’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۴)

بحثِ سوم: مقالے کے دیگر عمومی مباحث

اب ہم اگر مقالے کے دیگر عمومی مباحث پر نظر ڈالیں تو اس میں ایک تو جو ’’مشکل القرآن‘‘ کی اصطلاح ہے، اس پر میں نے علماء علوم القرآن کی مختلف آراء کو ذکر کیا ہے۔ اسی طرح اسلامی علوم میں ’’مشکل‘‘ کی اصطلاح کا ایک جائزہ لیا گیا ہے۔ دیکھیں، مشکل کی اصطلاح ہمارے اسلامی علوم میں صرف تفسیر میں نہیں ہے، حدیث میں بھی ہے، اصولِ فقہ میں بھی ہے، حتیٰ کہ نحو میں بھی ہے اور علم الکلام میں بھی ہے۔ تو ان سب کا قرآنی مشکل کے ساتھ تقابل ذکر کیا گیا ہے اور اس اصطلاح کا مفہوم پیش کیا گیا ہے۔ 

دوسری صدی ہجری سے لے کر پندرہویں صدی ہجری تک مشکل القرآن کے موضوع پر لکھی گئی کتب کا صدی بہ صدی تعارف اور ان کے مخطوط اور مطبوع کی تعیین اس میں شامل ہے۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ اس کا بڑا حصہ میں نے الرحیلی صاحب کی کتاب سے لیا ہے، لیکن میرے اپنے بھی اس میں اضافات ہیں۔ 

اس کے بعد چودہ صدیوں کے مواد کی درجہ بندی ہے۔ یہ چیز اس میں ایسی ہے کہ جو چودہ صدیوں کی کتب ہیں، میں نے ان کی اس طرح سے درجہ بندی کی ہے کہ کس صدی میں مشکل القرآن کی کس نئی نوع کا اضافہ ہوا۔ چند صفحات اس پر بھی لکھے گئے ہیں۔ 

اسی طرح ایک فصل میں مشکل القرآن کو حل کرنے کے اصول و ضوابط بھی لکھے ہیں۔ تقریباً‌ دس اصول لکھنے کی کوشش کی ہے کہ مشکل القرآن میں کسی بھی آیت کے متعلق کوئی اشکال ہو تو اس کو کیسے حل کیا جاتا ہے۔ 

قدیم و جدید کتب کی روشنی میں مشکل القرآن کے موضوع پر ایک نظر۔ اس کے تحت علوم القرآن کی کل سترہ قدیم و جدید کتب میں مشکل القرآن کے مبحث و امثلہ کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ خود مشکل القرآن کے موضوع پر لکھی گئی کتب میں سے بارہ قدیم و جدید مصادر کے منہج و مباحث کا ایک تعارفی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ اس باب کا عنوان ہی یہ ہے کہ مشکل القرآن کے مصادر کا ایک مطالعہ، یعنی مشکل القرآن کا موضوع علوم القرآن کی کتابوں میں کیسے آیا ہے، اور خود مشکلات القرآن کی کتابوں میں کیسے آیا ہے، اس پر میں نے ان تمام کتابوں سے امثلہ لی ہیں اور ان کا تعارف کرایا ہے۔ 

یہ ہو گیا تمت بالخیر۔ میں نے کافی تیزی میں تعارف کرایا ہے اور بہت ساری تفصیلات چھوڑ دی ہیں تاکہ صرف خلاصہ ہی سامنے آجائے۔ اللہ کرے کہ آپ لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ ہوا ہو۔ تو اب اگر کوئی سوال ہے تو وہ پوچھا جا سکتا ہے۔

سوالات

(1)     سید شہزاد علی:

السلام علیکم جی، میرا نام سید شہزاد علی ہے، قصور سے بات کر رہا ہوں، طالب علم ہوں۔ ما شاء اللہ آپ نے بڑا اچھا اور علمی انداز میں اور مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی [کاوشوں] کو قبول کرے۔ اچھا، دو تین سوالات آپ کے سامنے رکھتا ہوں، ایک ہی مرتبہ جواب دے دیجیے گا۔ 

  1. ابھی آپ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اشکالات پیدا ہوئے اور مشکلات القرآن تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جوابات دے دیے۔ جب ہمارے سامنے جوابات آ جاتے ہیں تو پھر وہ مشکلات تو نہیں رہ گئیں، یعنی وہ تو حل ہو گیا۔ پھر آپ نے کہا کہ اصحابؓ کے دور میں اور اس کے بعد بھی اس کو بطور مشکل [ذکر کیا گیا]۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی توجیہ، وضاحت اور تفسیر کر دی تو اس کو مشکلات القرآن میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔ ایک میرا نقطہ نظر ہے۔
  2.  …… حدیث ہے کہ کسی نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو فرمایا کہ یہ آپ لوگوں کے لیے نہیں ہے، آنے والا زمانہ اس کی تشریح کرے گا۔ تو ابھی ہمارا تو بطور مسلمان کے یہ تاثر ہے کہ آنے والے زمانے میں، چاہے وہ سائنس کا ہو چاہے ایجادات کا ہو، تو اشکالات دور ہوں گے، نہ کہ علم کے ساتھ اشکالات پیدا ہوتے چلے جائیں گے اور بڑھیں گے، جیسا کہ آپ نے ہمارے سامنے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔ 
  3. کیا آپ نے اپنے اس مقالہ میں ان اشکالات کو بیان کر کے اس کا حل بھی پیش کیا ہے، جو ہمارے مفسرین نے دیا ہے؟ یا صرف ان کی نشاندہی کی ہے؟ بہت شکریہ جی۔

جواب:

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ جزاکم اللہ، بڑے اچھے سوالات ہیں۔

  1. جو آپ نے پہلا سوال کیا ہے کہ دورِ نبوت میں تو ان اشکالات کو حل کر لیا گیا۔ ظاہر ہے وہ اشکالات ایک آیت کے متعلق حل ہو گئے لیکن وہ بطور نوع اور کیٹیگری کے تو باقی ہیں۔ مثلاً‌ مشکل اللغۃ میں ایک آیت کے متعلق صحابہؓ کا اشکال پیدا ہو گیا، تو صحابہؓ نے اس کا جواب نبی علیہ السلام سے حاصل کیا اور اس آیت سے متعلق اشکال حل ہو گیا، لیکن وہ بطور نوع کے تو اب بھی باقی ہے، تو اس وجہ سے اس کو ذکر کیا گیا ہے۔ 
  2. اور دوسرا جو آپ نے کہا کہ جو آگے والا زمانہ ہے وہ آیتوں کو واضح کرے گا، نہ کہ اشکال پیدا کرے گا۔ تو دیکھیں کہ جو آگے والا زمانہ ہے وہ اشکال پیدا کرے گا تو اس کی وضاحت ہو گی۔ یعنی پہلے اشکالات ہوں تو پھر چیز واضح ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اس طرح سے ہو گا۔ 
  3. اور جو تیسری بات آپ نے ذکر کی کہ کیا اس کو میں نے حل بھی کیا ہے؟ یہ مجھ سے پی ایچ ڈی کے [انٹریو] میں بھی پوچھا گیا تھا، تو میں نے ان سے کہا کہ دیکھیں، یہ میرے مقالے کا موضوع نہیں ہے کہ ان مشکلات کو حل بھی کیا جائے، میرے مقالے کا موضوع صرف مشکلات القرآن کا تعارف ہے۔ تو اس لیے پھر مجھ سے انہوں نے [کہا کہ] یہ مقالہ تو پڑھ کے لگتا ہے کہ قرآن میں اشکالات ہی اشکالات ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ ریسرچ کا ایک خاص دائرہ ہوتا ہے جس سے نہیں نکل سکتے ……

(2)     ایک سامع:

مولانا صاحب! میرا ایک سادہ سا سوال ہے کہ جتنے بھی مشکلات القرآن کی انواع کا آپ نے ذکر کیا، ظاہر ہے کہ قرآن کی تفسیر میں بھی یہ زیربحث آتے ہیں۔ جب کوئی مفسر بیٹھ کر قرآن کی تفسیر کرے گا تو جب آیات میں کوئی اشکال پیش آئے گا تو تفسیر کے تحت بھی اسے ذکر کرے گا۔ اب مشکلات القرآن کی الگ سے کتاب لکھنا، الگ سے اسے مدون کرنا، اس کی کیا اہمیت ہے، اگر وہ پہلے ہی تفسیر القرآن میں زیر بحث ہے؟ تو اسے ذرا سمجھائیں۔

جواب:

ما شاء اللہ اچھا سوال ہے آپ کا۔ دیکھیں، ایک تو قرآن پاک کی تمام تفاسیر میں ان اشکالات پر بحث نہیں ہے، کسی کسی تفسیر میں بحث ہے، اور اس میں بھی کسی آیت سے متعلق ہے، کسی آیت سے متعلق نہیں ہے۔ ایک تو یہ بات ہے۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ ظاہر ہے جب ہم الگ سے کوئی کتاب لکھتے ہیں تو اس میں اس علم کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔ جیسے مثلاً‌ مفسرین کسی فقہی آیت سے متعلق احکامات ذکر کرتے ہیں، لیکن آپ دیکھیں کہ ہمارے اصول فقہ میں …… یا جو قرآنی احکامی آیات ہیں اس کا الگ ذکر ہے۔ یا اسی طرح مثلاً‌ حدیث کی کتابوں میں کتاب التفسیر کا الگ ذکر ہے۔ اس لیے ضروری نہیں کہ جو چیز تفسیر میں آجائے تو الگ سے اس موضوع پر نہیں لکھا جا سکتا۔ تو ہر علم کا اپنا بھی ایک خاص دائرہ ہوتا ہے، تو اس علم کے اندر بھی اس کو ذکر کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ علوم القرآن کی ایک نوع ہے مشکلات القرآن، لہٰذا اس کو پھر الگ سے لکھا جا سکتا ہے۔ گویا کہ جو تفسیر میں آئی ہے وہ تو تفسیر کے تناظر میں آئی ہے، لیکن یہاں ہم نے اس پر اصولی بحث کی ہے۔ جبکہ مفسرین تو اصولی بحث نہیں کرتے، وہ صرف یہ کہیں گے کہ اس آیت کا یہ اشکال ہے اور اس کا یہ جواب ہے۔ لیکن اس علم کے اصول کیا ہیں، اس کے ضوابط کیا ہیں، اس کی انواع کیا ہیں، وہ تو تفاسیر میں اس طرح سے نہیں ملے گا۔ وہاں حل ہے، لیکن اصولی بحث یہاں کی گئی ہے۔ 

(3)     محمد حذیفہ نواز:

اس حوالے سے مفید کتابوں کا اگر آپ کچھ تعارف کرا سکیں، شاید کرایا بھی ہو، میں ساری گفتگو میں شریک نہیں تھا … 

جواب:

… ظاہر ہے میں تو کہوں گا کہ میری کتاب ہی اچھی ہے۔ لیکن مشکلات القرآن کے کس پہلو سے آپ دیکھنا چاہتے ہیں؟ 

دیکھیں، اگر تو اس پہلو سے ہے کہ جن میں آیتوں کی مشکلات کو حل کیا گیا ہو، تو اس کے لیے ظاہر ہے آپ کو مختلف تفاسیر کی طرف جانا پڑے گا۔ پھر اگر لغوی اشکالات ہیں تو پھر لغوی تفاسیر کی طرف جانا پڑے گا۔ فلسفے اور اس جیسے اشکالات ہوں تو پھر فلسفی تفاسیر کی طرف جانا پڑے گا۔ اس کو اس لحاظ سے آپ دیکھیں۔ 

اور اگر آپ نے مشکلات القرآن کے موضوع پر کتابیں دیکھنی ہیں، اس کے مصادر دیکھنے ہیں، تو اس میں آپ کو ابن قتیبہؒ کی کتاب، یا مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی کتاب، یا عز الدینؒ کی کتاب ’’فوائد فی مشکل القرآن‘‘ ہے۔ ان میں آپ کو مشکلات القرآن کی بہت ساری مثالیں مل سکتی ہیں۔ اردو میں آپ دیکھیں تو مستقل ایک کتاب لکھی گئی ہے ’’آیاتِ متعارضہ اور ان کا حل‘‘ جس میں صرف آیاتِ متعارضہ کو حل کیا گیا ہے۔ گویا کہ مختلف انواع پر مختلف قسم کی تفاسیر یا مختلف قسم کی جزوی کتب موجود ہیں۔ 

(4)     ایک سامعہ: 

السلام علیکم، مولانا! مجھے ساختیات (Structuralism) کے حوالے سے ایک سوال کرنا ہے۔  آپ نے یہ ذکر کیا ہے کہ اس کے بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، یا ہو رہے ہیں علوم القرآن پر، تفسیرِ قرآن پر۔ تو اس حوالے سے باقاعدہ ایک کتاب لکھی ہے ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے، جو پنجاب یونیورسٹی میں لیکچرر ہیں ادب کے۔ انہوں نے اس میں بالکل واضح کیا تھا کہ متن کو مصنف کے عندیے سے ہٹا کر اگر ہم دیکھیں گے تو آپ لازمی کثیر المعنویت تک پہنچ جائیں گے، اور مقصدی تحریر بھی آپ کو بے مقصد نظر آنے لگے گی۔ تو یہ ایک نقص کے طور پر وہ بیان کر رہے ہیں، انسان کے نقص کے طور پر۔ اور پھر اسی وجہ سے وہ کہتے ہیں کہ سائنسی، تاریخی اور الہامی کتب میں آپ وحدتِ معنی تک نہیں پہنچتے۔ یہ انسانی نقص ہے، یہ بالکل ویسا ہی نقص ہے جیسے انسان سماعت اور بصارت میں ایک حد رکھتا ہے، اس سے آگے سن اور دیکھ نہیں پاتا، تو پھر وہ خوردبین اور دوربین کا سہارا لیتا ہے، یا خاص آلے ہوتے ہیں جن کا استعمال کرتا ہے۔ تو یہ جو آپ مشکلات القرآن پیش کر رہے ہیں، یا اس سے پہلے اہلِ علم نے اسالیب القرآن پیش کیے، تو ان سب کو کیا ہم وہی ٹولز سمجھیں جیسے دوربین اور خوردبین ہوتے ہیں، جو ہماری مدد کرتے ہیں اور اس کمزوری کے ہوتے ہوئے ہمیں دور کی یا انتہائی چھوٹی چیز دیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ بالکل وہی ٹولز ہیں جو ہمیں قرآن کے وحدتِ معنی تک پہنچنے میں مدد دیں گے؟ کیا صحیح سمجھی ہوں میں اس چیز کو؟ 

جواب:

میرے خیال میں اس میں فرق ہے۔ دیکھیں مابعد جدیدیت کی جو بحث ہے، اس نے پوری لسانیات کی تاریخ کو ہی بدل دیا ہے۔ یعنی پہلے جو ٹولز استعمال ہوتے تھے، وہ کسی بھی متن کو سمجھنے کے ٹولز ہوتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہے۔ اب مابعد جدیدت نے وہ پورا پیراڈائم ہی شفٹ کر دیا ہے۔ ان کے نزدیک لسانیات کا معاملہ ہی الگ ہو گیا ہے۔ کچھ چیزیں ظاہر ہے بہت دقیق بھی ہیں۔ یہ اُس طرح تو نہیں ہے لیکن یہ بہت بڑا فرق ہے اور یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ مابعد جدیدیت جو بحث ہے اس نے وہ لسانیات کا پورا فلسفہ ہی تبدیل کر دیا ہے۔ اس کا براہ راست الہامی کتابوں پر بڑا گہرا اثر ہے، اور یہ بہت بڑا چیلنج ہے الہامی کتابوں کے لیے، کہ الہامی کتابوں کا متن اور معنی کی خاص حدود ہوتی ہیں، باؤنڈریز ہوتی ہیں، اُس نے تو لسانیات کی باؤنڈریز کو ہی توڑ دیا۔ اس لیے یہ اُس میں سے نہیں ہے، یہ بالکل الگ چیز ہے، یہ دونوں ایک چیز نہیں ہیں۔

سوال: 

ایک چھوٹی سی بات میں پوچھنا چاہوں گی، اگر آپ کے پاس وقت ہے تو اسے واضح کر دیں۔ اُن کا موقف تھا اس کتاب میں کہ مصنف کا لکھتے وقت ارادہ تو ایک ہی معنی قاری تک پہنچانا ہوتا ہے۔ یعنی لکھتے وقت مصنف کا یہی ارادہ تھا کہ میں ایک ہی معنی قاری تک پہنچاؤں۔ لیکن جب وہ قاری کے ہاتھ میں آتا ہے تو تنقیدی نگاہ کی وجہ سے، جو کہ ہر قاری کی الگ الگ ہوتی ہے، وہ مختلف معنی تک پہنچ جاتا ہے۔ تو یہ بات انہوں نے نقص کے طور پر بیان کی تھی۔ آپ کا یہ کہنا ہے کہ یہ چیز بطور نقص ساختیات کے لوگ پیش نہیں کر رہے، بلکہ وہ اس کو ایک مثبت چیز کے طور پر پیش کر رہے ہیں اس لیے مختلف المعانی تک پہنچنا ان کو ایک اچھی چیز لگ رہا ہے، الہامی کتب کے حوالے سے بھی۔ کیا یہ کہنا چاہ رہے ہیں آپ؟ 

جواب:

یہاں ہم نقص اور خامی کے حوالے سے نہیں دیکھ رہے۔ صرف بات یہ ہے کہ لسانیات کی جو جدید بحثیں اٹھی ہیں، اس نے لغت، لفظ اور معنی کا پورا فلسفہ ہی تبدیل کر دیا ہے۔ جو لغت کی بحث ہے، یا لفظ اور معنی کی بحث ہے، اس نے وہ ساری حدود توڑ دی ہیں۔ اب وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ جو متن یا ٹیکسٹ ہوتا ہے، ایک تو وہ اس مصنف سے آزاد ہو جاتا ہے، وہ قاری کے فہم کے تابع ہوتا ہے۔ پھر وہ صرف ایک قاری کے فہم کے تابع نہیں ہے، اگر ہزار قاری ہیں تو ہزار قاریوں کے فہم کے تابع ہے۔ پھر صرف یہی نہیں ہے، وہ الفاظ بھی اپنے معنی کی حدود سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لفظ اور معنی ایک دوسرے کے ساتھ نتھی نہیں ہیں۔ تو گویا کہ یہ ایک بہت بڑی سطح پہ بحث ہے، جس نے گویا کہ صرف لسانیات پر اثر نہیں ڈالا۔ اسی لیے تو ان لوگوں کے ہاں کوئی نظریہ ہی نہیں ہے، کوئی ایک کائناتی سچائی ہے ہی نہیں۔ کیونکہ کائناتی سچائی تو آپ الفاظ سے بنائیں گے، جبکہ الفاظ اور معانی کا کوئی رشتہ ہی نہیں رہا۔ یہ کافی گہری اور پیچیدہ قسم کی بحث ہے، وہ ہماری لغات میں، جو ہماری linguistic history ہے، وہ اس سے الگ تھلگ ہے، اس لیے وہ اس میں آتا ہی نہیں۔ 

یہ جو مشکلات القرآن ہیں، اس میں متن کے حوالے سے کچھ اشکالات پیدا ہوتے ہیں جن کو ہم نے حل کرنا ہے۔ یہ وہ والی بحث نہیں ہے۔ وہ والی بحث تو اس پوری انسانیت کی تاریخ کو بدل دیتی ہے، جس کے نہ صرف ٹیکسٹ پر اثرات پڑتے ہیں بلکہ فکری اثرات پڑتے ہیں، فلسفے پر اثرات پڑتے ہیں، اس کے کائناتی سچائی پر اثرات پڑتے ہیں۔ تو مابعد جدیدیت نے تو پوری انسانی تاریخ ہی بدل دی، اور اتنا بدل دیا کہ وہ اپنا آپ بھی ڈیفائن نہیں کر پا رہا، کیونکہ خود کو ڈیفائن کرنے کے لیے بھی الفاظ چاہئیں، اور اس نے تو الفاظ اور معنی کا رشتہ ہی توڑ دیا۔ یہ عجیب غریب بحث ہے جو خود ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے، یعنی مابعد جدیدت بھی ابھی پورا محدد نہیں ہو سکا، اس کی اسی کنفیوژن کی وجہ سے، یا جو الفاظ اور معانی کا جو رشتہ انہوں نے توڑ دیا ہے، اس کی وجہ سے وہ خود بھی یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ اب کیسے اس کی باؤنڈریز طے کریں۔ 

سوال: 

مولانا! علامہ جاوید احمد یہ فرماتے ہیں کہ انسان اپنے وجود کی بنا پر چیز کو سمجھتا ہے اور پھر وہ علمی ارتقائی سفر طے کرتا ہے۔ ہر دور میں انسان نے یہی کیا ہے۔ تو آپ کو نہیں لگتا کہ ساختیات کے لوگ جو ہیں وہ انسان کی اس کیفیت کو ڈسکرائب کر رہے ہیں کہ وہ کیوں مختلف معانی نکالتا ہے چیز سے۔ وہ ’کیوں‘ کا تو جواب دے رہے ہیں لیکن اس کا حل نہیں بتا رہے۔ مثال کے طور پر وہ یہ بتائیں کہ یہ جو انسانی آنکھ ہے یہ فلاں حد تک تو دور کی چیز کو دیکھ سکتی ہے، اس سے آگے نہیں۔ تو جب یہ ایک نقص ہے اور یہ واقعی حقیقت ہے، پھر اس نقص کو جان لینے کے بعد آگے اس پر قابو کیسے پانا ہے، دور کی چیز کیسے دیکھنی ہے، اس کے پھر حل تلاش کیے جاتے ہیں۔ پھر علامہ صاحب بتاتے ہیں کہ آپ کے پاس سیاق و سباق ہوتا ہے، جملے کی تالیف، عربی کے اندر لفظ کا معروف استعمال، اس طرح کی وہ ساری چیزیں پیش کرتے ہیں کہ یہ سب آپ کی مدد کرتے ہیں وحدتِ معنی تک پہنچنے میں، یعنی یہ ٹولز ہیں۔ اور وہ ٹولز آپ بھی پیش کر رہے ہیں اپنی جگہ کہ فلاں فلاں ٹولز استعمال ہوتے ہیں۔ آپ کو نہیں لگتا کہ ساختیات اثر نہیں ڈال رہا، وہ تو انسانی کمزوری بتا رہا ہے، اب ہمارا کام ہے کہ اچھا اب یہ کمزوری ہے کہ مختلف معانی تک ہم پہنچ سکتے ہیں تو اس کو کور کیسے کرنا ہے؟ تو جی فلاں فلاں ٹولز ہیں جو آپ کو اس کمزوری پر قابو پا کر وحدتِ معانی تک پہنچائیں گے۔ تو کیا یہ ٹھیک طریقہ نہیں ہے ساختیات کو دیکھنے کا؟

جواب:

اس میں ایک بنیادی فرق ہے: 

ایک تو یہ ہے کہ پہلے سے یہ طے کر دیں کہ اس ٹیکسٹ کا ایک مفہوم ہے۔ اب وہ ٹیکسٹ اپنے مفہوم پر کیسے دلالت کر رہا ہے؟ اس میں کچھ رکاوٹیں آ رہی ہیں اور آپ ان رکاوٹوں کو دور کر رہے ہیں، کمزوریوں کو دور کر رہے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے۔ 

لیکن یہ لوگ اس طرح سے نہیں کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اس کو دیکھ ہی نہیں رہے کہ ٹیکسٹ کا ایک خاص مفہوم ہے۔ وہ ان مشکلات کو نہیں دور کر رہے کہ ٹیکسٹ اپنے مفہوم پر کیسے دلالت کر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سب سے بڑی رکاوٹ ہی ٹیکسٹ کا ایک متعین مفہوم پر دلالت کرنا ہے۔ وہ کہتے ہیں آپ ٹیکسٹ کو بھی آزاد کردو اور مفہوم کو بھی آزاد کر دو۔ تو پہلے والے لوگ جو اس پر بات کرتے تھے وہ ٹیکسٹ کا ایک متعین مفہوم فرض کر کے پھر اس کو دریافت کرتے تھے۔ یہ لوگ فرض کر کے دریافت نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں کہ جو آپ دریافت کرتے ہیں دراصل یہی کمزوری ہے۔ کیونکہ جب آپ دریافت کر لیتے ہیں تو پھر اس کی باؤنڈریز آپ نے طے کر دیں۔ جب آپ نے باؤنڈریز طے کر دیں تو آپ نے لفظ اور معنی کو آپس میں جوڑ دیا، حالانکہ اس کو جوڑنا ہی نہیں ہے۔ 

تو اس لیے یہ اس سے بالکل الگ ہے۔ امید ہے فرق واضح ہو گیا ہو گا۔ مابعد جدیدت سے مجھے بھی تھوڑی بہت شناسائی ہے، زیادہ تو نہیں ہے، لیکن پڑھتا رہتا ہوں، تو اس لیے اِس میں اور اُس میں کافی فرق ہے۔ 

سوال:

اچھا، میں سمجھ گئی، یعنی جیسے غلامی کے بارے میں علامہ جاوید احمد نے اپنا جب موقف پیش کیا تو لوگوں نے سوال اٹھا دیا کہ یہ پہلے ادوار میں جو اہلِ علم تھے ان کو کیوں نہیں سمجھ آئی یہ آیت کہ اچھا یہ تو غلامی کو ختم کر رہی ہے، آپ کو اتنی صدیوں بعد کیسے پتہ چلا؟ تو استاذ نے فرمایا کہ چونکہ یہ مسئلہ ہی نہیں تھا پہلے لوگوں کا، اس لیے نہ تو نقد ہوا اور نہ ہی جواب دینے کی ضرورت پیش آئی۔ آج کا عالم اس پر غور کر کے کیوں یہ جواب لے آیا ہے، کیونکہ آج ہی تو مسئلہ پیدا ہوا ہے جدید تہذیب کی وجہ سے، تو اس لیے جب ہم نے اس آیت پہ غور کیا تو ہمیں صاف پتہ چل گیا۔ تو آپ کا کہنا ہے کہ یہ چیز ہے کہ قاری غور کرتا ہے اور پھر اپنے حالات کے لحاظ سے معنی اخذ کر لیتا ہے۔ اور یہی اصل چیز ہے، یعنی ساختیات اِدھر راہنمائی کر رہی ہے کہ حاضر کا شخص کوئی معنی اخذ کر رہا ہے، وہی اصل معنی ہے، مصنف کا معنی یا مصنف کا جو عندیہ ہے وہ اصل معنی نہیں ہے۔ یہ کہنا چاہ رہے ہیں نا آپ؟ 

جواب:

اسی کے قریب قریب۔ لیکن اس میں پھر وہ یہ بھی ساتھ کہتے ہیں کہ یہ جو قاری نے اخذ کیا ہے، یہ بھی کوئی الٹی میٹ نہیں ہے، یہ بھی یوں سمجھ لیں کہ اس کو محدد نہیں کرتا، یعنی قاری اپنے اس مفہوم پہ اصرار کرے گا تو یہ بھی غلط ہے۔ یہ بالکل اس طرح ہے کہ جیسے ایک مٹی ہے، آپ اس سے گھوڑے کی شبیہ بنا لیں، میں اس سے انسان کی شبیہ بنا لوں، کوئی دوسرا اٹھا کر اس سے دیوار بناتا ہے۔ تو وہ کہتے ہیں کہ الفاظ دراصل مٹی ہیں، اس مٹی سے کیا بنانا ہے، یہ ہر ایک کی اپنی مرضی ہے، ضروری نہیں کہ اگر آپ نے اس مٹی سے گھوڑا بنا لیا تو اس مٹی سے صرف گھوڑا ہی بن سکتا ہے، کچھ اور بن ہی نہیں سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ اس گھوڑے کو گرا کر اس سے کوئی شبیہ بھی بنا سکتے ہیں۔ 

وہ کہتے ہیں کہ وہ قاری جو اِس تک پہنچا ہے وہ اس کی چوائس ہے۔ تو اس طرح سے گویا کہ ہمارا پورا جو کمیونیکیشن کا نظام ہے وہ سارا ہی ختم ہو جاتا ہے۔  اور جو الہامی کتابیں ہیں، اس کا بنیادی فلسفہ تو یہی ہے نا کہ اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعے کمیونیکیٹ کرتا ہے انسانوں سے۔ اگر آپ اس کمیونیکیشن کی تار ہی کاٹ دیں، تو پھر کیسے کمیونیکیشن ہو گی۔ تو اس لیے یہ فکر بہت زیادہ چیلنجنگ ہے الہامی کتابوں کے لیے۔ اس لیے میں نے مابعد جدیدت کو مستقبل کی ممکنہ مشکلات میں شمار کیا ہے کہ ابھی یہ چیلنج پورا واضح ہوا نہیں ہے، لیکن یہ واضح ہو گا مستقبل میں۔ 

(5)     ایک سامع:

میرے ذہن میں سوال آ رہا تھا کہ یہ مشکلات تو صحابہؓ سے شروع کی ہیں آپ نے، یا تابعین سے۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کوئی مشکلات پیش آئی تھیں کبھی اس طرح؟ 

جواب:

بڑا مشکل سوال آپ نے کیا ہے۔ دیکھیں، نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس لیے ہم نہیں کہہ سکتے کہ مشکلات پیش آ سکتی ہوں گی کہ وہ تو خود شارع تھے۔ یعنی وہ خود اس کی توضیح کرتے تھے۔ لہٰذا آپؐ کو مشکلات پیش نہیں آ سکتی تھیں۔ یعنی مشکلات تو سننے والے کو پیش آتی ہیں۔ گویا کہ آپؐ خود ان الفاظ کی تشریح اور ان کو ڈیفائن کرنے والے تھے، اس لیے آپ کو مشکلات نہیں آ سکتیں۔ ہاں، اگر کبھی آئی بھی ہوں گی تو ہو سکتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ تعالیٰ اور حضرت جبرائیل علیہ السلام، ان تینوں کے درمیان ہی معاملہ ہوا ہو گا، جو ظاہر ہے امت تک منتقل نہیں ہوا۔ 

سوال: 

جیسے ہم دیکھتے ہیں سیاق و سباق میں، جب قرآن کی کچھ آیات ہم پڑھتے ہیں، جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تنبیہ کی جا رہی ہو کسی بات پر، کسی آیت میں کسی جگہ پہ روکا جا رہا ہو۔ جیسے سورہ تحریم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا گیا کہ آپ قسم کو کھول لیں، اور اس کا طریقہ بتا دیا گیا۔ اب یہاں پہ محسوس نہیں ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم سمجھنے میں [مشکل پیش آئی ہو گی]۔ ’’لم تحرم ما احل اللہ لک‘‘ یا ’’عفا اللہ عنک‘‘ یا ’’عبس وتولیٰ‘‘ یا اس طرح کے جو مقامات ہیں، کیا اسے ہم اس حوالے سے دیکھ سکتے ہیں؟

جواب:

دیکھیں، یہ جو مشکلات القرآن ہے، اس کا تو ٹیکسٹ کے ساتھ تعلق ہے کہ ٹیکسٹ میں کوئی اشکال ہو رہا ہے۔ آپ نے جو مثالیں پیش کی ہیں، اس میں تو کوئی واقعہ ہو جاتا ہے اور اس واقعہ پر اللہ تعالیٰ آپؐ پر کوئی اس طرح شکوے والا جملہ کہہ دیتے ہیں، تو اس کا قرآنی ٹیکسٹ سے تعلق نہیں ہے۔ 

یعنی مشکلات القرآن تو ہم اس کو کہتے ہیں کہ قرآنی متن آیا، اب یہ قرآنی متن کسی حوالے سے اشکال پیدا کر رہا ہے۔ اور ایک یہ ہے کہ ویسے ہی کوئی واقعہ ہوا، اس واقعہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی آئی۔ ان دونوں میں فرق ہے۔ یعنی متن سے پہلے کچھ واقعات ہو گئے، مثلاً‌ حضرت عبد اللہ بن ام مکتومؓ کو قریب آنے دینا ہے یا نہیں دینا، آپ علیہ السلام نے اجتہاد کیا کہ نہیں آنے دینا، تو اللہ تعالیٰ نے اس پر ناراضگی ظاہر کی کہ ان کو آنے دینا چاہیے تھا۔ تو اس کا ٹیکسٹ کی توضیح سے براہ راست تعلق نہیں ہے کہ اس وقت تو ٹیکسٹ آیا ہی نہیں تھا۔ 

سوال:

یعنی آپ کہہ رہے ہیں کہ سامع اور قاری کے لیے مشکلات ہیں، لیکن جبریل علیہ السلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکلات کا مسئلہ نہیں ہے۔ 

جواب:

مشکلات کا مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ آپ علیہ السلام خود شارع ہیں، تو جب آپ خود شارع ہیں تو پھر آپ کے لیے کیا مشکلات ہیں۔

سوال: 

مثلاً‌ جیسے وہ وصیت والی آیت ہے سورۃ بقرہ میں، اس میں بھی اسی طرح دیکھا جائے گا کہ اس میں بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ جو سزائیں بھی آئی ہیں، جیسے ’’واللاتی یاتین الفاحشۃ‘‘ کہ ان کو گھروں میں رکھو، پھر اس کے بعد سورۃ نور میں آیا۔ تو اس میں بھی کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا۔ 

جواب:

وہ تو احکامات کی تدریج ہے، وہ تو چلتی رہتی ہے، وہ تو ہر شریعت میں چلتی رہی ہے کہ ایک حکم آ گیا، پھر اس حکم میں مزید سختی آ گئی، اس میں ترمیم آ گئی، اس کا بھی مشکلات القرآن کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔ 

سوال:

وہ آپ نے منسوخ کا لفظ استعمال کیا ہے، وہ جو آپ نے ایک فہرست بنائی ہے، درجہ بندی کی ہے۔ 

جواب:

وہ مشکل النسخ ہمارے لیے ہے۔ یعنی ہم جو بعد والے ہیں، ہمارے لیے یہ مسئلہ ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوئی تھی یا نہیں۔ اس دور کے لیے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن بعد میں مختلف قسم کی روایت آئی کہ یہ منسوخ ہے یا نہیں؟ تو اس نے گویا کہ پھر سوال پیدا کر دیا۔ 

(6)     سید شہزاد علی:

السلام علیکم، آپ کی اجازت سے ایک آیت پڑھنا چاہوں گا: ’’وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم‘‘۔ تو جب آپؐ  کا فریضہ ہی یہی ہے کہ تبیین کرنا ہے، تو پھر آپ کے لیے مشکل ہی نہیں ہے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس براہ راست ’’وما ینطق عن الہویٰ۔ ان ھو الا وحی یوحیٰ‘‘ تو پھر براہ راست وحی جب آتی ہے اور جب آپؐ کا مقصد ہی یہی ہے کہ آپؐ نے تبیین کرنی ہے تو میرا نہیں خیال کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کے متعلق یہ سوچنا کہ آپؐ کو مشکل پیش آئی ہو، یہ ممکن ہی نہیں۔ عملاً‌ ہمیں نظر بھی آتی ہے روایات سے کہ آپؐ نے اس کی باقاعدہ تشریح کی ہے، اور آخری حجت بھی وہی ہیں۔ اور اسی طرح جیسے ہم بات کر رہے ہیں ناسخ و منسوخ کی، یہ بھی ایک اعتراض ہو سکتا ہے کہ پہلے شراب کی حرمت نہیں تھی، بعد ازاں ہوئی، تو یہ سارے علمی سوالات ہیں۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں یہ جملہ بول دوں ’’لتبین‘‘ کہ نبی صلی اللہ علیہ کی حجیت کی طرف یہ جملہ بولا جائے۔ 

جواب:

ما شاء اللہ بہت خوب بولے ہیں۔ 

(7)    ایک سوال

ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی: یہ انہوں نے چیٹ میں ایک بڑا اچھا سوال کیا ہے، اور یہ سوال مجھے وہاں پی ایچ ڈی کے ڈیفنس میں بھی ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ ہم نے اسے سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے، لیکن ’’مشکلات‘‘ سے لگتا ہے کہ یہ آسان نہیں ہے بلکہ مشکل ہے۔ 

جواب:

بڑا زبردست سوال ہے۔ دیکھیں، تھوڑا سا فرق آپ نے سمجھنا ہے کہ سمجھنے کا لفظ نہیں ہے بلکہ ’’للذکر‘‘ کا لفظ ہے۔ ذکر کا مطلب ہے نصیحت حاصل کرنا، عبرت حاصل کرنا، سبق حاصل کرنا۔ تو کسی ٹیکسٹ سے آپ سبق کب حاصل کریں گے؟ جب آپ اس کو پہلے سمجھیں گے۔ تو اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک کے جو مفاہیم ہیں وہ اتنا پیچیدہ نہیں ہیں، ان کو بڑی آسانی سے ایک انسانی ذہن قبول کرتا ہے۔ مثلاً‌ اگر وہ کہتا ہے کہ چوری نہ کرو، تو انسانی ذہن اس کو قبول کرتا ہے کہ چوری بری چیز ہے۔ اگر وہ کہتا ہے کہ سچ بولو، تو انسانی ذہن قبول کرتا ہے کہ واقعی سچ تو اچھی چیز ہے۔ گویا کہ ہماری جو عقل ہے اور جو ہماری نیچر ہے وہ قرآنی احکامات کے ساتھ بہت مطابقت رکھتی ہے، اس لیے وہ انسان کو بہت اپیل کرتے ہیں۔ 

اب مسئلہ یہ ہے کہ اس کو سمجھنے کے لیے پہلے آپ کو متن سمجھنا ہو گا۔ گویا کہ یہ والی آیت کا مرحلہ تب آئے گا جب آپ متن والی مشکلات کو عبور کر جائیں گے۔ جبکہ مشکلات القرآن میں متن کے حوالے سے بات ہو رہی ہے۔ لہٰذا مشکلات القرآن دراصل متن کی مشکلات کو حل کرتی ہے۔ اور یہ معاملہ ہر ٹیکسٹ کے حوالے سے پیش آتا ہے، صرف قرآن کے حوالے سے نہیں، اگرچہ قرآن کے متعلق کچھ زیادہ ہے۔ جب آپ ان مشکلات کو عبور کر جائیں یعنی ٹیکسٹ کو سمجھ جائیں تو پھر قرآن کی جو تھیم اور فکر سامنے آتی ہے، وہ پھر بڑی آسان ہے، وہ مشکل نہیں ہے کیونکہ وہ انسانی ذہن کو اپیل کرتا ہے۔ امید ہے دونوں میں فرق سمجھ میں آگیا ہو گا۔

(8)    سید شہزاد علی: 

میں ایک اور سوال کرنا چاہ رہا ہوں، ما شاء اللہ علمی بحث ہے۔ آپ نے نوعِ اول بیان کی ہے مشکل القرآن کے حوالے سے، اس میں ساتویں نمبر پہ آپ نے بیان کی ہے: حفاظتِ قرآن و تحریف۔ عام طور پر اہلِ تشیع کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تحریف کے نقطۂ نظر کے قائل ہیں۔ تو اس حوالے سے آپ نے ان کا لٹریچر پڑھا ہے یا آپ کی نظر سے گزرا ہے کہ یہ واقعتاً‌ اُن کا نقطۂ نظر ہے؟ یا جیسا کہ ہمارے ہاں مسالک کے حوالے سے اعتراضات کا جو رویہ ہوتا ہے، یہ ویسی کوئی بات ہے؟ اس حوالے سے ذرا بتائیے گا۔ 

جواب:

ہاں، ایسا ہے۔ یہ ان کا نظریہ رہا ہے۔ اس حوالے سے ایک تھے علامہ طبرسی (مرزا حسین نوری طبرسی)، یہ تیرہویں صدی ہجری کے تھے، انہوں نے ایک کتاب لکھی ہے، شاید آپ نے نام سنا ہو، ’’فصل الخطاب فی اثبات تحریف کتاب رب الارباب‘‘۔ اس میں انہوں نے شیعہ علماء سے، شیعہ ائمہ سے، شیعہ تراث سے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ قرآن محرف ہے۔ لیکن بعد میں جب وہ کتاب منظر عام پر آئی تو اس نے گویا کہ ایک دھماکہ کر دیا اور لوگوں کو یہ ہوا کہ واقعی اہلِ تشیع کے تراث میں تحریفِ قرآن پہ اتنا اجماع ایک قسم کا انہوں نے پیش کر دیا۔ پھر جب یہ ایک ٹول آ گیا اہلِ سنت کے علماء کے ہاں، کہ قرآن کی تحریف کا منکر تو کافر ہے، تو اہلِ تشیع کافر ہیں۔ پھر اہلِ تشیع کو تھوڑے سے لالے پڑ گئے۔ پھر انہوں نے دو قسم کے کام کیے: 

  1. ایک قسم کا کام یہ کیا کہ انہوں نے جواباً‌ کہا کہ مرزا طبرسی نے تو کتابوں سے روایاتِ تحریف لی ہیں، وہ روایاتِ تحریف تو آپ کی کتابوں میں بھی ہیں۔ گویا کہ انہوں نے کہا کہ تحریف کے قائل صرف ہم نہیں ہیں، تم بھی ہو۔ یعنی جواباً‌ انہوں نے یہ کر دیا۔ 
  2. اور کچھ لوگوں نے، جو اُن کے معتدل علماء تھے، انہوں نے اس کتاب سے براءت کا اظہار کر دیا کہ ہم اس کی تاویل کرتے ہیں، جیسے اہلِ سنت کے علماء تاویل کرتے ہیں۔ 

گویا کہ اہلِ تشیع کے ہاں یہ نظریہ رہا تھا، لیکن معاصر علماء نے، یعنی اہلِ تشیع کا جو ابھی مین سٹریم ہے، وہ اب تحریف کا قائل نہیں ہے، کیونکہ ردعمل ہی بہت شدید آیا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ کتاب غائب کر دی گئی۔ یعنی اب اہلِ تشیع اس کتاب کی نسبت ہی اپنی طرف نہیں مانتے، یعنی وہ کہتے ہیں کہ مرزا نوری طبرسی نے لکھی ہی نہیں۔ اب ایک بحث الگ چل پڑی اس کتاب کو ثابت کرنے کے لیے۔  بہرحال یہ ایک نظریہ تھا لیکن جب یہ بہت زیادہ منظر عام پر آ گیا تو پھر انہوں نے اس کا انکار کر دیا۔ 

سوال:

جی، وہ حدیث تو ملتی ہے جس میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، وہ بکری کے حوالے سے۔ اچھا، میرا جب اُن سے مکالمہ ہوا تو وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہم تحریف کے قائل نہیں ہیں … ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ جو تشریح حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی ہے، امام مہدیؒ جب آئیں گے … ہم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم کوئی علیحدہ قرآن کے قائل ہیں۔ قرآن نہیں ہے بلکہ تفسیر ہے۔ میرے پوچھنے پر یہ نقطۂ نظر اُن سے براہ راست مجھے ملا تھا۔ 

جواب: 

بالکل، اب وہ اس طرف آ گئے ہیں کہ الفاظ تو محفوظ ہیں لیکن تشریح جو تم کر رہے ہو، ظاہر ہے وہ ایسے نہیں ہے، امام مہدیؒ پھر بالکل الگ ہی ایک ورژن اس کا پیش کریں گے۔ اصل میں یہ بھی تحریف ہی کا نظریہ ہے۔ ظاہر ہے جب آپ قرآن کی موجودہ تشریح کو نہیں مانتے، تو گویا دین کا جو موجودہ حلیہ ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ تو پھر یہ تحریفِ معنوی ہو گئی۔ تو اس لیے وہ پہلے تحریفِ لفظی میں مبتلا تھے، اب تحریفِ معنوی میں مبتلا ہو گئے۔ 

اصل میں یہ ایک الگ موضوع ہے، ان شاء اللہ کبھی اس پر بات کرنی چاہیے کہ امامت کا جو نقطۂ نظر ہے، اور صحابہؓ کی تکفیر کا جو نظریہ ہے، خاص طور پر خلفاء ثلاثہؓ کا۔ یعنی امامت اور خلفاء ثلاثہ کی تکفیر کے دو عقیدے اور قرآن کے محفوظ ہونے کا عقیدہ، یہ ساتھ چل نہیں سکتے۔ ان دونوں میں دراصل تضاد ہے۔ اسی وجہ سے اہلِ تشیع کبھی اُدھر جاتے ہیں کبھی اُدھر جاتے ہیں کیونکہ یہ دونوں آگ اور پانی کو جمع کرنے والی بات ہے، اس میں مسائل ہوتے ہیں۔ یعنی ایک مرتبہ خلفاء ثلاثہ کو کافر مان لیا، اور امامت کا نظریہ جس ترتیب سے وہ مانتے ہیں، تو پھر قرآن میں خودبخود ہی نقص آجاتا ہے، وہ ماننا ہی پڑتا ہے، یہ اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ لیکن اہل تشیع اس طرح سے نہیں کرتے، وہ پھر تاویلات پیش کرتے رہتے ہیں۔ 

(9)    شفقت ناز:

جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن میں واضح طور پر کہہ دیا ہے ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ تو پھر تو ہمارے ذہن میں اس طرح کی کوئی بات آنی ہی نہیں چاہیے کہ قرآن میں تحریف ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب اتنا واضح پیغام دے دیا ہے تو یہ تو نہیں ہمیں سوچنا چاہیے۔

جواب:

اہلِ تشیع اس کو اس اینگل سے دیکھتے ہیں کہ قرآن تو اب بھی محفوظ ہے لیکن امام مہدیؒ کے پاس ہے۔ تو پھر کیا جواب دیں گے؟ گویا کہ وہ اس کو کسی نہ کسی حوالے سے تاویل کر ہی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں قرآن تو محفوظ ہے، اللہ نے حفاظت کی ہے، لیکن وہ میرے اور آپ کے پاس نہیں ہے، امام مہدیؒ کے پاس ہے، اس لیے وہ اس کو امام مہدیؒ کی طرف کر دیتے ہیں کہ ان کے پاس قرآن محفوظ ہے۔ ان کے پرانے علماء یہ بات کہا کرتے تھے۔ ورنہ تو بات وہی ہے جو آپ نے کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا تو پھر اس میں تحریف ہو ہی نہیں سکتی۔ لیکن ظاہر ہے کہ روایات تو ہیں، تو ان روایات کی توجیہ پھر ہمیں بھی کرنی پڑے گی اور اُن کو بھی کرنی پڑے گی۔ 

(10)    محمد حذیفہ نواز:

……

جواب: 

دیکھیں، … آپ اصل بات اشکال پہ کر رہے ہیں کہ اشکال کس وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ہم نے اس پر بات کی ہی نہیں ہے کہ اس کے جوابات ہو ہی نہیں سکتے، یا جوابات نہیں ہیں، یا تعارض حقیقی ہے۔ تعارض حقیقی نہیں ہے، تعارض تو ظاہری ہے، اس تعارض نے اشکال پیدا کر دیا لیکن اس کا جواب موجود ہے۔ 

گویا کہ ہم جواب پہ بات نہیں کر رہے کہ جواب ہے ہی نہیں، لیکن اشکال ہے جس کی وجہ سے آیت میں خفا پیدا ہو گیا ہے۔ مثلاً‌ آپ نے کسی اشکال کا جواب پڑھا ہو گا تو آپ کے لیے مسئلہ نہیں ہو گا، لیکن میں نے اُس اشکال کا جواب نہیں پڑھا ہو گا تو میرے لیے تو مسئلہ ہو گا۔ یعنی ضروری نہیں کہ زید کے ہاں اشکال ختم ہے تو بکر کے ہاں بھی ختم ہو گیا۔ نہیں، بکر کے ہاں اشکال رہے گا جب تک وہ جواب تک نہ پہنچے گا۔ تو وہ جواب تک کیسے پہنچے گا؟ پہلے اس کا منبعِ اشکال دیکھیں گے۔ ہم نے اس مقالے میں منابعِ اشکال پر بات کی ہے کہ وہ یہ یہ ہو سکتے ہیں۔ 

سوال: 

تو اس میں پھر یقیناً‌ اضافہ بھی ممکن ہو گا، یعنی کوئی اور جب دیکھے گا، اس کو پڑھے گا؟

جواب: 

ایسا ہی ہے۔ یعنی میرے ذہن کے مطابق اتنے منابعِ اشکالات ہو سکتے ہیں، لیکن صرف یہی نہیں ہیں، اور بھی منابعِ اشکالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ بلکہ زمانہ جب مزید آگے جائے گا تو مزید اشکالات ہوں گے۔ ظاہر ہے اشکال تو کسی کو کسی وقت بھی پیش آ سکتا ہے۔ کچھ اشکال قابلِ اعتنا نہیں ہوتے، کچھ قابلِ اعتنا ہوتے ہیں یعنی توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس لیے مشکلات القرآن ایک ایسا علم ہے جس کی نوعیت وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے، اس کی مثالیں بدلتی رہتی ہیں، اس کی انواع بدلتی رہتی ہیں، یہ ایک flexible علم ہے جس کی وجہ سے یہ وقت کے ساتھ ساتھ ترمیم سے گزرتا رہتا ہے۔ 

اختتام

…… آپ حضرات کا بھی شکریہ کہ آپ لوگوں نے یہ تھوڑی سی بھاری، تھوڑی سی ہلکی، یہ ساری باتیں سن لیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی سمجھ عطا فرمائے اور آپ لوگوں کا یہ شوق قبول کرے۔ آپ لوگ نہ ہوتے تو ہم کس کو سناتے؟ تو یہ علم کا شوق ہی ہے جو آپ لوگوں کو لے کر آیا۔ آپ لوگوں سے دعاؤں کی بھی درخواست ہے، اور اللہ تعالیٰ آپ سب کا یہ وقت قبول فرمائے، جزاکم اللہ احسن الجزاء۔ 

https://youtu.be/VhTHNQFwSLI

(مکمل)

قرآن / علوم القرآن
تعارف مطبوعات

اقساط

(الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۷

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۳)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۴)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

کیا سنن دارقطنی علل کی کتاب ہے؟
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

محاضراتِ فقہ (۲)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۷)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۴)
محمد سراج اسرار

’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘
محمد فہد حارث
محمد بلال ابراہیم بربری

اوقات ضائع کرنے کا موبائل فون سے بڑا راستہ کوئی نہیں
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

شب بیداری: برکتیں، انعامات اور فلاح
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت
مفتی سید انور شاہ

کاروباری خسارے: اسباب، حکمتیں اور حل
مولانا عبد المتین

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۱)
حافظ مجددی

ہماری جامعات میں اسلامی قانون کی تعلیم
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

امریکہ اور اسرائیل نے اپنی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے
پروفیسر جان میئرشائیمر
ٹکر کارلسن

مغرب — یہود مخالف کیسے بنا؟
حامد میر

ترکیہ اور اسرائیل کے دشمنی میں بدلنے والے دوستانہ تعلقات
میپ اینڈ مِتھ

بھارت: سیاسی صورتحال اور تہذیبی مسائل
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

Arab Nationalism and Its Impact on the Muslim World
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات