارڈ نہیں ہوتا ۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یونیورسٹی کی سیکیورٹی پر مامور انتظامیہ میں کہیں کوئی کالی بھیڑ پائی جاتی ہے ؟

سازش کے نظریات پر یقین رکھنے والے بہت سے لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حملے خود کش نہیں تھے ۔ حکومت اور میڈیا میں بالعموم دہشت گردی کی ہر کاروائی اور ہر دھماکہ کو خود کش حملہ قرار دینے کی روایت پائی جاتی ہے ۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ حکومت کو یہ کہہ کر پیچھا چھڑانے کا راستہ مل جاتا ہے کہ خود کش حملہ آور کو کوئی نہیں روک سکتا ۔ دوسرے، اس کا الزام فوراً طالبان ، القاعدہ یا اس طرح کی کسی اور تنظیم پر عائد کردی جاتی ہے ۔ کلیۂ شریعہ میں ہونے والے دھماکہ کے بارے میں بعض میڈیا رپورٹس میں جسے خود کش حملہ آور قرار دیا جارہا تھا اس کے متعلق بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بے چارہ خود اس دھماکہ کے متاثرین میں تھا ۔ اسلامی یونیورسٹی نے باقاعدہ پریس ریلیز میں وضاحت کی کہ کلیۂ عربی میں زیر تعلیم خلیل الرحمان شہید خود کش حملہ آور نہیں تھے بلکہ اس حملے کا شکار ہوئے ۔ ساز ش کے نظریات پر یقین رکھنے والے لوگ کلیۂ شریعہ میں ہونے والے دھماکہ کو خود کش حملہ نہیں مانتے ۔ 

ہماری ناقص رائے میں اس دھماکہ کے متعلق یہ سوالیہ نشان اس وقت تک قائم رہے گا جب تک حکومت کی جانب سے باقاعدہ تحقیقی رپورٹ سامنے نہ آئے جس کی رو سے یہ ثابت ہو کہ یہ واقعی خود کش حملہ تھا ۔ تاہم کیفے ٹیریا میں ہونے والا دھماکہ تو یقیناًخود حملہ کش حملہ آور نے کیا تھا جس نے پہلے سیکیورٹی گارڈ شوکت کو زخمی بھی کیا تھا ۔ تو کیا یہ دونوں واقعات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے نہیں تھے ؟ کیا محض اتفاقاً دونوں دھماکے یکے بعد دیگرے ہوئے ؟ یہ بات وزنی نہیں لگتی ۔ تاہم تحقیقاتی اداروں کو اس امکان پر ضرور غور کرنا چاہیے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ کلیۂ شریعہ میں ہونے والے دھماکہ کا محرک اور مقصد خواتین کے کیفے ٹیریا میں ہونے والے حملہ کے محرک اور مقصد سے مختلف ہو ، خواہ دونوں کے لیے پلاننگ ایک جگہ کی گئی ہو ؟ کیا حکومت ان دھماکوں کی آزادانہ تحقیقات کراسکتی ہے ؟ کیا تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس سے قوم کو آگا کیا جائے گا ؟ کیا اسلامی یونیورسٹی کے ان معصوم طلبا و طالبات کے قاتلوں سے انصاف لیا جاسکے گا؟ 

دہشت گردی کے واقعات اور روایتی دینی طبقہ کا رویہ 

اوپر ذکر کیا گیا کہ حکومت ذمہ داری سے بچنے کے لیے دہشت گردی کی ہر کاروائی کو خود کش حملہ اس قرار دیتی ہے ۔ اس کے متوازی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ روایتی دینی طبقہ میں سے کئی لوگ واضح طور پر ثابت شدہ خود کش حملہ کو بھی خودکش حملہ ماننے سے انکار کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ لاشعوری طور پر وہ حملہ آوروں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ پھر اگر کبھی وہ اسے خود کش حملہ مان بھی لیتے ہیں تو اس کے بعد سازش کے نظریات پیش کرتے ہیں کہ یہ حملہ طالبان نے نہیں کیا ، بلکہ کسی اور نے کیا ہے ۔ پھر اگر طالبان خود کسی حملہ کی ذمہ داری قبول کرلیتے ہیں تو یہ لوگ کچھ اور طرح کے عذر تراشنے لگتے ہیں ۔ مثلاً اسلامی یونیورسٹی کے حملوں کے ضمن میں بعض لوگوں نے یہ نکتہ پیدا کرنے کی کوشش کی کہ حملہ آوروں کا اصل ہدف خواتین کیمپس کے عقب میں موجود نالے کے پار واقع امریکن سکول تھا ! بعض اوقات جب طالبان کی جانب سے واضح طور پر ہدف کے متعلق بھی تصریح آجاتی ہے تو یہ لوگ اس ہدف کے آس پاس کسی ایک یا ایک سے زائد امریکی ، یا غیر ملکی ، بالخصوص غیر مسلم ، شخص یا ادارے ، کی تلاش شروع کردیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اس حملے میں عام لوگ ، بچے ، خواتین اور بوڑھے کتنی بڑی تعداد میں نشانہ بنے ۔ خیبر بازار پشاور میں دھماکہ ہوا تو بعض لوگوں نے کہا کہ اصل ہدف تو شاید صوبائی اسمبلی کی عمارت تھی جہاں اسمبلی کا اجلاس ہورہا تھا ۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے تو کیا اسمبلی کی عمارت کو ہدف بنانا شرعاً جائز تھا ؟ کیا وہاں موجود لوگ واجب القتل یا کم از کم مباح الدم تھے ؟ سوات طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ آپ کے حملوں کی زد میں عام لوگ آجاتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے تو لوگوں کو آگاہ کیا ہوا ہے کہ سیکیورٹی فورسز سے دو سو گز کے فاصلہ پر رہیں! اسی طرح جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے تو جنازہ پر بھی حملہ کی ذمہ داری قبول کی تو ان کا جواب یہ تھا کہ جنازہ تو کب کا پڑھا جاچکا تھا ، وہاں تو اس کے بعد بینڈ باجا بجایا جارہا تھا ۔ ( واضح رہے کہ یہ ایک پولیس آفیسر کا جنازہ تھا۔) بعض لوگوں نے یہ بات بھی بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ پھیلائی کہ اس جنازہ پر جس نے حملہ کیا تھا اس نے حملہ سے پہلے دو تین دفعہ بلند آواز سے لوگوں سے کہا تھا کہ آپ لوگ ہٹ جائیں اور پولیس کو سلامی کی کاروائی پوری کرنے دیں ۔ گویا یہ کہہ کر خود کش حملہ آور نے عام لوگوں کے قتل سے براء ت کا اعلان کرلیا ! 

بہت سے لوگ اب بھی یہ بات ماننے پر تیار نہیں ہیں کہ خود کش حملہ آوروں کی یہ کھیپ پاکستان کے اندر ہی تیار کی جارہی ہے اور یہ خود کش حملہ آور پاکستانی ہی ہیں ۔ آخر کب تک ہم خودفریبی میں مبتلا رہیں گے ؟ بونیر میں شلبانڈی گاؤں کے پولنگ سٹیشن پر جس نوجوان نے خود کش حملہ کیا تھا اس کی وصیت خود سوات طالبان نے ریکارڈ کرکے اپنے پراپیگنڈے کے لیے استعمال کی ۔ ( تفصیل کے لیے سوات طالبان کی تیار کردہ ویڈیو ’’ سوات ۔ ۳ ‘‘ ملاحظہ کریں ۔ ) اس نوجوان کا کہنا تھا کہ وہ شلبانڈی سے بدلہ لینے جارہا ہے کیونکہ وہاں کے بعض لوگوں نے تین طالبان کمانڈروں کو قتل کرکے ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی تھی ۔ کیا اس نوجوان کو یا اس کے مرشدین کو بدلہ کے متعلق شریعت کے احکام کا علم نہیں تھا ؟ اس خود کش حملہ میں ، جو ایک پولنگ سٹیشن پر کیا گیا تھا ، بڑی تعداد میں عام لوگ اور عورتیں جاں بحق اور زخمی ہوئیں ۔ کیا پولنگ سٹیشن پر حملہ جائز تھا ؟ یہاں ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ جمہوریت کے شرک ہونے کی بحث شروع کردیں۔ 

کاش ہمارے دوست یہ بات جان لیں کہ ہمارا واسطہ جن لوگوں سے ہے، ان کے نزدیک ہم میں سے اکثر مرتد اور واجب القتل ہوچکے ہیں۔ کیا اسلامی یونیورسٹی پر حملوں کے بعد ہمارے ان نادان دوستوں کی آنکھیں کھل جائیں گی یا اس کے لیے اس سے زیادہ بڑے پیمانہ پر تباہی کی ضرورت ہے؟ 

حالات و واقعات

نومبر و دسمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۱۱ و ۱۲

مذہبی طبقات، دہشت گردی اور طالبان ۔ ایک سوالنامہ کے جوابات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلامی یونیورسٹی دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنی؟
محمد مشتاق احمد

آزادی کی پر تشدد تحریکیں: سبق سیکھنے کی ضرورت
ڈاکٹر عبد القدیر خان

جہاد کی فرضیت اور اس کا اختیار ۔ چند غلط فہمیاں
محمد عمار خان ناصر

موجودہ پر تشدد تحریکیں اور دیوبندی فکر و مزاج
مولانا مفتی محمد زاہد

معاصر مجاہدین کے معترضین سے استفسارات
محمد زاہد صدیق مغل

حدیث غزوۃ الہند اور مسئلہ کشمیر پر اس کا انطباق
مولانا محمد وارث مظہری

مولانا فضل محمد کے جواب میں
حافظ محمد زبیر

مکاتیب
ادارہ

’’دینی مدارس کا نظام بین الاقوامی تناظر میں‘‘
ادارہ

امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت کی تقریب رونمائی
ادارہ

الشریعہ کی خصوصی اشاعت کے بارے میں تاثرات
ادارہ

’’دینی تعلیم اور عصری تقاضے‘‘ کے عنوان پر سیمینار
ادارہ

انا للہ وانا الیہ راجعون
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ