آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت

روئے زمین پر سب سے افضل پانی

زم زم کا پانی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان اور لا زوال نعمتوں میں سے ہے۔ اللہ پاک قیامت کے قریب تمام زمین سے میٹھا پانی خشک کر دیں گے، مگر زم زم کا پانی اس وقت بھی باقی رہے گا۔ (اخبار للفاکہی)

یہ دنیا کے تمام پانیوں سے افضل، عمدہ و اشرف ہے اور دنیا کے تمام پانیوں کا سردار اور زمین کے اوپر سب سے عمدہ اور مفید پانی ہے، اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے سب سے بہتر اور مرغوب بھی ہے۔ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ زم زم کا پانی افضل ہے یا حوضِ کوثر کا؟ محققین کی رائے یہ ہے کہ زم زم کا پانی حوضِ کوثر کے پانی سے افضل ہے۔ یہی وہ عظیم چشمہ ہے جو حضرت جبریل امین علیہ السلام کے پَر مارنے سے نکلا، یہی وہ بابرکت اور مقدس پانی ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کو پلایا تھا، اور یہی وہ پاکیزہ پانی ہے جس سے جناب کریم ﷺ کا دل دھویا گیا۔

قدرت کا یہ معجزہ مسلمانوں کے لیے عظیم الشان تحفہ ہے، یہ مسلمان ہی سمجھ سکتا ہے۔ دور حاضر میں زم زم کی خوبیوں پر تحقیق جاری ہے لیکن آج بھی اطباء اور ماہرین حیران ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس پانی کو کتنی خصوصیوں، خوبیوں اور قوتوں سے نوازا ہے۔ زم زم میں ایسے مفید معدنیاتی عناصر و ادویاتی اجزاء شامل ہیں جن پر میڈیکل سائنس بھی حیران ہے۔

دنیا کا واحد پانی ہے جس میں بو پیدا نہیں ہوتی، نیز اس میں بھرپور غذائیت اور ہر بیماری سے شفاء بھی ہے۔ اس پانی کا ایک حیران کن کرشمہ یہ ہے کہ روزِ اول سے جاری و ساری ہے اور بالکل کمی نہیں آتی۔ جو لوگ مکہ مکرمہ کی سنگلاخ وادیوں، خشک ریتیلی ریگستانوں اور مضبوط چٹانوں سے واقف ہیں ان کے لیے یہ انتہائی باعث تعجب اور حیرانگی کی بات ہے کہ جہاں دور دور تک آبی وسائل اور ذخائر موجود نہیں ہیں وہاں زم زم کا کنواں نہ صرف جاری ہے بلکہ اس کے پینے والوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اس میں کوئی کمی نہیں آ رہی ہے، بلکہ تمام لوگوں کو خوب سیراب کر رہی ہے۔ حرمین شریفین میں موجود لاکھوں لوگوں کے علاوہ حجاج کرام اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والے افراد اسے اپنے ساتھ پوری دنیا میں لے کر جاتے ہیں، یوں زم زم کا پانی پوری دنیا کے لوگوں کو سیراب کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آبِ زم زم اللہ تعالیٰ کا ایک زندہ جاوید معجزہ ہے، اور اس پر جب بھی اور جتنی بھی تحقیق کی جائے کم ہے، کیونکہ ہر مرتبہ انسان پر نئے حقائق کے راز آشکارا ہوتے ہیں اور مزید روشن پہلو اور حیرت انگیز فوائد سامنے آتے ہیں۔

یہ دنیا کا وہ واحد عظیم الشان بابرکت پانی ہے جس میں جناب نبی کریم ﷺ کے لعاب مبارک کی برکت موجود ہے، چنانچہ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ "ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ زم زم کے کنویں کے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ ﷺ کے لیے بئرِ زم زم میں ڈول ڈال کر آپ ﷺ کی خدمت میں زم زم کا پانی پیش کیا۔ آنحضرت ﷺ نے اس کو نوش فرمایا اور پھر اسی میں کلی فرما دی، پس ہم نے اسی ڈول کا پانی، جس میں آپ ﷺ نے کلی فرمائی تھی زم زم کے کنویں میں ڈال دیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا "اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ تم آبِ زم زم کے کنویں سے ازخود پانی نکالنے کے لیے غلبہ کرو گے تو میں اپنے ہاتھ سے پانی نکالتا"۔ (مسند احمد، وہو حدیث صححیح)

آب زم زم کو خوب سیر ہو کر کثرت سے پینا مستحب اور ایمان کی علامت ہے، اور اس کو قربت سے دیکھنا عبادت ہے۔ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "ہمارے اور منافقین کے درمیان فرق کرنے والی نشانی یہ ہے کہ منافقین زم زم کو سیر ہو کر نہیں پیتے، لہٰذا تم جب زم زم کو پیو تو خوب سیر ہو کر پیا کرو"۔ (رواہ ابن ماجۃ وسنن الدار قطنی)

آب زم زم ہر بیماری کے لیے شفاء ہے

اللہ تعالیٰ کی رحمت کے انداز بھی بڑے عجیب اور نرالے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر کتنا عظیم فضل اور رحمت ہے کہ اس نے آب زم زم میں ہر بیماری کی شفاء رکھ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت اور فضل سے آب زم زم کے ذریعے کتنے ہی لوگوں کو شفاء عطا فرمائی ہے، اور بے شمار اب بھی اللہ پاک کی اس عنایت سے مستفید ہو رہے ہیں اور تاقیامت ہوتے رہیں گے۔ آب زم زم کی خوبیوں اور فضائل کے متعلق احادیث اور واقعات تو بہت زیادہ ہیں، لیکن ہم اختصار کے پیش نظر صرف چند ذکر کریں گے، جن سے اجمالی طور پر بہت سی خوبیاں اور فوائد ظاہر ہوتے ہیں۔

(۱) حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "روئے زمین پر سب سے بہترین پانی زم زم ہے جس میں طعام کی طرح غذائیت بھی ہے اور مرض کے لیے شفاء بھی ہے"۔ (رواہ الطبرانی فی الکبیر وقال المحقق ابن الہمام: رواتہ ثقات، ورواہ ابن حبان ایضا)

(۲) حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ "رسول اللہ ﷺ آب زم زم کو مختلف برتنوں اور مشکیزوں میں بھر کر لے جاتے اور مریضوں پر ڈالتے اور انہیں پلاتے"۔ (جامع الترمذی، وسنن البیہقی ۵/۲۰۲)

(۳) حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ "زم زم کا پانی ہر اس مقصد کے لیے کافی ہے جس کے لیے پیا جائے، جو شخص کسی مرض سے شفاء کے لیے پیے اللہ تعالیٰ اس کو شفاء دیتے ہیں، اور جو بھوک کی وجہ سے پیے اللہ تعالیٰ اس کا پیٹ بھر دیتے ہیں، اور جو کسی اور ضرورت کے لیے پیے اللہ تعالیٰ اس کی وہ ضرورت پوری فرماتے ہیں"۔ (رواہ المستغفری فی الطب عن جابر، الجامع الصغیر للسیوطی)

ان روایات سے معلوم ہوا کہ زم زم غذا، دوا اور ہر مقصد کے حصول کے لیے بے نظیر چیز ہے مگر اخلاص اور اعتقاد شرط ہے۔

امام حاکمؒ نے لکھا ہے کہ ابوبکر بن محمد بن جعفرؒ نے حضرت امام علامہ محدث ابن خزیمہؒ کے متعلق نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو یہ عظیم الشان علم کس طرح حاصل ہوا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ "زم زم کا پانی جس نیت سے پیا جائے وہی فائدہ دیتا ہے"۔ میں نے جب بھی زم زم پیا، اللہ تعالیٰ سے علم نافع کا سوال کیا۔ (سیر اعلام النبلاء، ۱۴/۳۷۰)

امام علامہ جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے حج سے فارغ ہونے کے بعد آب زم زم چند مقاصد کے لیے پیا، جن میں سے ایک خاص مقصد یہ تھا کہ میں علمِ فقہ میں امام سراج الدین بلقینیؒ کے مرتبہ کو پہنچوں، اور علمِ حدیث میں علامہ ابن حجر عسقلانیؒ کے مرتبہ کو پہنچوں، اب میں بطور تحدیثِ نعمت کے اپنی اس دعا کی قبولیت کا اعتراف کرتا ہوں۔ (حسن المحاضرۃ فی تاریخ مصر والقاھرۃ، ۱؍ ۳۲۸)

علامہ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے طلبِ حدیث کے ابتدائی زمانہ میں حج کی سعادت کے موقع پر زم زم کا پانی پیا اور پیتے وقت یہ دعا کی "االلہ مجھے حافظ ذہبیؒ جیسا حافظہ عطا فرما"۔ تقریباً‌ بیس سال بعد پھر دوبارہ حج کی سعادت نصیب ہوئی، اس وقت میں نے اس فن میں اپنی واقفیت امام ذہبیؒ سے کچھ زیادہ پایا۔ پھر میں نے زم زم پیتے وقت اس سے اونچا مرتبہ حاصل ہونے کی دعا کی، مجھے اللہ تعالیٰ سے اس کی بھی حصول کی امید ہے"۔ (فتح القدیر،۲؍۵۰۷)

امام المحدثین حضرت زین الدین العراقیؒ کے پیٹ میں ایک مرتبہ شدید تکلیف تھی، انہوں نے اس سے نجات کے لیے زم زم پیا، اللہ تعالیٰ نے نجات عطا فرما دی اور شفا یاب ہوگئے۔ (شفاء الغرام)

امام تقی الدین فارسیؒ نے "شفاء الغرام" میں لکھا ہے کہ شیخ احمد بن عبد اللہ الشریفیؒ نابینا ہو گئے تھے، انہوں نے آب زم زم کو بینائی واپس لوٹنے کی نیت سے پیا، پس ان کی بینائی واپس لوٹ آئی۔

اس طرح کے سینکڑوں اور معتبر واقعات ہیں جن کی تفصیل کا موقع یہ نہیں۔

آب زم زم سے بچوں کی تحنیک

علامہ فاکہیؒ نے "اخبار مکہ" میں روایت کیا ہے کہ حبیب بن ثابت کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے پوچھا کہ میں زم زم کے پانی کو مکہ مکرمہ سے کہیں دور لے جا سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا "جی ہاں"۔ حضور اقدس ﷺ زم زم کو بوتلوں میں بھر کر لے جایا کرتے تھے، نیز حضور ﷺ نے زم زم کو عجوہ کھجور کے ساتھ ملا کر حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کی تحنیک بھی فرماتے۔ (اخبار مکۃ للفاکہی: ۲؍۵)

آب زم زم کے پینے کے آداب

علماء کرام نے آب زم زم پینے کے متعدد آداب بیان کیے ہیں:

  • شروع میں بسم اللہ پڑھنا،
  • تین سانسوں میں پینا،
  • سانس لیتے وقت برتن کو منہ سے ہٹا لینا،
  • قبلہ رخ ہونا،
  • خوب سیر ہو کر پینا،
  • دنیا و آخرت کی کوئی کوئی خوبی حاصل ہونے کی نیت کر کے پینا

آب زم زم کھڑے ہو کر پیا جائے یا بیٹھ کر؟

اس مسئلہ میں علماء کرام کا اختلاف ہے کہ آب زم زم کو کھڑے ہو کر پینا مستحب ہے یا بیٹھ کر۔ ملا علی قاریؒ نے اپنی مناسک میں تخییر کا قول اختیار کیا ہے، وہ لکھتے ہیں: (ثم یاتی زمزم) ای بئرھا (فیشرب من مائہا) ای قائما وقاعدا، پھر زم زم کے کنویں کے پاس آئے اور اس سے پانی پیے، چاہے کھڑے ہو کر پیا جائے یا بیٹھ کر۔ بعض حضرات نے کھڑے ہو کر پینے کو مستحب قرار دیا، کیونکہ آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر نوش فرمایا تھا، جبکہ بعض علماء کرام نے بیٹھ کر پینے کو مستحسن قرار دیا ہے، بندہ کی رائے میں کھڑے ہو کر پینا زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال چونکہ دونوں طرف جلیل القدر علماء ہیں لہٰذا کسی بھی طریقہ کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔

قبولیت کے متعلق ایک ضروری وضاحت

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ آب زم زم جس مقصد کے لیے پیا جائے وہ پورا ہو جاتا ہے بشرطیکہ اخلاص اور اعتقاد کے ساتھ پیا جائے۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ جن لوگوں نے مختلف نیتوں سے پیا مگر ظاہری طور پر اس کے اثرات مرتب نہیں ہوئے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ زم زم پینے کا فائدہ نہیں ہوا، بلکہ زم زم پینے کا تو فائدہ ہی فائدہ ہے، مگر بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ مومن بندہ جو چیز اللہ سے مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ کبھی اس کو وہی عطا فرماتے ہیں جو اس نے مانگی ہے، اور کبھی اس کے بدلے میں دوسری نعمت عطا فرما دیتے ہیں، یا اس کے بدلے کوئی بلا ٹال دیتے ہیں، یا اس کا اجر و ثواب آخرت میں محفوظ فرما دیتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے حق میں زیادہ جانتے ہیں کہ میرے بندہ کے لیے کیا بہتر ہے۔ ایسے ہی بعض گناہ بھی دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتے ہیں، جیسے حرام کی کمائی، والدین کی نافرمانی، کسی کی حق تلفی، قطع رحمی وغیرہ وغیرہ۔

یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ جس نیت سے پانی پی رہا ہے اس کو حاصل کرنے کا سبب بھی اختیار کرے، اور یہ بھی دعا کے آداب میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو آب زم زم کی قدر کرنے اور اس سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

دین و حکمت

(الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء)

الشریعہ — جولائی ۲۰۲۶ء

جلد ۳۷ ، شمارہ ۷

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۱۳)
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی
مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف

’’علم مشکلات القرآن کا تاریخی ارتقاء‘‘ (۴)
مولانا ڈاکٹر سمیع اللہ سعدی

کیا سنن دارقطنی علل کی کتاب ہے؟
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
ڈاکٹر فضل الرحمٰن محمود

محاضراتِ فقہ (۲)
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

حنفی اصولی منہج (۳)
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۷)
ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات‘‘ کا جائزہ (۱۶)
ڈاکٹر شعیب احمد ملک
محمد یونس قاسمی

اصحابِ محمدؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حیات و خدمات (۴)
محمد سراج اسرار

’’الانتقاد علیٰ تاریخ التمدن الاسلامی‘‘
محمد فہد حارث
محمد بلال ابراہیم بربری

اوقات ضائع کرنے کا موبائل فون سے بڑا راستہ کوئی نہیں
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

شب بیداری: برکتیں، انعامات اور فلاح
مولانا محمد طارق نعمان گڑنگی

آبِ زم زم: فضیلت، شفاء اور قبولیت
مفتی سید انور شاہ

کاروباری خسارے: اسباب، حکمتیں اور حل
مولانا عبد المتین

۱۹۵۱ء کے بائیس دستوری نکات اور ۱۹۵۲ء کی دستوری سفارشات میں ترمیمات (۱)
حافظ مجددی

ہماری جامعات میں اسلامی قانون کی تعلیم
ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

امریکہ اور اسرائیل نے اپنی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے
پروفیسر جان میئرشائیمر
ٹکر کارلسن

مغرب — یہود مخالف کیسے بنا؟
حامد میر

ترکیہ اور اسرائیل کے دشمنی میں بدلنے والے دوستانہ تعلقات
میپ اینڈ مِتھ

بھارت: سیاسی صورتحال اور تہذیبی مسائل
ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

Arab Nationalism and Its Impact on the Muslim World
Abu Ammar Zahid-ur-Rashdi

تلاش

شماریات